ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.23 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/12 250 12678 31831 31823 2026-04-08T03:34:48Z Taranpreet Goswami 90 31831 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|١١|}}</noinclude>ہوگا تب دیوان کا بیٹا بولا تم میرے واستے زہر لائے ہو اسی مین خیر ہوئی کہ آپ نے نہین کھائی مہاراج ایک بات میری سنیئے کہ رنڈی اپنے دوست کے دوست کو نہین چاہتی آپ نے یہ خوب نہ کیا جو میرا نام وہان لیا یہ سُن کنور بولا ایسی بات تم کہتے ہو جو کبھی کسو سے نہ ہو سکے اگر آدمی آدمی سے نہ ڈرے پر خدا سے تو ڈریگا اتنا کہہ اسے اسمین سے ایک لڈّو کتّے کے آگے ڈال دیا جوہین کتے نے کھایا وہین چٹ پٹا کر مر گیا یہ طور دیکھہ راج پتر اپنے جی مین غصّہ ہو کہنے لگا ایسی کھوٹی رنڈی سے ملنا لازم نہین آجتک تو میرے دل مین اسکی محبت تھی پر اب معلوم ہوا یہ سُن دیوان کا بیٹا بولا مہاراج جو ہوا سو ہوا اب وہ بات کیا چاہیے جس سے اسکو اپنے گھر لے چلئے راج کمار بولا بھائی یہ بھی تمھین سے ہوگا دیوان کے بیٹے نے کہا آج ایک کام کیجئے پھر پدماوتی کے پاس جائیے اور جو کہون سو کیجۓ پہلے تو اس سے جا کر بہت سا اخلاص پیار کرو جب وہ سو جائے تب اسکا زیور اتار یہ ترسول اسکی بائین جانگھ مین مار وہان سے فوراً چلے آؤ یہ سن راجکمار رات کو پدماوتی کے پاس گیا اور بہت سی باتین دوستی کی کر دونون ملکر سو رہے لیکن باطن مین یہ قابو دیکھتا تھا غرض جب راج کنیا سو گئی تو اُن نے سارا گہنا اتار لیا اور جانگھ مین ترسول مار اپنے مکان کو چلا آیا سارا احوال دیوان کے بیٹے سے بیان کر سب گہنا اسکے آگے رکھ دیا پھر وہ زیور اٹھا راج کمار کو ساتھ لے جوگی کا بھیس بنا کر ایک مرگھٹ مین جا بیٹھا آپ تو گرو بنا اور اسے چیلا بنا کر اس سے کہا بازار مین جاکر اس گہنے کو بیج اگر کوئی اسمین تجھے پکڑے تو اسے میرے پاس لے آنا اسکی بات سُن راج پتر نے زیور کو لے شہر مین جا متصِل راجہ کی ڈیوڑھی کے ایک سنار کو دکھایا اسنے دیکھتے ہی پہچان کر کہا کہ راج کنیا کا گہنا ہے سچ کہہ تونے کہان پایا یہ اس سے کہہ رہا تھا کہ دس بیس آدمی اور بھی آکھٹے ہو گئے غرض کوتوال نے یہ خبر سُن آدمی بھیج راج کمار کو مع زیور اور سنار پکڑوا منگایا اور اس زیور کو دیکھ اس سے پوچھا کہ سچ کہہ تونے کہان سے پایا جب اسنے کہا مجھے گرو نے بیچنے کو دیا ہے پر مجھے معلوم نہین کہ وہ کہان سے لائے تب کوتوال نے اسکے گرو کو بھی پکڑوا منگایا اور دونون کو زیور سمیت راجہ کے حضور مین لا کر تمام حال عرض کیا یہ ماجرا سنکے راجہ جوگی سے پوچھنے لگا کہ ناتھ جی یہ گہنا تمنے کہان سے پایا جوگی بولا مہاراج کالی چودس کی رات کو مین مرگھٹ مین ڈاکنی منتر سِدہ کرنیکو گیا تھا جب وہ ڈاکنی آئی تو مین نے اسکا زیور اور کپڑا اتار لیا اور بائین جانگ مین اسکے ترسول کا نِشان کر دیا اسطرح سے یہ گہنا میرے ہاتھ آیا یہ بات راجہ جوگی سے سُن محل مین گیا اور جوگی آسن پر راجہ نے رانی سے کہا تو پدماوتی کی بائین جانگ مین دیگھ تو نِشان ہے کہ نہین اور کیسا نِشان ہے رانی نے جاکر دیکھا تو ترسول کا داغ ہے راجہ سے آکر کہا مہاراج تین نِشان برابر ہین اور ایسے معلوم ہوتے ہین گویا کِسو نے ترسول مارا ہے راجہ یہ بات سُن باہر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 6bzo5yv2j4awvab79fy7f8epr0mr009 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/24 250 12690 31825 31803 2026-04-07T13:04:50Z BalramBodhi 60 31825 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|٢٣|}}</noinclude>پیادے آ پہونچے اور اسے باندھ کر کوتوال کے پاس لائے کوتوال نے راجہ کو خبر دی راجہ نے اس سے یہ حال بلوا کر پوچھا کہا مین کچھ نہین جانتا اور سیٹھ کی لڑکی سے جو بلا کر پوچھا تو اسنے کہا مہاراج عیان دیکھ کے مجھ سے کیا پوچھتے ہو پھر راجہ نے اس سے کہا تجھے کیا سزا دین یہ سنکے بولا آپ کے انصاف مین جو ٹھہرے سو کیجئے راجہ نے کہا اسے لیجا کر سولی دو لوگ راجہ کا حکم پا کے اسے سولی دینے لے چلے یہ سنجوگ دیکھ کر چور بھی وہان کھڑا تماشہ دیکھتا تھا تب اس نے دہائی دی راجہ نے اسے بلوا کر پوچھا تو کون ہے کہا مہاراج مین چور ہون اور یہ بے گناہ ہے ناحق اس کا خون ہوتا ہے آپ نے کچھ انصاف نکیا تب راجہ نے اسے بھی بلوایا اور چور سے پوچھا اپنے دھرم سے سچ کہہ یہ مقدمہ کس طرح سے ہے چور نے مفصل احوال کہا تو راجہ نے اچھی طرح سمجھا آخر ہرکارے بھیج اس عورت کا یار جو موا ہوا پڑا تھا اس کے منھ مین سے ناک منگوا کے دیکھی تب جانا کہ بے تقصیر ہے اور چور سچا ہے پھر چور بولا مہاراج نیکون کا پالنا اور بدون کو سزا دنیا راجاؤن کا برابر دھرم چلا آتا ہے اتنی بات کہہ کر چورامن طوطا بولا مہاراج ایسی گن کی پوری ناریان ہوتی ہین راجہ نے اس ناری کا منھ کالا کروا سر منڈوا کر گدہے پر چڑھا نگری کے پھیرے دلوا چڑھوا دیا اس چور اور ساہوکار بچے کو پیڑے دے رخصت کیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ ان دونون مین سے کسے زیادہ پاپ ہوا راجہ بیر بکرما جیت بولا استری کو بیتال بولا کہ کس طرح یہ سنکے راجہ نے کہا مرد کیسا ہی بدکار کیون نہ ہو پر اسے دھرم ادھرم کا بچار رہتا ہے اس سے ناری کو بہت سا پاپ ہوا یہ بات سن کے پھر بیتال چلا گیا اسی درخت پر جا لٹکا پھر راجہ جا اسکو پیڑ سے اتار گٹھری باندھے کاندھے پر رکھ لیچلا پانچوین کہانی بیتال بولا اے راجہ اجین نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ مہابل اور اسکے ہرداس نام ایک ہرکارا تھا اس ہرکارے کی بیٹی کا نام مہادیوی وہ بہت خوبصورت تھی جب وہ شادی کی قابل ہوئی تو اس کے باپ کو فکر ہوئی کہ اسکا بیاہ کر دینا چاہیے غرضکہ ایک دن اس لڑکی نے اپنے باپ سے کہا کہ پتا جی جو سب ہنر جانتا ہو مجھے اسے دیجیو تب اسنے کہا کہ جو سب علم سے واقِف ہوگا تیری شادی مین اسکے ساتھ کر دونگا پھر ایک دن اس راجہ نے ہرداس کو بلاکر پوچھا ملک دکن مین ہر چند نامہ راجہ ہے اسکی تم جا کر میری طرف سے خیر و عافیت پوچھو انکی خیریت مزاج لے آؤ ہرداس یہ راجہ کا حکم پاکر رخصت ہوا اور اس راجہ کے پاس کتنے ایک دنون مین جا پہونچا اور اس سے اپنے راجہ کا سب پیغام کہا اور ہمیشہ اس راجہ کے پاس رہنے لگا غرض ایک دن کی بات ہے کہ اس راجا نے اس سے پوچھا کہ اے ہرداس ابھی کلجگ شُروع ہویا یا نہین تب اسے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> iaq1257mtj62bi1ugtg77rh90m2xr94 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/25 250 12691 31837 31807 2026-04-08T07:20:08Z BalramBodhi 60 31837 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||٢٤|بیتال پچیسی}}</noinclude>ہاتھ جوڑ کر کہا کلجگ موجود ہے کیونکہ دنیا مین جھوٹ بڑا ہے اور سچائی نہین رہی لوگ منھ پر بات میٹھی کہتے ہین اور دل مین کپٹ رکھتے ہین دھرم جاتا رہا گناہ بڑھ گئے درخت پھل کم دینے لگے راجہ ڈانڈ لینے لگے برہمن لالچی ہو گئے عورتون نے ہیا چھوڑ دی بیٹا باپ کا حکم نہین مانتا بھائی بھائی کا اعتبار نہین کرتا دوستون سے دوستی جاتی رہی خاوند سے وفا اٹھ گئی نوکرون نے خدمت چھوڑ دی اور جتنی خراب باتین تھین سب نظر آتی ہین جب راجہ سے یہ کہہ چکا تب راجہ اٹھکر محل گیا اور یہ اپنے مقام پر آ کر بیٹھا کہ اتنے مین برہمن اسکے پاس آ کہنے لگا کہ مین تجھ سے کچھ مانگنے آیا ہون یہ سنکراسنے کہا مانگ کیا مانگتا ہے اُس نے کہا کہ اپنی بیٹی مجھے دے ہرداس بولا کہ جس مین سب ہنر ہونگے مین اسکو دونگا یہ سنکر وہ بولا کہ مین سب بدیا جانتا ہون اس نے کہا کہ کچھ اپنا ہنر مجھے دکھلا تو مین جانون کہ تجھے علم آتا ہے تب سن برہمین نے کہا کہ مین نے ایک رتھ بنایا ہے اسمین یہ تاثیر اور طاقت ہے کہ جہان جانے کا ارادہ کرو تہان ایک پل مین لے پہونچا دے تب ہرداس نے کہا اس رتھ کو فجر کے وقت میرے پاس لے آئیو غرض وہ صبح کو رتھ لے ہرداس پاس آیا پھر یہ دونون رتھ پر سوار ہو اجین شہر مین آن پہونچے یہان اتفاقا اسکے آنے سے پہلے کسی اور برہمین کے لڑکے نے بڑے بیٹے سے آکر کہا تھا کہ تو اپنی بہن مجھے دے اور اس نے بھی کہا تھا کہ جو سب علم جانتا ہوگا اسے دونگا اور اس برہمن کے لڑکے نے بھی کہا کہ مین سب ہنر و علم جانتا ہون یہ سنکے اس نے کہا تھا کہ تجھے ہی دینگے ایک اور برہمن کے لڑکے نے اس لڑکی کی مان سے کہا تھا کہ اپنی بیٹی ہمین دے اس نے بھی اسے یھی جواب دیا تھا کہ جو سب ہنر جانتا ہوگا اسی کو مین اپنی لڑکی دون گی اس برہمن کے لڑکے نے بھی کہا تھا کہ مین تیراندازی مین کمال رکھتا ہون اور بغیر دیکھے آواز پر تیر لگاتا ہون یہ سنکے اسنے بھی کہا تھا کہ مین نے قبول کیا تجھے ہی دونگی غرض '''آنا تینون برہمنون کا پاس ہرداس کے اور بیان کرنا ہنر اپنا اپنا'''<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> hhs6bk4flcye8tdw4ho6fbyfhzwwwpd صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/28 250 12694 31828 31824 2026-04-07T21:31:27Z Charan Gill 46 31828 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھے گا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو پڑھایا ہے بلکہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ کام کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنے ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیھیتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آر جی کا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ، جو تو مجھے سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو زندہ کر دے پھر دیبی نے کہا ان کے دھڑون سے سر لگا دے ان نے مارے خوشی کے گھبراہٹ مین سر بدل کر لگا دیا اور دیبی نے امرت لا دیا یہ دونون جی کر اٹھ کھڑے ہو گئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے فسّہ کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ بکرماجیت ان دونون مین وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا سُن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑون مین سمیر پہاڑ بہت عمده و مخصوص ہی اور درختون مین کلپ پرکش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہے اس طرح سے جس کا عمدہ جسم ہے اسکی ہوئی اتنی بات سُن بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا اور راجہ بھی جا اسے کندھے پر رکھ لیچلا '''ساتوین کہانی''' بیتال بولا اے راجہ جہا اور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ پیپ پیشراور اسکی رانی کا نام سوچنا اور مٹی کام تر بھون سمندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے تمھین بہن کی سہی بھوین بہان سی اک طوطہ کی یہی گلا طراحی کا سازدانت انار کے کے دانے موٹون کی لالی کند وریا کی سی ہر چیتے ک کسی ہاتھ باون کول کینون کے سے رنگ جھوٹی کا ساغرض اسکی جو ہن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جدید یا ہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ شہر گئی کہ راجہ جمپ کیٹر کے گھرمین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سر زمین مو مت ہوتے ہین پھر تک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر پر مینون کے ہاتھ راجہ چپ کر کے یہان بھیجین من واجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی اب تو راجہ نے کہا تویہ کر یہ بات بھی اپنے نہ مانی اور اپنے باپ کوکو ان صوتی اور اور عقل و ہر حسین تینون باتین بوده اسیری کہ اس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> e6o7ypd3z2a0r1pqpmqex00cm4hhkcc 31829 31828 2026-04-07T22:03:02Z Charan Gill 46 31829 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھے گا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو پڑھایا ہے بلکہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ کام کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنے ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیھیتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آر جی کا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ، جو تو مجھے سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو زندہ کر دے پھر دیبی نے کہا ان کے دھڑون سے سر لگا دے ان نے مارے خوشی کے گھبراہٹ مین سر بدل کر لگا دیا اور دیبی نے امرت لا دیا یہ دونون جی کر اٹھ کھڑے ہو گئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے فسّہ کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ بکرماجیت ان دونون مین وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا سُن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑون مین سمیر پہاڑ بہت عمده و مخصوص ہی اور درختون مین کلپ پرکش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہے اس طرح سے جس کا عمدہ جسم ہے اسکی ہوئی اتنی بات سُن بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا اور راجہ بھی جا اسے کندھے پر رکھ لیچلا '''ساتوین کہانی''' بیتال بولا اے راجہ چںپا پور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ چمپکیشراور اسکی رانی کا نام سلوچنا اور بیٹی کا نام تر بھون سندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے انکھین ہرن کی سی بھوین کمان سی ناک طوطہ کی سی گلا صراحی کا سا دانت انار کے دانے ہوٹون کی لالی کندوری کی سی کمر چیتے کی سی ہاتھ پاون کومل کنون کے سے رنگ چنپے کا سا غرض اسکی جو ہن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جدید یا ہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ شہر گئی کہ راجہ جمپ کیٹر کے گھرمین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سر زمین مو مت ہوتے ہین پھر تک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر پر مینون کے ہاتھ راجہ چپ کر کے یہان بھیجین من واجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی اب تو راجہ نے کہا تویہ کر یہ بات بھی اپنے نہ مانی اور اپنے باپ کوکو ان صوتی اور اور عقل و ہر حسین تینون باتین بوده اسیری کہ اس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> hj5mha6s467yaam53s8yeuo9tkmzyk3 31830 31829 2026-04-08T03:06:34Z Charan Gill 46 31830 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھے گا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو پڑھایا ہے بلکہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ کام کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنے ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیھیتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آر جی کا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ، جو تو مجھے سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو زندہ کر دے پھر دیبی نے کہا ان کے دھڑون سے سر لگا دے ان نے مارے خوشی کے گھبراہٹ مین سر بدل کر لگا دیا اور دیبی نے امرت لا دیا یہ دونون جی کر اٹھ کھڑے ہو گئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے فسّہ کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ بکرماجیت ان دونون مین وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا سُن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑون مین سمیر پہاڑ بہت عمده و مخصوص ہی اور درختون مین کلپ پرکش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہے اس طرح سے جس کا عمدہ جسم ہے اسکی ہوئی اتنی بات سُن بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا اور راجہ بھی جا اسے کندھے پر رکھ لیچلا '''ساتوین کہانی''' بیتال بولا اے راجہ چنپا پور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ چمپکیشراور اسکی رانی کا نام سلوچنا اور بیٹی کا نام تر بھون سندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے انکھین ہرن کی سی بھوین کمان سی ناک طوطہ کی سی گلا صراحی کا سا دانت انار کے دانے ہوٹون کی لالی کندوری کی سی کمر چیتے کی سی ہاتھ پاون کومل کنول کے سے رنگ چنپے کا سا غرض اسکی جوہن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جب وہ بیاہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ خبر گئی کہ راجہ چمپکیشر کے گھر مین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سُر زمین موہت ہوتے ہین پھر ملک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر پر مینون کے ہاتھ راجہ چپ کر کے یہان بھیجین واجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی اب تو راجہ نے کہا تویہ کر یہ بات بھی اپنے نہ مانی اور اپنے باپ کوکو ان صوتی اور اور عقل و ہر حسین تینون باتین بوده اسیری کہ اس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> k7dp2fkwiw1ns1huwm9bxmq66x9611q 31835 31830 2026-04-08T05:03:27Z Charan Gill 46 31835 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھے گا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو چڑھایا ہے بلکہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ کام کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنے ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیھیتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آر جی کا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ، جو تو مجھے سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو زندہ کر دے پھر دیبی نے کہا ان کے دھڑون سے سر لگا دے ان نے مارے خوشی کے گھبراہٹ مین سر بدل کر لگا دیا اور دیبی نے امرت لا دیا یہ دونون جی کر اٹھ کھڑے ہو گئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے فسّہ کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ بکرماجیت ان دونون مین وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا سُن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑون مین سمیر پہاڑ بہت عمده و مخصوص ہی اور درختون مین کلپ پرکش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہے اس طرح سے جس کا عمدہ جسم ہے اسکی ہوئی اتنی بات سُن بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا اور راجہ بھی جا اسے کندھے پر رکھ لیچلا '''ساتوین کہانی''' بیتال بولا اے راجہ چنپا پور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ چمپکیشراور اسکی رانی کا نام سلوچنا اور بیٹی کا نام تر بھون سندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے انکھین ہرن کی سی بھوین کمان سی ناک طوطہ کی سی گلا صراحی کا سا دانت انار کے دانے ہوٹون کی لالی کندوری کی سی کمر چیتے کی سی ہاتھ پاون کومل کنول کے سے رنگ چنپے کا سا غرض اسکی جوہن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جب وہ بیاہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ خبر گئی کہ راجہ چمپکیشر کے گھر مین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سُر زمین موہت ہوتے ہین پھر ملک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر برہمنون کے ہاتھ راجہ چمپکیشر کے یہان بھیجین راجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی اب تو راجہ نے کہا تو سوعمر کر یہ بات بھی اسنے نہ مانی اور اپنے باپ کو ان صوتی اور اور عقل و ہر حسین تینون باتین بوده اسیری کہ اس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> rreavupa54hg22fyiytorl6d9cfsgwd 31836 31835 2026-04-08T05:47:20Z Charan Gill 46 31836 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھے گا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو چڑھایا ہے بلکہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ کام کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنے ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیھیتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آر جی کا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ، جو تو مجھے سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو زندہ کر دے پھر دیبی نے کہا ان کے دھڑون سے سر لگا دے ان نے مارے خوشی کے گھبراہٹ مین سر بدل کر لگا دیا اور دیبی نے امرت لا دیا یہ دونون جی کر اٹھ کھڑے ہو گئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے فسّہ کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ بکرماجیت ان دونون مین وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا سُن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑون مین سمیر پہاڑ بہت عمده و مخصوص ہی اور درختون مین کلپ پرکش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہے اس طرح سے جس کا عمدہ جسم ہے اسکی ہوئی اتنی بات سُن بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا اور راجہ بھی جا اسے کندھے پر رکھ لیچلا '''ساتوین کہانی''' بیتال بولا اے راجہ چنپا پور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ چمپکیشراور اسکی رانی کا نام سلوچنا اور بیٹی کا نام تر بھون سندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے انکھین ہرن کی سی بھوین کمان سی ناک طوطہ کی سی گلا صراحی کا سا دانت انار کے دانے ہوٹون کی لالی کندوری کی سی کمر چیتے کی سی ہاتھ پاون کومل کنول کے سے رنگ چنپے کا سا غرض اسکی جوہن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جب وہ بیاہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ خبر گئی کہ راجہ چمپکیشر کے گھر مین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سُر زمین موہت ہوتے ہین پھر ملک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر برہمنون کے ہاتھ راجہ چمپکیشر کے یہان بھیجین راجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی اب تو راجہ نے کہا تو سعمبر کر یہ بات بھی اسنے نہ مانی اور اپنے باپ کو ان خوبصوتی زوراور عقل و ہنر حسمین یہ تینون باتین ہون میری کہ اس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> llify3wza1r0vkin3a6zfk7avywgq0t صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/199 250 12802 31838 31817 2026-04-08T07:54:00Z Taranpreet Goswami 90 31838 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>شامتیں آئی ہیں - جبھی تجھے اتنا گھمنڈ ہو گیا ہے ۔ کیوں ناحق اپنی جان کا دشمن ہُوا ہے ۔ جا چوروں کی طرح پہاڑ پر چھپ کر بیٹھ ۔ تیرے خون سے کیا ہاتھ رنگوں'. تارا نے بالی کو اکیلے میں بُلا کر کہا 'میں نے سُنا ہے سگریو نے اجودھیا کے راجہ رامچندر سے دوستی کر لی ہے ۔ وہ بڑے بہادر ہیں ۔ تم اس کا تھوڑا بہت حصہ دیگر راضی کر لو ۔ اس وقت لڑنا مناسب نہیں ہے'. مگر بالی اپنی طاقت کے غرور میں اندھا ہو رہا تھا ۔ بولا ۔ 'سگر یو ایک نہیں سو راجاؤں کو اپنی مدد کے لئے بُلا لائے میں بالکل پروا نہیں کرتا ۔ جب میں نے راون کی کچھ حقیقت نہیں سمجھی تو رامچندر کی کیا ہستی ہے ۔ میں نے سمجھا دیا ہے، لیکن وہ مجھے لڑنے پر مجبور کریگا تو اُس کی شامت - اب کی مار ہی ڈالونگا۔ ہمیشہ کے لئے قصّہ پاک کر دونگا' . -<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 81cxfivekfeu3q1mwv2ra24o8znsurj صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/200 250 12803 31826 31276 2026-04-07T15:27:25Z Keshuseeker 83 /* پروف خوانی شدہ */ 31826 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>الی جب باہر آیا تو دیکھا سُگر یو ابھی تک کھڑا للکار رہا ہے ۔ تب اُس سے ضبط نہ ہو سکا ۔ اپنی گدا اُٹھا لی اور سُگریو پر جھپٹا۔ سُگر یو پیچھے ہٹتا ہوا ہالی کو اُس مقام تک لایا جہاں رام چندر تیر و کمان لئے گھات میں بیٹھے تھے ۔ اُسے اُمید تھی کہ اب رام چندر تیر چھوڑ کر بالی کا کام تمام کر دینگے، مگر جب کوئی تیر نہ آیا اور بالی اُس پر وار کرتا ہی گیا تب تو سُگریو جان لے کر بھاگا اور پہاڑ کے ایک غار میں چھپ گیا ۔ بالی نے بھاگے ہوئے دشمن کا پیچھا کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھ کر مونچھوں پر تناؤ دیتے ہوئے گھر کا راستہ لیا . تھوڑی دیر کے بعد جب رامچندر سگریو کے پاس آئے تو وہ بگڑ کر بولا ۔ 'واہ صاحب واہ! آپ نے تو آج میری جان ہی لے لی تھی۔ مجھ سے تو کہا کہ میں درخت کی آڑ سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> oqb6btrqfo52x0pyn03qmlzy9ha7fcj صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/201 250 12804 31827 31279 2026-04-07T15:31:29Z Keshuseeker 83 /* پروف خوانی شدہ */ 31827 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>بالی کو مار گراؤنگا اور تیر کے نام ایک تنکا بھی نہ چھوڑا ۔ جب آپ بالی سے اتنا ڈرتے تھے تو مجھے لڑنے کے لئے بھیجا ہی کیوں تھا ۔ میں تو بڑے مزے سے یہاں چھپا بیٹھا تھا۔ میں نہ جانتا تھا کہ آپ اتنے وعدہ فراموش ہیں ۔ بھاگ نہ آتا تو اس نے آج مجھے مار ہی ڈالا تھا'. رام نے شرمندہ ہو کر کہا ۔ 'سگریو میں اپنے وعدے کو بھولا نہ تھا اور نہ بالی سے ڈر ہی رہا تھا ۔ بات یہ تھی کہ تم دونو بھائی صورت شکل میں اتنا ملتے جلتے ہو کہ میں دُور سے پہچان ہی نہ سکا کہ کون تم ہو اور کون بالی ۔ ڈرتا تھا کہ ماروں تو بالی کو اور تیر تیر لگ جائے تمہیں ۔ بس اتنی سی بات تھی ۔ کل تم ایک مالا گلے میں پہن کر پھر اُس سے لڑو ۔ اس طرح میں تمہیں پہچان جاؤنگا اور ایک ہی تیر میں بالی کا کام تمام کر دونگا .<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> qseq0xydxl4e4pabzs1ij8f33l39syg ویکی ماخذ:چوپال 4 12891 31832 2026-04-08T03:50:19Z Satdeep Gill 85 «===» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 31832 wikitext text/x-wiki === lalvfg4l97swuhc29l1mx93ksf407zm 31833 31832 2026-04-08T03:52:07Z Satdeep Gill 85 31833 wikitext text/x-wiki ==Request for adminship== I have would like to request sysop and interfance admin rights on Urdu Wikisource to help support the technical aspects on the wiki, from adding gadgets to ensuring templates are in place for the project to function effectively. --[[صارف:Satdeep Gill|Satdeep Gill]] ([[تبادلۂ خیال صارف:Satdeep Gill|تبادلۂ خیال]]) 03:52، 8 اپريل 2026ء (UTC) ===Support=== ===Oppose=== ===Discussion=== 4oq27djiz8j1xmx3wil5x89ra9opfgl 31834 31833 2026-04-08T03:52:30Z Satdeep Gill 85 31834 wikitext text/x-wiki == Request for adminship for User:Satdeep Gill == I have would like to request sysop and interfance admin rights on Urdu Wikisource to help support the technical aspects on the wiki, from adding gadgets to ensuring templates are in place for the project to function effectively. --[[صارف:Satdeep Gill|Satdeep Gill]] ([[تبادلۂ خیال صارف:Satdeep Gill|تبادلۂ خیال]]) 03:52، 8 اپريل 2026ء (UTC) ===Support=== ===Oppose=== ===Discussion=== 7upksebs3rqffcqwaqovnmpt8n68fj0