ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.24
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/32
250
12698
31905
31901
2026-04-15T15:05:34Z
Kaur.gurmel
74
31905
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسطے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاً اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے ملے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریم نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا اس درد نے میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بیاہ کہ اسے اپنے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین چور اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستا ہے یہ سُن چور نے کہا یہان تیرا مددگار کون ہے وہ کہنے لگی ودنش بان لے مدن میرا مدد کرنے والا ساتھ ہے یہ کہہ پھر چور کے آگے ساری اپنی اول آِخر کتھا بیان کرکے کہا میرا سنگار بھنگ مت کرین تجھ سے بچن دیلے جاتی ہون وہان جب پھرونگی تب گہنا تیرے حوالے کروںگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کردن یہ سمجھکر اسے چھوڑ دیا آپ وہان بیٹھا رہا اور یہ وہان گئی کہ جہان سوم رت پڑا سوتا تھا جاتے ہے جو اُسے ایسے اچانک جگایا وہ گھبراکر اٹھا اور کہنے لگا کہ تو دیو کنیا ہے یا رس کنیا یا ناگ
کنیا سچ کہہ کہ تو کون ہے اور میرے پاس کہان سے آئی ہے وہ بولی کہ مین آدمزاد عورت ہون اور چرن دت سیتھ کی بیٹی مدن سینا میرا نام ہے اور تجھے یاد نہین کہ جو اس اوپبن مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عیش کرنے کو تیار تھا اور مین نے بموجب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ رات شوہر کو چھوڑ کر تیرے پاس آؤنگی سو مین آگئی ہون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
04ey77jp1w0ik9pajadqeypgc11z1d1
31906
31905
2026-04-15T15:46:13Z
Kaur.gurmel
74
31906
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسطے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاً اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کراچت مجھ سے ملے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریم نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا اس درد نے میری شدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بیاہ کہ اسے اپنے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین چور اسے دیکھ کر خوش ہو اسکے پاس اکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستا ہے یہ سُن چور نے کہا یہان تیرا مددگار کون ہے وہ کہنے لگی ودنش بان لے مدن میرا مدد کرنے والا ساتھ ہے یہ کہہ پھر چور کے آگے ساری اپنی اول آِخر کتھا بیان کرکے کہا میرا سنگار بھنگ مت کرین تجھ سے بچن دیلے جاتی ہون وہان جب پھرونگی تب گہنا تیرے حوالے کروںگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہین پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کرون یہ سمجھکر اسے چھوڑ دیا آپ وہان بیٹھا رہا اور یہ وہان گئی کہ جہان سوم دت پڑا سوتا تھا جاتے ہی جو اُسے ایسے اچانک جگایا وہ گھبراکر اٹھا اور کہنے لگا کہ تو دیو کنیا ہے یا رس کنیا یا ناگ
کنیا سچ کہہ کہ تو کون ہے اور میرے پاس کہان سے آئی ہے وہ بولی کہ مین آدمزاد عورت ہون اور چرن دت سیٹھ کی بیٹی مدن سینا میرا نام ہے اور تجھے یاد نہین کہ جو اس اوپبن مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عِشق کرنے کو تیار تھا اور مین نے بموجب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ بوہتا شوہر کو چھوڑ کر تیرے پاس آؤنگی سو مین آگئی ہون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
lfmav633dpxpzf33f7tui5nvbtjy98k
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/33
250
12699
31907
31904
2026-04-15T17:47:07Z
Charan Gill
46
31907
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی میں آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہیں اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح مہلے مہلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری بٹ اور ان ہٹ دونوں میں دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے دل میں رہتی ہو سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان میں ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہیں رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ میں اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حسن شو ہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عای یکشن معافی اتنی کہتھا کہ پیتال بولا اسے راجان معنوں میں سے کس کاست اور تا ہے راجہ بکر اجیت نے کہا چوک است
اد تک ہر بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیرمرد پراسکی رجحان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی
کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پرزیادہ شک ہو یا من میان شهر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ایران و روسیان
وسوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نر می اورین نیک نام دریا کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک
سلاو گی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سادگ دھرم مین آیا شیو کی پوجاو شنو کی پوجا اور
گئوران اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مرا ان سیکو منع کیا کہ شرین کوئی کرنے نہ پاوے مردو کی پڑیان
گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی
یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر مزادے شہر سے نکال دیا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ
مہاراج دھرم کا بچا رینے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم میں اسکا بھی جی لیتا ہو اس پاپ سو دنیا میں
آن کے فش کا جیون مرن نہیں چھوت چھین لیتا ہو اور تر اور اس سے جنت میں جنم پا کے دھرم ٹونا ان کے لئے
بہت اچھا ہر دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسارین او مارنے کے آتے میں
بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے
جو بچے ہوتے ہیں وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہیں اس سے دیوتا اور مشن سب گنو کوانتے
ہیں اس لئے دیوتاؤں
کو ماما اچھا نہیں اس جگت میں گانے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیونٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
r66z2ln7m1cu6af6l8lnakwgnmf2g02
31908
31907
2026-04-16T01:23:01Z
Kaur.gurmel
74
31908
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہو سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حسن شو ہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عای یکشن معافی اتنی کہتھا کہ پیتال بولا اسے راجان معنون مین سے کس کاست اور تا ہے راجہ بکر اجیت نے کہا چوک است
اد تک ہر بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیرمرد پراسکی رجحان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی
کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پرزیادہ شک ہو یا من میان شهر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ایران و روسیان
وسوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نر می اورین نیک نام دریا کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک
سلاو گی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سادگ دھرم مین آیا شیو کی پوجاو شنو کی پوجا اور
گئوران اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مرا ان سیکو منع کیا کہ شرین کوئی کرنے نہ پاوے مردو کی پڑیان
گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی
یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر مزادے شہر سے نکال دیا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ
مہاراج دھرم کا بچا رینے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہو اس پاپ سو دنیا مین
آن کے فش کا جیون مرن نہین چھوت چھین لیتا ہو اور تر اور اس سے جنت مین جنم پا کے دھرم ٹونا ان کے لئے
بہت اچھا ہر دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسارین او مارنے کے آتے مین
بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے
جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مشن سب گنو کوانتے
ہین اس لئے دیوتاؤن
کو ماما اچھا نہین اس جگت مین گانے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیونٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
3rvdqcqzmwq1mtxvgrwccut1rxfvp34
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/214
250
12813
31909
31322
2026-04-16T05:02:09Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31909
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>چِھین لینے کی کوشش میں اپنی جان دے دی
تھی ۔ دونو بھائی بہت دنوں سے الگ الگ
رہتے تھے ۔ بولا ، ہاں بھائی ، سیتا کو لنکا کا
راجہ راون اپنے رتھ پر اُٹھا لے گیا ہے
کئی ہفتے ہوئے میں نے سیتا جی کو رتھ پر
روتے ہوئے جاتے دیکھا تھا'- کیا کروں،
بُڑھاپے سے لاچار ہوں ورنہ راون سے
ضرُور لڑتا ۔ تب سے اسی فکر میں گھوم رہا
ہُوں کہ کوئی مل جائے تو اُس سے یہ خبر
کہ دوں ۔ کون جانے کب موت آ جائے ۔ تُم
لوگ خُوب مِلے ۔ اب میں نے اپنا فرض ادا
کر دیا' .
ہنومان نے پُوچھا ۔ ' لنکا کِدھر ہے اور یہاں
سے کتنی دور ہے بابا ؟'
سمپاتی بولا ۔ 'دکھن کی طرف چلے جاؤ ۔ وہاں
تُمہیں ایک سمندر مِلیگا ۔ سمندر کے اُس پار
لنکا ہے ۔ یہاں سے کوئی سو کوس ہونگا'. {{nop}}<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
2w5crvztv5jjq1xmfxonzpyabqda2ex
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/215
250
12814
31910
31326
2026-04-16T05:10:03Z
Keshuseeker
83
/* پروف خوانی شدہ */
31910
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Keshuseeker" /></noinclude>یہ خبر سُن کر اس جماعت کے لوگ بہت
خوش ہُوئے ۔ زندگی کی کُچھ اُمید ہوئی ۔ اُسی
وقت قدم تیز کر دئے اور دو دن میں رات
دن چل کر سوکوس کی منزل تمام کر دی ۔ اب
سمندر ان کے سامنے لہریں مار رہا تھا
چاروں طرف پانی ہی پانی ۔ جہاں تک نِگاہ
جاتی پانی ہی پانی نظر آتا تھا ۔ ان غریبوں
نے اِتنا چوڑا ند کہاں دیکھا تھا ۔ کئی آدمی
تو مارے خوف کے کانپ اُٹھے ۔ نہ کوئی
ناؤ تھی ، نہ کوئی ڈونگی ۔ سمندر میں جائیں تو
کیسے جائیں ۔ کسی کی ہِمّت نہ پڑتی تھی ۔
نل اور نیل اچّھے انجنیر تھے مگر سمندر میں
تیر نے قابل کشتی بنانے کے لئے نہ کوئی سامان
تھا، نہ وقت ۔ اس کے سوا اور کوئی ترکیب
نہ تھی کہ اُن میں سے کوئی سمندر کو تیر کر
لنکا جائے اور سیتا جی کی خبر لائے ۔ آخر
بُوڑھے جامونت نے کہا ، کیوں بھائیو ، کب تک<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
7lzazm4wgobbuhlnabh4y837m7m7jbl