ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.23
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/14
250
12680
31867
31724
2026-04-11T04:10:13Z
Taranpreet Goswami
90
31867
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|بیتال پچیسی|١٣|}}</noinclude>تینون نے اِن تینون سے قول ہارا ہے عجب طرح کی بات پیش آئی ہے کیا کیجئے اس فکر مین بیٹھا تھا کہ اتنے مین
تصویر تینون لڑکون اور برہمن اور کنیا کی
اس لڑکی کو سانپ نے کاٹا وہ مر گئی یہ خبر سنکر اسکا باپ بھائی اور تینون لڑکے پانچون ملکر بڑی دوڑ دھوپ گنی گارڈ اور جتنے منتر سے زہر کے جھاڑنے والے تھے اُن سبکو لائے اُن سبھون نے اس لڑکی کو دیکھ کہا یہ جینے کی نہین پہلا یون بولا کہ پنچمی چھٹ اسٹمی نومی چودس ان تتھون مین سانپ کا کاٹا آدمی جیتا نہین دوسرا بولا سنیچر منگل وار کا ڈسا ہوا بھی جیتا نہین تیسرا بولا روہنی پکھ اشلیکہا بشاکھا مول کرتک ان نچھترون کا بِس چڑھا ہوا اترتا نہین چوتھا بولا کہ اندریا ادھر کپول گلا کوکھ نابھر ان رگون کا کاٹا بچتا نہین پانچوان بولا یہان برھما بھی جلا سکتا نہین ہم کس گنتی مین ہین اب آپ اسکی گت کیجئے ہم جاتے ہین یہ کہکر گنی تو چلے گئے اور برہمن اس مردے کو لے چلا مرگھٹ مین پھونک آپ تو چلا گیا پھر اسکے پیچھے ان تینون جوانون نے یہ کیا کہ ایک تو ان مین سے اسکی جلی ہڈیون کو چن باندہ فقیر ہو بن بن کی سیر کرنے لگا دوسرا اسکی راکھ کی گٹھڑی باندھ وہین جھوپڑی بنا رہنے لگا تیسرا جوگی ہو جھولی کھپر لے دیس بدیس پھرنے لگا ایک دٍن کسی دیس مین ایک برہمن کے گھر بھوجن کے لئے گیا وہ گرہستی برہمن اسے دیکھ کے کہنے لگا اچھا آج یہین بھوجن کیجئے یہ سن کر وہان بیٹھ گیا جسوقت رسوئی تیار ہوئی اس کے ہاتھ پائنون دھلوائے جا چوکے مین بیٹھا آپ بھی اسکے پاس بیٹھ گیا اور اس کی برہمنیی کھانا پروسنے کو آئی کچھ پروس گئی کچھ باقی تھا کہ اتنے مین اسکے چھوٹے لڑکے نے رو کر اپنی مان کا آنچل پکڑا وہ چھڑاتی تھی اور لڑکا نہ چھوڑتا تھا جون جون یہ بہلاتی تھی وہ دونا روتا اور ہٹھہ کرتا تھا اس مین اس برہمبنی نے خفا ہو کر لڑکے کو جلتے چولھے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
a2m8or2k5kni30qkx7phz9pnp2s4wik
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/15
250
12681
31868
31747
2026-04-11T04:41:20Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
31868
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٤|بیتال پچیسی}}</noinclude>مین اٹھا کر پھینک دیا وہ لڑکا جلکر خاک ہو گیا یہ احوال جب اس برہمین نے دیکھا تو بنا کھانے اٹھ کھڑا ہوا تب وہ گھر والا بولا کہ تو کس واسطے کھانا نہین کھاتا وہ بولا کہ جس کے گھر مین دیونی ہو اسکے گھر مین کس طرح کوئی کھانا کھائے یہ سن اس گرہستی نے اٹھ کر ایک اور طرف اپنے گھر مین جا اور سنجیوںی ودیا کی کتاب لا اسمین سے ایک منتر نکال پڑھ کر لڑکے کو جلا دیا تب وہ برہمن یہ عجائب اپنے اپنے جی مین خیال کرنے لگا جو یہ پوتھی میرے ہاتھ لگے تو مین بھی اپنی پیاری کو جلاؤن یہ اپنے من مین ٹھان کھانا کھا وہین سو رہا غرض جب رات ہوئی تو کتنی ایک دیر کے پیچھے سبنے بیالو<ref>رات کا کھانا جسکوائل منبود که معرف مین پکوان یا یا لو کہتے ہین پوریان دخیره ۱۳</ref> کیا اپنی اپنی جگہ جا لیٹے اِدھر اُدھر کی آپسمین باتین کرتے تھے یہ برہمن بھی ایک طرف جا کر پڑ رہا لیکن پڑا پڑا جاگتا تھا جب اُن نے جانا کہ بڑی رات گئی اور سب سو گئے تب چپکا اُٹھ آہستہ آہستہ اُسکے گھر مین پیٹھ وہ کتاب لے چلا اور کتنے دنون مین جس مرگھٹ مین کہ اس برہمن کی بیٹی کو جلایا تھا وہان آن پہونچا ان دونون برہمنون کو بھی وہان پایا کہ آپس مین بیٹھے ہوئے باتین کرتے ہین ان دونون نے بھی اسے پہچان اسکے پاس آ ملاقات کی اور پوچھا کہ بھائی تم دیس بدیس تو پھرے پر یہ کہو کہ کوئی بدیا بھی سیکھی وہ بولا میں نے مرت سنجیونی بدیا سیکھی ہے وہ سنتے ہی بولا جو سیکھی تو ہماری پیاری کو جلاؤ اسنے کہا راکھ ہاڑ کا ڑہین کرو تو مین جلا دون انھون نے راکھ ہڑیان ڈھیر کردین تب اپنے پوتھی مین سے ایک منتر نکال جپا وہ کنیا جی اٹھی پھر اُن تینرون کو خواہش نفسانی نے ایسا اندھا کیا کہ اپس مین جھگڑنے لگے اتنی بات کہکر بیتال بولا اے راجہ یہ بتا کہ وہ استری کسکی ہوئی راجہ بکرم بولا کہ جو منڈھی باندھ کر رہا تھا وہ ناری اسکی ہوئی بیتال بولا جو وہ ہاڑ نہ رکھتا تو وہ کس طرح سے جیتی اور دوسرا ودیا نہ سیکھتا وہ کیونکر اسے جلاتا راجہ نے جواب دیا کہ جس نے اسکی ہڑیان رکھی تھین وہ تو اسکے بیٹے کی جگہ ہوا اور جس نے جیون دیا وہ
گویا اسکا باپ ہوا اس سے وہ جورو اسکی ہوئی کہ جو راکھ سمیت جھوپڑی بانده وہان رہا یہ جواب سنکے بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا راجہ بھی اسکے پیچھے پیچھے جا پہونچا اور اسے باندہ کاندھے پر رکھ لیچلا
تیسری کہانی
بیتال بولا اے راجہ بردوان نام ایک نگر ہے اسمین روپ سین نام ایک راجہ ہے ایک روز کا اتفاق ہے کہ وہ راجہ اپنی ڈیوڑھی کے متسِل کسی مکان مین بیٹھا تھا کہ دروازہ کے باہر سے کچھ اوپری لوگون کی آواز آنے لگی راجہ بولا کہ دروازه پر کون ہے اور کیا شور ہو ریا ہے اسمین دربان نے کہا کہ مہاراج آپ نے یہ بھلی بات جو پوچھی دولتمند کی ڈیوڑھی جان و مال کے لئے بہتیرے آدمی آن بیٹھتے ہین اور طرح طرح کی باتین کرتے ہین انہین لوگون کا یہ شور ہے یہ سن راجہ چپ ہو رہا اتنے مین ایک مُسافر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
2x1atn74ca065brxs192bkv72omfx8i
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/28
250
12694
31869
31836
2026-04-11T07:36:55Z
BalramBodhi
60
31869
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دنیا بہت سخت ہے کوئی یہ نہ سمجھےگا کہ اسنے اپنے ہاتھ سے سر دیبی کو چڑھایا ہے بلکہ یہ کہین گے اسکی عورت جو بہت حسین تھی اسکے لینے کے لئے مار کر یہ مکر کرتا ہے اس سے یہان مرنا اچھا ہے پر سنسار مین بدنامی لینی خوب نہین یہ کہہ تالاب مین نہا دیبی کے سامنےآ ہاتھ جوڑ پرنام کر کھانڈا اٹھا گلے مین مارا کہ دھڑ سے جدا ہو گیا اور یہان یہ اکیلی کھڑی کھڑی اکتا کر راہ دیکھ دیکھ ناامید ہو ڈھونڈھتی ہوئی دیبی کے مندر مین گئی ویا جا کر دیکھتی کیا ہے کہ دونون مرے پڑے ہین پھر ان دونون کو مردہ دیکھ ان نے اپنے جی مین کھیال کیا کہ لوگ تو یہ نہ جانین گے کہ آپ ہی آپ یہ دیبی کو بل چڑھے ھین سب کہین گے کہ رانڈ بدکار تھی بدکاری کرنے کے لئے دونون کو مار آئی ہے اِس بدنامی سے مرنا بہتر ہے یہ سوچکر سر تالاب مین غوطہ مار دیبی کے سامنے آ سر جھکا ڈنڈوت کر تلوار اٹھا چاہتی تھی کہ گردن پر مارے کہ دیبی نے سِنگاسن سے اُتر اسکا ہاتھ آن پکڑا اور کہا اے پتری بر مانگ مین تجھ سے خوش ہوئی تب ان نے کہا ماتا جو تو مجھ سے خوش ہوئی ہے تو ان دونون کو زندہ کر دے پھر دیبی نے کہا ان کے دھڑون سے سر لگا دے ان نے مارے خوشی کے گھبراہٹ مین سر بدل کر لگا دیا اور دیبی نے امرت لا دیا یہ دونون جی کر اٹھ کھڑے ہوئے اور آپس مین جھگڑنے لگے یہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے اور وہ کہتا تھا یہ عورت میری ہے یہ فسّہ کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ بکرماجیت ان دونون مین وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا سُن شاستر مین اسکا فیصلہ لکھا ہے کہ ندیون مین گنگا بہت اچھی ہے اور پہاڑون مین سمیر پہاڑ بہت عمده و مخصوص ہی اور درختون مین کلپ برکش اعضا مین پیشانی بہت عمدہ ہے اس طرح سے جس کا عمدہ جسم ہے اسکی ہوئی اتنی بات سُن بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا اور راجہ بھی جا اسے کاندھے پر رکھ لیچلا
'''ساتوین کہانی'''
بیتال بولا اے راجہ چنپا پور نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ چمپکیشر اور اسکی رانی کا نام سلوچنا اور بیٹی کا نام تربھون سندری ہے وہ بہت ہی حسین ہے جس کا چہرہ چاند سا بال گھٹا سے آنکھین ہرن کی سی بھوین کمان سی ناک طوطہ کی سی گلا صراحی کا سا دانت انار کے سے دانے ہوٹون کی لالی کندوری کی سی کمر چیتے کی سی ہاتھ پاون کومل کنول کے سے رنگ چنپے کا سا غرض اسکی جوبن کی جوت دن بدن بڑھتی تھی جب وہ بیاہنے جوگ ہوئی تب راجہ رانی اپنے دل مین فکر کرنے لگے اور دیس دیس کے راجاؤن کو یہ خبر گئی کہ راجہ چمپکیشر کے گھر مین ایسی لڑکی پیدا ہوئی ہے کہ جسکے روپ کو دیکھتے ہی سُر نر سن موہت ہوتے ہین پھر ملک ملک کے راجاؤن نے اپنی اپنی تصویرین بنوا کر برہمنون کے ہاتھ راجہ چمپکیشر کے یہان بھیجین راجہ نے اپنی بیٹی کو سب راجاؤن کی تصویرین دکھائین پر اس کے من مین کوئی نہ سمائی تب تو راجہ نے کہا تو سعمبر کر یہ بات بھی اسنے نہ مانی اور اپنے باپ سے کہا خوبصوتی زور اور عقل و ہنر جسمین یہ تینون باتین ہون میری<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
5a8f3qq4jlvw0dbukc01csu2umxt0jg
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/30
250
12696
31860
31857
2026-04-10T12:04:48Z
Charan Gill
46
31860
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
آٹھوین کہانی
اے راجہ متھلاوتی نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ مین وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہو گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار ہوا اور چرم دیو بھی اسی سواری کے ساتھ ہو لیا اتفاقاً ایک بن مین راجہ جاکر فوج سے جدا ہو گیا اور سواری کے لوگ ایک اور جنگل مین بھٹک گئے لیکن ایک چرم دیو ہی راجہ کے پیچھے تھا آخرکار اسنے ہی پکار کر کہا مہاراج لوگ سواری کے پیچھے رہ گئے ہین اور مین آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہون راجہ نے یہ سنکر گھوڑے کو روکا کہ اسمین یہ برابر آیا راجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو کِسواستے اتنا دبلا ہو رہا ہے تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہو کہ ہزارون کو پالتا ہو اور اپنی خبر نہ لے تو اسمین کچھ پر ا لزام نہین ہے مگر اپنے مقدر کی خطا ہر جیسے دِن کو سارا جہان دیکھتا ہے مگر آلو کو نظر نہین آتا اسمین گناہ سورج کا کیا ہے حسرت ہے مجھ کو کہ جسے ان کے پیٹ مین روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم مین ہوتے
اور دنیا کی غذاؤن کے لائق ہوئے تربے خبر نہین لیتا نہین معلوم ہوتا ہو یا مرگیا اوراپنے خاطر ال اور دولت
چاہتی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھون چڑھاوے اس کو زیر لا بل کھا کر مرجانا
بہتری اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہین ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول نہی تیر استری
سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچوین گر ہے کی سواری چھٹے بغیر شک کرت کے زبان اور یہ پانچ
چیزین خدا آدمی کی تقدیر مین پیدا ہوتے ہی لکھ دیتا ہو ایک عمر دوسرا کہ تم میرے دولت چوتھے علم یار
اسے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے مین اور جب سخاوت گھٹ جاتی میری بھائی
دشمن ہو جاتے ہین یہ پران کی بات تقریر سوقا کی خدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی بھی مل ہی رہتا ہو بے ترضین
رہتا یہ شن راجہ نے ان سب باتون پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہو کسین سے
کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوج نہ ملیگا یہ کہ جنگل مین جا ایک ہرن ما تفصیلی و خلاق
نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر کا
تب اسنے کہا اسے
راج پر مہین نگر کو چلو کہ وہ مجھے معلوم نہین اپنے راجہ کو گرمین لا ا سکے مندر مین پہونچا
دیاب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خدمت
مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پیر کو بھیجا وہ جینا ہے
پہونچا اپنے ایک دیہی کا مندر دیکھا اسین جاکر دیہی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان کو با ہر نکلا تو ورامین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
cyid7fc33nsj41z59x279f69tix2lcj
31861
31860
2026-04-10T13:02:47Z
Charan Gill
46
31861
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
آٹھوین کہانی
اے راجہ متھلاوتی نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ مین وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہے گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار ہوا اور چرم دیو بھی اسی سواری کے ساتھ ہے لیا اتفاقاً ایک بن مین راجہ جاکر فوج سے جدا ہے گیا اور سواری کے لوگ ایک اور جنگل مین بھٹک گئے لیکن ایک چرم دیو ہی راجہ کے پیچھے تھا آخرکار اسنے ہی پکار کر کہا مہاراج لوگ سواری کے پیچھے رہ گئے ہین اور مین آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہون راجہ نے یہ سنکر گھوڑے کو روکا کہ اسمین یہ برابر آیا راجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو کِسواستے اتنا دبلا ہے رہا ہے تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہے کہ ہزارون کو پالتا ہے اور اپنی خبر نہ لے تو اسمین کچھ پر ا لزام نہین ہے مگر اپنے مقدر کی خطا ہر جیسے دِن کو سارا جہان دیکھتا ہے مگر آلو کو نظر نہین آتا اسمین گناہ سورج کا کیا ہے حسرت ہے مجھ کو کہ جسے ان کے پیٹ مین روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم پیدا ہوتے اور دنیا کی غذاؤن کے لائق ہوئے ت ب بہ خبر نہین لیتا نہین معلوم سوتا ہے یا مر گیا اوراپنے خاطر مال اور دولت چاہنی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھون چڑھا دے اس کو زیر ہلاہل کھا کر مر جانا بہتر ہے اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہین ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول ہنسی تیسرے استری سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچوین گرہے کی سواری چھٹے بغیر شک کرت کے زبان اور یہ پانچ
چیزین خدا آدمی کی تقدیر مین پیدا ہوتے ہی لکھ دیتا ہے ایک عمر دوسرا کہ تم میرے دولت چوتھے علم یار
اسے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے مین اور جب سخاوت گھٹ جاتی میری بھائی
دشمن ہے جاتے ہین یہ پران کی بات تقریر سوقا کی خدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی بھی مل ہی رہتا ہے بے ترضین
رہتا یہ شن راجہ نے ان سب باتون پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے کسین سے
کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوج نہ ملیگا یہ کہ جنگل مین جا ایک ہرن ما تفصیلی و خلاق
نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر کا
تب اسنے کہا اسے
راج پر مہین نگر کو چلو کہ وہ مجھے معلوم نہین اپنے راجہ کو گرمین لا ا سکے مندر مین پہونچا
دیاب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خدمت
مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پیر کو بھیجا وہ جینا ہے
پہونچا اپنے ایک دیہی کا مندر دیکھا اسین جاکر دیہی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان کو با ہر نکلا تو ورامین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
m6yemmzmubxqx9yswqlsb0gmlixktxz
31862
31861
2026-04-10T14:08:38Z
Charan Gill
46
31862
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
آٹھوین کہانی
اے راجہ متھلاوتی نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ مین وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہے گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار ہوا اور چرم دیو بھی اسی سواری کے ساتھ ہے لیا اتفاقاً ایک بن مین راجہ جاکر فوج سے جدا ہے گیا اور سواری کے لوگ ایک اور جنگل مین بھٹک گئے لیکن ایک چرم دیو ہی راجہ کے پیچھے تھا آخرکار اسنے ہی پکار کر کہا مہاراج لوگ سواری کے پیچھے رہ گئے ہین اور مین آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہون راجہ نے یہ سنکر گھوڑے کو روکا کہ اسمین یہ برابر آیا راجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو کِسواستے اتنا دبلا ہے رہا ہے تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہے کہ ہزارون کو پالتا ہے اور اپنی خبر نہ لے تو اسمین کچھ پر ا لزام نہین ہے مگر اپنے مقدر کی خطا ہر جیسے دِن کو سارا جہان دیکھتا ہے مگر آلو کو نظر نہین آتا اسمین گناہ سورج کا کیا ہے حسرت ہے مجھ کو کہ جسے ان کے پیٹ مین روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم پیدا ہوتے اور دنیا کی غذاؤن کے لائق ہوئے ت ب بہ خبر نہین لیتا نہین معلوم سوتا ہے یا مر گیا اوراپنے خاطر مال اور دولت چاہنی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھون چڑھا دے اس کو زیر ہلاہل کھا کر مر جانا بہتر ہے اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہین ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول ہنسی تیسرے استری سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچوین گرہے کی سواری چھٹے بغیر سنسکرت کے زبان اور یہ پانچ چیزین خدا آدمی کی تقدیر ہین پیدا ہوتے ہی لکھدیتا ہے ایک عمر دوسرا کرم تیسرے دولت چوتھے علم پانچویں
شہرت اے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے ہین اور جب سخاوت گھٹ جاتی ہے تو بھائی دشمن ہو جاتے ہین یہ پُران کی بات مقرر ہے سو آقا کی خِدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی پھل مل ہی رہتا ہے بے شمر نہین رہتا یہ شن راجہ نے ان سب باتون پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے کہین سے کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوجن نہ ملیگا یہ کہہ جنگل مین جا ایک ہرن مار تھیلی سے چقماق نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر چکا تب اسنے کہا اے راج پتر ہمین نگر کو لیچلو کہ رہ مجھے معلوم نہین اپنے راجہ کو نگر مین لا اسکے مندر مین پہونچا دیا تب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خِدمت مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پتر کو بھیجا وہ جب کنارے پہونچا اسنے ایک دیبی کا مندر دیکھا اسمین جاکر دیبی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان سے باہر نکلا تو وہین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
9gxi9blnlq64yx5ji242yzwvrxeu1az
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/31
250
12697
31865
30790
2026-04-10T23:03:27Z
Charan Gill
46
31865
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>تصویر راجہ گناگار کا شکار کو جانا اور چرم دیو کا ہرن مار کر راجہ کو کباب کِھلانا
اسکے پیچھے سے ایک خوبصورت عورت اس سے پوچھنے لگی اے پرش تو کِس لیے یہاں ایا ہے وہ بولا عیش کے لیے آیا ہوں اور تیرے روپ کو دیکھ کر فریفتہ ہوا ہوں اسنے کیا جو ہم سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے اس کھنڈ مین جا کر اشنان کر پھر اسکے پیچھے جو تو مجھ سے کہیگا سو مین کرون گی یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار تالاب میں پیٹھ غوطہ مار نکل کر دیکھے تو اپنے گھر مین کھڑا ہے اس اچھے کو دیکھ ترسناک ہوناچار اپنے گھرکو جا اور کڑے ہیں۔
راجہ کے پاس آسب حال بیان کیا راجہ نے سنتے ہی کہا مجھے بھی یہ عجب شما شاد کھا یہ کہتے ہی سواری
من گارد نون سوار ہو کر پہلے کتنے دنوں کے عرصہ میں تالاب کے کنارے آئے اسی دینی کے مندر میں جاکر
پوجا کی پھر راجہ جب باہر نکلا تو ہی عورت ایک سہیلی کو ساتھ لیے راجہ کے پاس آن کھڑی ہوئی اور راجہ
کا روپ و کیم فریفتہ ہو کر ولی اور وہ جو مجھ حکم دے سو کرون راجہ نے اسے جواب یا تو میرا کہ کرے تو میرے
کرکی استری ہودہ بولی میں تیرے شن کی فریفتہ ہوئی ہوں اسکی جو رہ کر امر ہوں راجہ نے کہا تو تو نے
مجھ سے کہا جو و تام کریگا سومین کردگی اور بچے آدمی ہیں بات
کو کتنے میں اسکا سیاہ کرتے ہیں قول کو پورا کر
میرے تو کر کی جو دہریہ کے وہ بولی جو آپ نے کہاوہ مجھے منظوری تب را بند کر کان شرب باہ کردو نون کو
ساتھ لے اپنے راج میں گیا اتنی بات کو متال بول راجہ بتاؤ آقا اور نوکری کسی کی بھلائی زیادہ ہی بھیڑنا
نوکر کی پھر میتال بولا حصول اجرہ نے ایسی خوبصورت عورت اگر نوکر کو دی اس جہد کی بھلائی کرنی زیادہ کون موتوران
کو
ہوا سو ہے نوکر کی بھائی زیادہ ہوئی یہ بات من خیال پر سنی خود بر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا م م ا ام لا
نوین کسانی
بیتیال ہونا اسے راجہ مدن پورز نام ایک نگر ہو وہان پیر بنام راجہ اور اسی ولیس مین جرمیہ دت ناصر ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
pfibecb0l4pysl473o4ylavudf6am8a
31866
31865
2026-04-10T23:41:22Z
Charan Gill
46
31866
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>تصویر راجہ گناگار کا شکار کو جانا اور چرم دیو کا ہرن مار کر راجہ کو کباب کِھلانا
اسکے پیچھے سے ایک خوبصورت عورت اس سے پوچھنے لگی اے پرش تو کِس لیے یہان ایا ہے وہ بولا عیش کے لیے آیا ہون اور تیرے روپ کو دیکھ کر فریفتہ ہوا ہون اسنے کیا جو ہم سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے اس کھنڈ مین جا کر اشنان کر پھر اسکے پیچھے جو تو مجھ سے کہیگا سو مین کرون گی یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار تالاب مین پیٹھ غوطہ مار نکل کر دیکھے تو اپنے گھر مین کھڑا ہے اس اچمبھے کو دیکھ ترسناک ہو ناچار اپنے گھر کو جا اور کپڑے پہن راجہ کے پاس آ سب حال بیان کیا راجہ نے سنتے ہی کہا مجھے بھی یہ عجب تماشا دکھا یہ کہتے ہی سواری منگا دونون سوار ہو کر پلے کتنے دنون کے عرصہ مین تالاب کے کنارے آئے اسی دیبی کے مندر مین جاکر پوچا کی پھر راجہ جب باہر نکلا تو وہی عورت ایک سہیلی کو ساتھ لیے راجہ کے پاس آن کھڑی ہوئی اور راجہ کا روپ دیکھ فریفتہ ہو کر بولی اے راجہ جو مجھے حکم دے سو کرون راجہ نے اسے جواب دیا تو میرا کہا کرے تو میرے
نوکر کی استری ہو وہ بولی مین تیرے حُسن کی فریفتہ ہوئی ہون اسکی جورو کس طرح ہون راجہ نے کہا تو تونے مجھ سے کہا جو تو حکم کریگا سو مین کروںگی اور بچے آدمی ہین بات
کو کتنے مین اسکا سیاہ کرتے ہین قول کو پورا کر
میرے تو کر کی جو دہریہ کے وہ بولی جو آپ نے کہاوہ مجھے منظوری تب را بند کر کان شرب باہ کردو نون کو
ساتھ لے اپنے راج مین گیا اتنی بات کو متال بول راجہ بتاؤ آقا اور نوکری کسی کی بھلائی زیادہ ہی بھیڑنا
نوکر کی پھر میتال بولا حصول اجرہ نے ایسی خوبصورت عورت اگر نوکر کو دی اس جہد کی بھلائی کرنی زیادہ کون موتوران
کو
ہوا سو ہے نوکر کی بھائی زیادہ ہوئی یہ بات من خیال پر سنی خود بر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا م م ا ام لا
نوین کسانی
بیتیال ہونا اسے راجہ مدن پورز نام ایک نگر ہو وہان پیر بنام راجہ اور اسی ولیس مین جرمیہ دت ناصر ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
m1v32icuwdb36wufbyqq2tb2fbsfnhp
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/206
250
12750
31863
30982
2026-04-10T15:27:44Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31863
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>کہ برسات گُزر گئی اور جاڑا آیا ۔ پہاڑی ندیوں
کی دھار دِھیمی پڑ گئی ، کاس کے درخت سفید
پھولوں سے لد گئے ۔ آسمان صاف اور نیلگوں
ہو گیا ۔ چاند کی روشنی نِکھر گئی ۔ مگر سگریو نے
اب تک سیتا کو تلاش کرنے کا کوئی انتظام
نہ کیا ۔ نہ رام لکشمن ہی کی کُچھ خبر لی ۔ ایک
مدّت تک مُصیبتیں جھیلنے کے بعد راج کا سکھ
پاکر عیش میں ڈوب گیا ۔ اپنا قول یاد نہ رہا۔
آخِر رام چندر نے انتظار سے تنگ آکر ایک
دن لکشمن سے کہا - " دیکھتے ہو سگریو کی احسان
فراموشی ۔ جب تک بالی نہ مرا تھا تب تک تو
رات دن خوشامد کیا کرتا تھا اور جب راج
مل گیا اور کسی دشمن کا خطرہ نہ رہا تو ہماری
طرف سے بالکل بے فکر ہو گیا ۔ تم ذرا جا کر
اُسے ایک بار یاد تو دلا دو ۔ اگر مان جائے تو
بہتر ، ورنہ جس تیر سے بالی کو مارا اُسی
تیر سے سگریو کو ختم کر دونگا".<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
eb7t7k36izv5jfkrn6huf4yz4qgpl9a
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/207
250
12751
31864
30987
2026-04-10T15:35:17Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31864
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>لکشمن فوراً کسکندھا شہر میں داخل ہُوئے
اور سگریو کے پاس جا کر کہا "کیوں صاحب !
شرافت اور بھلمنسی کے یہی معنی ہیں کہ جب
تک اپنی غرض تھی تب تک تو رات دن گھیرے
رہتے تھے اور جب راج مِل گیا تو سارے
وعدے بھول بیٹھے ۔ خیریت چاہتے ہو تو فوراً
اپنی فوج کو سیتا کی تلاش میں روانہ کرو،
ورنہ نتیجہ اچّھا نہ ہوگا ۔ جن ہاتھوں نے بالی
کا ایک دم میں خاتمہ کر دیا، انہیں تم کو
مارنے میں کیا دیر لگتی ہے ۔ راستہ دیکھتے دیکھتے
ہماری آنکھیں تھک گئیں ، مگر تمہاری نیند نہ
ٹوُٹی ۔ تم اتنے بے مُروّت اور خود غرض ہو ۔
میں تُمہیں ایک مہینے کا وقت دیتا ہوں۔ اگر
اس میعاد کے اندر سیتا جی کا کُچھ پتہ نہ چل
سکا تو تُمہاری خیریت نہیں."
سگریو کو مارے شرم کے سر اُٹھانا مُشکل
ہو گیا ۔ لکشمن سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
nlqwtupaggcnda3u2rf9ujm1qkbqsci