ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.1
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/54
250
13112
32535
32401
2026-05-11T11:14:24Z
Charan Gill
46
32535
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="2409:40D1:1D:7B08:8000:0:0:0" /></noinclude>سر پر جٹا ماتھے پر چاند اُجّل بھبھوت مھلے سفید جنیو پہنے سفید سانپون کی سیلی پہنے منڈ مالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ مین پھر اور دوسرے مین ترسول لئے ہوئے بہا بھی اونی صورت بنائے اسکے سامنے
آکنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے مین مہر کا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دوار پر رکھی
دیکھتے ہی اسکی آنکھکھیلی ار خبر موئی اپنی ان کے آگے اپنے سب حال
کہا یہ سنکے دوسرے دن اسکی
مان اسی طرح پٹارے مین اس لڑکے کو بند کر راجہ کے دروازے پر رکھ آئی اور او مصر راجہ کے خواب دیکھا
کہ دنل ہا تھ پانچ سر ہر ایک سرزمین تین تین آنکھین اور ہر ایک شریر ایک ایک چاند دانت بڑے بڑے
ترسول ہاتھ مین لیے ایک ڈراونی صورت اسکے سامنے اُن کے بولا کہ اسے راجہ تیرے دروازے پر
ایک پٹارا رکھا ہوا اسمین جو لڑکا ہوا اسے تو ے آدمی تیرا راج رکھے گا یہ سنتے ہی راجہ کی آنکھ کھل گئی تنب
رانی سے سب احوال کہہ پھر وہان سے اُٹھ دروازے پر دیکھا کہ بشارا د بھرا ہے جون ہی پیارے کو کھولکرا
دیکھا تو اسمین ایک لڑکا اور ہزار اشرفی کا توڑا ہر اس لڑکے کو آپ اٹھالا یا اور دوار پال سکو کہا کہ اس
توڑے کو اٹھالا پھر محل مین جاکر لڑکے کو رانی کی گود مین دیا اتنے مین صبح ہوئی راجہ نے باہر آگرینڈ تونس
اور جو شیون سے بلا کر پو چھا کہ کہو اس لڑکے مین اج لکشن کیسا ہو تب ان ہینڈ تون مین سو ایک کے
جانے والا برم من بولا کہ ماراح اس لڑکے مین مین نکشن تو صاف صاف مین ایک تو بڑی چھاتی دوستار
اونچی پیشانی تیسرے بڑا چہرہ سوائے انکے مہاراج نہین لکشن جو مرد کے کے ہین سو سب سین بین اس
یقین رکھین کہ یہ اج کریگا یہ سن راجہ نے خوش ہو کر موتیون
کا ہار اپنے گلے سے اتاراس بر من کو دیا
اور سب پر منون کو بہت سی خیرات دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھوٹ پنڈتون نے کہا کہ مہاراج
آپ کنٹھ مالا باندھ بیٹھے مہارانی گودین را کالے بیٹھین اورسب انگلی لوگون
کو بلا مشکل چار کرواؤ
ہم شاستر کی رو سے نام کرن کرین بہمن راج نے دیوان کوحکم دیا جو کہین سوکرو دیوان نے
گ گیا
سے بدھائی آنے لگی راجہ کے مندرمین آنند کے باجے بجنے لگے اور منگلا چار ہوئے پھر راجہ اور رانی گود
مین لڑکے کو لے چوک مین آبیٹھے اور برہمن بید پڑھنے لگے ان بر منون مین سے ایک جوتشی نے
شبھ گھڑی لگن مہورت بچا ر اس لڑکے کا نام مہرت رکھا پھر وہ دن بدن بڑھنے لگا ندان سولہ برس
کی عمرمین چھ شاستر اور چودہ بدی پڑھ کر مینڈت ہوا سیمین بھگوان کا چاہا یون ہوا کہ اسکے مان
باپ مرکئے اور راجگدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن
وہ راجہ اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ مین نے مان باپ کے یہان جنم لے کے ابھی خاطر کیا کیا<noinclude></noinclude>
fu6cur4gmamslzlgekcxaka1k9igjen
32536
32535
2026-05-11T11:25:51Z
Charan Gill
46
32536
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="2409:40D1:1D:7B08:8000:0:0:0" /></noinclude>سر پر جٹا ماتھے پر چاند اُجّل بھبھوت مھلے سفید جنیو پہنے سفید سانپون کی سیلی پہنے منڈ مالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ مین کھپّر اور دوسرے مین ترسول لئے ہوئے مہا بھیادنی صورت بنائے اسکے سامنے آ کہنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے مین مہر کا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دوار پر رکھی
دیکھتے ہی اسکی آنکھکھیلی ار خبر موئی اپنی ان کے آگے اپنے سب حال
کہا یہ سنکے دوسرے دن اسکی
مان اسی طرح پٹارے مین اس لڑکے کو بند کر راجہ کے دروازے پر رکھ آئی اور او مصر راجہ کے خواب دیکھا
کہ دنل ہا تھ پانچ سر ہر ایک سرزمین تین تین آنکھین اور ہر ایک شریر ایک ایک چاند دانت بڑے بڑے
ترسول ہاتھ مین لیے ایک ڈراونی صورت اسکے سامنے اُن کے بولا کہ اسے راجہ تیرے دروازے پر
ایک پٹارا رکھا ہوا اسمین جو لڑکا ہوا اسے تو ے آدمی تیرا راج رکھے گا یہ سنتے ہی راجہ کی آنکھ کھل گئی تنب
رانی سے سب احوال کہہ پھر وہان سے اُٹھ دروازے پر دیکھا کہ بشارا د بھرا ہے جون ہی پیارے کو کھولکرا
دیکھا تو اسمین ایک لڑکا اور ہزار اشرفی کا توڑا ہر اس لڑکے کو آپ اٹھالا یا اور دوار پال سکو کہا کہ اس
توڑے کو اٹھالا پھر محل مین جاکر لڑکے کو رانی کی گود مین دیا اتنے مین صبح ہوئی راجہ نے باہر آگرینڈ تونس
اور جو شیون سے بلا کر پو چھا کہ کہو اس لڑکے مین اج لکشن کیسا ہو تب ان ہینڈ تون مین سو ایک کے
جانے والا برم من بولا کہ ماراح اس لڑکے مین مین نکشن تو صاف صاف مین ایک تو بڑی چھاتی دوستار
اونچی پیشانی تیسرے بڑا چہرہ سوائے انکے مہاراج نہین لکشن جو مرد کے کے ہین سو سب سین بین اس
یقین رکھین کہ یہ اج کریگا یہ سن راجہ نے خوش ہو کر موتیون
کا ہار اپنے گلے سے اتاراس بر من کو دیا
اور سب پر منون کو بہت سی خیرات دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھوٹ پنڈتون نے کہا کہ مہاراج
آپ کنٹھ مالا باندھ بیٹھے مہارانی گودین را کالے بیٹھین اورسب انگلی لوگون
کو بلا مشکل چار کرواؤ
ہم شاستر کی رو سے نام کرن کرین بہمن راج نے دیوان کوحکم دیا جو کہین سوکرو دیوان نے
گ گیا
سے بدھائی آنے لگی راجہ کے مندرمین آنند کے باجے بجنے لگے اور منگلا چار ہوئے پھر راجہ اور رانی گود
مین لڑکے کو لے چوک مین آبیٹھے اور برہمن بید پڑھنے لگے ان بر منون مین سے ایک جوتشی نے
شبھ گھڑی لگن مہورت بچا ر اس لڑکے کا نام مہرت رکھا پھر وہ دن بدن بڑھنے لگا ندان سولہ برس
کی عمرمین چھ شاستر اور چودہ بدی پڑھ کر مینڈت ہوا سیمین بھگوان کا چاہا یون ہوا کہ اسکے مان
باپ مرکئے اور راجگدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن
وہ راجہ اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ مین نے مان باپ کے یہان جنم لے کے ابھی خاطر کیا کیا<noinclude></noinclude>
f6hjmz1e5kq5qltl938tejk9eullrfv
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/52
250
13115
32530
32527
2026-05-11T05:56:35Z
BalramBodhi
60
32530
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>کِس کا بھائی اس سنسار کی ریت ہے کہ کتنے آتے ہین اور کتنے جاتے ہین جو جگ اور ہوم کرنے والے ہین وے آگ کو ایشور جانتے ہین اور جو کم عقل ہین وہ مورتی کو بھگوان جانتے ہین اور جوگی لوگ اپنے گھٹ ہی مین ایشور کو جانتے ہین سو گرہستی دھرم کو مین نہ کرون گا بلکہ یوگ ابھیاس کرونگااتنا کہ اسنے گھر سے رخصت لے جوگی کے پاس ا\گن مین بیٹھ منتر سادھا پر یکشنی نہ آئی تب جوگی کے پاس گیا جوگی نے پوچھا بدّیا تجھے نہ آئی پھر ان نے کہا ہان مہاراج نہ آئی اتنا قصہ کہہ بیتال بولا اے راجہ کہو کِس کارن اسے برّیا نہ آئی راجہ بولا کہ وہ سادھک دوچتا ہوا اس لیے نہ آئی اور کہا ہے کہ منتر ایک چت ہونے سے سدھ ہوتا ہے دوچت ہونے سے نہین ہوتا اور یہ بھی کہا ہے کہ جو دان نہین کرتے تنکی کیرت نہین ہوتی اور جو ست سے گھرے ہوئے ہین انھین لاج نہین جو نیاؤ سے گھرے ہین تنہین دولت نہین ملتی اور جو دھیان نہین لگاتے انھین بھگوان نہین ملتا یہ سُن بتال نے کہا جو سادھک منتر سدھ کرنے کے لئے آگ مین بیٹھا وہ کِس طرح دوچت ہوا راجہ نے کہا منتر سادھنے بدیا جب وہ اپنے کٹمب کو ملنے گیا اس سمے جوگی نے کرورھ کر اپنے من مین کہا ایسے دوچتے سادھک کو مین نے بدّیا کیون سکھائی اس لئے بدیا اسے نہ آئی اور کہا ہے کہ انسان کتنا ہی زور لگاوے پر نصیب اسکے ساتھ رہتا ہے اور کتنا ہی کام اپنی بوجھ سے کرے پر تقدیر کا لِکھا ہی مِلتا ہے یہ سنکر بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی اسکے پیجھے جا اسے باندھہ کاندھے پر رکھ لیچلا
{{center|'''اٹھارھوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ گوکل پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام سرکشی اور اس نگر مین دھناکشی نام ایک سیٹھ بھی رہتا تھا اسکی پتری کا نام دھنوتی تھا چھوٹی عمر مین اس کا بیاہ ایک گوری وت نام کے بنیے سے کر دیا گیا کتنے ایک دونون کے پیچھے ایک لڑکی اسکے ہوئی نام اس کا موہنی رکھا جب وہ کئی برس کی ہوئی تب اسکا باپ مر گیا اور اس بنینے کے بھائی بندون نے اسکا سربس چھین لیا وہ ناچار ہو اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ اندھیری رات کے سمے اس گھر سے نکل اپنے مان باپ کے گھر چلی تھوڑی ایک دور جاکر راہ بھول گئی ایک مرگھٹ پر جا نکلی وہان ایک چور سولی پر لٹکا ہوا تھا اچانک اسکا پائون اسکے ہاتھ مین لگا وہ بولا کہ اس سمے مجھے کن نے دکھ دیا تب یہ بولی مین نے جان کر تجھے دکھ نہین دیا میری تقصیر معاف کر اسنے کہا دکھ اور سکھ کوئی کسی کو نہین دیتا جیسا بدھاتا کرم مین لکھ دیتا ہے ویسا ہی بھگتنا ہوتا ہے اور جو لوگ کہتے ہین کہ یہ کام مین نے کیا سو بالکل جاہل ہین کیون کہ یہ سنسار کے تاگے مین بندھا ہوا ہے وہ جہان جہان چاہتا ہے تہان تہان جیو کو کھینچ لے جاتا ہے بدھاتا کی<noinclude></noinclude>
q7k3f1mvdffytpvigzh68r3iiireld8
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/53
250
13116
32528
32526
2026-05-10T19:03:43Z
Charan Gill
46
32528
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بات کچھ سمجھی نہین جاتی کیونکہ انسان اپنے مین مین سوچتا ہے اور وہ کر دیتا ہے یہ سُن دھنوتی بولی اے پرش تو کون ہے اس نے کہا مین چور ہون تیسرا دن سولی پر مچھ کو ہوا ہے اور جان نہین نِکلتی وہ بولی کِس کارن
اس نے کہا کہ بن بیایا ہون اگر تو مجھے اپنی لڑکی بیاہ دے تو کروڈ اشرفی دون مثل مشہور ہے کہ پاپ کا مول لوبھ ہے میا دھی کا مول رسن اور دکھ کا مول نیچے جوان مینیون کو چھوڑ دے سو سکھ سے رہے پر یہ ہر کسی سے چھوٹ نہین سکتے آخر کا لالچ کے مارے دھنوتی نے لڑکی دینے کا ارادہ کیا اور یہ وجھا کہ مین چاہتی ہون کہ تیرے لڑکا ہو پر کس طرح سے ہوگا اسنے کہا کہ جس سے جوان ہوگی اس ایام مین ایک سندر برہمین کو بلا کر پانچ سو ہورے اسکے پاس رکھیو اس طرح سے بیٹا ہوگا یہ سنکے دھنوتی نے لڑکی کو سولی کے گرد چار پھیرے دے شادی کر دی تب پور نے اس سے کہا پورب طرف کنوین کے پاس ایک برگد کا درخت ہے اسکے نیچے وہ اشرفیان گڑی ہین تو جا کرے یہ کہکر اسکی جان نکل گئی وہ ادھر کو چلی اور وہان پہوچکر اسمین نے تھوڑی اشرفیان لے اپنے مان باپ کے گھر آئی ان سے یہ حال کہ ان
کو اپنے ساتھ لے سوامی کے دیس مین لائی پھر ایک بڑی سی حویلی بنا اس مین رہنے لگی اور وہ لڑکی دن بدن بڑھنے لگی جب وہ جوان ہوئی تو ایک دن سکھی کو ساتھ لے کوٹھے پر کھڑی بات نہار رہی تھی کہ اتنے مین ایک جوان بر مین اس راہ سے نکلا اور یہ اسے دیکھ کام کئے
بس ہو سکتی سے بولی کہ ائے گی اس پرش کو تو میری مان کے پاس لے آیہ شین وہ بر من کو اسکی بان
کے پاس لائی وہ اسے دیکھ کر بولی کہ اسے ہر مہن میری بیٹی جوان ہو جو تو اسکے پاس رہیگا تومین تیر کی
نیمت سو اشرفی مجھے دونگی یہ شاکر اپنے کہامین رہونگا یہ باتین کرتی تھی کہ اتنے مین سانجھ ہوئی ہو تے ہین
بھو جن دیا اور اپنے بیا لو کیا مل مشہورہو کہ بھوگ لٹھ پر کار کا ایک سو گندھ ۔ دوسری بولنا عورت تو میری
پوشاک چو تھے گیت پانچوین پان چھٹے بھوجن ساتوین سیج آٹھوین آبھوشن یہ سب بے بان موجود تھے
غرض جب پہر رات آئی اپنے رنگ محل مین جا کر اسکے ساتھ ساری این آنند سو کائی جب صبح ہوئی
تو وہ اپنے گھر گیا اور یا ٹھ کے اپنی سکین کے پاس آئی تب انہین سح ایک نے پو چھا کہ کہو رات کو دوست کے
ساتھ کیا کیا عیش کئے اپنے کہا جس وقت کہ مین اسکے پاس جا بیٹھی تھی میرے جی مین ایک دھر کا سا
معلوم ہوا جبکہ اسنے مسکرا کر میرا ہاتھ پکڑ لیامین اسکے بس ہوگئی اور مجھے کچھ خبرنہ رہی کیا ہوا اور کس کبھی
کہ ایک ناری دوسرے سور یا تیسرے چتر جو تھے مردا اور پانچوین سنجی چھٹے گن دان سراتوین استری کریشک
ہوا ایسے پرش کو نارضی اس خبر مین بھی نہین بھولتی حامین یہ کہ اسی رات مین اسے مل رہا جبکہ دن
پورے ہوئے ایک لڑکا پیدا ہوا چھٹی کی رات کو اس کی مان نے سینے مین دیکھا کہ ایک جوگی جسکے<noinclude></noinclude>
bdqio4xv6ze7d8tcuy1rv1klyphatzd
32531
32528
2026-05-11T06:37:08Z
BalramBodhi
60
32531
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>بات کچھ سمجھی نہین جاتی کیونکہ انسان اپنے مین مین سوچتا ہے اور وہ کر دیتا ہے یہ سُن دھنوتی بولی اے پُرش تو کون ہے اس نے کہا مین چور ہون تیسرا دن سولی پر مچھ کو ہوا ہے اور جان نہین نکلتی وہ بولی کِس کارن اس نے کہا کہ بن بیایا ہون اگر تو مجھے اپنی لڑکی بیاہ دے تو کروڑ اشرفی دون مثل مشہور ہے کہ پاپ کا مول لوبھ ہے بیادھی کا مول رس اور دکھ کا مول نیہ جو اِن تینیون کو چھوڑ دے سو سکھ سے رہے پر یہ ہر کِسی سے چھوٹ نہین سکتے آخِر کار لالچ کے مارے دھنوتی نے لڑکی دینے کا ارادہ کیا اور یہ پوچھا کہ مین چاہتی ہون کہ تیرے لڑکا ہو پر کِس طرح سے ہوگا اسنے کہا کہ جس سمے جوان ہوگی اس ایام مین ایک سندر برہمین کو بلا کر پانچ سو ہُردے اسکے پاس رکھیو اس طرح سے بیٹا ہوگا یہ سنکے دھنوتی نے لڑکی کو سولی کے گرد چار پھیرے دے شادی کر دی تب چور نے اس سے کہا پورب طرف کنوین کے پاس ایک برگد کا درخت ہے اسکے نیچے وہ اشرفیان گڑی ہین تو جا کر لے یہ کہکر اسکی جان نکل گئی وہ اُدھر کو چلی اور وہان پہوچکر اسمین سے تھوڑی اشرفیان لے اپنے مان باپ کے گھر آئی ان سے یہ حال کہہ ان کو اپنے ساتھ لے سوامی کے دیس مین لائی پھر ایک بڑی سی حویلی بنا اس مین رہنے لگی اور وہ لڑکی دن بدن بڑھنے لگی جب وہ جوان ہوئی تو ایک دن سکھی کو ساتھ لے کوٹھے پر کھڑی باٹ نہار رہی تھی کہ اتنے مین ایک جوان برہمین اس راہ سے نکلا اور یہ اسے دیکھ کام کے بس ہو سِکھی سے بولی کہ ائے آلی اس پرش کو تو میری مان کے پاس لے آ یہ سُن وہ برہمن کو اسکی بان کے پاس لائی وہ اسے دیکھ کر بولی کہ اے ہرہمہن میری بیٹی جوان ہے جو تو اسکے پاس رہیگا تو مین پتر کی نمِت سو اشرفی تجھے دونگی یہ سنکر اسنے کہا مین رہونگا یہ باتین کرتی تھی کہ اتنے مین سانجھ ہوئی اسے حسب خواہش بھوجن دیا اور اسنے بیا لو کیا مسل مشہور ہے کہ بھوگ آٹھ پرکار کا ایک سوگندھ۔ دوسری بولنا عورت سے تیسرے پوشاک چوتھے گیت پانچوین پان چھٹے بھوجن ساتوین سیج آٹھوین آبھوشن یہ سب وبان موجود تھے غرض جب پہر رات آئی اسنے رنگ محل مین جا کر اسکے ساتھ ساری رین آنند سے کائی جب صبح ہوئی تو وہ اپنے گھر گیا اور یہ اٹھ کے اپنی سکہینکے پاس آئی تب انمین سے ایک نے پوچھا کہ کہو رات کو دوست کے
ساتھ کیا کیا عیش کئے اسنے کہا جسوقت کہ مین اسکے پاس جا بیٹھی تھی میرے جی مین ایک دھڑکا سا معلوم ہوا جبکہ اسنے مسکرا کر میرا ہاتھ پکڑ لیا مین اسکے بس ہوگئی اور مجھے کچھ خبر نہ رہی کیا ہوا اور کہا بھی کہ ایک ناری دوسرے سورما تیسرے چتر چوتھے مردا اور پانچوین سنجی چھٹے گن وان ساتوین استری رکشک ہو ایسے پرش کو ناری اس جنم مین بھی نہین بھولتی حاصل یہ کہ اسی رات مین اسے ہمل رہا جبکہ دن پورے ہوئے ایک لڑکا پیدا ہوا چھٹی کی رات کو اس کی مان نے سپنے مین دیکھا کہ ایک جوگی جسکے<noinclude></noinclude>
5be5xp4b08yvehm49t1gkue7096aegl
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/43
250
13124
32529
32450
2026-05-11T05:48:44Z
Taranpreet Goswami
90
32529
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کہ راجہ سارے کٹمب کو ساتھ لے کر دیوان کے گھر شادی مین گیا وہان دیوان کے بیٹے نے اس استری بھیش دھاری برہمن کے لڑکے کو دیکھا دیکھتے ہی عاشِق ہو گیا اور اپنے ایک دوست کے آگے کہنے لگا کہ جو یہ ناری مجھے نہ ملیگی تو مین اپنا پران تجون گا اس عرصہ مین راجہ نیوتا کھا کنبے سمیت اپنے مندر کو آیا اور منتری کے بیٹے کی اسکی جدائی کی ڈاہ سے نپٹ کٹھِن اوستھا ہوئی اور دانا پانی چھوڑ دیا یہ حالت دیکھ اسکے دوست نے جا دیوان سے کہا اور دیوان نے یہ احوال سن جا راجہ سے کہا مہاراج اس برہمن کی بہو کی محبت مین میرے بیٹے کی بری حالت ہے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے جو آپ کرپا کر کے برہمن کی بہو کو مجھے دیدین تو اسکی جان بچے یہ سن راجہ غضبناک ہو کر بولا ارے مُورکھ ایسی اینت کرنا راجاؤن کا دھرم نہین ہے سن ایک شخص کی تھاتھی بغیر اسکی آگیا کے دوسرے کو دینا کیا اچت ہے جو تو مجھ سے یہ بات کہتا ہے یہ سنکے دیوان نراس ہو اپنے گھر آیا پر اس لڑکے کا دکھکر ان نے بھی کھانا پینا چھوڑ دیا جبکہ تین دن دیوان کو بن دانے پانی کے گجرے سنتے کارباریون نے اکٹھے ہو کر راجہ سے عرض کی کہ مہاراج دیوان کا لڑکا اب تب ہو رہا ہے اسکے مرنے سے دیوان بھی نہ بچیگا اور دیون کے مرنے سے راج کاج نہ چلے گا بہتر یہ ہے کہ جو ہم عرض کرین سو قبول ہو یہ سنکے راجہ نے اگیا دی کہ کہو تب ان مین سے ایک شخص بولا مہاراج اس بوڑھے برہمن کو گئے ہوئے بہت دن ہوگئے ابتک وہ پھر انہین بھگوان جانے وہ مر گیا یا جیتا ہے اِس سے اچت یہ ہے کہ اس بوڑھے برہمن کی بہو کو دیوان کے بیٹے کو دے اپنا راج قائم رکھیئے اور کداچت وہ آیا تو گاؤن دھن دیجئےگا اگر اسپر راضی نہ ہوگا تو اسکے لڑکے کا بیاہ کر بدا کیجئےگا یہ بات سن راجہ نے اس برہمین کی ہہو کو بلا کر کہا تو میرے دیوان کے لڑکے کے گھر جا وہ بولی استری کا دھرم نشٹ ہوتا ہے غیر خاوند کے پاس جانے سے اور برہمین کا دھرم جاتا ہے راجہ کی سیوا کرنے سے اور گاے خراب ہوتی ہے دور کی چرائی سے اور دھن جاتا ہے ادھرم کرنے سے اتنا کہہ وہ پھر بولی مہاراج تم مجھے دیوانکے
بیٹے کو دیتے ہو تو اس سے یہ ٹھہرا دیجئے کہ جو کچھ اس سے مین کہون سو وہ کرے تب مین اسکے گھر جاؤن گی راجہ بولا کہ وہ کیا کرے اسنے کہا مہاراج مین برہمنی اور وہ چھتری اس سے بہتر یہ ہے کہ وہ پہلے سب سے تیرتھ جاترا کر آوے تب مین اسکے ساتھ گھر کرون یہ بات سنکے راجہ نے منتری کے بیٹے کو بلا کر کہا پہلے تو تیرتھ جاترا
کر آ تب اس برہمنی کو تجھے دیوینگے راجہ کی بات سن دیوان کے بیٹے نے کہا مہاراج وہ میرے گھر جا بیٹھے تو مین تیرتھ کو جاؤن گا یہ بات راجہ نے اس برہمنی سے کہی جو تم پہلے جاکر اسکے گھر مین رہو تو وہ تیرتھ جاتراجاوے ناچار ہو راجہ کے کہنے سے برہمنی اسکے گھر مین جا رہی تب دیوان کے لڑکے نے اپنی عورت سے کہا تم دونون نہایت پیار اخلاص سے باہم ایک جگہ رہنا اور آپسمین کِسی طرح کا جھگڑا لڑائی نہ کرنا اور برانے گھر کبھی نہ جانا اتنی سیکھ دے وہ تیرتھ جاترا کو گیا اور اِدھر اسکی بہو سوبھاگ سندری نام
لازم 1-<noinclude></noinclude>
qtxkq20of4u2hlh14msxb8ijclj2i22
32532
32529
2026-05-11T08:28:59Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
32532
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کہ راجہ سارے کٹمب کو ساتھ لے کر دیوان کے گھر شادی مین گیا وہان دیوان کے بیٹے نے اس استری بھیش دھاری برہمن کے لڑکے کو دیکھا دیکھتے ہی عاشِق ہو گیا اور اپنے ایک دوست کے آگے کہنے لگا کہ جو یہ ناری مجھے نہ ملیگی تو مین اپنا پران تجون گا اس عرصہ مین راجہ نیوتا کھا کنبے سمیت اپنے مندر کو آیا اور منتری کے بیٹے کی اسکی جدائی کی ڈاہ سے نپٹ کٹھِن اوستھا ہوئی اور دانا پانی چھوڑ دیا یہ حالت دیکھ اسکے دوست نے جا دیوان سے کہا اور دیوان نے یہ احوال سن جا راجہ سے کہا مہاراج اس برہمن کی بہو کی محبت مین میرے بیٹے کی بری حالت ہے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے جو آپ کرپا کر کے برہمن کی بہو کو مجھے دیدین تو اسکی جان بچے یہ سن راجہ غضبناک ہو کر بولا ارے مُورکھ ایسی اینت کرنا راجاؤن کا دھرم نہین ہے سن ایک شخص کی تھاتھی بغیر اسکی آگیا کے دوسرے کو دینا کیا اچت ہے جو تو مجھ سے یہ بات کہتا ہے یہ سنکے دیوان نراس ہو اپنے گھر آیا پر اس لڑکے کا دکھکر ان نے بھی کھانا پینا چھوڑ دیا جبکہ تین دن دیوان کو بن دانے پانی کے گجرے سنتے کارباریون نے اکٹھے ہو کر راجہ سے عرض کی کہ مہاراج دیوان کا لڑکا اب تب ہو رہا ہے اسکے مرنے سے دیوان بھی نہ بچیگا اور دیون کے مرنے سے راج کاج نہ چلے گا بہتر یہ ہے کہ جو ہم عرض کرین سو قبول ہو یہ سنکے راجہ نے اگیا دی کہ کہو تب ان مین سے ایک شخص بولا مہاراج اس بوڑھے برہمن کو گئے ہوئے بہت دن ہوگئے ابتک وہ پھر انہین بھگوان جانے وہ مر گیا یا جیتا ہے اِس سے اچت یہ ہے کہ اس بوڑھے برہمن کی بہو کو دیوان کے بیٹے کو دے اپنا راج قائم رکھیئے اور کداچت وہ آیا تو گاؤن دھن دیجئےگا اگر اسپر راضی نہ ہوگا تو اسکے لڑکے کا بیاہ کر بدا کیجئےگا یہ بات سن راجہ نے اس برہمین کی ہہو کو بلا کر کہا تو میرے دیوان کے لڑکے کے گھر جا وہ بولی استری کا دھرم نشٹ ہوتا ہے غیر خاوند کے پاس جانے سے اور برہمین کا دھرم جاتا ہے راجہ کی سیوا کرنے سے اور گاے خراب ہوتی ہے دور کی چرائی سے اور دھن جاتا ہے ادھرم کرنے سے اتنا کہہ وہ پھر بولی مہاراج تم مجھے دیوانکے
بیٹے کو دیتے ہو تو اس سے یہ ٹھہرا دیجئے کہ جو کچھ اس سے مین کہون سو وہ کرے تب مین اسکے گھر جاؤن گی راجہ بولا کہ وہ کیا کرے اسنے کہا مہاراج مین برہمنی اور وہ چھتری اس سے بہتر یہ ہے کہ وہ پہلے سب سے تیرتھ جاترا کر آوے تب مین اسکے ساتھ گھر کرون یہ بات سنکے راجہ نے منتری کے بیٹے کو بلا کر کہا پہلے تو تیرتھ جاترا
کر آ تب اس برہمنی کو تجھے دیوینگے راجہ کی بات سن دیوان کے بیٹے نے کہا مہاراج وہ میرے گھر جا بیٹھے تو مین تیرتھ کو جاؤن گا یہ بات راجہ نے اس برہمنی سے کہی جو تم پہلے جاکر اسکے گھر مین رہو تو وہ تیرتھ جاتراجاوے ناچار ہو راجہ کے کہنے سے برہمنی اسکے گھر مین جا رہی تب دیوان کے لڑکے نے اپنی عورت سے کہا تم دونون نہایت پیار اخلاص سے باہم ایک جگہ رہنا اور آپسمین کِسی طرح کا جھگڑا لڑائی نہ کرنا اور برانے گھر کبھی نہ جانا اتنی سیکھ دے وہ تیرتھ جاترا کو گیا اور اِدھر اسکی بہو سوبھاگ سندری نام<noinclude></noinclude>
28y98c55tbi3su1p31p8nygdpd7g4pg
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/44
250
13125
32533
32457
2026-05-11T08:39:22Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
32533
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>برہمن کی بہو کو اپنے ساتھ لے ایک بچھونے پر رات کو لیٹی باتین اِدھر اُدھر کی کرنے لگین کتنی ایکے دیر کے بعد اس دیوان کے لڑکے کی بہو نے یہ بات کہی اے سکھی اسوقت تو مین عِشق مین جلی جاتی ہون مطلب میرا کِس طور سے حاصِل ہو برہمن کی لڑکی بولی کہ اگر تیرے مطلب کو مین بر لاون تو تو مجھے کیا دیگی اس نے کہا سدا تیرے آگے ہاتھ جوڑے فرمانبردار رہونگی تب یہ اپنے منھ سے گٹکے کو نکال مرد بنگیا ہمیشہ اسی طرح رات کو مرد بنتا اور دن کو عورت پھر ان دونون مین بڑی پریت ہو گئی غرض اسی طرح سے چھ مہینے بیتے اور دیوان کا لڑکا آ پہونچا ادھر لوگ اسکے آنے کی خبر سن منگلاچار کرنے لگے اور ادھر برہمن کی بہو نے گٹکا منھ سے نکال مرد بن کھڑکی کی راہ سے نِکل اپنی رہ لی پھر کِتنی دیر مین اس مول دیو برہمن کے پاس پہونچا کہ جسنے اسے گٹکا دیا تھا اس سے سب اپنا شروع سے آخر تک حال کہا تب مول دیو نے تمام احوال سنکر گٹکا اس سے لے اپنے ساتھی ششی نام برمین کو دیا اور دونون نے گٹکے اپنے اپنے منھ مین رکھ لئے ایک بوڑھا بنگیا اور دوسرا بیس برس کا پھر یہ دونون راجہ کے یہان گئے راجہ نے دیکھتے ہی ڈنڈوت کر انکے بیٹھنے کو آسن دیئے اور انھون نے بھی اسیس دی راجہ نے انکی کشل کھیم پوچھی مول دیو سے کہا کہ اتنے دن تمھین کہان لگے برہمن بولا مہاراج اسی پتر کو ڑھوڑھنے کو گیا تھا سو اسے کھوج کر آپکے پاس لے آیا ہون آپ اسکی بہو کو دو تو مین بہو بیٹے کو اپنے گھر لیجاؤن تب راجہ نے برہمن کے آگے وہ سب احوال کہہ سنایا برہمن نے سنتے ہی بجد غصّے مین آکر راجہ سے کہا یہ کون بیوہار ہے جو تمنے میرے بیٹے کی بہو اور کو دی اچھا جو تمنے چاہا سو کیا پر اب میرا سراپ لو تب راجہ بولا کہ اے دیوتا تم کرودھ مت کرو جو تم کہو سو مین کرون برہمن بولا اچھا جو میرے سراپ سے ڈر کر میرا کہا کرتا ہے تو اپنی لڑکی میرے لڑکے کو بیاہ دے یہ سن راجہ نے ایک جوتشی کو بلا سبھ لگن مہورت ٹھہرائی اور اپنی لڑکی اس برہمن کے لڑکے سے بیاہ دی پھر وہان سے راج کنیا کو دان جہیز سمیت لے راجہ سے رخصت ہو اپنے گاؤن مین آیا یہ خبر سن منسوی برہمن بھی اس سے جھگڑنے لگا کہ میری استری مجھے دے سسی نام برہمن بولا کہ مین دس پنچون مین بیاہ کر لایا ہون یہ استری میری ہے اسنے کہا اسے تو میرا گربھ رہا ہے تیری کِس طرح سے یہ ناری ہوگی اسطرح آپسمین جھگڑا کرنے لگے مول دیو نے اِن دونون کو بہت سمجھایا لیکن کِسی نے اسکا کہا نہ مانا اتنی کتھا کہہ بتال بولا اے راجہ بیر بکرماجیت کہو وہ عورت کِسکی ہوئی راجہ نے کہا وہ استری ششی برہمن کی ہوئی تب بیتال بولا گربھ تو منسوی کا تھا جورو ششی برہمن کی کسطرح سے ہوئی راجہ نے کہا اس برہمن کا پیٹ رکھوایا تو کسی نے معلوم نہ کیا اور ان نے دس پنچونمین بیٹھ کے شادی کی اسلئے اِسکی جورو ٹھہری اور جو لڑکا ہوگا وہ سسی کے ہی کرتا کرم کا ادھاوی ہوگا یہ بات سن بیٹال اسے<noinclude></noinclude>
8dmwd5968zmgm5tod91id64q5v7zezv
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/45
250
13126
32534
32463
2026-05-11T08:40:08Z
Taranpreet Goswami
90
32534
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
روکھ مین جا لٹکا پھر راجہ گیا اور بیتال کو باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا
{{center|'''پندروین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گندھرب کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ جمیوت گُپت کرتا تھا ایک سمے اسنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک پتر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اسنے بہت خوشی کی اور بڑی دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نامکرن کیا برہمنون نے اسکا نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا ساستر منتر پڑھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو سخی بہادر دھرماتما پنڈت ہوا اس سمے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہوا تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برکش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی تجھے خواہش ہو سو مانگ مین تجھے دونگا پھر جمیوت باہن بولا جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر اور جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برکش نے بر دیا سب لوگ
دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس راج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے یہ آپسمین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہوگا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گیھرا جب یہ خبر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام
بول امہاراج آپ یہان
بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا
اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب
راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین
کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت
کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو
دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر
گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست
کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude>
cjz95apqn46cjvueam9n6x0sknj4tbm