ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.26
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/39
250
13113
32427
32408
2026-04-29T13:12:47Z
BalramBodhi
60
32427
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>{{center|'''دیو کا راجہ کے لشکر کو کھانا اور راجہ کا چور کو پکڑ لانا'''}}
بھاگا جاتا تھا کہ چور نے للکارا تو راجپوت ہو کر لڑائی سے بھاگتا ہے یہ سنتے ہی راجہ پھر ا کھڑا ہوا اور وہ دونون مقابل ہو جنگ کرنے لگے آخر کار راجہ اسے گرفتار کر مشکین باندھ نگر مین لے آیا پھر اس کو نہلوا دھلوا اچھے اچھے کپڑے پہنا ایک اونٹ پر بٹھلا ڈھنڈھورا ساتھ کر ساری نگری کے پھیرنے کو بھیجا اور سولی اسکے واسطے کھڑی کرنے کا حکم دیا شہر کے لوگون مین سے جو اسے دیکھتا تھا سو کہتا تھا کہ اسی چور نے تمام نگر کو لوٹا ہے اور اب اسے راجہ سولی دیگا جبکہ دھرم دھوج سیٹھ کی حویلی کے نیچے وہ چور گیا تو اس سیٹھ کی بیٹی نے ڈھنڈھوریے کی آواز سُن اپنی داسی سے پوچھا کہ کاہے کی ڈونڈی باجتی ہے وہ بولی جو چور اس نگر مین چوری کرتا تھا اسے راجہ پکڑ لایا ہے اب سولی دیگا یہ سنکے دیکھنے کو وہ بھی دوڑی آئی چور کا روپ جوبن دیکھتے ہی فریفتہ ہو گئی اور اپنے باپ سے آکر کہا تم اسوقت راجہ کے پاس جاؤ اور اس چور کو چھوڑا لاؤ سیٹھ بولا کہ جس چور نے راجہ کا تمام نگر موسا ہو اور جس لیے ساری فوج کٹی اسکو میرے کہے سے کیونکر چھوڑیگا پھر اسنے کہا جو تمھارے سب کچھ دیے سے بھی راجہ اسے چھوڑ دے تو ترنت تم اسے چھوڑا لاو اور جو وہ نہ آویگا تو مین بھی اپنی جان دیدونگی یہ سُن سیٹھ نے راجہ سے جا کر کہا مہاراج پانچ لاکھ روپئے مجھ سے لے لیجئے اور اس چور کو چھوڑ دیجئے راجہ بولا اس چور نے سارا نگر موسا اور تمام لشکر اس کے سبب سے غارت ہوا اسے مین کسطرح چھوڑ دونگا جب راجہ نے اسکی بات نہ مانی ناچار پھر یہ اپنے گھر کو آیا اور اپنی بیٹی سے کہا جتنا کہنے کا دھرم تھا اتنا مین نے کہا لیکن راجہ نے نہ مانا اتنے عرصاً
مین چور کو نگری کے پھیرے دلوا کر سولی کے پاس لا کر کھڑا کیا اور چور نے اس بنئے کی بیٹی کا احوال جو سنا تو کھلکھلا کر ہنسا پھر ڈکرا ڈکرا رونے لگا اتنے مین لوگون نے اسے سولی پر کھینچ لیا اور بنئے کی بیٹی اسکے مرنے کی خبر سن کے ستی ہونے کے لیے اس جگہ پر ائی چتا بنوا اور اسمین بیٹھ اس چور کو سولی سے اتار اسکا سر گود
مین رکھ جلنے کو بیٹھا چاہتی تھی کہ اسمین آگ دلوا دے اتفاقاً وبان ایک دیبی کا مندر تھا اسمین سے<noinclude></noinclude>
os7jgh3sxu3x8nyjqezz423mo0skt6h
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/40
250
13114
32424
32423
2026-04-29T12:00:20Z
Kaur.gurmel
74
32424
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بولی اے بیٹی مین بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سی سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کِس کارن ہنسا اور پیچھے کِس لیے روپا راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسا وہ باعث مین جانتا ہون اور جاس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے سن بیتان چور نے جی مین بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہے اب اسکا مین کیا اپکار کرونگا یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من مین بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گتِ جانی نہین جاتی دیکھو وہ کلچھّن کو لکشمی دے کل ہین کو بدیا مورکھ کو دے سندر استری پہاڑ پر برسا دے برکھا ایسی ایسی باتین سوچکر ہنسا بہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر وہان گیا اور اسے کھول گٹھری باندھ کاندھے رکھ لیچلا
{{center|'''چودہوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بکرم کسماوتی نام ایک نگر ہے وہان کا سوبچار نام راجہ کی بیٹی کا نام چندر بھان تھا جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دن بسنت رت مین سکھیون کو ساتھ لے سیر باغ کو گئی وہان زنانے کے بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس بیس کا بہت خوبصورت منسوی نام کہین سے پھرتا ہوا اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سو رہا تھا راجہ کے لوگون نے آ اس باڑی مین زنانے کا بندوبست کیا پراتفاقاً اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے سوتا رہا اور راج کنیان اپنی سہیلیون سمیت باغ مین داخل ہوئی سہیلیون کے ساتھ سیر تماشا دیکھتی ہوئی کہان آتی ہے کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائون کی آہٹ سے اٹھ بٹھا دونون کی چار نظرین ہوئین اور کام دیو کے ایسے بس ہوۓ کہ ادھر یہ برہمن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا ادھر بے شدہ ہو راج کنیا کے پائون کاپنے لگے پر وہین اسے سکھیون نے ہاتھون ہاتھ تھام یا آخر کار
{{center|'''چندر بھان کا سیر باغ کو سکھیون سمیت جانا اور ایک برہمن کا درختون کی آڑ سے اسے دیکھکر غش ہونا'''}}<noinclude></noinclude>
bwyy1c9vzw9gvxmj76we4c4mbrb7ieo
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/41
250
13122
32425
2026-04-29T12:14:42Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «چنڈول مین لٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ شدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن شیشی اور سول دیو نام کا مردیس سے بریا پڑھے ہوئے وہان آسکے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے شیشی ایسا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32425
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چنڈول مین لٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ شدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن شیشی اور سول دیو نام کا مردیس سے بریا پڑھے ہوئے وہان آسکے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے شیشی ایسا بے شدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نام کرنے بھون کی کمان سے نہین کے تیر بارے مین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہوائے شیشی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا
اتیری کیا حالت ہوئی ہے وہ بر مین بولاد رکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جوس کے دور نہ کر سکے اس شہر
کہنا کیا حامین وہ بولا چھ تو اپنی پر بارے آگے کہ ہم دور کرینگے یہ کے وہ ہوا کہ راج کیا اپنی کمینو
ساتھ لیے آئی تھی سو اس کے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ لیگی توہین بھی جیور کھونگا نہین نے پران
نجون گا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے لنے کا ہم تین کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت ساد خفن
دینگے تب فنسونی بولا کہ نفسا مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے مین پر استری رتین سب سے بہتر ہو اور
اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہو جب نارسی کو تیا گا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسین عورت تیر
نہ ہوا سے تو دنیا مین حیوان بھلے مین دھرم کا دھن ہو پھل اور دھن کا پھیل سکھا اور سکھ کا پھل جوناری
اور جہان ناری نہین شکر کہا یہ سن کے مول دیو بولا جو تو مانگے گا سود و نگا تب اپنے کہا اے پر مین بھے
وہی کیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کیا دل دیوین گے غرض بہت
سی تسلی کر اسے اپنے گھرنے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑ کا اس بر من کو دے کر گیا جب
منھ مین رکھے گا تب تو بارہ برس کی کینیا ہو جائے گا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لے گا
تو مرد جیون کاتیون ہو جائیگا تو اسے اپنے لکھ مین رکھ اپنے جو اپنے لکھ مین رکھا تو بارہ برس کی
کیا ہوگیا اور دوسرے گٹکے کو جوا سے لکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈو کر بن گیا اور اس
کینیا کو لیے تھے۔
راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر اس میٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی
تب بر ہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہوا دی ہے
باسن ہو را جاہل کو چھلا اور مین نے بندر ساتھ لے سمندر کابل باندھا اور بہین نے پر بہت ہاتھ پورہ کھر
اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سوہی بات ہو تمھاری رکھشا کرے یہ سن کے راجہ نے پوچھا مہاراج
آپ کہان سے پدھارے مول دیو بر مین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور
مین اپنے بیٹے کی ہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگو ریری سومین نہین جانتا کہ بر مبنی اور
میرا لڑ کا کمان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈ ون گا اس سے<noinclude></noinclude>
7jyhxcmgx3zmd5uv0s538guo7g8tf68
32426
32425
2026-04-29T12:36:24Z
Charan Gill
46
32426
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چنڈول مین لٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ شدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن ششی اور سول دیو نام کامردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی ایسا بے شدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے ششی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس شے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ ہوا کہ راج کیا اپنی کمینو
ساتھ لیے آئی تھی سو اس کے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ لیگی توہین بھی جیور کھونگا نہین نے پران
نجون گا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے لنے کا ہم تین کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت ساد خفن
دینگے تب فنسونی بولا کہ نفسا مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے مین پر استری رتین سب سے بہتر ہو اور
اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہو جب نارسی کو تیا گا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسین عورت تیر
نہ ہوا سے تو دنیا مین حیوان بھلے مین دھرم کا دھن ہو پھل اور دھن کا پھیل سکھا اور سکھ کا پھل جوناری
اور جہان ناری نہین شکر کہا یہ سن کے مول دیو بولا جو تو مانگے گا سود و نگا تب اپنے کہا اے پر مین بھے
وہی کیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کیا دل دیوین گے غرض بہت
سی تسلی کر اسے اپنے گھرنے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑ کا اس بر من کو دے کر گیا جب
منھ مین رکھے گا تب تو بارہ برس کی کینیا ہو جائے گا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لے گا
تو مرد جیون کاتیون ہو جائیگا تو اسے اپنے لکھ مین رکھ اپنے جو اپنے لکھ مین رکھا تو بارہ برس کی
کیا ہوگیا اور دوسرے گٹکے کو جوا سے لکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈو کر بن گیا اور اس
کینیا کو لیے تھے۔
راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر اس میٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی
تب بر ہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہوا دی ہے
باسن ہو را جاہل کو چھلا اور مین نے بندر ساتھ لے سمندر کابل باندھا اور بہین نے پر بہت ہاتھ پورہ کھر
اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سوہی بات ہو تمھاری رکھشا کرے یہ سن کے راجہ نے پوچھا مہاراج
آپ کہان سے پدھارے مول دیو بر مین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور
مین اپنے بیٹے کی ہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگو ریری سومین نہین جانتا کہ بر مبنی اور
میرا لڑ کا کمان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈ ون گا اس سے<noinclude></noinclude>
hecp7dmp8zvikqvhla9rsdugwv1odxy
32428
32426
2026-04-29T18:40:05Z
Charan Gill
46
32428
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چنڈول مین لٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ شدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن ششی اور مول دیو نام کامردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی ایسا بے شدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے ششی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس شے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ ہولا کہ راج کنیا اپنی سکھیونکو ساتھ لیے آئی تھی سو اسکے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ ملیگی تو مین بھی جیو رکھونگا نہین تو پران تجونگا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے ملنے کا ہم جتن کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت سا دھن دینگے تب منسونی بولا کہ سنسار مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہین پر استری رتن سب سے بہتر ہے اور اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہے جب ناری کو تیاگا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسن عورت میسر نہ ہوا سے تو دنیا مین حیوان بھلے مین دھرم کا دھن ہو پھل اور دھن کا پھیل سکھا اور سکھ کا پھل جوناری
اور جہان ناری نہین شکر کہا یہ سن کے مول دیو بولا جو تو مانگے گا سود و نگا تب اپنے کہا اے پر مین بھے
وہی کیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کیا دل دیوین گے غرض بہت
سی تسلی کر اسے اپنے گھرنے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑ کا اس بر من کو دے کر گیا جب
منھ مین رکھے گا تب تو بارہ برس کی کینیا ہو جائے گا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لے گا
تو مرد جیون کاتیون ہو جائیگا تو اسے اپنے لکھ مین رکھ اپنے جو اپنے لکھ مین رکھا تو بارہ برس کی
کیا ہوگیا اور دوسرے گٹکے کو جوا سے لکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈو کر بن گیا اور اس
کینیا کو لیے تھے۔
راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر اس میٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی
تب بر ہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہوا دی ہے
باسن ہو را جاہل کو چھلا اور مین نے بندر ساتھ لے سمندر کابل باندھا اور بہین نے پر بہت ہاتھ پورہ کھر
اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سوہی بات ہو تمھاری رکھشا کرے یہ سن کے راجہ نے پوچھا مہاراج
آپ کہان سے پدھارے مول دیو بر مین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور
مین اپنے بیٹے کی ہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگو ریری سومین نہین جانتا کہ بر مبنی اور
میرا لڑ کا کمان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈ ون گا اس سے<noinclude></noinclude>
fey65hgotd743i408j3qum64e2xxtm4
32429
32428
2026-04-29T18:51:35Z
Charan Gill
46
32429
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چنڈول مین لٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ شدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن ششی اور مول دیو نام کامردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی ایسا بے شدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے ششی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس شے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ ہولا کہ راج کنیا اپنی سکھیونکو ساتھ لیے آئی تھی سو اسکے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ ملیگی تو مین بھی جیو رکھونگا نہین تو پران تجونگا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے ملنے کا ہم جتن کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت سا دھن دینگے تب منسونی بولا کہ سنسار مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہین پر استری رتن سب سے بہتر ہے اور اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہے جب ناری کو تیاگا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسن عورت میسر نہ ہوا اسنے تو دنیا مین جوان بھلے ہین دھرم کا دھن ہے پھل اور دھن کا پھل سکھ اور سکھ کا پھل ہے ناری اور جہان ناری نہین شُکھ کہا یہ سن کے مول دیو بولا جو تو مانگے گا سو دونگا تب اسنے کہا اے برہمن بھے
وہی کیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کیا دل دیوین گے غرض بہت
سی تسلی کر اسے اپنے گھرنے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑ کا اس بر من کو دے کر گیا جب
منھ مین رکھے گا تب تو بارہ برس کی کینیا ہو جائے گا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لے گا
تو مرد جیون کاتیون ہو جائیگا تو اسے اپنے لکھ مین رکھ اپنے جو اپنے لکھ مین رکھا تو بارہ برس کی
کیا ہوگیا اور دوسرے گٹکے کو جوا سے لکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈو کر بن گیا اور اس
کینیا کو لیے تھے۔
راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر اس میٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی
تب بر ہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہوا دی ہے
باسن ہو را جاہل کو چھلا اور مین نے بندر ساتھ لے سمندر کابل باندھا اور بہین نے پر بہت ہاتھ پورہ کھر
اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سوہی بات ہو تمھاری رکھشا کرے یہ سن کے راجہ نے پوچھا مہاراج
آپ کہان سے پدھارے مول دیو بر مین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور
مین اپنے بیٹے کی ہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگو ریری سومین نہین جانتا کہ بر مبنی اور
میرا لڑ کا کمان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈ ون گا اس سے<noinclude></noinclude>
0plloglkkp85q1fvtgrued4uf1w59vn
32430
32429
2026-04-30T03:05:50Z
Charan Gill
46
32430
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چنڈول مین لٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ شدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن ششی اور مول دیو نام کامردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی ایسا بے شدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے ششی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس شے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ ہولا کہ راج کنیا اپنی سکھیونکو ساتھ لیے آئی تھی سو اسکے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ ملیگی تو مین بھی جیو رکھونگا نہین تو پران تجونگا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے ملنے کا ہم جتن کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت سا دھن دینگے تب منسونی بولا کہ سنسار مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہین پر استری رتن سب سے بہتر ہے اور اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہے جب ناری کو تیاگا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسن عورت میسر نہ ہوا اسنے تو دنیا مین جوان بھلے ہین دھرم کا دھن ہے پھل اور دھن کا پھل سکھ اور سکھ کا پھل ہے ناری اور جہان ناری نہین شُکھ کہا یہ سنکے مول دیو بولا جو تو مانگےگا سو دونگا تب اسنے کہا اے برہمن مجھے وہی کنیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کنیا دلادیوین گے غرض بہت سی تسلی کر اسے اپنے گھر لے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑکا اس برہمن کو دے کر کہا جب منھ مین رکھے گا تب تو بارہ برس کی کنیا ہو جائے گا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لے گا تو مرد جیون کا تیون ہو جائیگا تو اسے اپنے مکھ مین رکھ اپنے جو اپنے مکھ مین رکھا تو بارہ برس کی کنیا ہو گیا اور دوسرے گٹکے کو جواسے مکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈوکر بن گیا اور اس کنیا کو لیے ہوئے راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر آسن بیٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی تب برہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہوا دی ہے
باسن ہو را جاہل کو چھلا اور مین نے بندر ساتھ لے سمندر کابل باندھا اور بہین نے پر بہت ہاتھ پورہ کھر
اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سوہی بات ہو تمھاری رکھشا کرے یہ سن کے راجہ نے پوچھا مہاراج
آپ کہان سے پدھارے مول دیو بر مین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور
مین اپنے بیٹے کی ہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگو ریری سومین نہین جانتا کہ بر مبنی اور
میرا لڑ کا کمان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈ ون گا اس سے<noinclude></noinclude>
lwrpinwnviqu63xjdplsssbw1ujb027
32431
32430
2026-04-30T04:05:14Z
Charan Gill
46
32431
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چنڈول مین لٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ شدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن ششی اور مول دیو نام کامردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی ایسا بے شدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے ششی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس شے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ ہولا کہ راج کنیا اپنی سکھیونکو ساتھ لیے آئی تھی سو اسکے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ ملیگی تو مین بھی جیو رکھونگا نہین تو پران تجونگا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے ملنے کا ہم جتن کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت سا دھن دینگے تب منسونی بولا کہ سنسار مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہین پر استری رتن سب سے بہتر ہے اور اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہے جب ناری کو تیاگا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسن عورت میسر نہ ہوا اسنے تو دنیا مین جوان بھلے ہین دھرم کا دھن ہے پھل اور دھن کا پھل سکھ اور سکھ کا پھل ہے ناری اور جہان ناری نہین شُکھ کہا یہ سنکے مول دیو بولا جو تو مانگےگا سو دونگا تب اسنے کہا اے برہمن مجھے وہی کنیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کنیا دلادیوین گے غرض بہت سی تسلی کر اسے اپنے گھر لے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑکا اس برہمن کو دے کر کہا جب منھ مین رکھے گا تب تو بارہ برس کی کنیا ہو جائے گا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لے گا تو مرد جیون کا تیون ہو جائیگا تو اسے اپنے مکھ مین رکھ اپنے جو اپنے مکھ مین رکھا تو بارہ برس کی کنیا ہو گیا اور دوسرے گٹکے کو جواسے مکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈوکر بن گیا اور اس کنیا کو لیے ہوئے راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر آسن بیٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی تب برہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہے اور جن نے بامن ہو راجا بل کو چھلا اور جن نے بندر ساتھ لے سمندر کا پل باندھا اور جن نے پربت ہاتھ پر رکھ کر اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سو ہی باسودیو تمھاری رکھشا کرے یہ سن کے راجہ نے پوچھا مہاراج آپ کہان سے پدھارے مول دیو برہمین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور
مین اپنے بیٹے کی ہہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگدڑ پڑی سو مین نہین جانتا کہ برہمنی اور میرا لڑکا کہان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈون گا اس سے<noinclude></noinclude>
rhyicd06gts611crsi383cacvxu93nx
32432
32431
2026-04-30T04:36:51Z
Kaur.gurmel
74
32432
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چنڈول مین لٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ شدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن ششی اور مول دیو نام کامردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی ایسا بے شدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے ششی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس شے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ بولا کہ راج کنیا اپنی سکھیونکو ساتھ لیے آئی تھی سو اسکے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ ملیگی تو مین بھی جیو رکھونگا نہین تو پران تجونگا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے ملنے کا ہم جتن کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت سا دھن دینگے تب منسونی بولا کہ سنسار مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہین پر استری رتن سب سے بہتر ہے اور اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہے جب ناری کو تیاگا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسن عورت میسر نہ ہوا اسنے تو دنیا مین جوان بھلے ہین دھرم کا دھن ہے پھل اور دھن کا پھل سکھ اور سکھ کا پھل ہے ناری اور جہان ناری نہین شُکھ کہا یہ سنکے مول دیو بولا جو تو مانگےگا سو دونگا تب اسنے کہا اے برہمن مجھے وہی کنیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کنیا دلادیوین گے غرض بہت سی تسلی کر اسے اپنے گھر لے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑکا اس برہمن کو دے کر کہا جب منھ مین رکھے گا تب تو بارہ برس کی کنیا ہو جائے گا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لے گا تو مرد جیون کا تیون ہو جائیگا تو اسے اپنے مکھ مین رکھ اپنے جو اپنے مکھ مین رکھا تو بارہ برس کی کنیا ہو گیا اور دوسرے گٹکے کو جواسے مکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈوکر بن گیا اور اس کنیا کو لیے ہوئے راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر آسن بیٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی تب برہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہے اور جن نے بامن ہو راجا بل کو چھلا اور جن نے بندر ساتھ لے سمندر کا پل باندھا اور جن نے پربت ہاتھ پر رکھ کر اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سو ہی باسودیو تمھاری رکھشا کرے یہ سن کے راجہ نے پوچھا مہاراج آپ کہان سے پدھارے مول دیو برہمین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور
مین اپنے بیٹے کی ہہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگدڑ پڑی سو مین نہین جانتا کہ برہمنی اور میرا لڑکا کہان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈون گا اس سے<noinclude></noinclude>
cc0q9n5zpgbezo3cn3o71nhs5isg3xv