ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.22
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/12
250
12678
31823
31711
2026-04-07T11:22:12Z
Taranpreet Goswami
90
31823
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|١١|}}</noinclude>ہوگا تب دیوان کا بیٹا بولا تم میرے واستے زہر لائے ہو اسی مین خیر ہوئی کہ آپ نے نہین کھائی مہاراج ایک بات میری سنیئے کہ رنڈی اپنے دوست کے دوست کو نہین چاہتی آپ نے یہ خوب نہ کیا جو میرا نام وہان لیا یہ سُن کنور بولا ایسی بات تم کہتے ہو جو کبھی کسو سے نہ ہو سکے اگر آدمی آدمی سے نہ ڈرے پر خدا سے تو ڈریگا اتنا کہہ اسے اسمین سے ایک لڈّو کتّے کے آگے ڈال دیا جوہین کتے نے کھایا وہین چٹ پٹا کر مر گیا یہ طور دیکھہ راج پتر اپنے جی مین غصّہ ہو کہنے لگا ایسی کھوٹی رنڈی سے ملنا لازم نہین آجنک تو میرے دل مین اسکی محبت تھی پر اب معلوم ہوا یہ سُن دیوان کا بیٹا بولا مہاراج جو ہوا سو ہوا اب وہ بات کیا چاہیے جس سے اسکو اپنے گھر لے چلئے راج کمار بولا بھائی یہ بھی تمھین سے ہوگا دیوان کے بیٹے نے کہا آج ایک کام کیجئے پھر پدماوتی کے پاس جائیے اور جو کہون سو کیجۓ پہلے تو اس سے جا کر بہت سا اخلاص پیار کرو جب وہ سو جائے تب اسکا زیور اتار یہ ترسول اسکی بائین جانگھہ مین مار وہان سے فوراً چلے آؤ یہ سن راجکمار رات کو پدماوتی کے پاس گیا اور بہت سی باتین دوستی کی کر دونون ملکر سو رہے لیکن باطن مین یہ قابو دیکھتا تھا غرض جب راج کنیا سو گئی تو اُن نے سارا گہنا ا تار لیا اور جانگھہ مین ترسول مار اپنے مکان کو چلا آیا سارا احوال دیوان کے بیٹے سے بیان کر سب گہنا اسکے آگے رکھہ دیا پھر وہ زیور اٹھا راج کمار کو ساتھہ لے جوگی کا بھیس بنا کر ایک مرگھٹ مین جا بیٹھا آپ تو گرو بنا اور اسے چیلا بنا کر اس سے کہا بازار مین جاکر اس گہنے کو بیج اگر کوئی اسمین تجھے پکڑے تو اسے میرے پاس لے آنا اسکی بات سُن راج پتر نے زیور کو لے شہر مین جا متصِل راجہ کی ڈیوڑھی کے ایک سنار کو دکھایا اسنے دیکھتے ہی پہچان کر کہا کہ راج کنیا کا گہنا ہے سچ کہہ تونے کہان پایا یہ اس سے کہہ رہا تھا کہ دس بیس آدمی اور بھی آکھٹے ہو گئے غرض کوتوال نے یہ خبر سُن آدمی بھیج راج کمار کو مع زیور اور سنار پکڑوا منگایا اور اس زیور کو دیکھ اس سے پوچھا کہ سچ کہہ تونے کہان سے پایا جب اسنے کہا مجھے گرو نے بیچنے کو دیا ہے پر مجھے معلوم نہین کہ وہ کہان سے لائے تب کوتوال نے اسکے گرو کو بھی پکڑوا منگایا اور دونون کو زیور سمیت راجہ کے حضور مین لا کر تمام حال عرض کیا یہ ماجرا سنکے راجہ جوگی سے پوچھنے لگا کہ ناتھ جی یہ گہنا تمنے کہان سے پایا جوگی بولا مہاراج کالی چودس کی رات کو مین مرگھٹ مین ڈاکنی منتر سِدہ کرنیکو گیا تھا جب وہ ڈاکنی آئی تو مین نے اسکا زیور اور کپڑا اتار لیا اور بائین جانگ مین اسکے ترسول کا نِشان کر دیا اسطرح سے یہ گہنا میرے ہاتھہ آیا یہ بات راجہ جوگی سے سُن محل مین گیا اور جوگی آسن پر راجہ نے رانی سے کہا تو پدماوتی کی بائین جانگ مین دیگھہ تو نِشان ہے کہ نہین اور کیسا نِشان ہے رانی نے جاکر دیکھا تو ترسول کا داغ ہے راجہ سے آکر کہا مہاراج تین نِشان برابر ہین اور ایسے معلوم ہوتے ہین گویا کِسو نے ترسول مارا ہے راجہ یہ بات سُن باہر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
o4sn8ufaobt7mtu4wh1wkplrbze3pkl
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/26
250
12692
31812
31808
2026-04-06T13:12:01Z
Charan Gill
46
31812
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||۲۵|بیتال پچیسی}}</noinclude>اسی طرح سے تینون بر آن کے اکھٹے ہوئے ہرداس اپنے دل میں سوچنے لگا کہ ایک لڑکی اور تین بر کسے دون اِسی فکر میں تھا کہ رات کو ایک راکشس انکی کنیا کو اٹھا کے بندھیاچل پہاڑ کے اوپر لیگیا کہا ہے کہ زیادتی کِسی چیز کی اچھی نہیں ہوتی زیادہ خوبصورت سیتا تھی راون نے ہری راجہ بل دان دیا سو دلدری ہوا راون نے بہت زیادہ غرور کر کے اپنے خاندان کو تباہ کیا غرض جب صبح ہوئی اور سب گھر کے لوگون نے لڑکی کو نہ دیکھا تب طرح طرح کی فکرین کرنے لگے یہ بات وہ تینوں بر بھی سُنکر وہاں آئے انمیں ایک دانشمند تھا اس کو ہرداس نے پوچھا تو بتا کہ وہ کنان کہاں گئی اپنے گھڑی ایک مین بچار کرکے کہا تمھاری لڑکی راکشس نے پہاڑ میں لیجا کر رکھا ہے اسمین دوسرا بولا کہ اس کو مار کر میں اسے لے آؤنگا پھر تیسرا بولا ہمارے رتھ پر سوار ہو جاؤ اور اسے لے آؤ یہ سنتے ہی وہ جھٹ اسکی رتھ پر سوار ہو وہان پوہنچے اس دیو کو مار فوراً اسے لے آیا اور تینوں آپسمیں جھگڑنے لگے تب اس کے باپ نے دل میں سوچ کر کہا کہ سبھوں نے احسان کیا ہے کسے دون اور کسے نہ دوں اتنی کتھا کہ بیتال بولا اے راجہ بکرم اُن
تینوں میں سے وہ کنان کسکی استری ہوئی راجہ بولا وہ جورو اسکی ہوئی جو راکشس کو مار کے لایا بیتال نے کہا سب کا گن برا بر ہے کس طرح سے وہ اسکی جورو ہوئی راجہ نے کہا ان دونوں نے احسان کیااس سے انکو ثواب ہوا اور یہ لڑ کر اسے مار کر لایا ہے اس واسطے وہ اسکی جورو ہوئی یہ بات سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین بیال کو باندھ کاندھے پر رکھ اسی طرح سے لیچلا
{{rule}}
{{c|<big>چھٹی کہانی</big>}}
{{rule}}
بیتال بولا اے راجہ دھرم پور نام ایک شہر ہو وہان کا راجہ دھرم سیل اسکے دیوان
کا نام اندھک تھا اسنے ایک دن راجہ سے کہا مہاراج ایک مندر بنا کر اسمین دیبی کو بٹھا کر ہمیشہ پوجا کیجئے کہ اس کا شاستر مین بڑا ثواب لِکھا ہے تب راجا ایک مندر بنوا دیبی کو پرھرا کر شاستر کی بدھ سے پوجا کرنے لگا اور بغیر پوجا کیئے جل بھی نہ پیتا تھا اسی طرح سے جب کتنی ایک مرّت گذری تو ایک روز دیوان نے کہا مہاراج مشہور ہو کہ پوتی کا گھر سونا مورکھ کا ہر دے سونا اور دلداری کا سب کچھ سونا ہو یہ بات سُن
راجہ دیجی کے مندر میں جا ہاتھ جوڑ استت کرنے لگا کہ اے دیہی تجھے برا بشنو در اندرآٹھ پر سوچتے
ہیں اور تو نے سیکھا سر چنڈ منڈ وغیرہ دیتیوں کو تلوار سے اوپر تھومی کا بھال اتارا ہو اور جہان تیر و گتون
پر بہت بڑی تہان یہاں جا کر نہائے ہوئی اور ہی اس تک ترمین تیرے دوارے پرآیا ہوں اب سے بھی
من کی اچھا پور می کر اتنی اسقت جب راجہ کر چکا تو دہی کے مندر سے آواز آئی کہ راجہ مین تجھ سے خوش ہوئی
ب مانگ جو تیرے جی میں راجہ بالا و ماتا جو مجھ سے خوش ہوئی تو مجھ کو لڑا اور دینی نے کہا راجہ میرے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
s8t5mwwqkikpgxmwjyh607qabmy6v26
31813
31812
2026-04-06T14:19:18Z
Charan Gill
46
31813
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||۲۵|بیتال پچیسی}}</noinclude>اسی طرح سے تینون بر آن کے اکھٹے ہوئے ہرداس اپنے دل میں سوچنے لگا کہ ایک لڑکی اور تین بر کسے دون اِسی فکر میں تھا کہ رات کو ایک راکشس انکی کنیا کو اٹھا کے بندھیاچل پہاڑ کے اوپر لیگیا کہا ہے کہ زیادتی کِسی چیز کی اچھی نہیں ہوتی زیادہ خوبصورت سیتا تھی راون نے ہری راجہ بل دان دیا سو دلدری ہوا راون نے بہت زیادہ غرور کر کے اپنے خاندان کو تباہ کیا غرض جب صبح ہوئی اور سب گھر کے لوگون نے لڑکی کو نہ دیکھا تب طرح طرح کی فکرین کرنے لگے یہ بات وہ تینوں بر بھی سُنکر وہاں آئے انمیں ایک دانشمند تھا اس کو ہرداس نے پوچھا تو بتا کہ وہ کنان کہاں گئی اپنے گھڑی ایک مین بچار کرکے کہا تمھاری لڑکی راکشس نے پہاڑ میں لیجا کر رکھا ہے اسمین دوسرا بولا کہ اس کو مار کر میں اسے لے آؤنگا پھر تیسرا بولا ہمارے رتھ پر سوار ہو جاؤ اور اسے لے آؤ یہ سنتے ہی وہ جھٹ اسکی رتھ پر سوار ہو وہان پوہنچے اس دیو کو مار فوراً اسے لے آیا اور تینوں آپسمیں جھگڑنے لگے تب اس کے باپ نے دل میں سوچ کر کہا کہ سبھوں نے احسان کیا ہے کسے دون اور کسے نہ دوں اتنی کتھا کہ بیتال بولا اے راجہ بکرم اُن تینوں میں سے وہ کنان کسکی استری ہوئی راجہ بولا وہ جورو اسکی ہوئی جو راکشس کو مار کے لایا بیتال نے کہا سب کا گن برا بر ہے کس طرح سے وہ اسکی جورو ہوئی راجہ نے کہا ان دونوں نے احسان کیااس سے انکو ثواب ہوا اور یہ لڑ کر اسے مار کر لایا ہے اس واسطے وہ اسکی جورو ہوئی یہ بات سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین بیال کو باندھ کاندھے پر رکھ اسی طرح سے لیچلا
{{rule}}
{{c|<big>چھٹی کہانی</big>}}
{{rule}}
بیتال بولا اے راجہ دھرم پور نام ایک شہر ہو وہان کا راجہ دھرم سیل اسکے دیوان
کا نام اندھک تھا اسنے ایک دن راجہ سے کہا مہاراج ایک مندر بنا کر اسمین دیبی کو بٹھا کر ہمیشہ پوجا کیجئے کہ اس کا شاستر مین بڑا ثواب لِکھا ہے تب راجا ایک مندر بنوا دیبی کو پرھرا کر شاستر کی بدھ سے پوجا کرنے لگا اور بغیر پوجا کیئے جل بھی نہ پیتا تھا اسی طرح سے جب کتنی ایک مرّت گذری تو ایک روز دیوان نے کہا مہاراج مشہور ہو کہ پوتی کا گھر سونا مورکھ کا ہر دے سونا اور دلداری کا سب کچھ سونا ہے یہ بات سُن راجہ دیبی کے مندر میں جا ہاتھ جوڑ استت کرنے لگا کہ اے دیبی تجھے برھما بشنو اور اندرآٹھ پہر پوجتے ہیں اور تو نے مہکھا سر چنڈ منڈ وغیرہ دیتوں کو تلوار سے مار پرتھوی کا بھار اتارا ہے اور جہان تیرے بھگتون پر بپت پڑی تہان یہاں جا کر سہائے ہوئی اور یہی آس تک کر مین تیرے دوارے پرآیا ہوں اب میرے بھی من کی اچھا پوری کر اتنی استت جب راجہ کر چکا تو دیبی کے مندر سے آواز آئی کہ راجہ مین تجھ سے خوش ہوئی بر مانگ جو تیرے جی میں ہے راجہ بولا اے ماتا جو مجھ سے خوش ہوئی تو مجھ کو لڑکا دے اور دیبی نے کہا راجہ میرے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
q65h3txmg1xh2id6hhvcfsje1kyfkqq
31815
31813
2026-04-06T14:25:53Z
Charan Gill
46
31815
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||۲۵|بیتال پچیسی}}</noinclude>اسی طرح سے تینون بر آن کے اکھٹے ہوئے ہرداس اپنے دل مین سوچنے لگا کہ ایک لڑکی اور تین بر کسے دون اِسی فکر مین تھا کہ رات کو ایک راکشس انکی کنیا کو اٹھا کے بندھیاچل پہاڑ کے اوپر لیگیا کہا ہے کہ زیادتی کِسی چیز کی اچھی نہین ہوتی زیادہ خوبصورت سیتا تھی راون نے ہری راجہ بل دان دیا سو دلدری ہوا راون نے بہت زیادہ غرور کر کے اپنے خاندان کو تباہ کیا غرض جب صبح ہوئی اور سب گھر کے لوگون نے لڑکی کو نہ دیکھا تب طرح طرح کی فکرین کرنے لگے یہ بات وہ تینون بر بھی سُنکر وہان آئے انمین ایک دانشمند تھا اس کو ہرداس نے پوچھا تو بتا کہ وہ کنان کہان گئی اپنے گھڑی ایک مین بچار کرکے کہا تمھاری لڑکی راکشس نے پہاڑ مین لیجا کر رکھا ہے اسمین دوسرا بولا کہ اس کو مار کر مین اسے لے آؤنگا پھر تیسرا بولا ہمارے رتھ پر سوار ہو جاؤ اور اسے لے آؤ یہ سنتے ہی وہ جھٹ اسکی رتھ پر سوار ہو وہان پوہنچے اس دیو کو مار فوراً اسے لے آیا اور تینون آپسمین جھگڑنے لگے تب اس کے باپ نے دل مین سوچ کر کہا کہ سبھون نے احسان کیا ہے کسے دون اور کسے نہ دون اتنی کتھا کہ بیتال بولا اے راجہ بکرم اُن تینون مین سے وہ کنان کسکی استری ہوئی راجہ بولا وہ جورو اسکی ہوئی جو راکشس کو مار کے لایا بیتال نے کہا سب کا گن برا بر ہے کس طرح سے وہ اسکی جورو ہوئی راجہ نے کہا ان دونون نے احسان کیااس سے انکو ثواب ہوا اور یہ لڑ کر اسے مار کر لایا ہے اس واسطے وہ اسکی جورو ہوئی یہ بات سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین بیال کو باندھ کاندھے پر رکھ اسی طرح سے لیچلا
{{rule}}
{{c|<big>چھٹی کہانی</big>}}
{{rule}}
بیتال بولا اے راجہ دھرم پور نام ایک شہر ہو وہان کا راجہ دھرم سیل اسکے دیوان
کا نام اندھک تھا اسنے ایک دن راجہ سے کہا مہاراج ایک مندر بنا کر اسمین دیبی کو بٹھا کر ہمیشہ پوجا کیجئے کہ اس کا شاستر مین بڑا ثواب لِکھا ہے تب راجا ایک مندر بنوا دیبی کو پرھرا کر شاستر کی بدھ سے پوجا کرنے لگا اور بغیر پوجا کیئے جل بھی نہ پیتا تھا اسی طرح سے جب کتنی ایک مرّت گذری تو ایک روز دیوان نے کہا مہاراج مشہور ہو کہ پوتی کا گھر سونا مورکھ کا ہر دے سونا اور دلداری کا سب کچھ سونا ہے یہ بات سُن راجہ دیبی کے مندر مین جا ہاتھ جوڑ استت کرنے لگا کہ اے دیبی تجھے برھما بشنو اور اندرآٹھ پہر پوجتے ہین اور تو نے مہکھا سر چنڈ منڈ وغیرہ دیتون کو تلوار سے مار پرتھوی کا بھار اتارا ہے اور جہان تیرے بھگتون پر بپت پڑی تہان یہان جا کر سہائے ہوئی اور یہی آس تک کر مین تیرے دوارے پرآیا ہون اب میرے بھی من کی اچھا پوری کر اتنی استت جب راجہ کر چکا تو دیبی کے مندر سے آواز آئی کہ راجہ مین تجھ سے خوش ہوئی بر مانگ جو تیرے جی مین ہے راجہ بولا اے ماتا جو مجھ سے خوش ہوئی تو مجھ کو لڑکا دے اور دیبی نے کہا راجہ میرے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ej4eakjr0r8d2csc53vnirr0ofisg2b
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/27
250
12693
31814
30782
2026-04-06T14:25:02Z
Charan Gill
46
31814
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی تب تو راجہ نے چندن انھت پھول دھوپ دیپ دیگر یو جا کی اور اسی طرح
سے ہر روز پوجا کرتا تھا غرض کتنے دنوں پیچھے راجہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا راجہ نے باجے گاجے سے
کٹمب سمیت جا کے دیہی کی پوجا کی اس عرصہ مین ایک دن کا اتفاق ہو کہ کسی گاؤن سے ایک دھوبی
اپنے دوست کو ساتھ لیئے اس شہر کی طرف
آتا تھا کہ دیہی کا مندرا سے نظر آیا اس نے ڈنڈوت کر نیکا
ارادہ کیا اسمیں ایک دھوبی کی لڑکی بڑی حسین سامنے سے آتی اسے دیکھی اسے دیکھ فریقیہ ہوا اور
دہی کے درشن کو گیا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ اپنے اپنے جی میں کہا اے دینی جو اس حسینہ سے میرا بیات تیری
مہربانی سے ہو تو میں اپنا سر مجھے چڑھاؤں یہ ست مان اونڈ دت کر وہ سب کو ساتھ لے اپنے نگر کو گیا جب
وہان پہونچا تو اسکے عشق نے ایساست یا کہ نیند بھوک پیاس اڑ گئی آٹھ پر اسی کے درمیان بین
رہنے لگا یہ بری حالت اسکے دوست نے دیکھ اسے ایسے بجا سب حال آیا اس کتاب بھی یہ مشکے کے
ہو اور اپنے جی میں اندیشہ کر کے کہنے لگا اسکی حالت دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اس کینیا سے اسکی شادی
نہ ہو گی تو یہ اپنی جان دیدینگا اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اسکا برباد کر دیجئے کہ جس سے یہ بچے اتنا
سوچ کر لڑکے کے دوست کو بھاتھہ ہے اس گاؤن میں پہونچے اس گاؤں میں پہونچ لڑکی کے باپ سوجا گرا
کہا کہ میں تیرے پاس کچھ مانگنے آیا ہوں ہو تو دیو سے تومیں کہوں، اُن نے کہا میرے پاس وہ چیز ہوگی تو
مین دردن گا یہ تو ہم اس طرح سے قول لے کر کہا تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے یہ سنکر اپنے بھی اسکی بات
مان کر یہ مین کو اب اون لگن صورت نشر کر کہ تم لڑکے کو لے آو میں بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دونگا
یہ مکروہ دہران سے اٹھ اپنے گھر کیا ان شادی کا تیار کر جانے کو گیا اور ان جا وار کر بیٹھے ہو کو اپنے
میان
گھر لے آیا اور دونوں آپس مین آرام سے رہنے لگے پھر کتنے دنوں کے بعد اس لڑکی کے باپ کے یہاں
شی کا جلسہ تقاریان سے تو ایمان بھی آیا یہ فرعورت بھی تیار ہوا اپنے دوست کو ساتھ ہے اس
شہر کو چلے شہر کے نزدیک پہونچے تو دہی کا مندر نظر آیا تو اسے یاد آئی تب ان نے چین میں یہ بات بچا کر کہا کہ
مین بڑا چھوٹا اور گناہ گار ہوں کہ دہی سے بھی جھوٹ بولا اتنی بات اپنے دل میں کہ اس دوست سے
کہا کہ تم بیان کھڑے رہو مین دیجی کا درشن کر آؤن اور استری کو کہا تو بھی بیان ٹھہر یہ کہ مندر کے پاس
میونخ تالاب میں اشنان کر دیجی کے سامنے اگر ہا تھ جوان شکار کر ٹھاکر نے گردن پراما کا ہستی سے
جدا ہوا اور نجوم پر غرض کتنی ایک ویر کے پچھے اسکے دوست نے خیال کیا کہ اسے گئے بڑی دیر ہوئی تک
پھر انہین چل کر دیکھنا چاہیے اور اسکی استری کو کہا تو یہان کھڑی رہ میں اسے شتابی سے ڈھونڈھ کر
کے آتا ہوں یہ کہ کر دینی کے مندرمیں کیا دکھایا ہوا و رایانا ایک ایک پوری مین کہے گا کہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
1r8bdzm38gdidrefjkpyt95jzhaicgt
31818
31814
2026-04-06T16:36:12Z
Charan Gill
46
31818
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی تب تو راجہ نے چندن اچھت پھول دھوپ دیپ دیکر یوجا کی اور اسی طرح سے ہر روز پوجا کرتا تھا غرض کتنے دنوں پیچھے راجہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا راجہ نے باجے گاجے سے کٹمب سمیت جا کے دیبی کی پوجا کی اس عرصہ مین ایک دن کا اتفاق ہے کہ کسی گاؤن سے ایک دھوبی اپنے دوست کو ساتھ لیئے اس شہر کی طرف آتا تھا کہ دیبی کا مندر اسے نظر آیا اس نے ڈنڈوت کر نیکا
ارادہ کیا اسمیں ایک دھوبی کی لڑکی بڑی حسین سامنے سے آتی اسے دیکھی اسے دیکھ فریقیہ ہوا اور دیبی کے درشن کو گیا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ اپنے اپنے جی میں کہا اے دیبی جو اس حسینہ سے میرا بیاہ تیری مہربانی سے ہو تو میں اپنا سر مجھے چڑھاؤں یہ ست مان اونڈ دت کر وہ سب کو ساتھ لے اپنے نگر کو گیا جب
وہان پہونچا تو اسکے عشق نے ایسا ست یا کہ نیند بھوک پیاس اڑ گئی آٹھ پر اسی کے درمیان بین
رہنے لگا یہ بری حالت اسکے دوست نے دیکھ اسے ایسے بجا سب حال آیا اس کتاب بھی یہ مشکے کے
ہو اور اپنے جی میں اندیشہ کر کے کہنے لگا اسکی حالت دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اس کینیا سے اسکی شادی
نہ ہو گی تو یہ اپنی جان دیدینگا اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اسکا برباد کر دیجئے کہ جس سے یہ بچے اتنا
سوچ کر لڑکے کے دوست کو بھاتھہ ہے اس گاؤن میں پہونچے اس گاؤں میں پہونچ لڑکی کے باپ سوجا گرا
کہا کہ میں تیرے پاس کچھ مانگنے آیا ہوں ہو تو دیو سے تومیں کہوں، اُن نے کہا میرے پاس وہ چیز ہوگی تو
مین دردن گا یہ تو ہم اس طرح سے قول لے کر کہا تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے یہ سنکر اپنے بھی اسکی بات
مان کر یہ مین کو اب اون لگن صورت نشر کر کہ تم لڑکے کو لے آو میں بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دونگا
یہ مکروہ دہران سے اٹھ اپنے گھر کیا ان شادی کا تیار کر جانے کو گیا اور ان جا وار کر بیٹھے ہو کو اپنے
میان
گھر لے آیا اور دونوں آپس مین آرام سے رہنے لگے پھر کتنے دنوں کے بعد اس لڑکی کے باپ کے یہاں
شی کا جلسہ تقاریان سے تو ایمان بھی آیا یہ فرعورت بھی تیار ہوا اپنے دوست کو ساتھ ہے اس
شہر کو چلے شہر کے نزدیک پہونچے تو دہی کا مندر نظر آیا تو اسے یاد آئی تب ان نے چین میں یہ بات بچا کر کہا کہ
مین بڑا چھوٹا اور گناہ گار ہوں کہ دہی سے بھی جھوٹ بولا اتنی بات اپنے دل میں کہ اس دوست سے
کہا کہ تم بیان کھڑے رہو مین دیجی کا درشن کر آؤن اور استری کو کہا تو بھی بیان ٹھہر یہ کہ مندر کے پاس
میونخ تالاب میں اشنان کر دیجی کے سامنے اگر ہا تھ جوان شکار کر ٹھاکر نے گردن پراما کا ہستی سے
جدا ہوا اور نجوم پر غرض کتنی ایک ویر کے پچھے اسکے دوست نے خیال کیا کہ اسے گئے بڑی دیر ہوئی تک
پھر انہین چل کر دیکھنا چاہیے اور اسکی استری کو کہا تو یہان کھڑی رہ میں اسے شتابی سے ڈھونڈھ کر
کے آتا ہوں یہ کہ کر دینی کے مندرمیں کیا دکھایا ہوا و رایانا ایک ایک پوری مین کہے گا کہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ic042x64t9649lr61ds469qnlt93vu6
31819
31818
2026-04-06T19:12:39Z
Charan Gill
46
31819
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی تب تو راجہ نے چندن اچھت پھول دھوپ دیپ دیکر یوجا کی اور اسی طرح سے ہر روز پوجا کرتا تھا غرض کتنے دنوں پیچھے راجہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا راجہ نے باجے گاجے سے کٹمب سمیت جا کے دیبی کی پوجا کی اس عرصہ مین ایک دن کا اتفاق ہے کہ کسی گاؤن سے ایک دھوبی اپنے دوست کو ساتھ لیئے اس شہر کی طرف آتا تھا کہ دیبی کا مندر اسے نظر آیا اس نے ڈنڈوت کرنیکا
ارادہ کیا اسمیں ایک دھوبی کی لڑکی بڑی حسین سامنے سے آتی اسے دیکھی اسے دیکھ فریفتہ ہوا اور دیبی کے درشن کو گیا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ اپنے اپنے جی میں کہا اے دیبی جو اس حسینہ سے میرا بیاہ تیری مہربانی سے ہو تو میں اپنا سر تجھے چڑھاؤں یہ منت مان ڈنڈوت کر وہ سب کو ساتھ لے اپنے نگر کو گیا جب وہان پہونچا تو اسکے عشق نے ایسا ستایا کہ نیند بھوک پیاس اڑ گئی آٹھ پہر اسی کے دھیان بین رہنے لگا یہ بری حالت اسکے دوست نے دیکھ اسکے باپ سے جا سب حال کہا اس کا باپ بھی یہ شنکے بھوچکا ہوا اور اپنے جی میں اندیشہ کر کے کہنے لگا اسکی حالت دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اُس کنیا سے اسکی شادی نہ ہوگی تو یہ اپنی جان دیدیگا اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اسکا بیاہ کر دیجئے کہ جس سے یہ بچے اتنا سوچ کر لڑکے کے دوست کو ساتھ ہے اس گاؤن میں پہونچے اس گاؤں میں پہونچ لڑکی کے باپ سے جا گر کہا کہ میں تیرے پاس کچھ مانگنے آیا ہوں ہو تو دیو سے تومیں کہوں، اُن نے کہا میرے پاس وہ چیز ہوگی تو
مین دردن گا یہ تو ہم اس طرح سے قول لے کر کہا تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے یہ سنکر اپنے بھی اسکی بات
مان کر یہ مین کو اب اون لگن صورت نشر کر کہ تم لڑکے کو لے آو میں بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دونگا
یہ مکروہ دہران سے اٹھ اپنے گھر کیا ان شادی کا تیار کر جانے کو گیا اور ان جا وار کر بیٹھے ہو کو اپنے
میان
گھر لے آیا اور دونوں آپس مین آرام سے رہنے لگے پھر کتنے دنوں کے بعد اس لڑکی کے باپ کے یہاں
شی کا جلسہ تقاریان سے تو ایمان بھی آیا یہ فرعورت بھی تیار ہوا اپنے دوست کو ساتھ ہے اس
شہر کو چلے شہر کے نزدیک پہونچے تو دہی کا مندر نظر آیا تو اسے یاد آئی تب ان نے چین میں یہ بات بچا کر کہا کہ
مین بڑا چھوٹا اور گناہ گار ہوں کہ دہی سے بھی جھوٹ بولا اتنی بات اپنے دل میں کہ اس دوست سے
کہا کہ تم بیان کھڑے رہو مین دیجی کا درشن کر آؤن اور استری کو کہا تو بھی بیان ٹھہر یہ کہ مندر کے پاس
میونخ تالاب میں اشنان کر دیجی کے سامنے اگر ہا تھ جوان شکار کر ٹھاکر نے گردن پراما کا ہستی سے
جدا ہوا اور نجوم پر غرض کتنی ایک ویر کے پچھے اسکے دوست نے خیال کیا کہ اسے گئے بڑی دیر ہوئی تک
پھر انہین چل کر دیکھنا چاہیے اور اسکی استری کو کہا تو یہان کھڑی رہ میں اسے شتابی سے ڈھونڈھ کر
کے آتا ہوں یہ کہ کر دینی کے مندرمیں کیا دکھایا ہوا و رایانا ایک ایک پوری مین کہے گا کہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
8ek420tdpl75jyuxf65erk50nrdyyio
31820
31819
2026-04-06T20:00:17Z
Charan Gill
46
31820
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی تب تو راجہ نے چندن اچھت پھول دھوپ دیپ دیکر یوجا کی اور اسی طرح سے ہر روز پوجا کرتا تھا غرض کتنے دنوں پیچھے راجہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا راجہ نے باجے گاجے سے کٹمب سمیت جا کے دیبی کی پوجا کی اس عرصہ مین ایک دن کا اتفاق ہے کہ کسی گاؤن سے ایک دھوبی اپنے دوست کو ساتھ لیئے اس شہر کی طرف آتا تھا کہ دیبی کا مندر اسے نظر آیا اس نے ڈنڈوت کرنیکا
ارادہ کیا اسمیں ایک دھوبی کی لڑکی بڑی حسین سامنے سے آتی اسے دیکھی اسے دیکھ فریفتہ ہوا اور دیبی کے درشن کو گیا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ اپنے اپنے جی میں کہا اے دیبی جو اس حسینہ سے میرا بیاہ تیری مہربانی سے ہو تو میں اپنا سر تجھے چڑھاؤں یہ منت مان ڈنڈوت کر وہ سب کو ساتھ لے اپنے نگر کو گیا جب وہان پہونچا تو اسکے عشق نے ایسا ستایا کہ نیند بھوک پیاس اڑ گئی آٹھ پہر اسی کے دھیان بین رہنے لگا یہ بری حالت اسکے دوست نے دیکھ اسکے باپ سے جا سب حال کہا اس کا باپ بھی یہ شنکے بھوچکا ہوا اور اپنے جی میں اندیشہ کر کے کہنے لگا اسکی حالت دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اُس کنیا سے اسکی شادی نہ ہوگی تو یہ اپنی جان دیدیگا اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اسکا بیاہ کر دیجئے کہ جس سے یہ بچے اتنا سوچ کر لڑکے کے دوست کو ساتھ ہے اس گاؤن میں پہونچے اس گاؤں میں پہونچ لڑکی کے باپ سے جا گر کہا کہ میں تیرے پاس کچھ مانگنے آیا ہوں ہو تو دیوے تو میں کہوں اُن نے کہا میرے پاس وہ چیز ہوگی تو مین دون گا یہ تو کہہ اس طرح سے قول لے کر کہا تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے یہ سنکر اسنے بھی اسکی بات مان کر برہمن کو بلوا دن لگن مہورت ٹھہرا کر کہا تم لڑکے کو لے آو میں بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دونگا یہ سنکر وہ وہان سے اٹھ اپنے گھر آ سب سامان شادی کا تیار کر بیاہنے کو گیا اور وہان جا بیاہ کر بیٹے ہہو کو اپنے
گھر لے آیا اور دونوں آپسمین آرام سے رہنے لگے پھر کتنے دنوں کے بعد اس لڑکی کے باپ کے یہاں کچھ خوشی کا جلسہ تھا وہان سے نیوتا یہان بھی آیا یہ مرد عورت بھی تیار ہو اپنے دوست کو ساتھ ہے اس شہر کو چلے شہر کے نزدیک پہونچے تو دیبی کا مندر نظر آیا تو اسے یاد آئی تب ان نے چیمن میں یہ بات بچار کر کہا کہ مین بڑا چھوٹا اور گناہ گار ہوں کہ دیبی سے بھی جھوٹ بولا اتنی بات اپنے دل میں کہہ اس دوست سے کہا کہ تم یہان کھڑے رہو مین دیجی کا درشن کر آؤن اور استری کو کہا تو بھی یہان ٹھہر یہ کہہ مندر کے پاس پہونچ تالاب میں اشنان کر دیبی کے سامنے اگر ہاتھ جوڑ نمشکار کر کھاکر نے گردن پراما کا ہستی سے
جدا ہوا اور نجوم پر غرض کتنی ایک ویر کے پچھے اسکے دوست نے خیال کیا کہ اسے گئے بڑی دیر ہوئی تک
پھر انہین چل کر دیکھنا چاہیے اور اسکی استری کو کہا تو یہان کھڑی رہ میں اسے شتابی سے ڈھونڈھ کر
کے آتا ہوں یہ کہ کر دینی کے مندرمیں کیا دکھایا ہوا و رایانا ایک ایک پوری مین کہے گا کہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
85v441zqcix2h9vs7dtrrympp0y5c2n
31821
31820
2026-04-07T01:34:51Z
Charan Gill
46
31821
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی تب تو راجہ نے چندن اچھت پھول دھوپ دیپ دیکر یوجا کی اور اسی طرح سے ہر روز پوجا کرتا تھا غرض کتنے دنون پیچھے راجہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا راجہ نے باجے گاجے سے کٹمب سمیت جا کے دیبی کی پوجا کی اس عرصہ مین ایک دن کا اتفاق ہے کہ کسی گاؤن سے ایک دھوبی اپنے دوست کو ساتھ لیئے اس شہر کی طرف آتا تھا کہ دیبی کا مندر اسے نظر آیا اس نے ڈنڈوت کرنیکا
ارادہ کیا اسمین ایک دھوبی کی لڑکی بڑی حسین سامنے سے آتی اسے دیکھی اسے دیکھ فریفتہ ہوا اور دیبی کے درشن کو گیا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ اپنے اپنے جی مین کہا اے دیبی جو اس حسینہ سے میرا بیاہ تیری مہربانی سے ہو تو مین اپنا سر تجھے چڑھاؤن یہ منت مان ڈنڈوت کر وہ سب کو ساتھ لے اپنے نگر کو گیا جب وہان پہونچا تو اسکے عشق نے ایسا ستایا کہ نیند بھوک پیاس اڑ گئی آٹھ پہر اسی کے دھیان بین رہنے لگا یہ بری حالت اسکے دوست نے دیکھ اسکے باپ سے جا سب حال کہا اس کا باپ بھی یہ شنکے بھوچکا ہوا اور اپنے جی مین اندیشہ کر کے کہنے لگا اسکی حالت دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اُس کنیا سے اسکی شادی نہ ہوگی تو یہ اپنی جان دیدیگا اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اسکا بیاہ کر دیجئے کہ جس سے یہ بچے اتنا سوچ کر لڑکے کے دوست کو ساتھ ہے اس گاؤن مین پہونچے اس گاؤن مین پہونچ لڑکی کے باپ سے جا گر کہا کہ مین تیرے پاس کچھ مانگنے آیا ہون ہو تو دیوے تو مین کہون اُن نے کہا میرے پاس وہ چیز ہوگی تو مین دون گا یہ تو کہہ اس طرح سے قول لے کر کہا تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے یہ سنکر اسنے بھی اسکی بات مان کر برہمن کو بلوا دن لگن مہورت ٹھہرا کر کہا تم لڑکے کو لے آو مین بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دونگا یہ سنکر وہ وہان سے اٹھ اپنے گھر آ سب سامان شادی کا تیار کر بیاہنے کو گیا اور وہان جا بیاہ کر بیٹے ہہو کو اپنے
گھر لے آیا اور دونون آپسمین آرام سے رہنے لگے پھر کتنے دنون کے بعد اس لڑکی کے باپ کے یہان کچھ خوشی کا جلسہ تھا وہان سے نیوتا یہان بھی آیا یہ مرد عورت بھی تیار ہو اپنے دوست کو ساتھ ہے اس شہر کو چلے شہر کے نزدیک پہونچے تو دیبی کا مندر نظر آیا تو اسے یاد آئی تب ان نے چیمن مین یہ بات بچار کر کہا کہ مین بڑا چھوٹا اور گناہ گار ہون کہ دیبی سے بھی جھوٹ بولا اتنی بات اپنے دل مین کہہ اس دوست سے کہا کہ تم یہان کھڑے رہو مین دیجی کا درشن کر آؤن اور استری کو کہا تو بھی یہان ٹھہر یہ کہہ مندر کے پاس پہونچ تالاب مین اشنان کر دیبی کے سامنے اگر ہاتھ جوڑ نمشکار کر کھاکر نے گردن پراما کا ہستی سے
جدا ہوا اور نجوم پر غرض کتنی ایک ویر کے پچھے اسکے دوست نے خیال کیا کہ اسے گئے بئے دیر ہوئی تک پھر انہین چل کر دیکھنا چاہیئے اور اسکی استری کو کہا تو یہان کھڑی رہ مین اسے شتابی سے ڈھونڈھ کر لے آتا ہون یہ کہہ کر دیبی کے مندر مین گیا دکھایا کیا ہے کہ دھڑ سے اسکا سر جُدا پڑا حیا ہے یہ حالت وہانکی دیکھ اپنے جی مین کہے گا کہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
rdwp8zku3swlaehu3q32qmfcvn7x7rp
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/28
250
12694
31822
30784
2026-04-07T10:17:05Z
Charan Gill
46
31822
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھے گا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو پڑھایا ہے بلکہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ کام کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنے ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیھیتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آر جی کا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ، جو تو مجھے سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو
زندہ کر دے پھر دبی نے کہا ان کے دھر دن سے سر نگار سے ان نے مارے خوشی کے گھر میٹ مین سر بدل کر
لگا دیا اور دہی نے امرت لاو یا یہ دونون بھی کر اٹھ کھڑے ہوگئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہا تھا یہ عورت
میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہی ہے فقہ کہ قتال بول کر کے راجہ کر بیت ان دو نوازی مین وہ
عورت کس کی ہوئی راجہ نے کہائن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑ ہین
مین سمیر بسیار بست عمده و مخصوص سی اور و فنون مین کلپ پر کش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہر اس طرح سے
جس کا عد و سیم جو اسکی ہوئی اتنی بات من بیتال پھر اسی درخت مین جائے گا اور راجہ بھی جائے اور یون کیا
ساتوین کہانی ]
بیتال بولا اے راجہ جہا اور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ پیپ پیشراور اسکی رانی کا نام سوچنا اور مٹی کام
تر بھون سمندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے تمھین بہن کی سہی بھوین بہان
سی اک طوطہ کی یہی گلا طراحی کا سازدانت انار کے کے دانے موٹون کی لالی کند وریا کی سی ہر چیتے ک
کسی ہاتھ باون
کول کینون کے سے رنگ جھوٹی کا ساغرض اسکی جو ہن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جدید
یا ہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ شہر گئی کہ
راجہ جمپ کیٹر کے گھرمین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سر زمین مو مت ہوتے ہین
پھر تک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر پر مینون کے ہاتھ راجہ چپ کر کے یہان بھیجین
من
واجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی اب تو راجہ نے کہا تویہ
کر یہ بات بھی اپنے نہ مانی اور اپنے باپ کوکو ان صوتی اور اور عقل و ہر حسین تینون باتین بوده اسیری
کہ اس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
r6rcs4bzv70lzv46y0dt7rq73ts8b4m
31824
31822
2026-04-07T11:40:07Z
Charan Gill
46
31824
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھے گا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو پڑھایا ہے بلکہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ کام کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنے ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیھیتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آر جی کا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ، جو تو مجھے سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو زندہ کر دے پھر دیبی نے کہا ان کے دھڑون سے سر نگار سے ان نے مارے خوشی کے گھبراہٹ مین سر بدل کر لگا دیا اور دیبی نے امرت لا دیا یہ دونون جی کر اٹھ کھڑے ہو گئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہا تھا یہ عورت میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے فسّہ کہہ بیتال بول کر کے راجہ کر بیت ان دو نوازی مین وہ
عورت کس کی ہوئی راجہ نے کہائن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑ ہین
مین سمیر بسیار بست عمده و مخصوص سی اور و فنون مین کلپ پر کش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہر اس طرح سے
جس کا عد و سیم جو اسکی ہوئی اتنی بات من بیتال پھر اسی درخت مین جائے گا اور راجہ بھی جائے اور یون کیا
ساتوین کہانی ]
بیتال بولا اے راجہ جہا اور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ پیپ پیشراور اسکی رانی کا نام سوچنا اور مٹی کام
تر بھون سمندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے تمھین بہن کی سہی بھوین بہان
سی اک طوطہ کی یہی گلا طراحی کا سازدانت انار کے کے دانے موٹون کی لالی کند وریا کی سی ہر چیتے ک
کسی ہاتھ باون
کول کینون کے سے رنگ جھوٹی کا ساغرض اسکی جو ہن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جدید
یا ہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ شہر گئی کہ
راجہ جمپ کیٹر کے گھرمین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سر زمین مو مت ہوتے ہین
پھر تک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر پر مینون کے ہاتھ راجہ چپ کر کے یہان بھیجین
من
واجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی اب تو راجہ نے کہا تویہ
کر یہ بات بھی اپنے نہ مانی اور اپنے باپ کوکو ان صوتی اور اور عقل و ہر حسین تینون باتین بوده اسیری
کہ اس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
a0jvuguyacnsu1inof69ggc46hmycpp
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/198
250
12801
31816
31270
2026-04-06T16:05:03Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31816
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>ایک تیر سے تین درختوں کو ایک ہی
ساتھ چھید ڈالتا ہے' !
پہاڑ کے نِیچے سات درخت ایک ہی قطار
میں لگے ہوئے تھے - رامچندر نے تیر کو کمان
پر چڑھا کر چھوڑا تو وہ ساتوں درختوں کو پار
کرتا ہوا پھر ترکش میں آگیا . رامچندر کا یہ
کمال دیکھ کر سگریو کو یقین ہو گیا کہ یہ بالی
کو مار سکینگے . دوسرے دن اُس نے ہتھیار سجے
اور بڑی دلیری سے بالی کے سامنے جا کر بولا.
'او ظالم ! نکل آ ۔ آج میرا اور تیرا آخری
بار مقابلہ ہو جائے ۔ تو نے مجھے بے گناہ راج
سے نکال دیا ہے۔ آج تجھے اُس کا مزہ
چکھاؤنگا'.
بالی نے کئی بار سگر یو کو پچھاڑ دیا تھا.
پر ہر مرتبہ تارا کی سفارش کرنے پر
اُسے چھوڑ دیا تھا . یہ للکار سن کر غُصہ سے
لال ہو گیا اور بولا' معلوم ہوتا ہے تیری<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
6g413mjdgn76t0belvlfwklhqxpvuyj
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/199
250
12802
31817
31273
2026-04-06T16:12:47Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31817
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>شامتیں آئی ہیں - جبھی تجھے اتنا گھمنڈ ہو گیا
ہے ۔ کیوں ناحق اپنی جان کا دشمن ہُوا
ہے ۔ جا چوروں کی طرح پہاڑ پر چھپ کر
بیٹھ ۔ تیرے خون سے کیا ہاتھ رنگوں '.
تارا نے بالی کو اکیلے میں بُلا کر کہا 'میں
نے سُنا ہے سگریو نے اجودھیا کے راجہ
رامچندر سے دوستی کر لی ہے ۔ وہ بڑے
بہادر ہیں ۔ تم اس کا تھوڑا بہت حصہ دیگر
راضی کر لو ۔ اس وقت لڑنا مناسب نہیں ہے'.
مگر بالی اپنی طاقت کے غرور میں اندھا
ہو رہا تھا ۔ بولا ۔ 'سگر یو ایک نہیں سو راجاؤں
کو اپنی مدد کے لئے بُلا لائے میں بالکل پروا
نہیں کرتا ۔ جب میں نے راون کی کچھ حقیقت
نہیں سمجھی تو رامچندر کی کیا ہستی ہے ۔ میں
نے سمجھا دیا ہے، لیکن وہ مجھے لڑنے پر مجبور
کریگا تو اُس کی شامت - اب کی مار ہی ڈالونگا۔
ہمیشہ کے لئے قصّہ پاک کر دونگا' .
-<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
lbex57k2vctpwbxaksmaylr2s47l753