ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.1 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/52 250 13115 32523 32522 2026-05-09T23:05:56Z Charan Gill 46 32523 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کِیس کا بھائی اس سنسار کی ریت ہے کہ کتنے آتے ہین اور کتنے جاتے ہین جو جگ اور ہوم کرنے والے ہین وے آگ کو ایشور جانتے ہین اور جو کم عقل ہین وہ مورتی کو بھگوان جانتے ہین اور جوگی لوگ اپنے گھٹ ہی مین ایشور کو جانتے ہین سو گرہستی دھرم کو مین نہ کرون گا بلکہ لوگ ابھی اس کرونگا اتنا کہہ اپنے گھر سے رخصت لے جوگی کے پاس گن مین مجھ نتر ادھ پر کمیشنی نہ آئی تب جوگی کے پاس گیا جوگی نے پوچھا دیا تجھے نہ آئی پھر ان نے کہا ہان مہاراج نہ آئی اتنا قصہ کہہ بیتال بولا اے راجہ کمو کیس کارن اسے بریا نہ آئی راجہ بولا کہ وہ سادھک دوچنا ہوا اس لیے نہ آئی اور کہا ہے کہ مترا ایک چت ہونے سے سدھ ہوتا ہے دوچت ہونے سے نہین ہوتا اور یہ بھی کہا ہے کہ جو دان نہین کرتے تنکی کیرت نہین ہوتی اور جو ست سے گھرے ہوئے ہین انھین راج نہین جو نیاؤ سے گھرے ہی انھین دولت نہین ملتی اور جو دھیان نہین لگاتے انھین بھگوان نہین ملتا یہ سُن بتال نے کہا جو سادھک منتر سدھ کرنے کے لئے آگ مین بیٹھا وہ کِس طرح دوچت ہوا راجہ نے کہا منتر سادھنے بدیا جب وہ اپنے کٹمب کو ملنے گیا اس سے جوگی نے کرورھ کر اپنے من مین کہا ایسے دوچتے سادھک کو مین نے بدّیا کیون سکھائی اس لئے بدیا اسے نہ آئی اور کہا ہے کہ انسان کتنا ہی زور لگاوے نصیب اسکے ساتھ رہتا ہے اور کتنا ہی کام اپنی بوجھ سے کرلے پر تقدیر کا لکھا ہی ملتا ہے یہ سنکر بنیا پھر اسی درخت پر جا لٹگا اور راجہ بھی اسکے پیجھے جا اسے باندھہ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''اٹھارھوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوکل پور نام ایک نگر ہر وہان کے راجہ کا نام سرکشی اور اس نگرین دھناشی نام ایک سیٹھ بھی رہتا تھا اسکی پیری کا نام دھنوتی تھا چھوٹی عمری اس کا بنیادہ ایک گورمیت نام کے بنیے سے کردیا گیا کتنے ایک دونون کے اچھے ایک لڑکی اسکے ہوگی نام اس کا مومنی رکھا جب کا کئی برس کی ہوئی تب اسکا باپ مرگیا اور اس بینے کے بھائی بندون نے اسکا سریس چھین لیا وہ چار ہو اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ اندھیری رات کے سمے اس گھر سے نکل اپنے مان باپ کے گھر چلی تھوڑی ایک دور جا کر راہ بھول گئی ایک مرگھٹ پر جانگلی وہان ایک چور سولی پرلٹکا ہوا تھا اچانک اسکا پائون اسکے ہاتھ مین لگا وہ بولا کہ اس سمے مجھے کن نے دکھ دیا تب یہ بولی مین نے جان کر مجھے دکھ نہین دیا میری تقصیر معاف کر اپنے کہا دکھ اور سکھ کوئی کسی کو نہین دیتا جیسا بدھا تا کرم مین لکھ دیتا ہے ویسا ہی بھگتنا ہوتا ہو اور جولوگ کہتے ہین کہ یہ کام مین نے کیا سو بالکل جاہل ہین کیون کہ یہ سنسار کے تاگے مین بندھا ہوا ہے وہ جہان جہان چاہتا ہے جہان تمان جیو کو تصلح لے جاتا ہو بر جاتا کی<noinclude></noinclude> swnl8t0svbw9vrot2ewzimfvyub826n 32524 32523 2026-05-09T23:15:03Z Charan Gill 46 32524 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کِیس کا بھائی اس سنسار کی ریت ہے کہ کتنے آتے ہین اور کتنے جاتے ہین جو جگ اور ہوم کرنے والے ہین وے آگ کو ایشور جانتے ہین اور جو کم عقل ہین وہ مورتی کو بھگوان جانتے ہین اور جوگی لوگ اپنے گھٹ ہی مین ایشور کو جانتے ہین سو گرہستی دھرم کو مین نہ کرون گا بلکہ لوگ ابھی اس کرونگا اتنا کہہ اپنے گھر سے رخصت لے جوگی کے پاس گن مین مجھ نتر ادھ پر کمیشنی نہ آئی تب جوگی کے پاس گیا جوگی نے پوچھا دیا تجھے نہ آئی پھر ان نے کہا ہان مہاراج نہ آئی اتنا قصہ کہہ بیتال بولا اے راجہ کمو کیس کارن اسے بریا نہ آئی راجہ بولا کہ وہ سادھک دوچنا ہوا اس لیے نہ آئی اور کہا ہے کہ مترا ایک چت ہونے سے سدھ ہوتا ہے دوچت ہونے سے نہین ہوتا اور یہ بھی کہا ہے کہ جو دان نہین کرتے تنکی کیرت نہین ہوتی اور جو ست سے گھرے ہوئے ہین انھین راج نہین جو نیاؤ سے گھرے ہی انھین دولت نہین ملتی اور جو دھیان نہین لگاتے انھین بھگوان نہین ملتا یہ سُن بتال نے کہا جو سادھک منتر سدھ کرنے کے لئے آگ مین بیٹھا وہ کِس طرح دوچت ہوا راجہ نے کہا منتر سادھنے بدیا جب وہ اپنے کٹمب کو ملنے گیا اس سے جوگی نے کرورھ کر اپنے من مین کہا ایسے دوچتے سادھک کو مین نے بدّیا کیون سکھائی اس لئے بدیا اسے نہ آئی اور کہا ہے کہ انسان کتنا ہی زور لگاوے نصیب اسکے ساتھ رہتا ہے اور کتنا ہی کام اپنی بوجھ سے کرلے پر تقدیر کا لکھا ہی ملتا ہے یہ سنکر بنیا پھر اسی درخت پر جا لٹگا اور راجہ بھی اسکے پیجھے جا اسے باندھہ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''اٹھارھوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوکل پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام سرکشی اور اس نگر مین دھناکشی نام ایک سیٹھ بھی رہتا تھا اسکی پتری کا نام دھنوتی تھا چھوٹی عمری اس کا بیاہ ایک گوری وت نام کے بنیے سے کر دیا گیا کتنے ایک دونون کے پیچھے ایک لڑکی اسکے ہوئی نام اس کا موہنی رکھا جب کا کئی برس کی ہوئی تب اسکا باپ مرگیا اور اس بینے کے بھائی بندون نے اسکا سریس چھین لیا وہ چار ہو اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ اندھیری رات کے سمے اس گھر سے نکل اپنے مان باپ کے گھر چلی تھوڑی ایک دور جا کر راہ بھول گئی ایک مرگھٹ پر جانگلی وہان ایک چور سولی پرلٹکا ہوا تھا اچانک اسکا پائون اسکے ہاتھ مین لگا وہ بولا کہ اس سمے مجھے کن نے دکھ دیا تب یہ بولی مین نے جان کر مجھے دکھ نہین دیا میری تقصیر معاف کر اپنے کہا دکھ اور سکھ کوئی کسی کو نہین دیتا جیسا بدھا تا کرم مین لکھ دیتا ہے ویسا ہی بھگتنا ہوتا ہو اور جولوگ کہتے ہین کہ یہ کام مین نے کیا سو بالکل جاہل ہین کیون کہ یہ سنسار کے تاگے مین بندھا ہوا ہے وہ جہان جہان چاہتا ہے جہان تمان جیو کو تصلح لے جاتا ہو بر جاتا کی<noinclude></noinclude> 6sgbidxlcnh2qeuymhj95hrewc9molq 32525 32524 2026-05-09T23:28:00Z Charan Gill 46 32525 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کِیس کا بھائی اس سنسار کی ریت ہے کہ کتنے آتے ہین اور کتنے جاتے ہین جو جگ اور ہوم کرنے والے ہین وے آگ کو ایشور جانتے ہین اور جو کم عقل ہین وہ مورتی کو بھگوان جانتے ہین اور جوگی لوگ اپنے گھٹ ہی مین ایشور کو جانتے ہین سو گرہستی دھرم کو مین نہ کرون گا بلکہ لوگ ابھی اس کرونگا اتنا کہہ اپنے گھر سے رخصت لے جوگی کے پاس گن مین مجھ نتر ادھ پر کمیشنی نہ آئی تب جوگی کے پاس گیا جوگی نے پوچھا دیا تجھے نہ آئی پھر ان نے کہا ہان مہاراج نہ آئی اتنا قصہ کہہ بیتال بولا اے راجہ کمو کیس کارن اسے بریا نہ آئی راجہ بولا کہ وہ سادھک دوچنا ہوا اس لیے نہ آئی اور کہا ہے کہ مترا ایک چت ہونے سے سدھ ہوتا ہے دوچت ہونے سے نہین ہوتا اور یہ بھی کہا ہے کہ جو دان نہین کرتے تنکی کیرت نہین ہوتی اور جو ست سے گھرے ہوئے ہین انھین راج نہین جو نیاؤ سے گھرے ہی انھین دولت نہین ملتی اور جو دھیان نہین لگاتے انھین بھگوان نہین ملتا یہ سُن بتال نے کہا جو سادھک منتر سدھ کرنے کے لئے آگ مین بیٹھا وہ کِس طرح دوچت ہوا راجہ نے کہا منتر سادھنے بدیا جب وہ اپنے کٹمب کو ملنے گیا اس سے جوگی نے کرورھ کر اپنے من مین کہا ایسے دوچتے سادھک کو مین نے بدّیا کیون سکھائی اس لئے بدیا اسے نہ آئی اور کہا ہے کہ انسان کتنا ہی زور لگاوے نصیب اسکے ساتھ رہتا ہے اور کتنا ہی کام اپنی بوجھ سے کرلے پر تقدیر کا لکھا ہی ملتا ہے یہ سنکر بنیا پھر اسی درخت پر جا لٹگا اور راجہ بھی اسکے پیجھے جا اسے باندھہ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''اٹھارھوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوکل پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام سرکشی اور اس نگر مین دھناکشی نام ایک سیٹھ بھی رہتا تھا اسکی پتری کا نام دھنوتی تھا چھوٹی عمری اس کا بیاہ ایک گوری وت نام کے بنیے سے کر دیا گیا کتنے ایک دونون کے پیچھے ایک لڑکی اسکے ہوئی نام اس کا موہنی رکھا جب وہ کئی برس کی ہوئی تب اسکا باپ مر گیا اور اس بنینے کے بھائی بندون نے اسکا سربس چھین لیا وہ ناچار ہو اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ اندھیری رات کے سمے اس گھر سے نکل اپنے مان باپ کے گھر چلی تھوڑی ایک دور جاکر راہ بھول گئی ایک مرگھٹ پر جا نگلی وہان ایک چور سولی پر لٹکا ہوا تھا اچانک اسکا پائون اسکے ہاتھ مین لگا وہ بولا کہ اس سمے مجھے کن نے دکھ دیا تب یہ بولی مین نے جان کر تجھے دکھ نہین دیا میری تقصیر معاف کر اسنے کہا دکھ اور سکھ کوئی کسی کو نہین دیتا جیسا بدھاتا کرم مین لکھ دیتا ہے ویسا ہی بھگتنا ہوتا ہے اور جو لوگ کہتے ہین کہ یہ کام مین نے کیا سو بالکل جاہل ہین کیون کہ یہ سنسار کے تاگے مین بندھا ہوا ہے وہ جہان جہان چاہتا ہے تہان تمان جیو کو کھینچ لے جاتا ہے برھاتا کی<noinclude></noinclude> jirs42uyu6pai9hifvxs3dfnflv2v6w 32527 32525 2026-05-10T08:03:02Z BalramBodhi 60 32527 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کِس کا بھائی اس سنسار کی ریت ہے کہ کتنے آتے ہین اور کتنے جاتے ہین جو جگ اور ہوم کرنے والے ہین وے آگ کو ایشور جانتے ہین اور جو کم عقل ہین وہ مورتی کو بھگوان جانتے ہین اور جوگی لوگ اپنے گھٹ ہی مین ایشور کو جانتے ہین سو گرہستی دھرم کو مین نہ کرون گا بلکہ یوگ ابھیاس کرونگااتنا کہ اسنے گھر سے رخصت لے جوگی کے پاس ا\گن مین بیٹھ منتر سادھا پر یکشنی نہ آئی تب جوگی کے پاس گیا جوگی نے پوچھا بدّیا تجھے نہ آئی پھر ان نے کہا ہان مہاراج نہ آئی اتنا قصہ کہہ بیتال بولا اے راجہ کہو کِس کارن اسے برّیا نہ آئی راجہ بولا کہ وہ سادھک دوچتا ہوا اس لیے نہ آئی اور کہا ہے کہ منتر ایک چت ہونے سے سدھ ہوتا ہے دوچت ہونے سے نہین ہوتا اور یہ بھی کہا ہے کہ جو دان نہین کرتے تنکی کیرت نہین ہوتی اور جو ست سے گھرے ہوئے ہین انھین لاج نہین جو نیاؤ سے گھرے ہین تنہین دولت نہین ملتی اور جو دھیان نہین لگاتے انھین بھگوان نہین ملتا یہ سُن بتال نے کہا جو سادھک منتر سدھ کرنے کے لئے آگ مین بیٹھا وہ کِس طرح دوچت ہوا راجہ نے کہا منتر سادھنے بدیا جب وہ اپنے کٹمب کو ملنے گیا اس سمے جوگی نے کرورھ کر اپنے من مین کہا ایسے دوچتے سادھک کو مین نے بدّیا کیون سکھائی اس لئے بدیا اسے نہ آئی اور کہا ہے کہ انسان کتنا ہی زور لگاوے پر نصیب اسکے ساتھ رہتا ہے اور کتنا ہی کام اپنی بوجھ سے کرے پر تقدیر کا لِکھا ہی مِلتا ہے یہ سنکر بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی اسکے پیجھے جا اسے باندھہ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''اٹھارھوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ گوکل پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام سرکشی اور اس نگر مین دھناکشی نام ایک سیٹھ بھی رہتا تھا اسکی پتری کا نام دھنوتی تھا چھوٹی عمری اس کا بیاہ ایک گوری وت نام کے بنیے سے کر دیا گیا کتنے ایک دونون کے پیچھے ایک لڑکی اسکے ہوئی نام اس کا موہنی رکھا جب وہ کئی برس کی ہوئی تب اسکا باپ مر گیا اور اس بنینے کے بھائی بندون نے اسکا سربس چھین لیا وہ ناچار ہو اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ اندھیری رات کے سمے اس گھر سے نکل اپنے مان باپ کے گھر چلی تھوڑی ایک دور جاکر راہ بھول گئی ایک مرگھٹ پر جا نگلی وہان ایک چور سولی پر لٹکا ہوا تھا اچانک اسکا پائون اسکے ہاتھ مین لگا وہ بولا کہ اس سمے مجھے کن نے دکھ دیا تب یہ بولی مین نے جان کر تجھے دکھ نہین دیا میری تقصیر معاف کر اسنے کہا دکھ اور سکھ کوئی کسی کو نہین دیتا جیسا بدھاتا کرم مین لکھ دیتا ہے ویسا ہی بھگتنا ہوتا ہے اور جو لوگ کہتے ہین کہ یہ کام مین نے کیا سو بالکل جاہل ہین کیون کہ یہ سنسار کے تاگے مین بندھا ہوا ہے وہ جہان جہان چاہتا ہے تہان تمان جیو کو کھینچ لے جاتا ہے برھاتا کی<noinclude></noinclude> 9atp2vmlq9yqh9ysgrhsbq7701z26yz صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/53 250 13116 32526 32412 2026-05-09T23:54:57Z Charan Gill 46 32526 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بات کچھ سمجھی نہیں جاتی کیونکہ انسان اپنے میں میں سوچتا ہے اور وہ کر دیتا ہے یہ سُن دھنوتی بولی اے پرش تو کون ہے اس نے کہا میں چور ہوں تیسرا دن سولی پر مچھ کو ہوا ہے اور جان نہیں نِکلتی وہ بولی کِس کارن اس نے کہا کہ بن بیایا ہون اگر تو مجھے اپنی لڑکی بیاہ دے تو کروڈ اشرفی دون مثل مشہور ہے کہ پاپ کا مول لوبھ ہے میا دھی کا مول رسں اور دکھ کا مول نیچے جوان مینیون کو چھوڑ دے سو سکھ سے رہے پر یہ ہر کسی سے چھوٹ نہیں سکتے آخر کا لالچ کے مارے دھنوتی نے لڑکی دینے کا ارادہ کیا اور یہ وجھا کہ مین چاہتی ہوں کہ تیرے لڑکا ہو پر کس طرح سے ہوگا اسنے کہا کہ جس سے جوان ہوگی اس ایام مین ایک سندر بر مین کو بلا کر پانچ سو مر دے اسکے پاس رکھیو اس طرح سے بیٹا ہوگا یہ سنکے دعوتی نے لڑکی کو سولی کے گرد چار پھرے دے شادی کردی تب پور نے اس سے کہا پورب طرف کنویں کے پاس ایک برگد کا درخت ہے اسکے نیچے وہ اشرفیان گڑی ہیں تو جا کرے یہ کہکر اسکی جان نکل گئی وہ ادھر کو چلی اور وہان پہوچکر اسمین نے تھوڑی اشرفیان نے اپنے مان باپ کے گھر آئی ان سے یہ حال کہ ان کو اپنے ساتھ نے سوامی کے دیس میں لائی پھر ایک بڑی سی حویلی بنا اس میں رہنے لگی اور وہ لڑکی دن بدن بڑھنے لگی جب وہ جوان ہوئی تو ایک دن سکھی کو ساتھ لے کو ٹھے پر کھڑی بات نہار رہی تھی کہ اتنے میں ایک جوان بر مین اس راہ سے نکلا اور یہ اسے دیکھ کام کئے بس ہو سکتی سے بولی کہ ائے گی اس پرش کو تو میری مان کے پاس لے آیہ شین وہ بر من کو اسکی بان کے پاس لائی وہ اسے دیکھ کر بولی کہ اسے ہر مہن میری بیٹی جوان ہو جو تو اسکے پاس رہیگا تومیں تیر کی نیمت سو اشرفی مجھے دونگی یہ شاکر اپنے کہامیں رہونگا یہ باتین کرتی تھی کہ اتنے میں سانجھ ہوئی ہو تے ہیں بھو جن دیا اور اپنے بیا لو کیا مل مشہورہو کہ بھوگ لٹھ پر کار کا ایک سو گندھ ۔ دوسری بولنا عورت تو میری پوشاک چو تھے گیت پانچوین پان چھٹے بھوجن ساتوین سیج آٹھوین آبھوشن یہ سب بے بان موجود تھے غرض جب پہر رات آئی اپنے رنگ محل میں جا کر اسکے ساتھ ساری این آنند سو کائی جب صبح ہوئی تو وہ اپنے گھر گیا اور یا ٹھ کے اپنی سکین کے پاس آئی تب انہیں سح ایک نے پو چھا کہ کہو رات کو دوست کے ساتھ کیا کیا عیش کئے اپنے کہا جس وقت کہ میں اسکے پاس جا بیٹھی تھی میرے جی مین ایک دھر کا سا معلوم ہوا جبکہ اسنے مسکرا کر میرا ہاتھ پکڑ لیامیں اسکے بس ہوگئی اور مجھے کچھ خبرنہ رہی کیا ہوا اور کس کبھی کہ ایک ناری دوسرے سور یا تیسرے چتر جو تھے مردا اور پانچوین سنجی چھٹے گن دان سراتوین استری کریشک ہوا ایسے پرش کو نارضی اس خبر میں بھی نہیں بھولتی حامیں یہ کہ اسی رات میں اسے مل رہا جبکہ دن پورے ہوئے ایک لڑکا پیدا ہوا چھٹی کی رات کو اس کی مان نے سینے میں دیکھا کہ ایک جوگی جسکے<noinclude></noinclude> 2qpiap5bp04le1fq05tylmr5c5weui9