ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.24 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/32 250 12698 31924 31906 2026-04-20T12:23:10Z BalramBodhi 60 31924 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بنیا تھا کہ اسکی بیٹی کا نام مدن سینا تھا وہ ایک دن بسنت رت مین سہیلیون کو ساتھ لیے اپنے باغ مین واسطے سیر و تماشے کے گئی اتفاقاً اسکے آنے سے پیشتر دھرم دت سیٹھ کا بیٹا سوم دت نام اپنے دوست کو ساتھ لیے بن بہار کو آیا تھا وہان سے پھرتا ہویا اس باڑی مین آن پہونچا اسے دیکھ عاشق ہو گیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا بھائی وہ کداچت مجھ سے ملے تو میرے دل کو آرام ہوئے اور جو نہ ملے تو دنیا مین جینا عبس ہے یہ اپنے دوست سے باتین کر محبت مین بے چین ہو بےاختیار اس کے پاس جا اسکا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا جو تو مجھ سے پریت نہ کریگی تو مین تیرے اوپر اپنا پران دون گا وہ بولی ایسا مت کیجیو اسمین پاپ ہوگا تب ان نے کہا تیرے کرشمہ نے میرے دل کو چھیدا اور تیری جدائی کی آگ نے میرے جسم کو جلا دیا اس درد نے میری سُدھ بدھ سب جاتی رہی ہے اور مجھے اسوقت عشق کے غلبہ سے دھرم ادھرم کا لحاظ نہین ہے پر جو تو مجھے قول دے تو میرے جی مین آوے وہ بولی آج کے پانچوین دن میری شادی ہوگی تو پہلے مین تجھ سے بلاؤن گی پیچھے اپنے شوہر کے یہان رہونگی یہ قول دے سوگند کہا اپنے گھر کو گئی اور یہ اپنے گھر کو آیا غرض پانچوین دن اسکی شادی ہوئی خاوند اسکا بیاہ کر اسے اپنے گھر لے آیا کتنے ایک دنون کے پیچھے رات کے وقت اسکی دیورانی جیٹھانی نے زبردستی اسے اسکے شوہر کے پاس پہونچایا وہ رنگ محل مین جا چپ چاپ ایک کونے مین بیٹھ رہی اس عرصے مین اسکے خصم نے جو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ سیج پر بیٹھایا غرض ان نے جب چاہا کہ گلے لگاؤن تو اسنے ہاتھ سے جھڑک دیا اور جو جو اس ساہوکار کے بچے سے قول و قرار ہوا تھا سب بیان کیا یہ سنکے اس کے خاوند نے کہا جو تو سچ مچ اسکے پاس جایا چاہتی ہو تو جا وہ اپنے شوہر کی اجازت پا اس سیٹھ کے گھر کو چلی راہ مین چور اسے دیکھ کر خوش ہوا اسکے پاس آکر کہا کہ آدھی پہر رات کیوقت اس اندھیرے مین ایسے کپڑے اور زیور پہن اکیلی کہان جاتی ہے وہ بولی جس جگہ میرا پریتم پیارا بستا ہے یہ سُن چور نے کہا یہان تیرا مددگار کون ہے وہ کہنے لگی دھنش بان لے مدن میرا مدد کرنے والا ساتھ ہے یہ کہہ پھر چور کے آگے ساری اپنی اول آخِر کتھا بیان کرکے کہا میرا سنگار بھنگ مت کرین تجھ سے بچن دیے جاتی ہون وہان جب پھرونگی تب گہنا تیرے حوالے کروںگی یہ سنکے چور نے اپنے دل مین کہا گہنا دینے کا تو مجھے قول سمجھاتی ہے پھر کیون اسکا سنگار بھنگ کرون یہ سمجھکر اسے چھوڑ دیا آپ وہان بیٹھا رہا اور یہ وہان گئی کہ جہان سوم دت پڑا سوتا تھا جاتے ہی جو اُسے اسے اچانک جگایا وہ گھبراکر اٹھا اور کہنے لگا کہ تو دیو کنیا ہے یا رس کنیا یا ناگ کنیا سچ کہہ تو کون ہے اور میرے پاس کہان سے آئی ہے وہ بولی کہ مین آدمزاد عورت ہون اور چرن دت سیٹھ کی بیٹی مدن سینا میرا نام ہے اور تجھے یاد نہین کہ جو اس اوپبن مین تو زبردستی میرا ہاتھ پکڑ کے عِشق کرنے کو تیار تھا اور مین نے بموجب کہنے تیرے کے یہ سوگند کی تھی کہ بوہتا شوہر کو چھوڑ کر تیرے پاس آؤنگی سو مین آگئی ہون<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> hd2j2n1pierhatyrd7mzz70bfjylnxy صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/33 250 12699 31925 31915 2026-04-21T02:49:59Z Charan Gill 46 31925 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہو سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حُسن شوہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عابد کا حُشن معافی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا ان تینون مین سے کس کا ست ادھک ہے راجہ بکرماجیت نے کہا چور کا ست ادھک ہے بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیر مرد پراسکی رجھان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پر زیادہ شک ہے بات سن بیتال پھر درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا اسے اتار کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''دسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نگر ہی اور گن شیکھر نام وہان کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک سراؤگی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سراوگ دھرم مین آیا شیو کی پوجا و شنو کی پوجا اور گئوران اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مرا ان سیکو منع کیا کہ شرین کوئی کرنے نہ پاوے مردو کی پڑیان گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر مزادے شہر سے نکال دیا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ مہاراج دھرم کا بچا رینے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہو اس پاپ سو دنیا مین آن کے فش کا جیون مرن نہین چھوت چھین لیتا ہو اور تر اور اس سے جنت مین جنم پا کے دھرم ٹونا ان کے لئے بہت اچھا ہر دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسارین او مارنے کے آتے مین بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مشن سب گنو کوانتے ہین اس لئے دیوتاؤن کو ماما اچھا نہین اس جگت مین گانے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیونٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 27sq8cc0cxs4z6wg67xti8o84pmcq3b 31926 31925 2026-04-21T04:00:04Z Charan Gill 46 31926 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جواب دیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہی کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہو سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حُسن شوہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عابد کا حُشن معافی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا ان تینون مین سے کس کا ست ادھک ہے راجہ بکرماجیت نے کہا چور کا ست ادھک ہے بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کیا غیر مرد پراسکی رجھان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پر زیادہ شک ہے بات سن بیتال پھر درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا اسے اتار کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''دسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوڈ دیس مین بردوان نام ایک نگر ہی اور گن شیکھر نام وہان کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک سراؤگی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سراوگ دھرم مین آیا شیو کی پوجا وشنو کی پوجا اور گئودان اور بھومی دان پنڈدان جوا اور مدرا ان سبکو منع کیا کہ شہر مین کوئی کرنے نہ پاوے مردون کی ہڑیان گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر سزا دے شہر سے نکال دیگا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ مہاراج دھرم کا بچار سنیے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہو وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہے اس پاپ سے دنیا مین آن کے منش کا جیون مرن نہین چھوٹتا پھر جنم لیتا ہے اور مرتا ہے اس سے جگت مین جنم پا کے دھرم بٹورنا ان کے لئے بہت اچھا ہے دیکھئے کام کردودھ لو کہ وہ بس موبر مابین نهاد یو سی بیسی طورپر سنسار مین او مارنے کے آتے ہین بلکہ انسے گا۔ اچھی ہو جو راگ دویش در گردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مُن سب گؤ کو امنتے ہین اس لئے دیوتاؤن کو ماننا اچھا نہین اس جگت مین گائے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیوُنٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> qsfdbl4c7969i7h6dd0wxz0qjhgzgtr 31927 31926 2026-04-21T07:30:40Z BalramBodhi 60 31927 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جوابدیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہے کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہے سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حُسن شوہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عابد کا حُشن معافی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا ان تینون مین سے کس کا ست ادھک ہے راجہ بکرماجیت نے کہا چور کا ست ادھک ہے بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کہا غیر مرد پراسکی رجھان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پر زیادہ شک ہے یہ بات سن بیتال پھر درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا اسے اتار کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''دسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوڑ دیس مین بردوان نام ایک نگر ہے اور گن شیکھر نام وہان کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک سراؤگی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سراوگ دھرم مین آیا شیو کی پوجا وشنو کی پوجا اور گئودان اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مدرا ان سبکو منع کیا کہ شہر مین کوئی کرنے نہ پاوے مردون کی ہڑیان گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر سزا دے شہر سے نکال دیگا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ مہاراج دھرم کا بچار سنیے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہے وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہے اس پاپ سے دنیا مین آن کے منش کا جیون مرن نہین چھوٹتا پھر جنم لیتا ہے اور مرتا ہے اس سے جگت مین جنم پا کے دھرم بٹورنا ان کے لئے بہت اچھا ہے دیکھئے کام کرودھ لوبھ موہ بس ہو برما بسن مهادیو کسی نہ کسی طور سے سنسار مین اق مارنے کے آتے ہین بلکہ انسے گاے اچھی ہے جو راگ دویش مر کردہ اوجھ وہ سر بہت ہو اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مُن سب گؤ کو امنتے ہین اس لئے دیوتاؤن کو ماننا اچھا نہین اس جگت مین گائے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیوُنٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 9r7o966vlmr6a5q7djmuhyglrksh0qs 31928 31927 2026-04-21T07:38:45Z BalramBodhi 60 31928 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جوابدیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہے کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہے سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حُسن شوہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عابد کا حُشن معافی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا ان تینون مین سے کس کا ست ادھک ہے راجہ بکرماجیت نے کہا چور کا ست ادھک ہے بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کہا غیر مرد پراسکی رجھان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پر زیادہ شک ہے یہ بات سن بیتال پھر درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا اسے اتار کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''دسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوڑ دیس مین بردوان نام ایک نگر ہے اور گن شیکھر نام وہان کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک سراؤگی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سراوگ دھرم مین آیا شیو کی پوجا وشنو کی پوجا اور گئودان اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مدرا ان سبکو منع کیا کہ شہر مین کوئی کرنے نہ پاوے مردون کی ہڑیان گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر من منادی کر دی کہ جو کوئی یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر سزا دے شہر سے نکال دیگا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ مہاراج دھرم کا بچار سنیے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہے وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہے اس پاپ سے دنیا مین آن کے منش کا جیون مرن نہین چھوٹتا پھر جنم لیتا ہے اور مرتا ہے اس سے جگت مین جنم پا کے دھرم بٹورنا ان کے لئے بہت اچھا ہے دیکھئے کام کرودھ لوبھ موہ بس ہو برما بسن مهادیو کسی نہ کسی طور سے سنسار مین اق مارنے کے آتے ہین بلکہ انسے گاے اچھی ہے جو راگ دویش مدکر ودھ لوبھ موہ سے رہت ہے اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مُن سب گؤ کو مانتے ہین اس لئے دیوتاؤن کو ماننا اچھا نہین اس جگت مین گائے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیوُنٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> stkyrup6chvhece4o320at8o2a2a1d0 31929 31928 2026-04-21T09:18:37Z Kaur.gurmel 74 31929 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>جو تیری مرضی مین آوے سو کر پھر ان نے پوچھا کہ یہ تونے حال اپنے شوہر کے آگے کہا یا نہین اسنے جوابدیا کہ مین نے تمام احوال کہا اور ان نے سب دریافت کرکے مجھے تیرے پاس بھیجا سوم دت بولا یہ بات ایسی ہے بغیر کپڑے کے گہنا اور بغیر گھی کے کھانا یا بغیر سُر کے گانا یہ سب ایک سا ہے اسی طرح میلے میلے کپڑے تیج ہرے کُبھوجن بل کو بدچلن بی بی پران کو اور کپّر خاندان کو ہرے اور راکشس خفا ہوتا ہے تو پران کو لیتا ہے پراستری ہٹ اور ان ہٹ دونون مین دکھ دینے والی ہے عورت جو نہ کرے سو تھوڑا ہے کیونکہ جو بات اسکے دل مین رہتی ہے سو زبان پر نہین لاتی اور جو زبان مین ہے سو ظاہر نہین کرتی عورت کو بھگوان نے عجب چیز پیدا کیا ہے اتنی بات کہہ اس سیٹھ کے بیٹے نے جواب دیا کہ مین پرائی عورت سے واسطہ نہین رکھتا یہ سنکر وه پھر الٹی اپنے گھر کو چلی راہ مین اس چور سے ملاقات ہوئی اسکے آگے سب حال کہا چور نے سنکر شاباشی دی اور چھوڑ دیا یہ اپنے شوہر کے پاس آئی اور اس سے تمام احوال بیان کیا پر اسکے خاوند نے اسے پیار نہ کیا اور کہا کویل کی خوبصورتی اس کا گلا ہے اور عورت کا حُسن شوہر پرستی اور بدصورت آدمی کی خوبصورتی علم عابد کا حُشن معافی اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا ان تینون مین سے کس کا ست ادھک ہے راجہ بکرماجیت نے کہا چور کا ست ادھک ہے بیتال نے کہا کس طرح راجہ نے کہا غیر مرد پراسکی رجھان دیکھ شوہر نے چھوڑا اور چور چھوڑنے کی کوئی وجہ نہ تھی اسی سے چور ہی پر زیادہ شک ہے یہ بات سن بیتال پھر درخت مین جا لٹکا راجہ پھر وہان جا اسے اتار کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''دسوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوڑ دیس مین بردوان نام ایک نگر ہے اور گن شیکھر نام وہان کا راجہ تھا اسکا دیوان ایک سراؤگی ابھے چند نام کا تھا اسکے سمجھانے سے راجہ بھی سراوگ دھرم مین آیا شیو کی پوجا وشنو کی پوجا اور گئودان اور بھوم دان پنڈدان جوا اور مدرا ان سبکو منع کیا کہ شہر مین کوئی کرنے نہ پاوے مردون کی ہڑیان گنگا مین کوئی نہ لیجاوے اور ان باتون کی دیوان نے بھی راجہ سے اجازت لے شہر مین منادی کر دی کہ جو کوئی یہ کام کریگا اسکا مال اسباب راجہ چھین لیکر سزا دے شہر سے نکال دیگا پھر ایک دن دیوان راجہ سے کہنے لگے کہ مہاراج دھرم کا بچار سنیے جو کوئی کسی کا جی لیتا ہے وہ دوسرے جنم مین اسکا بھی جی لیتا ہے اس پاپ سے دنیا مین آن کے منش کا جیون مرن نہین چھوٹتا پھر جنم لیتا ہے اور مرتا ہے اس سے جگت مین جنم پا کے دھرم بٹورنا ان کے لئے بہت اچھا ہے دیکھئے کام کرودھ لوبھ موہ بس ہو برما بسن مہادیو کسی نہ کسی طور سے سنسار مین اق مارنے کے آتے ہین بلکہ انسے گاے اچھی ہے جو راگ دویش مدکر ودھ لوبھ موہ سے رہت ہے اور دنیا کی خدمت اور حفاظت کرنی اور اس کے جو بچے ہوتے ہین وہ بھی جگت کے جیودان کو اچھی طرح سکھ دے پالتے ہین اس سے دیوتا اور مُن سب گؤ کو مانتے ہین اس لئے دیوتاؤن کو ماننا اچھا نہین اس جگت مین گائے کو مانے اور ہاتھی سے لگا چیوُنٹی<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 2xueh95br8i1gky7ip4j7dug7bq1xw7