ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.24
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/34
250
12700
32344
32343
2026-04-22T13:12:21Z
Charan Gill
46
32344
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور پشو پنچھی تک ہرایک جی کی رکشا کرنا دھرم ہے جہان مین اسکے برابر کوئی ادھرم نہین جو شخص دوسرے کا گوشت کھا کر اپنا گوشت بڑھاتے ہین وہ آخرکار دوزخ مین پڑتے ہین اس سے انسان کو لازم یہ ہے کہ جی کی رکشا کرے اور جو لوگ کہ دوسرے کا دکھ نہ سمجھتے ہون اور غیرون کے جی بھی مار مار کے کھاتے ہون انکی اس دنیا مین عمر کم ہوتی ہے اور لولے لنگڑے کانے اندھے ہونے کبڑے ایسے اعضاء سے محروم ہو جنم لیتے ہین جیسے پشو اور پنچھی کے انگ کھاتے ہین ویسے ہی انگ اپنے کھواتے ہین اور شراب پینا بہت بڑا گناہ ہے اس سے شراب اور گوشت کا کھانا بجا نہین اس طرح راجہ کو دیوان نے اپنی مت کا گیان سمجھا کر ایسا جین دھرم مین لایا کہ جو یہ کہتا تھا وہے راجہ کرتا تھا اور برہمن جوگی جنگم سیورا سنیاسی درویش کسی کو نہ مانا چاہئے اور اسی دھرم سے راج کرتا تھا ایک دن کال کے بس ہو مرگیا پھر اسکا بیٹا دھرم دھوج نام گدی پر بیٹھا اور راج کرنے لگا ایک دن اسنے ابھی چند دیوان کو پکڑوا سر پر سات چوٹی رکھوا منھ کالا کروا گدھے پر چڑھوا ڈونڈی بجوا تالی دلوا دیس سے نکال دیا ایک دن وہ راجہ بسنت رت مین رانیون کو ساتھ لے ایک باغ کی سیر کو گیا اس باغ مین ایک بڑا تالاب تھا اور اسمین کنول پھول رہے تھے راجہ اس سروور کی شوبھا دیکھ کپڑے اتار اشنان کرنے کو اترا ایک پھول توڑ تیر پر آ رانی کے ہاتھ مین دینے لگا کہ وہ پھول ہاتھ سے چھوٹ کر رانی کے پائون پر گرا اور اسکی چوٹ سے رانی کا پانون ٹوٹ گیا تب راجہ گھبرا کر ایک بارگی باہر نکل کر اس کی اوکھد کرنے لگا کہ اتنے مین رات ہوئی اور چندرمان نے پرکاش کیا چاند کی جوت پڑتے ہی دوسری رانی کے شریر مین پھپھولے پڑگئے تو مین اچانک دوسرے کسی گرہستی کی موسل کی آواز آئی اس سے تیسری رانی کے شر مین ایسا درد ہوا کہ غش آگیا اتنی بات کہہ بیتال بولا اے راجہ ان تینون مین اتِ شکمار کون ہے راجہ نے کہا جس کے شریر مین درد ہو غش آیا وہی بہت نازک ہے یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے اتار گٹھری باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا
{{c|گیارھوین کہانی}}
بیتال بولا کہ پونے پور نام ایک نگر ہے بہان بلبھ نام ایک راجہ تھا اور اسکے دیوان کا نام ست پرکاش تھا اس دیوان کی استری کا نام لکشمی اس راجہ نے ایک روز اپنے دیوان سے کہا جو راجہ ہوکر سندر استری سے بھوگ نہ کرے تو راج کرنا اسکا ہے سود ہے یہ بات کہ دیوان کو راج کا بھار دے آپ سکھہ سے عیش کرنے لگا اور راج کی سب چنتا چھوڑ دی اور دن رات آنند مین رہنے لگا اتفاقاً ایک روز وہ دیوان اپنے گھر مین اداس بیٹھا تھا کہ اسمین اسکی جورو نے پوچھا سلوامی ان
دنون آپکو بہت دُبلا دیکھتی ہون وہ بولا رات دن مجھے راج کی فکر رہتی ہی اس سے شریر دبلا ہو گیا اور راجہ تو انھون پر اپنے عیش و آرام مین رہتا ہے تب دیوان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
7r8w6hu85w6jasdrsjnlbgpbqohz47u
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/35
250
12701
32345
30798
2026-04-22T13:25:55Z
Charan Gill
46
32345
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی جورو بولی کہ اے شوہر بہت دنوں تمنے راج کاج کیا اب تھوڑے دنوں کے لیے راجہ سے بدا ہو تیرتھ جاترا کرو یہ بات اسکی سن دیوان چپ ہو رہا جب وہان سے اٹھا تو وقت دربار کے راجہ کے پاس جا رخصت لے تیرتھ جاتا کرنے نکل جاتے جاتے سمندر کے کنارے سیرت بند در رامیشور جا پہونچا وہاں جاتے ہی ماریو
کا درشن کر باہرنکلا تھا کہ اتفاق نظر اسکی سمندر کیرت جاپڑی تو دیکھتا کیا ہو کرایک ایسا پنجن کا پیٹر سیمین سے
کلا کہ جسکے زمرد کے پتے پھراج کے پھول مونگے کے پھل نہایت خوشنما نظر آیا اس درخت پرات سندر نائی کا
بین ہاتھ مین لیے شیھی ولغرب شیرعلی آوازسے میٹھی گائی ہر بعد ایک گھڑی کے وہ خوشنما درخت سمندر میں
تصویریر کاش دیوان اور دریا مین ایک درخت پر عورت حسین میں سے گاتی ہوئی
گیا یہ تماشہ دیوان وبان ویکھ الٹا پھر اپنے نگرمیں آیا اور راجہ کے پاس جاؤ نڈوت کر ہاتھ جوڑ بولا ما راج
مین ایک اچرچے دیکھ آیا ہوں راجہ نے کہا بیان کرد دیوان نے کہا ما برام پہلے کے لوگ کہہ گئے ہیں جوبات
کسی کی عقل میں نہ آوے اور کوئی باور نہ کرے ویسی بات نہ کیے پر میں نے آنکھون سر صاف صاف دیکھا
اس سے کہتا ہوں مہاراج جہان رکھنا تھے جی نے سمند پوپل باندھا ہوا جگہ دیکھتا کیا ہو کہ سمندر سی
سونے کا یہ نکلا کہ مرد کے بات پکھراج کے پھول ہونگے گئے پھلوں سے ایسا خوب لدا ہوا تھا کہ جسکا بیان
نہیں ہو سکتا اور اپر ایک بڑی خوبصورت بین ہاتھ میں لیے میٹھے میٹھے سرون سے گاتی تھی پر ایک
گھڑی کے بعد وہ پیٹر سمندر میں تھپ گیا یہ بات را جرمن دیوان کو راج سونپا کیلا سمندر کے کنارے
کو چلا کتنے ایک دنوں میں وہان جاپہونچا اور مادیو کے درشن کو مندر میں گیاجون پوجا کر بابر یا استن
سے وہی درخت نایکہ سمیت بلا راجہ اسکو دیکھتے ہی سمند زمین کو داسی درخت پر جا بیٹھا وہ راجہ سمیت
پاتال
کو چلا گیا اسکو دیکھ کے بولی کہ اسے راجہ مرد بہادر کس واسطے تو یہاں
آیا ہر راجہ نے کہا مین تیرا
خشن کی لالچ سے آیا ہوں اپنے کہا جو تو کالی چودس کے دن مجھ سے نہ ملے تو مین تیرے ساتھ باہ کرن
راجہ نے یہ بات مانی اس سندری نے بچن دیگر راجہ کے ساتھ ہواہ کیا اور جب اندھیری پر نہیں آئی تو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ejhm57cfdcdu0hi9jw7qo3b04djx7qe
32346
32345
2026-04-22T13:46:38Z
Charan Gill
46
32346
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی جورو بولی کہ اے شوہر بہت دنوں تمنے راج کاج کیا اب تھوڑے دنوں کے لیے راجہ سے بدا ہو تیرتھ جاترا کرو یہ بات اسکی سن دیوان چپ ہو رہا جب وہان سے اٹھا تو وقت دربار کے راجہ کے پاس جا رخصت لے تیرتھ جاتا کرنے نکل جاتے جاتے سمندر کے کنارے سیت بندھ رامیشور جا پہونچا وہاں جاتے ہی مہادیو کا درشن کر باہر نکلا تھا کہ اتفاقاً نظر اسکی سمندر کیطرف جا پڑی تو دیکھتا کیا ہے کرایک ایسا پنجن کا پیٹر سیمین سے
کلا کہ جسکے زمرد کے پتے پھراج کے پھول مونگے کے پھل نہایت خوشنما نظر آیا اس درخت پرات سندر نائی کا
بین ہاتھ مین لیے شیھی ولغرب شیرعلی آوازسے میٹھی گائی ہر بعد ایک گھڑی کے وہ خوشنما درخت سمندر میں
تصویریر کاش دیوان اور دریا مین ایک درخت پر عورت حسین میں سے گاتی ہوئی
گیا یہ تماشہ دیوان وبان ویکھ الٹا پھر اپنے نگرمیں آیا اور راجہ کے پاس جاؤ نڈوت کر ہاتھ جوڑ بولا ما راج
مین ایک اچرچے دیکھ آیا ہوں راجہ نے کہا بیان کرد دیوان نے کہا ما برام پہلے کے لوگ کہہ گئے ہیں جوبات
کسی کی عقل میں نہ آوے اور کوئی باور نہ کرے ویسی بات نہ کیے پر میں نے آنکھون سر صاف صاف دیکھا
اس سے کہتا ہوں مہاراج جہان رکھنا تھے جی نے سمند پوپل باندھا ہوا جگہ دیکھتا کیا ہو کہ سمندر سی
سونے کا یہ نکلا کہ مرد کے بات پکھراج کے پھول ہونگے گئے پھلوں سے ایسا خوب لدا ہوا تھا کہ جسکا بیان
نہیں ہو سکتا اور اپر ایک بڑی خوبصورت بین ہاتھ میں لیے میٹھے میٹھے سرون سے گاتی تھی پر ایک
گھڑی کے بعد وہ پیٹر سمندر میں تھپ گیا یہ بات را جرمن دیوان کو راج سونپا کیلا سمندر کے کنارے
کو چلا کتنے ایک دنوں میں وہان جاپہونچا اور مادیو کے درشن کو مندر میں گیاجون پوجا کر بابر یا استن
سے وہی درخت نایکہ سمیت بلا راجہ اسکو دیکھتے ہی سمند زمین کو داسی درخت پر جا بیٹھا وہ راجہ سمیت
پاتال
کو چلا گیا اسکو دیکھ کے بولی کہ اسے راجہ مرد بہادر کس واسطے تو یہاں
آیا ہر راجہ نے کہا مین تیرا
خشن کی لالچ سے آیا ہوں اپنے کہا جو تو کالی چودس کے دن مجھ سے نہ ملے تو مین تیرے ساتھ باہ کرن
راجہ نے یہ بات مانی اس سندری نے بچن دیگر راجہ کے ساتھ ہواہ کیا اور جب اندھیری پر نہیں آئی تو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
rf4yak4krjmod5qj5jdn80hkbpuumyj