ویکی اقتباس
urwikiquote
https://ur.wikiquote.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%81_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.6
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی اقتباس
تبادلۂ خیال ویکی اقتباس
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
محمد اقبال
0
2392
14483
12596
2026-06-15T19:11:07Z
Muntaqibah
2617
/* اقبال کے بارے میں اقتباسات */ اضافہ
14483
wikitext
text/x-wiki
[[File:Iqbal.jpg|thumb|]]
[[تصویر:Allama Iqbals Tomb East & south walls July 1 2005.jpg|thumb|علامہ اقبال کا مزار]]
'''[[:w:محمد اقبال|محمد اقبال]]''' (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، [[قانون دان]]، [[سیاستدان]]، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور [[فارسی]] میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت [[اسلام]] کی طرف تھا۔
== اقوال ==
*اختتام اور مقاصد، چاہے وہ شعوری یا لاشعوری رجحانات کے طور پر موجود ہوں، ہمارے شعوری تجربے کی تپش اور ڈھنگ کی تشکیل کرتے ہیں۔
**اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو (1930)، صفحہ۔ 42
* قوی انسان ماحول تخلیق کرتا ہے۔ کمزوروں کو ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے۔
* قوت باطل کو چھو لیتی ہے تو باطل حق میں بدل جاتا ہے۔
* تہذیب مرد قوی کا ایک خیال ہے۔
* پیکر قوت مہدی کا انتظار چھوڑ دو، جاؤ اور مہدی کو تخلیق کرو۔
** شذرات اقبال، مجلس ترقی ادب، لاہور
'''(بال جبریل 042) یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی'''
*یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی، کہ خودی کے عرفا کا ہے مقام پادشاہی
*تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے، جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی
*نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے، مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشین نہ راہی
*میرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں، وہ گدا کہ جانتے ہیں راہ و رسم کجکلاحی
*یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی
*تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری، نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی
*تو عرب ہو یا عجم ہو، تیرا ”لا الہ الا اللہ“، لغت غریب، جب تک تیرا دل نہ دے گواہی
'''(بال جبریل 145) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے'''
*کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
*اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ، ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ، بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ
*ہیں تیرے تصرف میں یہ بدل، یہ گھٹائیں، یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں
*یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں، تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں، آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ
*سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے، دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے
*نہ پيد تيرے بحر تخیل کے کنارے، پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے، تعمیر خودی کر، اثر آہ رسا دیکھ
*خورشید جہاں تاب کی جو تیرے شرر میں، آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں
*جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں، جنت تری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں، اے پیکرِ گل کوشش پہم کی جزا دیکھ
*نالندا تیرے عود کا ہر تار ازل سے، تو جنس محبت کا خیریدار ازل سے
*تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سے، محنت کش و خون ریز و کم آزار ازل سے، ہے رکاب تقدیر جہاں تیری رضا، دیکھ
'''(بانگِ درا ۰۲۱) دردِ عشق'''
*اے دردِ عشق! ہے گوہرِ ابد تُو، نہ مہرموں میں دیکھ نہ ہو آشکارا تُو
*پنہاں تہِ نقاب تری جلوگاہ ہے، ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے
*آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں، اے دردِ عشق! اب نہیں لذت نمود میں
*ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو، مِنّت پذیر نالۂ بلبل کا تُو نہ ہو
*خالی شرابِ عشق سے لالہ کا جام ہو، پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو
*پنہاں دروںِ سینا کہیں راز ہو تیرا، اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تیرا
*گویا زبانِ شاعرِ رنگین بیاں نہ ہو، آوازِ نے میں شکوۂ فرصت نہاں نہ ہو
*یہ دور نکته چین ہے، کہیں چُپ کے بیٹھ رہ، جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چُپ کے بیٹھ رہ
*غافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ! جویا نہیں تری نگاہِ نارسیدہ دیکھ
*رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو، حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
*جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں، قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں
*یہ انجمن ہے کشتۂ نظرۂ مجاز، مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
*ہر دل مئے خیال کی مستی سے چور ہے، کچھ اور آج کل کے کلاموں کا طور ہے
'''(بانگِ درا-۱۲۳) قربِ سلطان'''
*تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی، مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہم دوش
*جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندے کا کمال، رضائے خواجہ طلب کن قبائے رنگین پوش
*مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو، خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش
*پرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے، نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش
*مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسمان رہیے، "ہزار گونہ سخن در دہن و لب خاموش
*یہی اصول ہے سرمایۂ سکونِ حیات، "گدائے گوشہ نشینی تو حافظہ مے خروش
*مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ، "بگیر بادۂ صافی بہ بانگِ چنگ بنوش
*شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سلطان ہو، لڑا کے توڑ دے سنگِ ہوس سے شیشۂ ہوش
*پیامِ مرشدِ شیراز بھی مگر سن لے، کہ ہے یہ سرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سر فروش
*"مہلِ نورِ تجلّی ست رای انور شاہ، چو قرب طلبی در صفائے نیت کُش
'''(بانگِ درا-۱۵۵) پھول'''
*تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ سد چاکِ بلبل کی، تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے
*تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں، تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے
*صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پابندِ گِل بھی ہے، انہیں پابندیوں میں حصولِ آزادی کو تو کر لے
*تَنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے، نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے
*نہیں یہ شانِ خوداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو، کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زيبِ گلو کر لے
*چمن میں غنچۂ گل سے یہ کہ کر اڑ گئی شبنم، مذاقِ جورِ گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے
*اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا، جہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے
*اس میں دیکھ، مضمر ہے کمالِ زندگی تیرا، جو تجھ کو زينتِ دامن کوئی آئینہ رو کر لے
'''(ضربِ کلیم-۰۰۹) زمین و آسمان'''
*ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں، اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
*ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا
*ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا
'''(ضربِ کلیم-۱۱۹) نگاہِ شوق'''
*یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا، کہ ذرہ ذرہ میں ہے ذوقِ آشکارائی
*کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں، نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی
*اسی نگاہ سے مہجوم قوم کے فرزند، ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی
*اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری، اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی
*اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جنون میرا، سکھا رہا ہے راہ و رسمِ دشتِ پیمائی
*نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو، ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی
==اقبال کے بارے میں اقتباسات==
*اقبال کے فکر و فلسفہ کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے، نہ عشق، نہ عمل، اور نہ ہی قوت و حرکت؛ بلکہ ان سب کے برخلاف موت اقبال کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود میں ایک ایسی لرزش اور ہلچل پیدا کرتا ہے جو ان کی پوری ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
**ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 8
==مزید دیکھیے==
* [[فہرست شخصیات بلحاظ نام|شخصیات]]
==حوالہ جات==
{{Wikipedia}}
[[زمرہ:1877ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:1938ء کی وفیات]]
[[زمرہ:پاکستانی شعراء]]
[[زمرہ:شعراء]]
[[زمرہ:برطانوی ہند کی شخصیات]]
[[زمرہ:لاہور کی شخصیات]]
[[زمرہ:اردو مصنفین]]
[[زمرہ:اردو ادب]]
[[زمرہ:شعرائے اردو]]
[[زمرہ: فارسی ادب]]
[[زمرہ:فارسی شعراء]]
[[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]]
[[زمرہ:فارسی زبان کے مصنفین]]
[[زمرہ:پاکستانی شخصیات]]
[[زمرہ:ہندوستانی مسلمان]]
[[زمرہ:سیاست دان]]
[[زمرہ:تحریک پاکستان کے قائدین]]
[[زمرہ:کارکنان تحریک پاکستان]]
[[زمرہ:پاکستانی سیاستدان]]
[[زمرہ:پاکستانی علما]]
[[زمرہ:پاکستانی غیر افسانوی مصنفین]]
afmg124g44cy550e2s6mc2leeclxoyj
14484
14483
2026-06-15T19:16:35Z
Muntaqibah
2617
/* اقبال کے بارے میں اقتباسات */ +1
14484
wikitext
text/x-wiki
[[File:Iqbal.jpg|thumb|]]
[[تصویر:Allama Iqbals Tomb East & south walls July 1 2005.jpg|thumb|علامہ اقبال کا مزار]]
'''[[:w:محمد اقبال|محمد اقبال]]''' (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، [[قانون دان]]، [[سیاستدان]]، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور [[فارسی]] میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت [[اسلام]] کی طرف تھا۔
== اقوال ==
*اختتام اور مقاصد، چاہے وہ شعوری یا لاشعوری رجحانات کے طور پر موجود ہوں، ہمارے شعوری تجربے کی تپش اور ڈھنگ کی تشکیل کرتے ہیں۔
**اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو (1930)، صفحہ۔ 42
* قوی انسان ماحول تخلیق کرتا ہے۔ کمزوروں کو ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے۔
* قوت باطل کو چھو لیتی ہے تو باطل حق میں بدل جاتا ہے۔
* تہذیب مرد قوی کا ایک خیال ہے۔
* پیکر قوت مہدی کا انتظار چھوڑ دو، جاؤ اور مہدی کو تخلیق کرو۔
** شذرات اقبال، مجلس ترقی ادب، لاہور
'''(بال جبریل 042) یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی'''
*یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی، کہ خودی کے عرفا کا ہے مقام پادشاہی
*تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے، جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی
*نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے، مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشین نہ راہی
*میرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں، وہ گدا کہ جانتے ہیں راہ و رسم کجکلاحی
*یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی
*تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری، نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی
*تو عرب ہو یا عجم ہو، تیرا ”لا الہ الا اللہ“، لغت غریب، جب تک تیرا دل نہ دے گواہی
'''(بال جبریل 145) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے'''
*کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
*اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ، ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ، بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ
*ہیں تیرے تصرف میں یہ بدل، یہ گھٹائیں، یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں
*یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں، تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں، آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ
*سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے، دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے
*نہ پيد تيرے بحر تخیل کے کنارے، پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے، تعمیر خودی کر، اثر آہ رسا دیکھ
*خورشید جہاں تاب کی جو تیرے شرر میں، آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں
*جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں، جنت تری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں، اے پیکرِ گل کوشش پہم کی جزا دیکھ
*نالندا تیرے عود کا ہر تار ازل سے، تو جنس محبت کا خیریدار ازل سے
*تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سے، محنت کش و خون ریز و کم آزار ازل سے، ہے رکاب تقدیر جہاں تیری رضا، دیکھ
'''(بانگِ درا ۰۲۱) دردِ عشق'''
*اے دردِ عشق! ہے گوہرِ ابد تُو، نہ مہرموں میں دیکھ نہ ہو آشکارا تُو
*پنہاں تہِ نقاب تری جلوگاہ ہے، ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے
*آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں، اے دردِ عشق! اب نہیں لذت نمود میں
*ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو، مِنّت پذیر نالۂ بلبل کا تُو نہ ہو
*خالی شرابِ عشق سے لالہ کا جام ہو، پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو
*پنہاں دروںِ سینا کہیں راز ہو تیرا، اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تیرا
*گویا زبانِ شاعرِ رنگین بیاں نہ ہو، آوازِ نے میں شکوۂ فرصت نہاں نہ ہو
*یہ دور نکته چین ہے، کہیں چُپ کے بیٹھ رہ، جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چُپ کے بیٹھ رہ
*غافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ! جویا نہیں تری نگاہِ نارسیدہ دیکھ
*رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو، حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
*جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں، قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں
*یہ انجمن ہے کشتۂ نظرۂ مجاز، مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
*ہر دل مئے خیال کی مستی سے چور ہے، کچھ اور آج کل کے کلاموں کا طور ہے
'''(بانگِ درا-۱۲۳) قربِ سلطان'''
*تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی، مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہم دوش
*جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندے کا کمال، رضائے خواجہ طلب کن قبائے رنگین پوش
*مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو، خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش
*پرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے، نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش
*مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسمان رہیے، "ہزار گونہ سخن در دہن و لب خاموش
*یہی اصول ہے سرمایۂ سکونِ حیات، "گدائے گوشہ نشینی تو حافظہ مے خروش
*مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ، "بگیر بادۂ صافی بہ بانگِ چنگ بنوش
*شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سلطان ہو، لڑا کے توڑ دے سنگِ ہوس سے شیشۂ ہوش
*پیامِ مرشدِ شیراز بھی مگر سن لے، کہ ہے یہ سرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سر فروش
*"مہلِ نورِ تجلّی ست رای انور شاہ، چو قرب طلبی در صفائے نیت کُش
'''(بانگِ درا-۱۵۵) پھول'''
*تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ سد چاکِ بلبل کی، تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے
*تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں، تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے
*صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پابندِ گِل بھی ہے، انہیں پابندیوں میں حصولِ آزادی کو تو کر لے
*تَنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے، نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے
*نہیں یہ شانِ خوداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو، کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زيبِ گلو کر لے
*چمن میں غنچۂ گل سے یہ کہ کر اڑ گئی شبنم، مذاقِ جورِ گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے
*اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا، جہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے
*اس میں دیکھ، مضمر ہے کمالِ زندگی تیرا، جو تجھ کو زينتِ دامن کوئی آئینہ رو کر لے
'''(ضربِ کلیم-۰۰۹) زمین و آسمان'''
*ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں، اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
*ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا
*ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا
'''(ضربِ کلیم-۱۱۹) نگاہِ شوق'''
*یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا، کہ ذرہ ذرہ میں ہے ذوقِ آشکارائی
*کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں، نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی
*اسی نگاہ سے مہجوم قوم کے فرزند، ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی
*اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری، اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی
*اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جنون میرا، سکھا رہا ہے راہ و رسمِ دشتِ پیمائی
*نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو، ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی
==اقبال کے بارے میں اقتباسات==
*اقبال کے فکر و فلسفہ کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے، نہ عشق، نہ عمل، اور نہ ہی قوت و حرکت؛ بلکہ ان سب کے برخلاف موت اقبال کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود میں ایک ایسی لرزش اور ہلچل پیدا کرتا ہے جو ان کی پوری ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
**ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 8
* اقبال کے بارے میں اردو تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے کہ “عظیم مفکر” ہونا لازماً “عظیم شاعر” ہونے کے مترادف نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسفے کو شاعری میں ڈھالنے کے مقابلے میں شاعری کو فلسفے میں بیان کرنا شاید زیادہ آسان ہے-
** ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 12
==مزید دیکھیے==
* [[فہرست شخصیات بلحاظ نام|شخصیات]]
==حوالہ جات==
{{Wikipedia}}
[[زمرہ:1877ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:1938ء کی وفیات]]
[[زمرہ:پاکستانی شعراء]]
[[زمرہ:شعراء]]
[[زمرہ:برطانوی ہند کی شخصیات]]
[[زمرہ:لاہور کی شخصیات]]
[[زمرہ:اردو مصنفین]]
[[زمرہ:اردو ادب]]
[[زمرہ:شعرائے اردو]]
[[زمرہ: فارسی ادب]]
[[زمرہ:فارسی شعراء]]
[[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]]
[[زمرہ:فارسی زبان کے مصنفین]]
[[زمرہ:پاکستانی شخصیات]]
[[زمرہ:ہندوستانی مسلمان]]
[[زمرہ:سیاست دان]]
[[زمرہ:تحریک پاکستان کے قائدین]]
[[زمرہ:کارکنان تحریک پاکستان]]
[[زمرہ:پاکستانی سیاستدان]]
[[زمرہ:پاکستانی علما]]
[[زمرہ:پاکستانی غیر افسانوی مصنفین]]
l6gfgtfqj6i6togn2gmgn8e9k8uhsuy
14485
14484
2026-06-15T19:22:14Z
Muntaqibah
2617
/* اقبال کے بارے میں اقتباسات */ +۱
14485
wikitext
text/x-wiki
[[File:Iqbal.jpg|thumb|]]
[[تصویر:Allama Iqbals Tomb East & south walls July 1 2005.jpg|thumb|علامہ اقبال کا مزار]]
'''[[:w:محمد اقبال|محمد اقبال]]''' (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، [[قانون دان]]، [[سیاستدان]]، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور [[فارسی]] میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت [[اسلام]] کی طرف تھا۔
== اقوال ==
*اختتام اور مقاصد، چاہے وہ شعوری یا لاشعوری رجحانات کے طور پر موجود ہوں، ہمارے شعوری تجربے کی تپش اور ڈھنگ کی تشکیل کرتے ہیں۔
**اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو (1930)، صفحہ۔ 42
* قوی انسان ماحول تخلیق کرتا ہے۔ کمزوروں کو ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے۔
* قوت باطل کو چھو لیتی ہے تو باطل حق میں بدل جاتا ہے۔
* تہذیب مرد قوی کا ایک خیال ہے۔
* پیکر قوت مہدی کا انتظار چھوڑ دو، جاؤ اور مہدی کو تخلیق کرو۔
** شذرات اقبال، مجلس ترقی ادب، لاہور
'''(بال جبریل 042) یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی'''
*یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی، کہ خودی کے عرفا کا ہے مقام پادشاہی
*تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے، جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی
*نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے، مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشین نہ راہی
*میرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں، وہ گدا کہ جانتے ہیں راہ و رسم کجکلاحی
*یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی
*تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری، نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی
*تو عرب ہو یا عجم ہو، تیرا ”لا الہ الا اللہ“، لغت غریب، جب تک تیرا دل نہ دے گواہی
'''(بال جبریل 145) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے'''
*کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
*اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ، ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ، بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ
*ہیں تیرے تصرف میں یہ بدل، یہ گھٹائیں، یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں
*یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں، تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں، آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ
*سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے، دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے
*نہ پيد تيرے بحر تخیل کے کنارے، پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے، تعمیر خودی کر، اثر آہ رسا دیکھ
*خورشید جہاں تاب کی جو تیرے شرر میں، آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں
*جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں، جنت تری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں، اے پیکرِ گل کوشش پہم کی جزا دیکھ
*نالندا تیرے عود کا ہر تار ازل سے، تو جنس محبت کا خیریدار ازل سے
*تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سے، محنت کش و خون ریز و کم آزار ازل سے، ہے رکاب تقدیر جہاں تیری رضا، دیکھ
'''(بانگِ درا ۰۲۱) دردِ عشق'''
*اے دردِ عشق! ہے گوہرِ ابد تُو، نہ مہرموں میں دیکھ نہ ہو آشکارا تُو
*پنہاں تہِ نقاب تری جلوگاہ ہے، ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے
*آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں، اے دردِ عشق! اب نہیں لذت نمود میں
*ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو، مِنّت پذیر نالۂ بلبل کا تُو نہ ہو
*خالی شرابِ عشق سے لالہ کا جام ہو، پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو
*پنہاں دروںِ سینا کہیں راز ہو تیرا، اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تیرا
*گویا زبانِ شاعرِ رنگین بیاں نہ ہو، آوازِ نے میں شکوۂ فرصت نہاں نہ ہو
*یہ دور نکته چین ہے، کہیں چُپ کے بیٹھ رہ، جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چُپ کے بیٹھ رہ
*غافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ! جویا نہیں تری نگاہِ نارسیدہ دیکھ
*رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو، حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
*جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں، قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں
*یہ انجمن ہے کشتۂ نظرۂ مجاز، مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
*ہر دل مئے خیال کی مستی سے چور ہے، کچھ اور آج کل کے کلاموں کا طور ہے
'''(بانگِ درا-۱۲۳) قربِ سلطان'''
*تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی، مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہم دوش
*جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندے کا کمال، رضائے خواجہ طلب کن قبائے رنگین پوش
*مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو، خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش
*پرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے، نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش
*مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسمان رہیے، "ہزار گونہ سخن در دہن و لب خاموش
*یہی اصول ہے سرمایۂ سکونِ حیات، "گدائے گوشہ نشینی تو حافظہ مے خروش
*مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ، "بگیر بادۂ صافی بہ بانگِ چنگ بنوش
*شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سلطان ہو، لڑا کے توڑ دے سنگِ ہوس سے شیشۂ ہوش
*پیامِ مرشدِ شیراز بھی مگر سن لے، کہ ہے یہ سرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سر فروش
*"مہلِ نورِ تجلّی ست رای انور شاہ، چو قرب طلبی در صفائے نیت کُش
'''(بانگِ درا-۱۵۵) پھول'''
*تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ سد چاکِ بلبل کی، تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے
*تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں، تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے
*صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پابندِ گِل بھی ہے، انہیں پابندیوں میں حصولِ آزادی کو تو کر لے
*تَنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے، نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے
*نہیں یہ شانِ خوداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو، کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زيبِ گلو کر لے
*چمن میں غنچۂ گل سے یہ کہ کر اڑ گئی شبنم، مذاقِ جورِ گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے
*اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا، جہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے
*اس میں دیکھ، مضمر ہے کمالِ زندگی تیرا، جو تجھ کو زينتِ دامن کوئی آئینہ رو کر لے
'''(ضربِ کلیم-۰۰۹) زمین و آسمان'''
*ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں، اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
*ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا
*ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا
'''(ضربِ کلیم-۱۱۹) نگاہِ شوق'''
*یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا، کہ ذرہ ذرہ میں ہے ذوقِ آشکارائی
*کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں، نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی
*اسی نگاہ سے مہجوم قوم کے فرزند، ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی
*اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری، اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی
*اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جنون میرا، سکھا رہا ہے راہ و رسمِ دشتِ پیمائی
*نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو، ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی
==اقبال کے بارے میں اقتباسات==
*اقبال کے فکر و فلسفہ کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے، نہ عشق، نہ عمل، اور نہ ہی قوت و حرکت؛ بلکہ ان سب کے برخلاف موت اقبال کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود میں ایک ایسی لرزش اور ہلچل پیدا کرتا ہے جو ان کی پوری ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
**ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 8
* اقبال کے بارے میں اردو تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے کہ “عظیم مفکر” ہونا لازماً “عظیم شاعر” ہونے کے مترادف نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسفے کو شاعری میں ڈھالنے کے مقابلے میں شاعری کو فلسفے میں بیان کرنا شاید زیادہ آسان ہے-
** ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 12
* اقبال کو اردو شاعری میں مختلف اسالیب کے ایک کامل و مکمل کرنے والے شاعر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور ساتھ ہی بہت سے نئے اسالیب کے موجد کے طور پر بھی۔
ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 34**
==مزید دیکھیے==
* [[فہرست شخصیات بلحاظ نام|شخصیات]]
==حوالہ جات==
{{Wikipedia}}
[[زمرہ:1877ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:1938ء کی وفیات]]
[[زمرہ:پاکستانی شعراء]]
[[زمرہ:شعراء]]
[[زمرہ:برطانوی ہند کی شخصیات]]
[[زمرہ:لاہور کی شخصیات]]
[[زمرہ:اردو مصنفین]]
[[زمرہ:اردو ادب]]
[[زمرہ:شعرائے اردو]]
[[زمرہ: فارسی ادب]]
[[زمرہ:فارسی شعراء]]
[[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]]
[[زمرہ:فارسی زبان کے مصنفین]]
[[زمرہ:پاکستانی شخصیات]]
[[زمرہ:ہندوستانی مسلمان]]
[[زمرہ:سیاست دان]]
[[زمرہ:تحریک پاکستان کے قائدین]]
[[زمرہ:کارکنان تحریک پاکستان]]
[[زمرہ:پاکستانی سیاستدان]]
[[زمرہ:پاکستانی علما]]
[[زمرہ:پاکستانی غیر افسانوی مصنفین]]
5dolhhzschzc4y73pmuocevtxtqino2
14486
14485
2026-06-15T19:22:38Z
Muntaqibah
2617
/* اقبال کے بارے میں اقتباسات */ درستی
14486
wikitext
text/x-wiki
[[File:Iqbal.jpg|thumb|]]
[[تصویر:Allama Iqbals Tomb East & south walls July 1 2005.jpg|thumb|علامہ اقبال کا مزار]]
'''[[:w:محمد اقبال|محمد اقبال]]''' (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، [[قانون دان]]، [[سیاستدان]]، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور [[فارسی]] میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت [[اسلام]] کی طرف تھا۔
== اقوال ==
*اختتام اور مقاصد، چاہے وہ شعوری یا لاشعوری رجحانات کے طور پر موجود ہوں، ہمارے شعوری تجربے کی تپش اور ڈھنگ کی تشکیل کرتے ہیں۔
**اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو (1930)، صفحہ۔ 42
* قوی انسان ماحول تخلیق کرتا ہے۔ کمزوروں کو ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے۔
* قوت باطل کو چھو لیتی ہے تو باطل حق میں بدل جاتا ہے۔
* تہذیب مرد قوی کا ایک خیال ہے۔
* پیکر قوت مہدی کا انتظار چھوڑ دو، جاؤ اور مہدی کو تخلیق کرو۔
** شذرات اقبال، مجلس ترقی ادب، لاہور
'''(بال جبریل 042) یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی'''
*یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی، کہ خودی کے عرفا کا ہے مقام پادشاہی
*تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے، جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی
*نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے، مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشین نہ راہی
*میرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں، وہ گدا کہ جانتے ہیں راہ و رسم کجکلاحی
*یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی
*تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری، نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی
*تو عرب ہو یا عجم ہو، تیرا ”لا الہ الا اللہ“، لغت غریب، جب تک تیرا دل نہ دے گواہی
'''(بال جبریل 145) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے'''
*کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
*اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ، ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ، بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ
*ہیں تیرے تصرف میں یہ بدل، یہ گھٹائیں، یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں
*یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں، تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں، آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ
*سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے، دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے
*نہ پيد تيرے بحر تخیل کے کنارے، پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے، تعمیر خودی کر، اثر آہ رسا دیکھ
*خورشید جہاں تاب کی جو تیرے شرر میں، آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں
*جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں، جنت تری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں، اے پیکرِ گل کوشش پہم کی جزا دیکھ
*نالندا تیرے عود کا ہر تار ازل سے، تو جنس محبت کا خیریدار ازل سے
*تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سے، محنت کش و خون ریز و کم آزار ازل سے، ہے رکاب تقدیر جہاں تیری رضا، دیکھ
'''(بانگِ درا ۰۲۱) دردِ عشق'''
*اے دردِ عشق! ہے گوہرِ ابد تُو، نہ مہرموں میں دیکھ نہ ہو آشکارا تُو
*پنہاں تہِ نقاب تری جلوگاہ ہے، ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے
*آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں، اے دردِ عشق! اب نہیں لذت نمود میں
*ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو، مِنّت پذیر نالۂ بلبل کا تُو نہ ہو
*خالی شرابِ عشق سے لالہ کا جام ہو، پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو
*پنہاں دروںِ سینا کہیں راز ہو تیرا، اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تیرا
*گویا زبانِ شاعرِ رنگین بیاں نہ ہو، آوازِ نے میں شکوۂ فرصت نہاں نہ ہو
*یہ دور نکته چین ہے، کہیں چُپ کے بیٹھ رہ، جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چُپ کے بیٹھ رہ
*غافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ! جویا نہیں تری نگاہِ نارسیدہ دیکھ
*رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو، حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
*جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں، قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں
*یہ انجمن ہے کشتۂ نظرۂ مجاز، مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
*ہر دل مئے خیال کی مستی سے چور ہے، کچھ اور آج کل کے کلاموں کا طور ہے
'''(بانگِ درا-۱۲۳) قربِ سلطان'''
*تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی، مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہم دوش
*جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندے کا کمال، رضائے خواجہ طلب کن قبائے رنگین پوش
*مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو، خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش
*پرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے، نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش
*مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسمان رہیے، "ہزار گونہ سخن در دہن و لب خاموش
*یہی اصول ہے سرمایۂ سکونِ حیات، "گدائے گوشہ نشینی تو حافظہ مے خروش
*مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ، "بگیر بادۂ صافی بہ بانگِ چنگ بنوش
*شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سلطان ہو، لڑا کے توڑ دے سنگِ ہوس سے شیشۂ ہوش
*پیامِ مرشدِ شیراز بھی مگر سن لے، کہ ہے یہ سرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سر فروش
*"مہلِ نورِ تجلّی ست رای انور شاہ، چو قرب طلبی در صفائے نیت کُش
'''(بانگِ درا-۱۵۵) پھول'''
*تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ سد چاکِ بلبل کی، تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے
*تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں، تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے
*صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پابندِ گِل بھی ہے، انہیں پابندیوں میں حصولِ آزادی کو تو کر لے
*تَنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے، نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے
*نہیں یہ شانِ خوداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو، کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زيبِ گلو کر لے
*چمن میں غنچۂ گل سے یہ کہ کر اڑ گئی شبنم، مذاقِ جورِ گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے
*اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا، جہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے
*اس میں دیکھ، مضمر ہے کمالِ زندگی تیرا، جو تجھ کو زينتِ دامن کوئی آئینہ رو کر لے
'''(ضربِ کلیم-۰۰۹) زمین و آسمان'''
*ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں، اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
*ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا
*ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا
'''(ضربِ کلیم-۱۱۹) نگاہِ شوق'''
*یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا، کہ ذرہ ذرہ میں ہے ذوقِ آشکارائی
*کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں، نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی
*اسی نگاہ سے مہجوم قوم کے فرزند، ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی
*اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری، اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی
*اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جنون میرا، سکھا رہا ہے راہ و رسمِ دشتِ پیمائی
*نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو، ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی
==اقبال کے بارے میں اقتباسات==
*اقبال کے فکر و فلسفہ کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے، نہ عشق، نہ عمل، اور نہ ہی قوت و حرکت؛ بلکہ ان سب کے برخلاف موت اقبال کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود میں ایک ایسی لرزش اور ہلچل پیدا کرتا ہے جو ان کی پوری ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
**ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 8
* اقبال کے بارے میں اردو تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے کہ “عظیم مفکر” ہونا لازماً “عظیم شاعر” ہونے کے مترادف نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسفے کو شاعری میں ڈھالنے کے مقابلے میں شاعری کو فلسفے میں بیان کرنا شاید زیادہ آسان ہے-
** ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 12
* اقبال کو اردو شاعری میں مختلف اسالیب کے ایک کامل و مکمل کرنے والے شاعر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور ساتھ ہی بہت سے نئے اسالیب کے موجد کے طور پر بھی۔
**ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 34
==مزید دیکھیے==
* [[فہرست شخصیات بلحاظ نام|شخصیات]]
==حوالہ جات==
{{Wikipedia}}
[[زمرہ:1877ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:1938ء کی وفیات]]
[[زمرہ:پاکستانی شعراء]]
[[زمرہ:شعراء]]
[[زمرہ:برطانوی ہند کی شخصیات]]
[[زمرہ:لاہور کی شخصیات]]
[[زمرہ:اردو مصنفین]]
[[زمرہ:اردو ادب]]
[[زمرہ:شعرائے اردو]]
[[زمرہ: فارسی ادب]]
[[زمرہ:فارسی شعراء]]
[[زمرہ:فارسی زبان کے شعراء]]
[[زمرہ:فارسی زبان کے مصنفین]]
[[زمرہ:پاکستانی شخصیات]]
[[زمرہ:ہندوستانی مسلمان]]
[[زمرہ:سیاست دان]]
[[زمرہ:تحریک پاکستان کے قائدین]]
[[زمرہ:کارکنان تحریک پاکستان]]
[[زمرہ:پاکستانی سیاستدان]]
[[زمرہ:پاکستانی علما]]
[[زمرہ:پاکستانی غیر افسانوی مصنفین]]
b3vceegzq8bkryn3mwo721lkawkqoig
سانچہ:New pages
10
2677
14495
14432
2026-06-16T00:01:02Z
Aafis Bot
2972
تجدید فہرست (روبہ)
14495
wikitext
text/x-wiki
<div style="background-color: #faf9b2;color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-bottom: none; padding-top: 0.3em; padding-bottom: 0.3em; font-size: large; text-align:center;">
'''[[Special:NewPages|نئے صفحات]]'''
</div>
<!-- Image start -->
[[File:Manzar bhopali.jpg|thumb|ویکی اقتباس میں نیا: [[منظر بھوپالی]]]]
<!-- Image end -->
<div style="background: #ffffec; color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-top: none; padding: 0.6em; padding-top: none;">
<!-- NOTE BEFORE ADDING: Total of fourteen (15) only, in chronological order: add to top, remove from bottom -->
<!-- List Top -->
:[[منظر بھوپالی]]
:[[شمس الرحمٰن فاروقی]]
:[[ڈپٹی نذیر احمد]]
:[[ڈاکٹر مختار احمد انصاری]]
:[[محمد مجیب]]
:[[نذیر احمد]]
:[[مولوی عبدالحق]]
:[[خواجہ الطاف حسین حالی]]
:[[علامہ شبلی نعمانی]]
:[[سر سید احمد خان]]
:[[مولانا ابوالکلام آزاد]]
:[[ولی محمد ولی]]
:[[مولانا محمد علی جوہر]]
:[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
:[[فدوی لاہوری]]
<!-- List Bottom -->
{{break}}
<div style="text-align:center;" class="plainlinks">چند نئے صفحات کی ایک جزوی فہرست ([[Special:NewPages|نئے صفحات]] [http://ur.wikiquote.org/w/index.php?title=سانچہ:New_pages&action=edit شامل کریں])</div></div><noinclude>[[Category:Main Page templates|{{PAGENAME}}]]</noinclude>
szawav8tzbkdpg094wzk0t3l2sk5chr
14506
14495
2026-06-16T07:01:33Z
Aafi
2411
درستی
14506
wikitext
text/x-wiki
<div style="background-color: #faf9b2;color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-bottom: none; padding-top: 0.3em; padding-bottom: 0.3em; font-size: large; text-align:center;">
'''[[Special:NewPages|نئے صفحات]]'''
</div>
<!-- Image start -->
[[File:Manzar bhopali.jpg|thumb|ویکی اقتباس میں نیا: [[منظر بھوپالی]]]]
<!-- Image end -->
<div style="background: #ffffec; color:var(--color-base-fixed,#202122); border: 2px solid #faf9b2; border-top: none; padding: 0.6em; padding-top: none;">
<!-- NOTE BEFORE ADDING: Total of fourteen (15) only, in chronological order: add to top, remove from bottom -->
<!-- List Top -->
:[[منظر بھوپالی]]
:[[شمس الرحمٰن فاروقی]]
:[[ڈپٹی نذیر احمد]]
:[[مختار احمد انصاری]]
:[[محمد مجیب]]
:[[مولوی عبدالحق]]
:[[شبلی نعمانی]]
:[[ولی محمد ولی]]
:[[فدوی لاہوری]]
<!-- List Bottom -->
{{break}}
<div style="text-align:center;" class="plainlinks">چند نئے صفحات کی ایک جزوی فہرست ([[Special:NewPages|نئے صفحات]] [http://ur.wikiquote.org/w/index.php?title=سانچہ:New_pages&action=edit شامل کریں])</div></div><noinclude>[[Category:Main Page templates|{{PAGENAME}}]]</noinclude>
5y00jxf5uugpgvz6cr8y2er0e4wthbp
صارف:Khajb/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ
2
5666
14449
14438
2026-06-15T12:28:07Z
Khajb
3035
14449
wikitext
text/x-wiki
#[[مولانا محمد علی جوہر]]
#[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
p0wyzwqyc111lff5sre9mj24k4ux7zz
14452
14449
2026-06-15T12:44:02Z
Khajb
3035
14452
wikitext
text/x-wiki
#[[مولانا محمد علی جوہر]]
#[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
#[[مولانا ابوالکلام آزاد]]
iuxurwj5a109ync32i6466f8bncbwf4
14456
14452
2026-06-15T13:08:23Z
Khajb
3035
14456
wikitext
text/x-wiki
#[[مولانا محمد علی جوہر]]
#[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
#[[مولانا ابوالکلام آزاد]]
#[[سر سید احمد خان]]
qvwp3htjgll0k0m1r5qe1v9bhp3w45q
14458
14456
2026-06-15T13:25:26Z
Khajb
3035
14458
wikitext
text/x-wiki
#[[مولانا محمد علی جوہر]]
#[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
#[[مولانا ابوالکلام آزاد]]
#[[سر سید احمد خان]]
#[[علامہ شبلی نعمانی]]
bo429zksthjni2klqqrlgvmasg0wvya
14460
14458
2026-06-15T13:31:41Z
Khajb
3035
14460
wikitext
text/x-wiki
#[[مولانا محمد علی جوہر]]
#[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
#[[مولانا ابوالکلام آزاد]]
#[[سر سید احمد خان]]
#[[علامہ شبلی نعمانی]]
#[[خواجہ الطاف حسین حالی]]
ka17v2783f4j0mphycgs7taeafdmfk2
14462
14460
2026-06-15T13:34:13Z
Khajb
3035
14462
wikitext
text/x-wiki
#[[مولانا محمد علی جوہر]]
#[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
#[[مولانا ابوالکلام آزاد]]
#[[سر سید احمد خان]]
#[[علامہ شبلی نعمانی]]
#[[خواجہ الطاف حسین حالی]]
#[[مولوی عبدالحق]]
mdbj8yt4xqfnng7a2zce0stn28djh3g
14464
14462
2026-06-15T14:16:22Z
Khajb
3035
14464
wikitext
text/x-wiki
#[[مولانا محمد علی جوہر]]
#[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
#[[مولانا ابوالکلام آزاد]]
#[[سر سید احمد خان]]
#[[علامہ شبلی نعمانی]]
#[[خواجہ الطاف حسین حالی]]
#[[مولوی عبدالحق]]
#[[نذیر احمد]]
hf9o5933e7euzmb2a7qeabhadg2ip5q
14466
14464
2026-06-15T14:33:59Z
Khajb
3035
14466
wikitext
text/x-wiki
#[[مولانا محمد علی جوہر]]
#[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
#[[مولانا ابوالکلام آزاد]]
#[[سر سید احمد خان]]
#[[علامہ شبلی نعمانی]]
#[[خواجہ الطاف حسین حالی]]
#[[مولوی عبدالحق]]
#[[نذیر احمد]]
#[[محمد مجیب]]
89pclw0rui4b6o2y98f9i4ojakbgu4l
14468
14466
2026-06-15T15:27:55Z
Khajb
3035
14468
wikitext
text/x-wiki
#[[مولانا محمد علی جوہر]]
#[[ڈاکٹر ذاكر حسين]]
#[[مولانا ابوالکلام آزاد]]
#[[سر سید احمد خان]]
#[[علامہ شبلی نعمانی]]
#[[خواجہ الطاف حسین حالی]]
#[[مولوی عبدالحق]]
#[[نذیر احمد]]
#[[محمد مجیب]]
#[[مختار احمد انصاری]]
ctxvyxqfivf8t4jqhcizjayz93nt0hg
14509
14468
2026-06-16T07:07:02Z
Aafi
2411
دہرے مضامین کا اخراج
14509
wikitext
text/x-wiki
#[[شبلی نعمانی]]
#[[مولوی عبدالحق]]
#[[محمد مجیب]]
#[[مختار احمد انصاری]]
okn6bqwzy4jgidvt52brdipyq0rchzx
ڈاکٹر ذاكر حسين
0
5670
14497
14447
2026-06-16T06:51:50Z
Aafi
2411
رجوع مکرر
14497
wikitext
text/x-wiki
#رجوع_مکرر
[[ذاکر حسین (سیاستدان)]]
foy281vcquc0arjp5trwk3lmi6j64pi
ولی محمد ولی
0
5672
14450
2026-06-15T12:42:15Z
Muntaqibah
2617
صفحہ تخلیق کرو
14450
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:ولی محمد ولی| ولی محمد ولی]]''' (1667–1707)، جنہیں ولی دکنی، ولی گجراتی اور ولی اورنگ آبادی کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، برصغیرِ ہند کے ایک کلاسیکی اردو شاعر تھے۔ انہیں اردو غزل کے ابتدائی اور اہم ترین شعرا میں شمار کیا جاتا ہے، اور اردو شاعری کی ترقی میں ان کی خدمات نہایت نمایاں ہیں-
m5s4dudj5wbsc2shfvcab7p4ieoph1v
14453
14450
2026-06-15T12:44:31Z
Muntaqibah
2617
/* */ تصویر شامل کی
14453
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:ولی محمد ولی| ولی محمد ولی]]''' (1667–1707)، جنہیں ولی دکنی، ولی گجراتی اور ولی اورنگ آبادی کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، برصغیرِ ہند کے ایک کلاسیکی اردو شاعر تھے۔ انہیں اردو غزل کے ابتدائی اور اہم ترین شعرا میں شمار کیا جاتا ہے، اور اردو شاعری کی ترقی میں ان کی خدمات نہایت نمایاں ہیں-
[[File:Wali Mohammed Wali New.svg|thumb|Wali Mohammed Wali|wl| ولی محمد ولی]]
lh5knbfq7gtmkpecl0tnk32qivt1pdj
14454
14453
2026-06-15T12:45:24Z
Muntaqibah
2617
/* */ بیرونی روابط
14454
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:ولی محمد ولی| ولی محمد ولی]]''' (1667–1707)، جنہیں ولی دکنی، ولی گجراتی اور ولی اورنگ آبادی کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، برصغیرِ ہند کے ایک کلاسیکی اردو شاعر تھے۔ انہیں اردو غزل کے ابتدائی اور اہم ترین شعرا میں شمار کیا جاتا ہے، اور اردو شاعری کی ترقی میں ان کی خدمات نہایت نمایاں ہیں-
[[File:Wali Mohammed Wali New.svg|thumb|Wali Mohammed Wali|wl| ولی محمد ولی]]
==اقتباسات==
==بیرونی راوبط==
{{ویکیپیڈیا}}
puk4nx9nggmovafkco5bozp6s4i594c
14470
14454
2026-06-15T17:52:19Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ اقتباس
14470
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:ولی محمد ولی| ولی محمد ولی]]''' (1667–1707)، جنہیں ولی دکنی، ولی گجراتی اور ولی اورنگ آبادی کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، برصغیرِ ہند کے ایک کلاسیکی اردو شاعر تھے۔ انہیں اردو غزل کے ابتدائی اور اہم ترین شعرا میں شمار کیا جاتا ہے، اور اردو شاعری کی ترقی میں ان کی خدمات نہایت نمایاں ہیں-
[[File:Wali Mohammed Wali New.svg|thumb|Wali Mohammed Wali|wl| ولی محمد ولی]]
==اقتباسات==
* ولی کی تخلیقات میں عاشق کا کردار بھی اس کے تصور عشق کا ایک پہلو ہے
** انتخابِ ولى, ڈاکٹر سيد ظہیرالدين مدنی ص10
==بیرونی راوبط==
{{ویکیپیڈیا}}
rq56cssxtfussa9g8xfxwbesdahndik
14471
14470
2026-06-15T17:53:51Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ +۱
14471
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:ولی محمد ولی| ولی محمد ولی]]''' (1667–1707)، جنہیں ولی دکنی، ولی گجراتی اور ولی اورنگ آبادی کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، برصغیرِ ہند کے ایک کلاسیکی اردو شاعر تھے۔ انہیں اردو غزل کے ابتدائی اور اہم ترین شعرا میں شمار کیا جاتا ہے، اور اردو شاعری کی ترقی میں ان کی خدمات نہایت نمایاں ہیں-
[[File:Wali Mohammed Wali New.svg|thumb|Wali Mohammed Wali|wl| ولی محمد ولی]]
==اقتباسات==
* لی کا تصور حسن اُس کے فکر وفن میں بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ حسن کے لیے اُس کے متصوفانہ نقطہ نظر نے اُس کے آئینہ کلام کو جلا دیدی ۔ ولی حسن کو قلب و نظر کی پاکیزگی کے لیے ایک ضروری عنصر خیال کرتا ہے ۔ اس کو انسان کے اخلاق و اطوار اور ذہن و خیال میں رفعت و بلندی کا باعث سمجھتا ہے
** انتخابِ ولى, ڈاکٹر سيد ظہیرالدين مدنی ص10
* ولی کی تخلیقات میں عاشق کا کردار بھی اس کے تصور عشق کا ایک پہلو ہے
** انتخابِ ولى, ڈاکٹر سيد ظہیرالدين مدنی ص10
==بیرونی راوبط==
{{ویکیپیڈیا}}
fj589w3legizuvttkl1qehaospfpd6s
14472
14471
2026-06-15T18:00:01Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ اقتباس
14472
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:ولی محمد ولی| ولی محمد ولی]]''' (1667–1707)، جنہیں ولی دکنی، ولی گجراتی اور ولی اورنگ آبادی کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، برصغیرِ ہند کے ایک کلاسیکی اردو شاعر تھے۔ انہیں اردو غزل کے ابتدائی اور اہم ترین شعرا میں شمار کیا جاتا ہے، اور اردو شاعری کی ترقی میں ان کی خدمات نہایت نمایاں ہیں-
[[File:Wali Mohammed Wali New.svg|thumb|Wali Mohammed Wali|wl| ولی محمد ولی]]
==اقتباسات==
* ولی کا تصور حسن اُس کے فکر وفن میں بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ حسن کے لیے اُس کے متصوفانہ نقطہ نظر نے اُس کے آئینہ کلام کو جلا دیدی ۔ ولی حسن کو قلب و نظر کی پاکیزگی کے لیے ایک ضروری عنصر خیال کرتا ہے ۔ اس کو انسان کے اخلاق و اطوار اور ذہن و خیال میں رفعت و بلندی کا باعث سمجھتا ہے
** انتخابِ ولى, ڈاکٹر سيد ظہیرالدين مدنی ص10
* ولی کی تخلیقات میں عاشق کا کردار بھی اس کے تصور عشق کا ایک پہلو ہے
** انتخابِ ولى, ڈاکٹر سيد ظہیرالدين مدنی ص10
*ولی کا کلام کسی زاویہ نظر سے دیکھا جائے قابل ستائش ہے ۔ اس نے فکر و فن کی اہم آہنگی سے ایک ایسا اچھوتا نمونہ پیش کیا کہ یہ اردو غزل کا نیا آہنگ قرار پایا اور اُسی کے زمانہ حیات میں اس آہنگ نے مقبول عام کا تمغہ بھی حاصل کر لیا
** انتخابِ ولى, ڈاکٹر سيد ظہیرالدين مدنی ص11
==بیرونی راوبط==
{{ویکیپیڈیا}}
67hm0wjt2wrcngpesfefqotxzlexkz6
14473
14472
2026-06-15T18:00:50Z
Muntaqibah
2617
/* ولی کے بارے میں اقتباسات */ درستی
14473
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:ولی محمد ولی| ولی محمد ولی]]''' (1667–1707)، جنہیں ولی دکنی، ولی گجراتی اور ولی اورنگ آبادی کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے، برصغیرِ ہند کے ایک کلاسیکی اردو شاعر تھے۔ انہیں اردو غزل کے ابتدائی اور اہم ترین شعرا میں شمار کیا جاتا ہے، اور اردو شاعری کی ترقی میں ان کی خدمات نہایت نمایاں ہیں-
[[File:Wali Mohammed Wali New.svg|thumb|Wali Mohammed Wali|wl| ولی محمد ولی]]
==ولی کے بارے میں اقتباسات==
* ولی کا تصور حسن اُس کے فکر وفن میں بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ حسن کے لیے اُس کے متصوفانہ نقطہ نظر نے اُس کے آئینہ کلام کو جلا دیدی ۔ ولی حسن کو قلب و نظر کی پاکیزگی کے لیے ایک ضروری عنصر خیال کرتا ہے ۔ اس کو انسان کے اخلاق و اطوار اور ذہن و خیال میں رفعت و بلندی کا باعث سمجھتا ہے
** انتخابِ ولى, ڈاکٹر سيد ظہیرالدين مدنی ص10
* ولی کی تخلیقات میں عاشق کا کردار بھی اس کے تصور عشق کا ایک پہلو ہے
** انتخابِ ولى, ڈاکٹر سيد ظہیرالدين مدنی ص10
*ولی کا کلام کسی زاویہ نظر سے دیکھا جائے قابل ستائش ہے ۔ اس نے فکر و فن کی اہم آہنگی سے ایک ایسا اچھوتا نمونہ پیش کیا کہ یہ اردو غزل کا نیا آہنگ قرار پایا اور اُسی کے زمانہ حیات میں اس آہنگ نے مقبول عام کا تمغہ بھی حاصل کر لیا
** انتخابِ ولى, ڈاکٹر سيد ظہیرالدين مدنی ص11
==بیرونی راوبط==
{{ویکیپیڈیا}}
os9otg3sjl7i2tvfujrgw8cw22s4nss
مولانا ابوالکلام آزاد
0
5673
14451
2026-06-15T12:42:45Z
Khajb
3035
”'''[[w|مولانا ابوالکلام آزاد]]''' (1888ء – 1958ء) ایک عظیم ہندوستانی عالم، مفکر، صحافی، اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے۔ ان کی تصنیف 'غبارِ خاطر' اردو نثر اور مکتوب نگاری کا ایک بے مثال نمونہ مانی جاتی ہے۔ == اقوال == * میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
14451
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|مولانا ابوالکلام آزاد]]''' (1888ء – 1958ء) ایک عظیم ہندوستانی عالم، مفکر، صحافی، اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے۔ ان کی تصنیف 'غبارِ خاطر' اردو نثر اور مکتوب نگاری کا ایک بے مثال نمونہ مانی جاتی ہے۔
== اقوال ==
* میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ علم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنی جہالت کا احساس دلاتا ہے۔
** مولانا ابوالکلام آزاد، ''غبارِ خاطر''، ساہتیہ اکادمی، ص: 45۔
* اگر کوئی قوم اپنی تاریخ اور روایات کو فراموش کر دے، تو اس کا مستقبل کبھی محفوظ اور روشن نہیں رہ سکتا۔
** مولانا ابوالکلام آزاد، ''مضامینِ آزاد''، ص: 78۔
* سچائی کی تلاش میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کے اپنے تعصبات اور پہلے سے قائم کردہ آراء ہوتی ہیں۔
** حوالہ سابق، ص: 102۔
* جو شخص اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا، وہ کبھی زندگی میں کچھ نیا نہیں سیکھ سکتا۔
** مولانا ابوالکلام آزاد، ''غبارِ خاطر''، ص: 115۔
t0hefrd0xxu1ru1cft5hiuxcaiiswld
14504
14451
2026-06-16T06:59:14Z
Aafi
2411
رجوع
14504
wikitext
text/x-wiki
#رجوع_مکرر
[[مولانا آزاد]]
tctud5mj6hjbjxnyerebvxo38uf5rml
سر سید احمد خان
0
5674
14455
2026-06-15T13:07:10Z
Khajb
3035
”'''[[w|سر سید احمد خان]]''' (1817ء – 1898ء) انیسویں صدی کے ایک عظیم ہندوستانی مصلح، ماہرِ تعلیم، اور جدید اردو نثر کے بانی تھے۔ انہوں نے علی گڑھ تحریک کی بنیاد رکھی اور ہندوستان میں جدید تعلیم کے فروغ کے لیے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج (موجودہ علی گڑھ مسل...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
14455
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|سر سید احمد خان]]''' (1817ء – 1898ء) انیسویں صدی کے ایک عظیم ہندوستانی مصلح، ماہرِ تعلیم، اور جدید اردو نثر کے بانی تھے۔ انہوں نے علی گڑھ تحریک کی بنیاد رکھی اور ہندوستان میں جدید تعلیم کے فروغ کے لیے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج (موجودہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) قائم کیا۔
== اقوال ==
* جہالت تمام برائیوں اور غلامی کی اصل جڑ ہے۔
** سر سید احمد خان، ''مقالاتِ سرسید''، حصہ اول، مجلس ترقی ادب، ص: 112۔
* جو قوم وقت کے ساتھ اپنی تعلیمی حالت نہیں بدلتی، وہ دنیا کی دوڑ میں ہمیشہ کے لیے پیچھے رہ جاتی ہے۔
** سر سید احمد خان، ''تہذیب الاخلاق''، ص: 45۔
* سچی ترقی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم جدید علوم کے ساتھ ساتھ اپنی اعلیٰ اخلاقی قدروں کو بھی مضبوطی سے اپنائیں۔
** حوالہ سابق، ص: 89۔
* تعصب انسان کی عقل کو اندھا کر دیتا ہے اور اسے حق اور سچ کی بات سمجھنے سے روک دیتا ہے۔
** سر سید احمد خان، ''مقالاتِ سرسید''، حصہ پنجم، ص: 201۔
0cqnfn3xwz2sjvebvkrb4dfh5ln8v9r
14501
14455
2026-06-16T06:55:50Z
Aafi
2411
رجوع مکرر
14501
wikitext
text/x-wiki
#رجوع_مکرر
[[سید احمد خان]]
ffs7dnz6l7d0na655keyp8tu4zns1zi
شبلی نعمانی
0
5675
14457
2026-06-15T13:24:36Z
Khajb
3035
”'''[[w|علامہ شبلی نعمانی]]''' (1857ء – 1914ء) برصغیر کے ایک نامور مؤرخ، سیرت نگار، ماہرِ تعلیم، اور دارالمصنفین (اعظم گڑھ) کے بانی تھے۔ ان کی تصانیف اور مقالات اردو نثر، تنقید اور تاریخی تحقیق کا عظیم سرمایہ ہیں۔ == اقوال == * جو قوم اپنی تاریخ اور کارنام...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
14457
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|علامہ شبلی نعمانی]]''' (1857ء – 1914ء) برصغیر کے ایک نامور مؤرخ، سیرت نگار، ماہرِ تعلیم، اور دارالمصنفین (اعظم گڑھ) کے بانی تھے۔ ان کی تصانیف اور مقالات اردو نثر، تنقید اور تاریخی تحقیق کا عظیم سرمایہ ہیں۔
== اقوال ==
* جو قوم اپنی تاریخ اور کارناموں کو زندہ نہیں رکھ سکتی، وہ خود بھی طویل عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتی۔
** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد اول، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، ص: 34۔
* تنقید کا مقصد محض خامیاں نکالنا نہیں ہے، بلکہ خوبیوں کو اجاگر کرنا اور علم کا صحیح مقام متعین کرنا ہے۔
** حوالہ سابق، ص: 88۔
* صرف علم کا ہونا کافی نہیں، اس پر عمل کرنا اور اسے معاشرے کی فلاح کے لیے استعمال کرنا اصل کمال ہے۔
** علامہ شبلی نعمانی، ''مکاتیبِ شبلی''، ص: 56۔
* کوئی بھی بڑی اور بامقصد تبدیلی بغیر مسلسل محنت، استقامت اور سچی لگن کے ممکن نہیں۔
** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد دوم، ص: 112۔
iozdqybm8tjjnelf7k8d06iszw4u8sh
14502
14457
2026-06-16T06:56:44Z
Aafi
2411
Aafi نے صفحہ [[علامہ شبلی نعمانی]] کو بدون رجوع مکرر بجانب [[شبلی نعمانی]] منتقل کیا: فقط نام
14457
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|علامہ شبلی نعمانی]]''' (1857ء – 1914ء) برصغیر کے ایک نامور مؤرخ، سیرت نگار، ماہرِ تعلیم، اور دارالمصنفین (اعظم گڑھ) کے بانی تھے۔ ان کی تصانیف اور مقالات اردو نثر، تنقید اور تاریخی تحقیق کا عظیم سرمایہ ہیں۔
== اقوال ==
* جو قوم اپنی تاریخ اور کارناموں کو زندہ نہیں رکھ سکتی، وہ خود بھی طویل عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتی۔
** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد اول، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، ص: 34۔
* تنقید کا مقصد محض خامیاں نکالنا نہیں ہے، بلکہ خوبیوں کو اجاگر کرنا اور علم کا صحیح مقام متعین کرنا ہے۔
** حوالہ سابق، ص: 88۔
* صرف علم کا ہونا کافی نہیں، اس پر عمل کرنا اور اسے معاشرے کی فلاح کے لیے استعمال کرنا اصل کمال ہے۔
** علامہ شبلی نعمانی، ''مکاتیبِ شبلی''، ص: 56۔
* کوئی بھی بڑی اور بامقصد تبدیلی بغیر مسلسل محنت، استقامت اور سچی لگن کے ممکن نہیں۔
** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد دوم، ص: 112۔
iozdqybm8tjjnelf7k8d06iszw4u8sh
14503
14502
2026-06-16T06:57:24Z
Aafi
2411
فارمیٹنگ
14503
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:شبلی نعمانی|شبلی نعمانی]]''' (1857ء – 1914ء) برصغیر کے ایک نامور مؤرخ، سیرت نگار، ماہرِ تعلیم، اور دارالمصنفین (اعظم گڑھ) کے بانی تھے۔ ان کی تصانیف اور مقالات اردو نثر، تنقید اور تاریخی تحقیق کا عظیم سرمایہ ہیں۔
== اقوال ==
* جو قوم اپنی تاریخ اور کارناموں کو زندہ نہیں رکھ سکتی، وہ خود بھی طویل عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتی۔
** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد اول، دارالمصنفین، اعظم گڑھ، ص: 34۔
* تنقید کا مقصد محض خامیاں نکالنا نہیں ہے، بلکہ خوبیوں کو اجاگر کرنا اور علم کا صحیح مقام متعین کرنا ہے۔
** حوالہ سابق، ص: 88۔
* صرف علم کا ہونا کافی نہیں، اس پر عمل کرنا اور اسے معاشرے کی فلاح کے لیے استعمال کرنا اصل کمال ہے۔
** علامہ شبلی نعمانی، ''مکاتیبِ شبلی''، ص: 56۔
* کوئی بھی بڑی اور بامقصد تبدیلی بغیر مسلسل محنت، استقامت اور سچی لگن کے ممکن نہیں۔
** علامہ شبلی نعمانی، ''مقالاتِ شبلی''، جلد دوم، ص: 112۔
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
awg82h1wyk6nodjuwq5mwjz207zycon
خواجہ الطاف حسین حالی
0
5676
14459
2026-06-15T13:30:45Z
Khajb
3035
”'''[[w|خواجہ الطاف حسین حالی]]''' (1837ء – 1914ء) ایک ممتاز ہندوستانی محقق، سوانح نگار، اور اردو ادب میں جدید تنقید کے بانی تھے۔ ان کی تصنیف 'مقدمہ شعر و شاعری' نے اردو نثر اور تنقیدی شعور کو ایک نئی اور جدید سمت عطا کی۔ == اقوال == * کوئی بھی زبان اس وقت تک...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
14459
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|خواجہ الطاف حسین حالی]]''' (1837ء – 1914ء) ایک ممتاز ہندوستانی محقق، سوانح نگار، اور اردو ادب میں جدید تنقید کے بانی تھے۔ ان کی تصنیف 'مقدمہ شعر و شاعری' نے اردو نثر اور تنقیدی شعور کو ایک نئی اور جدید سمت عطا کی۔
== اقوال ==
* کوئی بھی زبان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کے بولنے والے اپنے خیالات کو سادگی اور سچائی کے ساتھ بیان کرنا نہ سیکھ لیں۔
** خواجہ الطاف حسین حالی، ''مقدمہ شعر و شاعری''، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ، ص: 45۔
* سچی سوانح عمری وہ ہے جس میں انسان کی خوبیاں اور خامیاں دونوں پوری دیانتداری کے ساتھ بیان کی گئی ہوں، تاکہ پڑھنے والے اس سے صحیح سبق حاصل کر سکیں۔
** خواجہ الطاف حسین حالی، ''حیاتِ جاوید''، ص: 12۔
* قوموں کی زندگی اور عروج ان کے اعلیٰ اخلاق پر منحصر ہے، جب اخلاق گر جاتے ہیں تو قومیں بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
** خواجہ الطاف حسین حالی، ''مقالاتِ حالی''، ص: 88۔
* جس قوم میں جدید علم اور ہنر کی قدر نہیں ہوتی، وہ دنیا کے نقشے پر کبھی بھی عزت کا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔
** حوالہ سابق، ص: 104۔
ljh3b889qhlzehzc60xr6ljt97hc70n
14496
14459
2026-06-16T06:50:53Z
Aafi
2411
رجوع مکرر
14496
wikitext
text/x-wiki
#رجوع_مکرر
[[الطاف حسین حالی]]
g9oen608p4uhyvs9zf32sqnk7fln3ah
مولوی عبدالحق
0
5677
14461
2026-06-15T13:33:28Z
Khajb
3035
”'''[[w|مولوی عبدالحق]]''' (1870ء – 1961ء)، جنہیں احتراماً 'بابائے اردو' کہا جاتا ہے، ایک عظیم محقق، ماہرِ لسانیات اور نقاد تھے۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے اردو زبان و ادب کی ترویج، لغت نویسی اور علمی ترقی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ =...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
14461
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|مولوی عبدالحق]]''' (1870ء – 1961ء)، جنہیں احتراماً 'بابائے اردو' کہا جاتا ہے، ایک عظیم محقق، ماہرِ لسانیات اور نقاد تھے۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے اردو زبان و ادب کی ترویج، لغت نویسی اور علمی ترقی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔
== اقوال ==
* اردو صرف ایک زبان نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری مشترکہ تہذیب، تاریخ اور شاندار ثقافتی روایات کی سب سے بڑی امین ہے۔
** مولوی عبدالحق، ''مقالاتِ عبدالحق''، انجمن ترقی اردو، ص: 23۔
* جو قوم اپنی مادری زبان اور اس کے ادب کی قدر نہیں کرتی، وہ دنیا کے کسی بھی علمی میدان میں سچی ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔
** مولوی عبدالحق، ''خطباتِ عبدالحق''، ص: 56۔
* زبان کی ترقی اور بقا کا انحصار محض حکومتوں پر نہیں، بلکہ اس کے بولنے والوں کی علمی کاوشوں اور زندہ دلی پر ہوتا ہے۔
** حوالہ سابق، ص: 89۔
* ہمیں اردو کو محض شاعری اور جذبات کی زبان نہیں رکھنا، بلکہ اسے جدید سائنس اور عصری علوم کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
** مولوی عبدالحق، ''افکارِ عبدالحق''، ص: 112۔
67idu9duyuadw2567jda50t92ffkk0d
14505
14461
2026-06-16T07:00:11Z
Aafi
2411
درستی
14505
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:مولوی عبدالحق|مولوی عبد الحق]]''' (1870ء – 1961ء)، جنہیں احتراماً 'بابائے اردو' کہا جاتا ہے، ایک عظیم محقق، ماہرِ لسانیات اور نقاد تھے۔ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے پلیٹ فارم سے اردو زبان و ادب کی ترویج، لغت نویسی اور علمی ترقی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔
== اقوال ==
* اردو صرف ایک زبان نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری مشترکہ تہذیب، تاریخ اور شاندار ثقافتی روایات کی سب سے بڑی امین ہے۔
** مولوی عبدالحق، ''مقالاتِ عبدالحق''، انجمن ترقی اردو، ص: 23۔
* جو قوم اپنی مادری زبان اور اس کے ادب کی قدر نہیں کرتی، وہ دنیا کے کسی بھی علمی میدان میں سچی ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔
** مولوی عبدالحق، ''خطباتِ عبدالحق''، ص: 56۔
* زبان کی ترقی اور بقا کا انحصار محض حکومتوں پر نہیں، بلکہ اس کے بولنے والوں کی علمی کاوشوں اور زندہ دلی پر ہوتا ہے۔
** حوالہ سابق، ص: 89۔
* ہمیں اردو کو محض شاعری اور جذبات کی زبان نہیں رکھنا، بلکہ اسے جدید سائنس اور عصری علوم کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
** مولوی عبدالحق، ''افکارِ عبدالحق''، ص: 112۔
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
h5wuqq2s6u4zb4cgdfc99i1995w72h6
نذیر احمد
0
5678
14463
2026-06-15T14:15:26Z
Khajb
3035
”'''[[w|نذیر احمد]]''' (1836ء – 1912ء) اردو کے پہلے ناول نگار، ممتاز سماجی مصلح اور ماہرِ تعلیم تھے۔ ان کی تصانیف جیسے 'مراۃ العروس' اور 'توبۃ النصوح' نے اردو نثر میں اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کی ایک مضبوط بنیاد رکھی۔ == اقوال == * تعلیم کا اصل مقصد صرف کتابی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
14463
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|نذیر احمد]]''' (1836ء – 1912ء) اردو کے پہلے ناول نگار، ممتاز سماجی مصلح اور ماہرِ تعلیم تھے۔ ان کی تصانیف جیسے 'مراۃ العروس' اور 'توبۃ النصوح' نے اردو نثر میں اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کی ایک مضبوط بنیاد رکھی۔
== اقوال ==
* تعلیم کا اصل مقصد صرف کتابیں پڑھ کر ڈگریاں حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسان کے اندر اچھے اور برے کی صحیح تمیز پیدا کرنا ہے۔
** ڈپٹی نذیر احمد، ''توبۃ النصوح''، مجلس ترقی ادب، ص: 42۔
* وقت ایک ایسا انمول خزانہ ہے جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو دنیا کی کوئی دولت اسے واپس نہیں لا سکتی۔
** ڈپٹی نذیر احمد، ''مراۃ العروس''، ص: 55۔
* اولاد کی بہترین تربیت وہی ہے جو ان کے اخلاق کو سنوارے اور انہیں معاشرے کا ایک مفید، ہمدرد اور ذمہ دار شہری بنائے۔
** حوالہ سابق، ص: 89۔
* انسان کی اصل عزت اس کے مال و دولت اور ظاہری شان و شوکت سے نہیں، بلکہ اس کے نیک کردار اور اعلیٰ اخلاق سے ہوتی ہے۔
** ڈپٹی نذیر احمد، ''ابن الوقت''، ص: 104۔
n17txwf0cdbk9rc1lr6mwcp84av7ilb
14500
14463
2026-06-16T06:55:00Z
Aafi
2411
رجوع مکرر
14500
wikitext
text/x-wiki
#رجوع_مکرر
[[ڈپٹی نذیر احمد]]
3qxgb87qncry32toeppskdnzwugbsac
محمد مجیب
0
5679
14465
2026-06-15T14:33:17Z
Khajb
3035
”'''[[w|محمد مجیب]]''' (1902ء – 1985ء) ایک نامور ہندوستانی مؤرخ، ماہرِ تعلیم، ڈرامہ نگار، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) تھے۔ انہوں نے اردو زبان میں سیاسیات کے فلسفے، تاریخ، اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت پر انتہائی وقیع اور گراں...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
14465
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|محمد مجیب]]''' (1902ء – 1985ء) ایک نامور ہندوستانی مؤرخ، ماہرِ تعلیم، ڈرامہ نگار، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) تھے۔ انہوں نے اردو زبان میں سیاسیات کے فلسفے، تاریخ، اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت پر انتہائی وقیع اور گراں قدر کتابیں تصنیف کیں۔
== اقوال ==
* تاریخ کا مطالعہ صرف ماضی کے واقعات کو جاننے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے حال کو سمجھنے اور مستقبل کی بہتر تعمیر کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
**محمد مجیب، ''تاریخی مقالات''، مکتبہ جامعہ، ص: 34۔
* جمہوریت محض ایک سیاسی ڈھانچہ یا طرزِ حکومت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا اخلاقی رویہ ہے جو معاشرے میں افراد کے باہمی احترام پر قائم ہوتا ہے۔
**محمد مجیب، ''تاریخ فلسفہ سیاسیات''، ص: 78۔
* تعلیم کا اصل مقصد طالب علم کے ذہن میں محض معلومات کا ڈھیر لگانا نہیں، بلکہ اس کی جمالیاتی، سماجی اور اخلاقی حس کو بیدار کرنا ہے۔
**محمد مجیب، ''تعلیم اور ثقافت''، ص: 52۔
* ہندوستانی تہذیب کی اصل خوبصورتی اور طاقت اس کے رنگا رنگ تنوع میں پوشیدہ ہے، جسے کسی ایک مخصوص نظریے کے تحت محدود نہیں کیا جا سکتا۔
**محمد مجیب، ''ہندوستانی مسلمان''، حصہ اول، ص: 115۔
5rxubf45fkcgu6aitgzeqhs6nkejv26
مختار احمد انصاری
0
5680
14467
2026-06-15T15:27:09Z
Khajb
3035
”'''[[w|مختار احمد انصاری]]''' (1880ء – 1936ء) ایک مشہور ہندوستانی سرجن، تحریک آزادی کے ممتاز رہنما، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق امیرِ جامعہ (چانسلر) تھے۔ انہوں نے ہندوستان میں تعلیمی اداروں کے قیام، طب کے فروغ اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے بے مثال خدما...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
14467
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|مختار احمد انصاری]]''' (1880ء – 1936ء) ایک مشہور ہندوستانی سرجن، تحریک آزادی کے ممتاز رہنما، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق امیرِ جامعہ (چانسلر) تھے۔ انہوں نے ہندوستان میں تعلیمی اداروں کے قیام، طب کے فروغ اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔
== اقوال ==
* ہندو مسلم اتحاد محض ایک وقتی سیاسی ضرورت نہیں، بلکہ ہندوستان کی سچی آزادی، بقا اور ترقی کے لیے ایک بنیادی اور لازمی شرط ہے۔
** ڈاکٹر مختار احمد انصاری، ''خطباتِ انصاری''، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی، ص: 45۔
* جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مقصد صرف روایتی تعلیم دینا نہیں ہے، بلکہ ایسے باشعور اور نڈر نوجوان تیار کرنا ہے جو ملک کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر سکیں۔
** حوالہ سابق، ص: 78۔
* ایک صحت مند اور مضبوط معاشرے کی تعمیر کے لیے صرف جسمانی بیماریوں کا علاج کافی نہیں، بلکہ ذہنوں کو جہالت اور تعصب کی بیماریوں سے پاک کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
** ڈاکٹر مختار احمد انصاری، ''مضامینِ انصاری''، ص: 52۔
* سچی حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی پوری زندگی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دے۔
** حوالہ سابق، ص: 112۔
3f8e4vs9t68gf17huevbbnhake02gj1
14498
14467
2026-06-16T06:52:32Z
Aafi
2411
Aafi نے صفحہ [[ڈاکٹر مختار احمد انصاری]] کو بدون رجوع مکرر بجانب [[مختار احمد انصاری]] منتقل کیا: فقط نام
14467
wikitext
text/x-wiki
'''[[w|مختار احمد انصاری]]''' (1880ء – 1936ء) ایک مشہور ہندوستانی سرجن، تحریک آزادی کے ممتاز رہنما، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق امیرِ جامعہ (چانسلر) تھے۔ انہوں نے ہندوستان میں تعلیمی اداروں کے قیام، طب کے فروغ اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔
== اقوال ==
* ہندو مسلم اتحاد محض ایک وقتی سیاسی ضرورت نہیں، بلکہ ہندوستان کی سچی آزادی، بقا اور ترقی کے لیے ایک بنیادی اور لازمی شرط ہے۔
** ڈاکٹر مختار احمد انصاری، ''خطباتِ انصاری''، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی، ص: 45۔
* جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مقصد صرف روایتی تعلیم دینا نہیں ہے، بلکہ ایسے باشعور اور نڈر نوجوان تیار کرنا ہے جو ملک کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر سکیں۔
** حوالہ سابق، ص: 78۔
* ایک صحت مند اور مضبوط معاشرے کی تعمیر کے لیے صرف جسمانی بیماریوں کا علاج کافی نہیں، بلکہ ذہنوں کو جہالت اور تعصب کی بیماریوں سے پاک کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
** ڈاکٹر مختار احمد انصاری، ''مضامینِ انصاری''، ص: 52۔
* سچی حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی پوری زندگی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دے۔
** حوالہ سابق، ص: 112۔
3f8e4vs9t68gf17huevbbnhake02gj1
14499
14498
2026-06-16T06:53:17Z
Aafi
2411
درستی
14499
wikitext
text/x-wiki
'''[[w:مختار احمد انصاری|مختار احمد انصاری]]''' (1880ء – 1936ء) ایک مشہور ہندوستانی سرجن، تحریک آزادی کے ممتاز رہنما، اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق امیرِ جامعہ (چانسلر) تھے۔ انہوں نے ہندوستان میں تعلیمی اداروں کے قیام، طب کے فروغ اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے بے مثال خدمات انجام دیں۔
== اقوال ==
* ہندو مسلم اتحاد محض ایک وقتی سیاسی ضرورت نہیں، بلکہ ہندوستان کی سچی آزادی، بقا اور ترقی کے لیے ایک بنیادی اور لازمی شرط ہے۔
** ڈاکٹر مختار احمد انصاری، ''خطباتِ انصاری''، مکتبہ جامعہ، نئی دہلی، ص: 45۔
* جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مقصد صرف روایتی تعلیم دینا نہیں ہے، بلکہ ایسے باشعور اور نڈر نوجوان تیار کرنا ہے جو ملک کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر سکیں۔
** حوالہ سابق، ص: 78۔
* ایک صحت مند اور مضبوط معاشرے کی تعمیر کے لیے صرف جسمانی بیماریوں کا علاج کافی نہیں، بلکہ ذہنوں کو جہالت اور تعصب کی بیماریوں سے پاک کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
** ڈاکٹر مختار احمد انصاری، ''مضامینِ انصاری''، ص: 52۔
* سچی حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی پوری زندگی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دے۔
** حوالہ سابق، ص: 112۔
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
22g9v23qkmn6u6z0iswrfav2hk4nzuv
صارف:Muntaqibah/فہرست برائے ایکسپلورنگ اردو مسابقہ
2
5681
14469
2026-06-15T17:47:55Z
Muntaqibah
2617
/* */
14469
wikitext
text/x-wiki
[[ولی محمد ولی]]
jc3w9hvfeh0wdihnqse6lw1r01nwugg
14475
14469
2026-06-15T18:09:11Z
Muntaqibah
2617
/* */ +1
14475
wikitext
text/x-wiki
[[ولی محمد ولی]]
[[ڈپٹی نذیر احمد]]
7l963qn1coi4fl8vqgw9n554xpp7xtj
14487
14475
2026-06-15T19:23:51Z
Muntaqibah
2617
/* */ +۱
14487
wikitext
text/x-wiki
[[ولی محمد ولی]]
[[ڈپٹی نذیر احمد]]
[[محمد اقبال]]
[[شمس الرحمٰن فاروقی]]
4nebuio2nhlx8rpnb9qndsik0n0hln8
14492
14487
2026-06-15T20:35:12Z
Muntaqibah
2617
/* */ +۱
14492
wikitext
text/x-wiki
[[ولی محمد ولی]]
[[ڈپٹی نذیر احمد]]
[[محمد اقبال]]
[[شمس الرحمٰن فاروقی]]
[[منظر بھوپالی]]
h2bam90196pyv63qjhasa0x0eupm17v
14508
14492
2026-06-16T07:06:47Z
Muntaqibah
2617
/* */ درستی
14508
wikitext
text/x-wiki
#[[ولی محمد ولی]]
#[[ڈپٹی نذیر احمد]]
#[[محمد اقبال]]
#[[شمس الرحمٰن فاروقی]]
#[[منظر بھوپالی]]
rd4r1iv44al207kglkvbr4bj2dshspv
14510
14508
2026-06-16T07:07:39Z
Muntaqibah
2617
/* */ درست کیا
14510
wikitext
text/x-wiki
# [[ولی محمد ولی]]
# [[ڈپٹی نذیر احمد]]
# [[محمد اقبال]]
# [[شمس الرحمٰن فاروقی]]
# [[منظر بھوپالی]]
dc5duhhbt6b4m5nv3ng8vsm19xx4mj1
ڈپٹی نذیر احمد
0
5682
14474
2026-06-15T18:08:20Z
Muntaqibah
2617
صفحہ تخلیق کیا
14474
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: ڈپٹی نذیر احمد| ڈپٹی نذیر احمد]]''' (6 دسمبر 1833ء – 3 مئی 1912ء) اردو کے ممتاز ناول نگار، سماجی و مذہبی مصلح، اور خطیب تھے۔ وہ عموماً ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے قانون، منطق، اخلاقیات اور لسانیات جیسے موضوعات پر تیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں-
==اقتباسات==
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
9eg9m64h4ijrwpbjx9lx74obem7axlb
14476
14474
2026-06-15T18:12:32Z
Muntaqibah
2617
/* */ تصویر شامل کی
14476
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: ڈپٹی نذیر احمد| ڈپٹی نذیر احمد]]''' (6 دسمبر 1833ء – 3 مئی 1912ء) اردو کے ممتاز ناول نگار، سماجی و مذہبی مصلح، اور خطیب تھے۔ وہ عموماً ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے قانون، منطق، اخلاقیات اور لسانیات جیسے موضوعات پر تیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں-
[[File:Nazir_Ahmad.jpg|thumb| ڈپٹی نذیر احمد ]]
==اقتباسات==
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
o3v3mks9dcetlgzlhk1cnfv35c8zgmf
14477
14476
2026-06-15T18:22:22Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ اقتباس
14477
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: ڈپٹی نذیر احمد| ڈپٹی نذیر احمد]]''' (6 دسمبر 1833ء – 3 مئی 1912ء) اردو کے ممتاز ناول نگار، سماجی و مذہبی مصلح، اور خطیب تھے۔ وہ عموماً ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے قانون، منطق، اخلاقیات اور لسانیات جیسے موضوعات پر تیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں-
[[File:Nazir_Ahmad.jpg|thumb| ڈپٹی نذیر احمد ]]
==اقتباسات==
* ارادہ یہی تھا کہ بلا تخصیص مذہب، تلقین حسن معاشرت اور تعلیم نیک کرداری اور اخلاق کی ضرورت لوگوں پر ثابت کی جائے، لیکن نیکی کو مذہب سے جدا کرنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص روح کو جسد سے یا بو گوگل سے یا نور کو آفتاب یا عرض کو جوہر سے یا ناخن کو گوشت سے علیحدہ اور منفک کرنے کا قصد کرے۔
** ص 5 توبہ النصوح،
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
4c886a175ycs6ltnocffogl9n1ekumh
14478
14477
2026-06-15T18:29:10Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ اِقتباس
14478
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: ڈپٹی نذیر احمد| ڈپٹی نذیر احمد]]''' (6 دسمبر 1833ء – 3 مئی 1912ء) اردو کے ممتاز ناول نگار، سماجی و مذہبی مصلح، اور خطیب تھے۔ وہ عموماً ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے قانون، منطق، اخلاقیات اور لسانیات جیسے موضوعات پر تیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں-
[[File:Nazir_Ahmad.jpg|thumb| ڈپٹی نذیر احمد ]]
==اقتباسات==
* تربیت اولاد صرف اسی کا نام نہیں کہ پال پوس کر اولاد کو بڑا کر دیا، روٹی کمانے کھانے کا کوئی ہنر ان کو سکھا دیا ان کا بیاہ برات کر دیا بلکہ ان کے اخلاق کی تہذیب ان کے مزاج کی اصلاح ان کے عادات کی درستی ان کے خیالات اور معتقدات کی صحیح بھی ماں باپ پر فرض ہے۔
** توبہ النصوح ص 3
* ارادہ یہی تھا کہ بلا تخصیص مذہب، تلقین حسن معاشرت اور تعلیم نیک کرداری اور اخلاق کی ضرورت لوگوں پر ثابت کی جائے، لیکن نیکی کو مذہب سے جدا کرنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص روح کو جسد سے یا بو گوگل سے یا نور کو آفتاب یا عرض کو جوہر سے یا ناخن کو گوشت سے علیحدہ اور منفک کرنے کا قصد کرے۔
** ص 5 توبہ النصوح،
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
4c4ak3jlpnaw1a3agjf0istrkdni4ha
شمس الرحمٰن فاروقی
0
5683
14479
2026-06-15T18:41:08Z
Muntaqibah
2617
صفحہ تخلیق کیا
14479
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: شمس الرحمٰن فاروقی| شمس الرحمٰن فاروقی]]''' (30 ستمبر 1935ء – 25 دسمبر 2020ء) ایک بھارتی اردو شاعر، ادیب، نقاد اور نظریہ ساز تھے۔ وہ اردو ادب میں جدیدیت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادبی تنقید کے ایسے نئے اصول اور نمونے وضع کیے جن میں مغربی ادبی تنقید کے نظریات کو شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ان اصولوں کو عربی، فارسی اور اردو ادب کی مقامی جمالیاتی روایات کے مطابق ڈھال کر اردو ادب پر منطبق کیا، جس سے اردو تنقید کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی
==اقتباسات==
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
qszsnfbya9jpxbh6pgyqutae7sfyj22
14480
14479
2026-06-15T18:56:19Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ اقتباس
14480
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: شمس الرحمٰن فاروقی| شمس الرحمٰن فاروقی]]''' (30 ستمبر 1935ء – 25 دسمبر 2020ء) ایک بھارتی اردو شاعر، ادیب، نقاد اور نظریہ ساز تھے۔ وہ اردو ادب میں جدیدیت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادبی تنقید کے ایسے نئے اصول اور نمونے وضع کیے جن میں مغربی ادبی تنقید کے نظریات کو شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ان اصولوں کو عربی، فارسی اور اردو ادب کی مقامی جمالیاتی روایات کے مطابق ڈھال کر اردو ادب پر منطبق کیا، جس سے اردو تنقید کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی
==اقتباسات==
* انگریزوں نے ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کو نقصان ضرور پہنچایا لیکن ہندوستانی فارسی گوئی کی قدر شکنی میں ان کا ہاتھ نہیں نظر آتا۔ بلکہ انگریزوں نے تو ہندوستانی رایرانی کا فرق بظاہر بالکل نہیں کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فارسی گویوں کی شاگردی اختیار کی ، انہیں کی طرح شعر گوئی کی-
** غالب پر چار تحریریں ص10
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
0ij8xbp4url542ae8enjb97htuy3liw
14481
14480
2026-06-15T19:04:03Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ +1
14481
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: شمس الرحمٰن فاروقی| شمس الرحمٰن فاروقی]]''' (30 ستمبر 1935ء – 25 دسمبر 2020ء) ایک بھارتی اردو شاعر، ادیب، نقاد اور نظریہ ساز تھے۔ وہ اردو ادب میں جدیدیت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادبی تنقید کے ایسے نئے اصول اور نمونے وضع کیے جن میں مغربی ادبی تنقید کے نظریات کو شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ان اصولوں کو عربی، فارسی اور اردو ادب کی مقامی جمالیاتی روایات کے مطابق ڈھال کر اردو ادب پر منطبق کیا، جس سے اردو تنقید کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی
==اقتباسات==
* انگریزوں نے ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کو نقصان ضرور پہنچایا لیکن ہندوستانی فارسی گوئی کی قدر شکنی میں ان کا ہاتھ نہیں نظر آتا۔ بلکہ انگریزوں نے تو ہندوستانی رایرانی کا فرق بظاہر بالکل نہیں کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فارسی گویوں کی شاگردی اختیار کی ، انہیں کی طرح شعر گوئی کی-
** غالب پر چار تحریریں ص10
* ہاؤ ٹو ریڈ اقبال
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
paxxdcdmy9ydxmuusswu4khigl97t4e
14482
14481
2026-06-15T19:08:42Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ درستی
14482
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: شمس الرحمٰن فاروقی| شمس الرحمٰن فاروقی]]''' (30 ستمبر 1935ء – 25 دسمبر 2020ء) ایک بھارتی اردو شاعر، ادیب، نقاد اور نظریہ ساز تھے۔ وہ اردو ادب میں جدیدیت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادبی تنقید کے ایسے نئے اصول اور نمونے وضع کیے جن میں مغربی ادبی تنقید کے نظریات کو شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ان اصولوں کو عربی، فارسی اور اردو ادب کی مقامی جمالیاتی روایات کے مطابق ڈھال کر اردو ادب پر منطبق کیا، جس سے اردو تنقید کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی
==اقتباسات==
* انگریزوں نے ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کو نقصان ضرور پہنچایا لیکن ہندوستانی فارسی گوئی کی قدر شکنی میں ان کا ہاتھ نہیں نظر آتا۔ بلکہ انگریزوں نے تو ہندوستانی رایرانی کا فرق بظاہر بالکل نہیں کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فارسی گویوں کی شاگردی اختیار کی ، انہیں کی طرح شعر گوئی کی-
** غالب پر چار تحریریں ص10
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
0ij8xbp4url542ae8enjb97htuy3liw
14488
14482
2026-06-15T19:36:49Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ +1
14488
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: شمس الرحمٰن فاروقی| شمس الرحمٰن فاروقی]]''' (30 ستمبر 1935ء – 25 دسمبر 2020ء) ایک بھارتی اردو شاعر، ادیب، نقاد اور نظریہ ساز تھے۔ وہ اردو ادب میں جدیدیت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادبی تنقید کے ایسے نئے اصول اور نمونے وضع کیے جن میں مغربی ادبی تنقید کے نظریات کو شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ان اصولوں کو عربی، فارسی اور اردو ادب کی مقامی جمالیاتی روایات کے مطابق ڈھال کر اردو ادب پر منطبق کیا، جس سے اردو تنقید کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی
==اقتباسات==
* انگریزوں نے ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کو نقصان ضرور پہنچایا لیکن ہندوستانی فارسی گوئی کی قدر شکنی میں ان کا ہاتھ نہیں نظر آتا۔ بلکہ انگریزوں نے تو ہندوستانی رایرانی کا فرق بظاہر بالکل نہیں کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فارسی گویوں کی شاگردی اختیار کی ، انہیں کی طرح شعر گوئی کی-
** غالب پر چار تحریریں ص10
* اپنے ہم عصروں اور تقریباً ہم عمروں میں بھی مجھے وہی لوگ زیادہ اچھے لگے جن کے لیے ادب سازشوں کا کھیل نہیں، بلکہ زندگی سے بھی ماورا ایک حقیقت ہے۔ اگر یہ گروپ بندی ہے تو میں ایسے گروپ کا فرد ہوتا خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔
**شعر،غیر شعر اور نثر ص21
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
eq1jjjykhhhqaowa4afbdz8dpckw385
14489
14488
2026-06-15T19:38:43Z
Muntaqibah
2617
/* */ تصویر شامل کی
14489
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: شمس الرحمٰن فاروقی| شمس الرحمٰن فاروقی]]''' (30 ستمبر 1935ء – 25 دسمبر 2020ء) ایک بھارتی اردو شاعر، ادیب، نقاد اور نظریہ ساز تھے۔ وہ اردو ادب میں جدیدیت کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ادبی تنقید کے ایسے نئے اصول اور نمونے وضع کیے جن میں مغربی ادبی تنقید کے نظریات کو شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ان اصولوں کو عربی، فارسی اور اردو ادب کی مقامی جمالیاتی روایات کے مطابق ڈھال کر اردو ادب پر منطبق کیا، جس سے اردو تنقید کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی-
[[File:Shamsur_Rahman_Farooqi.jpg|thumb| شمس الرحمٰن فاروقی ]]
==اقتباسات==
* انگریزوں نے ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم کو نقصان ضرور پہنچایا لیکن ہندوستانی فارسی گوئی کی قدر شکنی میں ان کا ہاتھ نہیں نظر آتا۔ بلکہ انگریزوں نے تو ہندوستانی رایرانی کا فرق بظاہر بالکل نہیں کیا۔ انہوں نے ہندوستانی فارسی گویوں کی شاگردی اختیار کی ، انہیں کی طرح شعر گوئی کی-
** غالب پر چار تحریریں ص10
* اپنے ہم عصروں اور تقریباً ہم عمروں میں بھی مجھے وہی لوگ زیادہ اچھے لگے جن کے لیے ادب سازشوں کا کھیل نہیں، بلکہ زندگی سے بھی ماورا ایک حقیقت ہے۔ اگر یہ گروپ بندی ہے تو میں ایسے گروپ کا فرد ہوتا خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔
**شعر،غیر شعر اور نثر ص21
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
0oid5ki9a0lj3txejudss6s9fhnhvbl
منظر بھوپالی
0
5684
14490
2026-06-15T20:31:51Z
Muntaqibah
2617
صفحہ تخلیق کیا
14490
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: منظر بھوپالی| منظر بھوپالی]]''' (اصل نام: سید علی رضا) (پیدائش: 29 دسمبر 1959ء) ایک معروف بھارتی اردو شاعر ہیں۔ ان کی پیدائش امراوتی میں ہوئی۔ کم عمری ہی میں انہیں شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی اور سترہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنے پہلے مشاعرے میں شرکت کی۔ بعد ازاں وہ اردو مشاعروں اور معاصر اردو شاعری کی ایک نمایاں آواز بن گئے-
==اقتباسات==
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
gl2uwc8e1excx5fhhhdm4ltl849h0o0
14491
14490
2026-06-15T20:33:53Z
Muntaqibah
2617
/* */ تصویر شامل کی
14491
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: منظر بھوپالی| منظر بھوپالی]]''' (اصل نام: سید علی رضا) (پیدائش: 29 دسمبر 1959ء) ایک معروف بھارتی اردو شاعر ہیں۔ ان کی پیدائش امراوتی میں ہوئی۔ کم عمری ہی میں انہیں شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی اور سترہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنے پہلے مشاعرے میں شرکت کی۔ بعد ازاں وہ اردو مشاعروں اور معاصر اردو شاعری کی ایک نمایاں آواز بن گئے-
[[File:Manzar_bhopali.jpg|thumb| منظر بھوپالی]]
==اقتباسات==
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
9hbpj6df2s67sqdd6gpj8exvnbcers5
14493
14491
2026-06-15T20:49:00Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ اقتباس
14493
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: منظر بھوپالی| منظر بھوپالی]]''' (اصل نام: سید علی رضا) (پیدائش: 29 دسمبر 1959ء) ایک معروف بھارتی اردو شاعر ہیں۔ ان کی پیدائش امراوتی میں ہوئی۔ کم عمری ہی میں انہیں شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی اور سترہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنے پہلے مشاعرے میں شرکت کی۔ بعد ازاں وہ اردو مشاعروں اور معاصر اردو شاعری کی ایک نمایاں آواز بن گئے-
[[File:Manzar_bhopali.jpg|thumb| منظر بھوپالی]]
==اقتباسات==
* انسانیت کی رگوں میں چنگاریاں ناچ رہی ہیں اور انسانی ذہنوں میں اندر ہی اندر لاوا پک رہا ہے۔ اس لاوے کی تپش تمام حساس لوگ محسوس کر رہے ہیں۔ فنکار جو سماج کا سب سے زیادہ حساس پُر زہ ہے اُسے لاوے کی یہ آنچ کچھ زیادہ ہی جھلسار ہی ہے ۔
**کتاب: لاوا ص7
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
nj3whmjcxnriq4i4k8hpx24g4b5pcaz
14494
14493
2026-06-15T20:54:46Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ اضافہ
14494
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: منظر بھوپالی| منظر بھوپالی]]''' (اصل نام: سید علی رضا) (پیدائش: 29 دسمبر 1959ء) ایک معروف بھارتی اردو شاعر ہیں۔ ان کی پیدائش امراوتی میں ہوئی۔ کم عمری ہی میں انہیں شاعری سے دلچسپی پیدا ہوئی اور سترہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنے پہلے مشاعرے میں شرکت کی۔ بعد ازاں وہ اردو مشاعروں اور معاصر اردو شاعری کی ایک نمایاں آواز بن گئے-
[[File:Manzar_bhopali.jpg|thumb| منظر بھوپالی]]
==اقتباسات==
* انسانیت کی رگوں میں چنگاریاں ناچ رہی ہیں اور انسانی ذہنوں میں اندر ہی اندر لاوا پک رہا ہے۔ اس لاوے کی تپش تمام حساس لوگ محسوس کر رہے ہیں۔ فنکار جو سماج کا سب سے زیادہ حساس پُر زہ ہے اُسے لاوے کی یہ آنچ کچھ زیادہ ہی جھلسار ہی ہے ۔
**کتاب: لاوا ص7
* ہمیشہ ٹوٹ کے ماں باپ کی کرو خدمت ہیں کتنے روز یہ بوڑھے شجر نہیں معلوم ملے جو موقع بزرگوں کی صحبتوں میں رہو۔ پھر ایسے لوگ کہاں روز روز ملتے ہیں مرے بزرگوں کے کردار اب بھی زندہ ہیں۔ یہ پیڑ وہ ہیں جو گرتے نہیں ہوا سے بھی-
**کتاب: لاوا ص12
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
0q1h81c05i650uajqwlgqpukch9dzg0
ویکی اقتباس:آج کا اقتباس/16 جون 2026
4
5685
14507
2026-06-16T07:05:07Z
Aafi
2411
آج کا اقتباس
14507
wikitext
text/x-wiki
{{Wikiquote:Quote of the day/Template
| image1 = "Space Platform", by Murray Leinster (portrait photograph).jpg
| image1px = 262px
| image2 = Empyrean Light and Shadows of Salvation.jpg
| image2px = 292px
| quote = <!-- ⨀ <br /> -->کچھ لوگ اتنے بے وقوف ہوتے ہیں کہ انہیں ہر چیز کھول کر دکھانی پڑتی ہے۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ کچھ لوگ اتنے پرلے درجے کے بے وقوف ہوتے ہیں کہ انہیں کچھ دکھایا ہی نہیں جا سکتا۔
| author = مرے لینسٹر
}}
g06jngwyah883rk8ysx5o4k72dy3fbj
آغا حشر کاشمیری
0
5686
14511
2026-06-16T11:41:11Z
Muntaqibah
2617
صفحہ تخلیق کیا
14511
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: آغا حشر کاشمیری | آغا حشر کاشمیری]]'''
==اقتباسات==
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
j3haso5cv9st9zjkjibt251trj5h0xb
14512
14511
2026-06-16T11:43:13Z
Muntaqibah
2617
/* */ اضافہ
14512
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: آغا حشر کاشمیری | آغا حشر کاشمیری]]'''(3 اپریل 1879ء – 1 اپریل 1935ء) اردو کے ممتاز شاعر، ڈراما نگار اور اسٹیج کے مصنف تھے۔ انہیں اکثر “اردو تھیٹر کا شیکسپیئر” کہا جاتا ہے۔ ان کے متعدد ڈرامے انگریز ڈراما نگار ویلیم شیکسپئیر کے ڈراموں سے ماخوذ یا ان سے متاثر تھ
==اقتباسات==
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
fb1shxiund3d87to8k78fmbh5d4gks0
14513
14512
2026-06-16T11:54:13Z
Muntaqibah
2617
/* اقتباسات */ اقتباس
14513
wikitext
text/x-wiki
'''[[w: آغا حشر کاشمیری | آغا حشر کاشمیری]]'''(3 اپریل 1879ء – 1 اپریل 1935ء) اردو کے ممتاز شاعر، ڈراما نگار اور اسٹیج کے مصنف تھے۔ انہیں اکثر “اردو تھیٹر کا شیکسپیئر” کہا جاتا ہے۔ ان کے متعدد ڈرامے انگریز ڈراما نگار ویلیم شیکسپئیر کے ڈراموں سے ماخوذ یا ان سے متاثر تھ
==اقتباسات==
* - دنیا میں سختی اور سیدھی راہ فقط نیکی ہے جو قبر کے دروازے سے نکال کر قیامت کے میدان سے ہوتی ہوئی بہشت کے دربار میں پہنچاتی ہے۔ باقی ہر ایک راہ ٹھوکریں کھلاتی ہے۔ کانٹوں میں پھنساتی ہے ۔ اور آخر کار جہنم کے اندھیرے غار میں گراتی ہے۔
**
==بیرونی روابط==
{{ویکیپیڈیا}}
qcmzygrnoerb31bmkkxrsepqh4b6zd1