ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.23
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/15
250
12681
31892
31868
2026-04-14T05:26:07Z
Taranpreet Goswami
90
31892
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٤|بیتال پچیسی}}</noinclude>مین اٹھا کر پھینک دیا وہ لڑکا جلکر خاک ہو گیا یہ احوال جب اس برہمین نے دیکھا تو بنا کھانے اٹھ کھڑا ہوا تب وہ گھر والا بولا کہ تو کس واسطے کھانا نہین کھاتا وہ بولا کہ جس کے گھر مین دیونی ہو اسکے گھر مین کس طرح کوئی کھانا کھائے یہ سن اس گرہستی نے اٹھ کر ایک اور طرف اپنے گھر مین جا اور سنجیوںی ودیا کی کتاب لا اسمین سے ایک منتر نکال پڑھ کر لڑکے کو جلا دیا تب وہ برہمن یہ عجائب اپنے اپنے جی مین خیال کرنے لگا جو یہ پوتھی میرے ہاتھ لگے تو مین بھی اپنی پیاری کو جلاؤن یہ اپنے من مین ٹھان کھانا کھا وہین سو رہا غرض جب رات ہوئی تو کتنی ایک دیر کے پیچھے سبنے بیالو<ref>رات کا کھانا جسکوائل منبود که معرف مین پکوان یا یا لو کہتے ہین پوریان دخیره ۱۳</ref> کیا اپنی اپنی جگہ جا لیٹے اِدھر اُدھر کی آپسمین باتین کرتے تھے یہ برہمن بھی ایک طرف جا کر پڑ رہا لیکن پڑا پڑا جاگتا تھا جب اُن نے جانا کہ بڑی رات گئی اور سب سو گئے تب چپکا اُٹھ آہستہ آہستہ اُسکے گھر مین پیٹھ وہ کتاب لے چلا اور کتنے دنون مین جس مرگھٹ مین کہ اس برہمن کی بیٹی کو جلایا تھا وہان آن پہونچا ان دونون برہمنون کو بھی وہان پایا کہ آپس مین بیٹھے ہوئے باتین کرتے ہین ان دونون نے بھی اسے پہچان اسکے پاس آ ملاقات کی اور پوچھا کہ بھائی تم دیس بدیس تو پھرے پر یہ کہو کہ کوئی بدیا بھی سیکھی وہ بولا میں نے مِرت سنجیونی بدیا سیکھی ہے وہ سنتے ہی بولا جو سیکھی تو ہماری پیاری کو جلاؤ اسنے کہا راکھ ہاڑ کا ڑہین کرو تو مین جلا دون انھون نے راکھ ہڑیان ڈھیر کردین تب اپنے پوتھی مین سے ایک منتر نکال جپا وہ کنیا جی اٹھی پھر اُن تینرون کو خواہش نفسانی نے ایسا اندھا کیا کہ آپس مین جھگڑنے لگے اتنی بات کہکر بیتال بولا اے راجہ یہ بتا کہ وہ استری کسکی ہوئی راجہ بکرم بولا کہ جو منڈھی باندھ کر رہا تھا وہ ناری اسکی ہوئی بیتال بولا جو وہ ہاڑ نہ رکھتا تو وہ کس طرح سے جیتی اور دوسرا ودیا نہ سیکھتا وہ کیونکر اسے جلاتا راجہ نے جواب دیا کہ جس نے اسکی ہڑیان رکھی تھین وہ تو اسکے بیٹے کی جگہ ہوا اور جس نے جیون دیا وہ
گویا اسکا باپ ہوا اس سے وہ جورو اسکی ہوئی کہ جو راکھ سمیت جھوپڑی بانده وہان رہا یہ جواب سنکے بیتال پھر اسی درخت مین جا لٹکا راجہ بھی اسکے پیچھے پیچھے جا پہونچا اور اسے باندہ کاندھے پر رکھ لیچلا
تیسری کہانی
بیتال بولا اے راجہ بردوان نام ایک نگر ہے اسمین روپ سین نام ایک راجہ ہے ایک روز کا اتفاق ہے کہ وہ راجہ اپنی ڈیوڑھی کے متسِل کسی مکان مین بیٹھا تھا کہ دروازہ کے باہر سے کچھ اوپری لوگون کی آواز آنے لگی راجہ بولا کہ دروازه پر کون ہے اور کیا شور ہو ریا ہے اسمین دربان نے کہا کہ مہاراج آپ نے یہ بھلی بات جو پوچھی دولتمند کی ڈیوڑھی جان و مال کے لئے بہتیرے آدمی آن بیٹھتے ہین اور طرح طرح کی باتین کرتے ہین انہین لوگون کا یہ شور ہے یہ سن راجہ چپ ہو رہا اتنے مین ایک مُسافر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
sf4ak1dm2l6bidas77rynvihwhx9wfm
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/30
250
12696
31882
31862
2026-04-13T13:02:23Z
BalramBodhi
60
31882
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
آٹھوین کہانی
اے راجہ متھلاوتی نام ایک نگر ہے وہان کا راجہ گنادھیپ اسکی سیوا کرنے کو دور دیس سے ایک چرم دیو نام راجکمار آیا روز اس راجہ کے درشن کو جایا کرتا لیکن ملاقات نہ ہوتی تھی اور جتنا دھن وہ لایا تھا سو برس روز کے عرصہ مین وہ بیٹھ کر یہان کھا گیا اور وہان گھر اسکا ویران ہو گیا ایک دن کی بات ہے کہ راجہ شکار کو سوار ہوا اور چرم دیو بھی اسکی سواری کے ساتھ ہو لیا اتفاقاً ایک بن مین راجہ جا کر فوج سے جدا ہو گیا اور سواری کے لوگ ایک اور جنگل مین بھٹک گئے لیکن ایک چرم دیو ہی راجہ کے پیچھے تھا آخرکار اسنے ہی پکار کر کہا مہاراج لوگ سواری کے پیچھے رہ گئے ہین اور مین آپ کے گھوڑے کے ساتھ گھوڑا مارے چلا آتا ہون راجہ نے یہ سنکر گھوڑے کو روکا کہ اسمین یہ برابر آیا راجہ نے اسے دیکھتے پوچھا تو کِسواستے اتنا دبلا ہو رہا ہے تب وہ بولا جس مالک کے پاس رہو اور وہ ایسا ہو کہ ہزارون کو پالتا ہو اور اپنی خبر نہ لے تو اسمین کچھ اس پر الزام نہین ہے مگر اپنے مقدر کی خطا ہے جیسے دِن کو سارا جہان دیکھتا ہے پر اُلو کو نظر نہین آتا اسمین گناہ سورج کا کیا ہے حسرت ہے مجھ کو کہ جنسے مان کے پیٹ مین روزی پہونچائی تھی جبکہ ہم پیدا ہوئے اور دنیا کی غذاؤن کے لائق ہوئے تب وہ خبر نہین لیتا نہین معلوم سوتا ہے یا مر گیا اور اپنے خاطر مال اور دولت چاہنی بڑے آدمی سے کہ دیتے وقت وہ منھ بنا دے اور ناک بھون چڑھا وے اس کو زیر ہلاہل کھا کر مر جانا بہتر ہے اور یہ چھ باتین آدمی کو ہلکا کرتی ہین ایک تو کھوٹے آدمی کی محبت دوسرے فضول ہنسی تیسرے استری سے بحث کرنا چوتھے نالائق مالک کی خدمت پانچوین گرہے کی سواری چھٹے بغیر سنسکرت کے زبان اور یہ پانچ چیزین خدا آدمی کی تقدیر ہین پیدا ہوتے ہی لکھدیتا ہے ایک عمر دوسرا کرم تیسرے دولت چوتھے علم پانچوین شہرت اے مہاراج جبتک آدمی کا پن ادے ہوتا ہے سب اسکے غلام رہتے ہین اور جب سخاوت گھٹ جاتی ہے تو بھائی دشمن ہو جاتے ہین یہ پُران کی بات مقرر ہے سو آقا کی خِدمت کرنے سے کبھی نہ کبھی پھل مل ہی رہتا ہے بے شمر نہین رہتا یہ سُن راجہ نے ان سب باتون پر غور کر اسوقت کچھ جواب نہ دیا پر اس سے یہ کہا کہ مجھے بھوک لگی ہے کہین سے کچھ کھانے کو لا چرم دیو نے کہا مہاراج یہان ان بھوجن نہ ملیگا یہ کہہ جنگل مین جا ایک ہرن مار تھیلی سے چقماق نکال آگ سلگا گوشت کو بھون تکے لگا کے راجہ کو خوب سے کھلا آپ بھی کھائے غرض راجہ کا پیٹ بھر چکا تب اسنے کہا اے راج پتر ہمین نگر کو لیچلو کہ رہ مجھے معلوم نہین اسنے راجہ کو نگر مین لا اسکے مندر مین پہونچا دیا تب راجہ نے اسکی چاکری مقرر کر دی اور بہت سے اسے کپڑے اور زیورات دیے پھر وہ راجہ کی خِدمت مین حاضر رہنے لگا غرض ایک دن راجہ نے کسی کام کے لیے سمندر کنارے اس راج پتر کو بھیجا وہ جب کنارے پہونچا اسنے ایک دیبی کا مندر دیکھا اسمین جاکر دیبی کی پوجا کی لیکن جب وہ وہان سے باہر نکلا تو وہین<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
gadei3tnaf6mjdi719dc3ms6fs8nv1e
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/31
250
12697
31883
31880
2026-04-13T14:25:35Z
Kaur.gurmel
74
31883
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''تصویر راجہ گناگر کا شکار کو جانا اور چرم دیو کا ہرن مار کر راجہ کو کباب کِھلانا'''
اسکے پیچھے سے ایک خوبصورت عورت اس سے پوچھنے لگی اے پرش تو کِس لیے یہان ایا ہے وہ بولا عیش کے لیے آیا ہون اور تیرے روپ کو دیکھ کر فریفتہ ہوا ہون اسنے کہا جو ہم سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے اس کھنڈ مین جا کر اشنان کر پھر اسکے پیچھے جو تو مجھ سے کہیگا سو مین کرون گی یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار تالاب مین پیٹھ غوطہ مار نکل کر دیکھے تو اپنے گھر مین کھڑا ہے اس اچمبھے کو دیکھ ترسناک ہو ناچار اپنے گھر کو جا اور کپڑے پہن راجہ کے پاس آ سب حال بیان کیا راجہ نے سنتے ہی کہا مجھے بھی یہ عجب تماشا دکھا یہ کہتے ہی سواری منگا دونون سوار ہو کر چلے کتنے دنون کے عرصہ مین تالاب کے کنارے آئے اسی دیبی کے مندر مین جا کر پوجا کی پھر راجہ جب باہر نکلا تو وہی عورت ایک سہیلی کو ساتھ لیے راجہ کے پاس آن کھڑی ہوئی اور راجہ کا روپ دیکھ فریفتہ ہو کر بولی اے راجہ جو مجھے حکم دے سو کرون راجہ نے اسے جواب دیا تو میرا کہا کرے تو میرے
نوکر کی استری ہو وہ بولی مین تیرے حُسن کی فریفتہ ہوئی ہون اسکی جورو کس طرح ہون راجہ نے کہا تو تونے مجھ سے کہا جو تو حکم کریگا سو مین کروںگی اور سچے آدمی جس بات کو کہتے ہین اسکا نباہ کرتے ہین قول کو پورا کر میرے نوکر کی جورو ہو یہ سنکے وہ بولی جو آپ نے کہا وہ مجھے منظور ہے تب راجہ نوکر کا گندھرب باہ کر دونون کو ساتھ لے اپنے راج مین گیا اتنی بات کہہ بیتال بولا راجہ بتاؤ آقا اور نوکر کِسکی بھلائی زیادہ رہی راجہ بولا نوکر کی پھر بیتال بولا حصول اجرہ نے ایسی خوبصورت عورت اگر نوکر کو دی اسوجہ سے نوکر کی بھلائی زیادہ کون موتوران کو ہواسوجہ سے نوکر کی بھلائی یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر اسے وہان سے کاندھے پر رکھ لیچلا
'''نوین کسانی'''
بیتال ہونا اے راجہ مدن پور نام ایک نگر ہے وہان بیربر بنام راجہ اور اسی دیس مین جرنیہ دت نام ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
mthhq6l0l46vkpdyskkqrxq7fu3537l
31884
31883
2026-04-13T15:16:10Z
Charan Gill
46
31884
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''تصویر راجہ گناگر کا شکار کو جانا اور چرم دیو کا ہرن مار کر راجہ کو کباب کِھلانا'''
اسکے پیچھے سے ایک خوبصورت عورت اس سے پوچھنے لگی اے پرش تو کِس لیے یہان ایا ہے وہ بولا عیش کے لیے آیا ہون اور تیرے روپ کو دیکھ کر فریفتہ ہوا ہون اسنے کہا جو ہم سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے اس کھنڈ مین جا کر اشنان کر پھر اسکے پیچھے جو تو مجھ سے کہیگا سو مین کرون گی یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار تالاب مین پیٹھ غوطہ مار نکل کر دیکھے تو اپنے گھر مین کھڑا ہے اس اچمبھے کو دیکھ ترسناک ہو ناچار اپنے گھر کو جا اور کپڑے پہن راجہ کے پاس آ سب حال بیان کیا راجہ نے سنتے ہی کہا مجھے بھی یہ عجب تماشا دکھا یہ کہتے ہی سواری منگا دونون سوار ہو کر چلے کتنے دنون کے عرصہ مین تالاب کے کنارے آئے اسی دیبی کے مندر مین جا کر پوجا کی پھر راجہ جب باہر نکلا تو وہی عورت ایک سہیلی کو ساتھ لیے راجہ کے پاس آن کھڑی ہوئی اور راجہ کا روپ دیکھ فریفتہ ہو کر بولی اے راجہ جو مجھے حکم دے سو کرون راجہ نے اسے جواب دیا تو میرا کہا کرے تو میرے
نوکر کی استری ہو وہ بولی مین تیرے حُسن کی فریفتہ ہوئی ہون اسکی جورو کس طرح ہون راجہ نے کہا تو تونے مجھ سے کہا جو تو حکم کریگا سو مین کروںگی اور سچے آدمی جس بات کو کہتے ہین اسکا نباہ کرتے ہین قول کو پورا کر میرے نوکر کی جورو ہو یہ سنکے وہ بولی جو آپ نے کہا وہ مجھے منظور ہے تب راجہ نوکر کا گندھرب باہ کر دونون کو ساتھ لے اپنے راج مین گیا اتنی بات کہہ بیتال بولا راجہ بتاؤ آقا اور نوکر کِسکی بھلائی زیادہ رہی راجہ بولا نوکر کی پھر بیتال بولا جس راجہ نے ایسی خوبصورت عورت پاکر نوکر کو دی اس راجہ کی بھلائی کرنے میں زیادہ کیون نہ ہو تب راجہ بکرماجیت نے کہا جنکا دھرم بھلائی کرنا ہے انکے بھلائی کرنے میں زیادتی کیا ہے جو اپنا کام چھوڈ دوسرے کا کرے سو نیکی ہے اسوجہ بے نوکر کی بھلائی زیادہ ہوئی یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر اسے وہان سے کاندھے پر رکھ لیچلا
'''نوین کسانی'''
بیتال ہونا اے راجہ مدن پور نام ایک نگر ہے وہان بیربر بنام راجہ اور اسی دیس مین جرنیہ دت نام ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
178v34c0daz453ghimzajqwlde0acvd
31885
31884
2026-04-13T15:17:00Z
Charan Gill
46
31885
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''تصویر راجہ گناگر کا شکار کو جانا اور چرم دیو کا ہرن مار کر راجہ کو کباب کِھلانا'''
اسکے پیچھے سے ایک خوبصورت عورت اس سے پوچھنے لگی اے پرش تو کِس لیے یہان ایا ہے وہ بولا عیش کے لیے آیا ہون اور تیرے روپ کو دیکھ کر فریفتہ ہوا ہون اسنے کہا جو ہم سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے اس کھنڈ مین جا کر اشنان کر پھر اسکے پیچھے جو تو مجھ سے کہیگا سو مین کرون گی یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار تالاب مین پیٹھ غوطہ مار نکل کر دیکھے تو اپنے گھر مین کھڑا ہے اس اچمبھے کو دیکھ ترسناک ہو ناچار اپنے گھر کو جا اور کپڑے پہن راجہ کے پاس آ سب حال بیان کیا راجہ نے سنتے ہی کہا مجھے بھی یہ عجب تماشا دکھا یہ کہتے ہی سواری منگا دونون سوار ہو کر چلے کتنے دنون کے عرصہ مین تالاب کے کنارے آئے اسی دیبی کے مندر مین جا کر پوجا کی پھر راجہ جب باہر نکلا تو وہی عورت ایک سہیلی کو ساتھ لیے راجہ کے پاس آن کھڑی ہوئی اور راجہ کا روپ دیکھ فریفتہ ہو کر بولی اے راجہ جو مجھے حکم دے سو کرون راجہ نے اسے جواب دیا تو میرا کہا کرے تو میرے
نوکر کی استری ہو وہ بولی مین تیرے حُسن کی فریفتہ ہوئی ہون اسکی جورو کس طرح ہون راجہ نے کہا تو تونے مجھ سے کہا جو تو حکم کریگا سو مین کروںگی اور سچے آدمی جس بات کو کہتے ہین اسکا نباہ کرتے ہین قول کو پورا کر میرے نوکر کی جورو ہو یہ سنکے وہ بولی جو آپ نے کہا وہ مجھے منظور ہے تب راجہ نوکر کا گندھرب باہ کر دونون کو ساتھ لے اپنے راج مین گیا اتنی بات کہہ بیتال بولا راجہ بتاؤ آقا اور نوکر کِسکی بھلائی زیادہ رہی راجہ بولا نوکر کی پھر بیتال بولا جس راجہ نے ایسی خوبصورت عورت پاکر نوکر کو دی اس راجہ کی بھلائی کرنے میں زیادہ کیون نہ ہو تب راجہ بکرماجیت نے کہا جنکا دھرم بھلائی کرنا ہے انکے بھلائی کرنے میں زیادتی کیا ہے جو اپنا کام چھوڈ دوسرے کا کرے سو نیکی ہے اسوجہ بے نوکر کی بھلائی زیادہ ہوئی یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر اسے وہان سے کاندھے پر رکھ لیچلا
'''نوین کہانی'''
بیتال ہونا اے راجہ مدن پور نام ایک نگر ہے وہان بیربر بنام راجہ اور اسی دیس مین جرنیہ دت نام ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
p2cvuvosvh5jzi94jx0kzf1hmz30f91
31886
31885
2026-04-13T15:21:38Z
Charan Gill
46
31886
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''تصویر راجہ گناگر کا شکار کو جانا اور چرم دیو کا ہرن مار کر راجہ کو کباب کِھلانا'''
اسکے پیچھے سے ایک خوبصورت عورت اس سے پوچھنے لگی اے پرش تو کِس لیے یہان ایا ہے وہ بولا عیش کے لیے آیا ہون اور تیرے روپ کو دیکھ کر فریفتہ ہوا ہون اسنے کہا جو ہم سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے اس کھنڈ مین جا کر اشنان کر پھر اسکے پیچھے جو تو مجھ سے کہیگا سو مین کرون گی یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار تالاب مین پیٹھ غوطہ مار نکل کر دیکھے تو اپنے گھر مین کھڑا ہے اس اچمبھے کو دیکھ ترسناک ہو ناچار اپنے گھر کو جا اور کپڑے پہن راجہ کے پاس آ سب حال بیان کیا راجہ نے سنتے ہی کہا مجھے بھی یہ عجب تماشا دکھا یہ کہتے ہی سواری منگا دونون سوار ہو کر چلے کتنے دنون کے عرصہ مین تالاب کے کنارے آئے اسی دیبی کے مندر مین جا کر پوجا کی پھر راجہ جب باہر نکلا تو وہی عورت ایک سہیلی کو ساتھ لیے راجہ کے پاس آن کھڑی ہوئی اور راجہ کا روپ دیکھ فریفتہ ہو کر بولی اے راجہ جو مجھے حکم دے سو کرون راجہ نے اسے جواب دیا تو میرا کہا کرے تو میرے
نوکر کی استری ہو وہ بولی مین تیرے حُسن کی فریفتہ ہوئی ہون اسکی جورو کس طرح ہون راجہ نے کہا تو تونے مجھ سے کہا جو تو حکم کریگا سو مین کروںگی اور سچے آدمی جس بات کو کہتے ہین اسکا نباہ کرتے ہین قول کو پورا کر میرے نوکر کی جورو ہو یہ سنکے وہ بولی جو آپ نے کہا وہ مجھے منظور ہے تب راجہ نوکر کا گندھرب بواہ کر دونون کو ساتھ لے اپنے راج مین گیا اتنی بات کہہ بیتال بولا راجہ بتاؤ آقا اور نوکر کِسکی بھلائی زیادہ رہی راجہ بولا نوکر کی پھر بیتال بولا جس راجہ نے ایسی خوبصورت عورت پاکر نوکر کو دی اس راجہ کی بھلائی کرنے میں زیادہ کیون نہ ہو تب راجہ بکرماجیت نے کہا جنکا دھرم بھلائی کرنا ہے انکے بھلائی کرنے میں زیادتی کیا ہے جو اپنا کام چھوڈ دوسرے کا کرے سو نیکی ہے اسوجہ بے نوکر کی بھلائی زیادہ ہوئی یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر اسے وہان سے کاندھے پر رکھ لیچلا
'''نوین کہانی'''
بیتال ہونا اے راجہ مدن پور نام ایک نگر ہے وہان بیربر بنام راجہ اور اسی دیس مین جرنیہ دت نام ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
39l93flre5xhar0pff2g2dbgyo22vkx
31894
31886
2026-04-14T11:37:36Z
Kaur.gurmel
74
31894
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>'''تصویر راجہ گناگر کا شکار کو جانا اور چرم دیو کا ہرن مار کر راجہ کو کباب کِھلانا'''
اسکے پیچھے سے ایک خوبصورت عورت اس سے پوچھنے لگی اے پرش تو کِس لیے یہان ایا ہے وہ بولا عیش کے لیے آیا ہون اور تیرے روپ کو دیکھ کر فریفتہ ہوا ہون اسنے کہا جو ہم سے کچھ ارادہ رکھتا ہے تو پہلے اس کھنڈ مین جا کر اشنان کر پھر اسکے پیچھے جو تو مجھ سے کہیگا سو مین کرون گی یہ سنتے ہی وہ کپڑے اتار تالاب مین پیٹھ غوطہ مار نکل کر دیکھے تو اپنے گھر مین کھڑا ہے اس اچمبھے کو دیکھ ترسناک ہو ناچار اپنے گھر کو جا اور کپڑے پہن راجہ کے پاس آ سب حال بیان کیا راجہ نے سنتے ہی کہا مجھے بھی یہ عجب تماشا دکھا یہ کہتے ہی سواری منگا دونون سوار ہو کر چلے کتنے دنون کے عرصہ مین تالاب کے کنارے آئے اسی دیبی کے مندر مین جا کر پوجا کی پھر راجہ جب باہر نکلا تو وہی عورت ایک سہیلی کو ساتھ لیے راجہ کے پاس آن کھڑی ہوئی اور راجہ کا روپ دیکھ فریفتہ ہو کر بولی اے راجہ جو مجھے حکم دے سو کرون راجہ نے اسے جواب دیا تو میرا کہا کرے تو میرے
نوکر کی استری ہو وہ بولی مین تیرے حُسن کی فریفتہ ہوئی ہون اسکی جورو کس طرح ہون راجہ نے کہا تو تونے مجھ سے کہا جو تو حکم کریگا سو مین کروںگی اور سچے آدمی جس بات کو کہتے ہین اسکا نباہ کرتے ہین قول کو پورا کر میرے نوکر کی جورو ہو یہ سنکے وہ بولی جو آپ نے کہا وہ مجھے منظور ہے تب راجہ نوکر کا گندھرب بواہ کر دونون کو ساتھ لے اپنے راج مین گیا اتنی بات کہہ بیتال بولا راجہ بتاؤ آقا اور نوکر کِسکی بھلائی زیادہ رہی راجہ بولا نوکر کی پھر بیتال بولا جس راجہ نے ایسی خوبصورت عورت پاکر نوکر کو دی اس راجہ کی بھلائی کرنے میں زیادہ کیون نہ ہو تب راجہ بکرماجیت نے کہا جنکا دھرم بھلائی کرنا ہے انکے بھلائی کرنے میں زیادتی کیا ہے جو اپنا کام چھوڑ دوسرے کا کرے سو نیکی ہے اسوجہ بے نوکر کی بھلائی زیادہ ہوئی یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر اسے وہان سے کاندھے پر رکھ لیچلا
'''نوین کہانی'''
بیتال بولا اے راجہ مدن پور نام ایک نگر ہے وہان بیربر نام راجہ اور اسی دیس مین ہرنیہ دت نام ایک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
eed3m9pirndzipmwd9m10hkju3oo7ux
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/32
250
12698
31889
30792
2026-04-13T17:28:46Z
Charan Gill
46
31889
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاٌ اسکے آنے سے پیشتر در مدت سیٹھ کا بٹیا روم در ناصر اپنے رویہ رت کو
ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھر ا ہل اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے
دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے لئے تو میرے دل کو آرام ہوئے اورجونہ ملے تو دنیا مین جینا
محبت ہی یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بے
اختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ کر کرنے کی
تو تو مجھ سے پریت نہ کر کی تومین تیرے اوپر نیا ایران دون گا وہ بولی ایساست کی یو مین پاس ہو گا اب
ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیرا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا
میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے وقت عشق کے قبلہ سر در مادرم کالحاظ نہین ہے پر جو
تو مجھے قول ویسے تو میرے بھی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین
تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھرکو آیا
غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بیا کہ اسے انے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے
رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبر دستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جانا
چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھاتو اسکا ہاتھ پر بیج پیٹھا یا رس
ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور وہ جو اس ساہوکارکے سے قول و قرار او تقل
سب بیان کیا یہ سکے اس کے خاور نے کہا جو تو سچ سچے اسکے پاس جایا چاہتی ہو ت جادہ اپنے شوہر کی اجازت
یا اس سیٹھ کے گھر کو لی راہ مین جو اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اگر کیا آزاد می پر رات کی وقت اس اندھیری
مین ایسے کپڑے اور زیور این کئے کیلی کہان جاتی ہو وہ بولی مین جنگی میز پر تیم سیارات پویشی چور نے
آرایمان تیرامہ نگار کون ہو وہ کہنے لگی ودنش بان لیے من میامد کرنے والا سا کرہم یہ کہ پھر دور کے آگے
ساری اپنی اولی آخر کرنا بیان کرکے کہا میرات کا بھنگ است کرمین تجھ سے بچن ویلے جاتی ہون وہان
جب پھرو گی تب گہنا تیرے حوالے کر دگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین
پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ جھکر اسے چھوڑ دیا آئے ان بیٹھا۔ اور یہ مان گئی کہ جہان سوم روست
پڑا سوتا تھا جاتے ہین جو اسے اسے اچانک چکا بارہ گیا کیا تھا اورکہنے لگاکہ تو دو یا ہو یا اس کیا یا اگر
کیا ہے کہ تو کون ہو اور میرے پاس کہان سے آئی جو دو بولی کہ مین و مازاد عورت مون اور برن در ایام
کی بیٹی من سینا یلز نام مو در تجھے یا نہین کہ و اس روپ مین مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو
تیار تھا اور مین نے مو جب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر میرے اپنی ہوگی جو ہر آگئی پینا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
1hykm5x4e7eaxl3hrkdkyqzljd7nn5d
31890
31889
2026-04-14T00:54:13Z
Charan Gill
46
31890
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاٌ اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بٹیا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے میلے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ کر کرنے کی
تو تو مجھ سے پریت نہ کر کی تومین تیرے اوپر نیا ایران دون گا وہ بولی ایساست کی یو مین پاس ہو گا اب
ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیرا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا
میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے وقت عشق کے قبلہ سر در مادرم کالحاظ نہین ہے پر جو
تو مجھے قول ویسے تو میرے بھی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین
تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھرکو آیا
غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بیا کہ اسے انے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے
رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبر دستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جانا
چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھاتو اسکا ہاتھ پر بیج پیٹھا یا رس
ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور وہ جو اس ساہوکارکے سے قول و قرار او تقل
سب بیان کیا یہ سکے اس کے خاور نے کہا جو تو سچ سچے اسکے پاس جایا چاہتی ہو ت جادہ اپنے شوہر کی اجازت
یا اس سیٹھ کے گھر کو لی راہ مین جو اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اگر کیا آزاد می پر رات کی وقت اس اندھیری
مین ایسے کپڑے اور زیور این کئے کیلی کہان جاتی ہو وہ بولی مین جنگی میز پر تیم سیارات پویشی چور نے
آرایمان تیرامہ نگار کون ہو وہ کہنے لگی ودنش بان لیے من میامد کرنے والا سا کرہم یہ کہ پھر دور کے آگے
ساری اپنی اولی آخر کرنا بیان کرکے کہا میرات کا بھنگ است کرمین تجھ سے بچن ویلے جاتی ہون وہان
جب پھرو گی تب گہنا تیرے حوالے کر دگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین
پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ جھکر اسے چھوڑ دیا آئے ان بیٹھا۔ اور یہ مان گئی کہ جہان سوم روست
پڑا سوتا تھا جاتے ہین جو اسے اسے اچانک چکا بارہ گیا کیا تھا اورکہنے لگاکہ تو دو یا ہو یا اس کیا یا اگر
کیا ہے کہ تو کون ہو اور میرے پاس کہان سے آئی جو دو بولی کہ مین و مازاد عورت مون اور برن در ایام
کی بیٹی من سینا یلز نام مو در تجھے یا نہین کہ و اس روپ مین مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو
تیار تھا اور مین نے مو جب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر میرے اپنی ہوگی جو ہر آگئی پینا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
0fzp0fna7c67wy56164zuf9pfnvqrmh
31891
31890
2026-04-14T03:58:45Z
Charan Gill
46
31891
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاٌ اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بٹیا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے میلے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریت نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بویا کہ اسے انے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے
رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبر دستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جانا
چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھاتو اسکا ہاتھ پر بیج پیٹھا یا رس
ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور وہ جو اس ساہوکارکے سے قول و قرار او تقل
سب بیان کیا یہ سکے اس کے خاور نے کہا جو تو سچ سچے اسکے پاس جایا چاہتی ہو ت جادہ اپنے شوہر کی اجازت
یا اس سیٹھ کے گھر کو لی راہ مین جو اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اگر کیا آزاد می پر رات کی وقت اس اندھیری
مین ایسے کپڑے اور زیور این کئے کیلی کہان جاتی ہو وہ بولی مین جنگی میز پر تیم سیارات پویشی چور نے
آرایمان تیرامہ نگار کون ہو وہ کہنے لگی ودنش بان لیے من میامد کرنے والا سا کرہم یہ کہ پھر دور کے آگے
ساری اپنی اولی آخر کرنا بیان کرکے کہا میرات کا بھنگ است کرمین تجھ سے بچن ویلے جاتی ہون وہان
جب پھرو گی تب گہنا تیرے حوالے کر دگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین
پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ جھکر اسے چھوڑ دیا آئے ان بیٹھا۔ اور یہ مان گئی کہ جہان سوم روست
پڑا سوتا تھا جاتے ہین جو اسے اسے اچانک چکا بارہ گیا کیا تھا اورکہنے لگاکہ تو دو یا ہو یا اس کیا یا اگر
کیا ہے کہ تو کون ہو اور میرے پاس کہان سے آئی جو دو بولی کہ مین و مازاد عورت مون اور برن در ایام
کی بیٹی من سینا یلز نام مو در تجھے یا نہین کہ و اس روپ مین مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو
تیار تھا اور مین نے مو جب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر میرے اپنی ہوگی جو ہر آگئی پینا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ko75cfw22uzkonn0kl34yxnd7yvqj9c
31893
31891
2026-04-14T11:20:52Z
Charan Gill
46
31893
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاٌ اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بٹیا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے میلے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریت نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بویا کہ اسے انے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا
چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین جور اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستہ ہے یہ سن چور نے
آرایمان تیرامہ نگار کون ہو وہ کہنے لگی ودنش بان لیے من میامد کرنے والا سا کرہم یہ کہ پھر دور کے آگے
ساری اپنی اولی آخر کرنا بیان کرکے کہا میرات کا بھنگ است کرمین تجھ سے بچن ویلے جاتی ہون وہان
جب پھرو گی تب گہنا تیرے حوالے کر دگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین
پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ جھکر اسے چھوڑ دیا آئے ان بیٹھا۔ اور یہ مان گئی کہ جہان سوم روست
پڑا سوتا تھا جاتے ہین جو اسے اسے اچانک چکا بارہ گیا کیا تھا اورکہنے لگاکہ تو دو یا ہو یا اس کیا یا اگر
کیا ہے کہ تو کون ہو اور میرے پاس کہان سے آئی جو دو بولی کہ مین و مازاد عورت مون اور برن در ایام
کی بیٹی من سینا یلز نام مو در تجھے یا نہین کہ و اس روپ مین مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو
تیار تھا اور مین نے مو جب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر میرے اپنی ہوگی جو ہر آگئی پینا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
9dknnbi4k5kue8dmpeedc82gz5zpu6e
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/210
250
12809
31887
31292
2026-04-13T15:50:38Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31887
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>اگر یہ تکلِیفیں نہ جھیلنی ہوتِیں تو ہمارا بن باس
ہی کیوں ہوتا ۔ راج چھوڑ کر کیوں جنگلوں
میں مارے مارے پھرتے ۔ ہر حالت میں ایشور
پر بھروسہ رکھنا چاہئے ، ہم ۔ اُسی کی
مرضی کے پتلے ہیں ہے'.
ہنومان انگوٹھی لے کر اپنے رفیقوں کے ساتھ
چلے ۔ مگر کئی دن کے بعد جب لنکا کا کچھ
ٹھیک پتہ نہ چلا اور رسد کا سامان سب
خرچ ہو گیا تو انگد اور اُس کے کئی ساتھی
واپس چلنے پر تیار ہو گئے ۔ انگد اُن کا
سرغنہ بن بیٹھا ۔ اگر چہ وہ سگریو کے حکم کی
تعمیل کر رہا تھا، پر ابھی تک اپنے باپ کاغم
اُس کے دل میں تازہ تھا ۔ ایک دن
اُس نے کہا، بھائیو میں تو اب آگے نہیں
جا سکتا ۔ نہ ہمارے پاس رسد ہے نہ یہی
خبر ہے کہ ابھی لنکا کِتنی دُور ہے ۔ اس
طرح گھاس پات کھا کر ہم لوگ کتنے دِن<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
cmpr2faj9cvvxz09blb3vx130stjgao
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/211
250
12810
31888
31303
2026-04-13T15:57:07Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31888
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>دہینگے ۔ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چچا
سگریو نے ہمیں ادھر اسی لئے بھیجا ہے
کہ حم لوگ بھوک پیاس سے مر جائیں اور اُسے
میری طرف سے کوئی کھٹکا نہ رہے ۔ اس
کے سوا اُس کا اور کوئی مطلب نہیں ۔ آپ
تو وہاں مزے سے بیٹھے راج کر رہے ہیں ۔
اور ہمیں مرنے کے لئے ادھر بھیج دیا ہے ۔
وہی رام چندر تو ہیں جنہوں نے میرے باپ
کو دغا سے قتل کیا ۔ میں کیوں اُن کی بیوی
کی تلاش میں جان دُوں ۔ میں تو اب کسکندھا
نگر جاتا ہوں ۔ اور آپ لوگوں کو بھی یہی
صلاح دیتا ہُوں'.
اور لوگ تو انگد کے ساتھ لوٹنے پر
نیم راضی سے ہو گئے ، مگر ہنومان نے کہا۔
جِن لوگوں کو اپنے قول کی پروا نہ ہو وُہ
لوٹ جائیں ۔ میں نے تو عہد کر لِیا ہے کہ
سِیتاجی کا پتہ لگائے بغیر نہ لوٹوُنّگا ، چاہے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
dw12b3q4rrzlhva5uqtygyjihridhm8