ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.23
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/13
250
12679
31856
31713
2026-04-10T04:00:03Z
Taranpreet Goswami
90
31856
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" />{{rh||١٢|بیتال پچیسی}}</noinclude>آیا اور کوتوال کو بلاکر کہا جاؤ جوگی کو لے آؤ کوتوال حکم پاتے ہی جوگی کے لینے کو گیا اور راجہ اپنے من مین اچنبھا کر کے کہنے لگا کہ احوال گھر کا اور دل کا ارادہ اور جو کچھہ نقصان ہو سو کسو کے آگے ظاہر کرنا مناسب نہین کہ اتنے مین کوتوال نے جوگی کو لاکر حاضر کیا پھر جوگی کو راجہ نے کنارے لیجا پوچھا گشائین جی دھرم شاستر مین استری کیواسطے کیا ڈنڈ لکھا ہے تب جوگی بولا مہاراج برہمن کو استری لڑکا اور جو کہ اپنے آسرے مین ہو اگر ان مین جس کسو سے کچھہ کھوٹا کام ہو تو انکے واسطے لِکھا ہے کہ دیس نکالا دیجئے یہ سنکے راجہ نے پدماوتی کو ڈولی مین سوار کروا ایک جنگل مین چھڑوا دیا پھر اپنے مکان سے راجکمار اور دیوان کا بیٹا دونون گھوڑون پر سوار ہو اس بن مین جا رانی پدماوتی کو ساتھ لے اپنے شہر کو چلے بعد چند روز کے دونون اپنے اپنے باپ کے پاس جا پہونچے تب چھوٹے بڑون کو خوشی نہایت ہوئی اور یہ باہم عیش کرنے لگے اتنی بات کہہ بیتال نے راجہ بیر بکرماجیت سے پوچھا ان چارون مین گناہ کِسکو ہوا ہے تم اس بات کا انصاف نہ کروگے تو تم نرک مین پڑوگے راجہ بکرم بولا اس راجہ کو گناہ ہوا بیتال نے کہا راجہ کو کس طرح سے پاپ ہوا بکرم نے یہ جواب دیا کہ دیوان کے بیٹے نے تو اپنے مالک کا کام کیا اور کوتوال نے راجہ کا حکم مانا اور راج کنیا نے اپنا مقصد حاصِل کیا اس سے یہ پاپ راجہ کو ہوا کہ بنا بچارے اسے دیس سے نِکال دیا اتنی بات راجہ کے منھ سے سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا
{{rule}}
{{center|'''<big>دوسری کہانی</big>'''}}
{{rule}}
راجہ دیکھے تو بتال نہین ہے پھر الٹا پھرا اور اس جگہ پہنچ درخت پر چڑھ مردے کو باندھ کاندھے پر رکھ کے لیچلا تب بیتال بولا کہ اے راجہ دوسری کتھا یون ہے کہ جمنا کے پاس دھرم استھل نام ایک
نگر ہے جہان کا گنادہپ نام راجہ اور وہان کیشو رام برہمن ہے کہ وہ جمنا کے کنارے ریاضت کیا کرتا اور اسکی بیٹی کا نام مدھماوتی تھا وہ بڑی خوبصورت تھی جب بیاہنے کے قابل ہوئی تب اسکے مان باپ بھائی تینون اسکی شادی کی فکر مین تھے اتفاقاً ایک روز اسکا باپ کسی اپنے ججمان کے ساتھ شادی مین کہین گیا تھا اور بھائی اسکا ایک روز گاؤن گرو کے یہان پڑھنے گیا کہ پیچھے انکے گھر من ایک برہمن کا لڑکا آیا اسکی مان نے اس لڑکے کی صورت سیرت دیکھ کر کہا مین لڑکی کی شادی تجھ سے کرونگی اور وہان برہمن نے ایک اور برہمن کے لڑکے کو بیٹی دینی قبول کی اور اسکے بیٹے نے جہان پڑھنے کو گیا تھا وہان ایک برہمن سے بچن ہارا کہ اپنی بہن تجھے دونگا کتنے دنون کے پیچھے وے دونون ان دونون لڑکون کو ساتھ لے آئے اور یہان تیسرا لڑکا آگے سے بیٹھا تھا ایک نام نر بکرم دوسریکا کا نام بامن تیسریکا نام مدھسودن وے تینون خوبصورتی ہنر و علم مین برابر تھے ان کو دیکھ برہمن سوچنے لگا کہ ایک کنیا اور تین بر کِسے دون اور کِسے نہ دون اور ہم<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
0il1jjc8i4t30ap092dbpftuw1q9p94
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/27
250
12693
31858
31839
2026-04-10T08:35:47Z
BalramBodhi
60
31858
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پتر ہوگا مہابلی اور بڑا پرتاپی تب تو راجہ نے چندن اچھت پھول دھوپ دیپ دیکر پوجا کی اور اسی طرح سے ہر روز پوجا کرتا تھا غرض کتنے دنون پیچھے راجہ کے ایک لڑکا پیدا ہوا راجہ نے باجے گاجے سے کٹمب سمیت جا کے دیبی کی پوجا کی اس عرصہ مین ایک دن کا اتفاق ہے کہ کسی گاؤن سے ایک دھوبی اپنے دوست کو ساتھ لیئے اس شہر کی طرف آتا تھا کہ دیبی کا مندر اسے نظر آیا اس نے ڈنڈوت کرنیکا ارادہ کیا اسمین ایک دھوبی کی لڑکی بڑی حسین سامنے سے آتی اسنے دیکھی اسے دیکھ فریفتہ ہوا اور دیبی کے درشن کو گیا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ اسنے اپنے جی مین کہا اے دیبی جو اس حسینہ سے میرا بیاہ تیری مہربانی سے ہو تو مین اپنا سر تجھے چڑھاؤن یہ منت مان ڈنڈوت کر وہ سب کو ساتھ لے اپنے نگر کو گیا جب وہان پہونچا تو اسکے عشق نے ایسا ستایا کہ نیند بھوک پیاس اڑ گئی آٹھ پہر اسی کے دھیان مین رہنے لگا یہ بری حالت اسکے دوست نے دیکھ اسکے باپ سے جا سب حال کہا اس کا باپ بھی یہ سنکے بھوچکا ہوا اور اپنے جی مین اندیشہ کر کے کہنے لگا اسکی حالت دیکھ ایسا معلوم ہوتا ہے جو اُس کنیا سے اسکی شادی نہ ہوگی تو یہ اپنی جان دیدیگا اس سے بہتر یہ ہے کہ اس لڑکی سے اسکا بیاہ کر دیجئے کہ جس سے یہ بچے اتنا سوچ کر لڑکے کے دوست کو ساتھ لے اس گاؤن مین پہونچے اس گاؤن مین پہونچ لڑکی کے باپ سے جا کر کہا کہ مین تیرے پاس کچھ مانگنے آیا ہون جو تو دیوے تو مین کہون اُن نے کہا میرے پاس وہ چیز ہوگی تو مین دون گا یہ تو کہہ اس طرح سے قول لے کر کہا تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو دے یہ سنکر اسنے بھی اسکی بات مان کر برہمن کو بلوا دن لگن مہورت ٹھہرا کر کہا تم لڑکے کو لے آو مین بھی اپنی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دونگا یہ سنکر وہ وہان سے اٹھ اپنے گھر آ سب سامان شادی کا تیار کر بیاہنے کو گیا اور وہان جا بیاہ کر بیٹے ہہو کو اپنے گھر پر لے آیا اور دونون آپسمین آرام سے رہنے لگے پھر کتنے دنون کے بعد اس لڑکی کے باپ کے یہان کچھ خوشی کا جلسہ تھا وہان سے نیوتا یہان بھی آیا یہ مرد عورت بھی تیار ہو اپنے دوست کو ساتھ لے اس شہر کو چلے شہر کے نزدیک پہونچے تو دیبی کا مندر نظر آیا تو اسے یاد آئی تب ان نے جی مین یہ بات بچار کر کہا کہ مین بڑا جھوٹا اور گناہ گار ہون کہ دیبی سے بھی جھوٹ بولا اتنی بات اپنے دل مین کہہ اس دوست سے کہا کہ تم یہان کھڑے رہو مین دیبی کا درشن کر آؤن اور استری کو کہا تو بھی یہان ٹھہر یہ کہہ مندر کے پاس پہونچ تالاب مین اشنان کر دیبی کے سامنے جاکر ہاتھ جوڑ نمشکار کر کھرگ اٹھا کر جگاہ رہنے گردن پر مارا کہ سر تن سے جدا ہوا اور بھوم پر گرا غرض کتنی ایک دیر کے پچھے اسکے دوست نے خیال کیا کہ اسے گئے ہڑی دیر ہوئی اب تک پھرا نہین چل کر دیکھنا چاہیئے اور اسکی استری کو کہا تو یہان کھڑی رہ مین اسے شتابی سے ڈھونڈھ کر لے آتا ہون یہ کہہ کر دیبی کے مندر مین گیا دیکھتا کیا ہے کہ دھڑ سے اسکا سر جُدا پڑا ہے یہ حالت وہانکی دیکھ اپنے جی مین کہنے لگا کہ<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
6nb1yiyn4xs915ls2p6jw1alkb71m2s
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/29
250
12695
31859
31845
2026-04-10T11:29:36Z
Charan Gill
46
31859
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اس سے شادی کرنا غرض جب کتنے ایک دن گزرے تو چارون دیس سے چار بر برابرآئے پھر اُنسے راجہ نے کہ اپنا اپنا عِلم و ہنر میری آگے ظاہر کرو انہین سے ایک بولا مجھہ مین یہ ہنرہے کہ کپڑا بنا کر مین پانچ لعل کو بیچتا ہون
تسویر راجہ چمپ کیشر اور رانی سلوچنا اور تربھون سندری اس کی بیٹی اور
چارون برون کا اپنا اپنا ہنر بیان کرنا
تصویر
جب اسکا مول میرے ہاتھ آتا ہے تو اسمین سے ایک لحل برہمن کو دیتا ہون اور دوسرا دیوتا کو چڑھاتا ہون تیسرا اپنے اوپر خرچ کرتا ہون چوتھا عورت کیواسطے رکھتا ہون پانچوین کو بیچ کر روپیہ لے ہمیشہ کھانا کھاتا ہون یہ بدیا دوسرا کوئی نہین جانتا اور میر جو روپ ہے سو ظاہر ہے دوسرا بولا مین جل تھل کے چرند و پرند کی بولی جانتا ہون کہ میری طرح کا کوئی دوسرا نہین اور خوبصورتی میری آپکے آگے ہے تیسرے نے کہا مین ایسا شاستر سمحھتا ہون کہ میری مانند دوسرا نہین اور خوبصورتی جو میری ہے وہ تمھارے روبرو ہے چوتھے نے کہا مین تیراندازی مین ایک ہی ہون دوسرا مجھ سا نہین آواز پر تیر مارتا ہون اور میرا حشن جگ مین روشن ہے آپ بھی دیکھتے ہین یہ چارون کی بات سن راجہ اپنے جی مین سوچنے لگا کہ چارون ہنر مین برابر ہین کس سے شادی کرون یہ سوچ کر اپنے بیٹی کے پاس جا چارون کا ہنر بیان کیا اور کہا مین تجھے کسے دون یہ سنکر لاج کے مارے گردن نیچی کر چپ ہو رہی اور کچھ جواب نہ دیا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ بکرم یہ استری کِسکے لائق ہے راجہ نے
کہا جو کپڑا بنا کر بیچتا ہے سو ذات کا شودر ہے اور جو بھاکھا جانتا ہے وہ ذات کا بیش ہے اور جو شاستر پڈھا ہے
سو برہمن ہے اور جو تیرانداز نشانہ باز بے اسکا ہمقوم ہے یہ استرسی اسکے لائق ہے اتنی بات سن بیتال اس درخت
پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہان جا اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا تب بتیال نے کہا-<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
obc6ff72rini7f52r3hczzavt0z4v1a
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/30
250
12696
31852
30788
2026-04-09T23:22:32Z
Charan Gill
46
31852
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
آٹھوین کہانی
اے راجہ متھلاوتی نامر ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چر مر ہے
راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا د حسن وہ لایا تھا۔
سو برس روز کے عرصہ میں وہ بیٹھ کر بیان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہوگیا ایک دن کی
بات ہو کہ راجہ شکر کو سوار مواد چرم دیو بھی اسی سواری کے ساتھ ہو لیا اتفاقا ایک بن بن راجا کر
مین
فوج سے جدا ہو گیا اورسواری کے لوگ اک اور جنگل میں بک گئے لیکن ایک چرم دیوہی راج کے پیسے
تھا آخرکار اپنے ہی بیکار کرکہا مہاراج لوگ سواری کے بچے رہ گئے بی اور میں آپ اسے ٹھوڑے کے
ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہوں راجہ نے بینا گھوڑے کور کا کہ امین یہ بابر باراجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو
کیسو اسے اتناد بلا ہورہا ہو تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہو کہ ہزاروں کو پاتا ہو اور اپنی خبر
نہ لے تو اسمیں کچھ پر الزام نہیں ہو مگراپنے مقدر کی خطا ہر جیسے دن کو سارا جہان دیکھتا ہی را کوکو ترمین
آتا اسمیں گناہ سورج کا کیا ہو حسرت ہو مجھ کو کہ جسے ان کے پیٹ میں روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم میں ہوتے
اور دنیا کی غذاؤں کے لائق ہوئے تربے خبر نہین لیتا نہیں معلوم ہوتا ہو یا مرگیا اوراپنے خاطر ال اور دولت
چاہتی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھوں چڑھاوے اس کو زیر لا بل کھا کر مرجانا
بہتری اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہیں ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول نہی تیر استری
سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچویں گر ہے کی سواری چھٹے بغیر شک کرت کے زبان اور یہ پانچ
چیزین خدا آدمی کی تقدیر میں پیدا ہوتے ہی لکھ دیتا ہو ایک عمر دوسرا کہ تم میرے دولت چوتھے علم یار
اسے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے میں اور جب سخاوت گھٹ جاتی میری بھائی
دشمن ہو جاتے ہیں یہ پران کی بات تقریر سوقا کی خدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی بھی مل ہی رہتا ہو بے ترضین
رہتا یہ شن راجہ نے ان سب باتوں پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہو کسین سے
کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوج نہ ملیگا یہ کہ جنگل مین جا ایک ہرن ما تفصیلی و خلاق
نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر کا
تب اسنے کہا اسے
راج پر مہین نگر کو چلو کہ وہ مجھے معلوم نہین اپنے راجہ کو گرمین لا ا سکے مندر میں پہونچا
دیاب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خدمت
مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پیر کو بھیجا وہ جینا ہے
پہونچا اپنے ایک دیہی کا مندر دیکھا اسیں جاکر دیہی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان کو با ہر نکلا تو ورامین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
dkus3cv7oybuj4p2veodx7bj1g651em
31853
31852
2026-04-09T23:50:01Z
Charan Gill
46
31853
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
آٹھوین کہانی
اے راجہ متھلاوتی نامر ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ میں وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہو گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار موا اور چرم دیو بھی اسی سواری کے ساتھ ہو لیا اتفاقاً ایک بن مین راجا کر
مین
فوج سے جدا ہو گیا اورسواری کے لوگ اک اور جنگل میں بک گئے لیکن ایک چرم دیوہی راج کے پیسے
تھا آخرکار اپنے ہی بیکار کرکہا مہاراج لوگ سواری کے بچے رہ گئے بی اور میں آپ اسے ٹھوڑے کے
ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہوں راجہ نے بینا گھوڑے کور کا کہ امین یہ بابر باراجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو
کیسو اسے اتناد بلا ہورہا ہو تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہو کہ ہزاروں کو پاتا ہو اور اپنی خبر
نہ لے تو اسمیں کچھ پر الزام نہیں ہو مگراپنے مقدر کی خطا ہر جیسے دن کو سارا جہان دیکھتا ہی را کوکو ترمین
آتا اسمیں گناہ سورج کا کیا ہو حسرت ہو مجھ کو کہ جسے ان کے پیٹ میں روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم میں ہوتے
اور دنیا کی غذاؤں کے لائق ہوئے تربے خبر نہین لیتا نہیں معلوم ہوتا ہو یا مرگیا اوراپنے خاطر ال اور دولت
چاہتی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھوں چڑھاوے اس کو زیر لا بل کھا کر مرجانا
بہتری اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہیں ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول نہی تیر استری
سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچویں گر ہے کی سواری چھٹے بغیر شک کرت کے زبان اور یہ پانچ
چیزین خدا آدمی کی تقدیر میں پیدا ہوتے ہی لکھ دیتا ہو ایک عمر دوسرا کہ تم میرے دولت چوتھے علم یار
اسے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے میں اور جب سخاوت گھٹ جاتی میری بھائی
دشمن ہو جاتے ہیں یہ پران کی بات تقریر سوقا کی خدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی بھی مل ہی رہتا ہو بے ترضین
رہتا یہ شن راجہ نے ان سب باتوں پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہو کسین سے
کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوج نہ ملیگا یہ کہ جنگل مین جا ایک ہرن ما تفصیلی و خلاق
نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر کا
تب اسنے کہا اسے
راج پر مہین نگر کو چلو کہ وہ مجھے معلوم نہین اپنے راجہ کو گرمین لا ا سکے مندر میں پہونچا
دیاب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خدمت
مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پیر کو بھیجا وہ جینا ہے
پہونچا اپنے ایک دیہی کا مندر دیکھا اسیں جاکر دیہی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان کو با ہر نکلا تو ورامین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
3abxhwjluntquk34ac3kteg4nzqfn32
31854
31853
2026-04-10T00:32:15Z
Charan Gill
46
31854
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
آٹھوین کہانی
اے راجہ متھلاوتی نامر ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ مین وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہو گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار موا اور چرم دیو بھی اسی سواری کے ساتھ ہو لیا اتفاقاً ایک بن مین راجہ جاکر فوج سے جدا ہو گیا اور سواری کے لوگ اک اور جنگل مین بھٹک گئے لیکن ایک چرم دیو ہی راج کے پیسے تھا آخرکار اسنے ہی پکار کر کہا مہاراج لوگ سواری کے پیچے رہ گئے ہین اور مین آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہون راجہ نے یہ سنکر گھوڑے کو روکا کہ امین یہ برابر آیا راجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو کیسو اسے اتناد بلا ہورہا ہو تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہو کہ ہزارون کو پاتا ہو اور اپنی خبر
نہ لے تو اسمین کچھ پر الزام نہین ہو مگراپنے مقدر کی خطا ہر جیسے دن کو سارا جہان دیکھتا ہی را کوکو ترمین
آتا اسمین گناہ سورج کا کیا ہو حسرت ہو مجھ کو کہ جسے ان کے پیٹ مین روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم مین ہوتے
اور دنیا کی غذاؤن کے لائق ہوئے تربے خبر نہین لیتا نہین معلوم ہوتا ہو یا مرگیا اوراپنے خاطر ال اور دولت
چاہتی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھون چڑھاوے اس کو زیر لا بل کھا کر مرجانا
بہتری اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہین ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول نہی تیر استری
سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچوین گر ہے کی سواری چھٹے بغیر شک کرت کے زبان اور یہ پانچ
چیزین خدا آدمی کی تقدیر مین پیدا ہوتے ہی لکھ دیتا ہو ایک عمر دوسرا کہ تم میرے دولت چوتھے علم یار
اسے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے مین اور جب سخاوت گھٹ جاتی میری بھائی
دشمن ہو جاتے ہین یہ پران کی بات تقریر سوقا کی خدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی بھی مل ہی رہتا ہو بے ترضین
رہتا یہ شن راجہ نے ان سب باتون پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہو کسین سے
کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوج نہ ملیگا یہ کہ جنگل مین جا ایک ہرن ما تفصیلی و خلاق
نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر کا
تب اسنے کہا اسے
راج پر مہین نگر کو چلو کہ وہ مجھے معلوم نہین اپنے راجہ کو گرمین لا ا سکے مندر مین پہونچا
دیاب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خدمت
مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پیر کو بھیجا وہ جینا ہے
پہونچا اپنے ایک دیہی کا مندر دیکھا اسین جاکر دیہی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان کو با ہر نکلا تو ورامین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
splh6zc88o7fdloox4kbz2wlka2nbwp
31855
31854
2026-04-10T01:24:20Z
Kaur.gurmel
74
31855
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
آٹھوین کہانی
اے راجہ متھلاوتی نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ مین وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہو گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار ہوا اور چرم دیو بھی اسی سواری کے ساتھ ہو لیا اتفاقاً ایک بن مین راجہ جاکر فوج سے جدا ہو گیا اور سواری کے لوگ ایک اور جنگل مین بھٹک گئے لیکن ایک چرم دیو ہی راجہ کے پیچھے تھا آخرکار اسنے ہی پکار کر کہا مہاراج لوگ سواری کے پیچھے رہ گئے ہین اور مین آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہون راجہ نے یہ سنکر گھوڑے کو روکا کہ اسمین یہ برابر آیا راجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو کِسواستے اتنا دبلا ہو رہا ہے تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہو کہ ہزارون کو پالتا ہو اور اپنی خبر
نہ لے تو اسمین کچھ پر الزام نہین ہے مگر اپنے مقدر کی خطا ہر جیسے دِن کو سارا جہان دیکھتا ہے رات کو کو تر مین
آتا اسمین گناہ سورج کا کیا ہو حسرت ہو مجھ کو کہ جسے ان کے پیٹ مین روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم مین ہوتے
اور دنیا کی غذاؤن کے لائق ہوئے تربے خبر نہین لیتا نہین معلوم ہوتا ہو یا مرگیا اوراپنے خاطر ال اور دولت
چاہتی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھون چڑھاوے اس کو زیر لا بل کھا کر مرجانا
بہتری اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہین ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول نہی تیر استری
سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچوین گر ہے کی سواری چھٹے بغیر شک کرت کے زبان اور یہ پانچ
چیزین خدا آدمی کی تقدیر مین پیدا ہوتے ہی لکھ دیتا ہو ایک عمر دوسرا کہ تم میرے دولت چوتھے علم یار
اسے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے مین اور جب سخاوت گھٹ جاتی میری بھائی
دشمن ہو جاتے ہین یہ پران کی بات تقریر سوقا کی خدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی بھی مل ہی رہتا ہو بے ترضین
رہتا یہ شن راجہ نے ان سب باتون پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہو کسین سے
کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوج نہ ملیگا یہ کہ جنگل مین جا ایک ہرن ما تفصیلی و خلاق
نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر کا
تب اسنے کہا اسے
راج پر مہین نگر کو چلو کہ وہ مجھے معلوم نہین اپنے راجہ کو گرمین لا ا سکے مندر مین پہونچا
دیاب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خدمت
مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پیر کو بھیجا وہ جینا ہے
پہونچا اپنے ایک دیہی کا مندر دیکھا اسین جاکر دیہی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان کو با ہر نکلا تو ورامین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
r1g75531sgxelh6t1meqk35qrzfws10
31857
31855
2026-04-10T08:07:08Z
Charan Gill
46
31857
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
آٹھوین کہانی
اے راجہ متھلاوتی نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ مین وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہو گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار ہوا اور چرم دیو بھی اسی سواری کے ساتھ ہو لیا اتفاقاً ایک بن مین راجہ جاکر فوج سے جدا ہو گیا اور سواری کے لوگ ایک اور جنگل مین بھٹک گئے لیکن ایک چرم دیو ہی راجہ کے پیچھے تھا آخرکار اسنے ہی پکار کر کہا مہاراج لوگ سواری کے پیچھے رہ گئے ہین اور مین آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہون راجہ نے یہ سنکر گھوڑے کو روکا کہ اسمین یہ برابر آیا راجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو کِسواستے اتنا دبلا ہو رہا ہے تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہو کہ ہزارون کو پالتا ہو اور اپنی خبر نہ لے تو اسمین کچھ پر ا لزام نہین ہے مگر اپنے مقدر کی خطا ہر جیسے دِن کو سارا جہان دیکھتا ہے رات کو کو تر مین
آتا اسمین گناہ سورج کا کیا ہو حسرت ہو مجھ کو کہ جسے ان کے پیٹ مین روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم مین ہوتے
اور دنیا کی غذاؤن کے لائق ہوئے تربے خبر نہین لیتا نہین معلوم ہوتا ہو یا مرگیا اوراپنے خاطر ال اور دولت
چاہتی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھون چڑھاوے اس کو زیر لا بل کھا کر مرجانا
بہتری اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہین ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول نہی تیر استری
سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچوین گر ہے کی سواری چھٹے بغیر شک کرت کے زبان اور یہ پانچ
چیزین خدا آدمی کی تقدیر مین پیدا ہوتے ہی لکھ دیتا ہو ایک عمر دوسرا کہ تم میرے دولت چوتھے علم یار
اسے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے مین اور جب سخاوت گھٹ جاتی میری بھائی
دشمن ہو جاتے ہین یہ پران کی بات تقریر سوقا کی خدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی بھی مل ہی رہتا ہو بے ترضین
رہتا یہ شن راجہ نے ان سب باتون پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہو کسین سے
کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوج نہ ملیگا یہ کہ جنگل مین جا ایک ہرن ما تفصیلی و خلاق
نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر کا
تب اسنے کہا اسے
راج پر مہین نگر کو چلو کہ وہ مجھے معلوم نہین اپنے راجہ کو گرمین لا ا سکے مندر مین پہونچا
دیاب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خدمت
مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پیر کو بھیجا وہ جینا ہے
پہونچا اپنے ایک دیہی کا مندر دیکھا اسین جاکر دیہی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان کو با ہر نکلا تو ورامین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
it7glupxw8ytsa6xv1oqncj6alwwuf6
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/204
250
12807
31848
31287
2026-04-09T15:34:45Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31848
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>نہ کرنی چاہئے تھی ۔ تُم سمجھتے ہو کہ' راجہ
آزاد ہے ، وُہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ یہ تمہاری
غلطی ہے ۔ راجہ اُسی وقت تک آزاد ہے ۔ جب
تک وہ نیکی اور انصاف کے راستہ پر چلتاہے -
جب وہ نیکی کے راستہ سے ہٹ جائے
تو ہر شخص کو جو کافی طاقت رکھتا ہو اُسے
سزا دینے کا اختیار ہے ۔ اس کے علاوہ سگریو
میرا دوست ہے ۔ اور دوست کا دشمن میرا
دشمن ہے۔ میرا فرض تھا کہ میں اپنے دوست
کی مدد کرتا'.
بالی کو مہلک زخم لگا تھا ۔ جب اُسے یقین
ہو گیا کہ اب میں چند لمحوں کا اور مہمان ہُوں ں -
تو اُس نے اپنے بیٹے انگر کو بُلا کر سگریو کے
سپُرد کیا اور بولا " سگریو ! اب میں اس دُنیا
سے رُخصت ہو رہا ہوں ۔ اس یتیم لڑکے کو
اپنا بیٹا سمجھنا ۔ یہی تُم سے میری آخری
درخواست ہے ۔ میں نے جو کُچھ کیا اُس کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
qcy8bqx65w0qjh4rye31s55e885ymj6
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/205
250
12808
31849
31290
2026-04-09T15:41:30Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31849
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>پھل پایا ۔ تُم سے مجھے کوئی شکایت نہیں۔
جب دو بھائی لڑتے ہیں تو بربادی کے سوا
اور نتیجہ کیا ہو سکتا ہے ۔ اب میری برائیوں
کو بھول جاؤ ۔ میری بد سلوکیوں کا بدلہ اس
یتیم لڑکے سے نہ لینا ۔ اسے طعنے نہ دینا ' میری
حالت سے سبق لو اور سچائی کے راستے پر چلو،
یہ کہتے کہتے بالی کی جان نکل گئی ۔ سگریو
کسکندھاپوری کا راجہ ہوا اور انگر ولی عہد
بنایا گیا ۔ تارا پھر سگریو کی رانی ہو گئی.
(۲) ہنومان
برسات کا موسم آیا ۔ ندی نالے، جھیل
تالاب' پانی سے لبریز ہو گئے ۔ میدانوں میں
سبزہ لہلہانے لگا ۔ پہاڑیوں پر موروں نے
شور مچانا شروع کیا ۔ آسمان پر کالے کالے
بادل منڈلانے لگے ۔ رام اور لکشمن نے ساری
برسات پہاڈ کی گُپھا میں بسر کی ۔ یہاں تک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
apmec30ihz8bbuwo6t5qllhf101e2de
صارف:James500
2
12893
31850
2026-04-09T21:00:03Z
James500
151
Create user page
31850
wikitext
text/x-wiki
{{#babel:en|ur-0}}
iuxr1nzcg5k4rwfa026j81epv9opxvs
31851
31850
2026-04-09T21:00:29Z
James500
151
Add interwiki link
31851
wikitext
text/x-wiki
{{#babel:en|ur-0}}
[[en:User:James500]]
t2eqpdmj9b8k6mygfdm7lqxt7qr29bj