ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.23
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/2
250
12107
31881
27478
2026-04-13T11:00:25Z
Nitesh Gill
121
31881
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Mbee-wiki" />{{rh||١}}</noinclude>{{Center|{{Xx-larger|'''دیباچہ'''}}}}
راجہ رام چندر ہندو قوم کے اُن بُزرگوں میں ہیں جن کے حالات زندگی پرآج تک ہندوستان کی ہر ایک زبان میں بے شمار
کتاہیں لکھی جا چُکی ہیں۔ ہندوستان کی ہی کیوں؟ دُنیا میں شاید ہی کوئی ایسی زبان ہوگی جس میں رامچندر کے حالات پر ایک بڑا کتب خانہ نہ موجود ہو۔ سب سے پہلے رِشی والمیک نے رام چندر کی زندگی ہی میں اُن کے حالات نظم میں لکھے۔ وہ کتاب اتنی پسند کی گئی اور پڑھنے والوں پر اس کا اتنا اثر ہُٶا کہ شاید ہی کوئی ایسا نامور ہندو شاعر، مُورّخ ، فسانہ نگار، مضمون نویس ہوگا جِس<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
6kfowk88yp609wcvedbka18g0llf81y
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/29
250
12695
31878
31859
2026-04-12T13:39:55Z
BalramBodhi
60
31878
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اس سے شادی کرنا غرض جب کتنے ایک دن گزرے تو چارون دیس سے چار بر برابرآئے پھر اُنسے راجہ نے کہا اپنا اپنا عِلم و ہنر میری آگے ظاہر کرو انمین سے ایک بولا مجھہ مین یہ ہنر ہے کہ ایک کپڑا بنا کر مین پانچ لعل کو بیچتا ہون
تسویر راجہ چمپکیشر اور رانی سلوچنا اور تربھون سندری اس کی بیٹی اور چارون برون کا اپنا اپنا ہنر بیان کرنا
تصویر
جب اسکا مول میرے ہاتھ آتا ہے تو اسمین سے ایک لعل برہمن کو دیتا ہون اور دوسرا دیوتا کو چڑھاتا ہون تیسرا اپنے اوپر خرچ کرتا ہون چوتھا عورت کیواسطے رکھتا ہون پانچوین کو بیچ کر روپیہ لے ہمیشہ کھانا کھاتا ہون یہ بدیا دوسرا کوئی نہین جانتا اور میرا جو روپ ہے سو ظاہر ہے دوسرا بولا مین جل تھل کے چرند و پرند کی بولی جانتا ہون کہ میری طرح کا کوئی دوسرا نہین اور خوبصورتی میری آپکے آگے ہے تیسرے نے کہا مین ایسا شاستر سمحھتا ہون کہ میری مانند دوسرا نہین اور خوبصورتی جو میری ہے وہ تمھارے روبرو ہے چوتھے نے کہا مین تیراندازی مین ایک ہی ہون دوسرا مجھ سا نہین آواز پر تیر مارتا ہون اور میرا حشن جگ مین روشن ہے آپ بھی دیکھتے ہین یہ چارون کی بات سن راجہ اپنے جی مین سوچنے لگا کہ چارون ہنر مین برابر ہین کس سے شادی کرون یہ سوچ کر اپنے بیٹی کے پاس جا چارون کا ہنر بیان کیا اور کہا مین تجھے کسے دون یہ سنکر لاج کے مارے گردن نیچی کر چپ ہو رہی اور کچھ جواب نہ دیا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ بکرم یہ استری کِسکے لائق ہے راجہ نے کہا جو کپڑا بنا کر بیچتا ہے سو ذات کا شودر ہے اور جو بھاکھا جانتا ہے وہ ذات کا بیش ہے اور جو شاستر پڈھا ہے سو برہمن ہے اور جو قادرانداز نشانہ باز بے اسکا ہمقوم ہے یہ استری اسکے لائق ہے اتنی بات سن بیتال اس درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہان جا اسے باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا تب بتیال نے کہا-<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
2t7i046olb01d9njnqzb162ash9n1a0
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/31
250
12697
31879
31877
2026-04-13T01:09:26Z
Kaur.gurmel
74
31879
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''تصویر راجہ گناگار کا شکار کو جانا اور چرم دیو کا ہرن مار کر راجہ کو کباب کِھلانا'''
اسکے پیچھے سے ایک خوبصورت عورت اس سے پوچھنے لگی اے پرش تو کِس لیے یہان ایا ہے وہ بولا عیش کے لیے آیا ہون اور تیرے روپ کو دیکھ کر فریفتہ ہوا ہون اسنے کیا جو ہم سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے اس کھنڈ مین جا کر اشنان کر پھر اسکے پیچھے جو تو مجھ سے کہیگا سو مین کرون گی یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار تالاب مین پیٹھ غوطہ مار نکل کر دیکھے تو اپنے گھر مین کھڑا ہے اس اچمبھے کو دیکھ ترسناک ہو ناچار اپنے گھر کو جا اور کپڑے پہن راجہ کے پاس آ سب حال بیان کیا راجہ نے سنتے ہی کہا مجھے بھی یہ عجب تماشا دکھا یہ کہتے ہی سواری منگا دونون سوار ہو کر پلے کتنے دنون کے عرصہ مین تالاب کے کنارے آئے اسی دیبی کے مندر مین جاکر پوچا کی پھر راجہ جب باہر نکلا تو وہی عورت ایک سہیلی کو ساتھ لیے راجہ کے پاس آن کھڑی ہوئی اور راجہ کا روپ دیکھ فریفتہ ہو کر بولی اے راجہ جو مجھے حکم دے سو کرون راجہ نے اسے جواب دیا تو میرا کہا کرے تو میرے
نوکر کی استری ہو وہ بولی مین تیرے حُسن کی فریفتہ ہوئی ہون اسکی جورو کس طرح ہون راجہ نے کہا تو تونے مجھ سے کہا جو تو حکم کریگا سو مین کروںگی اور سچے آدمی جس بات کو کہنے ہین اسکا نباہ کرتے ہین قول کو پورا کر میرے توکر کی جورو ہو یہ سنکے وہ بولی جو آپ نے کہا وہ مجھے منظور ہے تب راجا نوکر کا گندھرب باہ کر دونون کو ساتھ لے اپنے راج مین گیا اتنی بات کہہ بیتال بولا راجہ بتاؤ آقا اور نوکر کِسکی بھلائی زیادہ رہی راجہ بولا نوکر کی پھر بیتال بولا حصول اجرہ نے ایسی خوبصورت عورت اگر نوکر کو دی اس جہد کی بھلائی کرنی زیادہ کون موتوران
کو
ہوا سو ہے نوکر کی بھائی زیادہ ہوئی یہ بات من خیال پر سنی خود بر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا م م ا ام لا
'''نوین کسانی'''
بیتال ہونا اے راجہ مدن پور نام ایک نگر ہے وہان بیربر بنام راجہ اور اسی دیس مین جرنیہ دت نام ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
2hctb8j778hsovvwz9z6t0h65g74lhh
31880
31879
2026-04-13T01:26:19Z
Charan Gill
46
31880
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''تصویر راجہ گناگار کا شکار کو جانا اور چرم دیو کا ہرن مار کر راجہ کو کباب کِھلانا'''
اسکے پیچھے سے ایک خوبصورت عورت اس سے پوچھنے لگی اے پرش تو کِس لیے یہان ایا ہے وہ بولا عیش کے لیے آیا ہون اور تیرے روپ کو دیکھ کر فریفتہ ہوا ہون اسنے کیا جو ہم سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے اس کھنڈ مین جا کر اشنان کر پھر اسکے پیچھے جو تو مجھ سے کہیگا سو مین کرون گی یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار تالاب مین پیٹھ غوطہ مار نکل کر دیکھے تو اپنے گھر مین کھڑا ہے اس اچمبھے کو دیکھ ترسناک ہو ناچار اپنے گھر کو جا اور کپڑے پہن راجہ کے پاس آ سب حال بیان کیا راجہ نے سنتے ہی کہا مجھے بھی یہ عجب تماشا دکھا یہ کہتے ہی سواری منگا دونون سوار ہو کر پلے کتنے دنون کے عرصہ مین تالاب کے کنارے آئے اسی دیبی کے مندر مین جاکر پوچا کی پھر راجہ جب باہر نکلا تو وہی عورت ایک سہیلی کو ساتھ لیے راجہ کے پاس آن کھڑی ہوئی اور راجہ کا روپ دیکھ فریفتہ ہو کر بولی اے راجہ جو مجھے حکم دے سو کرون راجہ نے اسے جواب دیا تو میرا کہا کرے تو میرے
نوکر کی استری ہو وہ بولی مین تیرے حُسن کی فریفتہ ہوئی ہون اسکی جورو کس طرح ہون راجہ نے کہا تو تونے مجھ سے کہا جو تو حکم کریگا سو مین کروںگی اور سچے آدمی جس بات کو کہنے ہین اسکا نباہ کرتے ہین قول کو پورا کر میرے توکر کی جورو ہو یہ سنکے وہ بولی جو آپ نے کہا وہ مجھے منظور ہے تب راجا نوکر کا گندھرب باہ کر دونون کو ساتھ لے اپنے راج مین گیا اتنی بات کہہ بیتال بولا راجہ بتاؤ آقا اور نوکر کِسکی بھلائی زیادہ رہی راجہ بولا نوکر کی پھر بیتال بولا حصول اجرہ نے ایسی خوبصورت عورت اگر نوکر کو دی اسوجہ سے نوکر کی بھلائی زیادہ کون موتوران کو ہواسوجہ سے نوکر کی بھلائی یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر اسے وہان سے کاندھے پر رکھ لیچلا
'''نوین کسانی'''
بیتال ہونا اے راجہ مدن پور نام ایک نگر ہے وہان بیربر بنام راجہ اور اسی دیس مین جرنیہ دت نام ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
89rfwij0rjsqf3tjsvkj547ny7gn4dr