ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.21
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/10
250
12676
31736
30708
2026-03-26T12:11:01Z
Taranpreet Goswami
90
31736
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|٩|}}</noinclude>دیکھنے کو روز ایک وقت جاتی ہون وہان سے آنکر گھر مین اپنا کام کاج کرتی ہون یہ بات راج پتر نے سن دل مین خوش ہو بڑھیا سے کہا کل جسوقت چلنے لگنا تو ایک پیغام ہمارا بھی لیتی جائیو اس نے کہا بیٹا کل پر کیا موقوف ہے ابھی مجھہ سے جو کچھہ کہ سو مین تیرا پیغام پہنچاؤن تب اسنے کہا تو اتنا جاکر کہدے کہ جیٹھ کی پنچمی کو تالاب کے کنارے جس راج پتر کو تمنے دیکھا تھا سو آن پہونچا ہے اتنی بات کے سنتے ہی بڑھیا لاٹھی ہاتھہ مین لے راج مندر کو گئی وہان جاکر دیکھا کہ راج کنیا اکیلی بیٹھی ہے جب یہ سامنے پہونچی تو اسنے سلام کیا دعا دیکر بولی بیٹی بچپن مین تیری خِدمت کی اور دودھہ پلایا اب خدا نے تجھے بڈا کیا یہ جی چاہتا ہے کہ تیری جوانی کا سکھہ دیکھون تو مجھے بھی چین ہووے اسی طرح کی باتین محبت آمیز کر کے کہنے لگی کہ جیٹھ کی پنچمین کو تالاب کے کنارے جس کنور کا تونے دل لیا ہے سو میرے گھر آن کر اترا ہے اسنے تجھے یہ پیغام دیا ہے کہ جو اکرار کیا تھا وہ پورا کرو ہم آن پہونچے ہین اور مین بھی یہ کہتی ہون کہ وہ کنور تیرے ہی لائق ہے جیسی تو حسین ہو ویسے ہی وہ گبھرو ہے یہ سب باتین سن خفا ہو ہاتھون مین صندل لگا بڑھیا کے گالون مین طمانچے مار وہ کہنے لگی کمبخت میرے گھر سے نکل یہ دق ہو اسطرح سے اٹھتی بیٹھتی کنور کے پاس آئی اور سب احوال کہا راج کمار سنکر ہکابکا ہو گیا تب دیوان کا بیٹا بولا مہاراج کچھ فکر نہ کیجئے یہ بات آپکے دھیان مین نہین آئی پھر اسنے کہا سچ ہے مگر تو مجھے سمجھا کہ میرے جی کو چین ہووے اسنے کہا جود سون انگلیان صندل کی بھر کر منھہ پر مارین تو اسنے یہ بتایا کہ دس روز چاندنی کے ہو چکین تو اندھیرے مین ملونگی غرض دس روز کے بعد بڑھیا نے اسکی خبر جا کر کہی تب اسنے کیسر سے تین انگلیان بھر اسکے گال پر مارین اور کہا میرے گھر سے نکل آخر بڑھیا چار نچار ہو کر وہان سے چلی اور جو کچھہ حال تھا سب راج پتر سے آکر کہا یہ سنتے ہی وہ غم کے دریا مین ڈوب گیا اسکا یہ احوال دیکھہ پھر دیوان کے بیٹے نے کہا اندیشہ نہ کر اس بات کا مدّعا اور کچھہ ہے وہ بولا میرا جی بیچین ہے مجھہ سے جلد کہو تب اسنے کہا وہ کپڑون سے ہے اس لئے اور تین روز کا وعدہ کیا ہے چوتھے دن تمھین بلائیگی غرضکہ جب تین روز ہو چکے تو بڑھیا نے اسکی طرف سے خیر و عافیت پوچھی تب اسنے بڑھیا کو خفا ہو کر پچھم کی کھڑکی سے نکال دیا پھر یہ احوال بڑھیا نے راج کنور سے آکر کہا وہ سنکر اداس ہوا اتنے مین دیوان کا لڑکا بولا کہ اسبات کا یہ مطلب ہے کہ آج رات کے وقت تمکواسی کھڑکی کی راہ بلایا ہے یہ سنتے ہی نهایت خوش ہوا غرض جب وہ وقت آیا اودے رنگ کے جوڑے پگڑیان باندھہ کپڑے پہن ہتھیار سج سجا تیار ہوے کہ اِس عرصہ مین دو پہر رات گذر گئی اس وقت ایک عالم سنسان کا تھا کہ یہ بھی سونٹھہ مارے چپ چاپ چلے جاتے تھے جب کھڑکی کے پاس پہونچے دیوان کا بیٹا باہر کھڑا رہا اور یہ کھڑکی کے اندر گیا دیکھتا کیا ہے کہ راج کنیا بھی وہین کھڑی راہ دیکھتی ہے کہ اسمین ان دونون کی چار نظرین ہوئین تب راج کنیا ہنسین اور کھڑکی بند کر کے راج کنور کو ساتھہ لے زنگ محل مین گئی وہان جاکر کنور دیکھتا کیا ہے کہ جابجا لخلخے روشن اور سہیلیان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
kcltzwqcv3qh8y9ut4xm7jf721h8q2n
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/15
250
12681
31743
31735
2026-03-26T14:42:38Z
Charan Gill
46
31743
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٤|بیتال پچیسی}}</noinclude>مین اٹھا کر پھینک دیا وہ لڑکا جلکر خاک ہو گیا یہ احوال جب اس برہمین نے دیکھا تو بنا کھانے اٹھہ کھڑا ہوا تب وہ گھر والا بولا کہ تو کس واسطے کھانا نہین کھاتا وہ بولا کہ جس کے گھر مین دیونی ہو اسکے گھر مین کس طرح کوئی کھانا کھائے یہ سن اس گرہستی نے اٹھہ کر ایک اور طرف اپنے گھر مین جا اور سنجیوںئی ودیا کی کتاب لا اسمین سے ایک منتر نکال پڑھ کر لڑکے کو جلا دیا تب وہ برہمن یہ عجائب اپنے اپنے جی مین خیال کرنے لگا جو یہ پوتھی میرے ہاتھ لگے تو مین بھی اپنی پیاری کو جلاؤن یہ اپنے مین مین ٹھان کھانا کھا وہین سو رہا غرض جب رات ہوئی تو کتنی ایک دیر کے پیچھے سبنے بیالو<ref>رات کا کھانا جسکوائل منبود که معرف مین پکوان یا یا لو کہتے ہین پوریان دخیره ۱۳</ref> کیا اپنی اپنی جگہ جا لیٹے اِدھر اُدھر کی آپسمین باتین کرتے تھے یہ برہمن بھی ایک طرف جا کر پڑ رہا لیکن پڑا پڑا جاگتا تھا
جب اُن نے جانا کہ بڑی رات گئی اور سب سو گئے تب چپکا اُٹھ آہستہ آہستہ اُسکے گھر مین پیٹھ وہ کتاب لے چلا اور کتنے دنون مین جس مرگھٹ مین کہ اس برہمن کی بیٹی کو جلایا تھا وہان آن پہونچا ان دونون برہمنون کو بھی وہان پایا کہ آپس مین بیٹھے ہوئے باتین کرتے ہین ان دونون نے بھی اسے پہچان اسکے پاس آ ملاقات کی اور پوچھا کہ بھائی تم دیس بدیس تو پھرے پر یہ کہو کہ کوئی بدیا بھی سیکھی وہ بولا میں نے مرت سنجیونی بدیا سیکھی ہے وہ سنتے ہی بولا جو سیکھی تو ہماری پیاری کو جلاؤ اسنے کہا راکھ ہاڑ کا ڑہین
کرو تو مین جلا دون انھون نے راکھ ہڑیان ڈھیر کردین تب اپنے پوتھی مین سے ایک منتر نکال جپا وہ کنیا جی اٹھی پھر اُن تینرون کو خواہش نفسانی نے ایسا اندھا کیا کہ اپس مین جھگڑنے لگے اتنی بات کہکر بیتال بولا اے راجہ یہ بتا کہ وہ استری کسکی ہوئی راجہ بکرم بولا کہ جو منڈھی باندھ کر رہا تھا وہ ناری اسکی ہوئی بیتال بولا جو وہ ہاڑ نہ رکھتا تو وہ کس طرح سے جیتی اور دوسرا ودیا نہ سیکھتا وہ کیونکر اسے جلاتا راجہ نے جواب دیا کہ جس نے اسکی ہڑیان رکھی تھین وہ تو اسکے بیٹے کی جگہ ہوا اور جس نے جیون دیا وہ
گویا اسکا باپ ہوا اس سے وہ جورو اسکی ہوئی کہ جو راکھ سمیت جھوپڑی بانده وہان رہا یہ جواب سنکے بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا راجہ بھی اسکے پیچھے پیچھے جا پہونچا اور اسے باندہ کاندھے پر رکھ لیچلا
ایری کہانی |
بیتال بولا اسے راجہ بردوان نام یک گیر تر این روپ سین نام ایک راجہ تو ایک روز کا اتفاق ہو کہ
وہ راج اپنی ڈیوڑھی کے قبل کسی مکان مین بیٹھا تھا کہ دروازہ کے باہر سے کچھ اوپری لوگون کی
بچاو
آواز آنے لگی راجہ بولا کہ دروازه پیکون پاور کیا شور موریا ہو اسمین دربان نے کہا کہ مہاراج آپ نے
یہ بھلی بات جو پوچھی دولتمند کی ڈیوڑھی جان و مال کے لئے بہتیرے آدمی آن بیٹھتے ہین اور
طرح طرح کی باتین کرتے ہین املین لوگون
کا یہ شور ہے یہ سن راجہ چپ ہو رہا اتنے مین ایک عام<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
0gg6uhwke9p2176nw3zd67ak7b2jofb
31744
31743
2026-03-27T05:54:50Z
Charan Gill
46
31744
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٤|بیتال پچیسی}}</noinclude>مین اٹھا کر پھینک دیا وہ لڑکا جلکر خاک ہو گیا یہ احوال جب اس برہمین نے دیکھا تو بنا کھانے اٹھہ کھڑا ہوا تب وہ گھر والا بولا کہ تو کس واسطے کھانا نہین کھاتا وہ بولا کہ جس کے گھر مین دیونی ہو اسکے گھر مین کس طرح کوئی کھانا کھائے یہ سن اس گرہستی نے اٹھہ کر ایک اور طرف اپنے گھر مین جا اور سنجیوںئی ودیا کی کتاب لا اسمین سے ایک منتر نکال پڑھ کر لڑکے کو جلا دیا تب وہ برہمن یہ عجائب اپنے اپنے جی مین خیال کرنے لگا جو یہ پوتھی میرے ہاتھ لگے تو مین بھی اپنی پیاری کو جلاؤن یہ اپنے مین مین ٹھان کھانا کھا وہین سو رہا غرض جب رات ہوئی تو کتنی ایک دیر کے پیچھے سبنے بیالو<ref>رات کا کھانا جسکوائل منبود که معرف مین پکوان یا یا لو کہتے ہین پوریان دخیره ۱۳</ref> کیا اپنی اپنی جگہ جا لیٹے اِدھر اُدھر کی آپسمین باتین کرتے تھے یہ برہمن بھی ایک طرف جا کر پڑ رہا لیکن پڑا پڑا جاگتا تھا
جب اُن نے جانا کہ بڑی رات گئی اور سب سو گئے تب چپکا اُٹھ آہستہ آہستہ اُسکے گھر مین پیٹھ وہ کتاب لے چلا اور کتنے دنون مین جس مرگھٹ مین کہ اس برہمن کی بیٹی کو جلایا تھا وہان آن پہونچا ان دونون برہمنون کو بھی وہان پایا کہ آپس مین بیٹھے ہوئے باتین کرتے ہین ان دونون نے بھی اسے پہچان اسکے پاس آ ملاقات کی اور پوچھا کہ بھائی تم دیس بدیس تو پھرے پر یہ کہو کہ کوئی بدیا بھی سیکھی وہ بولا میں نے مرت سنجیونی بدیا سیکھی ہے وہ سنتے ہی بولا جو سیکھی تو ہماری پیاری کو جلاؤ اسنے کہا راکھ ہاڑ کا ڑہین
کرو تو مین جلا دون انھون نے راکھ ہڑیان ڈھیر کردین تب اپنے پوتھی مین سے ایک منتر نکال جپا وہ کنیا جی اٹھی پھر اُن تینرون کو خواہش نفسانی نے ایسا اندھا کیا کہ اپس مین جھگڑنے لگے اتنی بات کہکر بیتال بولا اے راجہ یہ بتا کہ وہ استری کسکی ہوئی راجہ بکرم بولا کہ جو منڈھی باندھ کر رہا تھا وہ ناری اسکی ہوئی بیتال بولا جو وہ ہاڑ نہ رکھتا تو وہ کس طرح سے جیتی اور دوسرا ودیا نہ سیکھتا وہ کیونکر اسے جلاتا راجہ نے جواب دیا کہ جس نے اسکی ہڑیان رکھی تھین وہ تو اسکے بیٹے کی جگہ ہوا اور جس نے جیون دیا وہ
گویا اسکا باپ ہوا اس سے وہ جورو اسکی ہوئی کہ جو راکھ سمیت جھوپڑی بانده وہان رہا یہ جواب سنکے بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا راجہ بھی اسکے پیچھے پیچھے جا پہونچا اور اسے باندہ کاندھے پر رکھ لیچلا
تیسری کہانی
بیتال بولا اے راجہ بردوان نام ایک نگر ہے اسمین روپ سین نام ایک راجہ ہے ایک روز کا اتفاق ہے کہ وہ راجہ اپنی ڈیوڑھی کے متسِل کسی مکان مین بیٹھا تھا کہ دروازہ کے باہر سے کچھ اوپری لوگون کی آواز آنے لگی راجہ بولا کہ دروازه پر کون ہے اور کیا شور ہو ریا ہے اسمین دربان نے کہا کہ مہاراج آپ نے یہ بھلی بات جو پوچھی دولتمند کی ڈیوڑھی جان و مال کے لئے بہتیرے آدمی آن بیٹھتے ہین اور
طرح طرح کی باتین کرتے ہین انہین لوگون کا یہ شور ہے یہ سن راجہ چپ ہو رہا اتنے مین ایک مُسافر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
eifgzsy3aopllp6p2tsg79xnbfghiwy
31747
31744
2026-03-27T07:31:00Z
BalramBodhi
60
31747
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٤|بیتال پچیسی}}</noinclude>مین اٹھا کر پھینک دیا وہ لڑکا جلکر خاک ہو گیا یہ احوال جب اس برہمین نے دیکھا تو بنا کھانے اٹھہ کھڑا ہوا تب وہ گھر والا بولا کہ تو کس واسطے کھانا نہین کھاتا وہ بولا کہ جس کے گھر مین دیونی ہو اسکے گھر مین کس طرح کوئی کھانا کھائے یہ سن اس گرہستی نے اٹھہ کر ایک اور طرف اپنے گھر مین جا اور سنجیوںئی ودیا کی کتاب لا اسمین سے ایک منتر نکال پڑھ کر لڑکے کو جلا دیا تب وہ برہمن یہ عجائب اپنے اپنے جی مین خیال کرنے لگا جو یہ پوتھی میرے ہاتھ لگے تو مین بھی اپنی پیاری کو جلاؤن یہ اپنے مین مین ٹھان کھانا کھا وہین سو رہا غرض جب رات ہوئی تو کتنی ایک دیر کے پیچھے سبنے بیالو<ref>رات کا کھانا جسکوائل منبود که معرف مین پکوان یا یا لو کہتے ہین پوریان دخیره ۱۳</ref> کیا اپنی اپنی جگہ جا لیٹے اِدھر اُدھر کی آپسمین باتین کرتے تھے یہ برہمن بھی ایک طرف جا کر پڑ رہا لیکن پڑا پڑا جاگتا تھا
جب اُن نے جانا کہ بڑی رات گئی اور سب سو گئے تب چپکا اُٹھ آہستہ آہستہ اُسکے گھر مین پیٹھ وہ کتاب لے چلا اور کتنے دنون مین جس مرگھٹ مین کہ اس برہمن کی بیٹی کو جلایا تھا وہان آن پہونچا ان دونون برہمنون کو بھی وہان پایا کہ آپس مین بیٹھے ہوئے باتین کرتے ہین ان دونون نے بھی اسے پہچان اسکے پاس آ ملاقات کی اور پوچھا کہ بھائی تم دیس بدیس تو پھرے پر یہ کہو کہ کوئی بدیا بھی سیکھی وہ بولا میں نے مرت سنجیونی بدیا سیکھی ہے وہ سنتے ہی بولا جو سیکھی تو ہماری پیاری کو جلاؤ اسنے کہا راکھ ہاڑ کا ڑہین
کرو تو مین جلا دون انھون نے راکھ ہڑیان ڈھیر کردین تب اپنے پوتھی مین سے ایک منتر نکال جپا وہ کنیا جی اٹھی پھر اُن تینرون کو خواہش نفسانی نے ایسا اندھا کیا کہ اپس مین جھگڑنے لگے اتنی بات کہکر بیتال بولا اے راجہ یہ بتا کہ وہ استری کسکی ہوئی راجہ بکرم بولا کہ جو منڈھی باندھ کر رہا تھا وہ ناری اسکی ہوئی بیتال بولا جو وہ ہاڑ نہ رکھتا تو وہ کس طرح سے جیتی اور دوسرا ودیا نہ سیکھتا وہ کیونکر اسے جلاتا راجہ نے جواب دیا کہ جس نے اسکی ہڑیان رکھی تھین وہ تو اسکے بیٹے کی جگہ ہوا اور جس نے جیون دیا وہ
گویا اسکا باپ ہوا اس سے وہ جورو اسکی ہوئی کہ جو راکھ سمیت جھوپڑی بانده وہان رہا یہ جواب سنکے بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا راجہ بھی اسکے پیچھے پیچھے جا پہونچا اور اسے باندہ کاندھے پر رکھ لیچلا
تیسری کہانی
بیتال بولا اے راجہ بردوان نام ایک نگر ہے اسمین روپ سین نام ایک راجہ ہے ایک روز کا اتفاق ہے کہ وہ راجہ اپنی ڈیوڑھی کے متسِل کسی مکان مین بیٹھا تھا کہ دروازہ کے باہر سے کچھ اوپری لوگون کی آواز آنے لگی راجہ بولا کہ دروازه پر کون ہے اور کیا شور ہو ریا ہے اسمین دربان نے کہا کہ مہاراج آپ نے یہ بھلی بات جو پوچھی دولتمند کی ڈیوڑھی جان و مال کے لئے بہتیرے آدمی آن بیٹھتے ہین اور طرح طرح کی باتین کرتے ہین انہین لوگون کا یہ شور ہے یہ سن راجہ چپ ہو رہا اتنے مین ایک مُسافر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
7ugs6sug2mmuwl47z29wwh98v8g6lxk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/16
250
12682
31745
30745
2026-03-27T07:15:26Z
Charan Gill
46
31745
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٥|}}</noinclude>دکن کی طرف سے بیربر نام راچپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجہ کی ڈیوڑھی پر آیا دربان نے اسکا احوال معلوم کر کے راجہ سے کہا مہاراج ایک شخص ہتھیار بند چاکری کے آسرے پر آیا ہے سو دروازے پر کھڑا ہے مہاراج کی اجازت پاوے تو وہ روبرد آوے یہ سن راجہ نے فرمایا آویہ اسے جاکر
ہے
آیا تب راجہ نے پوچھا اے راجھوں
تیرتے تین روز چینی کو یادوں یہ سن کے بیر بر ولا نرا تولے سونا مجھے
روز وہ تو میری گذران ہو راجہ نے پوچھا تمھارے ساتھ لوگ کتنے ہیں اسنے کہا کہ ایک عورت دوسر
بیٹا تیسری بیٹی چوتھا میں پانچواں ہمارے ساتھ کوئی نہیں اسکی یہ بات ان راجہ کے دربار کے لوگ سندھ
پھر پیر کے کہنے لگے راجہ اپنے جی میں ہوم کرنے لگا کہ بہت مال اسے کہو اسلئے مالگا پھر آپ ہی اپنے
دل میں سمجھ کر کہ بہت مال دیتا ہوں کسی روز سوارت بود دیگا یہ کار کے راجہ نے بھنڈا سی کو بلا کر کہا ہائے
خزانے سے بہزاد تولہ سونا اس بیری کے تین روز بپا کردیا از بین میرون ہزار تولیے سونا اس دن کھائے
اپنی جگہ لا جسے کر آدھا تو منوں کو بانٹا اور اس کے پھر وہ بات کر ایک بھرہ امین سے امیت میرائی شنو
سفیاسیوں یا
سفیا سیون
کو بانٹ دیا اور باقی جو ایک ہفتہ یا اس کا کھانا پر ا ن میوں کو کھلانا باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا
اسی طرح ہمیشہ جور ولٹ کے سمیت اپنی گذران کرتا تھا لیکن شاہر کیوقت روز ڈھال تلوار نے بیوہ کے بانگ
کی چوکی مین جا حاضر رہتا اور راجہ جب سوتے سے چونک کر کہا کہ کوئی ہو وہی جواب دیتا کہ میر راجہ می
سر
ہ ہو اسی طرح راجہ جب پکارتا تو ہی جواب دیتا پھر مین جو کام فریا اس میں اجالا تا سطرح مال کی لا نیچ
سے رات بھر ہوشیار رہتا بلکہ کھاتے پیتے ہوتے مجھے اور چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد مین رہتا
ریت یہ ہو کہ کوئی کوئی چیتا ہے تو کتا ہی کرنوکر نوکری کرکے اپنے تئیں آپ بچتا ہو اور جب کھا تو مطلع ہواجو پراے
بس مین ہو اسے سکہ کہاں مشہور ہر کی اہی چالاک عاقل پنڈت ہو دے لیکن جبوقت اپنے مالک کے سامنے
ہوتا ہو تو ڈر کے مارے گونگے کی برا ہ چپ ہی رہتا ہے جب تلک دور بر چین سے ہو اسواسطے پنڈت لوگ کہتے
مین کہ نوکری کرنا لوگ سر بھی کٹھن پر القصہ ایک روز کا ذکر ہو کر افق قرات کے وقت مرگھٹ سے رونے
کی آواز آئی راجہ سکے پکارا کو ئی حاضری پیر پرسنتے ہی بولا حاضر جو کہ پھر راجہ نے یون حکم کیا جہان سے
رونے کی آواز آتی ہر وہاں جاؤ اور اس سے سبب رونے کا پوچھ کے جلد آؤ راجہ یہ اس سے فرما
دل مین کہنے لگا کہ کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو ت وقت بے وقت اس سے کام کو کسے اگر وہ حکم اسکا
مجالا دے تو جانیے کا م کا ہے اور جو انکار کر دے تو جانیے ناکارہ اسی طرح سے بھائیوں اور
دوستون کو بڑے وقت مین پر کیسے اور عورت کو مفلسی میں جانچئے غرض یہ حکم پا کر اس کے رونیکی
آواز کی دھن پر گیا اور راجہ بھی اسکی بہت دیکھنے کے لئےکالے کپڑے پہنا مجھے پیچھے سے معلو چل کر آمین بر با
جو حکم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
90s6j34udah2im3ytq10ot20abh25xc
31746
31745
2026-03-27T07:30:57Z
Charan Gill
46
31746
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٥|}}</noinclude>دکن کی طرف سے بیربر نام راچپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجہ کی ڈیوڑھی پر آیا دربان نے اسکا احوال معلوم کر کے راجہ سے کہا مہاراج ایک شخص ہتھیار بند چاکری کے آسرے پر آیا ہے سو دروازے پر کھڑا ہے مہاراج کی اجازت پاوے تو وہ روبرد آوے یہ سن راجہ نے فرمایا آو یہ اسے جاکر
ہے آیا تب راجہ نے پوچھا اے راجپوں تیرتے تھین روز خرچی کو کیا دوں یہ سن کے بیربر بولا ہزار تولے سونا مجھے
روز وہ تو میری گذران ہو راجہ نے پوچھا تمھارے ساتھ لوگ کتنے ہیں اسنے کہا کہ ایک عورت دوسرا بیٹا تیسری بیٹی چوتھا میں پانچواں ہمارے ساتھ کوئی نہیں اسکی یہ بات ان راجہ کے دربار کے لوگ سندھ
پھر پیر کے کہنے لگے راجہ اپنے جی میں ہوم کرنے لگا کہ بہت مال اسے کہو اسلئے مالگا پھر آپ ہی اپنے
دل میں سمجھ کر کہ بہت مال دیتا ہوں کسی روز سوارت بود دیگا یہ کار کے راجہ نے بھنڈا سی کو بلا کر کہا ہائے
خزانے سے بہزاد تولہ سونا اس بیری کے تین روز بپا کردیا از بین میرون ہزار تولیے سونا اس دن کھائے
اپنی جگہ لا جسے کر آدھا تو منوں کو بانٹا اور اس کے پھر وہ بات کر ایک بھرہ امین سے امیت میرائی شنو
سفیاسیوں یا
سفیا سیون
کو بانٹ دیا اور باقی جو ایک ہفتہ یا اس کا کھانا پر ا ن میوں کو کھلانا باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا
اسی طرح ہمیشہ جور ولٹ کے سمیت اپنی گذران کرتا تھا لیکن شاہر کیوقت روز ڈھال تلوار نے بیوہ کے بانگ
کی چوکی مین جا حاضر رہتا اور راجہ جب سوتے سے چونک کر کہا کہ کوئی ہو وہی جواب دیتا کہ میر راجہ می
سر
ہ ہو اسی طرح راجہ جب پکارتا تو ہی جواب دیتا پھر مین جو کام فریا اس میں اجالا تا سطرح مال کی لا نیچ
سے رات بھر ہوشیار رہتا بلکہ کھاتے پیتے ہوتے مجھے اور چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد مین رہتا
ریت یہ ہو کہ کوئی کوئی چیتا ہے تو کتا ہی کرنوکر نوکری کرکے اپنے تئیں آپ بچتا ہو اور جب کھا تو مطلع ہواجو پراے
بس مین ہو اسے سکہ کہاں مشہور ہر کی اہی چالاک عاقل پنڈت ہو دے لیکن جبوقت اپنے مالک کے سامنے
ہوتا ہو تو ڈر کے مارے گونگے کی برا ہ چپ ہی رہتا ہے جب تلک دور بر چین سے ہو اسواسطے پنڈت لوگ کہتے
مین کہ نوکری کرنا لوگ سر بھی کٹھن پر القصہ ایک روز کا ذکر ہو کر افق قرات کے وقت مرگھٹ سے رونے
کی آواز آئی راجہ سکے پکارا کو ئی حاضری پیر پرسنتے ہی بولا حاضر جو کہ پھر راجہ نے یون حکم کیا جہان سے
رونے کی آواز آتی ہر وہاں جاؤ اور اس سے سبب رونے کا پوچھ کے جلد آؤ راجہ یہ اس سے فرما
دل مین کہنے لگا کہ کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو ت وقت بے وقت اس سے کام کو کسے اگر وہ حکم اسکا
مجالا دے تو جانیے کا م کا ہے اور جو انکار کر دے تو جانیے ناکارہ اسی طرح سے بھائیوں اور
دوستون کو بڑے وقت مین پر کیسے اور عورت کو مفلسی میں جانچئے غرض یہ حکم پا کر اس کے رونیکی
آواز کی دھن پر گیا اور راجہ بھی اسکی بہت دیکھنے کے لئےکالے کپڑے پہنا مجھے پیچھے سے معلو چل کر آمین بر با
جو حکم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ruh4gqvwu3fktxznig2dmnukgnpn1n0
31748
31746
2026-03-27T08:17:35Z
BalramBodhi
60
31748
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٥|}}</noinclude>دکن کی طرف سے بیربر نام راچپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجہ کی ڈیوڑھی پر آیا دربان نے اسکا احوال معلوم کر کے راجہ سے کہا مہاراج ایک شخص ہتھیاربند چاکری کے آسرے پر آیا ہے سو دروازے پر کھڑا ہے مہاراج کی اجازت پاوے تو وہ روبرو آوے یہ سن راجہ نے فرمایا آو یہ اسے جاکر لے آیا تب راجہ نے پوچھا اے راجپوت تیرے تھین روز خرچی کو کیا دون یہ سن کے بیربر بولا ہزار تولے سونا مجھے روز دو تو میری گذران ہو راجہ نے پوچھا تمھارے ساتھ لوگ کتنے ہین اسنے کہا کہ ایک عورت دوسرا بیٹا تیسری بیٹی چوتھا مین پانچوان ہمارے ساتھ کوئی نہیں اسکی یہ بات سن راجہ کے دربار کے لوگ منھ پھر پیر کے کہنے لگے پر راجہ اپنے جی مین سوچ کرنے لگا کہ بہت مال اسے کسواستے مانگا پھر آپ ہی اپنے دِل مین سمجھ کر کہ بہت مال دیتا ہون کسی روز سوارت بود دیگا یہ وچار کے راجہ نے بھنڈاری کو بلا کر کہا ہمارے خزانے سے ہزار تولہ سونا اِس بیربر کے تین روز دیا کرو یہ اجازت سُن بیربر نے ہزار تولیے سونا اُس دن کا لے اپنی جگہ لا حصے کر آدھا تو برہمنون کو بانٹا اور آدھا کے پھر دو بانٹ کر ایک بکھرہ اسمین سے اتیت بیراگی وشنو
سنیاسیون کو بانٹ دیا اور باقی جو حصّہ یا اس کا کھانا پکوا غریبون کو کھلا دیا باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا اسی طرح ہمیشہ جورو لڑکے سمیت اپنی گذران کرتا تھا لیکن شام کیوقت روز ڈھال تلوار لے راجہ کے پلنگ کی چوکی مین جا حاضِر رہتا اور راجہ جب سوتے سے چونک کر پکرتا کہ کوئی ہے تو یہی جواب دیتا کہ بیربرحاضِر ہے جو حکم ہو
اسی طرح راجہ جب پکارتا تو ہی جواب دیتا پھر مین جو کام فریا اس میں اجالا تا سطرح مال کی لا نیچ
سے رات بھر ہوشیار رہتا بلکہ کھاتے پیتے ہوتے مجھے اور چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد مین رہتا
ریت یہ ہو کہ کوئی کوئی چیتا ہے تو کتا ہی کرنوکر نوکری کرکے اپنے تئیں آپ بچتا ہو اور جب کھا تو مطلع ہواجو پراے
بس مین ہو اسے سکہ کہاں مشہور ہر کی اہی چالاک عاقل پنڈت ہو دے لیکن جبوقت اپنے مالک کے سامنے
ہوتا ہو تو ڈر کے مارے گونگے کی برا ہ چپ ہی رہتا ہے جب تلک دور بر چین سے ہو اسواسطے پنڈت لوگ کہتے
مین کہ نوکری کرنا لوگ سر بھی کٹھن پر القصہ ایک روز کا ذکر ہو کر افق قرات کے وقت مرگھٹ سے رونے
کی آواز آئی راجہ سکے پکارا کو ئی حاضری پیر پرسنتے ہی بولا حاضر جو کہ پھر راجہ نے یون حکم کیا جہان سے
رونے کی آواز آتی ہر وہاں جاؤ اور اس سے سبب رونے کا پوچھ کے جلد آؤ راجہ یہ اس سے فرما
دل مین کہنے لگا کہ کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو ت وقت بے وقت اس سے کام کو کسے اگر وہ حکم اسکا
مجالا دے تو جانیے کا م کا ہے اور جو انکار کر دے تو جانیے ناکارہ اسی طرح سے بھائیوں اور
دوستون کو بڑے وقت مین پر کیسے اور عورت کو مفلسی میں جانچئے غرض یہ حکم پا کر اس کے رونیکی
آواز کی دھن پر گیا اور راجہ بھی اسکی بہت دیکھنے کے لئےکالے کپڑے پہنا مجھے پیچھے سے معلو چل کر آمین بر با
جو حکم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
kecwv2f8qs4we1mk6k7znt2pole70jb
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/186
250
12789
31737
31234
2026-03-26T14:00:54Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31737
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>
پمپا سر پہاڑ کے قریب پہنچا تو سیتا جی نے
دیکھا کہ پہاڑ پر کئی بندروں کی سی صورت
والے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں ۔ سیتا جی نے
خیال کیا کہ رام چندر مجھے ڈھونڈھتے ہوئے
ضرور ادھر آئینگے ۔ اِس لئے اُنہوں نے اپنے
کئی زیور اور چادر رتھ کے نِیچے ڈال دی۔
کہ شاید ان لوگوں کی نگاہ ان چیزوں پر
پڑ جائے اور وہ رام چندر کو میرا پتہ بتا سکیں
آگے چل کر تم کو معلوم ہوگا کہ سیتا جی کی
اس ہوشیاری سے رام چندر کو اُن کا پتہ
لگانے میں بڑی مدد مِلی .
لنکا پہنچ کر راون نے سیتا جی کو اپنے
محل ، باغ ، خزانے ، فوجیں سب دکھائیں ۔
وہ سمجھتا تھا کہ میری ثروت اور دولت کو
دیکھ کر سیتا جی لالچ میں پڑ جائینگی ۔ اُس کا
محل کتنا شاندار تھا ۔ باغ کتنے خوبصورت تھے
فوجیں کتنی بے شمار اور نئے نئے ہتھیاروں سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
6euzds4rrxi3rn29f8hx7bpmj14xu6w
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/187
250
12790
31738
31237
2026-03-26T14:07:24Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31738
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>
کس قدر سجی ہوئی تھیں ، خزانہ کتنا بے حساب
تھا، اس میں کتنے ہیرے جواہر بھرے ہوئے
تھے ۔ مگر سیتا جی پر اِس فوج کا بھی کُچھ
اثر نہ ہُوا۔ انہیں یقین تھا کہ رامچندر کے
تیروں کے سامنے یہ فوجیں ہرگز نہ ٹھہر سکینگی ۔
جب راون نے دیکھا کہ سیتا جی نے میرے اس
ٹھاٹھ باٹ کی تنکے برابر بھی پروا نہ کی تو
بولا ، کیا تمہیں اب بھی میری طاقت کا اندازہ
نہیں ہوا ؟ کیا تم اب بھی سمجھتی ہو کہ
رامچندر تمھیں میرے ہاتھوں سے چھڑا لے
جائینگے ؟ اس خیال کو دل سے نکال ڈالوِ'.
ستا جی نے حقارت سے اس کی طرف دیکھ کر
کہا۔ 'اس خیال کو میں دل سے کسی طرح
نہیں نکال سکتی ۔ رام چندر ضرور مجھے
لے جائینگے ۔ اور تجھے اس شرارت اور
کمینہ پن کا مزا بھی چکھائینگے تیری ساری
فوج سارا خزانہ سارے ہتھیار دھرے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
7qy214irnz5yiq8uvg4hazu7w10nz3p
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/188
250
12791
31739
31240
2026-03-26T14:23:18Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31739
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>۱۸۲
رہ جائینگے ۔ اُن کے تیر موت کے تیر ہیں۔
تو اُن سے نہ بچ سکیگا ۔ وہ اُن کی آن
میں تیری یہ سونے کی لنکا خاک و سیاه
کر دینگے ۔ تیرے خاندان میں کوئی چراغ
جلانے والا بھی نہ رہ جائیگا ۔ اگر تجھے اپنی
زندگی سے کچھ محبت ہو تو مجھے اُن کے
پاس پہنچا دے، اور اُن کے پیروں پر
عاجزی سے گر کر اپنی گستاخی کی معافی مانگ
لے ۔ وہ بڑے رحم دل ہیں ۔ تجھے معاف
کر دینگے ۔ لیکن اگر تو اپنی شرارت سے
باز نہ آیا تو تیرا ستیا ناس ہو جائیگا،.
راون غصّہ سے جل اُٹھا ۔ محل کے قریب
ہی اشوک باٹی کا نام کا ایک باغ تھا۔ راون
نے سیتاجی کو اُسی میں ٹھیرا دیا ۔ اور کئی
راکشن عورتوں کو اس لئے تعینات کیا کہ وہ
سیتا کو ستائیں اور ہر طرح کی تکلیف پہنچا کر
اُنہیں اس کی طرف مخاطب ہونے کے لئے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
a813sqhvwjcdn9z2ttijmdsa6t33vey
31740
31739
2026-03-26T14:25:46Z
Taranpreet Goswami
90
31740
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>۱۸۲
رہ جائینگے ۔ اُن کے تیر موت کے تیر ہیں۔
تو اُن سے نہ بچ سکیگا ۔ وہ اُن کی آن
میں تیری یہ سونے کی لنکا خاک و سیاه
کر دینگے ۔ تیرے خاندان میں کوئی چراغ
جلانے والا بھی نہ رہ جائیگا ۔ اگر تجھے اپنی
زندگی سے کچھ محبّت ہو تو مجھے اُن کے
پاس پہنچا دے، اور اُن کے پیروں پر
عاجزی سے گر کر اپنی گُستاخی کی معافی مانگ
لے ۔ وہ بڑے رحم دل ہیں ۔ تجھے معاف
کر دینگے ۔ لیکن اگر تو اپنی شرارت سے
باز نہ آیا تو تیرا ستیا ناس ہو جائیگا،.
راون غصّہ سے جل اُٹھا ۔ محل کے قریب
ہی اشوک باٹی کا نام کا ایک باغ تھا۔ راون
نے سیتاجی کو اُسی میں ٹھیرا دیا ۔ اور کئی
راکشن عورتوں کو اس لئے تعینات کیا کہ وہ
سیتا کو ستائیں اور ہر طرح کی تکلیف پہنچا کر
اُنہیں اس کی طرف مخاطب ہونے کے لئے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
96ba32ox9tk3wo638k6rx04tv08ec38
31741
31740
2026-03-26T14:27:49Z
Taranpreet Goswami
90
31741
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>۱۸۲
رہ جائینگے ۔ اُن کے تیر موت کے تیر ہیں۔
تو اُن سے نہ بچ سکیگا ۔ وہ اُن کی آن
میں تیری یہ سونے کی لنکا خاک و سیاه
کر دینگے ۔ تیرے خاندان میں کوئی چراغ
جلانے والا بھی نہ رہ جائیگا ۔ اگر تجھے اپنی
زندگی سے کچھ محبّت ہو تو مُجھے اُن کے
پاس پہنچا دے، اور اُن کے پیروں پر
عاجزی سے گِر کر اپنی گُستاخی کی معافی مانگ
لے ۔ وہ بڑے رحم دل ہیں ۔ تجھے معاف
کر دینگے ۔ لیکن اگر تو اپنی شرارت سے
باز نہ آیا تو تیرا ستیا ناس ہو جائیگا،.
راون غصّہ سے جل اُٹھا ۔ محل کے قریب
ہی اشوک باٹی کا نام کا ایک باغ تھا۔ راون
نے سیتاجی کو اُسی میں ٹھیرا دیا ۔ اور کئی
راکشن عورتوں کو اس لئے تعینات کیا کہ وہ
سیتا کو ستائیں اور ہر طرح کی تکلیف پہنچا کر
اُنہیں اس کی طرف مخاطب ہونے کے لئے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
93ivm8xfflzsswnhnkbdolg7x0ghr43
31742
31741
2026-03-26T14:29:50Z
Taranpreet Goswami
90
31742
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>۱۸۲
رہ جائینگے ۔ اُن کے تیر موت کے تیر ہیں۔
تو اُن سے نہ بچ سکیگا ۔ وہ اُن کی آن
میں تیری یہ سونے کی لنکا خاک و سیاه
کر دینگے ۔ تیرے خاندان میں کوئی چراغ
جلانے والا بھی نہ رہ جائیگا ۔ اگر تجھے اپنی
زندگی سے کچھ محبّت ہو تو مُجھے اُن کے
پاس پہنچا دے، اور اُن کے پیروں پر
عاجزی سے گِر کر اپنی گُستاخی کی معافی مانگ
لے ۔ وہ بڑے رحم دل ہیں ۔ تجھے معاف
کر دینگے ۔ لیکن اگر تو اپنی شرارت سے
باز نہ آیا تو تیرا ستیا ناس ہو جائیگا،.
راون غصّہ سے جل اُٹھا ۔ محل کے قریب
ہی اشوک باٹکا نام کا ایک باغ تھا۔ راون
نے سیتاجی کو اُسی میں ٹھیرا دیا ۔ اور کئی
راکشن عورتوں کو اس لئے تعینات کیا کہ وہ
سیتا کو ستائیں اور ہر طرح کی تکلیف پہنچا کر
اُنہیں اس کی طرف مخاطب ہونے کے لئے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
f8ocyndbf2slwuvxyvnjgply4ippk58