ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.23
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/16
250
12682
31902
31749
2026-04-15T10:31:53Z
Taranpreet Goswami
90
31902
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٥|}}</noinclude>دکن کی طرف سے بیربر نام راچپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجہ کی ڈیوڑھی پر آیا دربان نے اسکا احوال معلوم کر کے راجہ سے کہا مہاراج ایک شخص ہتھیاربند چاکری کے آسرے پر آیا ہے سو دروازے پر کھڑا ہے مہاراج کی اجازت پاوے تو وہ روبرو آوے یہ سن راجہ نے فرمایا آو یہ اسے جاکر لے آیا تب راجہ نے پوچھا اے راجپوت تیرے تھین روز خرچی کو کیا دون یہ سن کے بیربر بولا ہزار تولے سونا مجھے روز دو تو میری گذران ہو راجہ نے پوچھا تمھارے ساتھ لوگ کتنے ہین اسنے کہا کہ ایک عورت دوسرا بیٹا تیسری بیٹی چوتھا مین پانچوان ہمارے ساتھ کوئی نہیں اسکی یہ بات سن راجہ کے دربار کے لوگ منھ پھر پیر کے کہنے لگے پر راجہ اپنے جی مین سوچ کرنے لگا کہ بہت مال اسے کسواستے مانگا پھر آپ ہی اپنے دِل مین سمجھ کر کہ بہت مال دیتا ہون کسی روز سوارت بود دیگا یہ وچار کے راجہ نے بھنڈاری کو بلا کر کہا ہمارے خزانے سے ہزار تولہ سونا اِس بیربر کے تین روز دیا کرو یہ اجازت سُن بیربر نے ہزار تولیے سونا اُس دن کا لے اپنی جگہ لا حصے کر آدھا تو برہمنون کو بانٹا اور آدھا کے پھر دو بانٹ کر ایک بکھرہ اسمین سے اتیت بیراگی وشنو سنیاسیون کو بانٹ دیا اور باقی جو حصّہ یا اس کا کھانا پکوا غریبون کو کھلا دیا باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا اسی طرح ہمیشہ جورو لڑکے سمیت اپنی گذران کرتا تھا لیکن شام کیوقت روز ڈھال تلوار لے راجہ کے پلنگ کی چوکی مین جا حاضِر رہتا اور راجہ جب سوتے سے چونک کر پکارتا کہ کوئی ہے تو یہی جواب دیتا کہ بیربر حاضِر ہے جو حکم ہو اسی طرح راجہ جب پکارتا تو یہی جواب دیتا پھر اسمین جو کام فرمایا سو یہی بجا لاتا اسطرح مال کی لالچ سے رات بھر ہوشیار رہتا بلکہ کھاتے پیتے سوتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد مین رہتا ریت یہ ہے کہ کوئی کسو کو بیچتا ہے تو بکتا ہی مگر نوکر نوکری کر کے اپنے تئین آپ بیچتا ہے اور جب بکا تو میطع ہوا جو پراے بس مین ہو اسے سکھ کہان مشہور ہے کیسا ہی چالاک عاقل پنڈت ہووے لیکن جسوقت اپنے مالک کے سامنے ہوتا ہے تو ڈر کے مارے گونگے کی برابر چپ ہی رہتا ہے جب تلک دور ہے چین سے ہے اسواسطے پنڈت لوگ کہتے ہین کہ نوکری کرنا لوگ سے بھی کٹھن ہے القصہ ایک روز کا ذکر ہے کہ اتفاقاً رات کے وقت مرگھٹ سے رونے کی آواز آئی راجہ سنکے پکارا کوئی حاضر ہے بیربر سنتے ہی بولا حاضر جو حکم پھر راجہ نے یون حکم کیا جہان سے رونے کی آواز آتی ہے وہان جاؤ اور اس سے سبب رونے کا پوچھ کے جلد آؤ راجہ یہ اس سے فرما دِل مین کہنے لگا کہ کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو تو وقت بے وقت اس سے کام کو کہے اگر وہ حکم اسکا بجا لاوے تو جانیے کام کا ہے اور جو انکار کر دے تو جانیے ناکارہ اسی طرح سے بھائیون اور دوستون کو بُرے وقت مین پرکھیے اور عورت کو مفلسی مین جانچیئے غرض یہ حکم پا کر اس کے رونیکی آواز کی دھن پر گیا اور راجہ بھی اسکی ہمّت دیکھنے کے لئے کالے کپڑے پہنکر پیچھے پیچھے بےمعلوم چلا کہ اسمین بیربر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
chayoc06zf4rmv3zgyfdxp07rxsa8is
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/32
250
12698
31895
31893
2026-04-14T12:01:58Z
Kaur.gurmel
74
31895
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسطے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاً اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے ملے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریت نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا اس درد نے میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بولا کہ اسے انے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا
چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین جور اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستہ ہے یہ سن چور نے
آرایمان تیرامہ نگار کون ہو وہ کہنے لگی ودنش بان لیے من میامد کرنے والا سا کرہم یہ کہ پھر دور کے آگے
ساری اپنی اولی آخر کرنا بیان کرکے کہا میرات کا بھنگ است کرمین تجھ سے بچن ویلے جاتی ہون وہان
جب پھرو گی تب گہنا تیرے حوالے کر دگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین
پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ جھکر اسے چھوڑ دیا آئے ان بیٹھا۔ اور یہ مان گئی کہ جہان سوم روست
پڑا سوتا تھا جاتے ہین جو اسے اسے اچانک چکا بارہ گیا کیا تھا اورکہنے لگاکہ تو دو یا ہو یا اس کیا یا اگر
کیا ہے کہ تو کون ہو اور میرے پاس کہان سے آئی جو دو بولی کہ مین و مازاد عورت مون اور برن در ایام
کی بیٹی من سینا یلز نام مو در تجھے یا نہین کہ و اس روپ مین مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو
تیار تھا اور مین نے مو جب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر میرے اپنی ہوگی جو ہر آگئی پینا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
25m4d3wg9zghxyaa1xys34x8122mmex
31896
31895
2026-04-14T13:33:56Z
Charan Gill
46
31896
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسطے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاً اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے ملے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریت نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا اس درد نے میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بولا کہ اسے انے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین جور اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستا ہے یہ سُن چور نے کہا یہان تیرا مددگار کون ہے وہ کہنے لگی ودنش بان لے مدن میرا مدد کرنے والا ساتھ ہے یہ کہہ پھر چور کے آگے ساری اپنی اول آِخر کتھا بیان کرکے کہا میرا سنگار بھنگ مت کرین تجھ سے بچن دیلے جاتی ہون وہان جب پھرونگی تب گہنا تیرے حوالے کر دگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین
پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ جھکر اسے چھوڑ دیا آئے ان بیٹھا۔ اور یہ مان گئی کہ جہان سوم روست
پڑا سوتا تھا جاتے ہین جو اسے اسے اچانک چکا بارہ گیا کیا تھا اورکہنے لگاکہ تو دو یا ہو یا اس کیا یا اگر
کیا ہے کہ تو کون ہو اور میرے پاس کہان سے آئی جو دو بولی کہ مین و مازاد عورت مون اور برن در ایام
کی بیٹی من سینا یلز نام مو در تجھے یا نہین کہ و اس روپ مین مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو
تیار تھا اور مین نے مو جب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر میرے اپنی ہوگی جو ہر آگئی پینا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
8coa53ted0y1n5xmn4w623bgg6v4pwz
31897
31896
2026-04-15T03:28:37Z
Kaur.gurmel
74
31897
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسطے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاً اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے ملے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریت نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا اس درد نے میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بیاہ کہ اسے اپنے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین چور اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستا ہے یہ سُن چور نے کہا یہان تیرا مددگار کون ہے وہ کہنے لگی ودنش بان لے مدن میرا مدد کرنے والا ساتھ ہے یہ کہہ پھر چور کے آگے ساری اپنی اول آِخر کتھا بیان کرکے کہا میرا سنگار بھنگ مت کرین تجھ سے بچن دیلے جاتی ہون وہان جب پھرونگی تب گہنا تیرے حوالے کر دگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ سمجھکر اسے چھوڑ دیا آپ وہان بیٹھا رہا اور یہ وہان گئی کہ جہان سوم رت پڑا سوتا تھا جاتے ہی جو اُسے ایسے اچانک جگایا وہ گھبراکر اٹھا اور کہنے لگا کہ تو دو یا ہو یا اس کیا یا اگر
کیا ہے کہ تو کون ہو اور میرے پاس کہان سے آئی جو دو بولی کہ مین و مازاد عورت مون اور برن در ایام
کی بیٹی من سینا یلز نام مو در تجھے یا نہین کہ و اس روپ مین مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو
تیار تھا اور مین نے مو جب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر میرے اپنی ہوگی جو ہر آگئی پینا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
n5v44cegs4c2ecbx93563ilylvp5lsq
31898
31897
2026-04-15T04:36:38Z
Charan Gill
46
31898
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسطے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاً اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے ملے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریت نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا اس درد نے میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بیاہ کہ اسے اپنے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین چور اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستا ہے یہ سُن چور نے کہا یہان تیرا مددگار کون ہے وہ کہنے لگی ودنش بان لے مدن میرا مدد کرنے والا ساتھ ہے یہ کہہ پھر چور کے آگے ساری اپنی اول آِخر کتھا بیان کرکے کہا میرا سنگار بھنگ مت کرین تجھ سے بچن دیلے جاتی ہون وہان جب پھرونگی تب گہنا تیرے حوالے کروںگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ سمجھکر اسے چھوڑ دیا آپ وہان بیٹھا رہا اور یہ وہان گئی کہ جہان سوم رت پڑا سوتا تھا جاتے ہے جو اُسے ایسے اچانک جگایا وہ گھبراکر اٹھا اور کہنے لگا کہ تو دیو کنیا ہے یا رس کنیا یا ناگ
کنیا سچ کہہ کہ تو کون ہے اور میرے پاس کہان سے آئی ہے وہ بولی کہ مین و مازاد عورت ہون اور برن در ایام
کی بیٹی من سینا یلز نام مو در تجھے یا نہین کہ و اس روپ مین مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو
تیار تھا اور مین نے مو جب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر میرے اپنی ہوگی جو ہر آگئی پینا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
o87zgtiv2nhsudlpzblccm6f6hp8ndx
31901
31898
2026-04-15T08:32:56Z
Charan Gill
46
31901
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسطے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاً اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے ملے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریت نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا اس درد نے میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بیاہ کہ اسے اپنے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین چور اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستا ہے یہ سُن چور نے کہا یہان تیرا مددگار کون ہے وہ کہنے لگی ودنش بان لے مدن میرا مدد کرنے والا ساتھ ہے یہ کہہ پھر چور کے آگے ساری اپنی اول آِخر کتھا بیان کرکے کہا میرا سنگار بھنگ مت کرین تجھ سے بچن دیلے جاتی ہون وہان جب پھرونگی تب گہنا تیرے حوالے کروںگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ سمجھکر اسے چھوڑ دیا آپ وہان بیٹھا رہا اور یہ وہان گئی کہ جہان سوم رت پڑا سوتا تھا جاتے ہے جو اُسے ایسے اچانک جگایا وہ گھبراکر اٹھا اور کہنے لگا کہ تو دیو کنیا ہے یا رس کنیا یا ناگ
کنیا سچ کہہ کہ تو کون ہے اور میرے پاس کہان سے آئی ہے وہ بولی کہ مین آدمزاد عورت ہون اور چرن دت سیتھ کی بیٹی مدن سینا میرا نام ہے اور تجھے یاد نہین کہ جو اس اوپبن مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو تیار تھا اور مین نے بموجب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر تیرے پاس آؤنگی سو مین آگئی ہون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
qlokpcd758lqvbwbuj4ggu9qotitd2q
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/33
250
12699
31903
30794
2026-04-15T11:17:26Z
Charan Gill
46
31903
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی میں آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہیں اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح مہلے مہلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور سپر خاندان کو ہرے اور راش خفا ہوتا ہو تو پران کو لیتا ہے
پر استری بہٹ اور ان میٹ دونوں میں دکھ دینے والی ہر عورت جونہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے
دل میں رہتی ہو سو زبان پر زمین لاتی اور جو زبان میں ہر سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز
پیدا کیا ہو اتنی بات کہا اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہیں رکھتا یہ نکرده
پھر اٹی اپنے گھر کو چلی راہ میں اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال
کہا چو نے سنگر شاباشی دی
اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان
کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا دی
کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہوا ر عورت کا حسن شوہر پرستی اور بد صورت
آدمی کی خوبصورتی علم عای یکشن
معافی اتنی کہتھا کہ پیتال بولا اسے راجان معنوں میں سے کس کاست اور تا ہے راجہ بکر اجیت نے کہا چوک است
اد تک ہر بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیرمرد پراسکی رجحان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی
کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پرزیادہ شک ہو یا من میان شهر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ایران و روسیان
وسوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نر می اورین نیک نام دریا کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک
سلاو گی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سادگ دھرم مین آیا شیو کی پوجاو شنو کی پوجا اور
گئوران اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مرا ان سیکو منع کیا کہ شرین کوئی کرنے نہ پاوے مردو کی پڑیان
گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی
یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر مزادے شہر سے نکال دیا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ
مہاراج دھرم کا بچا رینے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم میں اسکا بھی جی لیتا ہو اس پاپ سو دنیا میں
آن کے فش کا جیون مرن نہیں چھوت چھین لیتا ہو اور تر اور اس سے جنت میں جنم پا کے دھرم ٹونا ان کے لئے
بہت اچھا ہر دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسارین او مارنے کے آتے میں
بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے
جو بچے ہوتے ہیں وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہیں اس سے دیوتا اور مشن سب گنو کوانتے
ہیں اس لئے دیوتاؤں
کو ماما اچھا نہیں اس جگت میں گانے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیونٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ih54ynkdb5hvejj4pe1r57blbrrvr1g
31904
31903
2026-04-15T11:26:15Z
Charan Gill
46
31904
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی میں آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہیں اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح مہلے مہلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پر استری بہٹ اور ان میٹ دونوں میں دکھ دینے والی ہر عورت جونہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے
دل میں رہتی ہو سو زبان پر زمین لاتی اور جو زبان میں ہر سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز
پیدا کیا ہو اتنی بات کہا اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہیں رکھتا یہ نکرده
پھر اٹی اپنے گھر کو چلی راہ میں اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال
کہا چو نے سنگر شاباشی دی
اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان
کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا دی
کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہوا ر عورت کا حسن شوہر پرستی اور بد صورت
آدمی کی خوبصورتی علم عای یکشن
معافی اتنی کہتھا کہ پیتال بولا اسے راجان معنوں میں سے کس کاست اور تا ہے راجہ بکر اجیت نے کہا چوک است
اد تک ہر بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیرمرد پراسکی رجحان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی
کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پرزیادہ شک ہو یا من میان شهر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ایران و روسیان
وسوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نر می اورین نیک نام دریا کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک
سلاو گی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سادگ دھرم مین آیا شیو کی پوجاو شنو کی پوجا اور
گئوران اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مرا ان سیکو منع کیا کہ شرین کوئی کرنے نہ پاوے مردو کی پڑیان
گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی
یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر مزادے شہر سے نکال دیا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ
مہاراج دھرم کا بچا رینے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم میں اسکا بھی جی لیتا ہو اس پاپ سو دنیا میں
آن کے فش کا جیون مرن نہیں چھوت چھین لیتا ہو اور تر اور اس سے جنت میں جنم پا کے دھرم ٹونا ان کے لئے
بہت اچھا ہر دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسارین او مارنے کے آتے میں
بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے
جو بچے ہوتے ہیں وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہیں اس سے دیوتا اور مشن سب گنو کوانتے
ہیں اس لئے دیوتاؤں
کو ماما اچھا نہیں اس جگت میں گانے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیونٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ezkepnisktqxbxvwsb6o1ojorgtalfk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/212
250
12811
31899
31309
2026-04-15T05:27:08Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31899
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>اِس کوشش میں جان ہی کیوں نہ دینا پڑے.
مردوں کی بات جان کے ساتھ ہے ۔ وُہ جو
وعدہ کرتے ہیں اُس سے کبھی پِیچھے نہیں ہٹتے۔
ہم رام چندر کے ساتھ بے وفائی کر کے اپنی
ساری قوم کو بدنام نِہیں کر سکتے ۔ آپ لوگ
لکشمن کے غُصہ سے واقف نہیں ۔ میں اُن
کا غصہ دیکھ چُکا ہوں ۔ اگر ہم لوگ اپنا وعدہ
نہ پورا کر سکے تو سمجھ لو کہ کسکندھا کا راج
تبہاہ ہو جائیگا'.
ہنومان کے سمجھانے کا سب کے اوپر اثر
ہُوا ۔ انگد نے دیکھا کہ میں اکیلا ہی رہا جاتا
ہوں تو اُس نے بھی بغاوت کا ارادہ چھوڑ
دیا ۔ ایک بار پھر سب نے مضبوط کمر باندھی
اور آگے بڑھے ۔ بیچارے دن بھر اِدھر اُدھر
بھٹکتے اور رات کو کسی غار میں پڑ رہتے تھے۔
سیتا جی کا کُچھ پتہ نہ چلتا تھا ۔ یہاں تک کہ
بھٹکتے ہُوئے ایک مہینہ کے قریب گُزر گیا ۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
rmce92nrhe13x1b3pmayvnuqe4id0ht
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/213
250
12812
31900
31317
2026-04-15T05:38:25Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31900
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>راجہ سگریو نے چلتے وقت کہ دیا تھا کہ اگر تُم
لوگ ایک مہینہ کے اندر سیتا جی کا پتہ لگا کر
نہ لوٹو گے تو مًیں کِسی کو زندہ نہ چھوڑوُنگا ۔
اَور یہاں یہ حال تھا کہ سیتا جی کی کُچھ خبر
ہی نہیں ۔ سب کے سب زندگی سے مایوُس حو
گئے ۔ سمجھ گئے کہ اسی حیلہ سے مرنا تھا۔
اس طرح لوٹ کر مارے جانے سے تو یہ
کہیں اچھا ہے کہ یہیں کہیں ڈوُب مریں.
ایک دن یہ مُصیبت کے مارے بَیٹھے سوچ
رہے تھے کہ کدھر جائیں کہ اُنہیں ایک بوڑھا
فقِیر آتا ہوا دکھائی دیا ۔ بہت دنوں کے بعد
ان لوگوں کو آدمی کی صورت نظر آئی سب
نے دوڑ کر اُسے گھیر لِیا اَور پوُچھنے لگے ،
کیوں بابا، تم نے کہیں رانی سیتا کو دیکھا
ہےَ ، کُچھ بتلا سکتے ہو وہ کہاں ہَیں ؟
اس فِقیر کا نام سمپاتی تھا۔ وُہ اُس جٹا یو
کا بھائی تھا جِس نے سیتا جی کو راون سے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
hst85tdj5hlsun6u1wfq23fj6iilmy7