ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.26 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صارف:James500 2 12893 32443 31851 2026-04-30T16:56:24Z James500 151 /* */ Remove template 32443 wikitext text/x-wiki {{#babel:en}} [[en:User:James500]] eu13so1xoub6xvcjld6yea9o5qsrodx صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/40 250 13114 32433 32424 2026-04-30T13:04:09Z BalramBodhi 60 32433 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" />{{c|۲۹}}</noinclude>ترنت دیبی نکل کر بولی اے بیٹی مین بہت خوش ہوئی تیری ہمت پر تو بر مانگ وہ بولی ماتا جو تو مجھ سے سنتشٹ ہوئی ہے تو اس چور کو جی دان دے پھر دیبی بولی اسی طرح ہوگا یہ کہہ پتال سے امرت لا کر چور کو جلا دیا اتنی کتھا کہہ بیتال نے پوچھا اے راجہ بتاؤ کہ چور پہلے کِس کارن ہنسا اور پیچھے کِس لیے روپا راجہ نے کہا جس واسطے وہ ہنسا وہ باعث مین جانتا ہون اور جس لیے وہ رویا وہ بھی مجھے معلوم ہے سن بیتال چور نے جی مین بچارا یہ جو میرے واسطے اپنا سب کچھ دیتی ہے اب اسکا مین کیا اپکار کرونگا یہ سمجھ کر وہ رویا پھر اپنے من مین بچارا کہ مرنے کے سمے اپنے پریت کی بھگوان کی کچھ گتِ جانی نہین جاتی دیکھو وہ کلچھّن کو لکشمی دے کل ہین کو بدیا مورکھ کو دے سندر استری پہاڑ پر برسا دے برکھا ایسی ایسی باتین سوچکر ہنسا یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھر وہان گیا اور اسے کھول گٹھری باندھ کاندھے رکھ لیچلا {{center|'''چودہوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ بکرم کسماوتی نام ایک نگر ہے وہان کا سوبچار نام راجہ جسکی بیٹی کا نام چندر پربھا تھا جب وہ بر جوگ ہوئی تب ایک دِن بسنت رت مین سکھیون کو ساتھ لے سیر باغ کو گئی وہان زنانے کے بندوبست سے پہلے ایک برہمن کا لڑکا برس بیس کا بہت خوبصورت منسوی نام کہین سے پھرتا ہوا اس باغ مین ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤن پا کے سو رہا تھا راجہ کے لوگون نے آ اس باڑی مین زنانے کا بندوبست کیا پر اتفاقاً اس برہمن کے لڑکے کو کسی نے نہ دیکھا اور وہ اس درخت کے نیچے سوتا رہا اور راج کنیان اپنی سہیلیون سمیت باغ مین داخل ہوئی سہیلیون کے ساتھ سیر تماشا دیکھتی ہوئی کہان آتی ہے کہ جہان وہ لڑکا سوتا تھا اسکا وہان پہونچنا کہ وہ لوگون کے پائون کی آہٹ سے اٹھ بٹھا دونون کی چار نظرین ہوئین اور کام دیو کے ایسے بس ہوۓ کہ ادھر برہمن کا لڑکا غش کھاکر گر زمین پر گرا ادھر بے سُدہ ہو راج کنیا کے پائون کاپنے لگے پر وہین اسے سکھیون نے ہاتھون ہاتھ تھام لیا آخرکار {{center|'''چندر بھان کا سیر باغ کو سکھیون سمیت جانا اور ایک برہمن کا درختونکی آڑ سے اسے دیکھکر غش ہونا'''}}<noinclude></noinclude> 2zoki5faseiqwi8atvnwwxcxeatyvrr صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/49 250 13119 32441 32415 2026-04-30T13:51:33Z Taranpreet Goswami 90 32441 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بتال قیسی ۴۸ اسکے ساتھ اپنی لڑکی کا براہ کر دیا اور وہ اسکے گھرین رہنے لگی ایک دن کا ذکر ہے کہ راجہ کی سواری اس راہ سر نکلی اور وہ بھی اس سے سنگار کیسے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی اتفاقا راجہ کی اور اسکی چار نظرین ہوئین راجہ اپنے من مین کہنے لگا یہ دو کیا ہو یا اپسرا ہو یا ن کیا ہر فرض اسکا روپ دیکھ موہت ہو گیا اور وہان سے نیٹ بیقرار ہو اپنے مندر کو آیا اسکا منہ دیکھ دربان بولا مہاراج آپ کے سر یہ مین کیا درد ہے راجہ نے کہا آج مین نے آتے ہوئے راستے مین ایک کو کٹھے پر سند استری دیکھی ہر مین نہین جانتا ہون کہ وہ حور یا پری یا انسان ہر کہ اسکے روپ نے یکبارگی میٹر من موہ لیا اس سے بیکل ہون یہ سنکے دربان نے عرض کی مہاراج اسی سیٹھ کی لڑکی ہو جو آپکا سینات بل بھی ہے وہ ہر بیاہ لایا راجہ نے کہا مین نے جن لوگون کو کشن دینے بھیجا تھا انھون نے ہم سے دعاکی یہ کہ راجہ نے جو بد رکو فرمایا انھین جلد لے آؤ راجہ کا حکم ارجو بدار امین بلالا یا غرض جب دے راجہ کے سامنے آئے تو راجہ نے کہا مین نے جس لیے تعین بھیجا تھا اور جو میری خشا تھی سوتم نے نہ کیا بلکہ پنے اپنے جی سے ایک جھوٹی بات بنا کر مجھے جواب دیا۔ آج مین نے اپنی آنکھون سے اسے دیکھا ایسی سندر نارسی سب گن پوری ہو کہ اس سے اس سے تھی کٹھن ہو یہ سکے انھون نے کہا مہاراج جوآپ فرمادین سکرین پر پر تم نے اسکو منی جیس وائے حضور مین عرض کیا تھا سو وہ مدعا سنئے آپس مین ہم نے یہ بچارا کہ ایسی سند ناری جو مہاراج کے گھر من جائیگی تو مہاراج دیکھتے ہی اسکے بس مین ہون گے اور راج کاج سب چھوڑ دینگے توراج بھنگ ہوگا اس سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا یہ شکر راجہ نے کیا اچھا تم سچ کہتے ہو اچھا کا جو ہے نہ کہا پر اسکی یا مین راجہ کو بید بے چینی تھی اور سب لوگون پر جہ کی بیقراری ظاہر تھی اتنے مین بھا بھد بھی آپہونچا اپنے ہاتھ جوڑ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض تھی اس پر تھومی ناتھ مین آپ کا داس ہون وہ آپ کی داسی اور اسکی خاطر آپ اتنی مصیبت اٹھا دین اس سے مہاراج آپ حکم دیجئے وہ حاضر ہ یہ بات من راجہ کردہ کر کے بولا غیر عورت کے پاس جانا بڑا ادھرم ہے یہ بات کیون تونے مجھ سے بھی کیا مین ادھرمی ہون جواد محرم کردن برانی تری ہوا کے سمان ہے اور برا ناد من مائی برابر سو بھائی جیسا اپنا جی آدمی مجھے ویسا ہی سبط مجھے کبھدر بولا وہ میری داسی ہو جب مین نے آپ کو دی پھر بیگانی استری کیون کر ہوئی راجہ نے کہا جس کام کے کرنے سے سفسار مین کلنک لگے سو کام مین نہ کرون گا پھر سینات نے عرض کی کہ مہاراج اسے مین گھر سے نکال اور جگہ رکھ میشیا کر آپ کے پاس لاؤن گا تب راجہ کو بیشیا کریگا تومین تجھے بڑا ڈنڈ دودن گا یہ کہ اسکی یاد مین چنتا کر نے کہا جو است را دارن شان<noinclude></noinclude> 63ugmfps876dv0neyubt01yz9gjuwtb صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/48 250 13120 32440 32416 2026-04-30T13:50:52Z Taranpreet Goswami 90 32440 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۴۷ بال بیسی جی سے دوسرے بچی کو بچانے یا سین ازین بری ہون مین برانگن مین تیرے ساہیس پس نشٹ ہوا یہ اس کے جیموت باہن نے کہا اے دیو و تم میرے اوپر خوش ہوئے تواب ناگون کو مت کھاؤاور جو کھائے مین نھین جلاد و بیسن گڑڑ نے پاتال سے امرت لاگر سانیون کے ہاڑون پر چھڑکا کہ پھروہ سب جی اٹھے اور اس سے کہا کہ اے جیوت باہن میرے پرساد سے تیرا کیا جو ان پر تھے لے گایہ برو سے لڑا اپنے استھان پر گیا اور سنکھ چوڑاپنے دمعام کو گیا اور موت یا مین بھی وہان سے چلا راہ مین اسکا فراور ساس اور استری کی پھر ان سمیت اپنے باپ کے پاس آیا جب یہ حوال سنا تو اسکے چار اور محرم بھائی بلکہ سارے کر کے لگ ملنے کو آئے اور پانون پر انھین لیا راج پر بھایا اسی کتھا کہ میان بولا اسے راجہ ان مین سے ست کیس کا ادھیک ہو راجہ پیر عمر با بیت نے کہا کہ چوڑ کا بتیال نے کہا کس طرح راجہ نے کہا گیا ہو اسنکھ چوڑ پھر جی دینے کو آیا اور کڑڑ کے کھانے سے بچایا مبتال بولا کہ جس نے غیر کے لیے اپنی جان دی اشکانست کیون نہ ادھیک ہو راجہ نے کہا جیموت با من ذات کا چھتری ہو اسی جنی دینے کا ابھی اس ہورہا ہو اس سے اسے جان دینی کچھ ٹین نہ معلوم دی یہ سن بال پھر ای پیٹر پر جالگا اور راجہ جاوہان سے اسے باندھ کا ندھے پر رکھ لیچا سولھوین کہانی بیتال بولا اے راجہ میر بکرماجیت چندر شیکھر نام ایک نگر ہو وہان کا رہنے والا تین دت ایک سیٹھ تھا اسکی ایک بیٹی تھی اسکا نام دھوم ہوتی تھا جب وہ جوان ہوئی تب اسکے باپ نے دہانکے راجہ سے جا کر کہا مہاراج میرے گھر مین ایک کیا ہو جو آپکو اسکی چاہ ہو تو بیچے نہین تو مین اور کسی کو دوست یہ مشن راجہ نے دو تین برائے نوکرون کو بلا کر کہا کہ اس سیٹھ کی لڑکی کے لکشن جا کر دیکھ آ وے راجہ کی آگیا سے سیٹھ کے گھر آئے اور اس لڑکی کا روپ دیکھ سبھی موت ہوئے حسن ایسا گویا اندھیرے گھر کا اجالا ا تمھین مرگ کی سی چوٹی ناگنی سی بھوین کمان کی سی ناک طوطا کی سی دانتون کی تعبیسی قوتی کی سی لڑی ہو نٹھ کندرو کے پابند گلا کبوتر کا ساتھ جیتنے کی سی ہاتھ پاکنون کومل کنول کے سے چندر بھی چپک برتی نفس گنی کو کل مینی چسکے روپ کو دیکھ اندر کی اپسرہ بھی شرمندہ ہوا سطح کی حسین کیسے علامتون سے آراستہ دیکھ انھون نے آپسیمین بچار کیا ایسی جو نادری راجہ کے گھر من جائیگی تو راجہ - آدھین ہو دیگا اور راج کلاج کی چنتا نہ کر یگا اس سے بہتر یہ کہ راجہ سے کہئے کہ وہ کو کشتی ہو آپکے جوس نہین یہ بچار کر وہا نے راجہ کے پاس آ کر انھون نے یہ عرض کیا مہا راح اس کینیا کو پہنے دیکھا ہو آپکے لائق نہین یہ نے راجہ نے سیٹھ سے کم مین یا نہ کرو گا پی ٹی نے نے گھر کا کام کا کلام جو جو ان کا مینا تھا اسکے<noinclude></noinclude> r7hpr1r60zqgyl8x67bhvdcb2rcc8gb صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/47 250 13121 32439 32417 2026-04-30T13:50:15Z Taranpreet Goswami 90 32439 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۴۴۶ ناگ جو میرا بیٹا ہو سکی آج باری ہوا اسے گڑ کھا دے گا اس دکھ سے مین روتی ہون اُن نے کہا اے ما نامت رو تیرے بدلے مین اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سکہ چوڑ ہے یہ کہتی تھی کہ اتنے مین سنکھ چوڑ بھی اپہونچا اور اس سے شنکر کہا اے مہاراج مجھے سر دردری بہت سے پیدا ہوتے ہین اور مرتے مین پر آپ سو دھرما تحاد یا ونت سنسار مین گھڑی گھڑی پیدا نہین ہوتے اس سے آپ میرے پلے اپنا جی نہ دیجئے کیونکہ آپ کے جینے سے لاکھون آدمیون کا انکار ہوگا اورمیرا جینا مزا دونون برا بر تجرتب جیموت با من بولا کہ بی ست پرشون کا دھرم نہین ہر جو کہ سر کمک نہ کرین تو جہان سے آیا ہو وہان چلا جا یہ سنکے سکھ جوڑ تو دہی کے درشن کو گیا اور اکاس سرگڑا ترا اتنے مین راجکمار کھتا کیا ہو کہ اون تو اسکے چار بان برابر ین اور تاڑ سے نبی چونچ پہاڑ کے سان پیٹ پھالک کے مانند آنکھین اور گٹھا کے سمن بال چونچ کھولکر ان پر پر وڈا اپنے پرنے اپنے تین بچایا پر دوسری بار وہ چونچ مین رکھ اسکو لے اڑا اور چکر مارنے لگا اتنے مین ایک بازوبند کہ اسکے نگ پر راجہ کا نام کھدا ہوا تھاوہ کھلکہ ہم بھرا راج کینیا کے سامنے گرا وہ اسکو دیکھ کر پو چھا کھا کر گر پڑی جب ایک گھڑی کے بعد موش مین آئی تو اسنے سب احوال اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا وہ یہ صیبت شکر آئے اور لہو سے بھر بازدید دیکھ روئے پھر یون آدمی ڈھونڈھنے نکلے کہ رستے مین انھین سنکہ جو بھی بلا اور انسے بڑھکر اکیلا دہران گیا جہان راجگا کو دیکھاتھا اور چار چار کنے لگا اس گڑ چھوڑ دے یہ تیرا نکش نہین ہو سکہ چوڑ میل نام کی مین تیر میکش ہون یہ شکر گڑ گھر گرگیا اور اپنے جی مین سوچابہ مین یا چھتری مین نے کھایا یہ کیا کیا این راج پیر سے کہا اے پرش بسیج کو کس لیے اپنا جی دیتا ہو راجکمار بولا اے گراڈ پر چھایا کرتے مین عورت کے اوپر اور آپ دھوپ مین بیٹھتے پھولتے پھلتے ہین پرائے واسطے بھلے لوگون اور برکسون کا یہی دھرم ہی جو یہ زندگی غیر کے کام نہ آوے تو اس شرر سے کیا پر دین ہر شل مشہور ہو کہ جون جون چندن کو گی ہین تون تون دونی سگندھ دیتا ہو اور جون جون جھیل کاٹ لٹکڑے کرتے ہین تون تون ایکھ ادھک ادھک مواد دیتا ہو جون جون پنجن کو جلاتے ہین تون تون چگدار ہوتا جاتا ہر تھے اور مین جان جانے سے بھی اپنی نیک عادت نہین چھوڑتے انہین کسی نے بھیل کا تو کیا اور کہا کا تو کیا دولت ہی تو یا جونہ ہی تو کیا ابی مرے تو کیا اور مرت کے بعد مرے تو کیا جولوگ نیاؤ کی راہ پر چلتے ہی کچھ ہو اور اہ پر قدم نہین دھرتے تو کیا ہوا جو موٹے ہوئے بادلے غرض جسکے شریر اپکا نہ ہو سکی زندگی بیکار اور پرانے ارتھے جنکا جنون رہین اپنے مین سوجے سدا سیکنڈ اس کرتے مین گڑ بولا دنیا مین سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہین اور اپنے<noinclude></noinclude> kc5sssm41tusrorseybiv1awit9tarh صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/42 250 13123 32434 2026-04-30T13:46:31Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «۴۱ بیتال تبیی بہتر یہ ہو کہ آپ کے پاس اسے چھوڑ نا جاؤن جب تک کہ مین نہ آؤن اسی حقین بھی رکھنا یہ بات برمین کی سن راجہ اپنے چت مین چنتا کرنے لگا کہ بہت خوبصورت جوان عورت کو مین کس طرح رکھونگا اور نین رکھتا ہون تو بر بین سراپ دیگا میرا راج بھنگ ہو جائ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32434 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۴۱ بیتال تبیی بہتر یہ ہو کہ آپ کے پاس اسے چھوڑ نا جاؤن جب تک کہ مین نہ آؤن اسی حقین بھی رکھنا یہ بات برمین کی سن راجہ اپنے چت مین چنتا کرنے لگا کہ بہت خوبصورت جوان عورت کو مین کس طرح رکھونگا اور نین رکھتا ہون تو بر بین سراپ دیگا میرا راج بھنگ ہو جائے گا یہ اپنے جی مین بچار کے بولا مہاراج جو آپ نے یا کی قبول کر پھراج نےاپنی لڑکی کو لاک کیا ہین اس مین کی ہوتو اپنے پاس بلا کراہت جان پر کھو مول دیو کا آنا اور اس بر میمن کو عورت بنا کر راجہ بکرم سماوتی کے حضور لیجانا اور راجہ کا اس عورت کو اپنی لڑکی چند رپر بھا کو سونا اور سونے جاگتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے چھن بھر اپنے پاس سے جد امت کیجیو بہمن راج کیا اس ب ہی کی ہو کا ہاتھ پکڑ اپنے محل مین لےگئی رات کے وقت دونون ایک سچ پر سو مین اور آپس مین بتین کرنے لگین باتین کرتے کرتے برہمن کی بہو بولی اے راج کیا تو کیس دکھ کی باری بہت دہلی ہو رہی ہو سو مجھ سے کہ راج کیا بولی ایک دن بسنت رت مین لکھنو کو ساتھ لیئے ہی باغ کی سیر کوئی تھی اور بان ایک بر زمین بہت سندر کام دیو کے سمان مین نے دیکھا اور اسکی میری چار نظرین ہوئین ادھر وہ بیہوش ہوا ادھر مین بے شدھ ہوئی سب سکھیان میری اوستا دیکھ گھرکوئے آئین مین اسکان اؤن ٹاؤن کچن مین جانتی میری آنکھون مین دہی صورت سمارہی ہو مجھے کھانے پینے کی بھی کچھ پر نہین اس دور میرے ریہ کی یہ دس ہوئی ہو یہ سکے وہ برمن کوہ بولی جوتیرے پر تم مجھے مارو تو مجھے کیادی سلاح کنیم پر بولی کہ سدا تیری واسی ہون گی یہ سنتے وہ گٹکا اپنے منبر سے کال پر مرد ہوگیا اور یہ اسے دیکھ کے شرمائی پھر اس پر مہمن کے لڑکے نے گند حرب بواہ کی ریت سے اسکے ساتھ بیاہ کیا اور ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد ہوتا اور دن کو عورت بنار ہا آخر کا رچھ مہینے کے پچھے راج کنیا کو گر بھر ہر ایک دین کا ذکر ہے<noinclude></noinclude> s1eejt3k0hllurj4l679k69qyefazup 32442 32434 2026-04-30T14:10:56Z Charan Gill 46 32442 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بہتر یہ ہے کہ آپ کے پاس اسے چھوڑتا جاؤن جب تک کہ مین نہ آؤن اسی جتن سے رکھنا یہ بات برہمن کی سن راجہ اپنے چت مین چنتا کرنے لگا کہ بہت خوبصورت جوان عورت کو مین کس طرح رکھونگا اور جو نہیں رکھتا ہون تو بر بین سراپ دیگا میرا راج بھنگ ہو جائے گا یہ اپنے جی مین بچار کے بولا مہاراج جو آپ نے یا کی قبول کر پھراج نےاپنی لڑکی کو لاک کیا ہین اس مین کی ہوتو اپنے پاس بلا کراہت جان پر کھو مول دیو کا آنا اور اس بر میمن کو عورت بنا کر راجہ بکرم سماوتی کے حضور لیجانا اور راجہ کا اس عورت کو اپنی لڑکی چند رپر بھا کو سونا اور سونے جاگتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے چھن بھر اپنے پاس سے جد امت کیجیو بہمن راج کیا اس ب ہی کی ہو کا ہاتھ پکڑ اپنے محل مین لےگئی رات کے وقت دونون ایک سچ پر سو مین اور آپس مین بتین کرنے لگین باتین کرتے کرتے برہمن کی بہو بولی اے راج کیا تو کیس دکھ کی باری بہت دہلی ہو رہی ہو سو مجھ سے کہ راج کیا بولی ایک دن بسنت رت مین لکھنو کو ساتھ لیئے ہی باغ کی سیر کوئی تھی اور بان ایک بر زمین بہت سندر کام دیو کے سمان مین نے دیکھا اور اسکی میری چار نظرین ہوئین ادھر وہ بیہوش ہوا ادھر مین بے شدھ ہوئی سب سکھیان میری اوستا دیکھ گھرکوئے آئین مین اسکان اؤن ٹاؤن کچن مین جانتی میری آنکھون مین دہی صورت سمارہی ہو مجھے کھانے پینے کی بھی کچھ پر نہین اس دور میرے ریہ کی یہ دس ہوئی ہو یہ سکے وہ برمن کوہ بولی جوتیرے پر تم مجھے مارو تو مجھے کیادی سلاح کنیم پر بولی کہ سدا تیری واسی ہون گی یہ سنتے وہ گٹکا اپنے منبر سے کال پر مرد ہوگیا اور یہ اسے دیکھ کے شرمائی پھر اس پر مہمن کے لڑکے نے گند حرب بواہ کی ریت سے اسکے ساتھ بیاہ کیا اور ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد ہوتا اور دن کو عورت بنار ہا آخر کا رچھ مہینے کے پچھے راج کنیا کو گر بھر ہر ایک دین کا ذکر ہے<noinclude></noinclude> hft4s1lc45amqges4k6a73r1i9dgrpa 32444 32442 2026-04-30T18:22:02Z Charan Gill 46 32444 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بہتر یہ ہے کہ آپ کے پاس اسے چھوڑتا جاؤن جب تک کہ مین نہ آؤن اسی جتن سے رکھنا یہ بات برہمن کی سن راجہ اپنے چت مین چنتا کرنے لگا کہ بہت خوبصورت جوان عورت کو مین کس طرح رکھونگا اور جو نہیں رکھتا ہون تو برہمن سراپ دیگا میرا راج بھنگ ہو جائے گا یہ اپنے جی مین بچار کے بولا مہاراج جو آپ نے اگیا کی قبول ہے پھرراجہ نےاپنی لڑکی کو لباکر کیا ہیتی اس برہمن کی بہو کو اپنے پاس لیجا کر بہت جتن سے رکھو {{center|'''مول دیو کا آنا اور اس برہمن کو عورت بنا کر راجہ بکرم کسماوتی کے حضور لیجانا اور'''</br> '''راجہ کا اس عورت کو اپنی لڑکی چندر پربھا کو سوپنا'''}} اور سونے جاگتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے چھن پھر اپنے پاس سے جدا مت کیجیو یہ سن راج کنیا اس برہمن کی بہو کا ہاتھ پکڑ اپنے محل مین لےگئی رات کے وقت دونون ایک سیج پر سوئن اور آپس مین باتین کرنے لگین باتین کرتے کرتے برہمن کی بہو بولی اے راج کنیا تو کِس دکھ کی ماری بہت دبلی ہو رہی ہے سو مجھ سے کہہ راج کنیا بولی ایک دِن بسنت رت مین سکھیونکو ساتھ لیئے مین باغ کی سیر کوئی تھی اور بان ایک بر زمین بہت سندر کام دیو کے سمان مین نے دیکھا اور اسکی میری چار نظرین ہوئین ادھر وہ بیہوش ہوا ادھر مین بے شدھ ہوئی سب سکھیان میری اوستا دیکھ گھرکوئے آئین مین اسکان اؤن ٹاؤن کچن مین جانتی میری آنکھون مین دہی صورت سمارہی ہو مجھے کھانے پینے کی بھی کچھ پر نہین اس دور میرے ریہ کی یہ دس ہوئی ہو یہ سکے وہ برمن کوہ بولی جوتیرے پر تم مجھے مارو تو مجھے کیادی سلاح کنیم پر بولی کہ سدا تیری واسی ہون گی یہ سنتے وہ گٹکا اپنے منبر سے کال پر مرد ہوگیا اور یہ اسے دیکھ کے شرمائی پھر اس پر مہمن کے لڑکے نے گند حرب بواہ کی ریت سے اسکے ساتھ بیاہ کیا اور ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد ہوتا اور دن کو عورت بنار ہا آخر کا رچھ مہینے کے پچھے راج کنیا کو گر بھر ہر ایک دین کا ذکر ہے<noinclude></noinclude> j3alj12tnorhxfcvltqwej4b1x28nsh 32445 32444 2026-04-30T20:54:40Z Charan Gill 46 32445 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بہتر یہ ہے کہ آپ کے پاس اسے چھوڑتا جاؤن جب تک کہ مین نہ آؤن اسی جتن سے رکھنا یہ بات برہمن کی سن راجہ اپنے چت مین چنتا کرنے لگا کہ بہت خوبصورت جوان عورت کو مین کس طرح رکھونگا اور جو نہیں رکھتا ہون تو برہمن سراپ دیگا میرا راج بھنگ ہو جائے گا یہ اپنے جی مین بچار کے بولا مہاراج جو آپ نے اگیا کی قبول ہے پھرراجہ نےاپنی لڑکی کو لباکر کیا ہیتی اس برہمن کی بہو کو اپنے پاس لیجا کر بہت جتن سے رکھو {{center|'''مول دیو کا آنا اور اس برہمن کو عورت بنا کر راجہ بکرم کسماوتی کے حضور لیجانا اور'''</br> '''راجہ کا اس عورت کو اپنی لڑکی چندر پربھا کو سوپنا'''}} اور سونے جاگتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے چھن پھر اپنے پاس سے جدا مت کیجیو یہ سن راج کنیا اس برہمن کی بہو کا ہاتھ پکڑ اپنے محل مین لےگئی رات کے وقت دونون ایک سیج پر سوئن اور آپس مین باتین کرنے لگین باتین کرتے کرتے برہمن کی بہو بولی اے راج کنیا تو کِس دکھ کی ماری بہت دبلی ہو رہی ہے سو مجھ سے کہہ راج کنیا بولی ایک دِن بسنت رت مین سکھیونکو ساتھ لیئے مین باغ کی سیر کو گئی تھی اور بہان ایک برہمن بہت سندر کام دیو کے سمان مین نے دیکھا اور اسکی میری چار نظرین ہوئین ادھر وہ بیہوش ہوا ادھر مین بے شُدھ ہوئی تب سکھیان میری اوستھا دیکھ گھر کو لے آئین مین اسکا ناؤن ٹھاؤن کچھ نہین جانتی میری آنکھون مین وہی صورت سما رہی ہے مجھے کھانے پینے کی بھی کچھ رچ نہین اس درد سے میرے شریر کی یہ دسا ہوئی ہے یہ سنکے وہ برہمن کی بہو بولی جو تیرے پریتم سے تجھے ملا دون تو مجھے کیا دیگی راج کنیم بولی کہ سدا تیری داسی ہون گی یہ سنکے وہ گٹکا اپنے منھ سے نِکال پھر مرد ہو گیا اور یہ اسے دیکھ کے شرمائی پھر اس پر برہمن کے لڑکے نے گندھرب بواہ کی ریت سے اسکے ساتھ بیاہ کیا اور ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد ہوتا اور دن کو عورت بنا رہتا آخِرکار چھ مہینے کے پچھے راج کنیا کو گربھ رہر ایک دِن کا ذِکر ہے<noinclude></noinclude> ow4hz2pc9ymsirhd1p6xzs5e99r4mtz صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/43 250 13124 32435 2026-04-30T13:47:20Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «بیتال تبي امانت ۱۲ ۴۲ کہ راجہ سارے کٹھب کو ساتھ لے کر دیوان کے گھر شادی مین گیا وہان دیوان کے بیٹے نے اس استری بھیش دھاری پہر مین کے لڑکے کو دیکھا دیکھتے ہی عاشق ہو گیا اور اپنے ایک دوست کے آگے کہنے لگا کہ جو بہ ناری مجھے نہ میگی تو مین اپنا پران ت...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32435 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیتال تبي امانت ۱۲ ۴۲ کہ راجہ سارے کٹھب کو ساتھ لے کر دیوان کے گھر شادی مین گیا وہان دیوان کے بیٹے نے اس استری بھیش دھاری پہر مین کے لڑکے کو دیکھا دیکھتے ہی عاشق ہو گیا اور اپنے ایک دوست کے آگے کہنے لگا کہ جو بہ ناری مجھے نہ میگی تو مین اپنا پران تجون گا اس عرصہ مین راجہ نیو تا کھا کتنے سمیت اپنے مندر کو آیا اور نتری کے بیٹے کی اسکی جدائی کی ڈاہ سے نپٹ کٹھن اوستھا ہوئی اور دانا پانی چھوڑ دیا ی حالت کو اسکے دوست سے جا دیوان سے کہا اور دیوان نے یہ حوال سن جاراجہ سے کہا مہاراج اس پر بہن کی ہو کی محبت مین میرے بیٹے کی بری حالت ہر کھانا پینا چھوڑ دیا ہو جو آپ کر پا کر کے برہمن کی بو کو مجھے دیدین تو سکی جان بچے بیسن راج نضبناک ہو کر بولا ارے شور کی ایسی است گزار اون کا در زمین پر سن ایک شخص کی تھا تھی بغیر اسکی آگیا کے دوسرے کو دنیا کیا اچت ہو تو مجھ سو یہ بات کہتا ہو یہ سنکے دیوان نر اس ہو اپنے گھر آیا براس لڑکے کا دکھ دیگران نے بھی کھا نا پینا چھوڑ دیا جبکہ تین دن دیوان کو بن دالنے پانی کے گڑے سنتے کا ربادیون نے اکٹھے ہو کر راجہ سے عرض کی کہ مہاراج دیوان کا لڑکا اب تب ہو رہا ہو اسکے مرنے سے دیوان بھی نہ بچایا اور دیون کے مرنے سے ان کا چلے گا ہتر یہ ہ ہ و معمور کرین و قبول ہو یہ سکے راجہ نے اگیا دی کہ کتوتب ان مین سے ایک شخص بولا مصابیح اس بوڑھے بر مین کو گئے ہوئے بہت دن ہوگئے ابتک پھر انہین بھیگو ان جانے وہ مر گیا یا جیتا ہو اس کو اچت یہ ہو کہ اس بوڑھے بر من کی ہو کو دیوان کے بیٹے کو دے اپنا اراج قائم رکھے اور کراچی وہ آیا تو اون دشن دیئے گا اگر راضی نہ ہوگا تو اسکے لڑکے کا یاد کربلا کیجئے گا یہ بات سن راجہ نے اس پر مین کی ہو کو بلاک کہا تو میرے دیوان کے لڑکے کے گھر جاوہ بولی اتری کا دھر ہر شٹ ہوتا ہر غیر خاوند کے پاس جانے سے اور برمین کا دھرم جاتا ہے راجہ کی سیوا کرنے سے اور گاہے خراب ہوتی ہر دور کی چرائی ہو اور دن جاتا ہو ادھر کرنے سے تا کہ وہ پھر وہی مہاراج تم مجھے دیوانے بیٹے کو دیتے ہو تو اس سے یہ ٹھہرا دیجئے کہ جوکچھ اس سرزمین کہون سو وہ کرے تب مین اسکے گھر جاؤن گی راجہ بولا کہ وہ کیا کرے اسنے کہا مہا راج مین برہمنی اور وہ چھتری اس سے بہتر یہ ہو کہ وہ پہلے سر سے تر تھے جاتر اگر آوے تب مین اسکے ساتھ گھر کر دن یہ بات سنے راجہ نے مشتری کے بے کو بلا کر کہا ہے تو یہی جاتین کر آب اس پر منی کو تجھے دیو ینگے راجہ کی بات سن دیوان کے بیٹے نے کہا مہاراج وہ میرے گھرجا بیٹھے تو مین تیرتھ کو جاؤن گا یہ بات راجہ نے اس پر ہنی سے کہی جو تم پہلے جاکر اسکے گھرین ہو تو وہ تیر تھے اترا جائے، ناچار ہو راجہ کے کہنے سے برہمنی اسکے گھرمین جاری تب دیوان کے لڑکے نے اپنی عورت سے کہا تم دونون نہایت پیارا خلاص سے با ہم ایک جگہ رہنا اور آپسی کسی طرح کا جھگڑا لڑائی نہ کرنا اور رانے گھر کبھی نہ جانا انہی سیکھ دے وہ تیرتھ اترا ہوگیا اور ادھر ا سکی بہو سو بھاگ سندری نام لازم 1-<noinclude></noinclude> jdp15cfsuwq0xhev4r9jt87pomid967 32446 32435 2026-04-30T21:01:19Z Charan Gill 46 32446 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کہ راجہ سارے کٹھب کو ساتھ لے کر دیوان کے گھر شادی مین گیا وہان دیوان کے بیٹے نے اس استری بھیش دھاری برہمن کے لڑکے کو دیکھا دیکھتے ہی عاشق ہو گیا اور اپنے ایک دوست کے آگے کہنے لگا کہ جو بہ ناری مجھے نہ ملیگی تو مین اپنا پران تجون گا اس عرصہ مین راجہ نیو تا کھا کتنے سمیت اپنے مندر کو آیا اور نتری کے بیٹے کی اسکی جدائی کی ڈاہ سے نپٹ کٹھن اوستھا ہوئی اور دانا پانی چھوڑ دیا ی حالت کو اسکے دوست سے جا دیوان سے کہا اور دیوان نے یہ حوال سن جاراجہ سے کہا مہاراج اس پر بہن کی ہو کی محبت مین میرے بیٹے کی بری حالت ہر کھانا پینا چھوڑ دیا ہو جو آپ کر پا کر کے برہمن کی بو کو مجھے دیدین تو سکی جان بچے بیسن راج نضبناک ہو کر بولا ارے شور کی ایسی است گزار اون کا در زمین پر سن ایک شخص کی تھا تھی بغیر اسکی آگیا کے دوسرے کو دنیا کیا اچت ہو تو مجھ سو یہ بات کہتا ہو یہ سنکے دیوان نر اس ہو اپنے گھر آیا براس لڑکے کا دکھ دیگران نے بھی کھا نا پینا چھوڑ دیا جبکہ تین دن دیوان کو بن دالنے پانی کے گڑے سنتے کا ربادیون نے اکٹھے ہو کر راجہ سے عرض کی کہ مہاراج دیوان کا لڑکا اب تب ہو رہا ہو اسکے مرنے سے دیوان بھی نہ بچایا اور دیون کے مرنے سے ان کا چلے گا ہتر یہ ہ ہ و معمور کرین و قبول ہو یہ سکے راجہ نے اگیا دی کہ کتوتب ان مین سے ایک شخص بولا مصابیح اس بوڑھے بر مین کو گئے ہوئے بہت دن ہوگئے ابتک پھر انہین بھیگو ان جانے وہ مر گیا یا جیتا ہو اس کو اچت یہ ہو کہ اس بوڑھے بر من کی ہو کو دیوان کے بیٹے کو دے اپنا اراج قائم رکھے اور کراچی وہ آیا تو اون دشن دیئے گا اگر راضی نہ ہوگا تو اسکے لڑکے کا یاد کربلا کیجئے گا یہ بات سن راجہ نے اس پر مین کی ہو کو بلاک کہا تو میرے دیوان کے لڑکے کے گھر جاوہ بولی اتری کا دھر ہر شٹ ہوتا ہر غیر خاوند کے پاس جانے سے اور برمین کا دھرم جاتا ہے راجہ کی سیوا کرنے سے اور گاہے خراب ہوتی ہر دور کی چرائی ہو اور دن جاتا ہو ادھر کرنے سے تا کہ وہ پھر وہی مہاراج تم مجھے دیوانے بیٹے کو دیتے ہو تو اس سے یہ ٹھہرا دیجئے کہ جوکچھ اس سرزمین کہون سو وہ کرے تب مین اسکے گھر جاؤن گی راجہ بولا کہ وہ کیا کرے اسنے کہا مہا راج مین برہمنی اور وہ چھتری اس سے بہتر یہ ہو کہ وہ پہلے سر سے تر تھے جاتر اگر آوے تب مین اسکے ساتھ گھر کر دن یہ بات سنے راجہ نے مشتری کے بے کو بلا کر کہا ہے تو یہی جاتین کر آب اس پر منی کو تجھے دیو ینگے راجہ کی بات سن دیوان کے بیٹے نے کہا مہاراج وہ میرے گھرجا بیٹھے تو مین تیرتھ کو جاؤن گا یہ بات راجہ نے اس پر ہنی سے کہی جو تم پہلے جاکر اسکے گھرین ہو تو وہ تیر تھے اترا جائے، ناچار ہو راجہ کے کہنے سے برہمنی اسکے گھرمین جاری تب دیوان کے لڑکے نے اپنی عورت سے کہا تم دونون نہایت پیارا خلاص سے با ہم ایک جگہ رہنا اور آپسی کسی طرح کا جھگڑا لڑائی نہ کرنا اور رانے گھر کبھی نہ جانا انہی سیکھ دے وہ تیرتھ اترا ہوگیا اور ادھر ا سکی بہو سو بھاگ سندری نام لازم 1-<noinclude></noinclude> 94aq02voxws8jig51dfkj3gktvl7qpw صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/44 250 13125 32436 2026-04-30T13:48:13Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «۴۳ بیتال انگلیسی رمی کی بہو کو اپنے ساتھ لے ایک بھونے پرات کو ٹی باتین اور ادھر کی کرنے لگین کتنی ایکے پر کے بعد اس دیوان کے لڑکے کی بہو نے یہ بات ہی سے کبھی اسوقت تو مین عشق مین چلی جاتی ہون مطلب میرا کیس طور سے حاصل ہو وہ زمین کی لڑکی بولی کہ اگر...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32436 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۴۳ بیتال انگلیسی رمی کی بہو کو اپنے ساتھ لے ایک بھونے پرات کو ٹی باتین اور ادھر کی کرنے لگین کتنی ایکے پر کے بعد اس دیوان کے لڑکے کی بہو نے یہ بات ہی سے کبھی اسوقت تو مین عشق مین چلی جاتی ہون مطلب میرا کیس طور سے حاصل ہو وہ زمین کی لڑکی بولی کہ اگر میرے طلب و مین پر اون تو تومجھے کیا گیا نے کہا سد ایتیرے آگے ہاتھ جوڑے فرمانبردار ہون گی تب یہ اپنے شہر سے گلے کو بحال مردنیا ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد بنتا اور دن کو عورت پھر ان دونون مین بڑی پریت ہو گئی غرض اسی طرح سے چھ مہینے بیتے اور دیوان کا لڑکا آپہونچا اودھر لوگ اسکے آنے کی خبرسن منگلا چار کرنے لگے اور ادھر پر بہن کی ہونے گٹکا منھ سے نکال مرد بن کھڑکی کی راہ سے بھی اپنی رہ لی پھر کتنی دیر مین اس مول دیو بر من کے پاس مرد به کے پہونچا کہ جنے اسے گٹکا دیا تھا اس سے سب اپنا شروع سے آختر یک حال کہا تب مول دیو نے تمام احوال سنگر گنگا اس سے لے اپنے ساتھی شیشی نام برمین کو دیا اور دونون نے گلے اپنے اپنے منھ مین کھےلئے ایک بوڑھا بنگیا اور دوسر نہین برس کا پھر یہ دونون راجہ کے یہان گئے راجہ نے دیکھتے ہی ڈنڈوت کر انکے بیٹھنے کو سن دیئے اور انھون نے بھی نہین دی راجہ نے انکی کل کھیم پوچھی مول دیوس کہا کہ اتنے دن تمھین کہان لگے بر من بولا مہا راج اسی پتر کو دھو دھنے کو یا تھا سوا سے کھو چکر آ کے پاس لے آیا ہون آپ اسکی بہو کو دو تومین بہو بیٹے کو اپنے گھر سجاؤن تب راجہ نے بر زمین کے آگے وہ سب احوال کہ سنا یا بر مین نے سنتے ہی بعد مفتے مین اگر راجہ سے کہا یہ کون ہو ہار ہر چوتھے میرے بیٹے کی بہو اور کو دی اچھا جو تمنے چاہا سو کیا پر اب میرا سراپ تو تب راجہ بولا کہ اسے دیو نا تم کر ودھا ست کرو جو تم کہو سومین کردن بر من بولا اچھا جو میرے سراب سے ڈر میرا کیا کرتا ہو تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو بیاہ دے یہ سن راجہ نے ایک جوتشی کو بلا مجھے لگن مہورت ٹھہرائی اور اپنی لڑکی اس بر یمن کے لڑکے سے بیاہ دی پھر وہان سے راج کیا کو دان جہیز سمیت نے راجہ سے رخصت ہو اپنے گاؤن مین آیا یہ خبرسن فسوسی بر میمن بھی اس سے جھگڑنے لگا کہ میر کی استری مجھے دیس سینی ناما بر من بولا کہ مین دس نچون مین بیاہ کر لایا ہون یا ستری میری ہو اسنے کہا اسے تو میرا گر بھ رہا ہے تیری آپسی جھگڑا کرنے لگے مول دیو نے اسکا کہا نہ مانا نی بولا اسے راجہ بیر کرنا کہ وہ عورت سیکی ہوئی راجہ نے کہا وہ استری ششی بر من کی ہوئی تب متال بولا گر چہ تو سومی کا تھا جو ششی بر مین کی کسطرح سو موٹی راجہ نے کہا اس پر مین کا پیٹ رکھوایا تو کسی کو معلوم نہ کیا اور ان نے دس خونین مجھے کے شادی کی اسلئے سکی جور د شھری اور جو لڑ کا ہوگاہ کی کمی کرنا کرم کا ادھا دی ہو گا یہات من چالا سی سمجھایان کرنا سے یہ ناری ہوئی کہ ان دونون کو بہت<noinclude></noinclude> 1rp9pbqzb8ypmbafdu6cjtllduskz80 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/45 250 13126 32437 2026-04-30T13:48:49Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «بیان ہی ۴۴ وکھ مین جال کا پھر راجہ گیا اور بال کو باندہ کان سے پر رکھ لیلا چندر موین کہانی جیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہو نہان گند معرب کا نگر ہو اور وہان کا راج راجہ شوکیست کرتا تھا ایک سمے اپنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کل...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32437 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیان ہی ۴۴ وکھ مین جال کا پھر راجہ گیا اور بال کو باندہ کان سے پر رکھ لیلا چندر موین کہانی جیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہو نہان گند معرب کا نگر ہو اور وہان کا راج راجہ شوکیست کرتا تھا ایک سمے اپنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری میوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بریانگ راجہ نے کہا کہ ایک پر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اس نے بہت خوشی کی اور ٹری دھوم دھام سے شادی کی بہت سادان پن کر ہمنون کو بلا اسکا نام کرن کیا بر منون نے انسکا نام جیموت با عن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہواتب شینو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شانتر منتر پرچھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو اسی بہادر دھرماتم پنڈت ہوا اس سے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہو تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برگش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی مجھے خواہش ہو سو مانگ مین مجھے دونگا پھر جیوت با من بود جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر دار جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برش نے بر دیا سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس علاج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے آکلین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہو گا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گھر جب یہ خر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام بول امہاراج آپ یہان بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude> qcd44z42d3xktcni1f355vf1uoe96tj صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/46 250 13127 32438 2026-04-30T13:49:21Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «۴۵ جیتال نقیبی دین با جانئے ہوئے دیہی کے آگے گا رہی تھی اس کینیا اور جیموت باہن کی چار نظرین ہو مین اور دونون کی لگن لگ گئی پر راج کیا من ارواح کے مارے اپنے گھر چلی آئی اور دھریہ بھی اس رسی کے بیٹے کی شرم کے مارے اپنے استھان پر آیا وہ رات دونون گل د...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32438 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۴۵ جیتال نقیبی دین با جانئے ہوئے دیہی کے آگے گا رہی تھی اس کینیا اور جیموت باہن کی چار نظرین ہو مین اور دونون کی لگن لگ گئی پر راج کیا من ارواح کے مارے اپنے گھر چلی آئی اور دھریہ بھی اس رسی کے بیٹے کی شرم کے مارے اپنے استھان پر آیا وہ رات دونون گل دارون کو نہایت بیگلی سے کئی صبح ہوتے ہی ادھورانہ کیا دیجی کے مندر کو گئی اور ادھر سے راجکمار نے بھی جاتے ہی دیکھا کہ راج کینا بھی مرتب اپنے اسکی سکی سے ایا کہ کیس کی کیا ہے سبھی کے کیا پی کی راہ کی پری پول باقی اسکا نام اور بھی کنواری ہے یہ کہ سیکھی نے اس راج پیر سے پو چھا کو مندر پر تم کہان کو آئے ہو اور تمھارا کیا نام ہے یہ بولا بد یا درون کا راجہ جمیت نام تیک مین بیٹا ہون اور جیموت با من میرا نام ہے میرا راج بھنگ ہونے سے ہم باپ بیٹے یہان آن کے رہے ان پر رکھی ہے یہ ا ر ا یش راج کیا کر مین یو پی پی پی یہ د وہ بہت دکھ پائے گھر کو آئی اور رات ختم می چری کا ا سکی نے ان کے آئے ۔ ظاہر کیا رانی نے سنگر راجہ کے آگے بیان کیا اور کہا مہا راج پتری آپ کی بر جوگ ہوئی ہے یہ کیون نہین ڈھونڈھتے یہ شکے راجہ نے اپنے جی مین چنتا کر اسی سے مترابسو نام اپنے پیر کو بلاکر کہا بیٹا اپنی بہن کا بہت ڈھونڈھ لاتب وہ بولا کہ مہاراج گندھریون کا راجہ موت گیت نامرتبہ کا تر جیموت با من کو دونگا اتنا کہ دونون گنا ہو کہ بیان آئے مین یہ تین ملیکیت راجہ نے کہایہ تیری جیموت باہن کو دن کا اتنا کہہ بیٹے کو آگیا دی کرت جیوت باہین راج کمار کو راجہ کے پاس سے جاکر لا لا ترا بس باپ کا حکم پاس کے مشیر گیا اور وہان جاکر اسکے پتا سے کہا کہ اپنے پیر کو ہمارے ساتھ کر دو کہ ہمارے بتانے کی اوان اپنے کو با نام یہ سن کے راجہ جیموت گیت نے اپنے بیٹے کو ساتھ کردیا اور ریموت با من بیان آیا پھر لیکیت راجہ نے اسکا گند حرب بواہ کردیا جبکہ سکی شادی ہو چکی تب ولعن کو اور پیر کواپنے استھان پر سیر آیا پرا مینیون نے راجہ کو ڈنڈوت کی اور راجہ نے بھی نہین ہین دی وہ دن تو یونین گذرا لیکن دوسرے ان صبح کو اٹھتے ہی دونون راجکمار کیا گر بریت پر پھرنے کو گئے وہان جاکر حیرت باہین کیا دیکھتا ہو کہ ایک نیفر ڈھیر اونچا سا ہے تب اپنے اپنے سالے سے پوچھا یہ دھولاڈ مین کیا نظر آتا ہے وہ بولا کہ با مال لوک سے کر درون باگ کمہا ربیان آنے مین ادھین گور آن کر کھاتا ہو یہ انفین کے ہاڑون کا ڈھیرا ہے یہ سنکے جیموت باہن نے مسالے سے کہا متر تم گر حالم بہوجن کرو اور مین اس سے اپنی نیت پوجا کرتا ہون کیونکہ میری پوجا کرنے کا اب وقت ہوا ہے یہ سن کے وہ تو گیا اور حیرت با این آگے کو جو بڑھا تو رونے کی آواز آنے لگی اس آواز کی وحسن پر چلا دیا جو پہونچا تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑھیا کھی سے بیا کل روتی ہے اس کے پاس جا کر پوچھا اسے ما تاتو کیس کارن روتی ہے ولی کمی کو پورام<noinclude></noinclude> lf4vbxzdsydecl91yx6u0d8zy1goj3d