ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.22
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/19
250
12685
31780
31774
2026-04-01T16:23:45Z
BalramBodhi
60
31780
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٨|بیتال پچیسی}}</noinclude>
مدن منجری تھا اسی طرح اس راج کنیا نے بھی ایک دن مدنمجری سے پوچھا کہ میرے لائق شوہر کہان ہے تب مینا بولی بھوگوتی نگری کا راجہ روپ سین ہے سو تیرا شوہر ہوگا غرض کہ بغیر دیکھے ہی ایک کا ایک فریفتہ ہوا کچھ دنون کے بعد وہ برہمن وہان جا پہونچا اور اس راجہ سے اپنے راجہ کا پیغام کہا اسنے بھی ان کی بات مانی اور اپنا ایک برہمن بلوا اسنے ٹیکا اور سب رسوم کی چیزین سونپ اس برہمن کے ساتھ بھیجا اور یہ کہدیاکہ تم ہماری طرف سے جاکر بنتی کر راجہ کو ٹیکا دے کر جلدی چلے آؤ جب تم آؤگے
'''راجہ روپ سین کا شادی کیلئے برات لیکر جانا'''
تب ہم شادی کی تیاری کرینگے القِصّہ یہ دونون برہمن وہان سے چلے کچھ دنون مین راجہ روپ سین کے پاس آپہونچے اور سب حال وہان کا کہا یہ راجہ خوش ہو کر سب تیاری کر بیاہ کرنے کو چلا بعد چند روز کے اس دیس مین پہونچ شادی کر جنیر وغیرہ لے راجہ سے بدا ہو اپنے دیس کو واپس ہوا راج کینا نے بھی چلتے وقت مدن منجری کا پنجرہ ساتھ لے لیا کتنے دنون کے پیچھے اپنے دیس مین آ پہونچے اور سکھ چین سے اپنے محل مین رہنے لگے ایک دن کی بات ہے کہ طوطا اور مینا کے دونون پنجرے گدّی کے پاس رکھے تھے کہ راجہ رانی آپسمین کہنے لگے اکیلے رہنے سے کسی کا دن نہین کٹتا اس سے بہتر ہوتا کہ طوطا اور مینا کی آپسمین شادی کر کے دونون کو ایک پنجرے مین رکھ دیا جاوے تو یہ بھی خوشی سے رہین آپسمین اسطور کی باتین کر ایک بڑا پنجرہ منگوا دونون کو آپسمین رکھا چند روز کے بعد راجہ رائی آپسمین بیٹھ کچھ باتین کرتے تھے کہ طوطا مینا سے کہنے لگا کہ دنیا مین بھوگ اصل ہے اور جسنے جگت مین پیدا ہو کر بھوگ نہین کیا اسکی زندگی بیکار گئی اس سے تو مجھے بھوگ کرنے دے یہ سنکر مینا بولی مجھے مرد کی خواہش نہین جب اسے پوچھا کِس لیے مینا بولی کہ مرد پاپی ادھرمی دغاباز استری کے ہتیا کرنے والے ہوتے ہین یہ سنکر طوطے نے کہا کہ عورت بھی دغاباز جھوٹی بیوقوف لالچی ہتیاری ہوتی ہے جب اسطرح بے دونون جھگڑنے لگے تو راجہ نے پوچھا تم کسواسطے آپس مین جھگڑتے ہو مینا بولی مہاراج مرد عورت کی ہتیا کرنے والے ہوتے ہین اسواسطے مجھے مرد کی چاہ نہین مہاراج مین ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
cs09bdt4m2kbuvsx2xc0gz5kh7k7h9n
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/20
250
12686
31782
31775
2026-04-01T17:36:03Z
Charan Gill
46
31782
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /> {{rh|بیتال پچیسی|١٩|}}</noinclude>بات کہتی ہوں آپ سننے کہ مرد ایسے ہوتے ہین ایلا پور نام ایک نگر ہے وہان ایک بڑا مالدار سیٹھ تھا اس کے
اولاد نہ ہوتی تھی وہ اسواسطے ہمیشہ تیرتھ برت کرتا اور ہمیشه پران سنتا برہمنوں کو بہت سی خیرات دیا کرتا
غرض کتنی مرّت میں بھگوان کی مرضی سے اس سیٹھ کے ایک لڑکا پیدا ہوا ان نے بڑی دھوم سے اس کی شادی کی اور برہمن بھائیوں کو بہت سا دان دیا اور بھوکے پیاسے کنگالوں کو بھی بہت کچھ دیا جبکہ وہ پانچ برس کا ہوا تو اسے پڑھنے کو بٹھایا اور وہ یہان سے تو پڑھنے کو جاتا لیکن وہان جا کر لڑکوں میں جوا کھیلا کرتا بعد چند روز کے وہ سیٹھ مر گیا اور یہ آزاد ہوا دن کو تو جوا کھیلا کرتا اور رات کو رنڈی بازی اسی طرح
سے کئی برس مین اپنا سارا دھن کھو ناچار ہو دیس سے نکل خراب ہوتا ہوا چندرپور نگر مین جا پہونچا وبان ہیم گپت نام ایک ساہوکار تھا اس کے بہت دولت تھی یہ اسکے پاس گیا اور اپنے باپ کا نام و نشان بتایا وہ سنتے ہیں خوش ہوا اس سے اٹھکر ملا اور پوچھا تمھارا آنا کیونکر ہوا تب یہ بولا مین جہاز لے ایک ٹاپو مین سوداگری کو گیا تھا اور وہان جا اس مال کو بیچ اور مال کی بھرتی کر جہاز لے اپنے دیس کو چلا ناگہان ایک ایسا طوفان آیا کہ جہاز تباہ ہو گیا اور میں ایک تختے میں بیٹھ کر بہتا بہتا بہان آپہونچا اب شرم آتی ہے کہ مال دولت تو سب جاتی ریہی ایسی حالت میں اپنے شہر کے لوگوں کو کیا منھ جا کر دکھاؤون غرض جب اس طرح کی باتیں اسکے آگے کین تب وہ بھی من میں بچارنے لگا کہ میری فکر بھگوان نے گھر بیٹھے ہی مٹا دی اور ایسا سنجوگ بھاگوان ہی کی کریا سے بن پڑتا ہے اب دیر کرنا مناِسب نہیں سب سے بہتر یہ ہے کہ کنیا کے ہاتھ پیلے کر دیجے جو کچھ اسوقت ہو بہتر ہے اور کل کی کسے خبر ِہے ایسا کچھ اپنے جی میں منصوبہ باندھ سیٹھنی کے پاس آکہنے لگا کہ ایک میٹھے
کا لڑکا آیا ہے جو تم کہو تو رتناوتی کا بیاہ اس سے کردون وہ بھی یہ سن خوش ہو بولی کہ ساہ جی ایسا سنجوگ جب بھگوان بناتا ہے تب بنتا ہے کیونکہ گھر بیٹھے من کی خواہش پوری ہوئی اس سے بہتر یہ ہے کہ دیر مت کرو اور جلد پروہت کو بلوا شُبھ لگن شدهوا شادی کر دو تب اس سیٹھ نے برہمن کو بلا شُبھ لگن مہورت ٹھہرائی کنیا دان کو بہت سا جہیز دیا غرض جب بیاہ ہو چکا تو وہین باہم رہنے لگے پھر کتنے ایک دنوں کے پیچھے ساہ کی بیٹی سے اُن نے کہا ہمیں تمھارے دیس میں آئے ہوئے بہت دن ہو گئے اور اپنے گھر بار کی کچھ خبر نہین اس سے ہمارا چت بہت اداس رہتا ہے میں نے سب احوال اپنا تم سے کہا اب تمھیں یہ چاہیے کہ اپنی مان سے اس طرح سمجھا کر کہو کہ وہ راضی ہو ہمین بدا کریں تو ہم اپنے شہر کو جاوین تمھاری مرضی ہو تو تم بھی چلو ان نے اپنی ماں سے کہا کہ بالم ہمارے دیں کو جانا چاہتے ہیں اب تم وہ کرو جسمین ان کے جی کو دکھ نہ ہووے سیٹھانی نے اپنے خاوند کے پاس جاکر کہا تمھارا داماد گھر جانے کی اجازت مانگتا ہے یہ شنکر ساہ بولا اچھا بدا کر دینگے کیونکہ برانے پوت پر کچھ اپنا زور نہیں چلتا جسمین اسکی خوشی ہوگی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
lpxwb9vsm6jgwq6feo1o2xul5nmk9fi
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/21
250
12687
31783
31778
2026-04-01T18:37:36Z
Charan Gill
46
31783
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٠|بیتال پچیسی}}</noinclude>وی ہم کرینگے یہ کہہ اپنی بیٹی کو لاکر پوچھ تم اپنی بات کہو سُسرال جاؤگی یا نیہر مین رہوگی اسمین لڑکی نے شرما کے کچھ جواب نہ دیا الٹی پھر آئی اور اپنے خاوند سے آکر کہا کہ ہمارے ماتا پتا کہہ چکے ہین کہ جس مین انکی خوشی ہوگی وہ ہم کرینگے تو ہمین مت چھوڑ جائیو غرض اس سیٹھ نے داماد کو بلا بہت سی دولت دے بدا کیا اور لڑکی کا بھی ڈولہ ایک لونڈی سمیت ساتھ کردیا تب یہ وہان سے چلا جب ایک جنگل مین پہونچا تو اسنے ساہ کی بیٹی سے کہا کہ یہان بہت ڈر ہے جو تم اپنا سب گہنا اتار دو تو وہ ہم اپنی کمر مین باندھ لین پھر آگے جب شہر آویگا تو تم پہن لینا اس نے سنتے ہی سب زیور اتار دیا اور اسنے زیور لے کہارون کو بدا کر لونڈی کو مار کونین مین ڈال دیا اور اسکو بھی زور سے کونئین مین دھکیل سب گھنا لے اپنے دیس کو چلا گیا اتنے مین ایک مُسافر اس راہ سے آیا اور رونیکی آواز سن کھڑا ہو اپنے جی مین کہنے لگا کہ اس جنگل مین آدمی کے رونے کی آواز کہان سے آئی یہ بچار اس رونے کی آواز کی طرف چلا کہ ایک کنوان نظر آیا اور اسمین جھانکا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسمین ایک عورت روتی ہے تب اس عورت کو نکال احوال پوچھنے لگا کہ تو کون ہے اور کس طرح سے اِسمین گری یہ سنکے اسنے کہا مین ہیم کپت سیٹھ کی بیٹی ہون اور اپنے بالم کے ساتھ اسکے دیس کو جاتی تھی کہ اسمین چورون نے آ گھیرا اور میری لونڈی کو مارکر کنوین مین ڈال دیا اور گہنے سمیت میرے شوہر کو باندھ کر لیگئے نہ انکی مجھے خبر ہو نہ میری این بیدین وہ مشافر سے ساتھ لے آیا اور اس سیٹھ کے گھر ہونچ گیا یہ اپنے
مان باپ کے پاس گئی دے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تیری کیا گت ہوئی اپنے کہا ہمین راہ مین آ کے چوون
نے بولا اور لونڈی کو ار ر کنوئین من ڈال مجھے ایک اندھے کنوئین من و امیل دیا اورمیرے شوہر کو گنے بیت
باندھ کرکے چلے جب اور دھن ماننے لگے ان نے کہ جو کچھ تھا منے نے لیا اب میرے پاس کیا ہے آگے
یہ مجھے خبر نہین که این مار یا چھوڑا تب اسکا باپ بولانیشی فکرمت کرتیرا سوامی جیتا ہے بھگو ان چاہے
تو تھوڑے دنون مین آن لے کیونکہ چور دھن کے گاہک ہوتے ہین جیو کے گاہک نہین اس سیٹھ نے جو جو
گہنا اسکا گیا تھا اسکے بدلے اور زیور دے کر بہت سا دلا سا دل دہی کی اور وہ سیٹھ کا لڑکا بھی اپنے
ھر مین سب زیور بیچ دن رات رنڈی بازی کرنے اور جو اچھلنے لگا ایمان ہین کہ سب روپئے تمام مولے
تب روٹی کو محتاج ہوا آخر جب نہایت دکھ پانے لگا تو اپنے من مین ایک دن بچارا که سران جا کر یہ
بہانہ کیجئے کہ تمھارے نواسا پیدا ہوا ہو اسکی بدھائی دینے کو مین آیا ہون یہ بات اپنے جی مین ٹھان کر چلا
کئی دن مین دبان پہونچا جب اسے چاہا کہ گرین جاؤن تو سامنے سے اسکی استری نے نزدیک اگر کہا
سوامی تم اپنے جی مین کسی بات کی پروا مت کر دومین نے اپنے باپ سے
کہا ہو کہ چورون نے آکر بونڈ می
رمایا مجھے کنوین مین جال میرے خاونو باندیگی یا امی کی کیا کر گھر تا ہوا دین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
lqt6c1u88l69m01cpsdgz95ld4ri4g2
31784
31783
2026-04-01T19:30:02Z
Charan Gill
46
31784
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٠|بیتال پچیسی}}</noinclude>وی ہم کرینگے یہ کہہ اپنی بیٹی کو لاکر پوچھ تم اپنی بات کہو سُسرال جاؤگی یا نیہر مین رہوگی اسمین لڑکی نے شرما کے کچھ جواب نہ دیا الٹی پھر آئی اور اپنے خاوند سے آکر کہا کہ ہمارے ماتا پتا کہہ چکے ہین کہ جس مین انکی خوشی ہوگی وہ ہم کرینگے تو ہمین مت چھوڑ جائیو غرض اس سیٹھ نے داماد کو بلا بہت سی دولت دے بدا کیا اور لڑکی کا بھی ڈولہ ایک لونڈی سمیت ساتھ کردیا تب یہ وہان سے چلا جب ایک جنگل مین پہونچا تو اسنے ساہ کی بیٹی سے کہا کہ یہان بہت ڈر ہے جو تم اپنا سب گہنا اتار دو تو وہ ہم اپنی کمر مین باندھ لین پھر آگے جب شہر آویگا تو تم پہن لینا اس نے سنتے ہی سب زیور اتار دیا اور اسنے زیور لے کہارون کو بدا کر لونڈی کو مار کونین مین ڈال دیا اور اسکو بھی زور سے کونئین مین دھکیل سب گھنا لے اپنے دیس کو چلا گیا اتنے مین ایک مُسافر اس راہ سے آیا اور رونیکی آواز سن کھڑا ہو اپنے جی مین کہنے لگا کہ اس جنگل مین آدمی کے رونے کی آواز کہان سے آئی یہ بچار اس رونے کی آواز کی طرف چلا کہ ایک کنوان نظر آیا اور اسمین جھانکا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسمین ایک عورت روتی ہے تب اس عورت کو نکال احوال پوچھنے لگا کہ تو کون ہے اور کس طرح سے اِسمین گری یہ سنکے اسنے کہا مین ہیم کپت سیٹھ کی بیٹی ہون اور اپنے بالم کے ساتھ اسکے دیس کو جاتی تھی کہ اسمین چورون نے آ گھیرا اور میری لونڈی کو مارکر کنوین مین ڈال دیا اور گہنے سمیت میرے شوہر کو باندھ کر لیگئے نہ انکی مجھے خبر ہے نہ میری انھین یہ سُن وہ مُشافر اسے ساتھ لے آیا اور اس سیٹھ کے گھر پہونچا گیا یہ اپنے مان باپ کے پاس گئی وے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تیری کیا گت ہوئی اسنے کہا ہمین راہ مین آ کے چورون نے لوٹا اور لونڈی کو مار کر کنوئین مین ڈال مجھے ایک اندھے کنوئین مین دہکییل دیا اور میرے شوہر کو گہنے سمیت باندھ کر لے چلے جب اور دھن مانگنے لگے ان نے کہا جو کچھ تھا تمنے نے لیا اب میرے پاس کیا ہے آگے یہ مجھے خبر نہین که انھین مارا یا چھوڑا تب اسکا باپ بولا بیٹی فکر مت ک تیرا سوامی جیتا ہے بھگوان چاہے
تو تھوڑے دنون مین آن ملے کیونکہ چور دھن کے گاہک ہوتے ہین جیو کے گاہک نہین اس سیٹھ نے جو جو گہنا اسکا گیا تھا اسکے بدلے اور زیور دے کر بہت سا دلاسا دل دہی کی اور وہ سیٹھ کا لڑکا بھی اپنے گھر پہنچ سب زیور بیچ دن رات رنڈی بازی کرنے اور جوا کہیلنے لگا یہان تک کہ سب روپئے تمام ہوۓ تب روٹی کو محتاج ہوا آخر جب نہایت دکھ پانے لگا تو اپنے من مین ایک دن بچارا که سُسرال جا کر یہ بہانہ کیجئے کہ تمھارے نواسا پیدا ہوا ہے اسکی بدھائی دینے کو مین آیا ہون یہ بات اپنے جی مین ٹھان کر چلا کئی دن مین وبان پہونچا جب اسے چاہا کہ گھر مین جاؤن تو سامنے سے اسکی استری نے نزدیک آکر کہا سوامی تم اپنے جی مین کسی بات کی پروا مت کرو مین نے اپنے باپ سے کہا ہے کہ چورون نے آکر لونڈی رمایا مجھے کنوین مین جال میرے خاونو باندیگی یا امی کی کیا کر گھر تا ہوا دین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
8w5znxr0lsjdbdqta85tvc4pp712har
31785
31784
2026-04-01T20:00:35Z
Charan Gill
46
31785
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٠|بیتال پچیسی}}</noinclude>وی ہم کرینگے یہ کہہ اپنی بیٹی کو لاکر پوچھ تم اپنی بات کہو سُسرال جاؤگی یا نیہر مین رہوگی اسمین لڑکی نے شرما کے کچھ جواب نہ دیا الٹی پھر آئی اور اپنے خاوند سے آکر کہا کہ ہمارے ماتا پتا کہہ چکے ہین کہ جس مین انکی خوشی ہوگی وہ ہم کرینگے تو ہمین مت چھوڑ جائیو غرض اس سیٹھ نے داماد کو بلا بہت سی دولت دے بدا کیا اور لڑکی کا بھی ڈولہ ایک لونڈی سمیت ساتھ کردیا تب یہ وہان سے چلا جب ایک جنگل مین پہونچا تو اسنے ساہ کی بیٹی سے کہا کہ یہان بہت ڈر ہے جو تم اپنا سب گہنا اتار دو تو وہ ہم اپنی کمر مین باندھ لین پھر آگے جب شہر آویگا تو تم پہن لینا اس نے سنتے ہی سب زیور اتار دیا اور اسنے زیور لے کہارون کو بدا کر لونڈی کو مار کونین مین ڈال دیا اور اسکو بھی زور سے کونئین مین دھکیل سب گھنا لے اپنے دیس کو چلا گیا اتنے مین ایک مُسافر اس راہ سے آیا اور رونیکی آواز سن کھڑا ہو اپنے جی مین کہنے لگا کہ اس جنگل مین آدمی کے رونے کی آواز کہان سے آئی یہ بچار اس رونے کی آواز کی طرف چلا کہ ایک کنوان نظر آیا اور اسمین جھانکا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسمین ایک عورت روتی ہے تب اس عورت کو نکال احوال پوچھنے لگا کہ تو کون ہے اور کس طرح سے اِسمین گری یہ سنکے اسنے کہا مین ہیم کپت سیٹھ کی بیٹی ہون اور اپنے بالم کے ساتھ اسکے دیس کو جاتی تھی کہ اسمین چورون نے آ گھیرا اور میری لونڈی کو مارکر کنوین مین ڈال دیا اور گہنے سمیت میرے شوہر کو باندھ کر لیگئے نہ انکی مجھے خبر ہے نہ میری انھین یہ سُن وہ مُشافر اسے ساتھ لے آیا اور اس سیٹھ کے گھر پہونچا گیا یہ اپنے مان باپ کے پاس گئی وے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تیری کیا گت ہوئی اسنے کہا ہمین راہ مین آ کے چورون نے لوٹا اور لونڈی کو مار کر کنوئین مین ڈال مجھے ایک اندھے کنوئین مین دہکییل دیا اور میرے شوہر کو گہنے سمیت باندھ کر لے چلے جب اور دھن مانگنے لگے ان نے کہا جو کچھ تھا تمنے نے لیا اب میرے پاس کیا ہے آگے یہ مجھے خبر نہین که انھین مارا یا چھوڑا تب اسکا باپ بولا بیٹی فکر مت ک تیرا سوامی جیتا ہے بھگوان چاہے تو تھوڑے دنون مین آن ملے کیونکہ چور دھن کے گاہک ہوتے ہین جیو کے گاہک نہین اس سیٹھ نے جو جو گہنا اسکا گیا تھا اسکے بدلے اور زیور دے کر بہت سا دلاسا دل دہی کی اور وہ سیٹھ کا لڑکا بھی اپنے گھر پہنچ سب زیور بیچ دن رات رنڈی بازی کرنے اور جوا کہیلنے لگا یہان تک کہ سب روپئے تمام ہوۓ تب روٹی کو محتاج ہوا آخر جب نہایت دکھ پانے لگا تو اپنے من مین ایک دن بچارا که سُسرال جا کر یہ بہانہ کیجئے کہ تمھارے نواسا پیدا ہوا ہے اسکی بدھائی دینے کو مین آیا ہون یہ بات اپنے جی مین ٹھان کر چلا کئی دن مین وبان پہونچا جب اسے چاہا کہ گھر مین جاؤن تو سامنے سے اسکی استری نے نزدیک آکر کہا سوامی تم اپنے جی مین کِسی بات کی پروا مت کرو مین نے اپنے باپ سے کہا ہے کہ چورون نے آکر لونڈی کو مارا اور میرا زیور اتارا مجھے کنوُین مین ڈال میرے خاوند کو باندھ لیگۓ یہی بات تم بھی کہیؤ کچھ چنتا نہ کرو گھر تمھارا ہے اور مین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
m3vks1x7m8xk9mnoceaewxfhbym7iyc
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/22
250
12688
31786
31779
2026-04-02T00:38:01Z
Charan Gill
46
31786
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢١|}}</noinclude>لونڈی ہون یہ کہکر وہ گھر مین چلی گئی یہ اس سیٹھ کے پاس گیا اسنے گلے لگا کر سب احوال پوچھا جس طرح اسکی جورو سمجھا گئی تھی اسنے اسی طرح کہا سارے گھر من خوشی ہوئی پھر سیٹھ نے اسے اشنان کروا کھانا کھلیا ابہت سا بھروسا دیکر کہا کہ یہ گھر تمہارا ہے انند سے رہو یہ وہین رہنے لگا غرض کتنے ایک دنوں کے بعد رات کے وقت وہ ساہ کی بیٹی گہنا پہنے ہوئے اسکے پاس سونے کے لئے آئی اور سو گئی جب دو پہر رات ہوئی ان نے دیکھا کہ یہ غافل ہو گئی ہے تب ایک چھری ایسی اُسکے گلے میں ماری کہ وہ مر گئی اور سارا گہنا اتار اپنے دیس کی راہ لی اتنی بات کہ مینا بولی مہاراج یہ مین نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس واسطے مجھے مرد سے کچھ کام نہین مہاراج دیکھو مرد کی ذات ایسی ڈاکو ہوتی ہے کون ایسے سے دوستی کر اپنے گھر میں سانپ پالے مہاراج آپ اسے سوچیے کہ اس عورت نے کیا گناہ کیا تھا یہ شن راجہ نے کہا اے طوطے عورت میں عیب کیا ہے تو مجھ سے کہہ تب وہ بولا مہاراج سنئے کنچن پور ایک نگر یے وہان ساگردت نام ایک سیٹھ تھا اسکے بیٹے کا نام سری دت اور ایک شہر کا نام جیری پور و بان سوم دت، نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام میری وہ دوسرے سیٹھ کے بیٹے کو بیاہی تھی اور لڑکا کسی ملک میں سوداگری کے واسطے گیا تھا وہ اپنے مان باپ کے پیار رہتی تھی غرض جب اسے سوداگری مین بارہ برس گزر گئے اور یہ جوان ہوئی ایک روز سکھی سے کہنے لگی کہ اے بہن میرا جوبن یوں ہی جاتا ہے سنسار کا سکھ مین نے ابتک کچھ نہیں دیکھا یہ بات سکھی نے شنکر اسے کہا تو اپنے جی مین دھیرج دھر بھگوان چاہے تو تیر شوہر جلدی آ ملتا ہے اس بات کو سنکر غصّہ ہو اطاری پر چڑھ جھروکے سے جھائی تو دبکھتی کیا ہے کہ ایک جوان چلے آتا ہے جب نزدیک آیا تو اسکی اور اسکی یکا یک چار نظرین ہوئین دونوں کا دل مل گیا تھا اِن نے اپنی سکھی سے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آ یہ سُن سکھی نے جاکر کہا کہ سومدت کی کنیا نے تنہائی میں بلایا ہے پر تم میرے گھر آئیو اپنے گھر کا پتہ اسکو بتا دیا ان نے کہا کہ رات میں آؤن گا سکھی نے یہ سیٹھ کی لڑکی سے آکر کہا یہ سنکر جیسری نے سکھی سے کہا کہ تو اپنے گھر میں جا جب وہ آوے مجھے خبر کرنا تو میں بھی اس گھر مین تیار ہو کر چلونگی سکھی اس کی بات سنکراپنے گھر گئی دروازہ پر بیٹھ کر اسکی راہ تاکنے لگی اتنے میں وہ آیا ان نے اسے اپنی ڈیوڑ تھی میرا
بٹھا کر کہا تم یہاں بیٹھو یں تمھاری خیر کرتی ہوں اوز کر جیسی سے کہا کہ تمھارا آنا ان پہونچا ہو یہ شکر
اس نے کہا کہ ذرا ٹھہر جاتھر کے لوگ سو جا دین تو مین چلو پھر کچھ دیر کے بعد جب آدھی رات کا عمل ہوا اور
سب سو گئے تب یہ چپکے سے اٹھکر اسکے ساتھ چلی اور ایک میمن میں آپہونچی اور بے اختیار دونوں نے اسکے
گھر من ملاقات کی جب چار گھڑی رات باقی رہی یہ اٹھ کر اپنے گھر من اگر چپ چاپ سو رہی اور وہ بھی صبح
کے وقت اپنے گھر کو گیا اسی طرح سے کتنے ایک دن بیت گئے آخر اس کا خاوند بھی پردیس سے اپنی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
3naabo8u5p9g8dbvfvl2zq8626wixbx
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/192
250
12795
31781
31765
2026-04-01T16:27:57Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31781
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>اِن دونو آدمیوں کے چہرے سے معلوم ہوتا
ہے کہ یہ بہت شریف اور رحمدِل ہیں ۔
میں ابھی اِن کے پاس جاکر ان کا حال
دریافت کرتا ہوں.
یہ کہ کر ہنومان نے ایک برہمن کا بھیس
بنایا۔ ماتھے پر ٹیکہ لگایا جنیو پہنا پوتھی
بغل میں دبائی اور لاٹھی ٹیکتے ہوئے رامچندر
کے پاس جاکر بولے، آپ لوگ یہاں کہاں
سے آ رہے ہیں؟ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا
ہے کہ آپ لوگ پرویسی ہیں اور شاید آپ
کا کوئی ساتھی کھو گیا ہے.
رام چندر نے کہا 'ہاں دیوتا جی، آپ ک
خیال درست ہے ۔ ہم لوگ پردیسی ہیں۔
قِسمت کے مارے اجودھیا کا راج چھوڑ
کر یہاں جنگلوں کی خاک چھان رہے
ہیں۔ اس پر نئی مصیبت یہ پڑی کہ
کوئی میری بیوی سیتا کو بھی اُٹھا لے گیا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
lbgjv9k64dkbceljh5l0ytdm0qalk9o