ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.21
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/17
250
12683
31758
31757
2026-03-29T13:19:26Z
BalramBodhi
60
31758
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٦|بیتال پچیسی}}</noinclude>جا پہونچا اس مرگھٹ مین جہان رنڈی روتی تھی دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پائون تلک گہنے سے لدی ہوئی ڈاہین مار مار کر روتی ہے کبھی ناچتی کبھی کودتی ہے انکھون مین آنسو ایک نہین مگر سر پیٹ ہائے ہائے کر زمین پر ٹپکنیان کھاتی ہے اسکا یہ احوال دکھ بیربر نے پوچھا تو کیون اسقدر روتی پیٹتی ہے اور تجھ پر کیا دکھ ہے وہ بولی مین راج لکشمی ہون بیربر نے کہا تو کس لئے روتی ہے پھر اسنے اپنی بیربر سے کہنی شرح کی راجہ کے راج مین شودر کرم ہوتا ہے تِیس سے اسکے گھر مین لکشمی آوےگی اور مین اسکے گھر سے جاؤن گی بعد ایک مہینے کے راجہ بہت دکھ پا کے مر جائے گا اس دُکھ سے روتی ہون اور مین نے اسکے گھر مین بہت سُکھ پایا ہے اسواسطے یہ پچھتاوا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹ نہ ہوگی پھر بیرہر نے پوچھا کہ اسکا کچھ ایسا بھی علاج ہے کہ جس سے راجہ بچے اور سو برس جیئے وہ بولی پورب کی طرف چار کوس پر دیبی کا مندر ہے تو اس دیبی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹے کے دے تو راجہ سو برس تک اسطرح سے راج کرے اور کسی طرح کا خلل راجہ کو نہ ہو یہ بات سنتے ہی بیربراپنے گھر کو چلا اور راجہ بھی اسکے پیچھے ہو لیا غرض جب وہ اپنے گھر مین آیا تو اپنی جورو کو جگا کر اپنے احوال شرح وار کہا ان نے یہ احوال سُن بیٹے کو جگایا بیٹا جاگا تب اُس عورت نے کہا کہ بیٹا تمھارے سر دینے سے راجہ کا جی بچنا ہے اور راج بھی قائم رہتا ہے یہ سُن وہ بالک بولا ماتا ایک تو آپکا حکم دوسرے آقا کا کام تیسرے یہ دیوتا کے کام آوے تو اس سے اچھی کوئی بات دنیا مین نہین ہے میرے نزدیک اب اس کام مین دیر کرنی مناسب نہین ہے کہ بیٹا ہووے تو اپنے بس کا اور جسم تندرست علم سے نفع دوست ہوشیار عورت ہکم بردار جو یہ پانچ باتین آدمی کو میّسر ہون تو سُکھ کی
دینے والی اور دکھ کی دور کرنیوالی ہین اگر نوکر ہےمرضی اور راجہ بخیل اور دوست کپٹی اور جورو نافرمان ہو تو یہ چار باتیں آرام کو دور کرنیوالی ہین پہر پربراپنی استری سے کہنے لگا جو تو اپنی خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تو مین لیجا راجہ کے لیے دیبی کے آگے بلدان دون وہ بولی مجھے بیٹا بیٹی بھائی بند مان باپ کِسی سے کچھ کام نہین میری گت تمھین سے ہے
اور دھرم شاسترین یون مین لکھا ہو کنداری نہ ان سے سد معہ ہوتی ہونہ بہت سے لنگڑا لولا
ہرا ندیون کا ناکوڑھی کپڑا ایسا ہی اسکا شوہر ہو اسکو اسی کی خدمت کرنے سے فائدہ ہو اگر کسی طرح کا دین ہین
ریا صفت کرے اور خانہ کا حکم نہ انے تو دوزخ مین پڑے اسکا بیٹا بولا یا جس آدمی سر خاوند کا کام سے جنگ بین
اسی کا جینا اچھا ہو اور اسین دونون جہان مین بجا ہو پھر کسی لڑکی بولی جومان دیوے بس لڑکی کواور باپ
سمجھے پوت کو اور راجہ نے سری چھین تو پناہ کسی نے ایسا کہ وہ چارون آپس مین بچار کر کے ویسی کے مندر کو
گئے راجہ بھی چھو کے انکے مجھے چلا جب مین روہان پہونچاتو منہ مین جاری کی ہو جاکر ہاتھ جوڑ کنے لگا ہ ہین
میرے پیر کے بل دینے سے راجہ کی سوبرس کی عمر دو سے تاکی کا ایسا کرنے کا ٹرین پیکر پر بھائی کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
lj69preqkooxxqyu97qal7pb2p25tys
31759
31758
2026-03-29T14:49:44Z
Charan Gill
46
31759
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٦|بیتال پچیسی}}</noinclude>جا پہونچا اس مرگھٹ مین جہان رنڈی روتی تھی دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پائون تلک گہنے سے لدی ہوئی ڈاہین مار مار کر روتی ہے کبھی ناچتی کبھی کودتی ہے انکھون مین آنسو ایک نہین مگر سر پیٹ ہائے ہائے کر زمین پر ٹپکنیان کھاتی ہے اسکا یہ احوال دکھ بیربر نے پوچھا تو کیون اسقدر روتی پیٹتی ہے اور تجھ پر کیا دکھ ہے وہ بولی مین راج لکشمی ہون بیربر نے کہا تو کس لئے روتی ہے پھر اسنے اپنی بیربر سے کہنی شرح کی راجہ کے راج مین شودر کرم ہوتا ہے تِیس سے اسکے گھر مین لکشمی آوےگی اور مین اسکے گھر سے جاؤن گی بعد ایک مہینے کے راجہ بہت دکھ پا کے مر جائے گا اس دُکھ سے روتی ہون اور مین نے اسکے گھر مین بہت سُکھ پایا ہے اسواسطے یہ پچھتاوا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹ نہ ہوگی پھر بیرہر نے پوچھا کہ اسکا کچھ ایسا بھی علاج ہے کہ جس سے راجہ بچے اور سو برس جیئے وہ بولی پورب کی طرف چار کوس پر دیبی کا مندر ہے تو اس دیبی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹے کے دے تو راجہ سو برس تک اسطرح سے راج کرے اور کسی طرح کا خلل راجہ کو نہ ہو یہ بات سنتے ہی بیربراپنے گھر کو چلا اور راجہ بھی اسکے پیچھے ہو لیا غرض جب وہ اپنے گھر مین آیا تو اپنی جورو کو جگا کر اپنے احوال شرح وار کہا ان نے یہ احوال سُن بیٹے کو جگایا بیٹا جاگا تب اُس عورت نے کہا کہ بیٹا تمھارے سر دینے سے راجہ کا جی بچنا ہے اور راج بھی قائم رہتا ہے یہ سُن وہ بالک بولا ماتا ایک تو آپکا حکم دوسرے آقا کا کام تیسرے یہ دیوتا کے کام آوے تو اس سے اچھی کوئی بات دنیا مین نہین ہے میرے نزدیک اب اس کام مین دیر کرنی مناسب نہین ہے کہ بیٹا ہووے تو اپنے بس کا اور جسم تندرست علم سے نفع دوست ہوشیار عورت ہکم بردار جو یہ پانچ باتین آدمی کو میّسر ہون تو سُکھ کی
دینے والی اور دکھ کی دور کرنیوالی ہین اگر نوکر ہےمرضی اور راجہ بخیل اور دوست کپٹی اور جورو نافرمان ہو تو یہ چار باتیں آرام کو دور کرنیوالی ہین پہر پربراپنی استری سے کہنے لگا جو تو اپنی خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تو مین لیجا راجہ کے لیے دیبی کے آگے بلدان دون وہ بولی مجھے بیٹا بیٹی بھائی بند مان باپ کِسی سے کچھ کام نہین میری گت تمھین سے ہے
اور دھرم شاستر مین یون بھی لکھا ہے کہ ناری نہ دان سے سدھ ہوتی ہے نہ بہت سے لنگڑا لولا
ہرا ندیون کا ناکوڑھی کپڑا ایسا ہی اسکا شوہر ہو اسکو اسی کی خدمت کرنے سے فائدہ ہو اگر کسی طرح کا دین ہین
ریا صفت کرے اور خانہ کا حکم نہ انے تو دوزخ مین پڑے اسکا بیٹا بولا یا جس آدمی سر خاوند کا کام سے جنگ بین
اسی کا جینا اچھا ہو اور اسین دونون جہان مین بجا ہو پھر کسی لڑکی بولی جومان دیوے بس لڑکی کواور باپ
سمجھے پوت کو اور راجہ نے سری چھین تو پناہ کسی نے ایسا کہ وہ چارون آپس مین بچار کر کے ویسی کے مندر کو
گئے راجہ بھی چھو کے انکے مجھے چلا جب مین روہان پہونچاتو منہ مین جاری کی ہو جاکر ہاتھ جوڑ کنے لگا ہ ہین
میرے پیر کے بل دینے سے راجہ کی سوبرس کی عمر دو سے تاکی کا ایسا کرنے کا ٹرین پیکر پر بھائی کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
fz5ld72q3t8ty30xnqtmm0l0vrvtzla
31760
31759
2026-03-29T20:39:56Z
Charan Gill
46
31760
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٦|بیتال پچیسی}}</noinclude>جا پہونچا اس مرگھٹ مین جہان رنڈی روتی تھی دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پائون تلک گہنے سے لدی ہوئی ڈاہین مار مار کر روتی ہے کبھی ناچتی کبھی کودتی ہے انکھون مین آنسو ایک نہین مگر سر پیٹ ہائے ہائے کر زمین پر ٹپکنیان کھاتی ہے اسکا یہ احوال دکھ بیربر نے پوچھا تو کیون اسقدر روتی پیٹتی ہے اور تجھ پر کیا دکھ ہے وہ بولی مین راج لکشمی ہون بیربر نے کہا تو کس لئے روتی ہے پھر اسنے اپنی بیربر سے کہنی شرح کی راجہ کے راج مین شودر کرم ہوتا ہے تِیس سے اسکے گھر مین لکشمی آوےگی اور مین اسکے گھر سے جاؤن گی بعد ایک مہینے کے راجہ بہت دکھ پا کے مر جائے گا اس دُکھ سے روتی ہون اور مین نے اسکے گھر مین بہت سُکھ پایا ہے اسواسطے یہ پچھتاوا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹ نہ ہوگی پھر بیرہر نے پوچھا کہ اسکا کچھ ایسا بھی علاج ہے کہ جس سے راجہ بچے اور سو برس جیئے وہ بولی پورب کی طرف چار کوس پر دیبی کا مندر ہے تو اس دیبی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹے کے دے تو راجہ سو برس تک اسطرح سے راج کرے اور کسی طرح کا خلل راجہ کو نہ ہو یہ بات سنتے ہی بیربراپنے گھر کو چلا اور راجہ بھی اسکے پیچھے ہو لیا غرض جب وہ اپنے گھر مین آیا تو اپنی جورو کو جگا کر اپنے احوال شرح وار کہا ان نے یہ احوال سُن بیٹے کو جگایا بیٹا جاگا تب اُس عورت نے کہا کہ بیٹا تمھارے سر دینے سے راجہ کا جی بچنا ہے اور راج بھی قائم رہتا ہے یہ سُن وہ بالک بولا ماتا ایک تو آپکا حکم دوسرے آقا کا کام تیسرے یہ دیوتا کے کام آوے تو اس سے اچھی کوئی بات دنیا مین نہین ہے میرے نزدیک اب اس کام مین دیر کرنی مناسب نہین ہے کہ بیٹا ہووے تو اپنے بس کا اور جسم تندرست علم سے نفع دوست ہوشیار عورت ہکم بردار جو یہ پانچ باتین آدمی کو میّسر ہون تو سُکھ کی
دینے والی اور دکھ کی دور کرنیوالی ہین اگر نوکر ہےمرضی اور راجہ بخیل اور دوست کپٹی اور جورو نافرمان ہو تو یہ چار باتیں آرام کو دور کرنیوالی ہین پہر پربراپنی استری سے کہنے لگا جو تو اپنی خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تو مین لیجا راجہ کے لیے دیبی کے آگے بلدان دون وہ بولی مجھے بیٹا بیٹی بھائی بندھون باپ کِسی سے کچھ کام نہین میری گت تمھین سے ہے اور دھرم شاستر مین یون بھی لکھا ہے کہ ناری نہ دان سے سدھ ہوتی ہے نہ برت سے لنگڑا لولا ہہرا اندھا کانا کوڑھی کبڑا کیسا ہی اسکا شوہر ہو اسکو اسی کی خِدمت کرنے سے فائدہ ہے اگر کِسی طرح کا دنیا مین ریاضت کرے اور خاوند کا حکم نہ مانے تو دوزخ مین پڑے اسکا بیٹا بولا پیا جس آدمی سے خاوند کا کام ہووے جگ مین اسی کا جینا اچھا ہے اور اسمین دونون جہان مین بھلا ہے پھر اُکسی لڑکی بولی جو مان دیوے بس لڑکی کواور باپ پیچھے پوت کو اور راجہ لے سربس چھین تو پناہ کِسکی لے ایسا کہ وہی چارون آپس مین بچار کرکے دیبی کے مندر کو گئے راجہ بھی چھپ کے انکے مجھے چلا جب مین روہان پہونچاتو منہ مین جاری کی ہو جاکر پیچھے چلا جب بیربر کنے وہان پہنچا تو مندر مین جا دیبی کی پوجا کر ہاتھ جوڑ کہنے لگا ہے دیبی میرے پتر کے بل دینے سے راجہ کی سو برس کی عمر ہووے اتنا کہ ایک کھاندا ایسا مارا کہ لڑکے کا سر زمین پر گر پڑا بھائی کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
6k60prxu8cdmydgvih80ce8na4o1182
31767
31760
2026-03-30T07:10:53Z
BalramBodhi
60
31767
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٦|بیتال پچیسی}}</noinclude>جا پہونچا اس مرگھٹ مین جہان رنڈی روتی تھی دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پائون تلک گہنے سے لدی ہوئی ڈاہین مار مار کر روتی ہے کبھی ناچتی کبھی کودتی ہے انکھون مین آنسو ایک نہین مگر سر پیٹ ہائے ہائے کر زمین پر ٹپکنیان کھاتی ہے اسکا یہ احوال دکھ بیربر نے پوچھا تو کیون اسقدر روتی پیٹتی ہے اور تجھ پر کیا دکھ ہے وہ بولی مین راج لکشمی ہون بیربر نے کہا تو کس لئے روتی ہے پھر اسنے اپنی بیربر سے کہنی شرح کی راجہ کے راج مین شودر کرم ہوتا ہے تِیس سے اسکے گھر مین لکشمی آوےگی اور مین اسکے گھر سے جاؤن گی بعد ایک مہینے کے راجہ بہت دکھ پا کے مر جائے گا اس دُکھ سے روتی ہون اور مین نے اسکے گھر مین بہت سُکھ پایا ہے اسواسطے یہ پچھتاوا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹ نہ ہوگی پھر بیرہر نے پوچھا کہ اسکا کچھ ایسا بھی علاج ہے کہ جس سے راجہ بچے اور سو برس جیئے وہ بولی پورب کی طرف چار کوس پر دیبی کا مندر ہے تو اس دیبی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹے کے دے تو راجہ سو برس تک اسطرح سے راج کرے اور کسی طرح کا خلل راجہ کو نہ ہو یہ بات سنتے ہی بیربراپنے گھر کو چلا اور راجہ بھی اسکے پیچھے ہو لیا غرض جب وہ اپنے گھر مین آیا تو اپنی جورو کو جگا کر اپنے احوال شرح وار کہا ان نے یہ احوال سُن بیٹے کو جگایا بیٹا جاگا تب اُس عورت نے کہا کہ بیٹا تمھارے سر دینے سے راجہ کا جی بچنا ہے اور راج بھی قائم رہتا ہے یہ سُن وہ بالک بولا ماتا ایک تو آپکا حکم دوسرے آقا کا کام تیسرے یہ دیوتا کے کام آوے تو اس سے اچھی کوئی بات دنیا مین نہین ہے میرے نزدیک اب اس کام مین دیر کرنی مناسب نہین ہے کہ بیٹا ہووے تو اپنے بس کا اور جسم تندرست علم سے نفع دوست ہوشیار عورت ہکم بردار جو یہ پانچ باتین آدمی کو میّسر ہون تو سُکھ کی
دینے والی اور دکھ کی دور کرنیوالی ہین اگر نوکر ہےمرضی اور راجہ بخیل اور دوست کپٹی اور جورو نافرمان ہو تو یہ چار باتیں آرام کو دور کرنیوالی ہین پہر پربراپنی استری سے کہنے لگا جو تو اپنی خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تو مین لیجا راجہ کے لیے دیبی کے آگے بلدان دون وہ بولی مجھے بیٹا بیٹی بھائی بندھون باپ کِسی سے کچھ کام نہین میری گت تمھین سے ہے اور دھرم شاستر مین یون بھی لکھا ہے کہ ناری نہ دان سے سدھ ہوتی ہے نہ برت سے لنگڑا لولا ہہرا اندھا کانا کوڑھی کبڑا کیسا ہی اسکا شوہر ہو اسکو اسی کی خِدمت کرنے سے فائدہ ہے اگر کِسی طرح کا دنیا مین ریاضت کرے اور خاوند کا حکم نہ مانے تو دوزخ مین پڑے اسکا بیٹا بولا پتا جس آدمی سے خاوند کا کام ہووے جگ مین اسی کا جینا اچھا ہے اور اسمین دونون جہان مین بھلا ہے پھر اُسکی لڑکی بولی جو مان دیوے بس لڑکی کواور باپ پیچھے پوت کو اور راجہ لے سربس چھین تو پناہ کِسکی لے ایسا کہ وہی چارون آپس مین بچار کرکے دیبی کے مندر کو گئے راجہ بھی چھپ کے انکے پیچھے چلا جب بیربر وہان پہونچا تو مندر مین جا دیبی کی پوجا کر ہاتھ جوڑ کہنے لگا ہے دیبی میرے پتر کے بل دینے سے راجہ کی سو برس کی عمر ہووے اتنا کہ ایک کھانڈا ایسا مارا کہ لڑکے کا سر زمین پر گر پڑا بھائی کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
e7zmxx6epy980e68qkj8hsljfzrtkrw
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/18
250
12684
31761
30753
2026-03-29T23:17:56Z
Charan Gill
46
31761
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٧|}}</noinclude>لڑکی نے اپنے گلے مین ایک کھرگ مارا تو جِسم سے گردن کٹ کر گر پڑی بیٹے بیٹی کو مردہ دیکھ بیربر کی عورت نے
بھی طلوار اپنی گردن پر ماری کہ دھڑ سے سر جدا ہو گیا پھران میون کا مزا دیکھ بیربر اپنے جی مین سوچ کر کہنے لگا جب لڑکے مر گئے تو نوکری کِسکے واسطے کرون گا اور سونا راجہ سے لیکر کِسے دون گا یہ سوچ کر ایک شمشیر ایسی اپنی گردن پر باری کہ سر تن سے جُدا ہو گیا پھران چارون کا مزا دیکھ راجہ نے اپنے دل مین کہا کہ میرے واسطے
سکی جان گئی اب ایسے راج کرنے کو لعنت ہو کہ جس راج کے لئے ایک خانداُن چارون کا مرنا دیکھ راجہ نے اپنے دِل میں کہا کہمیرے واسطے اسکی جان گئی آب ایسے راج کرنے کو لعنت جس راج کے لئے ایک خاندان کا ناس ہووے اور ایک راج کرے ایسا راج کرنا دھرم نہی ہے یہ بچار کر راجہ نے چاہا کہ کھانڈا مار کر مر جاون اتنے مین دینی نے
کے ہاتھ پکڑ لیا اور کہاکہ بٹا مجھے تیری بہت سے خوشی ہوئی جو تو مجھ سے برمائے سومین دون راجہ نے کہا
ما تا جو تو خوش ہوئی ہو تو ان چارون کو جلا دے دیبی نے کہا ہی ہوگا اور یہ کہتے ہی بھوانی نے پاتال سے
اجرت لا کر چارون کو جلا دیا بعد اسکے راجہ نے اپنا آدھا سیر کو انٹ دیا اتنی بات کہکر بیتا بولا
شاباش ہو اس نوکر کو کہ جس نے مالک کے لیے اپن جواد کتب کا دریغ نہ کیا اور دھن پر اس راجہ کو جینے
اج اور اپنے جی کا لابی نہ کیا جنہین تم سے پوچھتا ہون کہ ن پانچون مین کس کا کام ڑ کر بات بالجہ
بکرما جیت بولا کہ راجہ کا کام بہت بڑھکر موا قتال بولا کیس کا رن تب راجہ نے جواب دیا کہ مالک کے
واسے یمی دنیا چاکر کولازم ہو کیونکہ اسکا یہی دھرم بر لیکن راجہ نے جوچا کر کے لیے راج پاٹ چھوڑ
جان
کو نسکے برابر نہ جانا اس باعث راجہ کا است سوا ہوا اتنی بات سُن بیتال اسی درخت مین جان کا
راجہ پھر وہان جابتیال
کو باندھا کیالیا
چوٹی کہانی ]
تب بیتال بولا کہ اسے راجہ بھوگ وتی نام ایک نگری ہو وہان
کا راجہ روپ سین ہو اور چورا من نام
ایک طوطا اسکے پاس ہو ایک دن اس طوطے سے راجہ نے پوچھا تو کیا کیا جانتا ہو تب طوطا بولا کہ مارا
مین سب کچھ جانتا ہون راجہ نے کہا جو تو جانتا ہو تو تا کہ میری برابر خو بصورت عورت کہان ہر تباس
طوطے نے کہا مہا راج مردہ مین صوبہ بہار نام من مد عیش نام راجہ ہو اور اسی بیٹی کا نام چندرا وتی ہی
تمھاری شادی اسکے ساتھ ہوگی وہ بڑی خوبصورت ہو اور بہت پڑھی لکھی ہو راجہ نے طوطے سے یہ بات
سنکر ایک چند کرات نام خوشی کو لاکر پوچھا کہ ہمارا یا کس کیا سے ہوگا اس نے بھی اپنے بوم منو معلوم
کر کے کہا چند راوتی نام ایک کیسا ہو اسکے ساتھ تھار مین شادی ہوگی یہ بات شکر راجہ
راجہ نے ایک پر مین کھو
بلو اسب کچھ سمجھا راجہ مگر ھیشر کے پاس بھیجنے کے وقت یہ کہا کہ اگر مہارے بیاہ کی بات بھی کرآؤ گے تو ہم
تعطین خوش
کر دینگے یہ بات سنکر یری مین رخصت ہوا وہان نگر میشر راجہ کی بیٹی کے پاس ایک نیا تھی اسکانام
(2)<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
158pckqyhfzrvq6xod79394yr4oedsp
31762
31761
2026-03-29T23:57:09Z
Charan Gill
46
31762
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٧|}}</noinclude>لڑکی نے اپنے گلے مین ایک کھرگ مارا تو جِسم سے گردن کٹ کر گر پڑی بیٹے بیٹی کو مردہ دیکھ بیربر کی عورت نے
بھی طلوار اپنی گردن پر ماری کہ دھڑ سے سر جدا ہو گیا پھران میون کا مزا دیکھ بیربر اپنے جی مین سوچ کر کہنے لگا جب لڑکے مر گئے تو نوکری کِسکے واسطے کرون گا اور سونا راجہ سے لیکر کِسے دون گا یہ سوچ کر ایک شمشیر ایسی اپنی گردن پر باری کہ سر تن سے جُدا ہو گیا پھران چارون کا مزا دیکھ راجہ نے اپنے دل مین کہا کہ میرے واسطے
سکی جان گئی اب ایسے راج کرنے کو لعنت ہو کہ جس راج کے لئے ایک خانداُن چارون کا مرنا دیکھ راجہ نے اپنے دِل میں کہا کہمیرے واسطے اسکی جان گئی آب ایسے راج کرنے کو لعنت جس راج کے لئے ایک خاندان کا ناس ہووے اور ایک راج کرے ایسا راج کرنا دھرم نہی ہے یہ بچار کر راجہ نے چاہا کہ کھانڈا مار کر مر جاوُن اتنے مین دیبی نے آکے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ بیٹا مجھے تیری ہمت سے خوشی ہوئی جو تو مجھ سے بر مانگے سو مین دون راجہ نے کہا ماتا جو تو خوش ہوئی ہے تو ان چارون کو جلا دے دیبی نے کہا بہی ہوگا اور یہ کہتے ہی بھوانی نے پاتال سے اجرت لا کر چارون کو جلا دیا بعد اسکے راجہ نے اپنا آدھا سیر کو انٹ دیا اتنی بات کہکر بیتا بولا
شاباش ہو اس نوکر کو کہ جس نے مالک کے لیے اپن جواد کتب کا دریغ نہ کیا اور دھن پر اس راجہ کو جینے
اج اور اپنے جی کا لابی نہ کیا جنہین تم سے پوچھتا ہون کہ ن پانچون مین کس کا کام ڑ کر بات بالجہ
بکرما جیت بولا کہ راجہ کا کام بہت بڑھکر موا قتال بولا کیس کا رن تب راجہ نے جواب دیا کہ مالک کے
واسے یمی دنیا چاکر کولازم ہو کیونکہ اسکا یہی دھرم بر لیکن راجہ نے جوچا کر کے لیے راج پاٹ چھوڑ
جان
کو نسکے برابر نہ جانا اس باعث راجہ کا است سوا ہوا اتنی بات سُن بیتال اسی درخت مین جان کا
راجہ پھر وہان جابتیال
کو باندھا کیالیا
چوٹی کہانی ]
تب بیتال بولا کہ اسے راجہ بھوگ وتی نام ایک نگری ہو وہان
کا راجہ روپ سین ہو اور چورا من نام
ایک طوطا اسکے پاس ہو ایک دن اس طوطے سے راجہ نے پوچھا تو کیا کیا جانتا ہو تب طوطا بولا کہ مارا
مین سب کچھ جانتا ہون راجہ نے کہا جو تو جانتا ہو تو تا کہ میری برابر خو بصورت عورت کہان ہر تباس
طوطے نے کہا مہا راج مردہ مین صوبہ بہار نام من مد عیش نام راجہ ہو اور اسی بیٹی کا نام چندرا وتی ہی
تمھاری شادی اسکے ساتھ ہوگی وہ بڑی خوبصورت ہو اور بہت پڑھی لکھی ہو راجہ نے طوطے سے یہ بات
سنکر ایک چند کرات نام خوشی کو لاکر پوچھا کہ ہمارا یا کس کیا سے ہوگا اس نے بھی اپنے بوم منو معلوم
کر کے کہا چند راوتی نام ایک کیسا ہو اسکے ساتھ تھار مین شادی ہوگی یہ بات شکر راجہ
راجہ نے ایک پر مین کھو
بلو اسب کچھ سمجھا راجہ مگر ھیشر کے پاس بھیجنے کے وقت یہ کہا کہ اگر مہارے بیاہ کی بات بھی کرآؤ گے تو ہم
تعطین خوش
کر دینگے یہ بات سنکر یری مین رخصت ہوا وہان نگر میشر راجہ کی بیٹی کے پاس ایک نیا تھی اسکانام
(2)<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
4hwddbc90e75mtpmu7o9hfgob8amcg6
31763
31762
2026-03-30T00:12:11Z
Charan Gill
46
31763
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٧|}}</noinclude>لڑکی نے اپنے گلے مین ایک کھرگ مارا تو جِسم سے گردن کٹ کر گر پڑی بیٹے بیٹی کو مردہ دیکھ بیربر کی عورت نے
بھی طلوار اپنی گردن پر ماری کہ دھڑ سے سر جدا ہو گیا پھران میون کا مزا دیکھ بیربر اپنے جی مین سوچ کر کہنے لگا جب لڑکے مر گئے تو نوکری کِسکے واسطے کرون گا اور سونا راجہ سے لیکر کِسے دون گا یہ سوچ کر ایک شمشیر ایسی اپنی گردن پر باری کہ سر تن سے جُدا ہو گیا پھران چارون کا مزا دیکھ راجہ نے اپنے دل مین کہا کہ میرے واسطے
سکی جان گئی اب ایسے راج کرنے کو لعنت ہو کہ جس راج کے لئے ایک خانداُن چارون کا مرنا دیکھ راجہ نے اپنے دِل میں کہا کہمیرے واسطے اسکی جان گئی آب ایسے راج کرنے کو لعنت جس راج کے لئے ایک خاندان کا ناس ہووے اور ایک راج کرے ایسا راج کرنا دھرم نہی ہے یہ بچار کر راجہ نے چاہا کہ کھانڈا مار کر مر جاوُن اتنے مین دیبی نے آکے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ بیٹا مجھے تیری ہمت سے خوشی ہوئی جو تو مجھ سے بر مانگے سو مین دون راجہ نے کہا ماتا جو تو خوش ہوئی ہے تو ان چارون کو جلا دے دیبی نے کہا بہی ہوگا اور یہ کہتے ہی بھوانی نے پاتال سے اجرت لا کر چارون کو جلا دیا بعد اسکے راجہ نے اپنا آدھا سیر کو انٹ دیا اتنی بات کہکر بیتا بولا
شاباش ہو اس نوکر کو کہ جس نے مالک کے لیے اپن جواد کتب کا دریغ نہ کیا اور دھن پر اس راجہ کو جینے
اج اور اپنے جی کا لابی نہ کیا جنہین تم سے پوچھتا ہون کہ ن پانچون مین کس کا کام ڑ کر بات بالجہ
بکرما جیت بولا کہ راجہ کا کام بہت بڑھکر موا قتال بولا کیس کا رن تب راجہ نے جواب دیا کہ مالک کے
واسے یمی دنیا چاکر کولازم ہو کیونکہ اسکا یہی دھرم بر لیکن راجہ نے جوچا کر کے لیے راج پاٹ چھوڑ
جان کو نسکے برابر نہ جانا اس باعث راجہ کا است سوا ہوا اتنی بات سُن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا
راجہ پھر وہان جا بتیال کو باندھکر لیچلا
<big>چوٹی کہانی</big>
تب بیتال بولا کہ اسے راجہ بھوگ وتی نام ایک نگری ہو وہان
کا راجہ روپ سین ہو اور چورا من نام
ایک طوطا اسکے پاس ہو ایک دن اس طوطے سے راجہ نے پوچھا تو کیا کیا جانتا ہو تب طوطا بولا کہ مارا
مین سب کچھ جانتا ہون راجہ نے کہا جو تو جانتا ہو تو تا کہ میری برابر خو بصورت عورت کہان ہر تباس
طوطے نے کہا مہا راج مردہ مین صوبہ بہار نام من مد عیش نام راجہ ہو اور اسی بیٹی کا نام چندرا وتی ہی
تمھاری شادی اسکے ساتھ ہوگی وہ بڑی خوبصورت ہو اور بہت پڑھی لکھی ہو راجہ نے طوطے سے یہ بات
سنکر ایک چند کرات نام خوشی کو لاکر پوچھا کہ ہمارا یا کس کیا سے ہوگا اس نے بھی اپنے بوم منو معلوم
کر کے کہا چند راوتی نام ایک کیسا ہو اسکے ساتھ تھار مین شادی ہوگی یہ بات شکر راجہ
راجہ نے ایک پر مین کھو
بلو اسب کچھ سمجھا راجہ مگر ھیشر کے پاس بھیجنے کے وقت یہ کہا کہ اگر مہارے بیاہ کی بات بھی کرآؤ گے تو ہم
تعطین خوش
کر دینگے یہ بات سنکر یری مین رخصت ہوا وہان نگر میشر راجہ کی بیٹی کے پاس ایک نیا تھی اسکانام
(2)<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
c9deq450vc3bl0co7lnwsgoiu37kmum
31766
31763
2026-03-30T06:59:06Z
Charan Gill
46
31766
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٧|}}</noinclude>لڑکی نے اپنے گلے مین ایک کھرگ مارا تو جِسم سے گردن کٹ کر گر پڑی بیٹے بیٹی کو مردہ دیکھ بیربر کی عورت نے
بھی طلوار اپنی گردن پر ماری کہ دھڑ سے سر جدا ہو گیا پھران میون کا مزا دیکھ بیربر اپنے جی مین سوچ کر کہنے لگا جب لڑکے مر گئے تو نوکری کِسکے واسطے کرون گا اور سونا راجہ سے لیکر کِسے دون گا یہ سوچ کر ایک شمشیر ایسی اپنی گردن پر باری کہ سر تن سے جُدا ہو گیا پھران چارون کا مزا دیکھ راجہ نے اپنے دل مین کہا کہ میرے واسطے
سکی جان گئی اب ایسے راج کرنے کو لعنت ہو کہ جس راج کے لئے ایک خانداُن چارون کا مرنا دیکھ راجہ نے اپنے دِل میں کہا کہمیرے واسطے اسکی جان گئی آب ایسے راج کرنے کو لعنت جس راج کے لئے ایک خاندان کا ناس ہووے اور ایک راج کرے ایسا راج کرنا دھرم نہی ہے یہ بچار کر راجہ نے چاہا کہ کھانڈا مار کر مر جاوُن اتنے مین دیبی نے آکے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ بیٹا مجھے تیری ہمت سے خوشی ہوئی جو تو مجھ سے بر مانگے سو مین دون راجہ نے کہا ماتا جو تو خوش ہوئی ہے تو ان چارون کو جلا دے دیبی نے کہا بہی ہوگا اور یہ کہتے ہی بھوانی نے پاتال سے اجرت لا کر چارون کو جلا دیا بعد اسکے راجہ نے اپنا آدھا سیر کو انٹ دیا اتنی بات کہکر بیتا بولا
شاباش ہے اس نوکر کو کہ جس نے مالک کے لیے اپن جیواور کٹمب کا دریغ نہ کیا اور دھن ہے اس راجہ کو جسنے
راج اور اپنے جی کا لالچ نہ کیا راجہ میں تم سے پوچھتا ہون کہ ان پانچون مین کس کا کام بہت بڑھ کر ہوا تب راجہ
بکرما جیت بولا کہ راجہ کا کام بہت بڑھکر ہوا بیتال بالا کِس کارن تب راجہ نے جواب دیا کہ مالک کے
واسطے جی دینا چاکر کو لازم ہے کیونکہ اسکا یہی دھرم ہے لیکن راجہ نے جو چاکر کے لیے راج پاٹ چھوڑ
جان کو نسکے برابر نہ جانا اس باعث راجہ کا است سوا ہوا اتنی بات سُن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا
راجہ پھر وہان جا بتیال کو باندھکر لیچلا
<big>چوٹی کہانی</big>
تب بیتال بولا کہ اسے راجہ بھوگ وتی نام ایک نگری ہو وہان
کا راجہ روپ سین ہو اور چورا من نام
ایک طوطا اسکے پاس ہو ایک دن اس طوطے سے راجہ نے پوچھا تو کیا کیا جانتا ہو تب طوطا بولا کہ مارا
مین سب کچھ جانتا ہون راجہ نے کہا جو تو جانتا ہو تو تا کہ میری برابر خو بصورت عورت کہان ہر تباس
طوطے نے کہا مہا راج مردہ مین صوبہ بہار نام من مد عیش نام راجہ ہو اور اسی بیٹی کا نام چندرا وتی ہی
تمھاری شادی اسکے ساتھ ہوگی وہ بڑی خوبصورت ہو اور بہت پڑھی لکھی ہو راجہ نے طوطے سے یہ بات
سنکر ایک چند کرات نام خوشی کو لاکر پوچھا کہ ہمارا یا کس کیا سے ہوگا اس نے بھی اپنے بوم منو معلوم
کر کے کہا چند راوتی نام ایک کیسا ہو اسکے ساتھ تھار مین شادی ہوگی یہ بات شکر راجہ
راجہ نے ایک پر مین کھو
بلو اسب کچھ سمجھا راجہ مگر ھیشر کے پاس بھیجنے کے وقت یہ کہا کہ اگر مہارے بیاہ کی بات بھی کرآؤ گے تو ہم
تعطین خوش
کر دینگے یہ بات سنکر یری مین رخصت ہوا وہان نگر میشر راجہ کی بیٹی کے پاس ایک نیا تھی اسکانام
(2)<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
kovz36f32zr4pwg556e98vnkoay4eyq
31768
31766
2026-03-30T07:28:48Z
BalramBodhi
60
31768
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٧|}}</noinclude>لڑکی نے اپنے گلے مین ایک کھرگ مارا تو جِسم سے گردن کٹ کر گر پڑی بیٹے بیٹی کو مردہ دیکھ بیربر کی عورت نے بھی طلوار اپنی گردن پر ماری کہ دھڑ سے سر جدا ہو گیا پھر اُن تیون کا مرنا دیکھ بیربر اپنے جی مین سوچ کر کہنے لگا جب لڑکے مر گئے تو نوکری کِسکے واسطے کرون گا اور سونا راجہ سے لیکر کِسے دون گا یہ سوچ کر ایک شمشیر ایسی اپنی گردن پر ماری کہ سر تن سے جُدا ہو گیا پھر اُن چارون کا مرنا دیکھ راجہ نے اپنے دل مین کہا کہ میرے واسطے اسکی جان گئی اب ایسے راج کرنے کو لعنت ہو کہ جس راج کے لئے ایک خانداُن کا ناس ہو وے اور ایک راج کرے ایسا راج کرنا دھرم نہی ہے یہ بچار کر راجہ نے چاہا کہ کھانڈا مار کر مر جاوُن اتنے مین دیبی نے آکے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ بیٹا مجھے تیری ہمت سے خوشی ہوئی جو تو مجھ سے بر مانگے سو مین دون راجہ نے کہا ماتا جو تو خوش ہوئی ہے تو اِن چارون کو جلا دے دیبی نے کہا یہی ہوگا اور یہ کہتے ہی بھوانی نے پاتال سے امرت لا کر چارون کو جلا دیا بعد اسکے راجہ نے اپنا آدھا راج بیربر کو بانٹ دیا اتنی بات کہکر بیتال بولا
شاباش ہے اس نوکر کو کہ جس نے مالک کے لیے اپنے جیو اور کٹمب کا دریغ نہ کیا اور دھن ہے اس راجہ کو جسنے راج اور اپنے جی کا لالچ نہ کیا راجہ مین تم سے پوچھتا ہون کہ ان پانچون مین کس کا کام بڑھ کر ہوا تب راجہ بکرماجیت بولا کہ راجہ کا کام بہت بڑھکر ہوا بیتال بالا کِس کارن تب راجہ نے جواب دیا کہ مالک کے واسطے جی دینا چاکر کو لازم ہے کیونکہ اسکا یہی دھرم ہے لیکن راجہ نے جو چاکر کے لیے راج پاٹ چھوڑ جان کو تنکے برابر نہ جانا اس باعث راجہ کا ست سوا ہوا اتنی بات سُن بیتال اسی درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا بتیال کو باندھکر لیچلا
<big>چوٹی کہانی</big>
تب بیتال بولا کہ اسے راجہ بھوگ وتی نام ایک نگری ہو وہان
کا راجہ روپ سین ہو اور چورا من نام
ایک طوطا اسکے پاس ہو ایک دن اس طوطے سے راجہ نے پوچھا تو کیا کیا جانتا ہو تب طوطا بولا کہ مارا
مین سب کچھ جانتا ہون راجہ نے کہا جو تو جانتا ہو تو تا کہ میری برابر خو بصورت عورت کہان ہر تباس
طوطے نے کہا مہا راج مردہ مین صوبہ بہار نام من مد عیش نام راجہ ہو اور اسی بیٹی کا نام چندرا وتی ہی
تمھاری شادی اسکے ساتھ ہوگی وہ بڑی خوبصورت ہو اور بہت پڑھی لکھی ہو راجہ نے طوطے سے یہ بات
سنکر ایک چند کرات نام خوشی کو لاکر پوچھا کہ ہمارا یا کس کیا سے ہوگا اس نے بھی اپنے بوم منو معلوم
کر کے کہا چند راوتی نام ایک کیسا ہو اسکے ساتھ تھار مین شادی ہوگی یہ بات شکر راجہ
راجہ نے ایک پر مین کھو
بلو اسب کچھ سمجھا راجہ مگر ھیشر کے پاس بھیجنے کے وقت یہ کہا کہ اگر مہارے بیاہ کی بات بھی کرآؤ گے تو ہم
تعطین خوش
کر دینگے یہ بات سنکر یری مین رخصت ہوا وہان نگر میشر راجہ کی بیٹی کے پاس ایک نیا تھی اسکانام
(2)<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
apkiag7lfw4cdtyuxsoyr86t8agpetr
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/192
250
12795
31764
31252
2026-03-30T04:05:08Z
Kaur.gurmel
74
31764
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اِن دونو آدمیوں کے چھرے سے معلوم ہوتا
ہے کہ یہ بہت شریف اور رحمدل ہیں ۔
میں ابھی ان کے پاس جاکر ان کا حال
دریافت کرتا ہوں :
یہ کہ کر ہنومان نے ایک برہمن کا بھیس
بنایا۔ ماتھے پر ٹیکہ لگایا جنیو پہنا پوتھی
'
بغل میں دبائی اور لاٹھی ٹیکتے ہوئے رامچندر
کے پاس جاکر بولے، آپ لوگ یہاں کہاں
سے آ رہے ہیں؟ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا
ہے کہ آپ لوگ پرویسی ہیں اور شاید آپ
کا کوئی ساتھی کھو گیا ہے+
رام چندر نے کہا ہاں دیوتا جی، آپ کا
خیال درست ہے ۔ ہم لوگ پردیسی ہیں۔
قسمت کے مارے اجودھیا کا راج چھوڑ
کر یہاں جنگلوں کی خاک چھان رہے
ہیں۔ اس پر نئی مصیبت یہ پڑی کہ
کوئی میری بیوی سیتا کو بھی اُٹھا لے گیا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ddgz2ndpoo817r94junpfjdvdjm0rux
31765
31764
2026-03-30T06:34:18Z
Kaur.gurmel
74
31765
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اِن دونو آدمیوں کے چہرے سے معلوم ہوتا
ہے کہ یہ بہت شریف اور رحمدِل ہیں ۔
میں ابھی اِن کے پاس جاکر ان کا حال
دریافت کرتا ہوں.
یہ کہ کر ہنومان نے ایک برہمن کا بھیس
بنایا۔ ماتھے پر ٹیکہ لگایا جنیو پہنا پوتھی
بغل میں دبائی اور لاٹھی ٹیکتے ہوئے رامچندر
کے پاس جاکر بولے، آپ لوگ یہاں کہاں
سے آ رہے ہیں؟ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا
ہے کہ آپ لوگ پرویسی ہیں اور شاید آپ
کا کوئی ساتھی کھو گیا ہے.
رام چندر نے کہا 'ہاں دیوتا جی، آپ کا
خیال درست ہے ۔ ہم لوگ پردیسی ہیں۔
قِسمت کے مارے اجودھیا کا راج چھوڑ
کر یہاں جنگلوں کی خاک چھان رہے
ہیں۔ اس پر نئی مصیبت یہ پڑی کہ
کوئی میری بیوی سیتا کو بھی اُٹھا لے گیا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ppwe6hojcqs4n3r6nv3d7id7msb1bwq