ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.22
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/10
250
12676
31809
31750
2026-04-06T04:13:12Z
Taranpreet Goswami
90
31809
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|٩|}}</noinclude>دیکھنے کو روز ایک وقت جاتی ہون وہان سے آنکر گھر مین اپنا کام کاج کرتی ہون یہ بات راج پتر نے سن دل مین خوش ہو بڑھیا سے کہا کل جسوقت چلنے لگنا تو ایک پیغام ہمارا بھی لیتی جائیو اس نے کہا بیٹا کل پر کیا موقوف ہے ابھی مجھہ سے جو کچھ کہ سو مین تیرا پیغام پہنچاؤن تب اسنے کہا تو اتنا جاکر کہدے کہ جیٹھ کی پنچمی کو تالاب کے کنارے جس راج پتر کو تمنے دیکھا تھا سو آن پہونچا ہے اتنی بات کے سنتے ہی بڑھیا لاٹھی ہاتھ مین لے راج مندر کو گئی وہان جاکر دیکھا کہ راج کنیا اکیلی بیٹھی ہے جب یہ سامنے پہونچی تو اسنے سلام کیا دعا دیکر بولی بیٹی بچپن مین تیری خِدمت کی اور دودھ پلایا اب خدا نے تجھے بڈا کیا یہ جی چاہتا ہے کہ تیری جوانی کا سکھ دیکھون تو مجھے بھی چین ہووے اسی طرح کی باتین محبت آمیز کر کے کہنے لگی کہ جیٹھ کی پنچمین کو تالاب کے کنارے جس کنور کا تونے دل لیا ہے سو میرے گھر آن کر اترا ہے اسنے تجھے یہ پیغام دیا ہے کہ جو اکرار کیا تھا وہ پورا کرو ہم آن پہونچے ہین اور مین بھی یہ کہتی ہون کہ وہ کنور تیرے ہی لائق ہے جیسی تو حسین ہو ویسے ہی وہ گبھرو ہے یہ سب باتین سن خفا ہو ہاتھون مین صندل لگا بڑھیا کے گالون مین طمانچے مار وہ کہنے لگی کمبخت میرے گھر سے نکل یہ دق ہو اسطرح سے اٹھتی بیٹھتی کنور کے پاس آئی اور سب احوال کہا راج کمار سنکر ہکابکا ہو گیا تب دیوان کا بیٹا بولا مہاراج کچھ فکر نہ کیجئے یہ بات آپکے دھیان مین نہین آئی پھر اسنے کہا سچ ہے مگر تو مجھے سمجھا کہ میرے جی کو چین ہووے اسنے کہا جود سون انگلیان صندل کی بھر کر منھہ پر مارین تو اسنے یہ بتایا کہ دس روز چاندنی کے ہو چکین تو اندھیرے مین ملونگی غرض دس روز کے بعد بڑھیا نے اسکی خبر جا کر کہی تب اسنے کیسر سے تین انگلیان بھر اسکے گال پر مارین اور کہا میرے گھر سے نکل آخر بڑھیا چار نچار ہو کر وہان سے چلی اور جو کچھہ حال تھا سب راج پتر سے آکر کہا یہ سنتے ہی وہ غم کے دریا مین ڈوب گیا اسکا یہ احوال دیکھہ پھر دیوان کے بیٹے نے کہا اندیشہ نہ کر اس بات کا مدّعا اور کچھہ ہے وہ بولا میرا جی بیچین ہے مجھہ سے جلد کہو تب اسنے کہا وہ کپڑون سے ہے اس لئے اور تین روز کا وعدہ کیا ہے چوتھے دن تمھین بلائیگی غرضکہ جب تین روز ہو چکے تو بڑھیا نے اسکی طرف سے خیر و عافیت پوچھی تب اسنے بڑھیا کو خفا ہو کر پچھم کی کھڑکی سے نکال دیا پھر یہ احوال بڑھیا نے راج کنور سے آکر کہا وہ سنکر اداس ہوا اتنے مین دیوان کا لڑکا بولا کہ اسبات کا یہ مطلب ہے کہ آج رات کے وقت تمکو اسی کھڑکی کی راہ بلایا ہے یہ سنتے ہی نهایت خوش ہوا غرض جب وہ وقت آیا اودے رنگ کے جوڑے پگڑیان باندھ کپڑے پہن ہتھیار سج سجا تیار ہوے کہ اِس عرصہ مین دو پہر رات گذر گئی اس وقت ایک عالم سنسان کا تھا کہ یہ بھی سونٹھ مارے چپ چاپ چلے جاتے تھے جب کھڑکی کے پاس پہونچے دیوان کا بیٹا باہر کھڑا رہا اور یہ کھڑکی کے اندر گیا دیکھتا کیا ہے کہ راج کنیا بھی وہین کھڑی راہ دیکھتی ہے کہ اسمین ان دونون کی چار نظرین ہوئین تب راج کنیا ہنسین اور کھڑکی بند کر کے راج کنور کو ساتھ لے رنگ محل مین گئی وہان جاکر کنور دیکھتا کیا ہے کہ جابجا لخلخے روشن اور سہیلیان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
mi95ntqhkhione4osufl9cgtlle49if
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/22
250
12688
31802
31786
2026-04-05T13:36:01Z
BalramBodhi
60
31802
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢١|}}</noinclude>لونڈی ہون یہ کہکر وہ گھر مین چلی گئی یہ اس سیٹھ کے پاس گیا اسنے گلے لگا کر سب احوال پوچھا جس طرح اسکی جورو سمجھا گئی تھی اُسنے اسی طرح کہا سارے گھر من خوشی ہوئی پھر سیٹھ نے اسے اشنان کروا کھانا کھلیا بہت سا بھروسا دیکر کہا کہ یہ گھر تمہارا ہے انند سے رہو یہ وہین رہنے لگا غرض کتنے ایک دنون کے بعد رات کے وقت وہ ساہ کی بیٹی گہنا پہنے ہوئے اسکے پاس سونے کے لئے آئی اور سو گئی جب دو پہر رات ہوئی ان نے دیکھا کہ یہ غافل سو گئی ہے تب ایک چھری ایسی اُسکے گلے مین ماری کہ وہ مر گئی اور سارا گہنا اتار اپنے دیس کی راہ لی اتنی بات کہ مینا بولی مہاراج یہ مین نے اپنی آنکھون سے دیکھا ہے اس واسطے مجھے مرد سے کچھ کام نہین مہاراج دیکھو مرد کی ذات ایسی ڈاکو ہوتی ہے کون ایسے سے دوستی کر اپنے گھر مین سانپ پالے مہاراج آپ اسے سوچیے کہ اس عورت نے کیا گناہ کیا تھا یہ سُن راجہ نے کہا اے طوطے عورت مین عیب کیا ہے تو مجھ سے کہہ تب وہ بولا مہاراج سنئے کنچن پور ایک نگر یے وہان ساگردت نام ایک سیٹھ تھا اسکے بیٹے کا نام سری دت اور ایک شہر کا نام جیری پور وبان سوم دت نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام جیسری وہ دوسرے سیٹھ کے بیٹے کو بیاہی تھی اور لڑکا کِسی ملک مین سوداگری کے واسطے گیا تھا وہ اپنے مان باپ کے یہان رہتی تھی غرض جب اسے سوداگری مین بارہ برس گزر گئے اور یہ جوان ہوئی ایک روز سکھی سے کہنے لگی کہ اے بہن میرا جوبن یون ہی جاتا ہے سنسار کا سکھ مین نے ابتک کچھ نہین دیکھا یہ بات سکھی نے شنکر اسے کہا تو اپنے جی مین دھیرج دھر بھگوان چاہے تو تیرا شوہر جلدی آ ملتا ہے اس بات کو سنکر غصّہ ہو اٹاری پر چڑھ جھروکے سے جھاکی تو دبکھتی کیا ہے کہ ایک جوان چلا آتا ہے جب نزدیک آیا تو اسکی اور اسکی یکا یک چار نظرین ہوئین دونون کا دل مل گیا تھا اِن نے اپنی سکھی سے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لے آ یہ سُن سکھی نے جاکر کہا کہ سومدت کی کنیا نے تنہائی مین بلایا ہے پر تم میرے گھر آئیو اپنے گھر کا پتہ اسکو بتا دیا اُن نے کہا کہ رات مین آؤن گا سکھی نے یہ سیٹھ کی لڑکی سے آکر کہا یہ سنکر جیسری نے سکھی سے کہا کہ تو اپنے گھر مین جا جب وہ آوے مجھے خبر کرنا تو مین بھی اس گھر مین تیار ہو کر چلونگی سکھی اس کی بات سنکراپنے گھر گئی دروازہ پر بیٹھ کر اسکی راہ تاکنے لگی اتنے مین وہ آیا ان نے اسے اپنی ڈیوڑھی مین
بٹھا کر کہا تم یہان بیٹھو مین تمھاری خبر کرتی ہون اور آ کر جیسری سے کہا کہ تمھارا آشنا آن پہونچا ہے یہ سنکر اس نے کہا کہ ذرا ٹھہر جا گھر کے لوگ سو جاوین تو مین چلون پھر کچھ دیر کے بعد جب آدھی رات کا عمل ہوا اور سب سو گئے تب یہ چپکے سے اٹھکر اسکے ساتھ چلی اور ایک چھن مین آ پہونچی اور بے اختیار دونون نے اسکے
گھر مین ملاقات کی جب چار گھڑی رات باقی رہی یہ اٹھ کر اپنے گھر مین آ کر چپ چاپ سو رہی اور وہ بھی صبح کے وقت اپنے گھر کو گیا اسی طرح سے کتنے ایک دن بیت گئے آخر اس کا خاوند بھی پردیس سے اپنی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
e4pq56v1upawg06xp281sg7vv976002
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/23
250
12689
31810
31796
2026-04-06T06:34:20Z
BalramBodhi
60
31810
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>سُسرال مین آیا جب اُس نے اپنے شوہر کو دیکھا جی مین چنتا کرکے سکھی سے کہا کہ اِس سوچ مین میرا جی ہے کیا کرون کدھر جاؤن میری نیند بھوک پیاس سب بسر گئی نہ ٹھنڈا اچھا معلوم ہوتا ہے نہ گرم اور جو کچھ احوال اپنے دل کا تھا سو سب کہا غرض جون تون کر کے دن تو کاٹا پر شام کے وقت جب اسکا شوہر کھانا کھا چکا تب اسکی ساس نے ایک جُدی چاپاری مین سیج ہچھوا کر کہلا بھیجا کہ تم وہان جا کر آرام کرو اور اپنی بیٹی سے کہا کہ تو جاکر اپنے شوہر کی سیوا کر وہ اس بات کو سن ناک بھون چڑھا کر چپکی ہو رہی پھر اسکی مان نے ڈانٹ کے اسکے پاس بھیجا ہےبس ہو کر وہان گئی اور منھ پھر پلنگ پر لیٹ رہی وہ جیون جیون اس سے نیہ کی باتین کرتا تیون تیون اسے زیادہ دکھ ہوتا تھا پھر طرح طرح کی چیزین زیور جو جو ہر ایک مقام سے اسکے واسطے لایا تھا سو سب دیئے اور کہا کہ اسے پہن تب ان نے خفا ہو بہوین تان منھ پھیر لیا اور وہ بھی ناچار ہو کر سو رہا کیونکہ ہارا ماندہ راہ کا تھا پر اسے اپنے یار کی یاد مین نیند نہ آئی جب وہ سمجھی کہ یہ نیند سے غافِل ہوا تو وہ چپکے سے اٹھ اسے سوتا چھوڑ اندھیری رات مین نڈر اپنے دوست کے مکان کو چلی کہ راہ مین ایک چور نے اسکو دیکھ کر اپنے دل مین سوچا کہ عورت گہنا پہنے ہوئے آدھی رات کے وقت اکیلی کہان جاتی ہے یہ بات اپنے جی مین کہہ اسکے پیچھے ہو لیا غرض جیون تیون یہ اپنے یار کے مکان پر پہونچی اور وہان اسے سانپ کاٹ گیا تھا وہ مرا پڑا تھا اس نے جانا کہ سوتا ہے جدائی کی آگ مین تو جل ہی رہی تھی بےاختیار اس سے لپٹ گئی اور پیار کرنے لگی اور چور دور سے تماشہ دیکھنے لگا وہان ایک پیپل کے درخت پر ایک بھوت بھی بیٹھا ہوا یہ تماشہ دیکھتا تھا دل مین آیا کہ اس مردہ کے بدن مین بیٹھ اس سے بھوگ کیجئے یہ بچار کر اسکے قالب مین آکر بھوگ کیا آخر دانتون سے اسکی ناک کاٹ اسی درخت پر جا بیٹھا چور نے یہ سب احوال دیکھا اور وہ ناچار اسی رنگ لہو سے شرابور سکھی کے پاس گئی اور سب ماجرا کہا تب سکھی بولی کہ تو اپنے شوہر کے پاس جلد جا کہ آفتاب طلوع نہ ہونے پاوے اور وہان جا کر ڈھار مار کر روئیو جو کوئی تجھ سے پوچھے تو کہنا ان نے میری ناک کاٹ لی ہے سکھی کی بات سنتے ہی ترت جا ڈھاڑین مار مار رونے لگی اسکے رونیکی آواز سن سارے کٹمب کے لوگ آئے تب وے بولے کہ اے نلچ پاپی بیرحم بےتقصیر تو نے اسکی ناک کیون کاٹی وہ بھی یہ سوانگ دیکھ افسوس کر اپنے جی مین کہنے لگا کہ چنچل چت کا کالے سانپ کا ہتیار بند کا دشمن کا یقین نہ کیجئے اور تریا چرتر سے ڈر شاعر کیا بیان نہین کر سکتا اور جوگی کیا نہین جانتا شرابی کیا نہین کہتا عورت کیا نہین کر سکتی سچ ہے گھوڑون کا عیب بادل کا گرجنا تریا چرتر اور مرد کی قیمت یہ دیوتا بھی نہین جانتے آدمی کا تو کیا مقدور ہے اتنے مین اس کے باپ نے کوتوال کو خبر دی وہان سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
qgxe98luwk2d9q2zszwywpvgbq2x755
31811
31810
2026-04-06T06:47:16Z
BalramBodhi
60
31811
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>سُسرال مین آیا جب اُس نے اپنے شوہر کو دیکھا جی مین چنتا کرکے سکھی سے کہا کہ اِس سوچ مین میرا جی ہے کیا کرون کدھر جاؤن میری نیند بھوک پیاس سب بسر گئی نہ ٹھنڈا اچھا معلوم ہوتا ہے نہ گرم اور جو کچھ احوال اپنے دل کا تھا سو سب کہا غرض جون تون کر کے دن تو کاٹا پر شام کے وقت جب اسکا شوہر کھانا کھا چکا تب اسکی ساس نے ایک جُدی چاپاری مین سیج ہچھوا کر کہلا بھیجا کہ تم وہان جا کر آرام کرو اور اپنی بیٹی سے کہا کہ تو جاکر اپنے شوہر کی سیوا کر وہ اس بات کو سن ناک بھون چڑھا کر چپکی ہو رہی پھر اسکی مان نے ڈانٹ کے اسکے پاس بھیجا ہےبس ہو کر وہان گئی اور منھ پھر پلنگ پر لیٹ رہی وہ جیون جیون اس سے نیہ کی باتین کرتا تیون تیون اسے زیادہ دکھ ہوتا تھا پھر طرح طرح کی چیزین زیور جو جو ہر ایک مقام سے اسکے واسطے لایا تھا سو سب دیئے اور کہا کہ اسے پہن تب ان نے خفا ہو بہوین تان منھ پھیر لیا اور وہ بھی ناچار ہو کر سو رہا کیونکہ ہارا ماندہ راہ کا تھا پر اسے اپنے یار کی یاد مین نیند نہ آئی جب وہ سمجھی کہ یہ نیند سے غافِل ہوا تو وہ چپکے سے اٹھ اسے سوتا چھوڑ اندھیری رات مین نڈر اپنے دوست کے مکان کو چلی کہ راہ مین ایک چور نے اسکو دیکھ کر اپنے دل مین سوچا کہ عورت گہنا پہنے ہوئے آدھی رات کے وقت اکیلی کہان جاتی ہے یہ بات اپنے جی مین کہہ اسکے پیچھے ہو لیا غرض جیون تیون یہ اپنے یار کے مکان پر پہونچی اور وہان اسے سانپ کاٹ گیا تھا وہ مرا پڑا تھا اس نے جانا کہ سوتا ہے جدائی کی آگ مین تو جل ہی رہی تھی بےاختیار اس سے لپٹ گئی اور پیار کرنے لگی اور چور دور سے تماشہ دیکھنے لگا وہان ایک پیپل کے درخت پر ایک بھوت بھی بیٹھا ہوا یہ تماشہ دیکھتا تھا دل مین آیا کہ اس مردہ کے بدن مین بیٹھ اس سے بھوگ کیجئے یہ بچار کر اسکے قالب مین آکر بھوگ کیا آخر دانتون سے اسکی ناک کاٹ اسی درخت پر جا بیٹھا چور نے یہ سب احوال دیکھا اور وہ ناچار اسی رنگ لہو سے شرابور سکھی کے پاس گئی اور سب ماجرا کہا تب سکھی بولی کہ تو اپنے شوہر کے پاس جلد جا کہ آفتاب طلوع نہ ہونے پاوے اور وہان جا کر ڈھار مار کر روئیو جو کوئی تجھ سے پوچھے تو کہنا اِن نے میری ناک کاٹ لی ہے سکھی کی بات سنتے ہی ترت جا ڈھاڑین مار مار رونے لگی اسکے رونیکی آواز سن سارے کٹمب کے لوگ آئے تب وے بولے کہ اے نلچ پاپی بیرحم بےتقصیر تو نے اسکی ناک کیون کاٹی وہ بھی یہ سوانگ دیکھ افسوس کر اپنے جی مین کہنے لگا کہ چنچل چت کا کالے سانپ کا ہتیار بند کا دشمن کا یقین نہ کیجئے اور تریا چرتر سے ڈر شاعر کیا بیان نہین کر سکتا اور جوگی کیا نہین جانتا شرابی کیا نہین کہتا عورت کیا نہین کر سکتی سچ ہے گھوڑون کا عیب بادل کا گرجنا تریا چرتر اور مرد کی قیمت یہ دیوتا بھی نہین جانتے آدمی کا تو کیا مقدور ہے اتنے مین اس کے باپ نے کوتوال کو خبر دی وہان سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
dpthzbjt56fshxg9gdub8ycvan6gscu
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/24
250
12690
31801
31800
2026-04-05T13:05:42Z
Charan Gill
46
31801
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢٣|}}</noinclude>پیادے آ پہونچے اور اسے باندھ کر کوتوال کے پاس لائے کوتوال نے راجہ کو خبر دی راجہ نے اس سے یہ حال بلوا کر پوچھا کہا مین کچھ نہین جانتا اور سیٹھ کی لڑکی سے جو بلا کر پوچھا تو اسنے کہا ہمارا عیان دیکھ کے مجھ سے کیا پوچھتے ہو پھر راجہ نے اس سے کہا تجھے کیا سزا دین یہ سنکے بولا آپ کے انصاف مین جو ٹھہرے سو کیجئے راجہ نے کہا اسے لیجا کر سولی دو لوگ راجہ کا حکم پا کے اسے سولی دینے لے چلے سنجوگ دیکھ کر چور بھی وہان کھڑا تماشہ دیکھتا تھا تب اس نے دہائی دی راجہ نے اسے بلوا کر پوچھا تو کون ہے کہا مہاراج مین چور ہون اور یہ بے گناہ ہے ناحق اس کا خون ہوتا ہے آپ نے کچھ انصاف نکیا تب راجہ نے اسے بھی بلوایا اور چور سے پوچھا اپنے دھرم سے سچ کہہ یہ مقدمہ کس طرح سے ہے چور نے مفصل احوال کہا تو راجہ نے اچھی طرح سمجھا آخر ہرکارے بھیج اس عورت کا یار جو موا ہوا پڑا تھا اس کے منھ مین سے ناک منگوا کے دیکھی تب جانا کہ بے تقصیر ہے اور چور سچا ہے پھر اور بولا مہاراج نیکون کا پالنا اور بدون کو سزا دنیا راجاؤن کا برابر دھرم چلا آتا ہے اتنی بات کہہ کر جورامن طوطا بولا مہاراج ایسی گن کی پوری ناریان ہوتی ہین راجہ نے اس ناری کا منھ کالا کروا سر منڈوا کر گدہے پر چڑھا نگری کے پھیرے دونو پڑھوا دیا اس چور اور ساہوکار بچے کو پیڑے دے رخصت کیا اتنی کتھا کہہ بیتال
بولا اے راجہ ان دونون مین سے کیسے زیادہ پاپ ہوا راجہ بکرما جیت بولا استری کو بیتان بولا کہ کس طرح یہ شنکے راجہ نے کہا مرد کیسا ہی بدکار کیون نہ ہو پر اسے دھرم ادھرم کا بچار رہتا ہے اس سے ناری کو بہت سا پاپ ہوا یہ بات سن کے پھر بیتال چلا گیا اسی درخت پر جا لٹکا پھر راجہ جا اسکو پھر سے اتار گٹھری باندھے کاندھے پر رکھ لیچلا
پانچوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ اجین نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ مہابل اور اسکے ہرداس نام ایک ہرکارا تھا اس ہرکارے کی بیٹی کا نام تھا مہادیوی وہ بہت خوبصورت تھی جب وہ شادی کی قابل ہوئی تو اس کے باپ کو فکر ہوئی کہ اسکا بیاہ کر دینا چاہیے غرضکہ ایک دن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ پتا جی جو سب ہنر جانتا ہو مجھے اسے دیجیو تب اسنے کہا کہ جو شب علم سے واقِف ہوگا تیری شادی مین اسکے ساتھ کر دونگا پھر ایک دن اس راجہ نے ہرداس کو بلاکر پوچھا ملک دکن مین ہر چند نامہ راجہ ہے اسکی تم جا کر میری طرف سے خیر و عافیت پوچھو انکی نیزیت مزاج سے آو مرد اس یہ راجہ کا حکم بنا کر رخصت ہوا اورا
اس راجہ کے پاس
کتنے ایک دنون مین جا پہونچا اور اس سے اپنے راجہ کا سب پیغا م کیا اور ہمیشہ اس
رجہ کے پاس پیسے وار وار کے دن کی بات ہو کہ سرا جانے اس سے تھا کار را ابھی کمیک شوی پویا مین ایسے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
tmgu901tmdsg7eo67mll86ukk97bijd
31803
31801
2026-04-05T15:12:31Z
Charan Gill
46
31803
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢٣|}}</noinclude>پیادے آ پہونچے اور اسے باندھ کر کوتوال کے پاس لائے کوتوال نے راجہ کو خبر دی راجہ نے اس سے یہ حال بلوا کر پوچھا کہا مین کچھ نہین جانتا اور سیٹھ کی لڑکی سے جو بلا کر پوچھا تو اسنے کہا ہمارا عیان دیکھ کے مجھ سے کیا پوچھتے ہو پھر راجہ نے اس سے کہا تجھے کیا سزا دین یہ سنکے بولا آپ کے انصاف مین جو ٹھہرے سو کیجئے راجہ نے کہا اسے لیجا کر سولی دو لوگ راجہ کا حکم پا کے اسے سولی دینے لے چلے سنجوگ دیکھ کر چور بھی وہان کھڑا تماشہ دیکھتا تھا تب اس نے دہائی دی راجہ نے اسے بلوا کر پوچھا تو کون ہے کہا مہاراج مین چور ہون اور یہ بے گناہ ہے ناحق اس کا خون ہوتا ہے آپ نے کچھ انصاف نکیا تب راجہ نے اسے بھی بلوایا اور چور سے پوچھا اپنے دھرم سے سچ کہہ یہ مقدمہ کس طرح سے ہے چور نے مفصل احوال کہا تو راجہ نے اچھی طرح سمجھا آخر ہرکارے بھیج اس عورت کا یار جو موا ہوا پڑا تھا اس کے منھ مین سے ناک منگوا کے دیکھی تب جانا کہ بے تقصیر ہے اور چور سچا ہے پھر چور بولا مہاراج نیکون کا پالنا اور بدون کو سزا دنیا راجاؤن کا برابر دھرم چلا آتا ہے اتنی بات کہہ کر جورامن طوطا بولا مہاراج ایسی گن کی پوری ناریان ہوتی ہین راجہ نے اس ناری کا منھ کالا کروا سر منڈوا کر گدہے پر چڑھا نگری کے پھیرے دونو پڑھوا دیا اس چور اور ساہوکار بچے کو پیڑے دے رخصت کیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان دونون مین سے کسے زیادہ پاپ ہوا راجہ بکرما جیت بولا استری کو بیتال بولا کہ کس طرح یہ شنکے راجہ نے کہا مرد کیسا ہی بدکار کیون نہ ہو پر اسے دھرم ادھرم کا بچار رہتا ہے اس سے ناری کو بہت سا پاپ ہوا یہ بات سن کے پھر بیتال چلا گیا اسی درخت پر جا لٹکا پھر راجہ جا اسکو پھر سے اتار گٹھری باندھے کاندھے پر رکھ لیچلا
پانچوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ اجین نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ مہابل اور اسکے ہرداس نام ایک ہرکارا تھا اس ہرکارے کی بیٹی کا نام تھا مہادیوی وہ بہت خوبصورت تھی جب وہ شادی کی قابل ہوئی تو اس کے باپ کو فکر ہوئی کہ اسکا بیاہ کر دینا چاہیے غرضکہ ایک دن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ پتا جی جو سب ہنر جانتا ہو مجھے اسے دیجیو تب اسنے کہا کہ جو شب علم سے واقِف ہوگا تیری شادی مین اسکے ساتھ کر دونگا پھر ایک دن اس راجہ نے ہرداس کو بلاکر پوچھا ملک دکن مین ہر چند نامہ راجہ ہے اسکی تم جا کر میری طرف سے خیر و عافیت پوچھو انکی خیریت مزاج لے آؤ ہرداس یہ راجہ کا حکم پاکر رخصت ہوا اور اس راجہ کے پاس
کتنے ایک دنون مین جا پہونچا اور اس سے اپنے راجہ کا سب پیغام کہا اور ہمیشہ اس راجہ کے پاس رہنے لگا غرض ایک دن کی بات ہے کہ راجا نے اس سے پوچھا کہ اے ہرداس ابھی کلجک شُروع ہویا یا نہین تب اسے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
kc667w2ckpxmq48nrepiou1x0dzhnhb
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/25
250
12691
31804
30774
2026-04-05T15:53:18Z
Charan Gill
46
31804
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٤|بیتال پچیسی}}</noinclude>ہاتھ جوڑ کر کہا کاجگ موجود ہے کیونکہ دنیا میں جھوٹ بڑا ہے اور سچائی نہیں رہی لوگ منھ پر بات میٹھی کہتے ہیں اور دل مین کپٹ رکھتے ہیں دھرم جاتا رہا گناہ بڑھ گئے درخت پھل کم دینے لگے راجہ ڈانڈ لینے لگے برہمن لالچی ہو گئے عورتون نے ہیا چھوڑ دی بیٹا باپ کا حکم نہین مانتا بھائی بھائی کا اعتبار نہیں کرتا دوستون سے دوستی جاتی رہی خاوند سے وفا اٹھ گئی نوکرون نے خدمت چھوڑ دی اور جتنی خراب باتیں تھیں سب نظر آتی ہین جب راجہ سے یہ کر چکاتب راجہ ٹھاکر مل گیا اور یہ انے مقام پر آ کر میٹھا کہ اتنے میں برمین اسکے
پاس آئے گا کہ میں تجھ سے کچھ مانگنے آیا ہوں یہ سنکراسنے کہا مانگ کیا مانگتا ہے اس نے کہا کہ اپنی بیٹی مجھے دے ہرداس بولا کہ میں سب ہر مونگے میں اسکو دونگا سنکر وہ بولا کہ میں سب بدیا جانتا ہوں اس نے
کہا کہ کچھ اپنا ہر مجھے دکھلا تو میں جانوں کہ مجھے علم آتا ہو تب من بر مین نے کہا کہ میں نے ایک رتھ بنا یا ہو
امین بیتا شراد طاقت ہے کہ جہان جانے کا ارادہ کر تہمان ایک پل مین نے پہونچا دے تب ہر دا اس
لے کہا اس
رتھ کو فجر کے وقت میرے پاس لے
آئیو غرض وہ صبح کو تھے ہر اس پاس آیا پھر یہ دونوں
رتھ پر سوار موا جین شهر مین آن پہونچے پر بیان اتفاقا اسکے آنے سے پہلے کسی اور بر مین کے لڑکے نے
بڑے بیٹے سے اگر کہا تھا کہ تو اپنی بہن مجھے دے اور اس نے بھی کہا تھا کہ جوسب علم جانتا ہوگا اور دونگا
اور اس بزمین -
کے لڑکے نے بھی کہا کہمیں سب ہنر و علم جانتا ہوں یہ سنکے اس نے کہا تھا کہ تجھے ہی دینگے
ایک اور برزمین کے لڑکے نے اس لڑکی کی مان سے کہا تھا کہ اپنی بیٹی میں دے اس نے بھی اسے بھی جواب
دیا تھا کہ توسب ہنر جانتا ہوگا اسی کومیں اپنی لڑکی دوں گی اس پر بہن کے لڑکے نے بھی کہا تھاکہ میں بنوازی
مین کمال رکھتا ہوں اور غیر کے اوپر تر لگاتا ہوں یہ سکے اپنے بھی کہا تھاکہ مین نے قبول
کیا تجھے ہی دونگی فرض
آنا مینون بر منون کا پاس مرد اس کے اور بیان کرنا ہنر اپنا اپنا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
46g31msxmqxay4enqc43p5vy4843s5b
31807
31804
2026-04-05T21:43:54Z
Charan Gill
46
31807
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٤|بیتال پچیسی}}</noinclude>ہاتھ جوڑ کر کہا کاجگ موجود ہے کیونکہ دنیا مین جھوٹ بڑا ہے اور سچائی نہین رہی لوگ منھ پر بات میٹھی کہتے ہین اور دل مین کپٹ رکھتے ہین دھرم جاتا رہا گناہ بڑھ گئے درخت پھل کم دینے لگے راجہ ڈانڈ لینے لگے برہمن لالچی ہو گئے عورتون نے ہیا چھوڑ دی بیٹا باپ کا حکم نہین مانتا بھائی بھائی کا اعتبار نہین کرتا دوستون سے دوستی جاتی رہی خاوند سے وفا اٹھ گئی نوکرون نے خدمت چھوڑ دی اور جتنی خراب باتین تھین سب نظر آتی ہین جب راجہ سے یہ کر چکاتب راجہ ٹھاکر مل گیا اور یہ انے مقام پر آ کر میٹھا کہ اتنے مین برمین اسکے
پاس آئے گا کہ مین تجھ سے کچھ مانگنے آیا ہون یہ سنکراسنے کہا مانگ کیا مانگتا ہے اس نے کہا کہ اپنی بیٹی مجھے دے ہرداس بولا کہ مین سب ہر مونگے مین اسکو دونگا سنکر وہ بولا کہ مین سب بدیا جانتا ہون اس نے کہا کہ کچھ اپنا ہر مجھے دکھلا تو مین جانون کہ مجھے علم آتا ہے تب من برہمین نے کہا کہ مین نے ایک رتھ بنایا ہوامین بیتا شراد طاقت ہے کہ جہان جانے کا ارادہ کر تہمان ایک پل مین نے پہونچا دے تب ہردا اس لے کہا اس رتھ کو فجر کے وقت میرے پاس لے
آئیو غرض وہ صبح کو تھے ہرداس پاس آیا پھر یہ دونون رتھ پر سوار ہو اجین شهر مین آن پہونچے پر بیان اتفاقا اسکے آنے سے پہلے کسی اور برہمین کے لڑکے نے
بڑے بیٹے سے آکر کہا تھا کہ تو اپنی بہن مجھے دے اور اس نے بھی کہا تھا کہ جو سب علم جانتا ہوگا اسے دونگا اور اس برہمن کے لڑکے نے بھی کہا کہ مین سب ہنر و علم جانتا ہون یہ سنکے اس نے کہا تھا کہ تجھے ہی دینگے ایک اور برہمن کے لڑکے نے اس لڑکی کی مان سے کہا تھا کہ اپنی بیٹی ہمین دے اس نے بھی اسے یھی جواب دیا تھا کہ جو سب ہنر جانتا ہوگا اسی کو مین اپنی لڑکی دون گی اس پر برہمن کے لڑکے نے بھی کہا تھا کہ مین تیراندازی مین کمال رکھتا ہون اور بغیر دیکھے آواز پر تیر لگاتا ہون یہ سنکے اسنے بھی کہا تھا کہ مین نے قبول کیا تجھے ہی دونگی غرض
'''آنا تینون برہمنون کا پاس ہرداس کے اور بیان کرنا ہنر اپنا اپنا'''<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
3cqsis946yu2km2gfb43meisb4ebt4t
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/26
250
12692
31808
30780
2026-04-05T22:53:50Z
Charan Gill
46
31808
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||۲۵|بیتال پچیسی}}</noinclude>اسی طرح سے تینون بر آن کے اکھٹے ہوئے ہرداس اپنے دل میں سوچنے لگا کہ ایک لڑکی اور تین بر کسے دون اسی فکر میں تھا کہ رات کو ایک راکشس انکی کنیا کو اٹھا کے بندھیاچل پہاڑ کے اوپر لیگیا کلھنا ہے کہ زیادتی کسی چیز کی اچھی نہیں ہوتی زیادہ خوبصورت سیتا تھی راون نے ہری راجہ بل دان دیا سو دلدری ہوا راون نے بہت زیادہ غرور کر کے اپنے خاندان کو تباہ کیا غرض جب صبح ہوئی اور سب گھر کے لوگون نے لڑکی کو نہ دیکھا تب طرح طرح کی فکرین کرنے لگے یہ بات وہ تینوں بر بھی سُنکر وہاں آئے انمیں ایک دانشمند تھا اس کو ہرداس نے پوچھا تو بتا کہ وہ کنان کہاں گئی اپنے گھڑی ایک مین بچار کرکے کہا تمھاری لڑکی راکشس نے پہاڑ میں لیجا کر رکھا ہے اسمین دوسرا بولا کہ اس کو مار کر میں اسے لے آؤنگا پھر تیسرا بولا ہمارے رتھ پر سوار ہو جاؤ اور اسے لے آؤ یہ سنتے ہی وہ جھٹ اسکی رتھ پر سوار ہو وہان پوہنچے اس دیو کو مار فوراً اسے لے آیا اور تینوں آپسمیں جھگڑنے لگے تب اس کے باپ نے دل میں سوچ کر کہا کہ سبھوں نے احسان کیا ہے کسے دون اور کسے نہ دوں اتنی کتھا کہ بیتال بولا اے راجہ بکرم اُن
تینوں میں سے وہ کنان کسکی استری ہوئی راجہ بولا وہ جورو اسکی ہوئی جو راکشس کو مار کے لایا بیتال نے کہا سب کا گن برا بر ہے کس طرح سے وہ اسکی جورو ہوئی راجہ نے کہا ان دونوں نے احسان کیااس سے انکو ثواب ہوا اور یہ لڑ کر اسے مار کر لایا ہے اس واسطے وہ اسکی جورو ہوئی یہ بات سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین بیال کو باندھ کاندھے پر رکھ اسی طرح سے لیچلا
{{rule}}
{{c|<big>چھٹی کہانی</big>}}
{{rule}}
بیتال بولا اے راجہ دھرم پور نام ایک شہر ہو و بان کا راجہ دھرم سیل اسکے دیوان
کا ناماند نگک
تھا اسنے ایک دن راجہ سے کہا مہا راج ایک مندر بنا کر سیمین دی کو بٹھا کر ہمیشہ پوجا کیجئے کہ اس کا
شانس مین بڑا ثواب لکھا ہوتب را جا ایک مندر بنوادی کو پر ھر کر شاستر کی دھر سے پوجا کرنے لگا اور
بغیر ہو جائیے جل بھی نہ پیتا تھا اسی طرح سے جب کتنی ایک مرت گذری تو ایک روز دیوان نے کہا
مہاراج مشہور ہو کہ پوتی کا گھر سونا مورکھ کا ہر دے سونا اور دلداری کا سب کچھ سونا ہو یہ بات سُن
راجہ دیجی کے مندر میں جا ہاتھ جوڑ استت کرنے لگا کہ اے دیہی تجھے برا بشنو در اندرآٹھ پر سوچتے
ہیں اور تو نے سیکھا سر چنڈ منڈ وغیرہ دیتیوں کو تلوار سے اوپر تھومی کا بھال اتارا ہو اور جہان تیر و گتون
پر بہت بڑی تہان یہاں جا کر نہائے ہوئی اور ہی اس تک ترمین تیرے دوارے پرآیا ہوں اب سے بھی
من کی اچھا پور می کر اتنی اسقت جب راجہ کر چکا تو دہی کے مندر سے آواز آئی کہ راجہ مین تجھ سے خوش ہوئی
ب مانگ جو تیرے جی میں راجہ بالا و ماتا جو مجھ سے خوش ہوئی تو مجھ کو لڑا اور دینی نے کہا راجہ میرے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
5jhhhamruwxv8bwabjxlsdub7df49o0
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/196
250
12799
31805
31264
2026-04-05T16:09:32Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31805
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>نے اُن زیوروں کو منگوا کر رامچندر کے سامنے
رکھ دیا اور بولا آپ اُن زیوروں کو دیکھ کر
پہچانئے کہ یہ مہارانی سینا کے تو نہیں ہیں.
کچھ عرصہ ہوا ایک دن ایک رتھ ادھر سے
جا رہا تھا . کسی عورت نے اُس پر سے یہ
گہنے پھینک دِئے تھے .مجھے تو معلوم ہوتا ہے
وہ سیتا جی ہی تھیں . راون اُنہیں لئے چلا
جاتا تھا . جب کچھ بس نہ چلا تو اُنہوں نے
یہ زیور گرا دِیے کہ شاید آپ اِدھر ایں اور ہم
لوگ آپ کو اُن کا پتہ بتا سکیں .
زیوروں کو دیکھ کر رام چندر کی آنکھوں سے
آنسو گرنے لگے . ایک دن وہ تھا کہ یہ
گہنے سیتا جی کے بدن پر زیب دیتے تھے.
آج یہ اس طرح مارے مارے پھر رہے ہیں.
مارے غم کے وہ ان گہنوں کو دیکھ نہ سکے.
منہ پھیر کر لکشمن سے کہا - بھیا ذرا دیکھو تو
یہ تمہاری بھابی کے زیور ہیں' ؟<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
38ht8thxa1en38of0gr1dhqjp66rqy9
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/197
250
12800
31806
31267
2026-04-05T16:17:54Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31806
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>لکشمن نے کہا ' بھائی صاحب ، اس گلے کے
ہار اور ہاتھوں کے کنگن کی نسبت تو میں
کُچھ عرض نہیں کر سکتا . کیونکہ میں نے
کبھی بھابھی کے چہرے کی طرف دیکھنے
کی جُرات نہیں کی . ہاں پاؤں کے یہ
بِچھوے اور پازیب بھابھی ہی کے ہیں .
میں اُن کے چرنوں کو چھوتے وقت روزہ
ان چیزوں کو دیکھتا رہا ہوں . بلا شک یہ
چیزیں دیوی جی ہی کی ہیں .
سگریو بولا - تب تو اس میں شک نہیں کہ
دکھن کی طرف ہی سیتا جی کا پتہ لگیگا .
آپ جتنی جلد مجھے راج دلا دیں اُتنی ہی
جلد میں آدمیوں کو اُدھر بھیجنے کا انتظام
کروں . مگر یہ سمجھ لیجئے کہ بالی نہایت
زور آور آدمی ہے اور لڑائی کے فن بھی
خوب جانتا ہے . مجھے یہ اطمینان کیسے
ہوگا کہ آپ اُس پر فتح پا سکینگے . وُہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
e3qknufw9dpks5mcf2tipwisvhcmstx