ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.24 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/33 250 12699 31911 31908 2026-04-16T16:03:17Z Kaur.gurmel 74 31911 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہو سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حسن شو ہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عای یکشن معافی اتنی کہتھا کہ پیتال بولا اسے راجان معنون مین سے کس کاست اور تا ہے راجہ بکر اجیت نے کہا چوک است اد تک ہر بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیرمرد پراسکی رجحان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پرزیادہ شک ہو یا من میان شهر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ایران و روسیان {{دسوین کہانی|c}} بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نر می اورین نیک نام دریا کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک سلاو گی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سادگ دھرم مین آیا شیو کی پوجاو شنو کی پوجا اور گئوران اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مرا ان سیکو منع کیا کہ شرین کوئی کرنے نہ پاوے مردو کی پڑیان گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر مزادے شہر سے نکال دیا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ مہاراج دھرم کا بچا رینے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہو اس پاپ سو دنیا مین آن کے فش کا جیون مرن نہین چھوت چھین لیتا ہو اور تر اور اس سے جنت مین جنم پا کے دھرم ٹونا ان کے لئے بہت اچھا ہر دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسارین او مارنے کے آتے مین بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مشن سب گنو کوانتے ہین اس لئے دیوتاؤن کو ماما اچھا نہین اس جگت مین گانے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیونٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 9d752qmyl2i61w4wgefe5nv1e79ay1q 31912 31911 2026-04-16T16:52:28Z Charan Gill 46 31912 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہو سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حُسن شوہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عابد کا حُشن معافی اتنی کتھا کہ بیتال بولا اے راجا ان تینون مین سے کس کا ست ادھک ہے راجہ بکرماجیت نے کہا چور کا ست ادھک ہے بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیر مرد پراسکی رجحان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پرزیادہ شک ہے یا من میان شهرا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ایران و روسیان {{center|دسوین کہانی}} بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نر می اورین نیک نام دریا کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک سلاو گی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سادگ دھرم مین آیا شیو کی پوجاو شنو کی پوجا اور گئوران اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مرا ان سیکو منع کیا کہ شرین کوئی کرنے نہ پاوے مردو کی پڑیان گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر مزادے شہر سے نکال دیا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ مہاراج دھرم کا بچا رینے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہو اس پاپ سو دنیا مین آن کے فش کا جیون مرن نہین چھوت چھین لیتا ہو اور تر اور اس سے جنت مین جنم پا کے دھرم ٹونا ان کے لئے بہت اچھا ہر دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسارین او مارنے کے آتے مین بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مشن سب گنو کوانتے ہین اس لئے دیوتاؤن کو ماما اچھا نہین اس جگت مین گانے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیونٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> p6wirn2b6tg2zy5iteyf7wb8d5r1dmo 31914 31912 2026-04-16T22:54:48Z Charan Gill 46 31914 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہو سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حُسن شوہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عابد کا حُشن معافی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا ان تینون مین سے کس کا ست ادھک ہے راجہ بکرماجیت نے کہا چور کا ست ادھک ہے بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیر مرد پراسکی رجھان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پر زیادہ شک ہے بات سن بیتال پھر درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا اسے اتار کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|دسوین کہانی}} بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نر می اورین نیک نام دریا کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک سلاو گی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سادگ دھرم مین آیا شیو کی پوجاو شنو کی پوجا اور گئوران اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مرا ان سیکو منع کیا کہ شرین کوئی کرنے نہ پاوے مردو کی پڑیان گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر مزادے شہر سے نکال دیا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ مہاراج دھرم کا بچا رینے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہو اس پاپ سو دنیا مین آن کے فش کا جیون مرن نہین چھوت چھین لیتا ہو اور تر اور اس سے جنت مین جنم پا کے دھرم ٹونا ان کے لئے بہت اچھا ہر دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسارین او مارنے کے آتے مین بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مشن سب گنو کوانتے ہین اس لئے دیوتاؤن کو ماما اچھا نہین اس جگت مین گانے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیونٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> skl4ssaznbh9mml85gqgxqniud4eoff 31915 31914 2026-04-16T22:55:39Z Charan Gill 46 31915 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہو سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حُسن شوہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عابد کا حُشن معافی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا ان تینون مین سے کس کا ست ادھک ہے راجہ بکرماجیت نے کہا چور کا ست ادھک ہے بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیر مرد پراسکی رجھان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پر زیادہ شک ہے بات سن بیتال پھر درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا اسے اتار کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''دسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نر می اورین نیک نام دریا کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک سلاو گی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سادگ دھرم مین آیا شیو کی پوجاو شنو کی پوجا اور گئوران اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مرا ان سیکو منع کیا کہ شرین کوئی کرنے نہ پاوے مردو کی پڑیان گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر مزادے شہر سے نکال دیا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ مہاراج دھرم کا بچا رینے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہو اس پاپ سو دنیا مین آن کے فش کا جیون مرن نہین چھوت چھین لیتا ہو اور تر اور اس سے جنت مین جنم پا کے دھرم ٹونا ان کے لئے بہت اچھا ہر دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسارین او مارنے کے آتے مین بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مشن سب گنو کوانتے ہین اس لئے دیوتاؤن کو ماما اچھا نہین اس جگت مین گانے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیونٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 3sq1xyujno1ho4675zj8kiens4ticvj ویکی ماخذ:چوپال 4 12891 31913 31834 2026-04-16T18:11:24Z AafiOnMobile 159 /* تائید */تائید 31913 wikitext text/x-wiki == Request for adminship for User:Satdeep Gill == I have would like to request sysop and interfance admin rights on Urdu Wikisource to help support the technical aspects on the wiki, from adding gadgets to ensuring templates are in place for the project to function effectively. --[[صارف:Satdeep Gill|Satdeep Gill]] ([[تبادلۂ خیال صارف:Satdeep Gill|تبادلۂ خیال]]) 03:52، 8 اپريل 2026ء (UTC) ===تائید=== '''تائید'''. نیک خواہشات [[صارف:AafiOnMobile|AafiOnMobile]] ([[تبادلۂ خیال صارف:AafiOnMobile|تبادلۂ خیال]]) 18:11، 16 اپريل 2026ء (UTC) ===Oppose=== ===Discussion=== hya0hv2ijvspwvp3mnnzp7ufe44dva7