ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.21
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/17
250
12683
31751
30748
2026-03-28T12:41:36Z
Charan Gill
46
31751
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٦|بیتال پچیسی}}</noinclude>جا پہونچا اس مرگھٹ میں جہان رنڈی روتی تھی دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پائوں تلک
گہنے سے لدی ہوئی ڈاہیں مار مار کر روتی ہے کبھی ناچتی کبھی کودتی ہے انکھوں میں آنسو ایک نہین اور سیرت
ہائے ہائے کر زمین پر پکنیسان کھاتی ہو اسکایر وال دیکھ میں نے پوچھا تو کیوں استصدر روتی بیٹی ہے اور
تجھ پر کا دکھ ہو وہ بولی میں راج کشمی ہوں میر نے کہا تو کس لئے روتی ہو پھر اپنے پنی سیر پر سے ہی شرح
کی راجہ کے راج مین شو در کرم ہو تا ہر تیس سے اسکے گھرمن پیش می آوے گی اور میں اسکے گھر سے جاؤں گی
بعد ایک مہینے کے راجہ بہت دکھ پا کے مر جائے گا اس وکھ سے روتی ہوں اور مین نے اسکے گھرمیں بہت
شکر بابا ہو اسواسطے یہ کہتا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹ نہ ہوگی پھر ہر ب نے پوچھاکہ اسکا کچھ
ایسا بھی علاج ہو کہ جس سے راجہ بچے او سو برس جسے وہ بولی پورب کی طرف چار کوس پر دہی کا مند رہے
تو اس دہی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹے کے دستے تو راجہ سو برس تک ہیطرح سے راج کرے
اور کسی طرح کا خلل راجہ کو نہ ہو یہ بات سنتے ہی بیر براپنے گھر کو چلا اور راجہ بھی اسکے پیچھے دیا
غرض
جب وہ اپنے گھر من آیا تو اپنی جور و کو جگا کر اپنے احوال شرح دار کہا ان نے یہ حوال شن بیٹے کو جگا یا بیٹا
جاگا تب اُس عورت نے کہا کہ میا تمھارے سر دینے سے راجہ کا جی بچنا ہو اور راج بھی قائم رہتا ہو پیشن
وہ بالک ہو اما تا ایک تو آپکا حکم دوسرے
قا کا کام میرے یہ دیوتا کے کام آئے تو اس سے اچھی کوئی
بات دنیا مین نہین ہو مرے نزدیک آب سرکام میں دیر کرنی مناسب نہیں ہے کہ بیٹا ہود سے تو اپنے بس کا
اور جسم تندرست علم سے نفع دوست ہو یا عورت علم بردار جو پانچ باتین آدمی کومیترمون توسعه کی
دینے والی اور دکھ کی دور کرنیوالی من اگر نوکر ہے مرضی اور راجہ بخیل اور دوست
کیپٹی اور جو نافرمان ہو تو یہ چار
این امام کو درکی میای این پرپر براپنی ساری سے کہے گا جو اپنی خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تامین نیا
راجہ کے لیے دہی کے آگے ہیں ،ان دون وہ بولی مجھے بیٹا بیٹی بھائی بند ان باپ کسی سے کچھ کام نہین ہیں
لت تمھین سے ہو اور دھرم شاسترین یون میں لکھا ہو کنداری نہ ان سے سد معہ ہوتی ہونہ بہت سے لنگڑا لولا
ہرا ندیوں کا ناکوڑھی کپڑا ایسا ہی اسکا شوہر ہو اسکو اسی کی خدمت کرنے سے فائدہ ہو اگر کسی طرح کا دین ہیں
ریا صفت کرے اور خانہ کا حکم نہ انے تو دوزخ میں پڑے اسکا بیٹا بولا یا جس آدمی سر خاوند کا کام سے جنگ بین
اسی کا جینا اچھا ہو اور اسین دونوں جہان میں بجا ہو پھر کسی لڑکی بولی جومان دیوے بس لڑکی کواور باپ
سمجھے پوت کو اور راجہ نے سری چھین تو پناہ کسی نے ایسا کہ وہ چاروں آپس میں بچار کر کے ویسی کے مندر کو
گئے راجہ بھی چھو کے انکے مجھے چلا جب میں روہان پہونچاتو منہ میں جاری کی ہو جاکر ہاتھ جوڑ کنے لگا ہ ہیں
میرے پیر کے بل دینے سے راجہ کی سوبرس کی عمر دو سے تاکی کا ایسا کرنے کا ٹرین پیکر پر بھائی کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
spuvfe3vhffqcvj3qani3otw3xmzy9v
31752
31751
2026-03-28T13:19:17Z
Charan Gill
46
31752
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٦|بیتال پچیسی}}</noinclude>جا پہونچا اس مرگھٹ مین جہان رنڈی روتی تھی دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پائون تلک گہنے سے لدی ہوئی ڈاہین مار مار کر روتی ہے کبھی ناچتی کبھی کودتی ہے انکھون مین آنسو ایک نہین مگر سر پیٹ
ہائے ہائے کر زمین پر پکنیان کھاتی ہے اسکا یہ احوال دیکھ مین نے پوچھا تو کیون استصدر روتی بیٹی ہے اور
تجھ پر کا دکھ ہو وہ بولی مین راج کشمی ہون میر نے کہا تو کس لئے روتی ہو پھر اپنے پنی سیر پر سے ہی شرح
کی راجہ کے راج مین شو در کرم ہو تا ہر تیس سے اسکے گھرمن پیش می آوے گی اور مین اسکے گھر سے جاؤن گی
بعد ایک مہینے کے راجہ بہت دکھ پا کے مر جائے گا اس وکھ سے روتی ہون اور مین نے اسکے گھرمین بہت
شکر بابا ہو اسواسطے یہ کہتا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹ نہ ہوگی پھر ہر ب نے پوچھاکہ اسکا کچھ
ایسا بھی علاج ہو کہ جس سے راجہ بچے او سو برس جسے وہ بولی پورب کی طرف چار کوس پر دہی کا مند رہے
تو اس دہی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹے کے دستے تو راجہ سو برس تک ہیطرح سے راج کرے
اور کسی طرح کا خلل راجہ کو نہ ہو یہ بات سنتے ہی بیر براپنے گھر کو چلا اور راجہ بھی اسکے پیچھے دیا
غرض
جب وہ اپنے گھر من آیا تو اپنی جور و کو جگا کر اپنے احوال شرح دار کہا ان نے یہ حوال شن بیٹے کو جگا یا بیٹا
جاگا تب اُس عورت نے کہا کہ میا تمھارے سر دینے سے راجہ کا جی بچنا ہو اور راج بھی قائم رہتا ہو پیشن
وہ بالک ہو اما تا ایک تو آپکا حکم دوسرے
قا کا کام میرے یہ دیوتا کے کام آئے تو اس سے اچھی کوئی
بات دنیا مین نہین ہو مرے نزدیک آب سرکام مین دیر کرنی مناسب نہین ہے کہ بیٹا ہود سے تو اپنے بس کا
اور جسم تندرست علم سے نفع دوست ہو یا عورت علم بردار جو پانچ باتین آدمی کومیترمون توسعه کی
دینے والی اور دکھ کی دور کرنیوالی من اگر نوکر ہے مرضی اور راجہ بخیل اور دوست
کیپٹی اور جو نافرمان ہو تو یہ چار
این امام کو درکی میای این پرپر براپنی ساری سے کہے گا جو اپنی خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تامین نیا
راجہ کے لیے دہی کے آگے ہین ،ان دون وہ بولی مجھے بیٹا بیٹی بھائی بند ان باپ کسی سے کچھ کام نہین ہین
لت تمھین سے ہو اور دھرم شاسترین یون مین لکھا ہو کنداری نہ ان سے سد معہ ہوتی ہونہ بہت سے لنگڑا لولا
ہرا ندیون کا ناکوڑھی کپڑا ایسا ہی اسکا شوہر ہو اسکو اسی کی خدمت کرنے سے فائدہ ہو اگر کسی طرح کا دین ہین
ریا صفت کرے اور خانہ کا حکم نہ انے تو دوزخ مین پڑے اسکا بیٹا بولا یا جس آدمی سر خاوند کا کام سے جنگ بین
اسی کا جینا اچھا ہو اور اسین دونون جہان مین بجا ہو پھر کسی لڑکی بولی جومان دیوے بس لڑکی کواور باپ
سمجھے پوت کو اور راجہ نے سری چھین تو پناہ کسی نے ایسا کہ وہ چارون آپس مین بچار کر کے ویسی کے مندر کو
گئے راجہ بھی چھو کے انکے مجھے چلا جب مین روہان پہونچاتو منہ مین جاری کی ہو جاکر ہاتھ جوڑ کنے لگا ہ ہین
میرے پیر کے بل دینے سے راجہ کی سوبرس کی عمر دو سے تاکی کا ایسا کرنے کا ٹرین پیکر پر بھائی کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
o98wqx80lm2p3w0u4t5t2wowl0i1wcs
31753
31752
2026-03-28T13:26:55Z
Charan Gill
46
31753
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٦|بیتال پچیسی}}</noinclude>جا پہونچا اس مرگھٹ مین جہان رنڈی روتی تھی دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پائون تلک گہنے سے لدی ہوئی ڈاہین مار مار کر روتی ہے کبھی ناچتی کبھی کودتی ہے انکھون مین آنسو ایک نہین مگر سر پیٹ ہائے ہائے کر زمین پر پکنیان کھاتی ہے اسکا یہ احوال دیکھ مین نے پوچھا تو کیون اسقدر روتی پیٹتی ہے اور تجھ پر کا دکھ ہے وہ بولی مین راج لکشمی ہون بیربر نے کہا تو کس لئے روتی ہے پھر اسنے اپنی بیربر سے کہنی شرح کی راجہ کے راج مین شو در کرم ہو تا ہر تیس سے اسکے گھرمن پیش می آوے گی اور مین اسکے گھر سے جاؤن گی
بعد ایک مہینے کے راجہ بہت دکھ پا کے مر جائے گا اس وکھ سے روتی ہون اور مین نے اسکے گھرمین بہت
شکر بابا ہو اسواسطے یہ کہتا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹ نہ ہوگی پھر ہر ب نے پوچھاکہ اسکا کچھ
ایسا بھی علاج ہو کہ جس سے راجہ بچے او سو برس جسے وہ بولی پورب کی طرف چار کوس پر دہی کا مند رہے
تو اس دہی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹے کے دستے تو راجہ سو برس تک ہیطرح سے راج کرے
اور کسی طرح کا خلل راجہ کو نہ ہو یہ بات سنتے ہی بیر براپنے گھر کو چلا اور راجہ بھی اسکے پیچھے دیا
غرض
جب وہ اپنے گھر من آیا تو اپنی جور و کو جگا کر اپنے احوال شرح دار کہا ان نے یہ حوال شن بیٹے کو جگا یا بیٹا
جاگا تب اُس عورت نے کہا کہ میا تمھارے سر دینے سے راجہ کا جی بچنا ہو اور راج بھی قائم رہتا ہو پیشن
وہ بالک ہو اما تا ایک تو آپکا حکم دوسرے
قا کا کام میرے یہ دیوتا کے کام آئے تو اس سے اچھی کوئی
بات دنیا مین نہین ہو مرے نزدیک آب سرکام مین دیر کرنی مناسب نہین ہے کہ بیٹا ہود سے تو اپنے بس کا
اور جسم تندرست علم سے نفع دوست ہو یا عورت علم بردار جو پانچ باتین آدمی کومیترمون توسعه کی
دینے والی اور دکھ کی دور کرنیوالی من اگر نوکر ہے مرضی اور راجہ بخیل اور دوست
کیپٹی اور جو نافرمان ہو تو یہ چار
این امام کو درکی میای این پرپر براپنی ساری سے کہے گا جو اپنی خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تامین نیا
راجہ کے لیے دہی کے آگے ہین ،ان دون وہ بولی مجھے بیٹا بیٹی بھائی بند ان باپ کسی سے کچھ کام نہین ہین
لت تمھین سے ہو اور دھرم شاسترین یون مین لکھا ہو کنداری نہ ان سے سد معہ ہوتی ہونہ بہت سے لنگڑا لولا
ہرا ندیون کا ناکوڑھی کپڑا ایسا ہی اسکا شوہر ہو اسکو اسی کی خدمت کرنے سے فائدہ ہو اگر کسی طرح کا دین ہین
ریا صفت کرے اور خانہ کا حکم نہ انے تو دوزخ مین پڑے اسکا بیٹا بولا یا جس آدمی سر خاوند کا کام سے جنگ بین
اسی کا جینا اچھا ہو اور اسین دونون جہان مین بجا ہو پھر کسی لڑکی بولی جومان دیوے بس لڑکی کواور باپ
سمجھے پوت کو اور راجہ نے سری چھین تو پناہ کسی نے ایسا کہ وہ چارون آپس مین بچار کر کے ویسی کے مندر کو
گئے راجہ بھی چھو کے انکے مجھے چلا جب مین روہان پہونچاتو منہ مین جاری کی ہو جاکر ہاتھ جوڑ کنے لگا ہ ہین
میرے پیر کے بل دینے سے راجہ کی سوبرس کی عمر دو سے تاکی کا ایسا کرنے کا ٹرین پیکر پر بھائی کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
n4vvy6w9zqmtfkguy9g0zfxw1n90saz
31757
31753
2026-03-28T15:20:17Z
Charan Gill
46
31757
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٦|بیتال پچیسی}}</noinclude>جا پہونچا اس مرگھٹ مین جہان رنڈی روتی تھی دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پائون تلک گہنے سے لدی ہوئی ڈاہین مار مار کر روتی ہے کبھی ناچتی کبھی کودتی ہے انکھون مین آنسو ایک نہین مگر سر پیٹ ہائے ہائے کر زمین پر پکنیان کھاتی ہے اسکا یہ احوال دیکھ مین نے پوچھا تو کیون اسقدر روتی پیٹتی ہے اور تجھ پر کا دکھ ہے وہ بولی مین راج لکشمی ہون بیربر نے کہا تو کس لئے روتی ہے پھر اسنے اپنی بیربر سے کہنی شرح کی راجہ کے راج مین شودر کرم ہوتا ہے تیس سے اسکے گھر مین لکشمی آوےگی اور مین اسکے گھر سے جاؤن گی بعد ایک مہینے کے راجہ بہت دکھ پا کے مر جائے گا اس دُکھ سے روتی ہون اور مین نے اسکے گھر مین بہت شُکھ پایا ہے اسواسطے یہ پچھتاوا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹ نہ ہوگی پھر بیرہر نے پوچھا کہ اسکا کچھ
ایسا بھی علاج ہے کہ جس سے راجہ بچے اور سو برس جئے وہ بولی پورب کی طرف چار کوس پر دہبی کا مندر ہے تو اس دیبی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹے کے دے تو راجہ سو برس تک اسطرح سے راج کرے اور کسی طرح کا خلل راجہ کو نہ ہو یہ بات سنتے ہی بیربراپنے گھر کو چلا اور راجہ بھی اسکے پیچھے ہو لیا غرض جب وہ اپنے گھر مین آیا تو اپنی جورو کو جگا کر اپنے احوال شرح وار کہا ان نے یہ احوال شن بیٹے کو جگا یا بیٹے کو جگایا بیٹا جاگا تب اُس عورت نے کہا کہ بیٹا تمھارے سر دینے سے راجہ کا جی بچنا ہے اور راج بھی قائم رہتا ہے یہ شُن وہ بالک بولا ماتا ایک تو آپکا حکم دوسرے آقا کا کام تیسرے یہ دیوتا کے کام آئے تو اس سے اچھی کوئی بات دنیا مین نہین ہے میرے نزدیک اب اس کام مین دیر کرنی مناسب نہین ہے کہ بیٹا ہود سے تو اپنے بس کا
اور جسم تندرست علم سے نفع دوست ہو یا عورت علم بردار جو پانچ باتین آدمی کومیترمون توسعه کی
دینے والی اور دکھ کی دور کرنیوالی من اگر نوکر ہے مرضی اور راجہ بخیل اور دوست
کیپٹی اور جو نافرمان ہو تو یہ چار
این امام کو درکی میای این پرپر براپنی ساری سے کہے گا جو اپنی خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تامین نیا
راجہ کے لیے دہی کے آگے ہین ،ان دون وہ بولی مجھے بیٹا بیٹی بھائی بند ان باپ کسی سے کچھ کام نہین ہین
لت تمھین سے ہو اور دھرم شاسترین یون مین لکھا ہو کنداری نہ ان سے سد معہ ہوتی ہونہ بہت سے لنگڑا لولا
ہرا ندیون کا ناکوڑھی کپڑا ایسا ہی اسکا شوہر ہو اسکو اسی کی خدمت کرنے سے فائدہ ہو اگر کسی طرح کا دین ہین
ریا صفت کرے اور خانہ کا حکم نہ انے تو دوزخ مین پڑے اسکا بیٹا بولا یا جس آدمی سر خاوند کا کام سے جنگ بین
اسی کا جینا اچھا ہو اور اسین دونون جہان مین بجا ہو پھر کسی لڑکی بولی جومان دیوے بس لڑکی کواور باپ
سمجھے پوت کو اور راجہ نے سری چھین تو پناہ کسی نے ایسا کہ وہ چارون آپس مین بچار کر کے ویسی کے مندر کو
گئے راجہ بھی چھو کے انکے مجھے چلا جب مین روہان پہونچاتو منہ مین جاری کی ہو جاکر ہاتھ جوڑ کنے لگا ہ ہین
میرے پیر کے بل دینے سے راجہ کی سوبرس کی عمر دو سے تاکی کا ایسا کرنے کا ٹرین پیکر پر بھائی کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
rzhdwg2b1lccmjraihoo522yxv4t7qe
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/189
250
12792
31754
31243
2026-03-28T14:05:31Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31754
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>مجبور کریں ۔ موقع پاکر اس کی تعریف سے
بھی سیتا جی کو مائل کریں ۔ یہ انتظام کر کے
وہ تو چلا گیا ۔ لیکن راکشن عورتیں تھوڑے
ہی دنوں میں سیتا جی کی نیکی اور شرافت
اور شوہر کی سچی محبت دیکھ کر اُن سے مانوس
ہو گئیں ۔ اور انہیں تکلیف پہنچانے کے بدلے
۔ وہ سیتا جی کودلا سا بھی دیتی رہتی تھیں ۔ ہاں جب را دن آ جاتا تو اُسے دکھانے کے لئے سیتا پر دو چاہے
ر طرح کا آرام دینے آ گھڑ کیاں جما دیتی تھیں :<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
230hl0srmomxibreuu5kv6w31s7it8a
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/190
250
12793
31755
31246
2026-03-28T14:32:09Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31755
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>کِسکندھا کانڈ
(۱) سیتا کی تلاش
رام اور لکشمن سیتا کی تلاش میں کوہ
و بیابان کی خاک چھانتے چلے جاتے تھے ۔
کہ سامنے رشموک پہاڑ نظر آیا ۔ اُس کی
چوٹی پر سگریو اپنے چند وفادار ساتھیوں
کے ساتھ رہا کرتا تھا ۔ یہ شخص کِسکندھا شہر
کے راجہ بالی کا چھوٹا بھائی تھا۔ بالی نے
ایک بات پر ناراض ہو کہ اُسے راج
سے نکال دیا تھا اور اُس کی بیوی تارا
کو اُس سے چھین لیا تھا ۔ سگریو بھاگ کر
اس پہاڑ پر چلا آیا تھا ۔ اور اگر چہ وہ
چُھپ کر رہتا تھا ، پھر بھی اُسے یہ دھڑکا
لگا رہتا تھا کہ کہیں بالی اُس کا پتہ نہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
c9m9ygq82wpu7wjk74zt5jta27muqur
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/191
250
12794
31756
31249
2026-03-28T14:39:24Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31756
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>
لگا لے اور اُسے مارنے کے لئے کسی کو بھیج
نہ دے ۔ اس نے رام اور لکشمن کو تیر اور
کمان لئے گزرتے دیکھا تو روح فنا ہو گئی۔
خیال آیا کہ ہو نہ ہو بالی نے اِن دونو
دلاوروں کو مجھے مارنے کے لئے بھیجا ہے
اپنے وفادار دوست ہنومان سے بولا ' وہی
مجھے تو ان دونو آدمیوں سے ڈر لگتا ہے۔
بالی نے اِنہیں مجھے مارنے کے لئے بھیجا
ہے ۔ اب بتلاؤ کہیں جا کر چھپوں' ؟
ہنومان سگریو کا سچا رفیق تھا ۔ اس
غربت میں اور سب ساتھیوں نے سگریو سے
مُنہ موڑ لیا تھا ۔ اس کی بات بھی نہ پوچھتے
تھے ۔ مگر ہنومان بڑے عقلمند تھے اور جانتے
تھے کہ سچا دوست وہی ہے جو مصیبت میں
ساتھ دئے ۔ اچھے دنوں میں تو دشمن بھی
دوست بن جاتے ہیں ۔ انہوں نے سگریو
کو سمجھایا ۔ آپ اتنا ڈرتے کیوں ہیں ۔ مجھے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
tm6a8cnwgkknze8tg9mlmon9fyjboa3