ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.24
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/36
250
12702
32375
32355
2026-04-25T20:55:05Z
Charan Gill
46
32375
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اُن نے کہا اے راج تو میرے نزدیک مت رہ یہ سنکے راجہ تلوار ہاتھ مین لے وہان سراٹھا اور ایک کنارے جا چھپ کر دیکھتا رہا جب آدھی رات ہوئی ایک دیو آیا اور اسنے آتے ہی اسے گلے سے لگایا یہ دیکھتے ہی راجہ کھانڈا لیکر ہاتھ مین آیا اور کہا ارے راکشس پاپی میرے سامنے تو عورت کو ہاتھ نہ لگا پہلے مجھ سے جنگ کر مجھے تبھی تک خوف تھا کہ جب تک تجھے دیکھا نہ تھا اب مین نڈر ہون آنتی بات کہہ کھانڈا نکال ایک ایسا مارا کہ ..... دھڑ سے سر جدا ہو زمین پر تڑپنے لگا یہ دیکھ وہ بولی کہ اے مرد بہادر تو نے بڑا احسان کیا کہہ کر چھر کہا کہ نہ تمام پہاڑون مین لعل ہوتے ہین نہ سب شہرون مین ستونتی ناری نہ ہر ایک بن مین چندن اپجتا ہے نہ ہر ایک ہاتھی کی مستک مین مکتا ہوتا ہے پھر راجہ نے پوچھا یہ راکشس کسواسطے کرشن چتردشی کو تیرے پاس آیا تھا وہ بولی میرے باپ کا نام بدیا دھر ہے اسکی مین لڑکی ہون سندری میرا نام اور یہ مقرر تھا کہ میرے بغیر میرا باپ بھوجن نہ کرتا ایک دن بھوجن کی بریا مین گھر مین نہ تھی تب پتا نے غصے مین آکر مجھے سراپ دیا کہ مجھے کالی چودس کے دن راکشس آن کے گلے سے لگایا کریگا یہ سنکر مین بولی پتا سراپ تو تمنے دیا اب میرے اوپر کرپا کیجئے اسنے کہا ایک مرد بہادر آن کر جب اس راکشس کو ماریگا تب تو اس مہا سراب سو چھٹےگی سو مین اس مہا سراپ سے چھٹی اب مین اپنے پتا کو نمشکار کرنے جاؤنگی راجہ بولا جو تو میرے اپکار کو مانے تو ایک باری میرے راج کو چل کر دیکھ پیچھے اپنے پتا کے درشن کو جانیو وہ بولی کہ اچھا جو آپ نے کہا سو مجھے قبول ہے پھر راجہ اسے ساتھ لے اپنی راجدھانی مین آیا شادیانے بجنے لگے ساری نگری مین جبر ہوئی کہ راجہ آیا گرگر بدھائی منگلچرن ہونے لگے پھر تو تمام نگری منگلا تمھی آنکے دربار مین مبارک بادی دینے لگین راجہ نے بہت سادان پن کیا پھر کئی دن پیچھے وہ سندری بولی مہاراج مین اب اپنے باپ کے یہان جاؤنگی راجہ نے اداس ہو کر کہا کہ اچھا جاؤ جب اسنے راجہ کو اداس دیکھا تو کہا مہاراج مین نہ جاؤنگی راجہ نے کہا کسواسطے تو نے اپنے باپ کے یہان جانا موقوف کیا وہ
بولی اب مین انسان کی ہو چکی اور پتا میرا گندھرب ہےاب مین جاؤن تو میرا آدور نہ کریگا اس لئے مین نہیں جاتی یہ شن راجہ بہت خوش ہوا اور لاکھون روپئے کا دان پن کیا راجہ کے اس احوال کے سنتے دیوان کی چھاتی پھٹی اور مر گیا اتنی کتھا کہ بیان بولا کہ ای راجہ کس لئے وہ دیوان مرگیا تب راجہ بکرماجیت نے کہا دیوان نے دیکھا کہ راجہ تو عیش کرنے لگا اور راج کاج کی سب فکر بھلا دی پرجا اناتھ ہوئی اب میرا کہا کوئی نا مانیگا اسی فکر سے وہ مر گیا یہ سن بتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھراسیطرح سے اسکو کاندھے پر رکھ لے چلا۔
{{c|'''بارہوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بیر بکر یا جیت چوڑا پورا ایک تم ہو وہان کا جوڑا امن نام ایک راجہ تھا جس کے گرد کا نام<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
5ibspzjywcq2lw106q6otcw7k0yb4qe
32377
32375
2026-04-26T01:48:33Z
Charan Gill
46
32377
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اُن نے کہا اے راج تو میرے نزدیک مت رہ یہ سنکے راجہ تلوار ہاتھ مین لے وہان سراٹھا اور ایک کنارے جا چھپ کر دیکھتا رہا جب آدھی رات ہوئی ایک دیو آیا اور اسنے آتے ہی اسے گلے سے لگایا یہ دیکھتے ہی راجہ کھانڈا لیکر ہاتھ مین آیا اور کہا ارے راکشس پاپی میرے سامنے تو عورت کو ہاتھ نہ لگا پہلے مجھ سے جنگ کر مجھے تبھی تک خوف تھا کہ جب تک تجھے دیکھا نہ تھا اب مین نڈر ہون آنتی بات کہہ کھانڈا نکال ایک ایسا مارا کہ ..... دھڑ سے سر جدا ہو زمین پر تڑپنے لگا یہ دیکھ وہ بولی کہ اے مرد بہادر تو نے بڑا احسان کیا کہہ کر چھر کہا کہ نہ تمام پہاڑون مین لعل ہوتے ہین نہ سب شہرون مین ستونتی ناری نہ ہر ایک بن مین چندن اپجتا ہے نہ ہر ایک ہاتھی کی مستک مین مکتا ہوتا ہے پھر راجہ نے پوچھا یہ راکشس کسواسطے کرشن چتردشی کو تیرے پاس آیا تھا وہ بولی میرے باپ کا نام بدیا دھر ہے اسکی مین لڑکی ہون سندری میرا نام اور یہ مقرر تھا کہ میرے بغیر میرا باپ بھوجن نہ کرتا ایک دن بھوجن کی بریا مین گھر مین نہ تھی تب پتا نے غصے مین آکر مجھے سراپ دیا کہ مجھے کالی چودس کے دن راکشس آن کے گلے سے لگایا کریگا یہ سنکر مین بولی پتا سراپ تو تمنے دیا اب میرے اوپر کرپا کیجئے اسنے کہا ایک مرد بہادر آن کر جب اس راکشس کو ماریگا تب تو اس مہا سراب سو چھٹےگی سو مین اس مہا سراپ سے چھٹی اب مین اپنے پتا کو نمشکار کرنے جاؤنگی راجہ بولا جو تو میرے اپکار کو مانے تو ایک باری میرے راج کو چل کر دیکھ پیچھے اپنے پتا کے درشن کو جانیو وہ بولی کہ اچھا جو آپ نے کہا سو مجھے قبول ہے پھر راجہ اسے ساتھ لے اپنی راجدھانی مین آیا شادیانے بجنے لگے ساری نگری مین جبر ہوئی کہ راجہ آیا گرگر بدھائی منگلچرن ہونے لگے پھر تو تمام نگری منگلا تمھی آنکے دربار مین مبارک بادی دینے لگین راجہ نے بہت سادان پن کیا پھر کئی دن پیچھے وہ سندری بولی مہاراج مین اب اپنے باپ کے یہان جاؤنگی راجہ نے اداس ہو کر کہا کہ اچھا جاؤ جب اسنے راجہ کو اداس دیکھا تو کہا مہاراج مین نہ جاؤنگی راجہ نے کہا کسواسطے تو نے اپنے باپ کے یہان جانا موقوف کیا وہ
بولی اب مین انسان کی ہو چکی اور پتا میرا گندھرب ہےاب مین جاؤن تو میرا آدور نہ کریگا اس لئے مین نہیں جاتی یہ شن راجہ بہت خوش ہوا اور لاکھون روپئے کا دان پن کیا راجہ کے اس احوال کے سنتے دیوان کی چھاتی پھٹی اور مر گیا اتنی کتھا کہ بیان بولا کہ ای راجہ کس لئے وہ دیوان مرگیا تب راجہ بکرماجیت نے کہا دیوان نے دیکھا کہ راجہ تو عیش کرنے لگا اور راج کاج کی سب فکر بھلا دی پرجا اناتھ ہوئی اب میرا کہا کوئی نا مانیگا اسی فکر سے وہ مر گیا یہ سن بتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھراسیطرح سے اسکو کاندھے پر رکھ لے چلا۔
{{c|'''بارہوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بیر بکرما جیت چوڑا پور ایک نگر ہے وہان کا جوڑامن نام ایک راجہ تھا جس کے گرو کا نام<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
trv1ijs3l637eakk75vpph1hhc4t2y9
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/37
250
13104
32376
2026-04-26T01:42:04Z
Charan Gill
46
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «دی سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھاوہ کام دیو کے سمان سند اور شاسترین برسیت کے برابر اور دین اسے کبیر کا سادہ ایک بریکی بیٹی کہ نام سکالا دنیوی تابیا ای ان دونون مین بیت محبت ہے گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم میں رات کے وقت چوپاری کی چھت پر د...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32376
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دی سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھاوہ کام دیو کے سمان سند اور شاسترین برسیت کے
برابر اور دین اسے کبیر کا سادہ ایک بریکی بیٹی کہ نام سکالا دنیوی تابیا ای ان دونون مین بیت
محبت ہے گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم میں رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے
سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے او معنی سرک گئی اور گند مصرب بمان پر بیٹھا ہے من اڑا ہے کہیں جاتا
تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑھی کہ وہ بجان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہے ئی کو بان پر رکھ کرے اور کتنی دیر کے
چھے برہمن بھی سونے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہیں تب گھر یا اور وہان سے
اتر کر تمام گھر مین
ڈھونڈھا جب اُسے وہاں نہ ملی تو ساری نگرمی کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھر لیکن کہیں اسے نہ پایا
پھر اپنے جی میں کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کمان گئی غرض جب کچھ میں چل نہ سکا تو آخر نا چار ہے افسوس
کرتا ہے ا گھر آیا اور زبان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گر سونا نظر آیا تب نہایت چینی اور
بے کلی سے بے اختیار ہے تاہے پر ان پیاری ہائے پر ان پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت
بچین ہے گر بہتی چھوڑ کر بیراگ نے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پن گرتی تیرتھ اتر کو کل انگریگر کانون گالوین
تیرتھ کرتا ہے ا ایک نگر میں دوپہر کے سے جا پہونچا جب بھوک سے جید ناچار ہے تو ھاک کے پتوں کا دون بنا ہاتھ
مین سے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھو جن بھک شاد و غرض جب پریت کے بس میں آدمی ہے تا ہے
تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچا نہی رہتا اور نرا در پوجہان پاتا ہے یہاں کھاتا ہے جب اس
بر یمن سے اتنی بھیک مانگی تب اپنے اس سے دو نالے گھر من جاگیر سے بھرا دیا یہ دونے کو لیتے لائے
کنارے
آیا وہاں ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جو مرد و نا رکھے تالاب میں منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت
کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے میں منہ ڈال چل گیا اور وہ دو ناتمام زہرسے بھر گیا تے مین زمین
ھی ہاتھ منہ دھو کر آیا اسے بلاوا معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آئے ہیں اپنے ساری کھیر
کھاڑائی کھاتے ہی اسے
زہر چڑھ گیا پھران نے ہر مین سے جاکر کہا کہ تونے میرے میں زہر دیا اور میں اب اس سے
مراہوں اتنا کہ گھوم گرگرا در مرگیا پھراس برمین نے
اسے ماہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھرسے نکال یا
اور کہا برہمہ تمہاری تو بیان سے جا اتنی بات کہ میاں بولا کہ اسے راجہ اس میں برہمہ متقیا کا پاپ کیسا ہے
راجہ نے کہا سانپ
کے کھیں تو یہ ہے تا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہیں اور اس پر نہین نے بھو کھا جائے
بھگ شادی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس پر مبنی نے سلامی کی آگیا سے بھی کھ دی تھی اسے بھی پاپ
نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی میں سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان میں سے جسکو کوئی
پاپ لگا کر دہی پانی ہری شن بیتال پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی ان است تا ابد انه موری کی چال<noinclude></noinclude>
r12mka16qgd1ontl23wba1eef9upxyn
32378
32376
2026-04-26T02:04:03Z
Charan Gill
46
32378
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دین اسکے کبیر کا سا وہ ایک بریکی بیٹی کہ نام سکالا دنیوی تابیا ای ان دونون مین بیت
محبت ہے گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم میں رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے
سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے او معنی سرک گئی اور گند مصرب بمان پر بیٹھا ہے من اڑا ہے کہیں جاتا
تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑھی کہ وہ بجان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہے ئی کو بان پر رکھ کرے اور کتنی دیر کے
چھے برہمن بھی سونے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہیں تب گھر یا اور وہان سے
اتر کر تمام گھر مین
ڈھونڈھا جب اُسے وہاں نہ ملی تو ساری نگرمی کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھر لیکن کہیں اسے نہ پایا
پھر اپنے جی میں کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کمان گئی غرض جب کچھ میں چل نہ سکا تو آخر نا چار ہے افسوس
کرتا ہے ا گھر آیا اور زبان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گر سونا نظر آیا تب نہایت چینی اور
بے کلی سے بے اختیار ہے تاہے پر ان پیاری ہائے پر ان پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت
بچین ہے گر بہتی چھوڑ کر بیراگ نے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پن گرتی تیرتھ اتر کو کل انگریگر کانون گالوین
تیرتھ کرتا ہے ا ایک نگر میں دوپہر کے سے جا پہونچا جب بھوک سے جید ناچار ہے تو ھاک کے پتوں کا دون بنا ہاتھ
مین سے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھو جن بھک شاد و غرض جب پریت کے بس میں آدمی ہے تا ہے
تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچا نہی رہتا اور نرا در پوجہان پاتا ہے یہاں کھاتا ہے جب اس
بر یمن سے اتنی بھیک مانگی تب اپنے اس سے دو نالے گھر من جاگیر سے بھرا دیا یہ دونے کو لیتے لائے
کنارے
آیا وہاں ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جو مرد و نا رکھے تالاب میں منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت
کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے میں منہ ڈال چل گیا اور وہ دو ناتمام زہرسے بھر گیا تے مین زمین
ھی ہاتھ منہ دھو کر آیا اسے بلاوا معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آئے ہیں اپنے ساری کھیر
کھاڑائی کھاتے ہی اسے
زہر چڑھ گیا پھران نے ہر مین سے جاکر کہا کہ تونے میرے میں زہر دیا اور میں اب اس سے
مراہوں اتنا کہ گھوم گرگرا در مرگیا پھراس برمین نے
اسے ماہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھرسے نکال یا
اور کہا برہمہ تمہاری تو بیان سے جا اتنی بات کہ میاں بولا کہ اسے راجہ اس میں برہمہ متقیا کا پاپ کیسا ہے
راجہ نے کہا سانپ
کے کھیں تو یہ ہے تا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہیں اور اس پر نہین نے بھو کھا جائے
بھگ شادی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس پر مبنی نے سلامی کی آگیا سے بھی کھ دی تھی اسے بھی پاپ
نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی میں سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان میں سے جسکو کوئی
پاپ لگا کر دہی پانی ہری شن بیتال پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی ان است تا ابد انه موری کی چال<noinclude></noinclude>
h9cf7pilm8zc318vzu4zdqt46i2ze0m
32379
32378
2026-04-26T03:40:30Z
Charan Gill
46
32379
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دین اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تہا بیاہ لیا ان دونون مین بیت محبت ہے گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہے ئی کو بان پر رکھ کرے اور کتنی دیر کے
چھے برہمن بھی سونے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھر یا اور وہان سے
اتر کر تمام گھر مین
ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگرمی کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھر لیکن کہین اسے نہ پایا
پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کمان گئی غرض جب کچھ مین چل نہ سکا تو آخر نا چار ہے افسوس
کرتا ہے ا گھر آیا اور زبان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گر سونا نظر آیا تب نہایت چینی اور
بے کلی سے بے اختیار ہے تاہے پر ان پیاری ہائے پر ان پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت
بچین ہے گر بہتی چھوڑ کر بیراگ نے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پن گرتی تیرتھ اتر کو کل انگریگر کانون گالوین
تیرتھ کرتا ہے ا ایک نگر مین دوپہر کے سے جا پہونچا جب بھوک سے جید ناچار ہے تو ھاک کے پتون کا دون بنا ہاتھ
مین سے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھو جن بھک شاد و غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہے تا ہے
تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچا نہی رہتا اور نرا در پوجہان پاتا ہے یہان کھاتا ہے جب اس
بر یمن سے اتنی بھیک مانگی تب اپنے اس سے دو نالے گھر من جاگیر سے بھرا دیا یہ دونے کو لیتے لائے
کنارے
آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جو مرد و نا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت
کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین منہ ڈال چل گیا اور وہ دو ناتمام زہرسے بھر گیا تے مین زمین
ھی ہاتھ منہ دھو کر آیا اسے بلاوا معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آئے ہین اپنے ساری کھیر
کھاڑائی کھاتے ہی اسے
زہر چڑھ گیا پھران نے ہر مین سے جاکر کہا کہ تونے میرے مین زہر دیا اور مین اب اس سے
مراہون اتنا کہ گھوم گرگرا در مرگیا پھراس برمین نے
اسے ماہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھرسے نکال یا
اور کہا برہمہ تمہاری تو بیان سے جا اتنی بات کہ میان بولا کہ اسے راجہ اس مین برہمہ متقیا کا پاپ کیسا ہے
راجہ نے کہا سانپ
کے کھین تو یہ ہے تا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس پر نہین نے بھو کھا جائے
بھگ شادی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس پر مبنی نے سلامی کی آگیا سے بھی کھ دی تھی اسے بھی پاپ
نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی مین سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی
پاپ لگا کر دہی پانی ہری شن بیتال پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی ان است تا ابد انه موری کی چال<noinclude></noinclude>
ad90m6d24oiscp0clul8qvr70m3i4w7
32380
32379
2026-04-26T08:17:17Z
Tamanpreet Kaur
81
32380
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تہا بیاہ لیا ان دونون مین بیت محبت ہے گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہے ئی کو بان پر رکھ کرے اور کتنی دیر کے
چھے برہمن بھی سونے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھر یا اور وہان سے
اتر کر تمام گھر مین
ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگرمی کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھر لیکن کہین اسے نہ پایا
پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کمان گئی غرض جب کچھ مین چل نہ سکا تو آخر نا چار ہے افسوس
کرتا ہے ا گھر آیا اور زبان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گر سونا نظر آیا تب نہایت چینی اور
بے کلی سے بے اختیار ہے تاہے پر ان پیاری ہائے پر ان پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت
بچین ہے گر بہتی چھوڑ کر بیراگ نے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پن گرتی تیرتھ اتر کو کل انگریگر کانون گالوین
تیرتھ کرتا ہے ا ایک نگر مین دوپہر کے سے جا پہونچا جب بھوک سے جید ناچار ہے تو ھاک کے پتون کا دون بنا ہاتھ
مین سے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھو جن بھک شاد و غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہے تا ہے
تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچا نہی رہتا اور نرا در پوجہان پاتا ہے یہان کھاتا ہے جب اس
بر یمن سے اتنی بھیک مانگی تب اپنے اس سے دو نالے گھر من جاگیر سے بھرا دیا یہ دونے کو لیتے لائے
کنارے
آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جو مرد و نا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت
کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین منہ ڈال چل گیا اور وہ دو ناتمام زہرسے بھر گیا تے مین زمین
ھی ہاتھ منہ دھو کر آیا اسے بلاوا معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آئے ہین اپنے ساری کھیر
کھاڑائی کھاتے ہی اسے
زہر چڑھ گیا پھران نے ہر مین سے جاکر کہا کہ تونے میرے مین زہر دیا اور مین اب اس سے
مراہون اتنا کہ گھوم گرگرا در مرگیا پھراس برمین نے
اسے ماہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھرسے نکال یا
اور کہا برہمہ تمہاری تو بیان سے جا اتنی بات کہ میان بولا کہ اسے راجہ اس مین برہمہ متقیا کا پاپ کیسا ہے
راجہ نے کہا سانپ
کے کھین تو یہ ہے تا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس پر نہین نے بھو کھا جائے
بھگ شادی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس پر مبنی نے سلامی کی آگیا سے بھی کھ دی تھی اسے بھی پاپ
نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی مین سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی
پاپ لگا کر دہی پانی ہری شن بیتال پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی ان است تا ابد انه موری کی چال<noinclude></noinclude>
p6tl94hdwipe6kl3m9m0ixoapnsmvna
32381
32380
2026-04-26T08:20:53Z
Tamanpreet Kaur
81
32381
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لیا ان دونون مین بیت محبت ہے گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہے ئی کو بان پر رکھ کرے اور کتنی دیر کے
چھے برہمن بھی سونے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھر یا اور وہان سے
اتر کر تمام گھر مین
ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگرمی کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھر لیکن کہین اسے نہ پایا
پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کمان گئی غرض جب کچھ مین چل نہ سکا تو آخر نا چار ہے افسوس
کرتا ہے ا گھر آیا اور زبان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گر سونا نظر آیا تب نہایت چینی اور
بے کلی سے بے اختیار ہے تاہے پر ان پیاری ہائے پر ان پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت
بچین ہے گر بہتی چھوڑ کر بیراگ نے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پن گرتی تیرتھ اتر کو کل انگریگر کانون گالوین
تیرتھ کرتا ہے ا ایک نگر مین دوپہر کے سے جا پہونچا جب بھوک سے جید ناچار ہے تو ھاک کے پتون کا دون بنا ہاتھ
مین سے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھو جن بھک شاد و غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہے تا ہے
تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچا نہی رہتا اور نرا در پوجہان پاتا ہے یہان کھاتا ہے جب اس
بر یمن سے اتنی بھیک مانگی تب اپنے اس سے دو نالے گھر من جاگیر سے بھرا دیا یہ دونے کو لیتے لائے
کنارے
آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جو مرد و نا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت
کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین منہ ڈال چل گیا اور وہ دو ناتمام زہرسے بھر گیا تے مین زمین
ھی ہاتھ منہ دھو کر آیا اسے بلاوا معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آئے ہین اپنے ساری کھیر
کھاڑائی کھاتے ہی اسے
زہر چڑھ گیا پھران نے ہر مین سے جاکر کہا کہ تونے میرے مین زہر دیا اور مین اب اس سے
مراہون اتنا کہ گھوم گرگرا در مرگیا پھراس برمین نے
اسے ماہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھرسے نکال یا
اور کہا برہمہ تمہاری تو بیان سے جا اتنی بات کہ میان بولا کہ اسے راجہ اس مین برہمہ متقیا کا پاپ کیسا ہے
راجہ نے کہا سانپ
کے کھین تو یہ ہے تا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس پر نہین نے بھو کھا جائے
بھگ شادی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس پر مبنی نے سلامی کی آگیا سے بھی کھ دی تھی اسے بھی پاپ
نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی مین سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی
پاپ لگا کر دہی پانی ہری شن بیتال پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی ان است تا ابد انه موری کی چال<noinclude></noinclude>
8wx9flj2rnxn913qpe68tsjw474j5hr
32382
32381
2026-04-26T08:28:51Z
Tamanpreet Kaur
81
32382
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لیا ان دونون مین بہت محبت ہو گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہے ئی کو بان پر رکھ کرے اور کتنی دیر کے
چھے برہمن بھی سونے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھر یا اور وہان سے
اتر کر تمام گھر مین
ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگرمی کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھر لیکن کہین اسے نہ پایا
پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کمان گئی غرض جب کچھ مین چل نہ سکا تو آخر نا چار ہے افسوس
کرتا ہے ا گھر آیا اور زبان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گر سونا نظر آیا تب نہایت چینی اور
بے کلی سے بے اختیار ہے تاہے پر ان پیاری ہائے پر ان پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت
بچین ہے گر بہتی چھوڑ کر بیراگ نے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پن گرتی تیرتھ اتر کو کل انگریگر کانون گالوین
تیرتھ کرتا ہے ا ایک نگر مین دوپہر کے سے جا پہونچا جب بھوک سے جید ناچار ہے تو ھاک کے پتون کا دون بنا ہاتھ
مین سے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھو جن بھک شاد و غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہے تا ہے
تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچا نہی رہتا اور نرا در پوجہان پاتا ہے یہان کھاتا ہے جب اس
بر یمن سے اتنی بھیک مانگی تب اپنے اس سے دو نالے گھر من جاگیر سے بھرا دیا یہ دونے کو لیتے لائے
کنارے
آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جو مرد و نا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت
کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین منہ ڈال چل گیا اور وہ دو ناتمام زہرسے بھر گیا تے مین زمین
ھی ہاتھ منہ دھو کر آیا اسے بلاوا معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آئے ہین اپنے ساری کھیر
کھاڑائی کھاتے ہی اسے
زہر چڑھ گیا پھران نے ہر مین سے جاکر کہا کہ تونے میرے مین زہر دیا اور مین اب اس سے
مراہون اتنا کہ گھوم گرگرا در مرگیا پھراس برمین نے
اسے ماہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھرسے نکال یا
اور کہا برہمہ تمہاری تو بیان سے جا اتنی بات کہ میان بولا کہ اسے راجہ اس مین برہمہ متقیا کا پاپ کیسا ہے
راجہ نے کہا سانپ
کے کھین تو یہ ہے تا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس پر نہین نے بھو کھا جائے
بھگ شادی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس پر مبنی نے سلامی کی آگیا سے بھی کھ دی تھی اسے بھی پاپ
نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی مین سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی
پاپ لگا کر دہی پانی ہری شن بیتال پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی ان است تا ابد انه موری کی چال<noinclude></noinclude>
6oe6di60ctz5gekjkq8trltaewmzn7h
32383
32382
2026-04-26T11:13:33Z
Tamanpreet Kaur
81
32383
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لیا ان دونون مین بہت محبت ہو گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہوئی کو بمان پر رکھ کر لے اڑا اور کتنی دیر کے پیچھے برہمن بھی سوتے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھر یا اور وہان سے اتر کر تمام گھر مین ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگری کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھرا لیکن کہین اسے نہ پایا پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کہان گئی غرض جب کچھ بس چل نہ سکا تو آخر ناچار ہو افسوس کرتا ہوا گھر آیا اور وہان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گھر سونا نظر آیا تب نہایت بیچینی اور بے کلی سے بے اختیار ہو ہائے پران پیاری ہائے پران پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت بچین ہو گرہستی چھوڑ کر بیراگ لے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پہن نگر تج تیرتھ جاتر کو نکلا نگر نگر گاؤُن گاؤُن تیرتھ کرتا ہوا ایک نگر مین دوپہر کے سمے جا پہونچا جب بھوک سے بیحد ناچار ہوا تو ڈھاک کے پتون کا دونا بنا ہاتھ مین لے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھوجن بھکشا دو غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہوتا ہے تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچار نہین رہتا اور نرا در پوجہان پاتا ہے یہان کھاتا ہے جب اس
بر یمن سے اتنی بھیک مانگی تب اپنے اس سے دو نالے گھر من جاگیر سے بھرا دیا یہ دونے کو لیتے لائے
کنارے
آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جو مرد و نا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت
کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین منہ ڈال چل گیا اور وہ دو ناتمام زہرسے بھر گیا تے مین زمین
ھی ہاتھ منہ دھو کر آیا اسے بلاوا معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آئے ہین اپنے ساری کھیر
کھاڑائی کھاتے ہی اسے
زہر چڑھ گیا پھران نے ہر مین سے جاکر کہا کہ تونے میرے مین زہر دیا اور مین اب اس سے
مراہون اتنا کہ گھوم گرگرا در مرگیا پھراس برمین نے
اسے ماہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھرسے نکال یا
اور کہا برہمہ تمہاری تو بیان سے جا اتنی بات کہ میان بولا کہ اسے راجہ اس مین برہمہ متقیا کا پاپ کیسا ہے
راجہ نے کہا سانپ
کے کھین تو یہ ہے تا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس پر نہین نے بھو کھا جائے
بھگ شادی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس پر مبنی نے سلامی کی آگیا سے بھی کھ دی تھی اسے بھی پاپ
نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی مین سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی
پاپ لگا کر دہی پانی ہری شن بیتال پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی ان است تا ابد انه موری کی چال<noinclude></noinclude>
lcg6tjp0l75t7q38m3cn5h1zqw83r9l
32384
32383
2026-04-26T11:40:58Z
Charan Gill
46
32384
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لیا ان دونون مین بہت محبت ہو گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہوئی کو بمان پر رکھ کر لے اڑا اور کتنی دیر کے پیچھے برہمن بھی سوتے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھر یا اور وہان سے اتر کر تمام گھر مین ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگری کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھرا لیکن کہین اسے نہ پایا پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کہان گئی غرض جب کچھ بس چل نہ سکا تو آخر ناچار ہو افسوس کرتا ہوا گھر آیا اور وہان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گھر سونا نظر آیا تب نہایت بیچینی اور بے کلی سے بے اختیار ہو ہائے پران پیاری ہائے پران پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت بچین ہو گرہستی چھوڑ کر بیراگ لے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پہن نگر تج تیرتھ جاتر کو نکلا نگر نگر گاؤُن گاؤُن تیرتھ کرتا ہوا ایک نگر مین دوپہر کے سمے جا پہونچا جب بھوک سے بیحد ناچار ہوا تو ڈھاک کے پتون کا دونا بنا ہاتھ مین لے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھوجن بھکشا دو غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہوتا ہے تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچار نہین رہتا اور نرآدر ہو جہان پاتا ہے بہان کھاتا ہے جب اس برہمن سے اتنی بھیک مانگی تب اسنے اس سے دونا لے گھر مین جا کھیر سے بھر لا دیا یہ دونے کو لیے طلب کے کنارے آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جڑ مین دونا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین مُنھ ڈال چلا گیا اور وہ دونا تمام زہر سے بھر گیا اتنے مین وہ برہمن بھی ہاتھ منھ دھو کر آیا اسے یہ احوال معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آتے ہی اسنے ساری کھیر کھا ڑالی کھاتے ہی اسے زہر چڑھ گیا پھراُن نے ہرہمن سے جاکر کہا کہ تونے میرے تئین زہر دیا اور مین اب اس سے مرتا ہون اتنا کہہ گھوم کر گرا اور مر گیا پھراس برہمن نے اسے مرا ہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھر سے نکال دیا اور کہا برہمہ تمہاری تو بیان سے جا اتنی بات کہہ میان بولا کہ اسے راجہ اس مین برہمہ متقیا کا پاپ کیسا ہے
راجہ نے کہا سانپ
کے کھین تو یہ ہے تا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس پر نہین نے بھو کھا جائے
بھگ شادی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس پر مبنی نے سلامی کی آگیا سے بھی کھ دی تھی اسے بھی پاپ
نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی مین سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی
پاپ لگا کر دہی پانی ہری شن بیتال پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی ان است تا ابد انه موری کی چال<noinclude></noinclude>
s2gu4rbwlbiz5yxxrr0lkbcv3s8jf46