ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.22 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/21 250 12687 31790 31785 2026-04-03T15:16:12Z BalramBodhi 60 31790 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٠|بیتال پچیسی}}</noinclude>وہی ہم کرینگے یہ کہہ اپنی بیٹی کو بلاکر پوچھا تم اپنی بات کہو سُسرال جاؤگی یا نیہر مین رہوگی اسمین لڑکی نے شرما کے کچھ جواب نہ دیا الٹی پھر آئی اور اپنے خاوند سے آکر کہا کہ ہمارے ماتا پتا کہہ چکے ہین کہ جس مین انکی خوشی ہوگی وہ ہم کرینگے تو ہمین مت چھوڑ جائیو غرض اس سیٹھ نے داماد کو بلا بہت سی دولت دے بدا کیا اور لڑکی کا بھی ڈولہ ایک لونڈی سمیت ساتھ کردیا تب یہ وہان سے چلا جب ایک جنگل مین پہونچا تو اسنے ساہ کی بیٹی سے کہا کہ یہان بہت ڈر ہے جو تم اپنا سب گہنا اتار دو تو وہ ہم اپنی کمر مین باندھ لین پھر آگے جب شہر آویگا تو تم پہن لینا اس نے سنتے ہی سب زیور اتار دیا اور اسنے زیور لے کہارون کو بدا کر لونڈی کو مار کر کوینئ مین ڈال دیا اور اسکو بھی زور سے کونئین مین دھکیل سب گھنا لے اپنے دیس کو چلا گیا اتنے مین ایک مُسافر اس راہ سے آیا اور رونیکی آواز سن کھڑا ہو اپنے جی مین کہنے لگا کہ اس جنگل مین آدمی کے رونے کی آواز کہان سے آئی یہ بچار اس رونے کی آواز کی طرف چلا کہ ایک کنوان نظر آیا اور اسمین جھانکا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسمین ایک عورت روتی ہے تب اس عورت کو نکال احوال پوچھنے لگا کہ تو کون ہے اور کس طرح سے اِسمین گری یہ سنکے اسنے کہا مین ہیم گپت سیٹھ کی بیٹی ہون اور اپنے بالم کے ساتھ اسکے دیس کو جاتی تھی کہ اسمین چورون نے آ گھیرا اور میری لونڈی کو مارکر کنوین مین ڈال دیا اور گہنے سمیت میرے شوہر کو باندھ کر لیگئے نہ انکی مجھے خبر ہے نہ میری انھین یہ سُن وہ مُسافِر اسے ساتھ لے آیا اور اس سیٹھ کے گھر پہونچا گیا یہ اپنے مان باپ کے پاس گئی وے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تیری کیا گت ہوئی اسنے کہا ہمین راہ مین آ کے چورون نے لوٹا اور لونڈی کو مار کر کنوئین مین ڈال مجھے ایک اندھے کنوئین مین دہکیل دیا اور میرے شوہر کو گہنے سمیت باندھ کر لے چلے جب اور دھن مانگنے لگے ان نے کہا جو کچھ تھا تمنے لے لیا اب میرے پاس کیا ہے آگے یہ مجھے خبر نہین کہ انھین مارا یا چھوڑا تب اسکا باپ بولا بیٹی فکر مت ک تیرا سوامی جیتا ہے بھگوان چاہے تو تھوڑے دنون مین آن ملے کیونکہ چور دھن کے گاہک ہوتے ہین جیو کے گاہک نہین اس سیٹھ نے جو جو گہنا اسکا گیا تھا اسکے بدلے اور زیور دے کر بہت سا دلاسا دل دہی کی اور وہ سیٹھ کا لڑکا بھی اپنے گھر پہنچ سب زیور بیچ دن رات رنڈی بازی کرنے اور جوا کہیلنے لگا یہان تک کہ سب روپئے تمام ہوۓ تب روٹی کو محتاج ہوا آخر جب نہایت دکھ پانے لگا تو اپنے من مین ایک دن بچارا کہ سُسرال جا کر یہ بہانہ کیجئے کہ تمھارے نواسا پیدا ہوا ہے اسکی بدھائی دینے کو مین آیا ہون یہ بات اپنے جی مین ٹھان کر چلا کئی دن مین وہان پہونچا جب اسنے چاہا کہ گھر مین جاؤن تو سامنے سے اسکی استری نے نزدیک آکر کہا سوامی تم اپنے جی مین کِسی بات کی پروا مت کرو مین نے اپنے باپ سے کہا ہے کہ چورون نے آکر لونڈی کو مارا اور میرا زیور اتارا مجھے کنوُین مین ڈال میرے خاوند کو باندھ لیگۓ یہی بات تم بھی کہیؤ کچھ چنتا نہ کرو گھر تمھارا ہے اور مین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 4d2t4lwdmkbxpqkd6weaz2lv6a7i1d9 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/23 250 12689 31793 30768 2026-04-03T17:24:56Z Charan Gill 46 31793 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>سُسرال مین آیا جب اُس نے اپنے شوہر کو دیکھا جی مین چنتا کرکے سکھی سے کہا کہ اِس سوچ مین میرا جی ہے کیا کردن کدھر جاؤن میری نیند بھوک پیاس سب بسر گئی نہ ٹھنڈا اچھا معلوم ہوتا ہے نہ گرم اور جو کچھ احوال اپنے دل کا تھا سو سب کہا غرض جون تون کر کے دن تو کاٹا پر شام کے وقت جب اسکا شوہر کھانا کھا چکا تب اسکی ساس نے ایک جدی چاپاری مین بھی ہوا کہ کہلا بھیجاکہ تم دران اکر آرام کرو اور اپنی بیٹ سے کہاکہ تو جاکر اپنے شوہر کی سیوا کردہ اس بات کو سن ، اک بھون چڑھا کر چکی ہو رہی پھر اسکی مان نے ڈانٹ کے اسکے پاس بھیجا ہے بس ہو کر وہان گئی اور منھ پھر پلنگ پلیٹ رہی وہ جیون جیون اس سے نہ کی باتین کرتا تیون تیون اسے زیادہ دکھ ہوتا تھا پھر طرح طرح کی چیزین زیور جو جوہر ایک مقام سے اسکے واسطے لایا تھا سواب دیئے اور کہا کہ اسے پہن تب ان نے خفام ہو بہوبین تان منو پھیر لیا اور وہ بھی ناچار موکہ سورہا کیونکہ ہارا ماندہ راہ کا تھا پر اسے اپنے یار کی یادین نیند نہ آئی جب وہ بھی کہ یہ نیند سے غافل ہوا تو وہ چپکے سے اٹھ اسے سوتا چھوڑا اندھیری رات مین نڈر اپنے دوست کے مکان کو چلی کہ راہ مین ایک چور نے اسکو دیکھ کر اپنے دل مین سوچا کہ عورت گہنا پہنے ہوئے آدھی رات کے وقت اکیلی کہان جاتی ہے یہ بات اپنے جی مین کہ اسکے پیچھے ہو لیا غرض جیون تیون یہ اپنے یار کے مکان پر پہونچی اور وہان اسے سانپ کاٹ گیا تھا وہ مراثر تھا اس نے جانا کہ سوتا ہے جدائی کی آگ مین توصل ہی رہی تھی بے اختیار اس سے لپٹ گئی اور پیار کرنے لگی اور چور دور سے تماشہ دیکھنے لگا وہان ایک میپل کے درخت پر ایک بھوت بھی بیٹھا ہوا یہ تماشہ دیکھتا تھا دل مین آیا کہ اس مردہ کے بدن مین بیٹھ اس سے بھوگ کیجئے یہ بچار کرا سکے قالب مین اکر بھوگ کیا آخر دانتون سے آکی ناک کاٹ اسی درخت پر جا بیٹھا چور نے یہ سب احوال لکھا اور وہ نا چار اسی زنگ لہو سے شر اور کبھی کے پاس گئی اور سب ماجرا کہات سکھی بولی کہ تو اپنے شوہر کے پاس جلد جا کہ آفتاب طلوع نہ ہونے پارے اور دبان جا کر ڈھار مار کر روئی جو کوئی تجھ سے پوچھے تو کہنا ان نے میری ناک کاٹ لی ہو سیکھی کی بات سنتے ہی تربت جھاڑھاڑین مارمار رونے لگی اسکے رونیکی آواز سن سارے کر کے لوگ آئے تب وسے بولے کہ اے لچ پانی بیرحم بے تقصیر تو نے اسکی ناک کیون کائی وہ بھی یہ سوانگ دیکھ محسوس کر اپنے جی مین کہنے لگالی نپل چوت کیا کالے سانپ کا امتیار بند کا دشمن کا یقین نہ کیجئے اور تر با چرتر سے ڈر شاعر کیا بیان نہین کر سکتا اور جو گی کیا نہین جانتا شرانی کیا نہین کہتا عورت کیا نہین کر سکتی سچ ہو گھوڑون کا عیب بادل کا گر ناتر یا چر تر اور مرد کی قیمت یہ دیوتا بھی نہین جانتے آدمی کا تو کیا مقدور ہے اتنے مین اس کے باپ نے کوتوال کو خبر دی وہان ہو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> gxg5udbd81ol98xo0pwj3bgc1sy8p1q 31794 31793 2026-04-03T18:28:16Z Charan Gill 46 31794 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>سُسرال مین آیا جب اُس نے اپنے شوہر کو دیکھا جی مین چنتا کرکے سکھی سے کہا کہ اِس سوچ مین میرا جی ہے کیا کردن کدھر جاؤن میری نیند بھوک پیاس سب بسر گئی نہ ٹھنڈا اچھا معلوم ہوتا ہے نہ گرم اور جو کچھ احوال اپنے دل کا تھا سو سب کہا غرض جون تون کر کے دن تو کاٹا پر شام کے وقت جب اسکا شوہر کھانا کھا چکا تب اسکی ساس نے ایک جدی چاپاری مین سیج ہچھوا کر کہلا بھیجا کہ تم وہان جااکر آرام کرو اور اپنی بیٹی سے کہا کہ تو جاکر اپنے شوہر کی سیوا کر وہ اس بات کو سن ناک بھون چڑھا کر چپکی ہو رہی پھر اسکی مان نے ڈانٹ کے اسکے پاس بھیجا ہے بس ہو کر وہان گئی اور منھ پھر پلنگ پر لیٹ رہی وہ جیون جیون اس سے نیہہ کی باتین کرتا تیون تیون اسے زیادہ دکھ ہوتا تھا پھر طرح طرح کی چیزین زیور جو جو ہر ایک مقام سے اسکے واسطے لایا تھا سو سب دیئے اور کہا کہ اسے پہن تب ان نے خفا ہو بہوبین تان منھ پھیر لیا اور وہ بھی ناچار ہو کر سو رہا کیونکہ ہارا ماندہ راہ کا تھا پر اسے اپنے یار کی یاد مین نیند نہ آئی جب وہ سمجھی کہ یہ نیند سے غافِل ہوا تو وہ چپکے سے اٹھ اسے سوتا چھوڑا اندھیری رات مین نڈر اپنے دوست کے مکان کو چلی کہ راہ مین ایک چور نے اسکو دیکھ کر اپنے دل مین سوچا کہ عورت گہنا پہنے ہوئے آدھی رات کے وقت اکیلی کہان جاتی ہے یہ بات اپنے جی مین کہہ اسکے پیچھے ہو لیا غرض جیون تیون یہ اپنے یار کے مکان پر پہونچی اور وہان اسے سانپ کاٹ گیا تھا وہ مرا پڑا تھا اس نے جانا کہ سوتا ہے جدائی کی آگ مین تو جل ہی رہی تھی بے اختیار اس سے لپٹ گئی اور پیار کرنے لگی اور چور دور سے تماشہ دیکھنے لگا وہان ایک میپل کے درخت پر ایک بھوت بھی بیٹھا ہوا یہ تماشہ دیکھتا تھا دل مین آیا کہ اس مردہ کے بدن مین بیٹھ اس سے بھوگ کیجئے یہ بچار کر اسکے قالب مین آکر بھوگ کیا آخر دانتون سے آسکی ناک کاٹ اسی درخت پر جا بیٹھا چور نے یہ سب احوال دیکھا اور وہ ناچار اسی رنگ لہو سے شرابور سکھی کے پاس گئی اور سب ماجرا کہا تب سکھی بولی کہ تو اپنے شوہر کے پاس جلد جا کہ آفتاب طلوع نہ ہونے پاوے اور وہان جا کر ڈھار مار کر روئی جو کوئی تجھ سے پوچھے تو کہنا ان نے میری ناک کاٹ لی ہے سکھی کی بات سنتے ہی ترت جا ڈھاڑین مار مار رونے لگی اسکے رونیکی آواز سن سارے کٹمب کے لوگ آئے تب وے بولے کہ اے نلچ پاپی بیرحم بے تقصیر تو نے اسکی ناک کیون کاٹی وہ بھی یہ سوانگ دیکھ محسوس کر اپنے جی مین کہنے لگالی نپل چوت کیا کالے سانپ کا امتیار بند کا دشمن کا یقین نہ کیجئے اور تر با چرتر سے ڈر شاعر کیا بیان نہین کر سکتا اور جو گی کیا نہین جانتا شرانی کیا نہین کہتا عورت کیا نہین کر سکتی سچ ہو گھوڑون کا عیب بادل کا گر ناتر یا چر تر اور مرد کی قیمت یہ دیوتا بھی نہین جانتے آدمی کا تو کیا مقدور ہے اتنے مین اس کے باپ نے کوتوال کو خبر دی وہان ہو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> huw2dr01zb2vsh0si81bk4ep2a5ut79 31795 31794 2026-04-03T18:54:54Z Charan Gill 46 31795 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>سُسرال مین آیا جب اُس نے اپنے شوہر کو دیکھا جی مین چنتا کرکے سکھی سے کہا کہ اِس سوچ مین میرا جی ہے کیا کردن کدھر جاؤن میری نیند بھوک پیاس سب بسر گئی نہ ٹھنڈا اچھا معلوم ہوتا ہے نہ گرم اور جو کچھ احوال اپنے دل کا تھا سو سب کہا غرض جون تون کر کے دن تو کاٹا پر شام کے وقت جب اسکا شوہر کھانا کھا چکا تب اسکی ساس نے ایک جدی چاپاری مین سیج ہچھوا کر کہلا بھیجا کہ تم وہان جااکر آرام کرو اور اپنی بیٹی سے کہا کہ تو جاکر اپنے شوہر کی سیوا کر وہ اس بات کو سن ناک بھون چڑھا کر چپکی ہو رہی پھر اسکی مان نے ڈانٹ کے اسکے پاس بھیجا ہے بس ہو کر وہان گئی اور منھ پھر پلنگ پر لیٹ رہی وہ جیون جیون اس سے نیہہ کی باتین کرتا تیون تیون اسے زیادہ دکھ ہوتا تھا پھر طرح طرح کی چیزین زیور جو جو ہر ایک مقام سے اسکے واسطے لایا تھا سو سب دیئے اور کہا کہ اسے پہن تب ان نے خفا ہو بہوبین تان منھ پھیر لیا اور وہ بھی ناچار ہو کر سو رہا کیونکہ ہارا ماندہ راہ کا تھا پر اسے اپنے یار کی یاد مین نیند نہ آئی جب وہ سمجھی کہ یہ نیند سے غافِل ہوا تو وہ چپکے سے اٹھ اسے سوتا چھوڑا اندھیری رات مین نڈر اپنے دوست کے مکان کو چلی کہ راہ مین ایک چور نے اسکو دیکھ کر اپنے دل مین سوچا کہ عورت گہنا پہنے ہوئے آدھی رات کے وقت اکیلی کہان جاتی ہے یہ بات اپنے جی مین کہہ اسکے پیچھے ہو لیا غرض جیون تیون یہ اپنے یار کے مکان پر پہونچی اور وہان اسے سانپ کاٹ گیا تھا وہ مرا پڑا تھا اس نے جانا کہ سوتا ہے جدائی کی آگ مین تو جل ہی رہی تھی بے اختیار اس سے لپٹ گئی اور پیار کرنے لگی اور چور دور سے تماشہ دیکھنے لگا وہان ایک میپل کے درخت پر ایک بھوت بھی بیٹھا ہوا یہ تماشہ دیکھتا تھا دل مین آیا کہ اس مردہ کے بدن مین بیٹھ اس سے بھوگ کیجئے یہ بچار کر اسکے قالب مین آکر بھوگ کیا آخر دانتون سے آسکی ناک کاٹ اسی درخت پر جا بیٹھا چور نے یہ سب احوال دیکھا اور وہ ناچار اسی رنگ لہو سے شرابور سکھی کے پاس گئی اور سب ماجرا کہا تب سکھی بولی کہ تو اپنے شوہر کے پاس جلد جا کہ آفتاب طلوع نہ ہونے پاوے اور وہان جا کر ڈھار مار کر روئی جو کوئی تجھ سے پوچھے تو کہنا ان نے میری ناک کاٹ لی ہے سکھی کی بات سنتے ہی ترت جا ڈھاڑین مار مار رونے لگی اسکے رونیکی آواز سن سارے کٹمب کے لوگ آئے تب وے بولے کہ اے نلچ پاپی بیرحم بے تقصیر تو نے اسکی ناک کیون کاٹی وہ بھی یہ سوانگ دیکھ افسوس کر اپنے جی مین کہنے لگا لی چنچل چت کا کالے سانپ کا ہتیار بند کا دشمن کا یقین نہ کیجئے اور تریا چرتر سے ڈر شاعر کیا بیان نہین کر سکتا اور جوگی کیا نہین جانتا شرانی کیا نہین کہتا عورت کیا نہین کر سکتی سچ ہو گھوڑون کا عیب بادل کا گر ناتر یا چر تر اور مرد کی قیمت یہ دیوتا بھی نہین جانتے آدمی کا تو کیا مقدور ہے اتنے مین اس کے باپ نے کوتوال کو خبر دی وہان ہو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 37ejrlbs710mgualcv3jogglsqnd2lq 31796 31795 2026-04-03T19:04:02Z Charan Gill 46 31796 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>سُسرال مین آیا جب اُس نے اپنے شوہر کو دیکھا جی مین چنتا کرکے سکھی سے کہا کہ اِس سوچ مین میرا جی ہے کیا کردن کدھر جاؤن میری نیند بھوک پیاس سب بسر گئی نہ ٹھنڈا اچھا معلوم ہوتا ہے نہ گرم اور جو کچھ احوال اپنے دل کا تھا سو سب کہا غرض جون تون کر کے دن تو کاٹا پر شام کے وقت جب اسکا شوہر کھانا کھا چکا تب اسکی ساس نے ایک جدی چاپاری مین سیج ہچھوا کر کہلا بھیجا کہ تم وہان جااکر آرام کرو اور اپنی بیٹی سے کہا کہ تو جاکر اپنے شوہر کی سیوا کر وہ اس بات کو سن ناک بھون چڑھا کر چپکی ہو رہی پھر اسکی مان نے ڈانٹ کے اسکے پاس بھیجا ہے بس ہو کر وہان گئی اور منھ پھر پلنگ پر لیٹ رہی وہ جیون جیون اس سے نیہہ کی باتین کرتا تیون تیون اسے زیادہ دکھ ہوتا تھا پھر طرح طرح کی چیزین زیور جو جو ہر ایک مقام سے اسکے واسطے لایا تھا سو سب دیئے اور کہا کہ اسے پہن تب ان نے خفا ہو بہوبین تان منھ پھیر لیا اور وہ بھی ناچار ہو کر سو رہا کیونکہ ہارا ماندہ راہ کا تھا پر اسے اپنے یار کی یاد مین نیند نہ آئی جب وہ سمجھی کہ یہ نیند سے غافِل ہوا تو وہ چپکے سے اٹھ اسے سوتا چھوڑا اندھیری رات مین نڈر اپنے دوست کے مکان کو چلی کہ راہ مین ایک چور نے اسکو دیکھ کر اپنے دل مین سوچا کہ عورت گہنا پہنے ہوئے آدھی رات کے وقت اکیلی کہان جاتی ہے یہ بات اپنے جی مین کہہ اسکے پیچھے ہو لیا غرض جیون تیون یہ اپنے یار کے مکان پر پہونچی اور وہان اسے سانپ کاٹ گیا تھا وہ مرا پڑا تھا اس نے جانا کہ سوتا ہے جدائی کی آگ مین تو جل ہی رہی تھی بے اختیار اس سے لپٹ گئی اور پیار کرنے لگی اور چور دور سے تماشہ دیکھنے لگا وہان ایک میپل کے درخت پر ایک بھوت بھی بیٹھا ہوا یہ تماشہ دیکھتا تھا دل مین آیا کہ اس مردہ کے بدن مین بیٹھ اس سے بھوگ کیجئے یہ بچار کر اسکے قالب مین آکر بھوگ کیا آخر دانتون سے آسکی ناک کاٹ اسی درخت پر جا بیٹھا چور نے یہ سب احوال دیکھا اور وہ ناچار اسی رنگ لہو سے شرابور سکھی کے پاس گئی اور سب ماجرا کہا تب سکھی بولی کہ تو اپنے شوہر کے پاس جلد جا کہ آفتاب طلوع نہ ہونے پاوے اور وہان جا کر ڈھار مار کر روئی جو کوئی تجھ سے پوچھے تو کہنا ان نے میری ناک کاٹ لی ہے سکھی کی بات سنتے ہی ترت جا ڈھاڑین مار مار رونے لگی اسکے رونیکی آواز سن سارے کٹمب کے لوگ آئے تب وے بولے کہ اے نلچ پاپی بیرحم بے تقصیر تو نے اسکی ناک کیون کاٹی وہ بھی یہ سوانگ دیکھ افسوس کر اپنے جی مین کہنے لگا لی چنچل چت کا کالے سانپ کا ہتیار بند کا دشمن کا یقین نہ کیجئے اور تریا چرتر سے ڈر شاعر کیا بیان نہین کر سکتا اور جوگی کیا نہین جانتا شرابی کیا نہین کہتا عورت کیا نہین کر سکتی سچ ہو گھوڑون کا عیب بادل کا گر ناتر یا چر تر اور مرد کی قیمت یہ دیوتا بھی نہین جانتے آدمی کا تو کیا مقدور ہے اتنے مین اس کے باپ نے کوتوال کو خبر دی وہان سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> p1y2ui5gtfity4njwngb7dbyi13hntv صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/24 250 12690 31797 30771 2026-04-03T21:32:56Z Charan Gill 46 31797 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢٣|}}</noinclude>پیادے آ پہونچے اور اسے باندھ کر کوتوال کے پاس لائے کوتوال نے راجہ کو خبر دی راجہ نے اس سے یہ حال بلوا کر پوچھا کہا مین کچھ نہیں جانتا اور سیٹھ کی لڑکی سے جو ملا کر پوچھا تو اسنے کہا ہمارا عیان دیکھ کے مجھ سے کیا پوچھتے ہو پھر راجہ نے اس سے کہا تجھے کیا سزا دین یہ سنکے بولا آپ کے انصاف میں جو ٹھہرے سو کیجئے راجہ نے کہا اسے لیجا کر سولی دو لوگ راجہ کا حکم پا کے اسے سولی دینے لے چلے سنجوگ دیکھ کر چور بھی وہاں کھڑا تماشہ دیکھتا تھا تب اس نے دہائی دی راجہ نے اسے بلوا کر پوچھا تو کون ہے کہا مہاراج میں چور ہوں اور یہ بے گناہ ہے ناحق اس کا خون ہوتا ہے آپ نے کچھ انصاف نکیا۔ تب راجہ نے اسے بھی بلوایا اور چور سے پوچھا اپنے دھرم سے سچ کہہ یہ مقدمہ کس طرح سے ہے چور نے مفصل احوال کہا تو راجہ نے اچھی طرح سمجھا آخر ہرکارے بھیج اس عورت کا یار جو موا ہوا پڑا تھا اس کے اسکے منھ مین سے ناک منگوا کے دیکھی تب جانا کہ بے تقصیر ہے اور چور سچا ہے پھر اور بولا مہاراج نیکون کا پالنا اور بدون کو سزا دنیا راجاؤن کا برابر دھرم چلا آتا ہے اتنی بات کہہ کر جورامن طوطا بولا مہاراج ایسی گن کی پوری ناریان ہوتی ہیں راجہ نے اس ناری کا منھ کالا کروا سر منڈوا کر گدہے پر چڑھا نگری کے پھیرے دونو پڑھوا دیا اس پورا در ساہوکار بچے کو پیڑے ولے قیمت گیا اتنی کتھا کہ بستیاں بولا اے راجہ ان دونوں میں سے کیسے زیادہ پا ہوا راجہ سیریک یا جیت بولا استری کو بیتیاں بولا کہ کس طرح یہ مشکے راجہ نے کہا مرد کیسا ہوا بد کا کیوں نہ ہوپر سے دھرم ادھرم کا بیچار انتہا ہے اس سے ناری کو بہت سا پاپ ہوا یہ بات سن کے پھر بیتال چلا گیا اسی درخت پر جائن کا پھر راجہ جا جا اسکو پھر سے اتار کشمیری بانہ تھے ایسے پرکھے بھلا پانچوین کہانی | جیتال بولا اسے راجہ اجین نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ وسائل اور اسکے ہر اس اس ایک پر کار بنا اس پر کارسے کی پٹی کا نام تھا دیوی دو بہت خوبصورت تھی جب وہ شادی کی قائم ہوئی تو اس کے باپ کو نہ ہوئی کہ اسکا با ذکر دیا چاہیے فرشتہ ایک دن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ پتا بھی دوسی ہنر جانتا ہو مجھے اسے ویکیو اب اپنے کہا کہ جو شبہ سے واقعت ہو کا تیری شاد کیا این اسکے ساتھ کر دوں گا پھر ایک دن اس راجہ نے ہر اس کو بلاکر لو تھا ملک دکن میں ہر بند نامہ راجہ ہو اسکی تمہیا کر میری طرف سے خیر و عافیت پونچھو انکی نیزیت مزاج سے آو مرد اس یہ راجہ کا حکم بنا کر رخصت ہوا اورا اس راجہ کے پاس کتنے ایک دنوں میں جا پہونچا اور اس سے اپنے راجہ کا سب پیغا م کیا اور ہمیشہ اس رجہ کے پاس پیسے وار وار کے دن کی بات ہو کہ سرا جانے اس سے تھا کار را ابھی کمیک شوی پویا میں ایسے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 7i2bzpgsce2qekqlq37d8s0nvhowbtx 31798 31797 2026-04-03T22:03:13Z Charan Gill 46 31798 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢٣|}}</noinclude>پیادے آ پہونچے اور اسے باندھ کر کوتوال کے پاس لائے کوتوال نے راجہ کو خبر دی راجہ نے اس سے یہ حال بلوا کر پوچھا کہا مین کچھ نہیں جانتا اور سیٹھ کی لڑکی سے جو ملا کر پوچھا تو اسنے کہا ہمارا عیان دیکھ کے مجھ سے کیا پوچھتے ہو پھر راجہ نے اس سے کہا تجھے کیا سزا دین یہ سنکے بولا آپ کے انصاف میں جو ٹھہرے سو کیجئے راجہ نے کہا اسے لیجا کر سولی دو لوگ راجہ کا حکم پا کے اسے سولی دینے لے چلے سنجوگ دیکھ کر چور بھی وہاں کھڑا تماشہ دیکھتا تھا تب اس نے دہائی دی راجہ نے اسے بلوا کر پوچھا تو کون ہے کہا مہاراج میں چور ہوں اور یہ بے گناہ ہے ناحق اس کا خون ہوتا ہے آپ نے کچھ انصاف نکیا۔ تب راجہ نے اسے بھی بلوایا اور چور سے پوچھا اپنے دھرم سے سچ کہہ یہ مقدمہ کس طرح سے ہے چور نے مفصل احوال کہا تو راجہ نے اچھی طرح سمجھا آخر ہرکارے بھیج اس عورت کا یار جو موا ہوا پڑا تھا اس کے اسکے منھ مین سے ناک منگوا کے دیکھی تب جانا کہ بے تقصیر ہے اور چور سچا ہے پھر اور بولا مہاراج نیکون کا پالنا اور بدون کو سزا دنیا راجاؤن کا برابر دھرم چلا آتا ہے اتنی بات کہہ کر جورامن طوطا بولا مہاراج ایسی گن کی پوری ناریان ہوتی ہیں راجہ نے اس ناری کا منھ کالا کروا سر منڈوا کر گدہے پر چڑھا نگری کے پھیرے دونو پڑھوا دیا اس چور اور ساہوکار بچے کو پیڑے دے رخصت کیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان دونوں میں سے کیسے زیادہ پاپ ہوا راجہ بکرما جیت بولا استری کو بیتاں بولا کہ کس طرح یہ شنکے راجہ نے کہا مرد کیسا ہی بدکار کیوں نہ ہو پر اسے دھرم ادھرم کا بچار رہتا ہے اس سے ناری کو بہت سا پاپ ہوا یہ بات سن کے پھر بیتال چلا گیا اسی درخت پر جا لٹکا پھر راجہ جا اسکو پھر سے اتار کھمیری بانہ تھے ایسے پرکھے بھلا پانچوین کہانی | جیتال بولا اسے راجہ اجین نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ وسائل اور اسکے ہر اس اس ایک پر کار بنا اس پر کارسے کی پٹی کا نام تھا دیوی دو بہت خوبصورت تھی جب وہ شادی کی قائم ہوئی تو اس کے باپ کو نہ ہوئی کہ اسکا با ذکر دیا چاہیے فرشتہ ایک دن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ پتا بھی دوسی ہنر جانتا ہو مجھے اسے ویکیو اب اپنے کہا کہ جو شبہ سے واقعت ہو کا تیری شاد کیا این اسکے ساتھ کر دوں گا پھر ایک دن اس راجہ نے ہر اس کو بلاکر لو تھا ملک دکن میں ہر بند نامہ راجہ ہو اسکی تمہیا کر میری طرف سے خیر و عافیت پونچھو انکی نیزیت مزاج سے آو مرد اس یہ راجہ کا حکم بنا کر رخصت ہوا اورا اس راجہ کے پاس کتنے ایک دنوں میں جا پہونچا اور اس سے اپنے راجہ کا سب پیغا م کیا اور ہمیشہ اس رجہ کے پاس پیسے وار وار کے دن کی بات ہو کہ سرا جانے اس سے تھا کار را ابھی کمیک شوی پویا میں ایسے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 7zl92q9xsjxgbnr9yg7i53fh5mqmcm8 31799 31798 2026-04-04T00:52:27Z Charan Gill 46 31799 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢٣|}}</noinclude>پیادے آ پہونچے اور اسے باندھ کر کوتوال کے پاس لائے کوتوال نے راجہ کو خبر دی راجہ نے اس سے یہ حال بلوا کر پوچھا کہا مین کچھ نہین جانتا اور سیٹھ کی لڑکی سے جو ملا کر پوچھا تو اسنے کہا ہمارا عیان دیکھ کے مجھ سے کیا پوچھتے ہو پھر راجہ نے اس سے کہا تجھے کیا سزا دین یہ سنکے بولا آپ کے انصاف مین جو ٹھہرے سو کیجئے راجہ نے کہا اسے لیجا کر سولی دو لوگ راجہ کا حکم پا کے اسے سولی دینے لے چلے سنجوگ دیکھ کر چور بھی وہان کھڑا تماشہ دیکھتا تھا تب اس نے دہائی دی راجہ نے اسے بلوا کر پوچھا تو کون ہے کہا مہاراج مین چور ہون اور یہ بے گناہ ہے ناحق اس کا خون ہوتا ہے آپ نے کچھ انصاف نکیا۔ تب راجہ نے اسے بھی بلوایا اور چور سے پوچھا اپنے دھرم سے سچ کہہ یہ مقدمہ کس طرح سے ہے چور نے مفصل احوال کہا تو راجہ نے اچھی طرح سمجھا آخر ہرکارے بھیج اس عورت کا یار جو موا ہوا پڑا تھا اس کے اسکے منھ مین سے ناک منگوا کے دیکھی تب جانا کہ بے تقصیر ہے اور چور سچا ہے پھر اور بولا مہاراج نیکون کا پالنا اور بدون کو سزا دنیا راجاؤن کا برابر دھرم چلا آتا ہے اتنی بات کہہ کر جورامن طوطا بولا مہاراج ایسی گن کی پوری ناریان ہوتی ہین راجہ نے اس ناری کا منھ کالا کروا سر منڈوا کر گدہے پر چڑھا نگری کے پھیرے دونو پڑھوا دیا اس چور اور ساہوکار بچے کو پیڑے دے رخصت کیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان دونون مین سے کیسے زیادہ پاپ ہوا راجہ بکرما جیت بولا استری کو بیتان بولا کہ کس طرح یہ شنکے راجہ نے کہا مرد کیسا ہی بدکار کیون نہ ہو پر اسے دھرم ادھرم کا بچار رہتا ہے اس سے ناری کو بہت سا پاپ ہوا یہ بات سن کے پھر بیتال چلا گیا اسی درخت پر جا لٹکا پھر راجہ جا اسکو پھر سے اتار گٹھری باندھے کاندھے پر رکھ لیچلا پانچوین کہانی بیتال بولا اے راجہ اجین نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ مہابل اور اسکے ہرداس نام ایک ہرکارا تھا اس ہرکارے کی بیٹی کا نام تھا مہادیوی وہ بہت خوبصورت تھی جب وہ شادی کی قابل ہوئی تو اس کے باپ کو فکر ہوئی کہ اسکا بیاہ کر دینا چاہیے غرضکہ ایک دن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ پتا جی جو سب ہنر جانتا ہو مجھے اسے دیجیو تب اسنے کہا کہ جو شب علم سے واقِف ہوگا تیری شادی مین اسکے ساتھ کر دونگا پھر ایک دن اس راجہ نے ہرداس کو بلاکر پوچھا ملک دکن مین ہر چند نامہ راجہ ہے اسکی تم جا کر میری طرف سے خیر و عافیت پوچھو انکی نیزیت مزاج سے آو مرد اس یہ راجہ کا حکم بنا کر رخصت ہوا اورا اس راجہ کے پاس کتنے ایک دنون مین جا پہونچا اور اس سے اپنے راجہ کا سب پیغا م کیا اور ہمیشہ اس رجہ کے پاس پیسے وار وار کے دن کی بات ہو کہ سرا جانے اس سے تھا کار را ابھی کمیک شوی پویا مین ایسے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> mvdbrbw0l6ioorseo8syf56ug29flpy صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/194 250 12797 31791 31258 2026-04-03T17:17:13Z Keshuseeker 83 /* پروف خوانی شدہ */ 31791 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude> اس کے ساتھ جانے میں کوئی ہرج نہیں معلوم ہوتا. کون جانے سگریو ہی سے ہمارا کام نکلے . چلو ذرا سگریو سے بھی مل لیں. دونو بھائی ہنومان کے ساتھ پہاڑ پر پہنچے. سگریو نے دوڑ کر اِن کا اِستقبال کیا اور لاکر اپنے برابر سنگھاسن پر بٹھایا. ہنومان نے کہا ' آج بڑا مبارک دن ہے . کہ اجودھیا کے دھرماتما راجہ رام کسی کِسکِندھا پوری کے راجہ سگریو کے مہمان ہوئے ہیں. آپ دونو مِل کر اتنے طاقتور ہو جائینگے. کہ کوئی آپ کا سامنا نہ کر سکیگا. آپ کی حالت ایک سی ہے اور آپ دونو کو ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے. راجہ سگریو مہارانی سینا کی تلاش کرینگے. اور مہا راجہ رام چندر بالی کو مار کر سگریو کو راجہ بنائینگے . اور رانی تارا کو واپس ولا دینگے . اس لئے آپ دونو اگن کو گواہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> b820duqt95291wqq8j9a413cwe42c5k صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/195 250 12798 31792 31261 2026-04-03T17:23:06Z Keshuseeker 83 /* پروف خوانی شدہ */ 31792 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude> بنا کر عہد کیجئے کہ ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہینگے . چاہے اُس میں کتنا ہی خطرہ ہو . آگ جلائی گئی . رام اور سگریو اُس کے سامنے بیٹھے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا قول و قرار کیا . پھر باتیں ہونے لگیں. سگریو نے پوچھا 'آپ کو معلوم ہ کہ سیتا جی کو کون اُٹھا لے گیا ؟ اگر اُس کا نام معلوم ہو جائے تو شاید میں سیتاجی کا آسانی سے پتہ لگا سکوں، . رام نے کہا . 'یہ تو جٹا یو سے معلوم ہو گیا ہے. بھائی یہ لنکا کے راجہ راون کی حرکت ہے. اسی نے ہم لوگوں کو فریب دے کر سیتا کو ہر لیا اور اپنے رتھ پر بٹھا کر لے گیا . اب سگریو کو اُن زیوروں کی یاد آئی جو سیتا جی نے رتھ پر سے نیچے پھینکے تھے . اُس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> r7k9ow5wvo843j4ai95m269i34qy3uk