ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.21 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/10 250 12676 31750 31736 2026-03-28T08:24:43Z Taranpreet Goswami 90 31750 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|٩|}}</noinclude>دیکھنے کو روز ایک وقت جاتی ہون وہان سے آنکر گھر مین اپنا کام کاج کرتی ہون یہ بات راج پتر نے سن دل مین خوش ہو بڑھیا سے کہا کل جسوقت چلنے لگنا تو ایک پیغام ہمارا بھی لیتی جائیو اس نے کہا بیٹا کل پر کیا موقوف ہے ابھی مجھہ سے جو کچھہ کہ سو مین تیرا پیغام پہنچاؤن تب اسنے کہا تو اتنا جاکر کہدے کہ جیٹھ کی پنچمی کو تالاب کے کنارے جس راج پتر کو تمنے دیکھا تھا سو آن پہونچا ہے اتنی بات کے سنتے ہی بڑھیا لاٹھی ہاتھہ مین لے راج مندر کو گئی وہان جاکر دیکھا کہ راج کنیا اکیلی بیٹھی ہے جب یہ سامنے پہونچی تو اسنے سلام کیا دعا دیکر بولی بیٹی بچپن مین تیری خِدمت کی اور دودھہ پلایا اب خدا نے تجھے بڈا کیا یہ جی چاہتا ہے کہ تیری جوانی کا سکھہ دیکھون تو مجھے بھی چین ہووے اسی طرح کی باتین محبت آمیز کر کے کہنے لگی کہ جیٹھ کی پنچمین کو تالاب کے کنارے جس کنور کا تونے دل لیا ہے سو میرے گھر آن کر اترا ہے اسنے تجھے یہ پیغام دیا ہے کہ جو اکرار کیا تھا وہ پورا کرو ہم آن پہونچے ہین اور مین بھی یہ کہتی ہون کہ وہ کنور تیرے ہی لائق ہے جیسی تو حسین ہو ویسے ہی وہ گبھرو ہے یہ سب باتین سن خفا ہو ہاتھون مین صندل لگا بڑھیا کے گالون مین طمانچے مار وہ کہنے لگی کمبخت میرے گھر سے نکل یہ دق ہو اسطرح سے اٹھتی بیٹھتی کنور کے پاس آئی اور سب احوال کہا راج کمار سنکر ہکابکا ہو گیا تب دیوان کا بیٹا بولا مہاراج کچھ فکر نہ کیجئے یہ بات آپکے دھیان مین نہین آئی پھر اسنے کہا سچ ہے مگر تو مجھے سمجھا کہ میرے جی کو چین ہووے اسنے کہا جود سون انگلیان صندل کی بھر کر منھہ پر مارین تو اسنے یہ بتایا کہ دس روز چاندنی کے ہو چکین تو اندھیرے مین ملونگی غرض دس روز کے بعد بڑھیا نے اسکی خبر جا کر کہی تب اسنے کیسر سے تین انگلیان بھر اسکے گال پر مارین اور کہا میرے گھر سے نکل آخر بڑھیا چار نچار ہو کر وہان سے چلی اور جو کچھہ حال تھا سب راج پتر سے آکر کہا یہ سنتے ہی وہ غم کے دریا مین ڈوب گیا اسکا یہ احوال دیکھہ پھر دیوان کے بیٹے نے کہا اندیشہ نہ کر اس بات کا مدّعا اور کچھہ ہے وہ بولا میرا جی بیچین ہے مجھہ سے جلد کہو تب اسنے کہا وہ کپڑون سے ہے اس لئے اور تین روز کا وعدہ کیا ہے چوتھے دن تمھین بلائیگی غرضکہ جب تین روز ہو چکے تو بڑھیا نے اسکی طرف سے خیر و عافیت پوچھی تب اسنے بڑھیا کو خفا ہو کر پچھم کی کھڑکی سے نکال دیا پھر یہ احوال بڑھیا نے راج کنور سے آکر کہا وہ سنکر اداس ہوا اتنے مین دیوان کا لڑکا بولا کہ اسبات کا یہ مطلب ہے کہ آج رات کے وقت تمکو اسی کھڑکی کی راہ بلایا ہے یہ سنتے ہی نهایت خوش ہوا غرض جب وہ وقت آیا اودے رنگ کے جوڑے پگڑیان باندھ کپڑے پہن ہتھیار سج سجا تیار ہوے کہ اِس عرصہ مین دو پہر رات گذر گئی اس وقت ایک عالم سنسان کا تھا کہ یہ بھی سونٹھ مارے چپ چاپ چلے جاتے تھے جب کھڑکی کے پاس پہونچے دیوان کا بیٹا باہر کھڑا رہا اور یہ کھڑکی کے اندر گیا دیکھتا کیا ہے کہ راج کنیا بھی وہین کھڑی راہ دیکھتی ہے کہ اسمین ان دونون کی چار نظرین ہوئین تب راج کنیا ہنسین اور کھڑکی بند کر کے راج کنور کو ساتھ لے رنگ محل مین گئی وہان جاکر کنور دیکھتا کیا ہے کہ جابجا لخلخے روشن اور سہیلیان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 1yvb1p4lub5y3hoq3wdv8rgq1u5wyix صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/16 250 12682 31749 31748 2026-03-28T07:52:06Z BalramBodhi 60 31749 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٥|}}</noinclude>دکن کی طرف سے بیربر نام راچپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجہ کی ڈیوڑھی پر آیا دربان نے اسکا احوال معلوم کر کے راجہ سے کہا مہاراج ایک شخص ہتھیاربند چاکری کے آسرے پر آیا ہے سو دروازے پر کھڑا ہے مہاراج کی اجازت پاوے تو وہ روبرو آوے یہ سن راجہ نے فرمایا آو یہ اسے جاکر لے آیا تب راجہ نے پوچھا اے راجپوت تیرے تھین روز خرچی کو کیا دون یہ سن کے بیربر بولا ہزار تولے سونا مجھے روز دو تو میری گذران ہو راجہ نے پوچھا تمھارے ساتھ لوگ کتنے ہین اسنے کہا کہ ایک عورت دوسرا بیٹا تیسری بیٹی چوتھا مین پانچوان ہمارے ساتھ کوئی نہیں اسکی یہ بات سن راجہ کے دربار کے لوگ منھ پھر پیر کے کہنے لگے پر راجہ اپنے جی مین سوچ کرنے لگا کہ بہت مال اسے کسواستے مانگا پھر آپ ہی اپنے دِل مین سمجھ کر کہ بہت مال دیتا ہون کسی روز سوارت بود دیگا یہ وچار کے راجہ نے بھنڈاری کو بلا کر کہا ہمارے خزانے سے ہزار تولہ سونا اِس بیربر کے تین روز دیا کرو یہ اجازت سُن بیربر نے ہزار تولیے سونا اُس دن کا لے اپنی جگہ لا حصے کر آدھا تو برہمنون کو بانٹا اور آدھا کے پھر دو بانٹ کر ایک بکھرہ اسمین سے اتیت بیراگی وشنو سنیاسیون کو بانٹ دیا اور باقی جو حصّہ یا اس کا کھانا پکوا غریبون کو کھلا دیا باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا اسی طرح ہمیشہ جورو لڑکے سمیت اپنی گذران کرتا تھا لیکن شام کیوقت روز ڈھال تلوار لے راجہ کے پلنگ کی چوکی مین جا حاضِر رہتا اور راجہ جب سوتے سے چونک کر پکارتا کہ کوئی ہے تو یہی جواب دیتا کہ بیربر حاضِر ہے جو حکم ہو اسی طرح راجہ جب پکارتا تو یہی جواب دیتا پھر اسمین جو کام فرمایا سو یہی بجا لاتا اسطرح مال کی لالچ سے رات بھر ہوشیار رہتا بلکہ کھاتے پیتے سوتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد مین رہتا ریت یہ ہے کہ کوئی کسو کو بیچتا ہے تو بکتا ہی مگر نوکر نوکری کر کے اپنے تئین آپ بیچتا ہے اور جب بکا تو میطع ہوا جو پراے بس مین ہو اسے سکھ کہان مشہور ہے کیسا ہی چالاک عاقل پنڈت ہووے لیکن جسوقت اپنے مالک کے سامنے ہوتا ہے تو ڈر کے مارے گونگے کی برابر چپ ہی رہتا ہے جب تلک دور ہے چین سے ہے اسواسطے پنڈت لوگ کہتے ہین کہ نوکری کرنا لوگ سے بھی کٹھن ہے القصہ ایک روز کا ذکر ہے کہ اتفاقاً رات کے وقت مرگھٹ سے رونے کی آواز آئی راجہ سنکے پکارا کوئی حاضر ہے بیربر سنتے ہی بولا حاضر جو حکم پھر راجہ نے یون حکم کیا جہان سے رونے کی آواز آتی ہے وہان جاؤ اور اس سے سبب رونے کا پوچھ کے جلد آؤ راجہ یہ اس سے فرما دِل مین کہنے لگا کہ کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو تو وقت بے وقت اس سے کام کو کہے اگر وہ حکم اسکا بجا لاوے تو جانیے کام کا ہے اور جو انکار کر دے تو جانیے ناکارہ اسی طرح سے بھائیون اور دوستون کو بُرے وقت مین پرکھیے اور عورت کو مفلسی مین جانچیئے غرض یہ حکم پا کر اس کے رونیکی آواز کی دھن پر گیا اور راجہ بھی اسکی ہمّت دیکھنے کے لئے کالے کپڑے پہنکر پیچھے پیچھے بےمعلوم چلا کہ اسمین بیربر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 3c5xid3mpm30dij1wusfg712gjbep3o