ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.26 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/41 250 13122 32448 32432 2026-05-01T12:51:39Z BalramBodhi 60 32448 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>چنڈول مین لِٹا گھر کو لے آئین اور وہان برہمن کا لڑکا ایسا بے سُدھ پڑا تھا کہ اپنے تن من کی کچھ سُدھ نہ رکھتا تھا اس عرصہ مین دو برہمن ششی اور مول دیو نام کامردیس سے بدیا پڑھے ہوئے وہان آ نکلے مول دیو نے اس برہمن کے لڑکے کو پڑا دیکھ کر کہا اے ششی ایسا بے سُدہ یہ کیون پڑا ہے وہ بولا نائکہ نے بھوُن کی کمان سے نین کے تیر مارے ہین اس سے یہ بے سُدھ پڑا ہے مول دیو نے کہا اسے اٹھایا چاہیے اسنے کہا تمھین اٹھانے سے کیا درکار ہے اسنے ششی کا کہنا نہ مانا اور اسنے پانی چھڑک کے اٹھایا اور پوچھا تیری کیا حالت ہوئی ہے وہ برہمن بولا دکھ اس سے کہئے جو دکھ دور کرے اور جو سن کے دور نہ کر سکے اس سے کہنا کیا حاصِل وہ بولا اچھا تو اپنی پیر ہمارے آگے کہہ ہم دور کرینگے یہ سنکے وہ بولا کہ راج کنیا اپنی سکھیونکو ساتھ لیے آئی تھی سو اسکے دیکھنے سے یہ میری گت ہوئی ہے جو وہ ملیگی تو مین بھی جیو رکھونگا نہین تو پران تجونگا تب وہ بولا ہمارے استھان پر چل کہ اسکے ملنے کا ہم جتن کر دینگے اور نہین تو تجھے بہت سا دھن دینگے تب منسوی بولا کہ سنسار مین بھگوان نے بہت رتن پیدا کیے ہین پر استری رتن سب سے بہتر ہے اور اسکے لیے انسان دھن کی خواہش کرتا ہے جب ناری کو تیاگا تو دھن لیکر کیا کرونگا جن کو حسین عورت میسر نہ ہو اسنے تو دنیا مین جوان بھلے ہین دھرم کا دھن ہے پھل اور دھن کا پھل سکھ اور سکھ کا پھل ہے ناری اور جہان ناری نہین شُکھ کہا یہ سنکے مول دیو بولا جو تو مانگےگا سو دونگا تب اسنے کہا اے برہمن مجھے وہی کنیا دلا دے پھر مول دیو نے کہا اچھا تو ہمارے ساتھ چل تجھے وہی کنیا دلا دیوین گے غرض بہت سی تسلی کر اسے اپنے گھر لے گیا اور وہان جا کر دو گٹکے بنائے ایک گڑکا اس برہمن کو دے کر کہا جبّ یہ منھ مین رکھےگا تب تو بارہ برس کی کنیا ہو جائےگا اور جس وقت تو اسے منھ سے نکال لےگا تو مرد جیون کا تیون ہو جائیگا تو اسے اپنے مکھ مین رکھ اپنے جو اپنے مکھ مین رکھا تو بارہ برس کی کنیا ہو گیا اور دوسرے گٹکے کو جو اسے مکھ مین رکھا تو آپ اسی برس کا ڈوکر بن گیا اور اس کنیا کو لیے ہوئے راجہ کے یہان گیا راجہ نے برہمن کو دیکھ کر ڈنڈوت کر آسن بیٹھنے کو دیا اور ایک آسن لڑکی کو بھی تب برہمن نے ایک اشلوک پڑھ اسیس دی کہ جس کی شوبھا تینون لوک مین پھیل رہی ہے اور جن نے بامن ہو راجا بل کو چھلا اور جن نے بندر ساتھ لے سمندر کا پل باندھا اور جن نے پربت ہاتھ پر رکھ کر اندر کے ہجر سے گوال بال بچائے سو ہی باسودیو تمھاری رکھشا کرے یہ سنکے راجہ نے پوچھا مہاراج آپ کہان سے پدھارے مول دیو برہمین بولا کہ گنگا پار سے مین آیا ہون اور وہی میرا گھر ہے اور مین اپنے بیٹے کی ہہو کو لینے گیا تھا پیچھے میرے گاؤن مین بھگدڑ پڑی سو مین نہین جانتا کہ برہمنی اور میرا لڑکا کہان بھاگ گئے اور اب مین اسکو ساتھ لئے ہوئے انھین کس طرح ڈھونڈون گا اس سے<noinclude></noinclude> 7pam042x071e8rr9yvd1x7r7apg7dcc صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/43 250 13124 32447 32446 2026-05-01T12:13:41Z Charan Gill 46 32447 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کہ راجہ سارے کٹھب کو ساتھ لے کر دیوان کے گھر شادی مین گیا وہان دیوان کے بیٹے نے اس استری بھیش دھاری برہمن کے لڑکے کو دیکھا دیکھتے ہی عاشق ہو گیا اور اپنے ایک دوست کے آگے کہنے لگا کہ جو بہ ناری مجھے نہ ملیگی تو مین اپنا پران تجون گا اس عرصہ مین راجہ نیوتا کھا کنبے سمیت اپنے مندر کو آیا اور منتری کے بیٹے کی اسکی جدائی کی ڈاہ سے نپٹ کٹھِن اوستھا ہوئی اور دانا پانی چھوڑ دیا یہ حالت دیکھ اسکے دوست نے جا دیوان سے کہا اور دیوان نے یہ حوال سن جا راجہ سے کہا مہاراج اس برہمن کی بہو کی محبت مین میرے بیٹے کی بری حالت ہے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے جو آپ کرپا کر کے برہمن کی بہو کو مجھے دیدین تو اسکی جان بچے بیسن راج نضبناک ہو کر بولا ارے شور کی ایسی است گزار اون کا در زمین پر سن ایک شخص کی تھا تھی بغیر اسکی آگیا کے دوسرے کو دنیا کیا اچت ہو تو مجھ سو یہ بات کہتا ہو یہ سنکے دیوان نر اس ہو اپنے گھر آیا براس لڑکے کا دکھ دیگران نے بھی کھا نا پینا چھوڑ دیا جبکہ تین دن دیوان کو بن دالنے پانی کے گڑے سنتے کا ربادیون نے اکٹھے ہو کر راجہ سے عرض کی کہ مہاراج دیوان کا لڑکا اب تب ہو رہا ہو اسکے مرنے سے دیوان بھی نہ بچایا اور دیون کے مرنے سے ان کا چلے گا ہتر یہ ہ ہ و معمور کرین و قبول ہو یہ سکے راجہ نے اگیا دی کہ کتوتب ان مین سے ایک شخص بولا مصابیح اس بوڑھے بر مین کو گئے ہوئے بہت دن ہوگئے ابتک پھر انہین بھیگو ان جانے وہ مر گیا یا جیتا ہو اس کو اچت یہ ہو کہ اس بوڑھے بر من کی ہو کو دیوان کے بیٹے کو دے اپنا اراج قائم رکھے اور کراچی وہ آیا تو اون دشن دیئے گا اگر راضی نہ ہوگا تو اسکے لڑکے کا یاد کربلا کیجئے گا یہ بات سن راجہ نے اس پر مین کی ہو کو بلاک کہا تو میرے دیوان کے لڑکے کے گھر جاوہ بولی اتری کا دھر ہر شٹ ہوتا ہر غیر خاوند کے پاس جانے سے اور برمین کا دھرم جاتا ہے راجہ کی سیوا کرنے سے اور گاہے خراب ہوتی ہر دور کی چرائی ہو اور دن جاتا ہو ادھر کرنے سے تا کہ وہ پھر وہی مہاراج تم مجھے دیوانے بیٹے کو دیتے ہو تو اس سے یہ ٹھہرا دیجئے کہ جوکچھ اس سرزمین کہون سو وہ کرے تب مین اسکے گھر جاؤن گی راجہ بولا کہ وہ کیا کرے اسنے کہا مہا راج مین برہمنی اور وہ چھتری اس سے بہتر یہ ہو کہ وہ پہلے سر سے تر تھے جاتر اگر آوے تب مین اسکے ساتھ گھر کر دن یہ بات سنے راجہ نے مشتری کے بے کو بلا کر کہا ہے تو یہی جاتین کر آب اس پر منی کو تجھے دیو ینگے راجہ کی بات سن دیوان کے بیٹے نے کہا مہاراج وہ میرے گھرجا بیٹھے تو مین تیرتھ کو جاؤن گا یہ بات راجہ نے اس پر ہنی سے کہی جو تم پہلے جاکر اسکے گھرین ہو تو وہ تیر تھے اترا جائے، ناچار ہو راجہ کے کہنے سے برہمنی اسکے گھرمین جاری تب دیوان کے لڑکے نے اپنی عورت سے کہا تم دونون نہایت پیارا خلاص سے با ہم ایک جگہ رہنا اور آپسی کسی طرح کا جھگڑا لڑائی نہ کرنا اور رانے گھر کبھی نہ جانا انہی سیکھ دے وہ تیرتھ اترا ہوگیا اور ادھر ا سکی بہو سو بھاگ سندری نام لازم 1-<noinclude></noinclude> lly2bbet91i4qnionwppt5jv6usyxlz