ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.46.0-wmf.26
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/47
250
13121
32482
32439
2026-05-05T11:09:07Z
Taranpreet Goswami
90
32482
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ناگ جو میرا بیٹا ہے تسکی آج باری ہے اسے گڑڑ کھاوےگا اس دکھ سے مین روتی ہون اُن نے کہا اے ماتا مت رو تیرے بدلے مین اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سنکھ چوڑ ہے یہ
کہتی تھی کہ اتنے مین سنکھ چوڑ بھی آپہونچا اور اس سے شنکر کہا اے مہاراج مجھے سر دردری بہت سے پیدا ہوتے ہین اور مرتے مین پر آپ سو دھرما تحاد یا ونت سنسار مین گھڑی گھڑی پیدا نہین ہوتے
اس سے آپ میرے پلے اپنا جی نہ دیجئے کیونکہ آپ کے جینے سے لاکھون آدمیون کا انکار ہوگا اورمیرا
جینا مزا دونون برا بر تجرتب جیموت با من بولا کہ بی ست پرشون کا دھرم نہین ہر جو کہ سر کمک نہ کرین تو
جہان سے
آیا ہو وہان چلا جا یہ سنکے سکھ جوڑ تو دہی کے درشن کو گیا اور اکاس سرگڑا ترا اتنے مین
راجکمار کھتا کیا ہو کہ اون تو اسکے چار بان برابر ین اور تاڑ سے نبی چونچ پہاڑ
کے سان پیٹ پھالک
کے مانند آنکھین اور گٹھا کے سمن بال چونچ کھولکر ان پر پر وڈا اپنے پرنے اپنے تین بچایا پر دوسری بار
وہ چونچ مین رکھ اسکو لے اڑا اور چکر مارنے لگا اتنے مین ایک بازوبند کہ اسکے نگ پر راجہ کا نام کھدا
ہوا تھاوہ کھلکہ ہم بھرا راج کینیا کے سامنے گرا وہ اسکو دیکھ کر پو چھا کھا کر گر پڑی جب ایک گھڑی کے
بعد موش مین آئی تو اسنے سب احوال اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا وہ یہ صیبت شکر آئے اور لہو سے بھر بازدید
دیکھ روئے پھر یون آدمی ڈھونڈھنے نکلے کہ رستے مین انھین سنکہ جو بھی بلا اور انسے بڑھکر اکیلا دہران
گیا جہان راجگا کو دیکھاتھا اور چار چار کنے لگا اس گڑ چھوڑ دے یہ تیرا نکش نہین ہو سکہ چوڑ میل نام کی
مین تیر میکش ہون یہ شکر گڑ گھر گرگیا اور اپنے جی مین سوچابہ مین یا چھتری مین نے کھایا یہ کیا کیا این
راج پیر سے کہا اے پرش بسیج کو کس لیے اپنا جی دیتا ہو راجکمار بولا اے
گراڈ پر چھایا کرتے مین عورت کے
اوپر اور آپ دھوپ مین بیٹھتے پھولتے پھلتے ہین پرائے واسطے بھلے لوگون اور برکسون کا یہی دھرم ہی
جو یہ زندگی غیر کے کام نہ آوے تو اس شرر سے کیا پر دین ہر شل مشہور ہو کہ جون جون چندن کو گی
ہین تون تون دونی سگندھ دیتا ہو اور جون جون جھیل کاٹ لٹکڑے کرتے ہین تون تون ایکھ ادھک
ادھک مواد دیتا ہو جون جون پنجن کو جلاتے ہین تون تون چگدار ہوتا جاتا ہر تھے اور مین جان جانے سے
بھی اپنی نیک عادت نہین چھوڑتے انہین کسی نے بھیل کا تو کیا اور کہا کا تو کیا دولت ہی تو یا جونہ ہی تو کیا ابی
مرے تو کیا اور مرت کے بعد مرے تو کیا جولوگ نیاؤ کی راہ پر چلتے ہی کچھ ہو اور اہ پر قدم نہین دھرتے
تو کیا ہوا جو موٹے ہوئے بادلے غرض جسکے شریر اپکا نہ ہو سکی زندگی بیکار اور پرانے ارتھے جنکا جنون رہین
اپنے مین سوجے سدا سیکنڈ اس کرتے مین گڑ بولا دنیا مین سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہین اور اپنے<noinclude></noinclude>
ltej17wlwi704wwpfh7o3t5aayy4m6t
32483
32482
2026-05-05T11:19:50Z
Charan Gill
46
32483
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ناگ جو میرا بیٹا ہے تسکی آج باری ہے اسے گڑڑ کھاوےگا اس دکھ سے مین روتی ہون اُن نے کہا اے ماتا مت رو تیرے بدلے مین اپنا پران دون گا بڑھیا بولی ایسا مت کیجو تو ہی میرا سنکھ چوڑ ہے یہ کہتی تھی کہ اتنے مین سنکھ چوڑ بھی آپہونچا اور اس سے سنکر کہا اے مہاراج مجھے سے دردری بہت سے پیدا ہوتے ہین اور مرتے مین پر آپ سے دھرماتما دیاونت سنسار مین گھڑی گھڑی پیدا نہین ہوتے اس سے آپ میرے بدلے اپنا جی نہ دیجئے کیونکہ آپ کے جینے سے لاکھون آدمیون کا اپکار ہوگا اور میرا جینا مرنا دونون برابر ہے تب جیموت بامن بولا کہ یہ ست پرشون کا دھرم نہین ہے جو کہ سر کمک نہ کرین تو جہان سے آیا ہو وہان چلا جا یہ سنکے سنکھ جوڑ تو دیبی کے درشن کو گیا اور اکاس سرگڑا ترا اتنے مین
راجکمار کھتا کیا ہو کہ اون تو اسکے چار بان برابر ین اور تاڑ سے نبی چونچ پہاڑ
کے سان پیٹ پھالک
کے مانند آنکھین اور گٹھا کے سمن بال چونچ کھولکر ان پر پر وڈا اپنے پرنے اپنے تین بچایا پر دوسری بار
وہ چونچ مین رکھ اسکو لے اڑا اور چکر مارنے لگا اتنے مین ایک بازوبند کہ اسکے نگ پر راجہ کا نام کھدا
ہوا تھاوہ کھلکہ ہم بھرا راج کینیا کے سامنے گرا وہ اسکو دیکھ کر پو چھا کھا کر گر پڑی جب ایک گھڑی کے
بعد موش مین آئی تو اسنے سب احوال اپنے ماتا پتا سے کہلا بھیجا وہ یہ صیبت شکر آئے اور لہو سے بھر بازدید
دیکھ روئے پھر یون آدمی ڈھونڈھنے نکلے کہ رستے مین انھین سنکہ جو بھی بلا اور انسے بڑھکر اکیلا دہران
گیا جہان راجگا کو دیکھاتھا اور چار چار کنے لگا اس گڑ چھوڑ دے یہ تیرا نکش نہین ہو سکہ چوڑ میل نام کی
مین تیر میکش ہون یہ شکر گڑ گھر گرگیا اور اپنے جی مین سوچابہ مین یا چھتری مین نے کھایا یہ کیا کیا این
راج پیر سے کہا اے پرش بسیج کو کس لیے اپنا جی دیتا ہو راجکمار بولا اے
گراڈ پر چھایا کرتے مین عورت کے
اوپر اور آپ دھوپ مین بیٹھتے پھولتے پھلتے ہین پرائے واسطے بھلے لوگون اور برکسون کا یہی دھرم ہی
جو یہ زندگی غیر کے کام نہ آوے تو اس شرر سے کیا پر دین ہر شل مشہور ہو کہ جون جون چندن کو گی
ہین تون تون دونی سگندھ دیتا ہو اور جون جون جھیل کاٹ لٹکڑے کرتے ہین تون تون ایکھ ادھک
ادھک مواد دیتا ہو جون جون پنجن کو جلاتے ہین تون تون چگدار ہوتا جاتا ہر تھے اور مین جان جانے سے
بھی اپنی نیک عادت نہین چھوڑتے انہین کسی نے بھیل کا تو کیا اور کہا کا تو کیا دولت ہی تو یا جونہ ہی تو کیا ابی
مرے تو کیا اور مرت کے بعد مرے تو کیا جولوگ نیاؤ کی راہ پر چلتے ہی کچھ ہو اور اہ پر قدم نہین دھرتے
تو کیا ہوا جو موٹے ہوئے بادلے غرض جسکے شریر اپکا نہ ہو سکی زندگی بیکار اور پرانے ارتھے جنکا جنون رہین
اپنے مین سوجے سدا سیکنڈ اس کرتے مین گڑ بولا دنیا مین سب اپنی جان کی رکشا کرتے ہین اور اپنے<noinclude></noinclude>
abuzrr30zct02o1751qapz4s6mjzvkg
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/46
250
13127
32470
32438
2026-05-05T07:43:55Z
BalramBodhi
60
32470
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بین باجا لئے ہوئے دیبی کے آگے گا رہی تھی اُس کنیا اور جیموت باہن کی چار نظرین ہویئن اور دونون کی لگن لگ گئی پر راج کنیا من مار لاح کے مارے اپنے گھر چلی آئی اور ادھر یہ بھی اس رشی کے بیٹے کی شرم کے مارے اپنے استھان پر آیا وہ رات دونون گلعزارون کو نہایت بیکلی سے کٹی صبح ہوتے ہی ادھور سے راج کنیا دیبی کے مندر کو گئی اور ادھر سے راجکمار نے بھی جاتے ہی دیکھا کہ راج کنیا بھی ہے تب اسنے اسکی سکھی سے پوچھا کہ یہ کس کی کنیا ہے سکھی نے کہا ملکیت راجہ کی پتری ہے ملیاوتی اسکا نام اور ابھی کنواری ہے
یہ کہہ سکھی نے اس راج پیر سے پوچھا کہو سُندر پرش تم کہان سے آئے ہو اور تمھارا کیا نام ہے یہ بولا بدیادھرون کا راجہ جمیت نام لتِکا مین بیٹا ہون اور جیموت باہن میرا نام ہے میرا راج بھنگ ہونے سے ہم باپ بیٹے یہان آن کے رہے ہین پھر سِکھی نے یہ سنکر سب باتین راج کنیا سے کہین یہ سُن اپنے جی مین بہت دکھ پائے گھر کو آئی اور رات کو چنتا کر کے سو رہے ختم می چری کا ا سکی نے ان کے آئے ۔
ظاہر کیا رانی نے سنگر راجہ کے آگے بیان کیا اور کہا مہا راج پتری آپ کی بر جوگ ہوئی ہے یہ کیون نہین
ڈھونڈھتے یہ شکے راجہ نے اپنے جی مین چنتا کر اسی سے مترابسو نام اپنے پیر کو بلاکر کہا بیٹا اپنی بہن کا بہت
ڈھونڈھ لاتب وہ بولا کہ مہاراج گندھریون کا راجہ موت گیت نامرتبہ کا تر جیموت با من کو دونگا اتنا کہ
دونون گنا ہو کہ بیان آئے مین یہ تین ملیکیت راجہ نے کہایہ تیری جیموت باہن کو دن کا اتنا کہہ
بیٹے کو آگیا دی کرت جیوت باہین راج کمار کو راجہ کے پاس سے جاکر لا لا ترا بس باپ
کا حکم پاس کے مشیر
گیا اور وہان جاکر اسکے پتا سے کہا کہ اپنے پیر کو ہمارے ساتھ کر دو کہ ہمارے بتانے کی اوان اپنے کو با نام
یہ سن کے راجہ جیموت گیت نے
اپنے بیٹے کو ساتھ کردیا اور ریموت با من بیان
آیا پھر لیکیت راجہ نے اسکا
گند حرب بواہ کردیا جبکہ سکی شادی ہو چکی تب ولعن کو اور پیر کواپنے استھان پر سیر آیا پرا مینیون
نے راجہ کو ڈنڈوت کی اور راجہ نے بھی نہین ہین دی وہ دن تو یونین گذرا لیکن دوسرے ان صبح
کو اٹھتے ہی دونون راجکمار کیا گر بریت پر پھرنے کو گئے وہان جاکر حیرت باہین
کیا دیکھتا ہو کہ ایک
نیفر ڈھیر اونچا سا ہے تب اپنے اپنے سالے سے پوچھا یہ دھولاڈ مین کیا نظر آتا ہے وہ بولا کہ با مال
لوک سے کر درون باگ کمہا ربیان آنے مین ادھین گور آن کر کھاتا ہو یہ انفین کے ہاڑون کا ڈھیرا
ہے یہ سنکے جیموت باہن نے مسالے سے
کہا متر تم گر حالم بہوجن کرو اور مین اس سے اپنی نیت پوجا کرتا
ہون کیونکہ میری پوجا کرنے کا اب وقت ہوا ہے یہ سن کے وہ تو گیا اور حیرت با این آگے کو جو بڑھا تو
رونے کی آواز آنے لگی اس آواز کی وحسن پر چلا دیا جو پہونچا تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑھیا کھی
سے بیا کل روتی ہے اس کے پاس جا کر پوچھا اسے ما تاتو کیس کارن روتی ہے ولی کمی کو پورام<noinclude></noinclude>
7xair8li9tz1zvwplgno774lkq5b29o
32471
32470
2026-05-05T08:21:53Z
Charan Gill
46
32471
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بین باجا لئے ہوئے دیبی کے آگے گا رہی تھی اُس کنیا اور جیموت باہن کی چار نظرین ہویئن اور دونون کی لگن لگ گئی پر راج کنیا من مار لاح کے مارے اپنے گھر چلی آئی اور ادھر یہ بھی اس رشی کے بیٹے کی شرم کے مارے اپنے استھان پر آیا وہ رات دونون گلعزارون کو نہایت بیکلی سے کٹی صبح ہوتے ہی ادھور سے راج کنیا دیبی کے مندر کو گئی اور ادھر سے راجکمار نے بھی جاتے ہی دیکھا کہ راج کنیا بھی ہے تب اسنے اسکی سِکھی سے پوچھا کہ یہ کس کی کنیا ہے سکھی نے کہا ملکیت راجہ کی پتری ہے ملیاوتی اسکا نام اور ابھی کنواری ہےِ یہ کہہ سکھی نے اس راج پیر سے پوچھا کہو سُندر پرش تم کہان سے آئے ہو اور تمھارا کیا نام ہے یہ بولا بدیادھرون کا راجہ جمیت نام لتِکا مین بیٹا ہون اور جیموت باہن میرا نام ہے میرا راج بھنگ ہونے سے ہم باپ بیٹے یہان آن کے رہے ہین پھر سِکھی نے یہ سنکر سب باتین راج کنیا سے کہین یہ سُن اپنے جی مین بہت دکھ پائے گھر کو آئی اور رات کو چنتا کر کے سو رہی یہ ڈسا دیکھ سخی نے بہ یہ احوال اسکی مان کے آگے ظاہر کیا رانی نے سنکر راجہ کے آگے بیان کیا اور کہا مہاراج پتری آپ کی بر جوگ ہوئی ہے بر کیون نہین ڈھونڈھتے یہ شنکے راجہ نے اپنے جی مین چنتا کر اسی سمے مترابسو نام اپنے پتر کو بلاکر کہا بیٹا اپنی بہن کا بر ڈھونڈھ لا تب وہ بولا کہ مہاراج گندھربون کا راجہ جمیوت گیت نام تسکا پتر جیموت باہن کو دونگا اتنا کہہ دونون سُنا ہے کہ یہان آئے ہین یہ سُن ملیکیت راجہ نے کہا یہ پتری جیموت باہن کو دونگا اتنا کہہ بیٹے کو آگیا دی کہ پرت جمیوت باہن راج کمار کو راجہ کے پاس سے جاکر بلا لا مترا بسو باپ کا حکم پال سکے مشیر گیا اور وہان جاکر اسکے پتا سے کہا کہ اپنے پتر کو ہمارے ساتھ کر دو کہ ہمارے پتا نے کنیاودان دینے کو بلایا یہ سن کے راجہ جیموت گیت نے
اپنے بیٹے کو ساتھ کر دیا اور جمیوت باہن یہان آیا پھر ملیکیت راجہ نے اسکا گندھرب بواہ کر دیا جبکہ اسکی شادی ہو چکی تب دُلہن کو اور پتر کواپنے استھان پر لیکر آیا پھران تینون نے راجہ کو ڈنڈوت کی اور راجہ نے بھی انہین اسیس دی وہ دن تو یو تین گذرا لیکن دوسرے دن صبح کو اٹھتے ہی دونون راجکمار ملیا گر بریت پر پھرنے کو گئے وہان جاکر حمیوت باہن
کیا دیکھتا ہو کہ ایک سفید ڈھیر اونچا سا ہے تب اسنے اپنے سالے سے پوچھا یہ دھولا ڈھیر کیسا نظر آتا ہے وہ بولا کہ پاتال لوک سے کرورون ناگ کمار یھاں اتے ہین انھین گرژڈ آن کر کھاتا ہے یہ انہین کے ہاڑون کا ڈھیر
ہے یہ سنکے جمیوت باہن نے سالے سے کہا متر تم گھر حاکر بھوجن کرو اور مین اس سمے اپنی نِت پوجا کرتا ہون کیونکہ میری پوجا کرنے کا اب وقت ہوا ہے یہ سنکے وہ تو گیا اور حمیوت باہن آگے کو جو بڑھا تو رونے کی آواز آنے لگی اس آواز کی دھن پر چلا وہاں جو پہونچا تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑھیا دکھ سے بیاکل روتی ہے اس کے پاس جا کر پوچھا اے ماتا تو کِس کارن روتی ہے وہ بولی کہ سنکھ پوڑ نام<noinclude></noinclude>
phclyis3cgehapmyu903tfhrwrv53zo
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/222
250
13133
32472
2026-05-05T10:25:54Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «دیکھا نہیں ۔ مگر صُبح کو اُن کا لباس اور زنگ روپ دیکھ کر یقیناً لوگ بھڑکتے اور انہیں پکڑ لیتے ۔ اس لئے ہنومان کسی ایسی جگہ کی تلاش کرنے لگے جہاں وہ چھپ کر بیٹھ سکیں ۔ کل سے کچھ کھایا نہ تھا ۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی ۔ باغ کے سوا اور مفت کے پھل کہاں مل...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32472
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دیکھا نہیں ۔ مگر صُبح کو اُن کا لباس اور زنگ
روپ دیکھ کر یقیناً لوگ بھڑکتے اور انہیں پکڑ
لیتے ۔ اس لئے ہنومان کسی ایسی جگہ کی تلاش
کرنے لگے جہاں وہ چھپ کر بیٹھ سکیں ۔
کل سے
کچھ کھایا نہ تھا ۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی ۔ باغ
کے سوا اور مفت کے پھل کہاں ملتے ۔ یہی
سوچتے چلے جاتے تھے کہ کچھ ڈور پر ایک گھنا
باغ دکھائی دیا ۔ اشوک کے بڑے بڑے درخت
مری ہری خوبصورت پتیوں سے لدے ہوئے
کھڑے تھے ۔ ہنومان نے اُسی باغ میں بُھوک
مٹانے اور دن کاٹنے کا فیصلہ کیا ۔ باغ میں
پہنچتے ہی ایک درخت پر چڑھ کر پھل کھانے لگے ہے
یکا یک کئی عورتوں کی آوازیں سنائی دینے
لگیں ۔ ہنوماں نے اُدھر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ
ایک نہایت حسین عورت قبیلے کچیلے کپڑے پہنے،
سر کے بال کھولے اُداس بیٹھی زمین کی طرف
تاک رہی ہے اور کئی راکشس عوز نہیں اس کے<noinclude></noinclude>
qxxjygk03kibgcela9ikef2bgdehpj2
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/159
250
13134
32473
2026-05-05T10:26:17Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «(۴) فریب سہ پہر کا وقت تھا ۔ رام اور سینتا کئی کے سامنے بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ کہ یکایک ایک نہایت خوبصورت ہرن سامنے کلیلیں کرتا ہوا دکھائی دیا ۔ وہ اتنا خوبصورت ، اتنا خوش رنگ تھا کہ سیتا اُسے دیکھ کر ریجھ گئیں ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا اس ہرن کے...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32473
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>(۴) فریب
سہ پہر کا وقت تھا ۔ رام اور سینتا
کئی کے سامنے بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
کہ یکایک ایک نہایت خوبصورت ہرن
سامنے کلیلیں کرتا ہوا دکھائی دیا ۔ وہ
اتنا خوبصورت ، اتنا خوش رنگ تھا کہ سیتا
اُسے دیکھ کر ریجھ گئیں ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا
گویا اس ہرن کے بدن میں ہیرے جڑے
ہوئے ہیں ۔ رام چندر سے بولیں ' دیکھے
کیسا خوبصورت ہرن ہے !
لکشمن کو اُس وقت خیال آیا کہ ہرن
اس رنگ روپ کا نہیں ہوتا ۔ ضرور کوئی
نہ کوئی فتنہ ہے ۔ مگر اس خوف ہے کہ
رام چندر شاید انہیں شکی بجھیں
سے
کچھ نہیں کہا ۔ ہاں دل میں منا رہے تھے<noinclude></noinclude>
k9ssj3kgf96e9zzeuyqfaft8dgjfkmh
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/39
250
13135
32474
2026-05-05T10:26:36Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «لکشمن بولے ۔ کسی کا دھنش ہو مگر تھا۔ ۔ بالکل سڑا ہوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا سی بات کے لئے آپ نا حق راتنا بگڑ ÷ رہے ہیں : پرشرام اور بھی جھلا کر بولے " ارے مورکھ ۔ کیا تو مجھے نہیں پہنچانتا ؟ میں تجھے لڑکا سمجھ کر ابھ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32474
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>لکشمن بولے ۔ کسی کا دھنش ہو مگر تھا۔
۔
بالکل سڑا ہوا ۔ چھوتے ہی ٹوٹ گیا ۔ زور
لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی ۔ اس ذرا
سی بات کے لئے آپ نا حق راتنا بگڑ
÷
رہے ہیں :
پرشرام اور بھی جھلا کر بولے " ارے
مورکھ ۔ کیا تو مجھے نہیں پہنچانتا ؟ میں
تجھے لڑکا سمجھ کر ابھی تک طرح دیتا جاتا
ہوں اور تو اپنی گستاخی سے باز نہیں
آتا ۔ میرا غصہ بڑا ہے ۔ ایسا نہ ہو میں ایک
ہی وار میں تیرا کام تمام کر دوں گا
لکشمن - میرا کام تو تمام ہو چکا ۔ ہاں
مجھے خون ہے کہ کہیں آپ کا غصہ آپ
نقصان نہ پہنچائے ۔ آپ جیسے رشیوں کو
کبھی
حصہ نہ کرنا چاہئے ؟
پر شرام نے پھر سا سنبھالتے ہوئے دانت
ہیں کر کہا۔ کیا کہوں تیری عمر تجھے بچا رہی<noinclude></noinclude>
3sa4mmx33dy6v2zedep3pf8f1btuvpd
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/157
250
13136
32475
2026-05-05T10:27:03Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «+ دونو بھائیوں کو خبر بھی نہ ہو ۔ کچھ پتہ ہی نہ چلے کہ کہاں گئی ۔ آخر تلاش کرتے کرتے نا اُمید ہو کر بیٹھ رہینگے راون کا چہرہ کھل اُٹھا ۔ بولا - یار صلاح تو تم بہت معقول دیتے ہو ۔ یہی میں بھی چاہتا ہوں ۔ اگر کام بلا لڑائی جھگڑ کے ہو جائے تو کیا کہنا۔ س...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32475
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>+
دونو بھائیوں کو خبر بھی نہ ہو ۔ کچھ پتہ
ہی نہ چلے کہ کہاں گئی ۔ آخر تلاش کرتے
کرتے نا اُمید ہو کر بیٹھ رہینگے
راون کا چہرہ کھل اُٹھا ۔ بولا - یار صلاح تو
تم بہت معقول دیتے ہو ۔ یہی میں بھی
چاہتا ہوں ۔ اگر کام بلا لڑائی جھگڑ
کے ہو جائے تو کیا کہنا۔ ساری عمر تمہارا
احسان مانوں ۔ آج ہی سے تمہاری ترقی
کر دوں اور عہدہ بڑھا دوں ۔ بھلا بتلاؤ
تو کیا تدبیر سوچی ہے ؟
ماریچ - بتلاتا تو ہوں مگر حضور سے بڑا
بھاری انعام لونگا ۔ آپ جانتے ہی ہیں
صورت بدلنے میں کمیں کتنا اُستاد ہوں !
ایسے خوبصورت ہرن کا بھیں بنا لوں
جیسا کسی نے نہ دیکھا ہو ۔ گلابی رنگ
ہوگا۔ اُس پر سنہرے داغ ۔ سارا جسم
. ہیرے کی طرح چمکتا ہوا ۔ بس جا کر
-<noinclude></noinclude>
sy6nmtji6c5ns0oovr4tffzff8x4xsk
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/216
250
13137
32476
2026-05-05T10:27:32Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۱۰ اس طرح سمندر کو سہمی ہوئی نظروں سے دیکھتے رہو گے ؟ تم میں سے کوئی اتنی ہمت نہیں رکھتا کہ سمندر کو تیر کر لنکا تک جائے ؟ انگر نے کہا " میں تیر کر جا تو سکتا ہوں پر شاید لوٹ کر نہ آ سکوں گی 8 نل نے کہا یہ نہیں تیر کر جا تو سکتا ہوں۔ پر شاید لوٹتے وقت...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32476
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۱۰
اس طرح سمندر کو سہمی ہوئی نظروں سے
دیکھتے رہو گے ؟ تم میں سے کوئی اتنی ہمت
نہیں رکھتا کہ سمندر کو تیر کر لنکا تک جائے ؟
انگر نے کہا " میں تیر کر جا تو سکتا ہوں
پر شاید لوٹ کر نہ آ سکوں گی
8
نل نے کہا یہ نہیں تیر کر جا تو سکتا ہوں۔
پر شاید لوٹتے وقت آدھی دُور آتے
آتے بے دم ہو جاؤں :
رنیل بولا " جا تو میں بھی سکتا ہوں اور
شاید یہاں تک لوٹ بھی آؤں ۔ مگر
لنکا میں سیتا جی کا پتہ لگا سکوں اس
کا مجھے یقین نہیں" :
اسی طرح سبھوں نے اپنی اپنی ہمت
اور طاقت کا اندازہ لگایا ۔ مگر ہنومان جی
ابھی تک خاموش بیٹھے تھے ۔ جامونت نے اُن
سے بھی پوچھا یہ تم کیوں چپ ہو بھگت جی؟
بولتے کیوں نہیں ؟ کچھ تم سے بھی ہو سکیگا ؟<noinclude></noinclude>
sgld0tou7wvvdnqjs9d3zekmz7dlbeo
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/236
250
13138
32477
2026-05-05T10:27:57Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۳۰ لیکن معلوم ہوتا ہے تیرے سر پر موت کھیل رہی ہے ۔ آجا سامنے ۔ باغ کے مالیوں اور میرے کم سن بھائی کو مار کر شاید تجھے گھمنڈ ہو گیا ہے ۔ آ تیرا گھمنڈ توڑ دوں ہے ہنومان طاقت میں میگھناد سے کم نہ تھے۔ مگر اُس وقت اُس سے لڑنا مصلحت کے خلاف سمجھا ۔ میگھ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32477
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۳۰
لیکن معلوم ہوتا ہے تیرے سر پر موت کھیل رہی
ہے ۔ آجا سامنے ۔ باغ کے مالیوں اور میرے
کم سن بھائی کو مار کر شاید تجھے گھمنڈ ہو گیا
ہے ۔ آ تیرا گھمنڈ توڑ دوں ہے
ہنومان طاقت میں میگھناد سے کم نہ تھے۔
مگر اُس وقت اُس سے لڑنا مصلحت کے خلاف
سمجھا ۔ میگھنا د معمولی آدمی نہ تھا ۔ برابر کا مقابلہ
تھا ۔ سوچے کہیں اس نے مجھے مار ڈالا تو رامچندر
کے پاس سیتا جی کی خبر بھی نہ لے جا سکونگا۔
میگھناد کے سامنے تال ٹھونک کر کھڑے تو ہوئے
پر اُسے اپنے اوپر جان بوجھ کر غالب آ جانے
دیا ۔ میگھنا د نے سمجھا میں نے اسے دبا لیا ۔
فوراً ہنومان کو رسیوں سے جکڑ دیا اور موچھوں
پر تاؤ دیتا ہوا راون کے سامنے آکر بولا ۔
مہاراج یہ لیجئے آپ کا قیدی حاضر ہے
غصے میں بھرا تو بیٹھا ہی تھا ۔ بہنومان
کو دیکھتے ہی بیٹے کے خون کا بدلہ لینے کے لئے
راون<noinclude></noinclude>
efmhmb1cmovravjgo101a1q1ia4jxok
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/231
250
13139
32478
2026-05-05T10:28:18Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «رام چندر کی انگوٹھی لایا تھا اُسی طرح رام چندر کی تشفی کے لئے سیتا جی کی بھی کوئی نشانی لے چلنا چاہئے ۔ بولے ۔ ماتا جی! اگر آپ سمجھیں تو اپنی کوئی نشانی دیجئے جس سے رام چندر کو یقین آ جائے کہ میں نے آپ کے درشن پائے نہیں ہے سینتا جی نے اپنے سر کی بین...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32478
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رام چندر کی انگوٹھی لایا تھا اُسی طرح رام چندر
کی تشفی کے لئے سیتا جی کی بھی کوئی نشانی
لے چلنا چاہئے ۔ بولے ۔ ماتا جی! اگر آپ
سمجھیں تو اپنی کوئی نشانی دیجئے جس
سے رام چندر کو یقین آ جائے کہ میں نے
آپ کے درشن پائے نہیں ہے
سینتا جی نے اپنے سر کی بینی اُتار کر
دے دی ۔ ہنومان نے اُسے کمر میں باندھ لیا
اور سینتا جی کو پر نام کر کے رخصت ہوئے :
(۲) لنکا واہ
اس اشوکوں کے باغ سے چلتے چلتے
ہنومان کے جی میں آیا کہ ذرا ان راکشسوں
کی بہادری کا امتحان بھی کرتا چلوں ۔ دیکھوں
یہ سب لڑائی کے فن میں کتنے ہوشیار ہیں۔
آخر را مچندر جی ان بہوں کا حال پوچھینگے تو
کیا بتاؤنگا ۔ یہ سوچ کر انہوں نے باغ کے<noinclude></noinclude>
j47omk236e3i3g40phuzd1e8z39a84x
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/230
250
13140
32479
2026-05-05T10:28:33Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ خالی صفحہ بنایا
32479
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude><noinclude></noinclude>
to4zaxm39msul561xoon7fvja6lo5yu
32480
32479
2026-05-05T10:28:54Z
Taranpreet Goswami
90
32480
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۲۴
اسی لئے سگریو اُنہیں اپنا محسن سمجھتا ہے ۔
اُس نے آپ کا پتہ لگا کر آپ کو چھڑانے
میں رام چندر جی کی مدد کرنے کا عہد کر
لیا ہے ۔ اب آپ کی مصیبت بہت جلد
ختم ہو جائیگی :
سیتا جی نے رو کر کہا۔ ہنومان ! آج کا
دن بڑا مبارک ہے کہ مجھے اپنے سوامی
کی خبر ملی ۔ تم نے یہاں کی ساری کیفیت
دیکھی ہے ۔ سوامی سے کہنا سیتا کی حالت
بہت نازک ہے ۔ اگر آپ جلد اُسے نہ
چھڑائینگے تو وہ زندہ نہ رہیگی ۔ اب تک
محض اِسی امید پر وہ زندہ ہے ۔ لیکن
روز بروز مایوسی سے اُس کا دل کمزور
ہوتا جا رہا ہے ہے
ہنومان نے سینتا جی کو بہت تسلی دی
اور چلنے کو تیار ہوئے ۔ مگر اسی وقت خیال
آیا کہ جس طرح سیتا جی کے اطمینان کے لئے<noinclude></noinclude>
gk6eeev44uvcp5mme99tjf8erbwlec9
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/268
250
13141
32481
2026-05-05T10:30:03Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۶۲ بارش کی کہ آسمان سیاہ ہو گیا ۔ لکشمن نے اپنی فوج کو دیتے دیکھا تو تیر و کمان لے کر میدان میں نکل آئے۔ میگھناد لکشمن کو دیکھ کر اور بھی جوش سے لڑنے لگا ۔ اور للکار کر بولا ۔ آج تمہاری موت میرے ہاتھوں لکھی ہے ۔ تم سے لڑنے کا بہت دن سے ارمان تھا ۔ آ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32481
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۶۲
بارش کی کہ آسمان سیاہ ہو گیا ۔ لکشمن نے اپنی
فوج کو دیتے دیکھا تو تیر و کمان لے کر میدان
میں نکل آئے۔ میگھناد لکشمن کو دیکھ کر اور بھی
جوش سے لڑنے لگا ۔ اور للکار کر بولا ۔ آج
تمہاری موت میرے ہاتھوں لکھی ہے ۔ تم سے
لڑنے کا بہت دن سے ارمان تھا ۔ آج وہ پورا
ہو گیا۔ لکشمن نے جواب دیا ۔ ہار اور جیت ایشور
کے ہاتھ ہے ۔ ڈینگ مارنا جوانمردوں کا کام نہیں ۔
مگر شاید تم بھی زندہ گھر نہ لوٹو گے ، میگھنا د نے
طیش میں آکر طرح طرح کے حربے کام میں لانے
شروع کئے ۔ کبھی کوئی زہریلا تیر چلا دیتا، کبھی
گدا لے کر بل پڑتا ۔ مگر لکشمن بھی کچھ کم بہادر
نہ تھے ۔ وہ اُس کے سارے حملوں کو اپنے
تیروں سے رو کر دیتے تھے ۔ یہاں تک کہ انہوں
نے اُس کے رتھ - رتھ بان، گھوڑے، سب کو
ٹیروں سے چھید ڈالا ۔ میگھناد پیدل لڑتے
لگا ۔ اب اسے اپنی جان بچانی مشکل ہو<noinclude></noinclude>
0lm9uctwqq0ac5c3sq0vsja5rqi75up