ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.23
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/26
250
12692
31846
31815
2026-04-09T09:39:17Z
BalramBodhi
60
31846
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||۲۵|بیتال پچیسی}}</noinclude>اسی طرح سے تینون بر آن کے اکھٹے ہوئے ہرداس اپنے دل مین سوچنے لگا کہ ایک لڑکی اور تین بر کسے دون اِسی فکر مین تھا کہ رات کو ایک راکشس انکی کنیا کو اٹھا کے بندھیاچل پہاڑ کے اوپر لیگیا کہا ہے کہ زیادتی کِسی چیز کی اچھی نہین بہت زیادہ خوبصورت سیتا تھی راون نے ہری راجہ بل نے دان دیا سو دلدری ہوا راون نے بہت زیادہ غرور کر کے اپنے خاندان کو تباہ کیا غرض جب صبح ہوئی اور سب گھر کے لوگون نے لڑکی کو نہ دیکھا تب طرح طرح کی فکرین کرنے لگے یہ بات وہ تینون بر بھی سُنکر وہان آئے انمین ایک دانشمند تھا اس سے ہرداس نے پوچھا تو بتا کہ وہ کنان کہان گئی اسنے گھڑی ایک مین بچار کرکے کہا تمھاری لڑکی راکشس نے پہاڑ مین لیجا کر رکھا ہے اسمین دوسرا بولا کہ رکشس کو مار کر مین اسے لے آؤنگا پھر تیسرا بولا ہمارے رتھ پر سوار ہو جاؤ اور اسے لے آؤ یہ سنتے ہی وہ جھٹ اسکی رتھ پر سوار ہو وہان پوہنچے اس دیو کو مار فوراً اسے لے آیا اور تینون آپسمین جھگڑنے لگے تب اس کے باپ نے دل مین سوچ کر کہا کہ سبھون نے احسان کیا ہے کسے دون اور کسے نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم اُن تینون مین سے وہ کنیان کسکی استری ہوئی راجہ بولا وہ جورو اسکی ہوئی جو راکشس کو مار کے لایا بیتال نے کہا سب کا گن برابر ہے کس طرح سے وہ اسکی جورو ہوئی راجہ نے کہا ان دونون نے احسان کیااس سے انکو ثواب ہوا اور یہ لڑ کر اسے مار کر لایا ہے اس واسطے وہ اسکی جورو ہوئی یہ بات سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین بیتال کو باندھ کاندھے پر رکھ اسی طرح سے لیچلا
{{rule}}
{{c|<big>چھٹی کہانی</big>}}
{{rule}}
بیتال بولا اے راجہ دھرم پور نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ دھرم سیل اسکے دیوان کا نام اندھک تھا اسنے ایک دن راجہ سے کہا مہاراج ایک مندر بنا کر اسمین دیبی کو بٹھا کر ہمیشہ پوجا کیجئے کہ اس کا شاستر مین بڑا ثواب لِکھا ہے تب راجا ایک مندر بنوا دیبی کو پدھرا کر شاستر کی بدھ سے پوجا کرنے لگا اور بغیر پوجا کیئے جل بھی نہ پیتا تھا اسی طرح سے جب کتنی ایک مدّت گذری تو ایک روز دیوان نے کہا مہاراج مشہور ہے کہ پنوتی کا گھر سونا مورکھ کا ہر دے سونا اور دلدری کا سب کچھ سونا ہے یہ بات سُن راجہ دیبی کے مندر مین جا ہاتھ جوڑ استت کرنے لگا کہ اے دیبی تجھے برھما بشنو اور اندر آٹھ پہر پوجتے ہین اور تو نے مہکھا سر چنڈ منڈ وغیرہ دیتون کو تلوار سے مار پرتھوی کا بھار اتارا ہے اور جہان تیرے بھگتون پر بپت پڑی تہان تہان جا کر سہائے ہوئی اور یہی آس تک کر مین تیرے دوارے پر آیا ہون اب میرے بھی من کی اچھا پوری کر اتنی استت جب راجہ کر چکا تو دیبی کے مندر سے آواز آئی کہ راجہ مین تجھ سے خوش ہوئی بر مانگ جو تیرے جی مین ہے راجہ بولا اے ماتا جو تو مجھ سے خوش ہوئی تو مجھ کو لڑکا دے اور دیبی نے کہا راجہ میرے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
tuwlzd84av51pra8txmknd2xt25lk8d
31847
31846
2026-04-09T10:49:52Z
Kaur.gurmel
74
31847
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||۲۵|بیتال پچیسی}}</noinclude>اسی طرح سے تینون بر آن کے اکھٹے ہوئے ہرداس اپنے دل مین سوچنے لگا کہ ایک لڑکی اور تین بر کسے دون اِسی فکر مین تھا کہ رات کو ایک راکشس انکی کنیا کو اٹھا کے بندھیاچل پہاڑ کے اوپر لیگیا کہا ہے کہ زیادتی کِسی چیز کی اچھی نہین بہت زیادہ خوبصورت سیتا تھی راون نے ہری راجہ بل نے دان دیا سو دلدری ہوا راون نے بہت زیادہ غرور کر کے اپنے خاندان کو تباہ کیا غرض جب صبح ہوئی اور سب گھر کے لوگون نے لڑکی کو نہ دیکھا تب طرح طرح کی فکرین کرنے لگے یہ بات وہ تینون بر بھی سُنکر وہان آئے انمین ایک دانشمند تھا اس سے ہرداس نے پوچھا تو بتا کہ وہ کنیان کہان گئی اسنے گھڑی ایک مین بچار کرکے کہا تمھاری لڑکی راکشس نے پہاڑ مین لیجا کر رکھا ہے اسمین دوسرا بولا کہ راکشس کو مار کر مین اسے لے آؤنگا پھر تیسرا بولا ہمارے رتھ پر سوار ہو جاؤ اور اسے لے آؤ یہ سنتے ہی وہ جھٹ اسکی رتھ پر سوار ہو وہان پوہنچے اس دیو کو مار فوراً اسے لے آیا اور تینون آپسمین جھگڑنے لگے تب اس کے باپ نے دل مین سوچ کر کہا کہ سبھون نے احسان کیا ہے کسے دون اور کسے نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم اُن تینون مین سے وہ کنیان کسکی استری ہوئی راجہ بولا وہ جورو اسکی ہوئی جو راکشس کو مار کے لایا بیتال نے کہا سب کا گن برابر ہے کس طرح سے وہ اسکی جورو ہوئی راجہ نے کہا ان دونون نے احسان کیااس سے انکو ثواب ہوا اور یہ لڑ کر اسے مار کر لایا ہے اس واسطے وہ اسکی جورو ہوئی یہ بات سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین بیتال کو باندھ کاندھے پر رکھ اسی طرح سے لیچلا
{{rule}}
{{c|<big>چھٹی کہانی</big>}}
{{rule}}
بیتال بولا اے راجہ دھرم پور نام ایک شہر ہے وہان کا راجہ دھرم سیل اسکے دیوان کا نام اندھک تھا اسنے ایک دن راجہ سے کہا مہاراج ایک مندر بنا کر اسمین دیبی کو بٹھا کر ہمیشہ پوجا کیجئے کہ اس کا شاستر مین بڑا ثواب لِکھا ہے تب راجا ایک مندر بنوا دیبی کو پدھرا کر شاستر کی بدھ سے پوجا کرنے لگا اور بغیر پوجا کیئے جل بھی نہ پیتا تھا اسی طرح سے جب کتنی ایک مدّت گذری تو ایک روز دیوان نے کہا مہاراج مشہور ہے کہ پنوتی کا گھر سونا مورکھ کا ہر دے سونا اور دلدری کا سب کچھ سونا ہے یہ بات سُن راجہ دیبی کے مندر مین جا ہاتھ جوڑ استت کرنے لگا کہ اے دیبی تجھے برھما بشنو اور اندر آٹھ پہر پوجتے ہین اور تو نے مہکھا سر چنڈ منڈ وغیرہ دیتون کو تلوار سے مار پرتھوی کا بھار اتارا ہے اور جہان تیرے بھگتون پر بپت پڑی تہان تہان جا کر سہائے ہوئی اور یہی آس تک کر مین تیرے دوارے پر آیا ہون اب میرے بھی من کی اچھا پوری کر اتنی استت جب راجہ کر چکا تو دیبی کے مندر سے آواز آئی کہ راجہ مین تجھ سے خوش ہوئی بر مانگ جو تیرے جی مین ہے راجہ بولا اے ماتا جو تو مجھ سے خوش ہوئی تو مجھ کو لڑکا دے اور دیبی نے کہا راجہ میرے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ecagc4968yj5bja2iwpg9v4p7mrbtrp
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/27
250
12693
31839
31821
2026-04-08T14:48:51Z
Charan Gill
46
31839
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی تب تو راجہ نے چندن اچھت پھول دھوپ دیپ دیکر یوجا کی اور اسی طرح سے ہر روز پوجا کرتا تھا غرض کتنے دنون پیچھے راجہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا راجہ نے باجے گاجے سے کٹمب سمیت جا کے دیبی کی پوجا کی اس عرصہ مین ایک دن کا اتفاق ہے کہ کسی گاؤن سے ایک دھوبی اپنے دوست کو ساتھ لیئے اس شہر کی طرف آتا تھا کہ دیبی کا مندر اسے نظر آیا اس نے ڈنڈوت کرنیکا ارادہ کیا اسمین ایک دھوبی کی لڑکی بڑی حسین سامنے سے آتی اسے دیکھی اسے دیکھ فریفتہ ہوا اور دیبی کے درشن کو گیا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ اسنے اپنے جی مین کہا اے دیبی جو اس حسینہ سے میرا بیاہ تیری مہربانی سے ہو تو مین اپنا سر تجھے چڑھاؤن یہ منت مان ڈنڈوت کر وہ سب کو ساتھ لے اپنے نگر کو گیا جب وہان پہونچا تو اسکے عشق نے ایسا ستایا کہ نیند بھوک پیاس اڑ گئی آٹھ پہر اسی کے دھیان بین رہنے لگا یہ بری حالت اسکے دوست نے دیکھ اسکے باپ سے جا سب حال کہا اس کا باپ بھی یہ شنکے بھوچکا ہوا اور اپنے جی مین اندیشہ کر کے کہنے لگا اسکی حالت دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اُس کنیا سے اسکی شادی نہ ہوگی تو یہ اپنی جان دیدیگا اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اسکا بیاہ کر دیجئے کہ جس سے یہ بچے اتنا سوچ کر لڑکے کے دوست کو ساتھ ہے اس گاؤن مین پہونچے اس گاؤن مین پہونچ لڑکی کے باپ سے جا گر کہا کہ مین تیرے پاس کچھ مانگنے آیا ہون ہو تو دیوے تو مین کہون اُن نے کہا میرے پاس وہ چیز ہوگی تو مین دون گا یہ تو کہہ اس طرح سے قول لے کر کہا تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے یہ سنکر اسنے بھی اسکی بات مان کر برہمن کو بلوا دن لگن مہورت ٹھہرا کر کہا تم لڑکے کو لے آو مین بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دونگا یہ سنکر وہ وہان سے اٹھ اپنے گھر آ سب سامان شادی کا تیار کر بیاہنے کو گیا اور وہان جا بیاہ کر بیٹے ہہو کو اپنے گھر لے آیا اور دونون آپسمین آرام سے رہنے لگے پھر کتنے دنون کے بعد اس لڑکی کے باپ کے یہان کچھ خوشی کا جلسہ تھا وہان سے نیوتا یہان بھی آیا یہ مرد عورت بھی تیار ہو اپنے دوست کو ساتھ ہے اس شہر کو چلے شہر کے نزدیک پہونچے تو دیبی کا مندر نظر آیا تو اسے یاد آئی تب ان نے چیمن مین یہ بات بچار کر کہا کہ مین بڑا چھوٹا اور گناہ گار ہون کہ دیبی سے بھی جھوٹ بولا اتنی بات اپنے دل مین کہہ اس دوست سے کہا کہ تم یہان کھڑے رہو مین دیجی کا درشن کر آؤن اور استری کو کہا تو بھی یہان ٹھہر یہ کہہ مندر کے پاس پہونچ تالاب مین اشنان کر دیبی کے سامنے اگر ہاتھ جوڑ نمشکار کر کھاکر نے گردن پراما کا ہستی سے جدا ہوا اور نجوم پر غرض کتنی ایک ویر کے پچھے اسکے دوست نے خیال کیا کہ اسے گئے ہئے دیر ہوئی تک پھر انہین چل کر دیکھنا چاہیئے اور اسکی استری کو کہا تو یہان کھڑی رہ مین اسے شتابی سے ڈھونڈھ کر لے آتا ہون یہ کہہ کر دیبی کے مندر مین گیا دکھایا کیا ہے کہ دھڑ سے اسکا سر جُدا پڑا حیا ہے یہ حالت وہانکی دیکھ اپنے جی مین کہے گا کہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
sxqkzh854jnyv5pp8fvdsjhyay59s8h
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/29
250
12695
31843
30786
2026-04-08T19:28:01Z
Charan Gill
46
31843
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اس سے شادی کرنا غرض جب کتنے ایک دن گزرے تو چارون دیس سے چار بر برابرآئے پھر اُنسے راجہ نے کہ اپنا اپنا عِلم و ہنر میری آگے ظاہر کرو انہین سے ایک بولا مجھہ مین یہ ہنرہے کہ کپڑا بنا کر مین پانچ لعل کو بیچتا ہون
تسویر راجہ چمپ کیشر اور رانی سلوچنا اور تربھون سندری اس کی بیٹی اور
چارون برون کا اپنا اپنا ہنر بیان کرنا
تصویر
جب اسکا مول میرے ہاتھ آتا ہے تو اسمین سے ایک لحل برہمن کو دیتا ہون اور دوسرا دیوتا کو چڑھاتا ہون تیسرا اپنے اوپر خرچ کرتا ہون چوتھا عورت کیواسطے رکھتا ہون پانچوین کو بیچ کر روپیہ لے ہمیشہ کھانا کھاتا ہون یہ بدیا دوسرا کوئی نہین جانتا اور میر جو روپ ہے سو ظاہر ہے دوسرا بولا مین جل تھل کے چرند و پرند کی بولی جانتا ہون کہ میری طرح کا کوئی دوسرا نہین اور خوبصورتی میری آپکے آگے ہے تیسرے نے کہا مین ایسا شاستر سمحھتا ہون کہ میری مانند دوسرا نہین اور خوبصورتی جو میری ہے وہ تمھارے روبرو ہے چوتھے نے کہا مین تیراندازی مین ایک ہی ہون دوسرا مجھ سا نہین آواز پر تیر مارتا ہون اور میرا حشن جگ مین روشن ہے آپ بھی دیکھتے ہین یہ چارون کی بات سن راجہ اپنے جی مین سوچنے لگا کہ چارون ہنر مین برابر ہین کس سے شادی کرون یہ سوچ کر اپنے بیٹی کے پاس جا چارون کا ہنر بیان کیا اور کہا مین تجھے کسے دون یہ سنکر لاج کے مارے گردن نیچی کر چپ ہو رہی اور کچھ جواب نہ دیا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ بکرم یہ استری کِسکے لائق ہے راجہ نے
کہا جو کپڑا بنا کر بیچتا ہے سو ذات کا شودر ہے اور جو بھاکھا جانتا ہے وہ ذات کا بیش ہے اور جو شاستر پڈھا ہے
سو برہمن ہے اور جو تیرانداز نشانہ باز بے ار کا مقوم و یا سترسی اسکے لائق ہر اتنی بات سن بیتال اس درخت
پر جائٹ کا اورراجہ بھی وہان جا اسے باندھہ کاندھے پر رکھ لے چلا تب بتیال نے کہا
-N=<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
8j35ha0edpnoh29tevo0se2yh8byc1e
31845
31843
2026-04-09T09:09:44Z
Charan Gill
46
31845
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اس سے شادی کرنا غرض جب کتنے ایک دن گزرے تو چارون دیس سے چار بر برابرآئے پھر اُنسے راجہ نے کہ اپنا اپنا عِلم و ہنر میری آگے ظاہر کرو انہین سے ایک بولا مجھہ مین یہ ہنرہے کہ کپڑا بنا کر مین پانچ لعل کو بیچتا ہون
تسویر راجہ چمپ کیشر اور رانی سلوچنا اور تربھون سندری اس کی بیٹی اور
چارون برون کا اپنا اپنا ہنر بیان کرنا
تصویر
جب اسکا مول میرے ہاتھ آتا ہے تو اسمین سے ایک لحل برہمن کو دیتا ہون اور دوسرا دیوتا کو چڑھاتا ہون تیسرا اپنے اوپر خرچ کرتا ہون چوتھا عورت کیواسطے رکھتا ہون پانچوین کو بیچ کر روپیہ لے ہمیشہ کھانا کھاتا ہون یہ بدیا دوسرا کوئی نہین جانتا اور میر جو روپ ہے سو ظاہر ہے دوسرا بولا مین جل تھل کے چرند و پرند کی بولی جانتا ہون کہ میری طرح کا کوئی دوسرا نہین اور خوبصورتی میری آپکے آگے ہے تیسرے نے کہا مین ایسا شاستر سمحھتا ہون کہ میری مانند دوسرا نہین اور خوبصورتی جو میری ہے وہ تمھارے روبرو ہے چوتھے نے کہا مین تیراندازی مین ایک ہی ہون دوسرا مجھ سا نہین آواز پر تیر مارتا ہون اور میرا حشن جگ مین روشن ہے آپ بھی دیکھتے ہین یہ چارون کی بات سن راجہ اپنے جی مین سوچنے لگا کہ چارون ہنر مین برابر ہین کس سے شادی کرون یہ سوچ کر اپنے بیٹی کے پاس جا چارون کا ہنر بیان کیا اور کہا مین تجھے کسے دون یہ سنکر لاج کے مارے گردن نیچی کر چپ ہو رہی اور کچھ جواب نہ دیا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ بکرم یہ استری کِسکے لائق ہے راجہ نے
کہا جو کپڑا بنا کر بیچتا ہے سو ذات کا شودر ہے اور جو بھاکھا جانتا ہے وہ ذات کا بیش ہے اور جو شاستر پڈھا ہے
سو برہمن ہے اور جو تیرانداز نشانہ باز بے اسکا ہمقوم ہے یہ استرسی اسکے لائق ہے اتنی بات سن بیتال اس درخت
پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہان جا اسے باندھہ کاندھے پر رکھ لے چلا تب بتیال نے کہا-<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
4oevnmfti2t4x6mq2e3lq43axd1l8lk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/202
250
12805
31840
31281
2026-04-08T15:56:24Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31840
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>دوسرے دن سگریو نے پھر جا کر بالی کو
للکارا - کل میں نے تُجھے بڑا بھائی سمجھ کر چھوڑ
دیا تھا۔ ورنہ چاہتا تو چٹنی کر ڈالتا ۔ مجھے اُمید
تھی کہ تو میرے اس برتاؤ سے کچھ نرم ہوگا
اور میرے آدھے راج کے ساتھ میری بیوی کو
واپس کر دیگا ۔ مگر تو نے میرے برتاؤ کی کُچھ
قدر نہ کی ۔ اس لئے آج میں پھر لڑنے آیا
ہوں ۔ آج فیصلہ ہی کر کے چھوڑونگا'.
بالی فوراً نکل آیا ۔ سُگریو کے ڈینگ مارنے
پر آج اُسے بہت غصہ آیا ۔ اس نے طے کر لیا تھا
کہ آج اسے زندہ نہ چھوڑونگا ۔ دونو پھر
اُسی میدان میں آکر لڑنے لگے ۔ بالی نے
ذرا دیر میں سگریو کو دے پٹکا اور اس کی
چھاتی پر سوار ہو کر چاہتا تھا کہ اس کا سر
کاٹ لے کہ یکایک کِسی طرف سے ایک ایسا
تیر آکر اُس کے سینے میں لگا کہ وہ فوراً
نیچے گر پڑا ۔ سینے سے خون کی دھار بہنے لگی۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
mcla2sweq80kcuocg1n36o57kvhffti
31841
31840
2026-04-08T15:57:43Z
Keshuseeker
83
31841
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>دوسرے دن سگریو نے پھر جا کر بالی کو
للکارا - کل میں نے تُجھے بڑا بھائی سمجھ کر چھوڑ
دیا تھا۔ ورنہ چاہتا تو چٹنی کر ڈالتا ۔ مجھے اُمید
تھی کہ تو میرے اس برتاؤ سے کچھ نرم ہوگا
اور میرے آدھے راج کے ساتھ میری بیوی کو
واپس کر دیگا ۔ مگر تو نے میرے برتاؤ کی کُچھ
قدر نہ کی ۔ اس لئے آج میں پھر لڑنے آیا
ہوں ۔ آج فیصلہ ہی کر کے چھوڑونگا'.
بالی فوراً نکل آیا ۔ سُگریو کے ڈینگ مارنے
پر آج اُسے بہت غصہ آیا ۔ اس نے طے کر لیا تھا
کہ آج اسے زندہ نہ چھوڑونگا ۔ دونو پھر
اُسی میدان میں آکر لڑنے لگے ۔ بالی نے
ذرا دیر میں سگریو کو دے پٹکا اور اس کی
چھاتی پر سوار ہو کر چاہتا تھا کہ اس کا سر
کاٹ لے کہ یکایک کِسی طرف سے ایک ایسا
تیر آکر اُس کے سینے میں لگا کہ وہ فوراً
نِیچے گِر پڑا ۔ سینے سے خون کی دھار بہنے لگی۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
pl9tzs1ndn8w2ikiqgk67scvhuevvyi
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/203
250
12806
31842
31284
2026-04-08T16:08:29Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31842
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>اُس کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ تیر کس نے مارا۔
اُس کے راج میں تو ایسا کوئی شخص نہ تھا
جس کے تیر میں اِتنی طاقت ہوتی.
وہ اِسی شش و پنج میں پڑا چِلّا رہا تھا-
کہ رام اور لکشمن تیر و کمان لِئے سامنے
آ کھڑے ہُوئے ۔ بالی سمجھ گیا کہ رامچندر نے
ہی اُسے تیر مارا ہے ۔ بولا " کیوں مہاراج !
میں نے تو سُنا تھا کہ تُم بڑے دھرما تھا اور
بہادُر ہو ۔ کیا تُمہارے دیس میں اسی کو بہادری
کہتے ہیں کہ کِسی آدمی پر چھپ کر وار کیا جائے۔
میں نے تو تُمہارا کُچھ نہیں بِگاڑا تھا" .
رام چندر نے جواب دِیا ۔ " میں نے
تُمہیں اس لِئے نہیں مارا کہ تُم میرے دُشمن
ہو۔ بلکہ اس لئے کہ تم نے اپنے خاندان پر
ظُلم کیا ہے اور سُگریو کی بِیوی کو گھر ڈال لِیاہے ۔
ایسے آدمی کوکتل کرنا گُناہ نہیں ہے-
تمہیں اپنے خاص بھائی کے ساتھ ایسی بدسلوکی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
qwv0ytcvbkaphdi7c84fxbv3sskxs4y
صارف:Deepturquoise
2
12892
31844
2026-04-09T03:53:53Z
Deepturquoise
152
«صارف:Deepturquoise» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
31844
wikitext
text/x-wiki
صارف:Deepturquoise
equfoa9cbjbkgy0ckltgduj39diyeae