ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.26
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/38
250
13111
32411
32402
2026-04-28T16:07:37Z
BalramBodhi
60
32411
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{center|'''تیروین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ چندر ہردے نام نگری ہے اور اسجگہ کا رندھیر نام راجہ تھا اسکی نگری مین دھرم هوج نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام شوبھی تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی جوانی اسکی دِن بدن بڑھتی تھی اور حُسن اسکا پل پل ادھک ہوتا ہے اتفاقاً اس نگری مین راتون کو چوری ہونے لگی جب چورونکے ہاتھ سے مہاجنون نے بہت دکھ پایا تب اکٹھے ہو راجہ کے پاس جا کر سب نے کہا مہاراج چورون نے نگر مین بہت ظلم کیا ہے ہم اس شہر مین اب رہ نہین سکتے راجہ نے کہا خیر جو ہوا سو ہوا لیکن اب آگے دُکھ نہ پاؤگے مین ان کا جتن کرتا ہون یہ کہہ راجہ نے بہت سے آدمی بلوا چوکی کو بھیجدیے اور چوکی پہرے کا ڈھب انکو بتا دیا اور حکم کیا کہ جہان چورون کو پاؤ بنا پوچھے مار ڈالو لوگ نگری کی رکھوالی کرنے لگے اسپر بھی چوری ہوتی تھی ساہوکار اکٹھے ہو کر راجہ کے پاس آئے اور عرض کی مہاراج آپ نے پہرے بھیجے تو بھی چور کم نہ ہوئے اور روز چوری ہوتی ہے راجہ نے کہا اسوقت تم رخصت ہو آج کی رات سے نگر کی چوکی دینے مین نکلون گا یہ سنکے راجہ سے بدا ہو وہ سب اپنے گھر گئے اور جسوقت کہ رات ہوئی راجہ اکیلا ڈھال تلوار لے پیاده نگری کی رکشا کرنے لگا اسمین آگے جا کر دیکھے تو ایک چور سامنے سے چلا آتا ہے راجہ اسے دیکھ کر پکارا تو کون ہے وہ بولا تو کون ہے راجہ نے کہا مین چور ہون یہ سن وہ خوش ہو کر بولا آؤ مل کر چوری کرنے چلین یہ بات آپس مین ٹھہرا راجہ اور چور باتین کرتے ہوئے ایک محلے مین گھسے اور کتنے ایک گھرون مین چوری کر مال متاع لے نگر کے باہر نکل ایک کنوُین پر آئے اور اسمین اتر کر پاتال پوری مین جا پہونچے وہ چور راجہ کو دروازے پر کھڑا کر دھن دولت اپنے مندر مین لیگیا اتنے مین اسکے گھر مین سے ایک داسی نکلی وہ راجہ کو دیکھ کر کہنے لگی مہاراج تم کہان اس دُشٹ کے ساتھ یہان آئے خیر اسی مین ہے کہ وہ آنے نہ پاوے اور تم سے جہان تک بھاگا جاوے بھاگو نہین تو وہ آتے ہی تمہین مار ڈالےگا راجہ نے کہا مین تو راہ نہین جانتا کدھر کو جاؤن پھر اس چیری نے باٹ دکھا دی اور راجہ اپنے مندر کو آیا غرض دوسرے دن راجہ نے سب اپنی فوج ساتھ لے اس کنوئین کی راہ پاتال پوری مین جاکر چور کا تمام گھر بار گھیر لیا اور وہ چور کِسی اور راہ سے نکل اس نگری کا مالک جو دیو تھا اسکے پاس گیا اور عرض کی کہ ایک راجہ میرے مارنے کو گھر پر چڑھ آیا ہے اسوقت میری مدد کرو نہین تو تمھاری نگری کو چھوڑ دوسرے نگر مین جا بستا ہون یہ سن راکشس نے خوش ہو کر کہا تو میرے لیے کچھ کھانے کو لایا ہے مین تجھ سے بہت خوش ہوا یہ کہکر جہان راجہ فوج لئے حویلی گھیرے ہوئے تھا وہان وہ دیو آدمیون اور گھوڑون کو کھانے لگا اور راجہ اس دیو کی صورت دیکھ کر بھاگا اور جن لوگون سے بھاگا گیا وہ تو بچے اور باقیون کو دیو نے کھا لیا غرض راجہ اکیلا<noinclude></noinclude>
9xsug77xoff0tfefewt928mea4yecis
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/40
250
13114
32418
32406
2026-04-29T04:58:59Z
Charan Gill
46
32418
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بوبی اے بیٹی میں بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سی سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کس کارن ہنسا اور مجھے کیس لیے روپا
راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسادہ باعث میں جانتا ہوں اور اس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم
اسن بیبیاں چور نے جی میں بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہو اب اسکا مین کیا انکار کرونگا
یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من میں بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گیت جانی نہیں جاتی
دیکھو وہ یقین کو
پچھتن کو کشمی دے کل مہین کو بد یا مورکھ کو دیر سند استری پہاڑ پرپر سادے رکھا اسلیمی نمین
سوچکر منسا بین بیتال پھر اسی درخت پر جانے کا راجہ پر وہاں گیا اور اسے کھول گٹھری اندہ کان سے کو نیچلات
چودہوین کہانی |
چھ
بیتال بولا اسے
راجہ بکرم سماوتی نام ایک نگر ہو وہان کا سو بار نام راجہ کی بیٹی کا نام چند پرکھاتھا
جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دن بسنت رت میں سنکھیوں کو ساتھ لے سیراب ہوگئی وہان زنانے کے
بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس میں کا بہت خوبصورت نسوی نام سین سے پھرتا ہوا
اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سورہا تھا راجہ کے لوگوں نے آ اس باڑی
مین زنائے کا بندوبست کیا پراتفاقا اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے
ستار ہا اور راج کنیسان اپنی سہیلیوں سمیت باغ میں داخل ہوئی سہیلیوں کے ساتھ سیر تا شاد کیتی
ہوئی کہاں آتی ہو کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائوں کی آہٹ سراٹھے بٹھا
دونون کی چار نظرین ہوتئین اور کام دیو کے ایسے بس ہونے کا دھر یہ بہن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا
ادھر بے شدہ ہو راج کیا کے پائوں کا پنے لگے پر وہین اسے سکھیوں نے ہاتھوں ہاتھ تھام یا آخر کار
چندر بھان کا سراغ کو سکھیوں سمیت جایا اور ایک مین اور ستونی کریس ای پیرا مشن ہونا<noinclude></noinclude>
mjk0r6v59ne4dc2kt2soqq3nkpmiqfh
32419
32418
2026-04-29T05:43:09Z
Charan Gill
46
32419
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بوبی اے بیٹی میں بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سی سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کِس کارن ہنسا اور پیچھے کِس لیے روپا راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسا وہ باعث میں جانتا ہوں اور جاس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے سن بیتاں چور نے جی میں بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہے اب اسکا مین کیا انکار کرونگا یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من میں بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گیت جانی نہیں جاتی دیکھو وہ یقین کو پچھتن کو کشمی دے کل مہین کو بد یا مورکھ کو دیر سند استری پہاڑ پرپر سادے رکھا اسلیمی نمین سوچکر منسا بین بیتال پھر اسی درخت پر جانے کا راجہ پر وہاں گیا اور اسے کھول گٹھری اندہ کان سے کو نیچلات
چودہوین کہانی |
چھ
بیتال بولا اسے
راجہ بکرم سماوتی نام ایک نگر ہو وہان کا سو بار نام راجہ کی بیٹی کا نام چند پرکھاتھا
جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دن بسنت رت میں سنکھیوں کو ساتھ لے سیراب ہوگئی وہان زنانے کے
بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس میں کا بہت خوبصورت نسوی نام سین سے پھرتا ہوا
اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سورہا تھا راجہ کے لوگوں نے آ اس باڑی
مین زنائے کا بندوبست کیا پراتفاقا اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے
ستار ہا اور راج کنیسان اپنی سہیلیوں سمیت باغ میں داخل ہوئی سہیلیوں کے ساتھ سیر تا شاد کیتی
ہوئی کہاں آتی ہو کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائوں کی آہٹ سراٹھے بٹھا
دونون کی چار نظرین ہوتئین اور کام دیو کے ایسے بس ہونے کا دھر یہ بہن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا
ادھر بے شدہ ہو راج کیا کے پائوں کا پنے لگے پر وہین اسے سکھیوں نے ہاتھوں ہاتھ تھام یا آخر کار
چندر بھان کا سراغ کو سکھیوں سمیت جایا اور ایک مین اور ستونی کریس ای پیرا مشن ہونا<noinclude></noinclude>
kusp907zncrm869go3scexcavh53z29
32420
32419
2026-04-29T05:54:34Z
Charan Gill
46
32420
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بوبی اے بیٹی میں بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سی سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کِس کارن ہنسا اور پیچھے کِس لیے روپا راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسا وہ باعث میں جانتا ہوں اور جاس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے سن بیتاں چور نے جی میں بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہے اب اسکا مین کیا اپکار کرونگا یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من مین بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گتِ جانی نہیں جاتی دیکھو وہ یقین کو پچھتن کو کشمی دے کل مہین کو بد یا مورکھ کو دیر سند استری پہاڑ پرپر سادے رکھا اسلیمی نمین سوچکر منسا بین بیتال پھر اسی درخت پر جانے کا راجہ پر وہاں گیا اور اسے کھول گٹھری اندہ کان سے کو نیچلات
چودہوین کہانی |
چھ
بیتال بولا اسے
راجہ بکرم سماوتی نام ایک نگر ہو وہان کا سو بار نام راجہ کی بیٹی کا نام چند پرکھاتھا
جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دن بسنت رت میں سنکھیوں کو ساتھ لے سیراب ہوگئی وہان زنانے کے
بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس میں کا بہت خوبصورت نسوی نام سین سے پھرتا ہوا
اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سورہا تھا راجہ کے لوگوں نے آ اس باڑی
مین زنائے کا بندوبست کیا پراتفاقا اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے
ستار ہا اور راج کنیسان اپنی سہیلیوں سمیت باغ میں داخل ہوئی سہیلیوں کے ساتھ سیر تا شاد کیتی
ہوئی کہاں آتی ہو کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائوں کی آہٹ سراٹھے بٹھا
دونون کی چار نظرین ہوتئین اور کام دیو کے ایسے بس ہونے کا دھر یہ بہن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا
ادھر بے شدہ ہو راج کیا کے پائوں کا پنے لگے پر وہین اسے سکھیوں نے ہاتھوں ہاتھ تھام یا آخر کار
چندر بھان کا سراغ کو سکھیوں سمیت جایا اور ایک مین اور ستونی کریس ای پیرا مشن ہونا<noinclude></noinclude>
s71k1lu3hslm0hp233emmfs9g1x8ikb
32421
32420
2026-04-29T07:45:11Z
Charan Gill
46
32421
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بولی اے بیٹی میں بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سی سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کِس کارن ہنسا اور پیچھے کِس لیے روپا راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسا وہ باعث میں جانتا ہوں اور جاس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے سن بیتاں چور نے جی میں بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہے اب اسکا مین کیا اپکار کرونگا یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من مین بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گتِ جانی نہیں جاتی دیکھو وہ کلچھّن کو لکشمی دے کل ہین کو بدیا مورکھ کو دے سندر استری پہاڑ پر برسا دے برکھا ایسی ایسی باتین سوچکر ہنسا بہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر وہاں گیا اور اسے کھول گٹھری باندھ کاندھے رکھ لیچلا
چودہوین کہانی |
چھ
بیتال بولا اسے
راجہ بکرم سماوتی نام ایک نگر ہو وہان کا سو بار نام راجہ کی بیٹی کا نام چند پرکھاتھا
جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دن بسنت رت میں سنکھیوں کو ساتھ لے سیراب ہوگئی وہان زنانے کے
بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس میں کا بہت خوبصورت نسوی نام سین سے پھرتا ہوا
اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سورہا تھا راجہ کے لوگوں نے آ اس باڑی
مین زنائے کا بندوبست کیا پراتفاقا اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے
ستار ہا اور راج کنیسان اپنی سہیلیوں سمیت باغ میں داخل ہوئی سہیلیوں کے ساتھ سیر تا شاد کیتی
ہوئی کہاں آتی ہو کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائوں کی آہٹ سراٹھے بٹھا
دونون کی چار نظرین ہوتئین اور کام دیو کے ایسے بس ہونے کا دھر یہ بہن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا
ادھر بے شدہ ہو راج کیا کے پائوں کا پنے لگے پر وہین اسے سکھیوں نے ہاتھوں ہاتھ تھام یا آخر کار
چندر بھان کا سراغ کو سکھیوں سمیت جایا اور ایک مین اور ستونی کریس ای پیرا مشن ہونا<noinclude></noinclude>
oadov0ir99o31bro4rvrk3pkg2p6i36
32422
32421
2026-04-29T08:18:25Z
Charan Gill
46
32422
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بولی اے بیٹی مین بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سی سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کِس کارن ہنسا اور پیچھے کِس لیے روپا راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسا وہ باعث مین جانتا ہون اور جاس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے سن بیتان چور نے جی مین بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہے اب اسکا مین کیا اپکار کرونگا یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من مین بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گتِ جانی نہین جاتی دیکھو وہ کلچھّن کو لکشمی دے کل ہین کو بدیا مورکھ کو دے سندر استری پہاڑ پر برسا دے برکھا ایسی ایسی باتین سوچکر ہنسا بہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر وہان گیا اور اسے کھول گٹھری باندھ کاندھے رکھ لیچلا
{{center|'''چودہوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بکرم کسماوتی نام ایک نگر ہے وہان کا سوبچار نام راجہ کی بیٹی کا نام چندر پربھا تھا جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دن بسنت رت مین سکھیون کو ساتھ لے سیر باغ کو گئی وہان زنانے کے بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس مین کا بہت خوبصورت نسوی نام سین سے پھرتا ہوا
اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سورہا تھا راجہ کے لوگون نے آ اس باڑی
مین زنائے کا بندوبست کیا پراتفاقا اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے
ستار ہا اور راج کنیسان اپنی سہیلیون سمیت باغ مین داخل ہوئی سہیلیون کے ساتھ سیر تا شاد کیتی
ہوئی کہان آتی ہو کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائون کی آہٹ سراٹھے بٹھا
دونون کی چار نظرین ہوتئین اور کام دیو کے ایسے بس ہونے کا دھر یہ بہن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا
ادھر بے شدہ ہو راج کیا کے پائون کا پنے لگے پر وہین اسے سکھیون نے ہاتھون ہاتھ تھام یا آخر کار
چندر بھان کا سراغ کو سکھیون سمیت جایا اور ایک مین اور ستونی کریس ای پیرا مشن ہونا<noinclude></noinclude>
sq4r5ixn4qsuzln4il3qrudf6gxlrks
32423
32422
2026-04-29T10:50:44Z
Charan Gill
46
32423
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بولی اے بیٹی مین بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سی سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کِس کارن ہنسا اور پیچھے کِس لیے روپا راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسا وہ باعث مین جانتا ہون اور جاس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے سن بیتان چور نے جی مین بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہے اب اسکا مین کیا اپکار کرونگا یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من مین بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گتِ جانی نہین جاتی دیکھو وہ کلچھّن کو لکشمی دے کل ہین کو بدیا مورکھ کو دے سندر استری پہاڑ پر برسا دے برکھا ایسی ایسی باتین سوچکر ہنسا بہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر وہان گیا اور اسے کھول گٹھری باندھ کاندھے رکھ لیچلا
{{center|'''چودہوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بکرم کسماوتی نام ایک نگر ہے وہان کا سوبچار نام راجہ کی بیٹی کا نام چندر پربھا تھا جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دن بسنت رت مین سکھیون کو ساتھ لے سیر باغ کو گئی وہان زنانے کے بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس بیس کا بہت خوبصورت منسوی نام کہین سے پھرتا ہوا اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سو رہا تھا راجہ کے لوگون نے آ اس باڑی مین زنانے کا بندوبست کیا پراتفاقاً اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے سوتا رہا اور راج کنیان اپنی سہیلیون سمیت باغ مین داخل ہوئی سہیلیون کے ساتھ سیر تماشا دیکھتی ہوئی کہان آتی ہے کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائون کی آہٹ سے اٹھ بٹھا دونون کی چار نظرین ہوئین اور کام دیو کے ایسے بس ہوۓ کہ ادھر یہ برہمن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا ادھر بے شدہ ہو راج کنیا کے پائون کاپنے لگے پر وہین اسے سکھیون نے ہاتھون ہاتھ تھام یا آخر کار
{{center|'''چندر بھان کا سیر باغ کو سکھیون سمیت جانا اور ایک برہمن کا درختون کی آڑ سے اسے دیکھکر غس ہونا'''}}<noinclude></noinclude>
e421rel1di8ua2p4wkotdamyk05jhse
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/53
250
13116
32412
2026-04-28T16:16:14Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «بیتان بیسی Ar بات کچھ بھی نہیں جاتی کیونکہ انسان اپنے میں میں سوچتا ہے اور وہ کر دیتا ہو تین دھنوتی بولی اسے پرش تو کون ہو اس نے کہا میں چور ہوں میرا دن ہوں پر چھ کو ہوا ہواور جان نہیں بکتی وہ بولی کیس کارن اس نے کہا کہ بن بیایا ہو اگر تو مجھے پنی لڑ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32412
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بیتان بیسی
Ar
بات کچھ بھی نہیں جاتی کیونکہ انسان اپنے میں میں سوچتا ہے اور وہ کر دیتا ہو تین دھنوتی بولی اسے
پرش تو کون ہو اس نے کہا میں چور ہوں میرا دن ہوں پر چھ کو ہوا ہواور جان نہیں بکتی وہ بولی کیس کارن
اس نے کہا کہ بن بیایا ہو اگر تو مجھے پنی لڑکی بیاہ دے تو کر ڈر اشرفی دون مثل مشہور ہو کہ پاپ کا
مول لوبھ ہر میا دھی کا مول رسں اور دکھ کا مول نیچے جوان مینیون کو چھوڑ دے سو سکھ سے رہے پر یہ
ہر کسی سے چھوٹ نہیں سکتے آخر کا لالچ کے مارے دھنوتی نے لڑکی دینے کا ارادہ کیا اور یہ وجھا کہ
مین چاہتی ہوں کہ تیرے لڑکا ہو پر کس طرح سے ہوگا اسنے کہا کہ جس سے جوان ہوگی اس ایام مین
ایک سندر بر مین کو بلا کر پانچ سو مر دے اسکے پاس رکھیو اس طرح سے بیٹا ہوگا یہ سنکے دعوتی نے
لڑکی کو سولی کے گرد چار پھرے دے شادی کردی تب پور نے اس سے کہا پورب طرف کنویں کے
پاس ایک برگد کا درخت ہے اسکے نیچے وہ اشرفیان گڑی ہیں تو جا کرے یہ کہکر اسکی جان
نکل گئی
وہ ادھر کو چلی اور وہان پہوچکر اسمین نے تھوڑی اشرفیان نے اپنے مان باپ کے گھر آئی ان سے
یہ حال کہ ان
کو اپنے ساتھ نے سوامی کے دیس میں لائی پھر ایک بڑی سی حویلی بنا اس میں رہنے
لگی اور وہ لڑکی دن بدن بڑھنے لگی جب وہ جوان ہوئی تو ایک دن سکھی کو ساتھ لے کو ٹھے پر
کھڑی بات نہار رہی تھی کہ اتنے میں ایک جوان بر مین اس راہ سے نکلا اور یہ اسے دیکھ کام کئے
بس ہو سکتی سے بولی کہ ائے گی اس پرش کو تو میری مان کے پاس لے آیہ شین وہ بر من کو اسکی بان
کے پاس لائی وہ اسے دیکھ کر بولی کہ اسے ہر مہن میری بیٹی جوان ہو جو تو اسکے پاس رہیگا تومیں تیر کی
نیمت سو اشرفی مجھے دونگی یہ شاکر اپنے کہامیں رہونگا یہ باتین کرتی تھی کہ اتنے میں سانجھ ہوئی ہو تے ہیں
بھو جن دیا اور اپنے بیا لو کیا مل مشہورہو کہ بھوگ لٹھ پر کار کا ایک سو گندھ ۔ دوسری بولنا عورت تو میری
پوشاک چو تھے گیت پانچوین پان چھٹے بھوجن ساتوین سیج آٹھوین آبھوشن یہ سب بے بان موجود تھے
غرض جب پہر رات آئی اپنے رنگ محل میں جا کر اسکے ساتھ ساری این آنند سو کائی جب صبح ہوئی
تو وہ اپنے گھر گیا اور یا ٹھ کے اپنی سکین کے پاس آئی تب انہیں سح ایک نے پو چھا کہ کہو رات کو دوست کے
ساتھ کیا کیا عیش کئے اپنے کہا جس وقت کہ میں اسکے پاس جا بیٹھی تھی میرے جی مین ایک دھر کا سا
معلوم ہوا جبکہ اسنے مسکرا کر میرا ہاتھ پکڑ لیامیں اسکے بس ہوگئی اور مجھے کچھ خبرنہ رہی کیا ہوا اور کس کبھی
کہ ایک ناری دوسرے سور یا تیسرے چتر جو تھے مردا اور پانچوین سنجی چھٹے گن دان سراتوین استری کریشک
ہوا ایسے پرش کو نارضی اس خبر میں بھی نہیں بھولتی حامیں یہ کہ اسی رات میں اسے مل رہا جبکہ دن
پورے ہوئے ایک لڑکا پیدا ہوا چھٹی کی رات کو اس کی مان نے سینے میں دیکھا کہ ایک جوگی جسکے<noinclude></noinclude>
q8zb8jn3p6tvg614e7q93f9733fnnkw
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/51
250
13117
32413
2026-04-28T16:16:41Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «جیتال تیمی بھوجن نہ کیاتب جوگی نے ایسا منتر پڑھ کر ایک مینی ہاتھ جوڑ ان کے حاضر ہوئی اور وہ بوی ماراج جو آ گیا ہو سو کردن جوگی نے کہا اس پر نہین کو حسب خواہش بھوجن دے اتنا سن کے اسنے ایک اچھا مند ربنا امین سب سکھ کے سامان رکھ کے اسے یہان سے اپنے سات...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32413
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>جیتال تیمی
بھوجن نہ کیاتب جوگی نے ایسا منتر پڑھ کر ایک مینی ہاتھ جوڑ ان کے حاضر ہوئی اور وہ بوی ماراج
جو آ گیا ہو سو کردن جوگی نے کہا اس پر نہین کو حسب خواہش بھوجن دے اتنا سن کے اسنے ایک اچھا
مند ربنا امین سب سکھ کے سامان رکھ کے اسے یہان سے اپنے ساتھ لے گئی اور ایک چوکی پر ٹھایا
طرح طرح کے لذیذ کھانے اور پکوان تھال بھر بھر کے اسکے روبر درکھے اس نے من مانتا جو بھایا سوکھایا
اور اسکے بعد پاندان اسکے مکر رکھ دیا اور میر چندن گلاب
میں گھس کر اسکے بدن میں لگا یا پھر اچھے
کپڑے خوشبویات سے باس کرکے پہنا پھولوں کے مالے گلے میں ڈال وہان سے پلنگ پر لا بٹھا یا
کہ اتنے میں سانجھ ہوئی اور یہ بھی اپنی تیاری کر پیج پر جابیٹھی اور اس برمن نے ساری دین سکھ چین
کائی جب صبح ہوئی تب وہ مشینی اپنے استھان پر گئی اور اسنے جوگی کے پاس آن کے کہا سوامی وہ
چلی گئی اب میں کیا کردن جوگی بولا بد یا کے بل سے آئی تھی جسے بد یا آتی ہو اسکے پاس رہتی ہے اپنے
کہا مہاراج یہ بریا مجھے دو تومن سادھوں تب جوگی نے ایک منتر ا سکو دیا اور کہا کہ اس منتر کو چالیس
دن آدھی رات کے سے جل مین بیٹھ ایک چت ہو کر سادھ اسی طرح یہ سادھنے کو جایا کرتا تھا طرح طرح
کی ڈراؤنی صورتمین نظر آتین پر یہ کسی سے نہ ڈرتا جبکہ بہت مدت ہو چکی تو اس نے جوگی سے آکر کہا کہ
مہاراج جتنے دن آپ نے کیے تھے میں سادھ آیا اس نے کہا اتنے دن اب آگ میں بیٹھ کے سادھ
اُس نے کہا مہاراج ایک بار کعب سے مل آون پھرا کے سادھون گا جوگی سے کہہ بلا جو اپنے گھر کو
گیا اور کنبے کے لوگوں نے اسے جو دیکھا تو گلے لگارہونے لگے اور اس کے باپ نے کہا گنا کر اتنے دنوں ہو تو
کہان تھا اور کیس واسطے گھر کو بسارا اسے پتر ایسے کہا ہو جو پت برتا استری کو چھوڑ کے جدا رہتا ہے اور
جوان ناری کو پیٹھ دیتا ہے جو جسے چاہتا ہو وہ اسے نہیں چاہتا وہ چنڈال کی سمان ہوتا ہو اور یہ بھی
کہا ہے کہ گرہستی دھرم برابر کوئی دھرم نہین اور گھر والی استری کے برابر سنسار میں کوئی سکہ دینے والی
نہیں اور جو اتاپتا کی ندا کرتے ہیں سواد هم زمین اور ان کی گت گمت کبھی نہیں ہوتی ایسا بر مانے کہاں
تب گنا کر بولا کہ یہ شر برکت اور مانس کا بنا ہوا ہے سوکیرون کی کھان ہو اور سبھاؤ اس کا یہ ہے کہ
ایک روز اسکی خبر نہ کیجئے تو گندھ آتی ہے جو ایسے شریر سے محبت کرتے ہیں وہ مورکھ میں اور جو
اس سے بہیت نہیں کرتے وہ پنڈت ہیں اور اسی شریر کا یہی دھرم ہے کہ بار بار جنم لیتا ہے اور
ٹھتا ہے ایسے شریر کا کیا بھروسا کیجئے اسے بہتر پاک کیجئے پر یہ نہیں ہوتا جیسے غلیظ کا بھرا گھر اور کے
دھونے سے پاک نہیں ہوتا اور کویلے کو کوئی بیرو ھوئے پردہ جلا نہیں ہوتا اورمیں شہرمین مل
اور موت سدا بہا کریں وہ کس طرح سے پاک ہو اتنا کہ میاں بولا کیس کی مان کیس کا باپ کرسکتی جورد<noinclude></noinclude>
9pldndtoh5rpqi5hw0xof39ijmityvg
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/50
250
13118
32414
2026-04-28T16:17:19Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۴۹ مین مرگیا پھر بعد سیاست نے گرد سے جاکر پو چھا کہ میراسلامی انسا نی کے کارن ہوا اب مجھے کیا کرنا ذات 5 سو گیا کیجئے اُسنے کہا سلوک کا دھرم ہو سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے خشی وہاں گیا جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من را...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32414
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۴۹
مین مرگیا پھر بعد سیاست نے گرد سے جاکر پو چھا کہ میراسلامی انسا نی کے کارن ہوا اب مجھے کیا کرنا ذات
5 سو گیا کیجئے اُسنے کہا سلوک کا دھرم ہو سوامی کے پیچھے اپنا جی بھی دے یہ سنکے خشی وہاں گیا
جهان لوگ راجہ کو جلانے کے لئے لیگئے تھے جتنی دیر من راجہ کی چتا تیار ہوئی اپنے بھی اشنان اور
پوجا سے فراغت کی اور جب چتا میں آگ لگی تب یہ بھی چتا کے پاس گیا اور سورج کے سامنے ہاتھ
اور تیراگن گاؤن اتنا کہ ڈنڈوت کر آگ میں کود پڑا یہ خبر من انماد فی اپنے گرد کے پاس گئی اور اس سے
سب کہہ کے پوچھا مہاراج استری کا دھرم کیا ہو اُسنے کہا کا تا پتا نے جس کو اپنی کینیا د سی اس کی سیوا
کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہو اور دھرم شاستر می لکھا ہو کہ جو نارمی اپنے سوامی کے جیتے تیپ برت
کرتی ہو وہ اپنے سوامی کی عمر م کرتی ہو اورانت کا کورک میں پرتی بر را تیم توی یک سوم کیساہی
گیا گذرا ہوا اسی کی سیوا کرنے سے اسکی سکت ہوتی ہو اور جو ناری شمشان میں بستی ہو نیکی کا نا کر جتنے
پائوں زمین پر رکھتی ہو اتنی اسو میدہ جنگ کرنی کا پھل ہو تا ہو اسین کچھ سند یہ نہیں پریشن ڈنڈوت
کر اپنے گھر کو آئی اور اشنان دھیان کہ بہت سادان بر ممنو ن کو دے چتا کے پاس جا ایک پر کر با کر
بولی ہو نا تھے میں تیری داسی جنم تنجم مون اتنا کہ وہ بھی آگ میں جا بیٹھی اور جیل گئی اتنی کتھا کہ
بیتیاں بولا اسے راجہ ان مینوں میں گیس کا است اودھک ہوا راجہ میر بکرماجیت نے کہا اس راجہ
کا بیتیال نے کہا کس طرح راجہ بولا سیناپت کی دی ہوئی استری کو چھوڑ اور اسی کیو اسٹے جان
دی پر دھرم رکھا سوامی کے لیے سیوک کو جان دینی اچت ہو اور یت کے لئے استری کوستی ہونا
لازم ہے اس کارن راجہ کا ست ادھک ہوا بتیاں اتنی سُن اُسی تر در بین جان کا راجہ بھی
پیچھے پیچھے جا پھر سے باندھے کا ندھے پر رکھ لے چلا
شر بوین کہانی
بیتال بولا اے راجہ جین نگر کا ماسین نام راجہ تھا اور وہان
کا باشی دیو شر بابر مین جسکے بیٹے
کا نام گناکر نمادہ برا جواری ہو یہاں تک کہ جو کچھ اس بر من کا دن تھا وہ سب جو سے مین ہار دیا
تب سارے کنبے کے لوگوں نے گنا کہ کو گھر سے نکال دیا اور اس سے کچھ بن نہ آیا ناچار موکر دبانے
چلا تو کتنے دنوں میں ایک شہر مین آیا دیکھتا گیا ہو کہ ایک جوگی دھونی لگائے ہوئے بیٹھا ہر دندات
کر وہاں میٹھ گیا جوگی نے اس سے بوجھ تو کچھ کھائیگا اسنے کہا مہا راج دنگے تو کیوں نہ کھاؤں گا جوگی نے
ایک
آدمی کی کھوپری مین کھانا بھر کر اسے لا دیا اسے دیکھ کر کہا اس
کیپال کا کھانا میں نہ کھاؤ گا جیسے<noinclude></noinclude>
flovirtqj2zoudglkl0r19sv4ghwybf
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/49
250
13119
32415
2026-04-28T16:17:53Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «بتال قیسی ۴۸ اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا براہ کر دیا اور وہ اسکے گھرین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سر نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیسے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاق راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من میں کہنے لگا یہ دو کی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32415
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بتال قیسی
۴۸
اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا براہ کر دیا اور وہ اسکے گھرین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس
راہ سر نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیسے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاق راجہ کی اور اسکی چار نظرین
ہوئین راجہ اپنے من میں کہنے لگا یہ دو کیا ہو یا اپسرا ہو یا ن کیا ہے غرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا
اور وہان سے نیٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منہ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سر یہ مین کیا
درد ہے راجہ نے کہا آج میں نے آتے ہوئے راستے میں ایک کو کٹھے پر سند استری دیکھی ہر مین نہین
جانتا ہوں کہ وہ حور یا پری یا انسان ہر کہ اسکے روپ نے یکبارگی میٹر من موہ لیا اس سے بیکل
ہوں یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہو جو آپکا سینات بل بھی ہے وہ ہر بیاہ لایا
راجہ نے کہا میں نے جن لوگوں کو کشن دینے بھیجا تھا انھوں نے ہم سے دعاکی یہ کہ راجہ نے جو بد رکو
فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم ارجو بدار امین بلالا یا غرض جب دے راجہ کے سامنے آئے
تو راجہ نے کہا میں نے جس لیے تعین بھیجا تھا اور جو میری خشا تھی سوتم نے نہ کیا بلکہ پنے اپنے جی
سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج میں نے اپنی آنکھوں سے اسے دیکھا ایسی سندر
نارسی سب گن پوری ہو کہ اس سے اس سے تھی کٹھن ہو یہ سکے انھوں نے کہا مہاراج جوآپ فرمادین
سکرین پر پر تم نے اسکو شنی جس راستے حضور میں عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس میں ہم نے
یہ بچارا کہ ایسی سند ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہوں گے
اور راج کاج سب چھوڑ دینگے توراج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شکر راجہ
نے
کیا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کا جو ہے نہ کہا پر اسکی یا مین راجہ کو بید بے چینی تھی اور سب لوگوں پر جہ
کی بیقراری ظاہر تھی اتنے میں بھا بھد بھی آپہونچا اپنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض تھی
اس پر تھومی ناتھ میں آپ کا داس ہوں وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت
اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہ یہ بات من راجہ کردہ کر کے بولا غیر عورت کے
پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیوں تونے مجھ سے بھی کیا میں ادھرمی ہون جواد محرم کردن برانی
تری ہوا کے سمان ہے اور برا ناد من مائی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی مجھے ویسا ہی سبط
مجھے کبھدر بولا وہ میری داسی ہو جب میں نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیوں کر ہوئی راجہ
نے کہا جس کام کے کرنے سے سفسار میں کلنک لگے سو کام میں نہ کروں گا پھر سینات نے
عرض کی کہ مہاراج اسے میں گھر سے نکال اور جگہ رکھ میشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ
کو بیشیا کریگا تومیں تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہ اسکی یاد میں چنتا کر
نے کہا جو است را دارن شان<noinclude></noinclude>
am232roig76ekjnj566jv2wcshstnf2
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/48
250
13120
32416
2026-04-28T16:18:45Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۴۷ بال بیسی جی سے دوسرے بچی کو بچانے یا سین ازین بری ہوں میں برانگن میں تیرے ساہیس پس نشٹ ہوا یہ اس کے جیموت باہن نے کہا اے دیو و تم میرے اوپر خوش ہوئے تواب ناگون کو مت کھاؤاور جو کھائے میں نھین جلاد و بیسن گڑڑ نے پاتال سے امرت لاگر سانیوں کے ہاڑوں...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32416
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۴۷
بال بیسی
جی سے دوسرے بچی کو بچانے یا سین ازین بری ہوں میں برانگن میں تیرے ساہیس پس نشٹ ہوا یہ
اس کے جیموت باہن نے کہا اے دیو و تم میرے اوپر خوش ہوئے تواب ناگون کو مت کھاؤاور جو کھائے میں
نھین جلاد و بیسن گڑڑ نے پاتال سے امرت لاگر سانیوں کے ہاڑوں پر چھڑکا کہ پھروہ سب جی اٹھے
اور اس سے کہا کہ اے جیوت باہن میرے پرساد سے تیرا کیا جو ان پر تھے لے گایہ برو سے لڑا اپنے
استھان پر گیا اور سنکھ چوڑاپنے دمعام کو گیا اور موت یا مین بھی وہان سے چلا راہ میں اسکا فراور
ساس اور استری کی پھر ان سمیت اپنے باپ کے پاس آیا جب یہ حوال سنا تو اسکے چار اور محرم بھائی
بلکہ سارے کر کے لگ ملنے کو آئے اور پانوں پر انھین لیا راج پر بھایا اسی کتھا کہ میاں بولا اسے راجہ
ان میں سے ست کیس کا ادھیک ہو راجہ پیر عمر با بیت نے کہا کہ چوڑ کا بتیال نے کہا کس طرح راجہ نے
کہا گیا ہو اسنکھ چوڑ پھر جی دینے کو آیا اور کڑڑ کے کھانے سے بچایا مبتال بولا کہ جس نے غیر کے لیے
اپنی جان دی اشکانست کیوں نہ ادھیک ہو راجہ نے کہا جیموت با من ذات کا چھتری ہو اسی
جنی دینے کا ابھی اس ہورہا ہو اس سے اسے جان دینی کچھ ٹین نہ معلوم دی یہ سن بال پھر ای
پیٹر پر جالگا اور راجہ جاوہان سے اسے باندھ کا ندھے پر رکھ لیچا
سولھوین کہانی
بیتال بولا اے
راجہ میر بکرماجیت چندر شیکھر نام ایک نگر ہو وہان کا رہنے والا تین دت ایک سیٹھ
تھا اسکی ایک بیٹی تھی اسکا نام دھوم ہوتی تھا جب وہ جوان ہوئی تب اسکے باپ نے دہانکے راجہ
سے جا کر کہا مہاراج میرے گھر مین ایک کیا ہو جو آپکو اسکی چاہ ہو تو بیچے نہیں تو میں اور کسی کو دوست
یہ مشن راجہ نے دو تین برائے نوکروں
کو بلا کر کہا کہ اس سیٹھ کی لڑکی کے لکشن جا کر دیکھ آ وے راجہ
کی آگیا سے سیٹھ کے گھر آئے اور اس لڑکی کا روپ دیکھ سبھی موت ہوئے حسن ایسا گویا اندھیرے
گھر کا اجالا ا تمھین مرگ کی سی چوٹی ناگنی سی بھوین کمان کی سی ناک طوطا کی سی دانتوں کی تعبیسی قوتی
کی سی لڑی ہو نٹھ کندرو کے پابند گلا کبوتر کا ساتھ جیتنے کی سی ہاتھ پاکنون کومل کنول کے سے چندر بھی
چپک برتی نفس گنی کو کل مینی چسکے روپ کو دیکھ اندر کی اپسرہ بھی شرمندہ ہوا سطح کی حسین کیسے
علامتوں سے آراستہ دیکھ انھوں نے آپسیمین بچار کیا ایسی جو نادری راجہ کے گھر من جائیگی تو راجہ -
آدھین ہو دیگا اور راج کلاج کی چنتا نہ کر یگا اس سے بہتر یہ کہ راجہ سے کہئے کہ وہ کو کشتی ہو آپکے جوس نہیں
یہ بچار کر وہا نے راجہ کے پاس آ کر انھوں نے یہ عرض کیا مہا راح اس کینیا کو پہنے دیکھا ہو آپکے لائق نہیں
یہ نے راجہ نے سیٹھ سے کم میں یا نہ کرو گا پی ٹی نے نے گھر کا کام کا کلام جو جو ان کا مینا تھا
اسکے<noinclude></noinclude>
2hi5up84hahbhi3fcnwbjm9ymhf2eec
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/47
250
13121
32417
2026-04-28T16:19:37Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۴۴۶ ناگ جو میرا بیٹا ہو سکی آج باری ہوا اسے گڑ کھا دے گا اس دکھ سے میں روتی ہوں اُن نے کہا اے ما نامت رو تیرے بدلے میں اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سکہ چوڑ ہے یہ کہتی تھی کہ اتنے میں سنکھ چوڑ بھی اپہونچا اور اس سے شنکر کہا اے م...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32417
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۴۴۶
ناگ جو میرا بیٹا ہو سکی آج باری ہوا اسے گڑ کھا دے گا اس دکھ سے میں روتی ہوں اُن نے کہا اے
ما نامت رو تیرے بدلے میں اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سکہ چوڑ ہے یہ
کہتی تھی کہ اتنے میں سنکھ چوڑ بھی اپہونچا اور اس سے شنکر کہا اے مہاراج مجھے سر دردری بہت سے
پیدا ہوتے ہیں اور مرتے مین پر آپ سو دھرما تحاد یا ونت سنسار میں گھڑی گھڑی پیدا نہیں ہوتے
اس سے آپ میرے پلے اپنا جی نہ دیجئے کیونکہ آپ کے جینے سے لاکھوں آدمیوں کا انکار ہوگا اورمیرا
جینا مزا دونون برا بر تجرتب جیموت با من بولا کہ بی ست پرشون کا دھرم نہین ہر جو کہ سر کمک نہ کریں تو
جہان سے
آیا ہو وہان چلا جا یہ سنکے سکھ جوڑ تو دہی کے درشن کو گیا اور اکاس سرگڑا ترا اتنے میں
راجکمار کھتا کیا ہو کہ اون تو اسکے چار بان برابر ین اور تاڑ سے نبی چونچ پہاڑ
کے سان پیٹ پھالک
کے مانند آنکھیں اور گٹھا کے سمن بال چونچ کھولکر ان پر پر وڈا اپنے پرنے اپنے تین بچایا پر دوسری بار
وہ چونچ میں رکھ اسکو لے اڑا اور چکر مارنے لگا اتنے میں ایک بازوبند کہ اسکے نگ پر راجہ کا نام کھدا
ہوا تھاوہ کھلکہ ہم بھرا راج کینیا کے سامنے گرا وہ اسکو دیکھ کر پو چھا کھا کر گر پڑی جب ایک گھڑی کے
بعد موش میں آئی تو اسنے سب احوال اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا وہ یہ صیبت شکر آئے اور لہو سے بھر بازدید
دیکھ روئے پھر یوں آدمی ڈھونڈھنے نکلے کہ رستے میں انھین سنکہ جو بھی بلا اور انسے بڑھکر اکیلا دہران
گیا جہان راجگا کو دیکھاتھا اور چار چار کنے لگا اس گڑ چھوڑ دے یہ تیرا نکش نہیں ہو سکہ چوڑ میل نام کی
مین تیر میکش ہوں یہ شکر گڑ گھر گرگیا اور اپنے جی میں سوچابہ مین یا چھتری میں نے کھایا یہ کیا کیا ایں
راج پیر سے کہا اے پرش بسیج کو کس لیے اپنا جی دیتا ہو راجکمار بولا اے
گراڈ پر چھایا کرتے میں عورت کے
اوپر اور آپ دھوپ میں بیٹھتے پھولتے پھلتے ہیں پرائے واسطے بھلے لوگوں اور برکسون کا یہی دھرم ہی
جو یہ زندگی غیر کے کام نہ آوے تو اس شرر سے کیا پر دین ہر شل مشہور ہو کہ جون جون چندن کو گی
ہیں تون تون دونی سگندھ دیتا ہو اور جون جون جھیل کاٹ لٹکڑے کرتے ہیں تون تون ایکھ ادھک
ادھک مواد دیتا ہو جون جون پنجن کو جلاتے ہیں تون تون چگدار ہوتا جاتا ہر تھے اور میں جان جانے سے
بھی اپنی نیک عادت نہیں چھوڑتے انہیں کسی نے بھیل کا تو کیا اور کہا کا تو کیا دولت ہی تو یا جونہ ہی تو کیا ابی
مرے تو کیا اور مرت کے بعد مرے تو کیا جولوگ نیاؤ کی راہ پر چلتے ہی کچھ ہو اور اہ پر قدم نہیں دھرتے
تو کیا ہوا جو موٹے ہوئے بادلے غرض جسکے شریر اپکا نہ ہو سکی زندگی بیکار اور پرانے ارتھے جنکا جنون رہیں
اپنے میں سوجے سدا سیکنڈ اس کرتے میں گڑ بولا دنیا میں سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہیں اور اپنے<noinclude></noinclude>
my1rat5y1wet7mbu7cli6761d65j49v