ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.46.0-wmf.26 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/38 250 13111 32469 32411 2026-05-04T10:22:28Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32469 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{center|'''تیروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چندر ہردے نام نگری ہے اور اسجگہ کا رندھیر نام راجہ تھا اسکی نگری مین دھرم هوج نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام شوبھی تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی جوانی اسکی دِن بدن بڑھتی تھی اور حُسن اسکا پل پل ادھک ہوتا ہے اتفاقاً اس نگری مین راتون کو چوری ہونے لگی جب چورونکے ہاتھ سے مہاجنون نے بہت دکھ پایا تب اکٹھے ہو راجہ کے پاس جا کر سب نے کہا مہاراج چورون نے نگر مین بہت ظلم کیا ہے ہم اس شہر مین اب رہ نہین سکتے راجہ نے کہا خیر جو ہوا سو ہوا لیکن اب آگے دُکھ نہ پاؤگے مین ان کا جتن کرتا ہون یہ کہہ راجہ نے بہت سے آدمی بلوا چوکی کو بھیجدیے اور چوکی پہرے کا ڈھب انکو بتا دیا اور حکم کیا کہ جہان چورون کو پاؤ بنا پوچھے مار ڈالو لوگ نگری کی رکھوالی کرنے لگے اسپر بھی چوری ہوتی تھی ساہوکار اکٹھے ہو کر راجہ کے پاس آئے اور عرض کی مہاراج آپ نے پہرے بھیجے تو بھی چور کم نہ ہوئے اور روز چوری ہوتی ہے راجہ نے کہا اسوقت تم رخصت ہو آج کی رات سے نگر کی چوکی دینے مین نکلون گا یہ سنکے راجہ سے بدا ہو وہ سب اپنے گھر گئے اور جسوقت کہ رات ہوئی راجہ اکیلا ڈھال تلوار لے پیاده نگری کی رکشا کرنے لگا اسمین آگے جا کر دیکھے تو ایک چور سامنے سے چلا آتا ہے راجہ اسے دیکھ کر پکارا تو کون ہے وہ بولا تو کون ہے راجہ نے کہا مین چور ہون یہ سن وہ خوش ہو کر بولا آؤ مل کر چوری کرنے چلین یہ بات آپس مین ٹھہرا راجہ اور چور باتین کرتے ہوئے ایک محلے مین گھسے اور کتنے ایک گھرون مین چوری کر مال متاع لے نگر کے باہر نکل ایک کنوُین پر آئے اور اسمین اتر کر پاتال پوری مین جا پہونچے وہ چور راجہ کو دروازے پر کھڑا کر دھن دولت اپنے مندر مین لیگیا اتنے مین اسکے گھر مین سے ایک داسی نکلی وہ راجہ کو دیکھ کر کہنے لگی مہاراج تم کہان اس دُشٹ کے ساتھ یہان آئے خیر اسی مین ہے کہ وہ آنے نہ پاوے اور تم سے جہان تک بھاگا جاوے بھاگو نہین تو وہ آتے ہی تمہین مار ڈالےگا راجہ نے کہا مین تو راہ نہین جانتا کدھر کو جاؤن پھر اس چیری نے باٹ دکھا دی اور راجہ اپنے مندر کو آیا غرض دوسرے دن راجہ نے سب اپنی فوج ساتھ لے اس کنوئین کی راہ پاتال پوری مین جاکر چور کا تمام گھر بار گھیر لیا اور وہ چور کِسی اور راہ سے نکل اس نگری کا مالک جو دیو تھا اسکے پاس گیا اور عرض کی کہ ایک راجہ میرے مارنے کو گھر پر چڑھ آیا ہے اسوقت میری مدد کرو نہین تو تمھاری نگری کو چھوڑ دوسرے نگر مین جا بستا ہون یہ سن راکشس نے خوش ہو کر کہا تو میرے لیے کچھ کھانے کو لایا ہے مین تجھ سے بہت خوش ہوا یہ کہکر جہان راجہ فوج لئے حویلی گھیرے ہوئے تھا وہان وہ دیو آدمیون اور گھوڑون کو کھانے لگا اور راجہ اس دیو کی صورت دیکھ کر بھاگا اور جن لوگون سے بھاگا گیا وہ تو بچے اور باقیون کو دیو نے کھا لیا غرض راجہ اکیلا<noinclude></noinclude> 50pujaz97dyt370awi1i75hyn47ami9 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/44 250 13125 32457 32456 2026-05-04T01:45:53Z Kaur.gurmel 74 32457 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>برہمن کی بہو کو اپنے ساتھ لے ایک بچھونے پر رات کو لیٹی باتین اِدھر اُدھر کی کرنے لگین کتنی ایکے دیر کے بعد اس دیوان کے لڑکے کی بہو نے یہ بات کہی اے سکھی اسوقت تو مین عِشق مین جلی جاتی ہون مطلب میرا کِس طور سے حاصِل ہو برہمن کی لڑکی بولی کہ اگر تیرے مطلب کو مین بر لاون تو تو مجھے کیا دیگی اس نے کہا سدا تیرے آگے ہاتھ جوڑے فرمانبردار رہونگی تب یہ اپنے منھ سے گٹکے کو نکال مرد بنگیا ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد بنتا اور دن کو عورت پھر ان دونون مین بڑی پریت ہو گئی غرض اسی طرح سے چھ مہینے بیتے اور دیوان کا لڑکا آ پہونچا ادھر لوگ اسکے آنے کی خبر سن منگلاچار کرنے لگے اور ادھر برہمن کی بہو نے گٹکا منھ سے نکال مرد بن کھڑکی کی راہ سے نِکل اپنی رہ لی پھر کِتنی دیر مین اس مول دیو برہمن کے پاس پہونچا کہ جسنے اسے گٹکا دیا تھا اس سے سب اپنا شروع سے آخر تک حال کہا تب مول دیو نے تمام احوال سنکر گٹکا اس سے لے اپنے ساتھی ششی نام برمین کو دیا اور دونون نے گٹکے اپنے اپنے منھ مین رکھ لئے ایک بوڑھا بنگیا اور دوسرا بیس برس کا پھر یہ دونون راجہ کے یہان گئے راجہ نے دیکھتے ہی ڈنڈوت کر انکے بیٹھنے کو آسن دیئے اور انھون نے بھی اسیس دی راجہ نے انکی کشل کھیم پوچھی مول دیو سے کہا کہ اتنے دن تمھین کہان لگے برہمن بولا مہاراج اسی پتر کو ڑھوڑھنے کو گیا تھا سو اسے کھوج کر آپکے پاس لے آیا ہون آپ اسکی بہو کو دو تو مین بہو بیٹے کو اپنے گھر لیجاؤن تب راجہ نے برہمن کے آگے وہ سب احوال کہہ سنایا برہمن نے سنتے ہی بجد غصّے مین آکر راجہ سے کہا یہ کون بیوہار ہے جو تمنے میرے بیٹے کی بہو اور کو دی اچھا جو تمنے چاہا سو کیا پر اب میرا سراپ لو تب راجہ بولا کہ اے دیوتا تم کرودھ مت کرو جو تم کہو سو مین کرون برہمن بولا اچھا جو میرے سراپ سے ڈر کر میرا کہا کرتا ہے تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو بیاہ دے یہ سن راجہ نے ایک جوتشی کو بلا سبھ لگن مہورت ٹھہرائی اور اپنی لڑکی اس برہمن کے لڑکے سے بیاہ دی پھر وہان سے راج کنیا کو دان جہیز سمیت لے راجہ سے رخصت ہو اپنے گاؤن مین آیا یہ خبر سن منسوی برہمن بھی اس سے جھگڑنے لگا کہ میری استری مجھے دے سسی نام برہمن بولا کہ مین دس پنچون مین بیاہ کر لایا ہون یہ استری میری ہے اسنے کہا اسے تو میرا گربھ رہا ہے تیری کِس طرح سے یہ ناری ہوگی اسطرح آپسمین جھگڑا کرنے لگے مول دیو نے اِن دونون کو بہت سمجھایا لیکن کِسی نے اسکا کہا نہ مانا اتنی کتھا کہہ بتال بولا اے راجہ بیر بکرماجیت کہو وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا وہ استری ششی برہمن کی ہوئی تب بیتال بولا گربھ تو منسوی کا تھا جورو ششی برہمن کی کسطرح سے ہوئی راجہ نے کہا اس برہمن کا پیٹ رکھوایا تو کسی نے معلوم نہ کیا اور ان نے دس پنچونمین بیٹھ کے شادی کی اسلئے اِسکی جورو ٹھہری اور جو لڑکا ہوگا وہ سسی کے ہی کرتا کرم کا ادھاوی ہوگا یہ بات سن بیٹال اسے<noinclude></noinclude> hpbyv9hlnt848uan7fcu61rddstybbc صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/45 250 13126 32458 32455 2026-05-04T06:42:25Z Charan Gill 46 32458 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> وکھ مین جال کا پھر راجہ گیا اور بال کو باندہ کان سے پر رکھ لیلا {{center|'''پندروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گنڈھرب کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ جمیوت گُپٹ کرتا تھا ایک سمے اسنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک بر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اسنے بہت خوشی کی اور بڑی دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نامکرن کیا برہمنون نے اسکا نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا ساستر منتر پڑھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو سخی بہادر دھرماتما پنڈت ہوا اس سمے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہوا تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برگش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی تجھے خواہش ہو سو مانگ مین تجھے دونگا پھر جمیوت باہن بولا جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر اور جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برکش نے بر دیا سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس علاج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے آکلین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہو گا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گھر جب یہ خر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام بول امہاراج آپ یہان بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude> 1nc0cgnu6kd752nf4dkipr2nddb1ns7 32459 32458 2026-05-04T07:00:32Z Charan Gill 46 32459 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> وکھ مین جال کا پھر راجہ گیا اور بال کو باندہ کان سے پر رکھ لیلا {{center|'''پندروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گنڈھرب کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ جمیوت گُپٹ کرتا تھا ایک سمے اسنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک بر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اسنے بہت خوشی کی اور بڑی دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نامکرن کیا برہمنون نے اسکا نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا ساستر منتر پڑھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو سخی بہادر دھرماتما پنڈت ہوا اس سمے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہوا تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برگش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی تجھے خواہش ہو سو مانگ مین تجھے دونگا پھر جمیوت باہن بولا جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر اور جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برکش نے بر دیا سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس راج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے یہ آپسمین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہوگا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گیھرا جب یہ خبر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام بول امہاراج آپ یہان بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude> 8r804108aksq1cbyxyh1xos7iy53mx6 32460 32459 2026-05-04T07:11:25Z Harvinder Chandigarh 191 32460 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> وکھ مین جال کا پھر راجہ گیا اور بال کو باندہ کان سے پر رکھ لیلا {{center|'''پندروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گندھرب کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ جمیوت گُپت کرتا تھا ایک سمے اسنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک بر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اسنے بہت خوشی کی اور بڑی دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نامکرن کیا برہمنون نے اسکا نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا ساستر منتر پڑھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو سخی بہادر دھرماتما پنڈت ہوا اس سمے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہوا تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برگش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی تجھے خواہش ہو سو مانگ مین تجھے دونگا پھر جمیوت باہن بولا جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر اور جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برکش نے بر دیا سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس راج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے یہ آپسمین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہوگا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گیھرا جب یہ خبر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام بول امہاراج آپ یہان بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude> 8qkyq9n9qb0i9xnxt7w56ilmzbpiwu3 32461 32460 2026-05-04T07:14:32Z BalramBodhi 60 32461 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> روکھ مین جا لٹکا پھر راجہ گیا اور بیتال کو باندہ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''پندروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گندھرب کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ جمیوت گُپت کرتا تھا ایک سمے اسنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک بر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اسنے بہت خوشی کی اور بڑی دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نامکرن کیا برہمنون نے اسکا نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا ساستر منتر پڑھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو سخی بہادر دھرماتما پنڈت ہوا اس سمے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہوا تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برگش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی تجھے خواہش ہو سو مانگ مین تجھے دونگا پھر جمیوت باہن بولا جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر اور جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برکش نے بر دیا سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس راج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے یہ آپسمین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہوگا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گیھرا جب یہ خبر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام بول امہاراج آپ یہان بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude> 04sorti9uzsxiibj7wihc0u2fyaz05d 32462 32461 2026-05-04T07:31:31Z Harvinder Chandigarh 191 32462 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> روکھ مین جا لٹکا پھر راجہ گیا اور بیتال کو باندہ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''پندروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گندھرب کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ جمیوت گُپت کرتا تھا ایک سمے اسنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک پتر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اسنے بہت خوشی کی اور بڑی دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نامکرن کیا برہمنون نے اسکا نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا ساستر منتر پڑھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو سخی بہادر دھرماتما پنڈت ہوا اس سمے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہوا تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برگش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی تجھے خواہش ہو سو مانگ مین تجھے دونگا پھر جمیوت باہن بولا جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر اور جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برکش نے بر دیا سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس راج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے یہ آپسمین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہوگا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گیھرا جب یہ خبر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام بول امہاراج آپ یہان بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude> owba2ha3uhw9iuoveh87se06ucepqeu 32463 32462 2026-05-04T07:40:49Z Harvinder Chandigarh 191 32463 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> روکھ مین جا لٹکا پھر راجہ گیا اور بیتال کو باندہ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''پندروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گندھرب کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ جمیوت گُپت کرتا تھا ایک سمے اسنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک پتر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اسنے بہت خوشی کی اور بڑی دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نامکرن کیا برہمنون نے اسکا نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا ساستر منتر پڑھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو سخی بہادر دھرماتما پنڈت ہوا اس سمے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہوا تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برکش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی تجھے خواہش ہو سو مانگ مین تجھے دونگا پھر جمیوت باہن بولا جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر اور جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برکش نے بر دیا سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس راج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے یہ آپسمین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہوگا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گیھرا جب یہ خبر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام بول امہاراج آپ یہان بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude> kkdt2grit36d9ipp7gvjfgco0426aqw صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/217 250 13128 32464 2026-05-04T10:06:27Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «ہنومان نے کہا۔ ” میں لڑکا تک تیر کر جا سکتا‎ ہوں ۔ تم لوگ نہیں بیٹھے ہوئے میرا انتظار کرتے رہنا ہے 8. جامونت نے ہنس کر کہا " اتنی ہمت ہونے پر بھی تم اب تک خاموش کیوں بیٹھے تھے؟ ہنومان نے جواب دیا " صرف اسی لئے کہ ئیں اوروں کو اپنا درجہ اور مرتبہ بڑھ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32464 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ہنومان نے کہا۔ ” میں لڑکا تک تیر کر جا سکتا‎ ہوں ۔ تم لوگ نہیں بیٹھے ہوئے میرا انتظار کرتے رہنا ہے 8. جامونت نے ہنس کر کہا " اتنی ہمت ہونے پر بھی تم اب تک خاموش کیوں بیٹھے تھے؟ ہنومان نے جواب دیا " صرف اسی لئے کہ ئیں اوروں کو اپنا درجہ اور مرتبہ بڑھانے کا موقع دینا چاہتا تھا ۔ میں پہلے بول اُٹھتا تو شاید آوروں کو یہ افسوس ہوتا کہ ہنومان نہ ہوتے تو میں اِس کام کو پورا کر کے راجہ سگریو اور راجہ رام چندر دو نو کا پیارا بن جاتا ۔ جب کوئی تیار نہ ہوا تو مجبورہ ہو کہ مجھے اس کام کا بیڑا اُٹھانا پڑا ۔ آپ لوگ بے فکر ہو جائیں ۔ مجھے یقین ہے کہ میں ۔ بہت جلد کامیاب ہو کر واپس آؤنگا " : یہ کہ کر ہنومان جی سمندر کی طرف مردانہ قدیم اُٹھاتے ہوئے چلے . +<noinclude></noinclude> b3n2f4is3bkut6k20yk57sg7idaji4i صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/218 250 13129 32465 2026-05-04T10:06:45Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۱۲ سُندر کانڈ (۱) ہنومان لنکا میں راس کماری سے لنکا تک تیر کر جانا آسان کام نہ تھا ۔ اس پر دریائی جانوروں سے بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مگر ویر ہنومان نے ہمت نہ ہاری ۔ شام ہوتے ہوتے وہ اُس پار جا پہنچے ۔ دیکھا کہ نکا کا شہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہوا ہے...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32465 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۱۲ سُندر کانڈ (۱) ہنومان لنکا میں راس کماری سے لنکا تک تیر کر جانا آسان کام نہ تھا ۔ اس پر دریائی جانوروں سے بھی سامنا کرنا پڑا ۔ مگر ویر ہنومان نے ہمت نہ ہاری ۔ شام ہوتے ہوتے وہ اُس پار جا پہنچے ۔ دیکھا کہ نکا کا شہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہوا ہے ۔ اس کے محل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں ۔ سڑکیں چوڑی اور صاف ہیں ۔ اُن پر طرح طرح کی سواریاں دوڑ رہی ہیں ۔ قدم قدم پر مسلح سنیا ہی کھڑے پہرہ دے رہے ہیں ۔ جدھر دیکھئے ہیرے جواہر کے انبار لگے ہیں۔<noinclude></noinclude> 6f7ov3til4b51d6nk06ggdn3lckz0ag صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/219 250 13130 32466 2026-05-04T10:07:03Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۱۳ شہر میں ایک بھی غریب آدمی نہیں نظر آتا. بعض بعض محلوں کے کلس سونے کے ہیں دیواروں پر ایسی خوبصورت قلعی کی ہوئی ہے۔ کہ معلوم ہوتا ہے سونے کی ہیں ۔ ایسا آباد اور با رونق شهر دیکھ کر ہنومان چکرا گئے ۔ یہاں سیتاجی کا پتہ لگانا لوہے کے چنے چہانا تھا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32466 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۱۳ شہر میں ایک بھی غریب آدمی نہیں نظر آتا. بعض بعض محلوں کے کلس سونے کے ہیں دیواروں پر ایسی خوبصورت قلعی کی ہوئی ہے۔ کہ معلوم ہوتا ہے سونے کی ہیں ۔ ایسا آباد اور با رونق شهر دیکھ کر ہنومان چکرا گئے ۔ یہاں سیتاجی کا پتہ لگانا لوہے کے چنے چہانا تھا ۔ یہ تو اب معلوم ہی تھا کہ سیتا راون کے محل میں ہونگی۔ مگر محل میں گزر کیونکہ ہو ۔ صدر دروازه پر سنتریوں کا پہرہ تھا ۔ کسی پوچھتے تو فوراً لوگوں کو اُن پر شبہہ ہو جاتا ۔ پکڑ لئے جاتے ۔ سوچنے لگے شاہی محل کے اندر کیسے گھسوں ۔ یکا یک انہیں ایک بڑا چھتنار درخت نظر آیا جس کی شاخیں محل کے اندر جھکی ہوئی تھیں ۔ ہنومان خوشی سے اُچھل پڑے ۔ پہاڑوں میں تو وہ پیدا ہی ہوئے تھے۔ بچپن ہی سے درختوں پر چڑھنا، اچکنا" گودنا سیکھا تھا۔ اتنی چھرتی سے درختوں پر<noinclude></noinclude> 2qh4g9zkpyqw7vuxvd0hc6h6p21twul صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/220 250 13131 32467 2026-05-04T10:07:19Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۱۴ چڑھتے تھے کہ بندر بھی دیکھ کر شرما جائے۔ پہرہ داروں کی آنکھ بچا کر فوراً اُس درخت چڑھ گئے اور پتوں میں چھپے بیٹھے رہے ۔ جب آدھی رات ہو گئی اور چاروں طرف سناٹا چھا گیا رادن بھی اپنے محل میں آرام کرنے چلا گیا تو وہ آہستہ سے ایک شاخ کو پکڑ کر محل...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32467 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۱۴ چڑھتے تھے کہ بندر بھی دیکھ کر شرما جائے۔ پہرہ داروں کی آنکھ بچا کر فوراً اُس درخت چڑھ گئے اور پتوں میں چھپے بیٹھے رہے ۔ جب آدھی رات ہو گئی اور چاروں طرف سناٹا چھا گیا رادن بھی اپنے محل میں آرام کرنے چلا گیا تو وہ آہستہ سے ایک شاخ کو پکڑ کر محل کی کے اندر کود پڑے + محل کے اندر کی چمک دیک دیکھ کر ہنومان کا کی آنکھوں میں چکا چوندھ آگئی ۔ بٹور کی شفاف زمین تھی ۔ اُس پر فانوس کی رکڑ نہیں پڑتی تھیں 1 تو وہ اپ اپ کرنے لگتی تھی ۔ ہنومان نے دبے پاؤں محلوں میں گھومنا شروع کیا ۔ راون کو دیکھا ایک سونے کے پلنگ پر پڑا سو رہا ہے ۔ اس کے کمرے سے ملے ہوئے مندودری اور دوسری رانیوں کے کمرے ہیں ۔ مند دوری کا حسن دیکھ کر ہنومان کو شک ہوا کہ کہیں یہی سینتا جی نہ ہوں ۔ مگر خیال آیا سیتا جی ایل طرح<noinclude></noinclude> 5s3ad1ctk8glngewkcih1pfvpmbg7wb صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/221 250 13132 32468 2026-05-04T10:07:32Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ «عطر اور جواہر سے لدی ہوئی بھلا میٹھی نیند کے مزے لے سکتی ہیں ۔ ایسا ممکن نہیں ۔ یہ سیتا نہیں ہو سکتیں۔ ہر ایک محل میں انہوں نے حین رانیوں کو مزے سے سوتے پایا۔ کوئی گوشہ ایسا نہ بچا جسے انہوں نے نہ دیکھا ہو ۔ پر سیتا جی کا کہیں نشان نہیں۔ وہ رنج و غم...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 32468 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>عطر اور جواہر سے لدی ہوئی بھلا میٹھی نیند کے مزے لے سکتی ہیں ۔ ایسا ممکن نہیں ۔ یہ سیتا نہیں ہو سکتیں۔ ہر ایک محل میں انہوں نے حین رانیوں کو مزے سے سوتے پایا۔ کوئی گوشہ ایسا نہ بچا جسے انہوں نے نہ دیکھا ہو ۔ پر سیتا جی کا کہیں نشان نہیں۔ وہ رنج و غم سے گھلی ہوئی سینا کہیں نظر نہ آئیں ۔ ہنومان کو شبہہ ہوا کہیں رادن نے سیتا جی کو مار تو نہیں ڈالا ۔ زندہ ہوئیں تو کہاں جاتیں : ہنومان ساری رات اسی حیص ہیں میں پڑے رہے ۔ جب سویرا ہونے لگا اور کوے بولنے لگے تو وہ اُسی درخت کی شاخ سے باہر نکل آئے ۔ مگر اب انہیں کسی ایسی جگہ کی ضرورت تھی جہاں وہ دن بھر چُھپ سکیں ۔ کل جب وہ یہاں آئے تھے، تو شام ہو گئی تھی ۔ اندھیرے میں کسی نے انہیں MAMANAN LAZDA MCLE<noinclude></noinclude> 0xlqoq48asbrhbwg94rxgce8pdkqcne