ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.26
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/37
250
13104
32454
32399
2026-05-03T03:32:14Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
32454
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لایا ان دونون مین بہت محبت ہو گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہوئی کو بمان پر رکھ کر لے اڑا اور کتنی دیر کے پیچھے برہمن بھی سوتے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھبریا اور وہان سے اتر کر تمام گھر مین ڈھونڈھا جب اُسے وِہان نہ ملی تو ساری نگری کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھرا لیکن کہین اسے نہ پایا پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کہان گئی غرض جب کچھ بس چل نہ سکا تو آخر ناچار ہو افسوس کرتا ہوا گھر آیا اور وِہان پھر اُسے دوُبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گھر سونا نظر آیا تب نہایت بیچینی اور بے کلی سے بےاختیار ہو ہائے پران پیاری ہائے پران پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت بچین ہو گرہستی چھوڑ کر بیراگ لے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پہن نگر تج تیرتھ جاترا کو نکلا نگر نگر گاؤُن گاؤُن تیرتھ کرتا ہوا ایک نگر مین دوپہر کے سمے جا پہونچا جب بھوک سے بیحد ناچار ہوا تو ڈھاک کے پتون کا دونا بنا ہاتھ مین لے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھوجن بھکشا دو غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہوتا ہے تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچار نہین رہتا اور نرآدر ہو جہان پاتا ہے تہان کھاتا ہے جب اس برہمن سے اتنی بھیک مانگی تب اسنے اس سے دونا لے گھر مین جا کھیر سے بھر لا دیا یہ اُس دونے کو لیے تالاب کے کنارے آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جڑ مین دونا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین مُنھ ڈال چلا گیا اور وہ دونا تمام زہر سے بھر گیا اتنے مین وہ برہمن بھی ہاتھ منھ دھو کر آیا پر اسے یہ احوال معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آتے ہی اسنے ساری کھیر کھا ڑالی کھاتے ہی اسے زہر چڑھ گیا پھر اُن نے ہرہمن سے جاکر کہا کہ تونے میرے تئین زہر دیا اور مین اب اس سے مرتا ہون اتنا کہہ گھوم کر گرا اور مر گیا پھر اس برہمن نے اسے مرا ہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھر سے نکال دیا اور کہا برہمہ ہتیاری تو یہان سے جا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ اس مین برہمہ ہتیا کا پاپ کِسکو ہوا راجہ نے کہا سانپ کے مکھ مین تو زہر ہوتا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس برہمن نے بھوکھا جانکے بھکشا دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس برہمنی نے سوامی کی آگیا سے بھیکھ دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی تِس سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی پاپ لگا وے وہی پاپی ہے یہ سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہان جا اسے اتار باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا<noinclude></noinclude>
r4znfizyx8zads0v60ysooos3tew1bh
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/42
250
13123
32449
32445
2026-05-02T12:43:48Z
BalramBodhi
60
32449
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بہتر یہ ہے کہ آپ کے پاس اسے چھوڑتا جاؤن جب تک کہ مین نہ آؤن اسی جتن سے رکھنا یہ بات برہمن کی سن راجہ اپنے چت مین چنتا کرنے لگا کہ بہت خوبصورت جوان عورت کو مین کس طرح رکھونگا اور جو نہیں رکھتا ہون تو برہمن سراپ دیگا میرا راج بھنگ ہو جائے گا یہ اپنے جی مین بچار کے بولا مہاراج جو آپ نے اگیا کی قبول ہے پھر راجہ نےاپنی لڑکی کو بلاکر کہا ہیٹی اس برہمن کی بہو کو اپنے پاس لیجا کر بہت جتن سے رکھو
{{center|'''مول دیو کا آنا اور اس برہمن کو عورت بنا کر راجہ بکرم کسماوتی کے حضور لیجانا اور'''</br>
'''راجہ کا اس عورت کو اپنی لڑکی چندر پربھا کو سوپنا'''}}
اور سوتے جاگتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے چھن بھر اپنے پاس سے جدا مت کیجیو یہ سن راج کنیا اس برہمن کی بہو کا ہاتھ پکڑ اپنے محل مین لےگئی رات کے وقت دونون ایک سیج پر سوئن اور آپس مین باتین کرنے لگین باتین کرتے کرتے برہمن کی بہو بولی اے راج کنیا تو کِس دکھ کی ماری بہت دبلی ہو رہی ہے سو مجھ سے کہہ راج کنیا بولی ایک دِن بسنت رت مین سکھیونکو ساتھ لیئے مین باغ کی سیر کو گئی تھی اور وہان ایک برہمن بہت سندر کام دیو کے سمان مین نے دیکھا اور اسکی میری چار نظرین ہوئین ادھر وہ بیہوش ہوا ادھر مین بے سُدھ ہوئی تب سکھیان میری اوستھا دیکھ گھر کو لے آئین مین اسکا ناؤن ٹھاؤن کچھ نہین جانتی میری آنکھون مین وہی صورت سما رہی ہے مجھے کھانے پینے کی بھی کچھ رچ نہین اس درد سے میرے شریر کی یہ دسا ہوئی ہے یہ سنکے وہ برہمن کی بہو بولی جو تیرے پریتم سے تجھے ملا دون تو مجھے کیا دیگی راج کنیم بولی کہ سدا تیری داسی ہون گی یہ سنکے وہ گٹکا اپنے منھ سے نِکال پھر مرد ہو گیا اور یہ اسے دیکھ کے شرمائی پھر اس برہمن کے لڑکے نے گندھرب بواہ کی ریت سے اسکے ساتھ بیاہ کیا اور ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد ہوتا اور دن کو عورت بنا رہتا آخِرکار چھ مہینے کے پچھے راج کنیا کو گربھ رہا ایک دِن کا ذِکر ہے<noinclude></noinclude>
1s3u71t4fqy84imwzc53t6x26pasnt0
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/43
250
13124
32450
32447
2026-05-02T13:32:04Z
BalramBodhi
60
32450
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کہ راجہ سارے کٹمب کو ساتھ لے کر دیوان کے گھر شادی مین گیا وہان دیوان کے بیٹے نے اس استری بھیش دھاری برہمن کے لڑکے کو دیکھا دیکھتے ہی عاشِق ہو گیا اور اپنے ایک دوست کے آگے کہنے لگا کہ جو یہ ناری مجھے نہ ملیگی تو مین اپنا پران تجون گا اس عرصہ مین راجہ نیوتا کھا کنبے سمیت اپنے مندر کو آیا اور منتری کے بیٹے کی اسکی جدائی کی ڈاہ سے نپٹ کٹھِن اوستھا ہوئی اور دانا پانی چھوڑ دیا یہ حالت دیکھ اسکے دوست نے جا دیوان سے کہا اور دیوان نے یہ حوال سن جا راجہ سے کہا مہاراج اس برہمن کی بہو کی محبت مین میرے بیٹے کی بری حالت ہے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے جو آپ کرپا کر کے برہمن کی بہو کو مجھے دیدین تو اسکی جان بچے یہ سن راجہ غضبناک ہو کر بولا ارے مُورکھ ایسی اینت کرنا راجاؤن کا دھرم نہین ہے سن ایک شخص کی تھاتھی بغیر اسکی آگیا کے دوسرے کو دنیا کیا اچت ہے جو تو مجھ سے یہ بات کہتا ہے یہ سنکے دیوان نراس ہو اپنے گھر آیا پر اس لڑکے کا دکھکر ان نے بھی کھانا پینا چھوڑ دیا جبکہ تین دن دیوان کو بن دانے پانی کے گجرے سنتے کارباریون نے اکٹھے ہو کر راجہ سے عرض کی کہ مہاراج دیوان کا لڑکا اب تب ہو رہا ہے اسکے مرنے سے دیوان بھی نہ بچیگا اور دیون کے مرنے سے راج کاج نہ چلے گا ہہتر یہ ہے کہ جو ہم عرض کرین سو قبول ہو یہ سنکے راجہ نے اگیا دی کہ کہو تب ان مین سے ایک شخص بولا مہاراج اس بوڑھے برہمن کو گئے ہوئے بہت دن ہوگئے ابتک وہ پھر انہین بھگوان جانے وہ مر گیا یا جیتا ہے اِس سے اچت یہ ہے کہ اس بوڑھے برہمن کی بہو کو دیوان کے بیٹے کو دے اپنا راج قائم رکھیئے اور کداچت وہ آیا تو گاؤن دھن دیجئےگا اگر اسپر راضی نہ ہوگا تو اسکے لڑکے کا بیاہ
کر بدا کیجئےگا یہ بات سن راجہ نے اس برہمین کی ہہو کو بلا کر کہا تو میرے دیوان کے لڑکے کے گھر جا وہ بولی استری کا دھرم نشٹ ہوتا ہے غیر خاوند کے پاس جانے سے اور برہمین کا دھرم جاتا ہے راجہ کی سیوا کرنے سے اور گاے خراب ہوتی ہے دور کی چرائی سے اور دھن جاتا ہے ادھرم کرنے سے اتنا کہہ وہ پھر بولی مہاراج تم مجھے دیوانکے
بیٹے کو دیتے ہو تو اس سے یہ ٹھہرا دیجئے کہ جو کچھ اس سے مین کہون سو وہ کرے تب مین اسکے گھر جاؤن گی راجہ بولا کہ وہ کیا کرے اسنے کہا مہاراج مین برہمنی اور وہ چھتری اس سے بہتر یہ ہے کہ وہ پہلے سب سے تیرتھ جاترا کر آوے تب مین اسکے ساتھ گھر کرون یہ بات سنکے راجہ نے منتری کے بیٹے کو بلا کر کہا پہلے تو تیرتھ جاترا
کر آ تب اس برہمنی کو تجھے دیوینگے راجہ کی بات سن دیوان کے بیٹے نے کہا مہاراج وہ میرے گھر جا بیٹھے تو مین تیرتھ کو جاؤن گا یہ بات راجہ نے اس برہمنی سے کہی جو تم پہلے جاکر اسکے گھر مین رہو تو وہ تیرتھ جاتراجاوے ناچار ہو راجہ کے کہنے سے برہمنی اسکے گھر مین جا رہی تب دیوان کے لڑکے نے اپنی عورت سے کہا تم دونون نہایت پیار اخلاص سے باہم ایک جگہ رہنا اور آپسمین کِسی طرح کا جھگڑا لڑائی نہ کرنا اور برانے گھر کبھی نہ جانا اتنی سیکھ دے وہ تیرتھ جاترا کو گیا اور اِدھر اسکی بہو سوبھاگ سندری نام
لازم 1-<noinclude></noinclude>
i2maduv8796ktizo14xpewvr88bo3qx
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/44
250
13125
32451
32436
2026-05-02T15:32:15Z
Kaur.gurmel
74
32451
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>برہمن کی بہو کو اپنے ساتھ لے ایک بچھونے پر رات کو لیٹی باتین اور اِدھر اُدھر کی کرنے لگین کتنی ایکے دیر کے بعد اس دیوان
کے لڑکے کی بہو نے یہ بات کہی اے سکھی اسوقت تو مین عِشق مین جلی جاتی ہون مطلب میرا کیس طور سے حاصِل ہو وہ برہمن کی لڑکی بولی کہ اگر میرے مطلب کو مین بر لاون تو تو مجھے کیا دیگی اس نے کہا سدا تیرے آگے ہاتھ جوڑے فرمانبردار رہونگی تب یہ اپنے شہر سے گلے کو بحال مردنیا ہمیشہ اسی طرح
رات
کو مرد بنتا اور دن کو عورت پھر ان دونون مین بڑی پریت ہو گئی غرض اسی طرح سے چھ مہینے بیتے
اور دیوان
کا لڑکا آپہونچا اودھر لوگ اسکے آنے کی خبرسن منگلا چار کرنے لگے اور ادھر پر بہن کی ہونے
گٹکا منھ سے نکال مرد بن کھڑکی کی راہ سے بھی اپنی رہ لی پھر کتنی دیر مین اس مول دیو بر من کے پاس
مرد
به کے
پہونچا کہ جنے اسے گٹکا دیا تھا اس سے سب اپنا شروع سے آختر یک حال
کہا تب مول دیو نے تمام احوال
سنگر گنگا اس سے لے اپنے ساتھی شیشی نام برمین کو دیا اور دونون نے گلے اپنے اپنے منھ مین کھےلئے
ایک بوڑھا بنگیا اور دوسر نہین برس کا پھر یہ دونون راجہ کے یہان گئے راجہ نے دیکھتے ہی ڈنڈوت
کر انکے بیٹھنے کو سن دیئے اور انھون نے بھی نہین دی راجہ نے انکی کل کھیم پوچھی مول دیوس کہا کہ
اتنے دن تمھین کہان لگے بر من بولا مہا راج اسی پتر کو دھو دھنے کو یا تھا سوا سے کھو چکر آ کے
پاس لے آیا ہون آپ اسکی بہو کو دو تومین بہو بیٹے کو اپنے گھر سجاؤن تب راجہ نے بر زمین کے آگے
وہ سب احوال
کہ سنا یا بر مین نے سنتے ہی بعد مفتے مین اگر راجہ سے کہا یہ کون ہو ہار ہر چوتھے میرے
بیٹے کی بہو اور کو دی اچھا جو تمنے چاہا سو کیا پر اب میرا سراپ تو تب راجہ بولا کہ اسے دیو نا تم کر ودھا
ست کرو جو تم کہو سومین کردن بر من بولا اچھا جو میرے سراب سے ڈر میرا کیا کرتا ہو تو اپنی لڑکی
میرے لڑکے کو بیاہ دے یہ سن راجہ نے ایک جوتشی کو بلا مجھے لگن مہورت ٹھہرائی اور اپنی لڑکی اس
بر یمن کے لڑکے سے بیاہ دی پھر وہان سے راج کیا کو دان جہیز سمیت نے راجہ سے رخصت ہو اپنے
گاؤن مین آیا یہ خبرسن فسوسی بر میمن بھی اس سے جھگڑنے لگا کہ میر کی استری مجھے دیس سینی ناما
بر من بولا کہ مین دس نچون مین بیاہ کر لایا ہون یا ستری میری ہو اسنے کہا اسے تو میرا گر بھ رہا ہے
تیری آپسی جھگڑا کرنے لگے مول دیو
نے اسکا کہا نہ مانا نی بولا اسے راجہ بیر کرنا کہ وہ عورت سیکی
ہوئی راجہ نے کہا وہ استری ششی بر من کی ہوئی تب متال بولا گر چہ تو سومی کا تھا جو ششی بر مین کی
کسطرح سو موٹی راجہ نے کہا اس پر مین کا پیٹ رکھوایا تو کسی کو معلوم نہ کیا اور ان نے دس خونین مجھے کے
شادی کی اسلئے سکی جور د شھری اور جو لڑ کا ہوگاہ کی کمی کرنا کرم کا ادھا دی ہو گا یہات من چالا سی
سمجھایان کرنا سے یہ ناری ہوئی کہ ان دونون کو بہت<noinclude></noinclude>
6npv1ua7snnx21bxm178mq96sqezywd
32452
32451
2026-05-02T17:28:47Z
Charan Gill
46
32452
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>برہمن کی بہو کو اپنے ساتھ لے ایک بچھونے پر رات کو لیٹی باتین اور اِدھر اُدھر کی کرنے لگین کتنی ایکے دیر کے بعد اس دیوان کے لڑکے کی بہو نے یہ بات کہی اے سکھی اسوقت تو مین عِشق مین جلی جاتی ہون مطلب میرا کِس طور سے حاصِل ہو وہ برہمن کی لڑکی بولی کہ اگر میرے مطلب کو مین بر لاون تو تو مجھے کیا دیگی اس نے کہا سدا تیرے آگے ہاتھ جوڑے فرمانبردار رہونگی تب یہ اپنے منھ سے گٹکے کو نکاال مرد بنگیا ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد بنگتا اور دن کو عورت پھر ان دونون مین بڑی پریت ہو گئی غرض اسی طرح سے چھ مہینے بیتے اور دیوان کا لڑکا آپہونچا اودھر لوگ اسکے آنے کی خبر سن منگلاچار کرنے لگے اور ادھر برہمن کی ہہو نے گٹکا منھ سے نکال مرد بن کھڑکی کی راہ سے نِکل اپنی رہ لی پھر کِتنی دیر مین اس مول دیو برہمن کے پاس پہونچا کہ جسنے اسے گٹکا دیا تھا اس سے سب اپنا شروع سے آختر یک حال
کہا تب مول دیو نے تمام احوال سنکر گٹکا اس سے لے اپنے ساتھی ششی نام برمین کو دیا اور دونون نے گٹکے اپنے اپنے منھ مین رکھ لئے ایک بوڑھا بنگیا اور دوسرا بیس برس کا پھر یہ دونون راجہ کے یہان گئے راجہ نے دیکھتے ہی ڈنڈوت
کر انکے بیٹھنے کو آسن دیئے اور انھون نے بھی نہین دی راجہ نے انکی کل کھیم پوچھی مول دیوس کہا کہ
اتنے دن تمھین کہان لگے بر من بولا مہا راج اسی پتر کو دھو دھنے کو یا تھا سوا سے کھو چکر آ کے
پاس لے آیا ہون آپ اسکی بہو کو دو تومین بہو بیٹے کو اپنے گھر سجاؤن تب راجہ نے بر زمین کے آگے
وہ سب احوال
کہ سنا یا بر مین نے سنتے ہی بعد مفتے مین اگر راجہ سے کہا یہ کون ہو ہار ہر چوتھے میرے
بیٹے کی بہو اور کو دی اچھا جو تمنے چاہا سو کیا پر اب میرا سراپ تو تب راجہ بولا کہ اسے دیو نا تم کر ودھا
ست کرو جو تم کہو سومین کردن بر من بولا اچھا جو میرے سراب سے ڈر میرا کیا کرتا ہو تو اپنی لڑکی
میرے لڑکے کو بیاہ دے یہ سن راجہ نے ایک جوتشی کو بلا مجھے لگن مہورت ٹھہرائی اور اپنی لڑکی اس
بر یمن کے لڑکے سے بیاہ دی پھر وہان سے راج کیا کو دان جہیز سمیت نے راجہ سے رخصت ہو اپنے
گاؤن مین آیا یہ خبرسن فسوسی بر میمن بھی اس سے جھگڑنے لگا کہ میر کی استری مجھے دیس سینی ناما
بر من بولا کہ مین دس نچون مین بیاہ کر لایا ہون یا ستری میری ہو اسنے کہا اسے تو میرا گر بھ رہا ہے
تیری آپسی جھگڑا کرنے لگے مول دیو
نے اسکا کہا نہ مانا نی بولا اسے راجہ بیر کرنا کہ وہ عورت سیکی
ہوئی راجہ نے کہا وہ استری ششی بر من کی ہوئی تب متال بولا گر چہ تو سومی کا تھا جو ششی بر مین کی
کسطرح سو موٹی راجہ نے کہا اس پر مین کا پیٹ رکھوایا تو کسی کو معلوم نہ کیا اور ان نے دس خونین مجھے کے
شادی کی اسلئے سکی جور د شھری اور جو لڑ کا ہوگاہ کی کمی کرنا کرم کا ادھا دی ہو گا یہات من چالا سی
سمجھایان کرنا سے یہ ناری ہوئی کہ ان دونون کو بہت<noinclude></noinclude>
o9a3sa8c0d9a6938xikmupy51h4hws8
32453
32452
2026-05-02T22:20:26Z
Charan Gill
46
32453
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>برہمن کی بہو کو اپنے ساتھ لے ایک بچھونے پر رات کو لیٹی باتین اور اِدھر اُدھر کی کرنے لگین کتنی ایکے دیر کے بعد اس دیوان کے لڑکے کی بہو نے یہ بات کہی اے سکھی اسوقت تو مین عِشق مین جلی جاتی ہون مطلب میرا کِس طور سے حاصِل ہو وہ برہمن کی لڑکی بولی کہ اگر میرے مطلب کو مین بر لاون تو تو مجھے کیا دیگی اس نے کہا سدا تیرے آگے ہاتھ جوڑے فرمانبردار رہونگی تب یہ اپنے منھ سے گٹکے کو نکاال مرد بنگیا ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد بنگتا اور دن کو عورت پھر ان دونون مین بڑی پریت ہو گئی غرض اسی طرح سے چھ مہینے بیتے اور دیوان کا لڑکا آپہونچا اودھر لوگ اسکے آنے کی خبر سن منگلاچار کرنے لگے اور ادھر برہمن کی ہہو نے گٹکا منھ سے نکال مرد بن کھڑکی کی راہ سے نِکل اپنی رہ لی پھر کِتنی دیر مین اس مول دیو برہمن کے پاس پہونچا کہ جسنے اسے گٹکا دیا تھا اس سے سب اپنا شروع سے آختر یک حال
کہا تب مول دیو نے تمام احوال سنکر گٹکا اس سے لے اپنے ساتھی ششی نام برمین کو دیا اور دونون نے گٹکے اپنے اپنے منھ مین رکھ لئے ایک بوڑھا بنگیا اور دوسرا بیس برس کا پھر یہ دونون راجہ کے یہان گئے راجہ نے دیکھتے ہی ڈنڈوت
کر انکے بیٹھنے کو آسن دیئے اور انھون نے بھی اسیس دی راجہ نے انکی کشل کھیم پوچھی مول دیو سے کہا کہ اتنے دن تمھین کہان لگے برہمن بولا مہاراج اسی پتر کو دھودھنے کو گیا تھا سو اسے کھوج کر آپکے پاس لے آیا ہون آپ اسکی بہو کو دو تو مین بہو بیٹے کو اپنے گھر لیجاؤن تب راجہ نے برہمن کے آگے وہ سب احوال کہہ سنایا برہمن نے سنتے ہی بجد غصّے مین آکر راجہ سے کہا یہ کون بیوہار ہے جو تمنے میرے بیٹے کی بہو اور کو دی اچھا جو تمنے چاہا سو کیا پر اب میرا سراپ لو تب راجہ بولا کہ اے دیوتا تم کرودھ مت کرو جو تم کہو سو مین کرون برہمن بولا اچھا جو میرے سراپ سے ڈر کر میرا کہا کرتا ہے تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو بیاہ دے یہ سن راجہ نے ایک جوتشی کو بلا سبھ لگن مہورت ٹھہرائی اور اپنی لڑکی اس برہمن کے لڑکے سے بیاہ دی پھر وہان سے راج کنیا کو دان جہیز سمیت لے راجہ سے رخصت ہو اپنے
گاؤن مین آیا یہ خبر سن منسوی برہمن بھی اس سے جھگڑنے لگا کہ میری استری مجھے دے سسی نام برہمن بولا کہ مین دس پنچون مین بیاہ کر لایا ہون یہ استری میری ہے اسنے کہا اسے تو میرا گربھ رہا ہے تیری کِس طرح سے یہ ناری ہوگی اس طرح آپسمین جھگڑا کرنے لگے مول دیو نے اِن دونون کو بہت سمجھایا لیکن کِسی نے اسکا کہا نہ مانا اتنی کتھا کہہ بتال بولا اے راجہ بیر بکرماجیت کہہ وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا وہ استری ششی برہمن کی ہوئی تب بیتال بولا گربھ تو منسوی کا تھا جورو ششی برہمن کی کسطرح سے ہوئی راجہ نے کہا اس برہمن کا پیٹ رکھوایا تو کسی نے معلوم نہ کیا اور ان نے دس پنچونمین بیٹھ کے شادی کی اسلئے اِسکی جورو تھہری اور جو لڑکا ہوگا وہ سسی کا ہے کرتا کرم کا ادھاوی ہو گا یہ بات سن بیٹل بولا سی<noinclude></noinclude>
3c88n7ntecw8nq05z4vfimwzxy9drvg
32456
32453
2026-05-03T10:34:42Z
BalramBodhi
60
32456
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>برہمن کی بہو کو اپنے ساتھ لے ایک بچھونے پر رات کو لیٹی باتین اِدھر اُدھر کی کرنے لگین کتنی ایکے دیر کے بعد اس دیوان کے لڑکے کی بہو نے یہ بات کہی اے سکھی اسوقت تو مین عِشق مین جلی جاتی ہون مطلب میرا کِس طور سے حاصِل ہو برہمن کی لڑکی بولی کہ اگر تیرے مطلب کو مین بر لاون تو تو مجھے کیا دیگی اس نے کہا سدا تیرے آگے ہاتھ جوڑے فرمانبردار رہونگی تب یہ اپنے منھ سے گٹکے کو نکاال مرد بنگیا ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد بنتا اور دن کو عورت پھر ان دونون مین بڑی پریت ہو گئی غرض اسی طرح سے چھ مہینے بیتے اور دیوان کا لڑکا آ پہونچا اودھر لوگ اسکے آنے کی خبر سن منگلاچار کرنے لگے اور ادھر برہمن کی ہہو نے گٹکا منھ سے نکال مرد بن کھڑکی کی راہ سے نِکل اپنی رہ لی پھر کِتنی دیر مین اس مول دیو برہمن کے پاس پہونچا کہ جسنے اسے گٹکا دیا تھا اس سے سب اپنا شروع سے آخر یک حال کہا تب مول دیو نے تمام احوال سنکر گٹکا اس سے لے اپنے ساتھی ششی نام برمین کو دیا اور دونون نے گٹکے اپنے اپنے منھ مین رکھ لئے ایک بوڑھا بنگیا اور دوسرا بیس برس کا پھر یہ دونون راجہ کے یہان گئے راجہ نے دیکھتے ہی ڈنڈوت کر انکے بیٹھنے کو آسن دیئے اور انھون نے بھی اسیس دی راجہ نے انکی کشل کھیم پوچھی مول دیو سے کہا کہ اتنے دن تمھین کہان لگے برہمن بولا مہاراج اسی پتر کو ڑھوڑھنے کو گیا تھا سو اسے کھوج کر آپکے پاس لے آیا ہون آپ اسکی بہو کو دو تو مین بہو بیٹے کو اپنے گھر لیجاؤن تب راجہ نے برہمن کے آگے وہ سب احوال کہہ سنایا برہمن نے سنتے ہی بجد غصّے مین آکر راجہ سے کہا یہ کون بیوہار ہے جو تمنے میرے بیٹے کی بہو اور کو دی اچھا جو تمنے چاہا سو کیا پر اب میرا سراپ لو تب راجہ بولا کہ اے دیوتا تم کرودھ مت کرو جو تم کہو سو مین کرون برہمن بولا اچھا جو میرے سراپ سے ڈر کر میرا کہا کرتا ہے تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو بیاہ دے یہ سن راجہ نے ایک جوتشی کو بلا سبھ لگن مہورت ٹھہرائی اور اپنی لڑکی اس برہمن کے لڑکے سے بیاہ دی پھر وہان سے راج کنیا کو دان جہیز سمیت لے راجہ سے رخصت ہو اپنے گاؤن مین آیا یہ خبر سن منسوی برہمن بھی اس سے جھگڑنے لگا کہ میری استری مجھے دے سسی نام برہمن بولا کہ مین دس پنچون مین بیاہ کر لایا ہون یہ استری میری ہے اسنے کہا اسے تو میرا گربھ رہا ہے تیری کِس طرح سے یہ ناری ہوگی اسطرح آپسمین جھگڑا کرنے لگے مول دیو نے اِن دونون کو بہت سمجھایا لیکن کِسی نے اسکا کہا نہ مانا اتنی کتھا کہہ بتال بولا اے راجہ بیر بکرماجیت کہو وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا وہ استری ششی برہمن کی ہوئی تب بیتال بولا گربھ تو منسوی کا تھا جورو ششی برہمن کی کسطرح سے ہوئی راجہ نے کہا اس برہمن کا پیٹ رکھوایا تو کسی نے معلوم نہ کیا اور ان نے دس پنچونمین بیٹھ کے شادی کی اسلئے اِسکی جورو ٹھہری اور جو لڑکا ہوگا وہ سسی کے ہی کرتا کرم کا ادھاوی ہوگا یہ بات سن بیٹال اسے<noinclude></noinclude>
2cv6mzv3qzchcpcvgjp7av6su2f6mdc
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/45
250
13126
32455
32437
2026-05-03T06:45:35Z
Tamanpreet Kaur
81
/* غیر پروف خوانی شدہ */
32455
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
وکھ مین جال کا پھر راجہ گیا اور بال کو باندہ کان سے پر رکھ لیلا
{{center|'''پندروین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گنڈھب
کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ شوکیست
کرتا تھا ایک سمے اپنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے
راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک بر مجھے دو جو میرا راج
اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اس
نے بہت خوشی کی اور بٹری
دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نام کرن کیا برہمنون نے اسکا
نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس
کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا نتر منتر پرچھ کے بڑا
گیانی دھیانی ہو اسی بہادر دھرماتم پنڈت ہوا اس سے اسکے برابر کرئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین
لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہو تب ان نے کلپ برکش کی بہت
سیوا کی تب کلپ برگش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات
کی مجھے خواہش ہو سو مانگ مین مجھے دونگا
پھر جیوت با من بود جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر دار جتنے لوگ
میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت
مین برابر ہو جائین تب کلپ برش نے بر دیا سب لوگ
دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس علاج کے
لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے آکلین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے
بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہو گا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا
چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج
لے راجہ کا مندر جا گھر جب یہ خر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام
بول امہاراج آپ یہان
بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا
اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب
راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین
کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت
کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو
دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر
گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست
کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude>
dwsn04x12lmemunzg8uffak3fmm41b7