ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.24 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/36 250 12702 32386 32377 2026-04-26T12:31:59Z BalramBodhi 60 32386 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اُن نے کہا اے راج تو میرے نزدیک مت رہ یہ سنکے راجہ تلوار ہاتھ مین لے وہان سےاٹھا اور ایک کنارے جا چھپکر دیکھتا رہا جب آدھی رات ہوئی ایک دیو آیا اور اسنے آتے ہی اسے گلے سے لگایا یہ دیکھتے ہی راجہ کھانڈا لیکر ہاتھ مین آیا اور کہا ارے راکشس پاپی میرے سامنے تو عورت کو ہاتھ نہ لگا پہلے مجھ سے جنگ کر مجھے تبھی تک خوف تھا کہ جب تک تجھے دیکھا نہ تھا اب مین نڈر ہون اتنی بات کہہ کھانڈا نکال ایک ایسا مارا کہ ..... دھڑ سے سر جدا ہو زمین پر تڑپنے لگا یہ دیکھ وہ بولی کہ اے مرد بہادر تو نے بڑا احسان کیا کہہ کر پھر کہا کہ نہ تمام پہاڑون مین لعل ہوتے ہین نہ سب شہرون مین ستونتی ناری نہ ہر ایک بن مین چندن اپجتا ہے نہ ہر ایک ہاتھی کی مستک مین مکتا ہوتا ہے پھر راجہ نے پوچھا یہ راکشس کسواسطے کرشن چتردشی کو تیرے پاس آیا تھا وہ بولی میرے باپ کا نام بدیا دھر ہے اسکی مین لڑکی ہون سندری میرا نام اور یہ مقرر تھا کہ میرے بغیر میرا باپ بھوجن نہ کرتا ایک دن بھوجن کی بریا مین گھر مین نہ تھی تب پتا نے غصے مین آکر مجھے سراپ دیا کہ تجھے کالی چودس کے دن راکشس آن کے گلے سے لگایا کریگا یہ سنکر مین بولی پتا سراپ تو تمنے دیا پر اب میرے اوپر کرپا کیجئے اسنے کہا ایک مرد بہادر آن کر جب اس راکشس کو ماریگا تب تو اس مہا سراپ سے چھٹےگی سو مین اس مہا سراپ سے چھٹی اب مین اپنے پتا کو نمشکار کرنے جاؤنگی راجہ بولا جو تو میرے اپکار کو مانے تو ایک باری میرے راج کو چل کر دیکھ پیچھے اپنے پتا کے درشن کو جائیو وہ بولی کہ اچھا جو آپ نے کہا سو مجھے قبول ہے پھر راجہ اسے ساتھ لے اپنی راجدھانی مین آیا شادیانے بجنے لگے ساری نگری مین خبر ہوئی کہ راجہ آیا گھرگھر بدھائی منگلچرن ہونے لگے پھر تو تمام نگری منگلا متھی آنکے دربار مین مبارک بادی دینے لگین راجہ نے بہت سا دان پن کیا پھر کئی دن پیچھے وہ سندری بولی مہاراج مین اب اپنے باپ کے یہان جاؤنگی راجہ نے اداس ہو کر کہا کہ اچھا جاؤ جب اسنے راجہ کو اداس دیکھا تو کہا مہاراج مین نہ جاؤنگی راجہ نے کہا کِسواسطے تو نے اپنے باپ کے یہان جانا موقوف کیا وہ بولی اب مین انسان کی ہو چکی اور پتا میرا گندھرب ہے اب مین جاؤن تو میرا آدر نہ کریگا اس لئے مین نہیں جاتی یہ سُن راجہ بہت خوش ہوا اور لاکھون روپئے کا دان پن کیا راجہ کے اس احوال کے سنتے دیوان کی چھاتی پھٹی اور مر گیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ای راجہ کس لئے وہ دیوان مرگیا تب راجہ بکرماجیت نے کہا دیوان نے دیکھا کہ راجہ تو عیش کرنے لگا اور راج کاج کی سب فکر بھلا دی پرجا اناتھ ہوئی اب میرا کہا کوئی نا مانیگا اسی فکر سے وہ مر گیا یہ سن بتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھراسیطرح سے اسکو کاندھے پر رکھ لے چلا۔ {{c|'''بارہوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ بیر بکرما جیت چوڑا پور ایک نگر ہے وہان کا جوڑامن نام ایک راجہ تھا جسکے گرو کا نام<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 9lrugum1a56pxcrfj40s0ks716jbv7g صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/37 250 13104 32385 32384 2026-04-26T12:07:14Z Charan Gill 46 32385 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لیا ان دونون مین بہت محبت ہو گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہوئی کو بمان پر رکھ کر لے اڑا اور کتنی دیر کے پیچھے برہمن بھی سوتے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھر یا اور وہان سے اتر کر تمام گھر مین ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگری کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھرا لیکن کہین اسے نہ پایا پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کہان گئی غرض جب کچھ بس چل نہ سکا تو آخر ناچار ہو افسوس کرتا ہوا گھر آیا اور وہان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گھر سونا نظر آیا تب نہایت بیچینی اور بے کلی سے بے اختیار ہو ہائے پران پیاری ہائے پران پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت بچین ہو گرہستی چھوڑ کر بیراگ لے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پہن نگر تج تیرتھ جاتر کو نکلا نگر نگر گاؤُن گاؤُن تیرتھ کرتا ہوا ایک نگر مین دوپہر کے سمے جا پہونچا جب بھوک سے بیحد ناچار ہوا تو ڈھاک کے پتون کا دونا بنا ہاتھ مین لے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھوجن بھکشا دو غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہوتا ہے تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچار نہین رہتا اور نرآدر ہو جہان پاتا ہے بہان کھاتا ہے جب اس برہمن سے اتنی بھیک مانگی تب اسنے اس سے دونا لے گھر مین جا کھیر سے بھر لا دیا یہ دونے کو لیے طلب کے کنارے آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جڑ مین دونا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین مُنھ ڈال چلا گیا اور وہ دونا تمام زہر سے بھر گیا اتنے مین وہ برہمن بھی ہاتھ منھ دھو کر آیا اسے یہ احوال معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آتے ہی اسنے ساری کھیر کھا ڑالی کھاتے ہی اسے زہر چڑھ گیا پھراُن نے ہرہمن سے جاکر کہا کہ تونے میرے تئین زہر دیا اور مین اب اس سے مرتا ہون اتنا کہہ گھوم کر گرا اور مر گیا پھراس برہمن نے اسے مرا ہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھر سے نکال دیا اور کہا برہمہ ہتیاری تو بہان سے جا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ اس مین برہمہ ہتیا کا پاپ کیسکو ہوا راجہ نے کہا سانپ کے کھین تو یہ ہے تا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس پر نہین نے بھو کھا جائے بھگ شادی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس پر مبنی نے سلامی کی آگیا سے بھی کھ دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی مین سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی پاپ لگا کر دہی پانی ہری شن بیتال پھر اسی درخت پر جالگا اور راجہ بھی ان است تا ابد انه موری کی چال<noinclude></noinclude> 31w40x8snbnl5wr44av0oq7gcy8brma 32393 32385 2026-04-26T21:44:17Z Charan Gill 46 32393 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لیا ان دونون مین بہت محبت ہو گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہوئی کو بمان پر رکھ کر لے اڑا اور کتنی دیر کے پیچھے برہمن بھی سوتے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھر یا اور وہان سے اتر کر تمام گھر مین ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگری کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھرا لیکن کہین اسے نہ پایا پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کہان گئی غرض جب کچھ بس چل نہ سکا تو آخر ناچار ہو افسوس کرتا ہوا گھر آیا اور وہان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گھر سونا نظر آیا تب نہایت بیچینی اور بے کلی سے بے اختیار ہو ہائے پران پیاری ہائے پران پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت بچین ہو گرہستی چھوڑ کر بیراگ لے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پہن نگر تج تیرتھ جاتر کو نکلا نگر نگر گاؤُن گاؤُن تیرتھ کرتا ہوا ایک نگر مین دوپہر کے سمے جا پہونچا جب بھوک سے بیحد ناچار ہوا تو ڈھاک کے پتون کا دونا بنا ہاتھ مین لے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھوجن بھکشا دو غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہوتا ہے تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچار نہین رہتا اور نرآدر ہو جہان پاتا ہے بہان کھاتا ہے جب اس برہمن سے اتنی بھیک مانگی تب اسنے اس سے دونا لے گھر مین جا کھیر سے بھر لا دیا یہ دونے کو لیے طلب کے کنارے آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جڑ مین دونا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین مُنھ ڈال چلا گیا اور وہ دونا تمام زہر سے بھر گیا اتنے مین وہ برہمن بھی ہاتھ منھ دھو کر آیا اسے یہ احوال معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آتے ہی اسنے ساری کھیر کھا ڑالی کھاتے ہی اسے زہر چڑھ گیا پھراُن نے ہرہمن سے جاکر کہا کہ تونے میرے تئین زہر دیا اور مین اب اس سے مرتا ہون اتنا کہہ گھوم کر گرا اور مر گیا پھراس برہمن نے اسے مرا ہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھر سے نکال دیا اور کہا برہمہ ہتیاری تو بہان سے جا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ اس مین برہمہ ہتیا کا پاپ کِسکو ہوا راجہ نے کہا سانپ کے مکھ مین تو زہر ہوتا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس برہمن نے بھوکھا جانکے بھگشا دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس برہمنی نے سلامی کی آگیا سے بھیکھ دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی تِس سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی پاپ لگا وے وہی پانی ہے یہ شُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہان جا اسے اتار باندھ کاندھے پر رکھ لے چلا<noinclude></noinclude> buxrmyit63p6jsuuxq9fiqli9da3p37 32397 32393 2026-04-27T04:15:27Z Taranpreet Goswami 90 32397 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لیا ان دونون مین بہت محبت ہو گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہوئی کو بمان پر رکھ کر لے اڑا اور کتنی دیر کے پیچھے برہمن بھی سوتے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھر یا اور وہان سے اتر کر تمام گھر مین ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگری کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھرا لیکن کہین اسے نہ پایا پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کہان گئی غرض جب کچھ بس چل نہ سکا تو آخر ناچار ہو افسوس کرتا ہوا گھر آیا اور وہان پھر اسے دوبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گھر سونا نظر آیا تب نہایت بیچینی اور بے کلی سے بے اختیار ہو ہائے پران پیاری ہائے پران پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت بچین ہو گرہستی چھوڑ کر بیراگ لے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پہن نگر تج تیرتھ جاتر کو نکلا نگر نگر گاؤُن گاؤُن تیرتھ کرتا ہوا ایک نگر مین دوپہر کے سمے جا پہونچا جب بھوک سے بیحد ناچار ہوا تو ڈھاک کے پتون کا دونا بنا ہاتھ مین لے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھوجن بھکشا دو غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہوتا ہے تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچار نہین رہتا اور نرآدر ہو جہان پاتا ہے بہان کھاتا ہے جب اس برہمن سے اتنی بھیک مانگی تب اسنے اس سے دونا لے گھر مین جا کھیر سے بھر لا دیا یہ دونے کو لیے طلب کے کنارے آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جڑ مین دونا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین مُنھ ڈال چلا گیا اور وہ دونا تمام زہر سے بھر گیا اتنے مین وہ برہمن بھی ہاتھ منھ دھو کر آیا اسے یہ احوال معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آتے ہی اسنے ساری کھیر کھا ڑالی کھاتے ہی اسے زہر چڑھ گیا پھراُن نے ہرہمن سے جاکر کہا کہ تونے میرے تئین زہر دیا اور مین اب اس سے مرتا ہون اتنا کہہ گھوم کر گرا اور مر گیا پھراس برہمن نے اسے مرا ہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھر سے نکال دیا اور کہا برہمہ ہتیاری تو بہان سے جا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ اس مین برہمہ ہتیا کا پاپ کِسکو ہوا راجہ نے کہا سانپ کے مکھ مین تو زہر ہوتا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس برہمن نے بھوکھا جانکے بھگشا دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس برہمنی نے سلامی کی آگیا سے بھیکھ دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی تِس سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی پاپ لگا وے وہی پانی ہے یہ شُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہان جا اسے اتار باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا<noinclude></noinclude> 17agb5put1tzdus0ddg0afsi16tb6fl 32399 32397 2026-04-27T08:08:35Z BalramBodhi 60 32399 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لیا ان دونون مین بہت محبت ہو گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہوئی کو بمان پر رکھ کر لے اڑا اور کتنی دیر کے پیچھے برہمن بھی سوتے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھبریا اور وہان سے اتر کر تمام گھر مین ڈھونڈھا جب اُسے وہان نہ ملی تو ساری نگری کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھرا لیکن کہین اسے نہ پایا پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کہان گئی غرض جب کچھ بس چل نہ سکا تو آخر ناچار ہو افسوس کرتا ہوا گھر آیا اور وہان پھر اُسے دوُبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گھر سونا نظر آیا تب نہایت بیچینی اور بے کلی سے بےاختیار ہو ہائے پران پیاری ہائے پران پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت بچین ہو گرہستی چھوڑ کر بیراگ لے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پہن نگر تج تیرتھ جاترا کو نکلا نگر نگر گاؤُن گاؤُن تیرتھ کرتا ہوا ایک نگر مین دوپہر کے سمے جا پہونچا جب بھوک سے بیحد ناچار ہوا تو ڈھاک کے پتون کا دونا بنا ہاتھ مین لے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھوجن بھکشا دو غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہوتا ہے تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچار نہین رہتا اور نرآدر ہو جہان پاتا ہے تہان کھاتا ہے جب اس برہمن سے اتنی بھیک مانگی تب اسنے اس سے دونا لے گھر مین جا کھیر سے بھر لا دیا یہ اُس دونے کو لیے تالاب کے کنارے آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جڑ مین دونا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین مُنھ ڈال چلا گیا اور وہ دونا تمام زہر سے بھر گیا اتنے مین وہ برہمن بھی ہاتھ منھ دھو کر آیا پر اسے یہ احوال معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آتے ہی اسنے ساری کھیر کھا ڑالی کھاتے ہی اسے زہر چڑھ گیا پھر اُن نے ہرہمن سے جاکر کہا کہ تونے میرے تئین زہر دیا اور مین اب اس سے مرتا ہون اتنا کہہ گھوم کر گرا اور مر گیا پھراس برہمن نے اسے مرا ہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھر سے نکال دیا اور کہا برہمہ ہتیاری تو یہان سے جا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ اس مین برہمہ ہتیا کا پاپ کِسکو ہوا راجہ نے کہا سانپ کے مکھ مین تو زہر ہوتا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس برہمن نے بھوکھا جانکے بھکشا دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس برہمنی نے سوامی کی آگیا سے بھیکھ دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی تِس سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی پاپ لگا وے وہی پاپی ہے یہ سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہان جا اسے اتار باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا<noinclude></noinclude> ovun3dqqhg7k9r3sou2levhpwlw6dpg میڈیاویکی:Gadget-charinsert-core.js 8 13105 32387 2026-04-26T13:07:34Z Satdeep Gill 85 «/** * Originally copied from [[mw:User:Alex Smotrov/edittools.js]], * modified for use on English Wikisource. * * Configuration (to be set from [[Special:MyPage/common.js]]): * window.charinsertCustom – Object. Merged into the default charinsert list. For example, setting * this to { Symbols: '‽' } will add the interrobang to the end of the Symbols section. * window.editToolsRecall – Boolean. Set true to create a...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32387 javascript text/javascript /** * Originally copied from [[mw:User:Alex Smotrov/edittools.js]], * modified for use on English Wikisource. * * Configuration (to be set from [[Special:MyPage/common.js]]): * window.charinsertCustom – Object. Merged into the default charinsert list. For example, setting * this to { Symbols: '‽' } will add the interrobang to the end of the Symbols section. * window.editToolsRecall – Boolean. Set true to create a recall switch. * window.charinsertDontMove – Boolean. Set true to leave the box in its default position, rather * than moving it above the edit summary. * window.updateEditTools() – Function. Call after updating window.charinsertCustom to regenerate the * EditTools window. */ /* global $, mw, charinsertCustom */ window.updateEditTools = function () { }; $(function () { var $currentFocused, editTools; function getSelectedSection() { var selectedSection = mw.storage.get( editTools.storageKey ) || mw.storage.session.get( editTools.storageKey ); return selectedSection; } function saveSelectedSection( newIndex ) { mw.storage.set( editTools.storageKey, newIndex ) || mw.storage.session.set( editTools.storageKey, newIndex ); } editTools = { // Entries prefixed with ␥ (U+2425 SYMBOL FOR DELETE FORM TWO) will not appear in the article namespace (namespace 0). // Please make any changes to [[MediaWiki:Edittools]] as well, however, instead of using the ␥ symbol, use {{#ifeq:{{NAMESPACE}}|{{ns:0}}| | }}. charinsert: { 'ویکی ماخذ': '{\{rh|Left|Center|Right}} {\{gap}} {\{dhr|3em}} {\{nop}} </br> {\{left|+}} {\{right|+}} {\{center|+}} {\{center|<poem>+</poem>}} <poem>+</poem> {\{Block.center|+}} {\{Block.center|<poem>+</poem>}} {\{Float.left|+}} {\{Float.right|+}} ‏ {\{xxxx-larger|+}} {\{rule}} {\{Multicol}} {\{Multicol-break}} {\{Multicol-end}} <center>+</center> {\{overfloat.left|+|depth=1em}} {\{overfloat.right|+|depth=1em}} {\{underline|+}} {{SIC|+|}} {\{bar|3}} {\{missing.image}} <references/> <pages.index="Filename".from=x.to=y/> ॥ ', 'انسرٹ': ' <!--.+_--> {\{+}} {\{\{+|}}} | [+] [\[+|]] "+" = [\[زمرہ:+]] #REDIRECT.[\[+]] &nb'+'sp; <nowiki>+</nowiki> ␥~~\~~ <pagelist+/> <br/>', 'ویکی ماکر اپ': '<!--.+_--> <nowiki>+</nowiki> ␥~~\~~ <span.class="plainlinks">+</span> <s>+</s> <sub>+</sub> <sup>+</sup> <ref>+</ref> <ref.name="+"_/> <ref.follow="+"_/> {\{smallrefs}} {\{সূত্র.তালিকা}} <references./> <includeonly>+</includeonly> <noinclude>+</noinclude> <onlyinclude>+</onlyinclude> <blockquote>+</blockquote> <pre>+</pre> <code>+</code> <tt>+</tt> <syntaxhighlight.lang="html5".enclose="div">+</syntaxhighlight> {\{hws|+}} {\{hwe|+}} <small>+</small> <big>+</big> <mark>+</mark> ', 'خاص': ' {\{SIC|+}} {\{red|+}} {\{green|+}} {\{greyed|+}} {\{larger|+}} {\{smaller|+}} {\{Custom.rule|sp|40|co|6|sp|40}} {\{sp|+}} {\{Asterism}} {\{rule|height=4px}}{\{rule}} {\{border|maxwidth=350px|padding=15px|+}} {\{bar}} {\{***|5|3em|char=*}}', 'اشاریہ': ' <pagelist+/> {\{rh|{{{pagenum}}}|ਨਾਮ|{{{pagenum}}}}} {\{rule}}', 'بنیادی': '{\{rh|Left|Center|Right}} {\{dhr|3em}} {\{gap}} {\{nop}} {\{center|+}} {\{Block.center|+}} {\{right|+}} {\{left|+}} <poem>+</poem> {\{rule}} </br> {\{underline|+}} {\{missing.image}} {\{xx-larger|+}} {\{Center|<poem>+</poem>}} {\{Block.center|<poem>+</poem>}}' }, charinsertDivider: "\240", storageKey: 'edittoolscharsubset', createEditTools: function ( placeholder ) { var sel, id; var box = document.createElement( 'div' ); var prevSubset = 0, curSubset = 0; box.id = 'editpage-specialchars'; box.title = 'Click on the character or tag to insert it into the edit window'; // append user-defined sets if ( window.charinsertCustom ) { for ( id in charinsertCustom ) { if ( !editTools.charinsert[id] ) { editTools.charinsert[id] = ''; } } } // create drop-down select sel = document.createElement( 'select' ); for ( id in editTools.charinsert ) { sel.options[sel.options.length] = new Option( id, id ); } sel.selectedIndex = 0; sel.style.marginRight = '.3em'; sel.title = 'Choose character subset'; sel.onchange = sel.onkeyup = selectSubset; box.appendChild( sel ); // create "recall" switch if ( window.editToolsRecall ) { var recall = document.createElement( 'span' ); recall.appendChild( document.createTextNode( '↕' ) ); // ↔ recall.onclick = function() { sel.selectedIndex = prevSubset; selectSubset(); }; recall.style.cssFloat = 'left'; recall.style.marginRight = '5px'; recall.style.cursor = 'pointer'; box.appendChild( recall ); } if ( getSelectedSection() ) { sel.selectedIndex = getSelectedSection(); } placeholder.parentNode.replaceChild( box, placeholder ); selectSubset(); return; function selectSubset() { // remember previous (for "recall" button) prevSubset = curSubset; curSubset = sel.selectedIndex; //save into web storage for persistence saveSelectedSection( curSubset ); //hide other subsets var pp = box.getElementsByTagName( 'p' ) ; for ( var i = 0; i < pp.length; i++ ) { pp[i].style.display = 'none'; } //show/create current subset var id = sel.options[curSubset].value; var p = document.getElementById( id ); if ( !p ) { p = document.createElement( 'p' ); p.className = 'nowraplinks'; p.id = id; if ( id == 'Arabic' || id == 'Hebrew' ) { p.style.fontSize = '120%'; p.dir = 'rtl'; } var tokens = editTools.charinsert[id]; if ( window.charinsertCustom && charinsertCustom[id] ) { if ( tokens.length > 0 ) { tokens += ' '; } tokens += charinsertCustom[id]; } editTools.createTokens( p, tokens ); box.appendChild( p ); } p.style.display = 'inline'; } }, createTokens: function ( paragraph, str ) { var tokens = str.split( ' ' ), token, i, n; for ( i = 0; i < tokens.length; i++ ) { token = tokens[i]; n = token.indexOf( '+' ); if ( token.charAt( 0 ) === '␥' ) { if ( token.length > 1 && mw.config.get( 'wgNamespaceNumber' ) === 0 ) { continue; } else { token = token.substring( 1 ); } } if ( token === '' || token === '_' ) { addText( editTools.charinsertDivider + ' ' ); } else if ( token === '\n' ) { paragraph.appendChild( document.createElement( 'br' ) ); } else if ( token === '___' ) { paragraph.appendChild( document.createElement( 'hr' ) ); } else if ( token.charAt( token.length-1 ) === ':' ) { // : at the end means just text addBold( token ); } else if ( n === 0 ) { // +<tag> -> <tag>+</tag> addLink( token.substring( 1 ), '</' + token.substring( 2 ), token.substring( 1 ) ); } else if ( n > 0 ) { // <tag>+</tag> addLink( token.substring( 0, n ), token.substring( n+1 ) ); } else if ( token.length > 2 && token.charCodeAt( 0 ) > 127 ) { // a string of insertable characters for ( var j = 0; j < token.length; j++ ) { addLink( token.charAt( j ), '' ); } } else { addLink( token, '' ); } } return; function addLink( tagOpen, tagClose, name ) { var handler; var dle = tagOpen.indexOf( '\x10' ); var a = document.createElement( 'a' ); if ( dle > 0 ) { var path = tagOpen.substring( dle + 1 ).split( '.' ); tagOpen = tagOpen.substring( 0, dle ); handler = window; for ( var i = 0; i < path.length; i++ ) { handler = handler[path[i]]; } $( a ).on( 'click', handler ); } else { tagOpen = tagOpen.replace( /\./g,' ' ); tagClose = tagClose ? tagClose.replace( /_/g,' ' ) : ''; $( a ).on( 'click', { tagOpen: tagOpen, sampleText: '', tagClose: tagClose }, insertTags ); } name = name || tagOpen + tagClose; name = name.replace( /\\n/g,'' ); a.appendChild( document.createTextNode( name ) ); a.href = ''; paragraph.appendChild( a ); addText( ' ' ); } function addBold( text ) { var b = document.createElement( 'b' ); b.appendChild( document.createTextNode( text.replace( /_/g,' ' ) ) ); paragraph.appendChild( b ); addText( ' ' ); } function addText( txt ) { paragraph.appendChild( document.createTextNode( txt ) ); } function insertTags( e ) { e.preventDefault(); if ( $currentFocused && $currentFocused.length ) { $currentFocused.textSelection( 'encapsulateSelection', { pre: e.data.tagOpen, peri: e.data.sampleText, post: e.data.tagClose } ); } } }, setup: function () { var placeholder; if ( $( '#editpage-specialchars' ).length ) { placeholder = $( '#editpage-specialchars' )[0]; } else { placeholder = $( '<div id="editpage-specialchars"> </div>' ).prependTo( '.mw-editTools' )[0]; } if ( !placeholder ) { return; } if ( !window.charinsertDontMove ) { $( '.editOptions' ).before( placeholder ); } // Find the element that is focused $currentFocused = $( '#wpTextbox1' ); // Apply to dynamically created textboxes as well as normal ones $( document ).on( 'focus', 'textarea, input:text', function () { $currentFocused = $( this ); } ); // Used to determine where to insert tags editTools.createEditTools( placeholder ); window.updateEditTools = function () { editTools.createEditTools( $( '#editpage-specialchars' )[0] ); }; } }; // end editTools editTools.setup(); } ); cl89gn4cbalfh624nmkqdj89t67iidv میڈیاویکی:Gadget-charinsert-core.css 8 13106 32388 2026-04-26T13:08:21Z Satdeep Gill 85 «/* MediaWiki:Gadget-charinsert-core.css */ div#editpage-specialchars { display: block; border: 1px solid var( --border-color-base, #a2a9b1 ); padding: .5em 1em; } #editpage-specialchars a { background-color: var( --background-color-interactive-subtle, #f8f9fa ); color: var( --color-progressive, #36c ); border: 1px solid var( --border-color-interactive, #72777d ); padding: 1px 4px; } textarea#wpTextbox1 + #editpage-specialc...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32388 css text/css /* MediaWiki:Gadget-charinsert-core.css */ div#editpage-specialchars { display: block; border: 1px solid var( --border-color-base, #a2a9b1 ); padding: .5em 1em; } #editpage-specialchars a { background-color: var( --background-color-interactive-subtle, #f8f9fa ); color: var( --color-progressive, #36c ); border: 1px solid var( --border-color-interactive, #72777d ); padding: 1px 4px; } textarea#wpTextbox1 + #editpage-specialchars, .wikiEditor-ui-clear + #editpage-specialchars { border-top: 0; } gfa3qc5u0g03yb38cgvt21dp0kn4k0v میڈیاویکی:Gadgets-definition 8 13107 32389 2026-04-26T13:09:03Z Satdeep Gill 85 «== editing-tools == * charinsert[ResourceLoader|default]|charinsert.js * charinsert-core[ResourceLoader|hidden|dependencies=jquery.textSelection,user,mediawiki.storage]|charinsert-core.js|charinsert-core.css» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32389 wikitext text/x-wiki == editing-tools == * charinsert[ResourceLoader|default]|charinsert.js * charinsert-core[ResourceLoader|hidden|dependencies=jquery.textSelection,user,mediawiki.storage]|charinsert-core.js|charinsert-core.css rnsioe27lzte572ylg86hoktd3d3u23 میڈیاویکی:Gadget-charinsert.js 8 13108 32390 2026-04-26T13:13:26Z Satdeep Gill 85 «/** * charinsert loader */ if ( $.inArray( mw.config.get( 'wgAction' ), [ 'edit', 'submit' ] ) !== -1 || mw.config.get( 'wgCanonicalSpecialPageName' ) === 'Upload' ) { mw.loader.load( 'ext.gadget.charinsert-core' ); }» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32390 javascript text/javascript /** * charinsert loader */ if ( $.inArray( mw.config.get( 'wgAction' ), [ 'edit', 'submit' ] ) !== -1 || mw.config.get( 'wgCanonicalSpecialPageName' ) === 'Upload' ) { mw.loader.load( 'ext.gadget.charinsert-core' ); } c55v75pnejjz13119sm3ued3wv0cfk7 میڈیاویکی:Gadget-charinsert 8 13109 32391 2026-04-26T13:14:06Z Satdeep Gill 85 «{{Gadget info|D}} [[mw:extension:CharInsert|CharInsert]]: Adds a toolbar under the edit window for quickly inserting wiki markup and special characters. [[w:Help:CharInsert|Instructions for adding]] to your ''User'' dropdown. <small>&#91;[[MediaWiki_talk:Gadget-charinsert-core.js|Talk]]&#93;</small>» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32391 wikitext text/x-wiki {{Gadget info|D}} [[mw:extension:CharInsert|CharInsert]]: Adds a toolbar under the edit window for quickly inserting wiki markup and special characters. [[w:Help:CharInsert|Instructions for adding]] to your ''User'' dropdown. <small>&#91;[[MediaWiki_talk:Gadget-charinsert-core.js|Talk]]&#93;</small> izaldqt7asmzlxbctmkmxbbcyjxsl18 میڈیاویکی:Common.js 8 13110 32392 2026-04-26T13:18:16Z Satdeep Gill 85 «/* Any JavaScript here will be loaded for all users on every page load. */ //<source lang="javascript"> /** * Keep code in MediaWiki:Common.js to a minimum as it is unconditionally * loaded for all users on every wiki page. If possible create a gadget that is * enabled by default instead of adding it here (since gadgets are fully * optimized ResourceLoader modules with possibility to add dependencies etc.) * * Since Common.js isn...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32392 javascript text/javascript /* Any JavaScript here will be loaded for all users on every page load. */ //<source lang="javascript"> /** * Keep code in MediaWiki:Common.js to a minimum as it is unconditionally * loaded for all users on every wiki page. If possible create a gadget that is * enabled by default instead of adding it here (since gadgets are fully * optimized ResourceLoader modules with possibility to add dependencies etc.) * * Since Common.js isn't a gadget, there is no place to declare its * dependencies, so we have to lazy load them with mw.loader.using on demand and * then execute the rest in the callback. In most cases these dependencies will * be loaded (or loading) already and the callback will not be delayed. In case a * dependency hasn't arrived yet it'll make sure those are loaded before this. */ /* global mw, $, importStylesheet, importScript */ /* jshint curly:false, strict:false, eqnull:true, browser:true */ mw.loader.using( ['mediawiki.user', 'mediawiki.util', 'jquery.client'] ).done( function () { /* Begin of mw.loader.using callback */ /** * Script for Indic OCR */ mw.loader.load('//meta.wikimedia.org/w/index.php?title=User:Indic-TechCom/Script/IndicOCR.js&action=raw&ctype=text/javascript'); /** * Scripts added by local admin * Disabling imports from user namespace. This is a security issue. Do not reinstate. -- [[User:Ladsgroup]] importScript("User:Benipal_hardarshan/cleanup.js"); importScript("User:Benipal_hardarshan/blockcenter.js"); importScript("User:Benipal_hardarshan/TOC.js"); **/ /** * Scripts imported from wikisource.org * see [[oldwikisource:Wikisource:Shared Scripts]] for details */ // mw.loader.load('//en.wikisource.org/w/index.php?title=MediaWiki:Base.js&action=raw&ctype=text/javascript'); mw.loader.load('//en.wikisource.org/w/index.php?title=MediaWiki:PageNumbers.js&action=raw&ctype=text/javascript'); mw.loader.load('//en.wikisource.org/w/index.php?title=MediaWiki:IndexForm.js&action=raw&ctype=text/javascript'); mw.loader.load('//en.wikisource.org/w/index.php?title=MediaWiki:DisplayFooter.js&action=raw&ctype=text/javascript'); // Dictionary.js used for [[DL]]-type links, as per [[A Dictionary of Music and Musicians/A]] // mw.loader.load('//en.wikisource.org/w/index.php?title=MediaWiki:Dictionary.js&action=raw&ctype=text/javascript'); // mw.loader.load('//en.wikisource.org/w/index.php?title=MediaWiki:Corrections.js&action=raw&ctype=text/javascript'); mw.loader.load('//en.wikisource.org/w/index.php?title=MediaWiki:InterWikiTransclusion.js&action=raw&ctype=text/javascript'); /** * Messages are configurable here */ if(!self.ws_messages) self.ws_messages = { }; window.ws_msg = function (name) { var m = self.ws_messages[name]; if(m) return m; else return name; }; self.ws_messages = { 'author':'Author', 'translator':'Translator', 'editor':'Editor', 'publisher':'Publisher', 'place':'Place', 'volume':'Volume', 'school':'School', 'book':'Book', 'collection':'Collection', 'journal':'Journal or magazine', 'phdthesis':'Thesis, report', 'dictionary':'Dictionary', 'progress':'Progress', 'progress_T':'Done', 'progress_V':'To be validated', 'progress_C':'To be proofread', 'progress_MS':'Ready for Match & Split', 'progress_OCR':'Source file needs an OCR text layer', 'progress_L':'Source file is incorrect (missing pages, unordered pages, etc)', 'progress_X':'Pagelist needed (to verify file is complete and correct before commencing proofreading)', '▲':'Return to the top of the page.', 'corr_list':'List of typos identified on this page', 'corr_link':'Typos Marked', 'corr_one':'One typo</a> has been marked.', 'corr_many':' typos</a> have been marked.', 'corr_close':'Close.', 'iwtrans':'Its text comes from', 'iwtrans2':'Its text comes from other Wikisource subdomains.', 'page_namespace_name': 'Page', 'page_trascluded_in': 'Page trascluded in:', 'text_number': 'Text', 'compare_with': 'Comparison with:', 'compare_texts': 'Compare texts' }; /* stop faux red links on fresh links */ $( 'div.mw-body a' ).removeClass( 'stub' ); /** * Envelope subNotes found in main navigation header derivatives * Namespace coverage: Main (ns-0), Translation (ns-114) * See also _____ * * Ver 0.10, 2015-01-31 */ jQuery( document ).ready( function ( $ ) { var nsSubNotes = [ 0, 114 ]; if ( $.inArray( mw.config.get( 'wgNamespaceNumber' ), nsSubNotes ) !== -1 ) { $( 'div.subNote' ).insertBefore( $( 'div#ws-data' ) ); } } ); /** * Envelope hatNotes & similar into main navigation header container * Namespace coverage: Main (ns-0), Translation (ns-114) * See also _____ * * Ver 0.30, 2015-12-31 */ jQuery( document ).ready( function ( $ ) { var nsHatNotes = [ 0, 114 ]; if ( $.inArray( mw.config.get( 'wgNamespaceNumber' ), nsHatNotes ) !== -1 ) { $( 'div.similar' ).prependTo( $( 'div#headerContainer' ) ); $( 'table.ambox' ).prependTo( $( 'div#headerContainer' ) ); } } ); /** * Force Footer &/or end matter out of Dynamic Layouts * Namespace coverage: Main (ns-0), Translation (ns-114) * See also _____ * * Ver 0.40, 2015-01-31 */ jQuery( document ).ready( function ( $ ) { var nsFooters = [ 0, 114 ]; if ( $.inArray( mw.config.get( 'wgNamespaceNumber' ), nsFooters ) !== -1 ) { $( 'table.acContainer' ).insertAfter( $( 'div.printfooter' ) ); $( 'div.licenseContainer' ).not( 'div.licenseContainer div.licenseContainer' ).insertBefore( $( 'div#catlinks' ) ); } } ); /** * Force Header &/or section heading matter out of Dynamic Layouts * Namespace coverage: Main (ns-0), Translation (ns-114) * See also _____ * * Ver 0.20, 2015-12-31 */ jQuery( document ).ready( function ( $ ) { var nsHeaders = [ 0, 114 ]; if ( $.inArray( mw.config.get( 'wgNamespaceNumber' ), nsHeaders ) !== -1 ) { $( 'div#headerContainer' ).prependTo( $( 'div#mw-content-text' ) ); $( 'div#heederContainer' ).prependTo( $( 'div#mw-content-text' ) ); $( 'div#heedertemplate' ).prependTo( $( 'div#mw-content-text' ) ); } } ); /** * PageNumbers Dynamic Layouts helper * * removes sidebar Display Options menu from all ns except Main and Translation * */ jQuery( document ).ready( function ( $ ) { var nsDynamicLayouts = [ -1, 1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 11, 12, 13, 14, 15, 100, 101, 102, 103, 104, 105, 106, 107, 115, 828, 829 ]; if ( $.inArray( mw.config.get( 'wgNamespaceNumber' ), nsDynamicLayouts ) !== -1 ) { $( 'div' ).remove( '#p-do' ); } } ); /* End of mw.loader.using callback */ } ); /* DO NOT ADD CODE BELOW THIS LINE */ //</source> //cleanup Script mw.loader.load('//pa.wikisource.org/w/index.php?title=ਵਰਤੋਂਕਾਰ:Satdeep Gill/cleanup.js&action=raw&ctype=text/javascript'); du4gldvu3a3fossvpjy46gdyd7v6xvb صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/38 250 13111 32394 2026-04-26T22:08:25Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ « {{center|'''تیروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چندر ہردے نام نگری ہے اور اسجگہ کا رندھیر نام راجہ تھا اسکی نگری مین دھرم هوج نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام شوبھی تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی جوانی اسکی دِن بدن بڑھتی تھی اور حُسن اسکا پل پل ادھک ہو...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32394 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude> {{center|'''تیروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چندر ہردے نام نگری ہے اور اسجگہ کا رندھیر نام راجہ تھا اسکی نگری مین دھرم هوج نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام شوبھی تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی جوانی اسکی دِن بدن بڑھتی تھی اور حُسن اسکا پل پل ادھک ہوتا ہے اتفاقاً اس نگری مین راتون کو چوری ہونے لگی جب چورونکے ہاتھ سے مہاجنون نے بہت دکھ پایا تب اکٹھے ہے راجہ کے پاس جا کر سب نے کہا مہاراج چورون نے نگر مین بہت ظلم کیا ہے ہم اس شہر مین اب رہ نہین سکتے راجہ نے کہا خیر جو ہوا سو ہوا لیکن اب آگے دُکھ نہ پاؤگے مین ان کا جتن کرتا ہون یہ کہ راجہ نے بہ سر دمی بولا چوکی کو بھی دیے اور چوکی پہرے کا ھوا اکو بتا دیا اور کم کیا کہ جہان چورون کو پاؤ بنا پر چھے مارڈالولوگ نگرمی کی رکھوالی کرنے لگے اپر بھی چوری ہوتی تھی ساہو کاراکٹھے ہے کر راجہ کے پاس آنے اور عرض کی مہاراج آپ نے پہرے بھیجے تو بھی چوم نہ ہوئے اور روز چوری ہوتی ہے راجہ نے کہا اسوقت تم رخصت ہے آج کی رات سے نگر کی چو کی دینے مین نکلون گا یہ سنکے راجہ سر برا ہے وہ سب اپنے گھر گئے اور جسوقت کہ رات ہوئی راجہ اکیلا ڈھال تلوار ہے پیاده نگری کی رکشا کرنے لگا اسمین آگے جا کر دیکھے تو ایک چور سامنے سے چلا آتا ہے راجہ اسے دیکھ کر پکارا تو کون جو وہ بولا تو کون ہے راجہ نے کہا مین چور مون یہ سن وہ خوش ہے کر بولا آؤ مل کر چوری کرنے چلین یہ بات آپس مین ٹھرا راجہ در چور باتین کرتے ہوئے ایک محلے مین گھسے اور کتنے ایک گھرون مین چوری کہ مال متاع سے نگر کے با برکل ایک کنوئین پر آئے اور اسیمنار کر پاتال پوری مین جاپہونچے وہ چور راجہ کو دروازے پر کھڑا کر دھن دولت اپنے مندر مین لیگیا اتنے مین اسکے گھر مین سو ایک داسی نکلی وہ راجہ کو دیکھ کر کہنے لگی مہاراج تم کمان اس ڈشٹ کے ساتھ یہان آئے خیر اسی مین ہے کہ وہ آنے نہ پاوے اور تم سے جہان تک بھاگا جارے بھا گو نہین تو وہ آتے ہی تعین مارڈالے گا راجہ نے کہا مین تو راہ نہین جانتا کہ ھر کو جاؤن پھر اس چیری نے باٹ دکھا دی اور راجہ اپنے مندر کو آیا غرض دوسرے دن لاله نے سب اپنی فوج ساتھ کے اس کنوئین کی راہ پا تال پوری مین جاکر جور کا تمام گھر بار گھر یا اور وہ چور کسی اور راہ سے کل اس نگری کا مالک جو دیو تھا اسکے پاس گیا اور عرض کی کہ ایک راجہ میرے مارنے کو گھر پر چڑھ آیا ہے اسوقت میری مردکردنین تو تمھاری نگری کو چھوڑ دوسرے نگر مین چاہتا ہون یہ ن راکشس نے خوش ہے کر کہا تو میرے لیے کچھ کھانے کو لایا ہے مین تجھ سے بہت خوش ہوا یہ کہکر جہان راجہ فوج لئے حویلی گھیرے ہوئے تھا و ان دو دیو آدمیون اور گھوڑون کو کھانے لگا اور راجہ اس دیو کی صورت دیکھ کر بھاگا اور جین لو لوگون سے بھاگا گیا وہ تو بچے اور باقیون کو دیو نے کھا لیسا نعرض راجہ اکیلا<noinclude></noinclude> hzyypyg5cgyyuobnqtckah842roumr5 32395 32394 2026-04-26T22:29:26Z Charan Gill 46 32395 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{center|'''تیروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چندر ہردے نام نگری ہے اور اسجگہ کا رندھیر نام راجہ تھا اسکی نگری مین دھرم هوج نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام شوبھی تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی جوانی اسکی دِن بدن بڑھتی تھی اور حُسن اسکا پل پل ادھک ہوتا ہے اتفاقاً اس نگری مین راتون کو چوری ہونے لگی جب چورونکے ہاتھ سے مہاجنون نے بہت دکھ پایا تب اکٹھے ہے راجہ کے پاس جا کر سب نے کہا مہاراج چورون نے نگر مین بہت ظلم کیا ہے ہم اس شہر مین اب رہ نہین سکتے راجہ نے کہا خیر جو ہوا سو ہوا لیکن اب آگے دُکھ نہ پاؤگے مین ان کا جتن کرتا ہون یہ کہہ راجہ نے بہت سے آدمی بلوا چوکی کو بھیجدیے اور چوکی پہرے کا ڈھب انکو بتا دیا اور حکم کیا کہ جہان چورون کو پاؤ بنا پوچھے مار ڈالو لوگ نگری کی رکھوالی کرنے لگے اسپر بھی چوری ہوتی تھی ساہوکاراکٹھے ہو کر راجہ کے پاس آنے اور عرض کی مہاراج آپ نے پہرے بھیجے تو بھی چور کم نہ ہوئے اور روز چوری ہوتی ہے راجہ نے کہا اسوقت تم رخصت ہو آج کی رات سے نگر کی چو کی دینے مین نکلون گا یہ سنکے راجہ سر برا ہے وہ سب اپنے گھر گئے اور جسوقت کہ رات ہوئی راجہ اکیلا ڈھال تلوار ہے پیاده نگری کی رکشا کرنے لگا اسمین آگے جا کر دیکھے تو ایک چور سامنے سے چلا آتا ہے راجہ اسے دیکھ کر پکارا تو کون جو وہ بولا تو کون ہے راجہ نے کہا مین چور مون یہ سن وہ خوش ہے کر بولا آؤ مل کر چوری کرنے چلین یہ بات آپس مین ٹھرا راجہ در چور باتین کرتے ہوئے ایک محلے مین گھسے اور کتنے ایک گھرون مین چوری کہ مال متاع سے نگر کے با برکل ایک کنوئین پر آئے اور اسیمنار کر پاتال پوری مین جاپہونچے وہ چور راجہ کو دروازے پر کھڑا کر دھن دولت اپنے مندر مین لیگیا اتنے مین اسکے گھر مین سو ایک داسی نکلی وہ راجہ کو دیکھ کر کہنے لگی مہاراج تم کمان اس ڈشٹ کے ساتھ یہان آئے خیر اسی مین ہے کہ وہ آنے نہ پاوے اور تم سے جہان تک بھاگا جارے بھا گو نہین تو وہ آتے ہی تعین مارڈالے گا راجہ نے کہا مین تو راہ نہین جانتا کہ ھر کو جاؤن پھر اس چیری نے باٹ دکھا دی اور راجہ اپنے مندر کو آیا غرض دوسرے دن لاله نے سب اپنی فوج ساتھ کے اس کنوئین کی راہ پا تال پوری مین جاکر جور کا تمام گھر بار گھر یا اور وہ چور کسی اور راہ سے کل اس نگری کا مالک جو دیو تھا اسکے پاس گیا اور عرض کی کہ ایک راجہ میرے مارنے کو گھر پر چڑھ آیا ہے اسوقت میری مردکردنین تو تمھاری نگری کو چھوڑ دوسرے نگر مین چاہتا ہون یہ ن راکشس نے خوش ہے کر کہا تو میرے لیے کچھ کھانے کو لایا ہے مین تجھ سے بہت خوش ہوا یہ کہکر جہان راجہ فوج لئے حویلی گھیرے ہوئے تھا و ان دو دیو آدمیون اور گھوڑون کو کھانے لگا اور راجہ اس دیو کی صورت دیکھ کر بھاگا اور جین لو لوگون سے بھاگا گیا وہ تو بچے اور باقیون کو دیو نے کھا لیسا نعرض راجہ اکیلا<noinclude></noinclude> 5n21iwfekerej2l71pg6du3h6m3l7di 32396 32395 2026-04-26T22:47:07Z Charan Gill 46 32396 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{center|'''تیروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چندر ہردے نام نگری ہے اور اسجگہ کا رندھیر نام راجہ تھا اسکی نگری مین دھرم هوج نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام شوبھی تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی جوانی اسکی دِن بدن بڑھتی تھی اور حُسن اسکا پل پل ادھک ہوتا ہے اتفاقاً اس نگری مین راتون کو چوری ہونے لگی جب چورونکے ہاتھ سے مہاجنون نے بہت دکھ پایا تب اکٹھے ہے راجہ کے پاس جا کر سب نے کہا مہاراج چورون نے نگر مین بہت ظلم کیا ہے ہم اس شہر مین اب رہ نہین سکتے راجہ نے کہا خیر جو ہوا سو ہوا لیکن اب آگے دُکھ نہ پاؤگے مین ان کا جتن کرتا ہون یہ کہہ راجہ نے بہت سے آدمی بلوا چوکی کو بھیجدیے اور چوکی پہرے کا ڈھب انکو بتا دیا اور حکم کیا کہ جہان چورون کو پاؤ بنا پوچھے مار ڈالو لوگ نگری کی رکھوالی کرنے لگے اسپر بھی چوری ہوتی تھی ساہوکاراکٹھے ہو کر راجہ کے پاس آنے اور عرض کی مہاراج آپ نے پہرے بھیجے تو بھی چور کم نہ ہوئے اور روز چوری ہوتی ہے راجہ نے کہا اسوقت تم رخصت ہو آج کی رات سے نگر کی چوکی دینے مین نکلون گا یہ سنکے راجہ سے بدا ہو وہ سب اپنے گھر گئے اور جسوقت کہ رات ہوئی راجہ اکیلا ڈھال تلوار لے پیاده نگری کی رکشا کرنے لگا اسمین آگے جا کر دیکھے تو ایک چور سامنے سے چلا آتا ہے راجہ اسے دیکھ کر پکارا تو کون ہے وہ بولا تو کون ہے راجہ نے کہا مین چور مون یہ سن وہ خوش ہو کر بولا آؤ مل کر چوری کرنے چلین یہ بات آپس مین ٹھرا راجہ در چور باتین کرتے ہوئے ایک محلے مین گھسے اور کتنے ایک گھرون مین چوری کر مال متاع لے نگر کے باہر نکل ایک کنوُین پر آئے اور اسمین اتر کر پاتال پوری مین جا پہونچے وہ چور راجہ کو دروازے پر کھڑا کر دھن دولت اپنے مندر مین لیگیا اتنے مین اسکے گھر مین سے ایک داسی نکلی وہ راجہ کو دیکھ کر کہنے لگی مہاراج تم کہان اس ڈشٹ کے ساتھ یہان آئے خیر اسی مین ہے کہ وہ آنے نہ پاوے اور تم سے جہان تک بھاگا جارے بھا گو نہین تو وہ آتے ہی تعین مارڈالے گا راجہ نے کہا مین تو راہ نہین جانتا کہ ھر کو جاؤن پھر اس چیری نے باٹ دکھا دی اور راجہ اپنے مندر کو آیا غرض دوسرے دن لاله نے سب اپنی فوج ساتھ کے اس کنوئین کی راہ پا تال پوری مین جاکر جور کا تمام گھر بار گھر یا اور وہ چور کسی اور راہ سے کل اس نگری کا مالک جو دیو تھا اسکے پاس گیا اور عرض کی کہ ایک راجہ میرے مارنے کو گھر پر چڑھ آیا ہے اسوقت میری مردکردنین تو تمھاری نگری کو چھوڑ دوسرے نگر مین چاہتا ہون یہ ن راکشس نے خوش ہے کر کہا تو میرے لیے کچھ کھانے کو لایا ہے مین تجھ سے بہت خوش ہوا یہ کہکر جہان راجہ فوج لئے حویلی گھیرے ہوئے تھا و ان دو دیو آدمیون اور گھوڑون کو کھانے لگا اور راجہ اس دیو کی صورت دیکھ کر بھاگا اور جین لو لوگون سے بھاگا گیا وہ تو بچے اور باقیون کو دیو نے کھا لیسا نعرض راجہ اکیلا<noinclude></noinclude> k5u2dhzya61v1oaaokokqurafncp5i0 32398 32396 2026-04-27T07:44:12Z Taranpreet Goswami 90 32398 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{center|'''تیروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چندر ہردے نام نگری ہے اور اسجگہ کا رندھیر نام راجہ تھا اسکی نگری مین دھرم هوج نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام شوبھی تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی جوانی اسکی دِن بدن بڑھتی تھی اور حُسن اسکا پل پل ادھک ہوتا ہے اتفاقاً اس نگری مین راتون کو چوری ہونے لگی جب چورونکے ہاتھ سے مہاجنون نے بہت دکھ پایا تب اکٹھے ہے راجہ کے پاس جا کر سب نے کہا مہاراج چورون نے نگر مین بہت ظلم کیا ہے ہم اس شہر مین اب رہ نہین سکتے راجہ نے کہا خیر جو ہوا سو ہوا لیکن اب آگے دُکھ نہ پاؤگے مین ان کا جتن کرتا ہون یہ کہہ راجہ نے بہت سے آدمی بلوا چوکی کو بھیجدیے اور چوکی پہرے کا ڈھب انکو بتا دیا اور حکم کیا کہ جہان چورون کو پاؤ بنا پوچھے مار ڈالو لوگ نگری کی رکھوالی کرنے لگے اسپر بھی چوری ہوتی تھی ساہوکاراکٹھے ہو کر راجہ کے پاس آنے اور عرض کی مہاراج آپ نے پہرے بھیجے تو بھی چور کم نہ ہوئے اور روز چوری ہوتی ہے راجہ نے کہا اسوقت تم رخصت ہو آج کی رات سے نگر کی چوکی دینے مین نکلون گا یہ سنکے راجہ سے بدا ہو وہ سب اپنے گھر گئے اور جسوقت کہ رات ہوئی راجہ اکیلا ڈھال تلوار لے پیاده نگری کی رکشا کرنے لگا اسمین آگے جا کر دیکھے تو ایک چور سامنے سے چلا آتا ہے راجہ اسے دیکھ کر پکارا تو کون ہے وہ بولا تو کون ہے راجہ نے کہا مین چور مون یہ سن وہ خوش ہو کر بولا آؤ مل کر چوری کرنے چلین یہ بات آپس مین ٹھرا راجہ در چور باتین کرتے ہوئے ایک محلے مین گھسے اور کتنے ایک گھرون مین چوری کر مال متاع لے نگر کے باہر نکل ایک کنوُین پر آئے اور اسمین اتر کر پاتال پوری مین جا پہونچے وہ چور راجہ کو دروازے پر کھڑا کر دھن دولت اپنے مندر مین لیگیا اتنے مین اسکے گھر مین سے ایک داسی نکلی وہ راجہ کو دیکھ کر کہنے لگی مہاراج تم کہان اس ڈشٹ کے ساتھ یہان آئے خیر اسی مین ہے کہ وہ آتے نہ پاوے اور تم سے جہان تک بھاگا جارے بھا گو نہین تو وہ آتے ہی تعین مارڈالے گا راجہ نے کہا مین تو راہ نہین جانتا کہ ھر کو جاؤن پھر اس چیری نے باٹ دکھا دی اور راجہ اپنے مندر کو آیا غرض دوسرے دن لاله نے سب اپنی فوج ساتھ کے اس کنوئین کی راہ پا تال پوری مین جاکر جور کا تمام گھر بار گھر یا اور وہ چور کسی اور راہ سے کل اس نگری کا مالک جو دیو تھا اسکے پاس گیا اور عرض کی کہ ایک راجہ میرے مارنے کو گھر پر چڑھ آیا ہے اسوقت میری مردکردنین تو تمھاری نگری کو چھوڑ دوسرے نگر مین چاہتا ہون یہ ن راکشس نے خوش ہے کر کہا تو میرے لیے کچھ کھانے کو لایا ہے مین تجھ سے بہت خوش ہوا یہ کہکر جہان راجہ فوج لئے حویلی گھیرے ہوئے تھا و ان دو دیو آدمیون اور گھوڑون کو کھانے لگا اور راجہ اس دیو کی صورت دیکھ کر بھاگا اور جین لو لوگون سے بھاگا گیا وہ تو بچے اور باقیون کو دیو نے کھا لیسا نعرض راجہ اکیلا<noinclude></noinclude> 7276p123cxhr9psy6i47r1b6g6bevsg 32400 32398 2026-04-27T09:01:18Z Charan Gill 46 32400 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{center|'''تیروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چندر ہردے نام نگری ہے اور اسجگہ کا رندھیر نام راجہ تھا اسکی نگری مین دھرم هوج نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام شوبھی تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی جوانی اسکی دِن بدن بڑھتی تھی اور حُسن اسکا پل پل ادھک ہوتا ہے اتفاقاً اس نگری مین راتون کو چوری ہونے لگی جب چورونکے ہاتھ سے مہاجنون نے بہت دکھ پایا تب اکٹھے ہے راجہ کے پاس جا کر سب نے کہا مہاراج چورون نے نگر مین بہت ظلم کیا ہے ہم اس شہر مین اب رہ نہین سکتے راجہ نے کہا خیر جو ہوا سو ہوا لیکن اب آگے دُکھ نہ پاؤگے مین ان کا جتن کرتا ہون یہ کہہ راجہ نے بہت سے آدمی بلوا چوکی کو بھیجدیے اور چوکی پہرے کا ڈھب انکو بتا دیا اور حکم کیا کہ جہان چورون کو پاؤ بنا پوچھے مار ڈالو لوگ نگری کی رکھوالی کرنے لگے اسپر بھی چوری ہوتی تھی ساہوکاراکٹھے ہو کر راجہ کے پاس آنے اور عرض کی مہاراج آپ نے پہرے بھیجے تو بھی چور کم نہ ہوئے اور روز چوری ہوتی ہے راجہ نے کہا اسوقت تم رخصت ہو آج کی رات سے نگر کی چوکی دینے مین نکلون گا یہ سنکے راجہ سے بدا ہو وہ سب اپنے گھر گئے اور جسوقت کہ رات ہوئی راجہ اکیلا ڈھال تلوار لے پیاده نگری کی رکشا کرنے لگا اسمین آگے جا کر دیکھے تو ایک چور سامنے سے چلا آتا ہے راجہ اسے دیکھ کر پکارا تو کون ہے وہ بولا تو کون ہے راجہ نے کہا مین چور مون یہ سن وہ خوش ہو کر بولا آؤ مل کر چوری کرنے چلین یہ بات آپس مین ٹھرا راجہ در چور باتین کرتے ہوئے ایک محلے مین گھسے اور کتنے ایک گھرون مین چوری کر مال متاع لے نگر کے باہر نکل ایک کنوُین پر آئے اور اسمین اتر کر پاتال پوری مین جا پہونچے وہ چور راجہ کو دروازے پر کھڑا کر دھن دولت اپنے مندر مین لیگیا اتنے مین اسکے گھر مین سے ایک داسی نکلی وہ راجہ کو دیکھ کر کہنے لگی مہاراج تم کہان اس ڈشٹ کے ساتھ یہان آئے خیر اسی مین ہے کہ وہ آتے نہ پاوے اور تم سے جہان تک بھاگا جاوے بھاگو نہین تو وہ آتے ہی تمہین مار ڈالےگا راجہ نے کہا مین تو راہ نہین جانتا کہ کدھر کو جاؤن پھر اس چیری نے باٹ دکھا دی اور راجہ اپنے مندر کو آیا غرض دوسرے دن راجہ نے سب اپنی فوج ساتھ لے اس کنوئین کی راہ پاتال پوری مین جاکر چور کا تمام گھر بار گھیر لیا اور وہ چور کِسی اور راہ سے نکل اس نگری کا مالک جو دیو تھا اسکے پاس گیا اور عرض کی کہ ایک راجہ میرے مارنے کو گھر پر چڑھ آیا ہے اسوقت میری مدد کرو نہین تو تمھاری نگری کو چھوڑ دوسرے نگر مین چا بستا ہون یہ سن راکشس نے خوش ہو کر کہا تو میرے لیے کچھ کھانے کو لایا ہے مین تجھ سے بہت خوش ہوا یہ کہکر جہان راجہ فوج لئے حویلی گھیرے ہوئے تھا وہان دو دیو آدمیون اور گھوڑون کو کھانے لگا اور راجہ اس دیو کی صورت دیکھ کر بھاگا اور جین لو لوگون سے بھاگا گیا وہ تو بچے اور باقیون کو دیو نے کھا لیسا نعرض راجہ اکیلا<noinclude></noinclude> 79y3g6zmt35io2w6crap4tb5pfa70at صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/54 250 13112 32401 2026-04-27T09:01:33Z ~2026-25550-66 179 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «۵۳ میان قبی سر پر چٹا ماتھے پر چاند اجل بھبھوت کے سیصد جنیو پنے سیصد سانیوں کی سیلی پہنے منڈالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ میں پھر اور دوسرے میں ترسول لئے ہوئے بہا بھی اونی صورت بنائے اسکے سامنے آکنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے میں مہر کا توڑا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32401 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2409:40D1:1D:7B08:8000:0:0:0" /></noinclude>۵۳ میان قبی سر پر چٹا ماتھے پر چاند اجل بھبھوت کے سیصد جنیو پنے سیصد سانیوں کی سیلی پہنے منڈالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ میں پھر اور دوسرے میں ترسول لئے ہوئے بہا بھی اونی صورت بنائے اسکے سامنے آکنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے میں مہر کا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دوار پر رکھی دیکھتے ہی اسکی آنکھکھیلی ار خبر موئی اپنی ان کے آگے اپنے سب حال کہا یہ سنکے دوسرے دن اسکی مان اسی طرح پٹارے میں اس لڑکے کو بند کر راجہ کے دروازے پر رکھ آئی اور او مصر راجہ کے خواب دیکھا کہ دنل ہا تھ پانچ سر ہر ایک سرزمین تین تین آنکھیں اور ہر ایک شریر ایک ایک چاند دانت بڑے بڑے ترسول ہاتھ میں لیے ایک ڈراونی صورت اسکے سامنے اُن کے بولا کہ اسے راجہ تیرے دروازے پر ایک پٹارا رکھا ہوا اسمین جو لڑکا ہوا اسے تو ے آدمی تیرا راج رکھے گا یہ سنتے ہی راجہ کی آنکھ کھل گئی تنب رانی سے سب احوال کہہ پھر وہان سے اُٹھ دروازے پر دیکھا کہ بشارا د بھرا ہے جون ہی پیارے کو کھولکرا دیکھا تو اسمیں ایک لڑکا اور ہزار اشرفی کا توڑا ہر اس لڑکے کو آپ اٹھالا یا اور دوار پال سکو کہا کہ اس توڑے کو اٹھالا پھر محل میں جاکر لڑکے کو رانی کی گود میں دیا اتنے میں صبح ہوئی راجہ نے باہر آگرینڈ تونس اور جو شیون سے بلا کر پو چھا کہ کہو اس لڑکے میں اج لکشن کیسا ہو تب ان ہینڈ توں میں سو ایک کے جانے والا برم من بولا کہ ماراح اس لڑکے میں میں نکشن تو صاف صاف میں ایک تو بڑی چھاتی دوستار اونچی پیشانی تیسرے بڑا چہرہ سوائے انکے مہاراج نہیں لکشن جو مرد کے کے ہیں سو سب سین بین اس یقین رکھیں کہ یہ اج کریگا یہ سن راجہ نے خوش ہو کر موتیوں کا ہار اپنے گلے سے اتاراس بر من کو دیا اور سب پر منوں کو بہت سی خیرات دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھوٹ پنڈتوں نے کہا کہ مہاراج آپ کنٹھ مالا باندھ بیٹھے مہارانی گودین را کالے بیٹھیں اورسب انگلی لوگوں کو بلا مشکل چار کرواؤ ہم شاستر کی رو سے نام کرن کرین بہمن راج نے دیوان کوحکم دیا جو کہیں سوکرو دیوان نے گ گیا سے بدھائی آنے لگی راجہ کے مندرمین آنند کے باجے بجنے لگے اور منگلا چار ہوئے پھر راجہ اور رانی گود میں لڑکے کو لے چوک میں آبیٹھے اور برہمن بید پڑھنے لگے ان بر منوں میں سے ایک جوتشی نے شبھ گھڑی لگن مہورت بچا ر اس لڑکے کا نام مہرت رکھا پھر وہ دن بدن بڑھنے لگا ندان سولہ برس کی عمرمین چھ شاستر اور چودہ بدی پڑھ کر مینڈت ہوا سیمین بھگوان کا چاہا یوں ہوا کہ اسکے مان باپ مرکئے اور راجگدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن وہ راجہ اپنے من میں چنتا کرنے لگا کہ میں نے مان باپ کے یہان جنم لے کے ابھی خاطر کیا کیا<noinclude></noinclude> lsi7rfl16uzoedglecb0dokxmrh9iz3