ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.24 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/16 250 12682 32350 31902 2026-04-24T04:48:19Z Taranpreet Goswami 90 32350 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٥|}}</noinclude>دکن کی طرف سے بیربر نام راچپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجہ کی ڈیوڑھی پر آیا دربان نے اسکا احوال معلوم کر کے راجہ سے کہا مہاراج ایک شخص ہتھیاربند چاکری کے آسرے پر آیا ہے سو دروازے پر کھڑا ہے مہاراج کی اجازت پاوے تو وہ روبرو آوے یہ سن راجہ نے فرمایا آو یہ اسے جاکر لے آیا تب راجہ نے پوچھا اے راجپوت تیرے تھین روز خرچی کو کیا دون یہ سن کے بیربر بولا ہزار تولے سونا مجھے روز دو تو میری گذران ہو راجہ نے پوچھا تمھارے ساتھ لوگ کتنے ہین اسنے کہا کہ ایک عورت دوسرا بیٹا تیسری بیٹی چوتھا مین پانچوان ہمارے ساتھ کوئی نہیں اسکی یہ بات سن راجہ کے دربار کے لوگ منھ پھر پھیر کے کہنے لگے پر راجہ اپنے جی مین سوچ کرنے لگا کہ بہت مال اسنے کِسواستے مانگا پھر آپ ہی اپنے دِل مین سمجھ کر کہ بہت مال دیتا ہون کِسی روز سوارت بوویگا یہ وچار کے راجہ نے بھنڈاری کو بلا کر کہا ہمارے خزانے سے ہزار تولہ سونا اِِس بیربر کے تئین روز دیا کرو یہ اجازت سُن بیربر نے ہزار تولے سونا اُس دن کا لے اپنی جگہ لا حِصّے کر آدھا تو برہمنون کو بانٹا اور آدھے کے پھر دو بانٹ کر ایک بکھرہ اسمین سے اتیت بیراگی وشنو سنیاسیون کو بانٹ دیا اور باقی جو حصّہ یا اس کا کھانا پکوا غریبون کو کھلا دیا باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا اسی طرح ہمیشہ جورو لڑکے سمیت اپنی گذران کرتا تھا لیکن شام کیوقت روز ڈھال تلوار لے راجہ کے پلنگ کی چوکی مین جا حاضِر رہتا اور راجہ جب سوتے سے چونک کر پکارتا کہ کوئی ہے تو یہی جواب دیتا کہ بیربر حاضِر ہے جو حکم ہو اسی طرح راجہ جب پکارتا تو یہی جواب دیتا پھر اسمین جو کام فرمایا سو یہی بجا لاتا اسطرح مال کی لالچ سے رات بھر ہوشیار رہتا بلکہ کھاتے پیتے سوتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد مین رہتا ریت یہ ہے کہ کوئی کسو کو بیچتا ہے تو بکتا ہی مگر نوکر نوکری کر کے اپنے تئین آپ بیچتا ہے اور جب بکا تو میطع ہوا جو پراے بس مین ہو اسے سکھ کہان مشہور ہے کیسا ہی چالاک عاقل پنڈت ہووے لیکن جسوقت اپنے مالک کے سامنے ہوتا ہے تو ڈر کے مارے گونگے کی برابر چپ ہی رہتا ہے جب تلک دور ہے چین سے ہے اسواسطے پنڈت لوگ کہتے ہین کہ نوکری کرنا لوگ سے بھی کٹھن ہے القصہ ایک روز کا ذکر ہے کہ اتفاقاً رات کے وقت مرگھٹ سے رونے کی آواز آئی راجہ سنکے پکارا کوئی حاضر ہے بیربر سنتے ہی بولا حاضر جو حکم پھر راجہ نے یون حکم کیا جہان سے رونے کی آواز آتی ہے وہان جاؤ اور اس سے سبب رونے کا پوچھ کے جلد آؤ راجہ یہ اس سے فرما دِل مین کہنے لگا کہ کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو تو وقت بے وقت اس سے کام کو کہے اگر وہ حکم اسکا بجا لاوے تو جانیے کام کا ہے اور جو انکار کر دے تو جانیے ناکارہ اسی طرح سے بھائیون اور دوستون کو بُرے وقت مین پرکھیے اور عورت کو مفلسی مین جانچیئے غرض یہ حکم پا کر اس کے رونیکی آواز کی دھن پر گیا اور راجہ بھی اسکی ہمّت دیکھنے کے لئے کالے کپڑے پہنکر پیچھے پیچھے بےمعلوم چلا کہ اسمین بیربر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> n06og4tuh4t232ti0w4sy3mez8ullmz صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/34 250 12700 32351 32344 2026-04-24T06:23:01Z BalramBodhi 60 32351 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور پشو پنچھی تک ہرایک جی کی رکشا کرنا دھرم ہے جہان مین اسکے برابر کوئی ادھرم نہین جو شخص دوسرے کا گوشت کھا کر اپنا گوشت بڑھاتے ہین وہ آخرکار دوزخ مین پڑتے ہین اس سے انسان کو لازم یہ ہے کہ جی کی رکشا کرے اور جو لوگ کہ دوسرے کا دکھ نہ سمجھتے ہون اور غیرون کے جی بھی مار مار کے کھاتے ہون انکی اس دنیا مین عمر کم ہوتی ہے اور لولے لنگڑے کانے اندھے ہونے کبڑے ایسے اعضاء سے محروم ہو جنم لیتے ہین جیسے پشو اور پنچھی کے انگ کھاتے ہین ویسے ہی انگ اپنے کھواتے ہین اور شراب پینا بہت بڑا گناہ ہے اس سے شراب اور گوشت کا کھانا بجا نہین اس طرح راجہ کو دیوان نے اپنی مت کا گیان سمجھا کر ایسا جین دھرم مین لایا کہ جو یہ کہتا تھا وہے راجہ کرتا تھا اور برہمن جوگی جنگم سیورا سنیاسی درویش کسی کو نہ مانا چاہئے اور اسی دھرم سے راج کرتا تھا ایک دن کال کے بس ہو مرگیا پھر اسکا بیٹا دھرم دھوج نام گدی پر بیٹھا اور راج کرنے لگا ایک دن اسنے ابھی چند دیوان کو پکڑوا سر پر سات چوٹی رکھوا منھ کالا کروا گدھے پر چڑھوا ڈونڈی بجوا تالی دلوا دیس سے نکال دیا ایک دن وہ راجہ بسنت رت مین رانیون کو ساتھ لے ایک باغ کی سیر کو گیا اس باغ مین ایک بڑا تالاب تھا اور اسمین کنول پھول رہے تھے راجہ اس سروور کی شوبھا دیکھ کپڑے اتار اشنان کرنے کو اترا ایک پھول توڑ تیر پر آ رانی کے ہاتھ مین دینے لگا کہ وہ پھول ہاتھ سے چھوٹ کر رانی کے پائون پر گرا اور اسکی چوٹ سے رانی کا پانون ٹوٹ گیا تب راجہ گھبرا کر ایک بارگی باہر نکل کر اس کی اوکھد کرنے لگا کہ اتنے مین رات ہوئی اور چندرمان نے پرکاش کیا چاند کی جوت پڑتے ہی دوسری رانی کے شریر مین پھپھولے پڑگئے تو مین اچانک دوسرے کسی گرہستی کی موسل کی آواز آئی اس سے تیسری رانی کے سر مین ایسا درد ہوا کہ غش آگیا اتنی بات کہہ بیتال بولا اے راجہ ان تینون مین اتِ شکمار کون ہے راجہ نے کہا جس کے شریر مین درد ہو غش آیا وہی بہت نازک ہے یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے اتار گٹھری باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا {{c|گیارھوین کہانی}} بیتال بولا کہ پونے پور نام ایک نگر ہے وہان بلبھ نام ایک راجہ تھا اور اسکے دیوان کا نام ست پرکاش تھا اس دیوان کی استری کا نام لکشمی اس راجہ نے ایک روز اپنے دیوان سے کہا جو راجہ ہوکر سندر استری سے بھوگ نہ کرے تو راج کرنا اسکا ہے سود ہے یہ بات کہہ دیوان کو راج کا بھار دے آپ سکھہ سے عیش کرنے لگا اور راج کی سب چنتا چھوڑ دی اور دن رات آنند مین رہنے لگا اتفاقاً ایک روز وہ دیوان اپنے گھر مین اداس بیٹھا تھا کہ اسمین اسکی جورو نے پوچھا سوامی ان دنون آپکو بہت دُبلا دیکھتی ہون وہ بولا رات دن مجھے راج کی فکر رہتی ہی اس سے شریر دبلا ہو گیا ہے اور راجہ تو اٹھون پہر اپنے عیش و آرام مین رہتا ہے تب دیوان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 63gcbtb7921mttwr8r8gcx0us1o7x52 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/35 250 12701 32347 32346 2026-04-23T18:12:40Z Charan Gill 46 32347 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی جورو بولی کہ اے شوہر بہت دنوں تمنے راج کاج کیا اب تھوڑے دنوں کے لیے راجہ سے بدا ہو تیرتھ جاترا کرو یہ بات اسکی سن دیوان چپ ہو رہا جب وہان سے اٹھا تو وقت دربار کے راجہ کے پاس جا رخصت لے تیرتھ جاتا کرنے نکل جاتے جاتے سمندر کے کنارے سیت بندھ رامیشور جا پہونچا وہاں جاتے ہی مہادیو کا درشن کر باہر نکلا تھا کہ اتفاقاً نظر اسکی سمندر کیطرف جا پڑی تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک ایسا کنچن کا پیڑ اسمین سے نکلا کہ جسکے زمرّد کے پتے پکھراج کے پھول مونگے کے پھل نہایت خوشنما نظر آیا اس درخت پرات سندر نائیکا بین ہاتھ مین لیے شیھی ولغرب شیرعلی آوازسے میٹھی گائی ہر بعد ایک گھڑی کے وہ خوشنما درخت سمندر میں تصویریر کاش دیوان اور دریا مین ایک درخت پر عورت حسین میں سے گاتی ہوئی گیا یہ تماشہ دیوان وبان ویکھ الٹا پھر اپنے نگرمیں آیا اور راجہ کے پاس جاؤ نڈوت کر ہاتھ جوڑ بولا ما راج مین ایک اچرچے دیکھ آیا ہوں راجہ نے کہا بیان کرد دیوان نے کہا ما برام پہلے کے لوگ کہہ گئے ہیں جوبات کسی کی عقل میں نہ آوے اور کوئی باور نہ کرے ویسی بات نہ کیے پر میں نے آنکھون سر صاف صاف دیکھا اس سے کہتا ہوں مہاراج جہان رکھنا تھے جی نے سمند پوپل باندھا ہوا جگہ دیکھتا کیا ہو کہ سمندر سی سونے کا یہ نکلا کہ مرد کے بات پکھراج کے پھول ہونگے گئے پھلوں سے ایسا خوب لدا ہوا تھا کہ جسکا بیان نہیں ہو سکتا اور اپر ایک بڑی خوبصورت بین ہاتھ میں لیے میٹھے میٹھے سرون سے گاتی تھی پر ایک گھڑی کے بعد وہ پیٹر سمندر میں تھپ گیا یہ بات را جرمن دیوان کو راج سونپا کیلا سمندر کے کنارے کو چلا کتنے ایک دنوں میں وہان جاپہونچا اور مادیو کے درشن کو مندر میں گیاجون پوجا کر بابر یا استن سے وہی درخت نایکہ سمیت بلا راجہ اسکو دیکھتے ہی سمند زمین کو داسی درخت پر جا بیٹھا وہ راجہ سمیت پاتال کو چلا گیا اسکو دیکھ کے بولی کہ اسے راجہ مرد بہادر کس واسطے تو یہاں آیا ہر راجہ نے کہا مین تیرا خشن کی لالچ سے آیا ہوں اپنے کہا جو تو کالی چودس کے دن مجھ سے نہ ملے تو مین تیرے ساتھ باہ کرن راجہ نے یہ بات مانی اس سندری نے بچن دیگر راجہ کے ساتھ ہواہ کیا اور جب اندھیری پر نہیں آئی تو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> bvgzfbkb9oc6tziaukkg0vc4yr4fgye 32348 32347 2026-04-24T00:00:33Z Charan Gill 46 32348 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی جورو بولی کہ اے شوہر بہت دنوں تمنے راج کاج کیا اب تھوڑے دنوں کے لیے راجہ سے بدا ہو تیرتھ جاترا کرو یہ بات اسکی سن دیوان چپ ہو رہا جب وہان سے اٹھا تو وقت دربار کے راجہ کے پاس جا رخصت لے تیرتھ جاتا کرنے نکل جاتے جاتے سمندر کے کنارے سیت بندھ رامیشور جا پہونچا وہاں جاتے ہی مہادیو کا درشن کر باہر نکلا تھا کہ اتفاقاً نظر اسکی سمندر کیطرف جا پڑی تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک ایسا کنچن کا پیڑ اسمین سے نکلا کہ جسکے زمرّد کے پتے پکھراج کے پھول مونگے کے پھل نہایت خوشنما نظر آیا اس درخت پرات سندر نائیکا بین ہاتھ مین لیے شیھی ولغرب شیرعلی آوازسے میٹھی گائی ہر بعد ایک گھڑی کے وہ خوشنما درخت سمندر میں {{c|'''تصویر پرکاش دیوان اور دریا مین ایک درخت پر عورت حسین بیں لۓ گاتی ہوئی'''}} گیا یہ تماشہ دیوان وبان ویکھ الٹا پھر اپنے نگرمیں آیا اور راجہ کے پاس جاؤ نڈوت کر ہاتھ جوڑ بولا ما راج مین ایک اچرچے دیکھ آیا ہوں راجہ نے کہا بیان کرد دیوان نے کہا ما برام پہلے کے لوگ کہہ گئے ہیں جوبات کسی کی عقل میں نہ آوے اور کوئی باور نہ کرے ویسی بات نہ کیے پر میں نے آنکھون سر صاف صاف دیکھا اس سے کہتا ہوں مہاراج جہان رکھنا تھے جی نے سمند پوپل باندھا ہوا جگہ دیکھتا کیا ہو کہ سمندر سی سونے کا یہ نکلا کہ مرد کے بات پکھراج کے پھول ہونگے گئے پھلوں سے ایسا خوب لدا ہوا تھا کہ جسکا بیان نہیں ہو سکتا اور اپر ایک بڑی خوبصورت بین ہاتھ میں لیے میٹھے میٹھے سرون سے گاتی تھی پر ایک گھڑی کے بعد وہ پیٹر سمندر میں تھپ گیا یہ بات را جرمن دیوان کو راج سونپا کیلا سمندر کے کنارے کو چلا کتنے ایک دنوں میں وہان جاپہونچا اور مادیو کے درشن کو مندر میں گیاجون پوجا کر بابر یا استن سے وہی درخت نایکہ سمیت بلا راجہ اسکو دیکھتے ہی سمند زمین کو داسی درخت پر جا بیٹھا وہ راجہ سمیت پاتال کو چلا گیا اسکو دیکھ کے بولی کہ اسے راجہ مرد بہادر کس واسطے تو یہاں آیا ہر راجہ نے کہا مین تیرا خشن کی لالچ سے آیا ہوں اپنے کہا جو تو کالی چودس کے دن مجھ سے نہ ملے تو مین تیرے ساتھ باہ کرن راجہ نے یہ بات مانی اس سندری نے بچن دیگر راجہ کے ساتھ ہواہ کیا اور جب اندھیری پر نہیں آئی تو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 7ma1wcxoacq76nprdjao14a3mcuqq7h 32349 32348 2026-04-24T00:38:24Z Charan Gill 46 32349 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی جورو بولی کہ اے شوہر بہت دنوں تمنے راج کاج کیا اب تھوڑے دنوں کے لیے راجہ سے بدا ہو تیرتھ جاترا کرو یہ بات اسکی سن دیوان چپ ہو رہا جب وہان سے اٹھا تو وقت دربار کے راجہ کے پاس جا رخصت لے تیرتھ جاتا کرنے نکل جاتے جاتے سمندر کے کنارے سیت بندھ رامیشور جا پہونچا وہاں جاتے ہی مہادیو کا درشن کر باہر نکلا تھا کہ اتفاقاً نظر اسکی سمندر کیطرف جا پڑی تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک ایسا کنچن کا پیڑ اسمین سے نکلا کہ جسکے زمرّد کے پتے پکھراج کے پھول مونگے کے پھل نہایت خوشنما نظر آیا اس درخت پرات سندر نائیکا بین ہاتھ مین لیے شیھی ولغرب شیرعلی آوازسے میٹھی گائی ہر بعد ایک گھڑی کے وہ خوشنما درخت سمندر میں {{c|'''تصویر پرکاش دیوان اور دریا مین ایک درخت پر عورت حسین بیں لۓ گاتی ہوئی'''}} گیا یہ تماشہ دیوان وبان ویکھ الٹا پھر اپنے نگر میں آیا اور راجہ کے پاس جا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ بولا مہاراج مین ایک اچرچ دیکھ آیا ہوں راجہ نے کہا بیان کرو دیوان نے کہا مہاراج پہلے کے لوگ کہہ گئے ہیں جو بات کِسی کی عقل میں نہ آوے اور کوئی باور نہ کرے ویسی بات نہ کیے پر میں نے آنکھون سے صاف صاف دیکھا اس سے کہتا ہوں مہاراج جہان رکھناتھ جی نے سمندر پر پل باندھا ہے اس جگہ دیکھتا کیا ہون کہ سمندر سے سونے کا پیڑ نکلا کہ زمرّد کے پات پکھراج کے پھول مونگے کے پھلوں سے ایسا خوب لدا ہوا تھا کہ جسکا بیان نہیں ہو سکتا اور اپر ایک بڑی خوبصورت بین ہاتھ میں لیے میٹھے میٹھے سرون سے گاتی تھی پر ایک گھڑی کے بعد وہ پیڑ سمندر میں چھپ گیا یہ بات راجہ سن دیوان کو راج سونپ اکیلا سمندر کے کنارے کو چلا کتنے ایک دنوں میں وہان جا پہونچا اور مہادیو کے درشن کو سمندر میں گیا جون پوجا کر باہر آیا کہ سمندر سے وہی درخت نایکہ سمیت نِکلا راجہ اسکو دیکھتے ہی سمندر مین کوداسی درخت پر جا بیٹھا وہ راجہ سمیت پاتال کو چلا گیا اِسکو دیکھ کے بولی کہ اے راجہ مرد بہادر کس واسطے تو یہاں آیا ہے راجہ نے کہا مین تیرے حُشن کی لالچ سے آیا ہوں اسنے کہا جو تو کالی چودس کے دن مجھ سے نہ مِلے تو مین تیرے ساتھ بواہ کرون راجہ نے یہ بات مانی اس سندری نے بچن لیگر راجہ کے ساتھ ہواہ کیا اور جب اندھیری پتردشی آئی تو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> smjy1ioeu9soavnvtg6svtfa609np0t 32352 32349 2026-04-24T06:45:31Z BalramBodhi 60 32352 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی جورو بولی کہ اے شوہر بہت دنون تمنے راج کاج کیا اب تھوڑے دنون کے لیے راجہ سے بدا ہو تیرتھ جاترا کرو یہ بات اسکی سن دیوان چپ ہو رہا جب وہان سے اٹھا تو وقت دربار کے راجہ کے پاس جا رخصت لے تیرتھ جاترا کرنے نکلا جاتے جاتے سمندر کے کنارے سیت بندھ رامیشور جا پہونچا وہان جاتے ہی مہادیو کا درشن کر باہر نکلا تھا کہ اتفاقاً نظر اسکی سمندر کیطرف جا پڑی تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک ایسا کنچن کا پیڑ اسمین سے نکلا کہ جسکے زمرّد کے پتے پکھراج کے پھول مونگے کے پھل نہایت خوشنما نظر آیا اس درخت پر ات سندر نائیکا بین ہاتھ مین لیے بیٹھی دلغرب سُریلی آواز سے بیٹھی گاتی ہے بعد ایک گھڑی کے وہ خوشنما درخت سمندر مین {{c|'''تصویر پرکاش دیوان اور دریا مین ایک درخت پر عورت حسین بین لۓ گاتی ہوئی'''}} گیا یہ تماشہ دیوان وبان دیکھ الٹا پھر اپنے نگر مین آیا اور راجہ کے پاس جا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ بولا مہاراج مین ایک اچرچ دیکھ آیا ہون راجہ نے کہا بیان کرو دیوان نے کہا مہاراج پہلے کے لوگ کہہ گئے ہین جو بات کِسی کی عقل مین نہ آوے اور کوئی باور نہ کرے ویسی بات نہ کہے پر میں نے آنکھون سے صاف صاف دیکھا اس سے کہتا ہون مہاراج جہان رگھناتھ جی نے سمندر پر پل باندھا ہے اسجگہ دیکھتا کیا ہون کہ سمندر سے سونے کا پیڑ نکلا کہ زمرّد کے پات پکھراج کے پھول مونگے کے پھلون سے ایسا خوب لدا ہوا تھا کہ جسکا بیان نہیں ہو سکتا اور اسپر ایک بڑی خوبصورت بین ہاتھ مین لیے میٹھے میٹھے سرون سے گاتی تھی پر ایک گھڑی کے بعد وہ پیڑ سمندر مین چھپ گیا یہ بات راجہ سن دیوان کو راج سونپ اکیلا سمندر کے کنارے کو چلا کتنے ایک دنوں مین وہان جا پہونچا اور مہادیو کے درشن کو سمندر مین گیا جون پوجا کر باہر آیا کہ سمندر سے وہی درخت نایکہ سمیت نِکلا راجہ اسکو دیکھتے ہی سمندر مین کود اسی درخت پر جا بیٹھا وہ راجہ سمیت پاتال کو چلا گیا اِسکو دیکھ کے بولی کہ اے راجہ مرد بہادر کس واسطے تو یہاں آیا ہے راجہ نے کہا مین تیرے حُشن کی لالچ سے آیا ہون اسنے کہا جو تو کالی چودس کے دن مجھ سے نہ مِلے تو مین تیرے ساتھ بواہ کرون راجہ نے یہ بات مانی اس سندری نے بچن لیکر راجہ کے ساتھ ہواہ کیا غرض جب اندھیری چتردشی آئی تو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 8hzb5g2cwk0oxfxzenxgvivucsmoakw صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/36 250 12702 32353 30800 2026-04-24T09:22:56Z Charan Gill 46 32353 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اُن نے کہا اے راج تو میرے نزدیک مت رہ یہ سنکے راجہ تلوار ہاتھ مین لے وہان سراٹھا اور ایک کنارے جا چھپ کر دیکھتا رہا جب آدھی رات ہوئی ایک دیو آیا اور اسنے آتے ہی اسے گلے سے لگایا یہ دیکھتے ہی راجہ کھانڈا لیکر ہاتھ مین آیا اور کہا ارے راکشس پاپی میرے سامنے تو عورت کو ہاتھ نہ لگا پہلے مجھ سے جنگ کر مجھے تبھی تک خوف تھا کہ جب تک تجھے دیکھا نہ تھا اب مین نڈر ہون آنتی بات کہہ کھانڈا نکال ایک ایسا مارا کہ ..... دھڑ سے سر جدا ہو زمین پر تڑپنے لگا یہ دیکھ وہ بولی کہ اے مرد بہادر تو نے بڑا احسان کیا کہہ کر چھر کہا کہ نہ تمام پہاڑون مین لعل ہوتے ہین نہ سب شہرون مین ستونتی ناری نہ ہر ایک بن مین چندن اپجتا ہے نہ ہر ایک ہاتھی کی مستک مین مکتا ہوتا ہے پھر راجہ نے پوچھا یہ راکشس کسواسطے کرشن چتردشی کو تیرے پاس آیا تھا وہ بولی میرے باپ کا نام بدیا دھر ہے اسکی مین لڑکی ہون سندری میرا نام اور یہ تقرر تھا کہ میرے بغیر میرا باپ بھوجن نہ کرتا ایک دن بھوجن کی بریا مین گھر مین نہ تھی تب پاتے قصے مین اگر مجھے سٹرپ دیا کہ مجھے کالی چو دس کے دن راکشس آن کے گلے سے لگا یا کریگا یہ سنک مین بولی پتا سراب تو نے دیا رب میرے اوپر کرنا کیجئے اسنے کہا ایک مرد بہادر آن کر جب اس کے شمس کو باریگا ین نہا سراب سو چھٹے گی سومین اس مہا سراب سر چھٹی اب مین اپنے پا کو نشکار کرنے جاؤنگی راجہ بولا جو تومیرے انکار کو مانے تو ایک باری میرے راج کوچل کر دیکھ پیچھے اپنے پتا کے درشن کو جانیو وہ بولی کہ اچھا جو آپ نے کہا سو مجھے قبول ہو پھر راجہ اسے ساتھ لے اپنی راجد صافی مین آیا شادیانے بجنے لگے سری نگری مین جرمنی کہا جای گرگر با انگارہونے کے پرتو نام نگر کی نگاھی آنکے دربار مین مبارک بادی دینے لگین راجہ نے بہت سارا پن کیا پر کئی دن پیچھے وہ مندر سیجان مہا راج مین اب اپنے باپ کے یہان جاؤنگی راجہ نے اداس ہو کر کہا کہ اچھا جاؤ جب اسنے راجہ کو داس دیکھا تو کہا مہاراج مین نہ جاؤنگی راجہ نے کہا کسواسطے تو نے اپنے باپ کے یہان جانا موقوف کیا وہ بولی اب مین انسان کی ہو چکی اور تا میرا گند عرب جواب مین جاؤن تو میرا دور نہ کریگا اس لئے یہ بین جاتی یہ شن راجہ بہت خوش ہوا اور لاکھون روپئے کا دان بین کیا راجہ کے اس احوال کے سنے تو یون کی چھاتی پھٹی اور مرگیا اتنی کتھا کہ میان بولا کہا ر ا ج کس لئے وہ دیوان مرگیات راجہ بکرماجیت نے کہا دیوان نے دیکھا کہ راجہ توعیش کرنے لگا اور راج کاج کی سب فکر بھلادی پر جانا تھ ہوئی اب میرا سا کوئی نه اینکا اسی فکر کو وہ مرگی بین بال پھر اسی درخت پر ان کا راجہ پرائی سے اسکو کا ندھے پر رکھ لے چلا۔ بارہوین کہانی بیتال بولا اے راجہ بیر بکر یا جیت چوڑا پورا ایک تم ہو وہان کا جوڑا امن نام ایک راجہ تھا جس کے گرد کا نام<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> p272runvxczn2cgsk80m5ndwr3islay