ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.1 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/55 250 12703 32545 30803 2026-05-12T09:49:21Z Charan Gill 46 32545 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثل مشہور ہے کہ جو دیانت ہوتے ہین وے سب پر دیا کرتے ہین وہی گیانی ہین اور انھین کو بیکنٹھ ہوتا ہے اور جن کا من سدھ نہین انکا دان پوجا تپ تیرتھ کرنا شاستر سننا سب بیکار ہے جو شردھا ہین سجھ سمیت شرادھ کرتے ہین ان کا نرپھل ہوتا ہے اور پر انکے نراس جاتے ہین یہ بات راجہ نے سوچ سمجھ کر بچار کیا کہ اب بزرگوار کی عاقبت کے لیے بھی کیا چاہیے پھر راجہ سروت گیامی تبر تعمین جاکر اپنے بزرگون کے نام پھلگوندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی مین سے مینون کے ہاتھ نکلے یہ دیکھ جی مین گھڑیا کہ مین کیس کے ہاتھ مین دون اور کس کے ہاتھ مین نہ دون اتنی کتھا کہ بتال بولا اے راجہ تمبرهم ان تینون مین سے کسے پنڈ دینا واجب ہو، راجہ ن کا چور کو پھر میان بولا کس کا رن تب اس لئے کہا برہمن کا پیچ تو مول لیا گیا اور راجہ نے ہزار اشرفی لیکر بالا اس واسطے ان دونون کو پنڈ کا اودھ کار نہ ہوا اتنی بات سن پھر بتال اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ سے وہان سے باندھ لیچلا۔ انیسوین کهانی | بیتال بولا اے راجہ چترکوٹ نام یک نگری تان کا روپ دت نام راجب ایک دن اکیلا سوار و شکار کو گیا سو بھولا ہوا ایک مہابن بین جانکلا و ان جاکے دیکھتا کیاہے کہ ایک بڑا تالاب ہو سیمین کو کھیل رہا ہو اور بھانت بھانت کے کچھی کلول کر رہے ہین تالاب کے چارون طرف درختون کی گھنی گھنی چھاؤن ! مین ٹھنڈی ٹھنڈی ہو اسگندھون کے ساتھ آرہی ہو یہ بھی دھوپ کا مارا ہوا تھا گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ زمین پوش بچھا کر بیٹھ گیا گھڑی ایک بنتی تھی کہ ایک رش کنیا ات سُندر جوین وتی وہان پھول لینے کو آئی اسے پھول توڑتے ہوے دیکھ راجرات کام کو بیس مواجب وہ پھول جن اپنے استھان کو شک وہ پھر کھڑی ہوئی تب راجہ نے کہا کہ اسے کہتے ہین کہ تم ان کے گر رنج برن بھی امید ہوتے تو وہ بھی پوجتے ہو اورچور ہویا چنڈال سر ہویا پر گھاتک اگر یہ بھی اپنےگھر وین تو اسکی ہو چاکری اچست ہے کیونکہ یہ سب کا گرو ہو اس طرح سے جب راجہ نے کہاب دہ کھڑی ہوئی پھر تو دونون ہاتھی لڑانے لگے اتنے مین وہ من آپہونچا راجہ نے اس منشی کو دیکھ نشکار کیا اوران نے آشیر باد یا کہ رنجور و اتنا کہ اس نے راجہ سے پوچھا کہ بیان کہین کارن آئے اسنے کہا مہاراج شکار کرنے آیا ہون وہ بولا کس لیے تو ماپاپ ترا ہے ایسا کہا ہو کہ ایک جن پاپ کرتا ہو اور ایک جن اسکے پاپ کا پھل بھو گئے ہین راجہ نے کہا ما را مچھر کر پا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کم توب و من بولائٹے ماراح کہ جو یوجنت گھاس پھوس جل کھا بن باس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 9mokpvptbalvmhul1oybksvokoc5rgc صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/54 250 13112 32537 32536 2026-05-11T13:53:55Z Charan Gill 46 32537 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2409:40D1:1D:7B08:8000:0:0:0" /></noinclude>سر پر جٹا ماتھے پر چاند اُجّل بھبھوت مھلے سفید جنیو پہنے سفید سانپون کی سیلی پہنے منڈ مالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ مین کھپّر اور دوسرے مین ترسول لئے ہوئے مہا بھیادنی صورت بنائے اسکے سامنے آ کہنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے مین مہرکا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دروار کے دروازے پر رکھ آئ دیکھتے ہی اسکی آنکھ کھلی اور خبر موئی اپنی امن کے آگے اسنے سب حال کہا یہ سنکے دوسرے دن اسکی مان اسی طرح پٹارے مین اس لڑکے کو بند کر راجہ کے دروازے پر رکھ آئی اور او مصر راجہ کے خواب دیکھا کہ دنل ہا تھ پانچ سر ہر ایک سرزمین تین تین آنکھین اور ہر ایک شریر ایک ایک چاند دانت بڑے بڑے ترسول ہاتھ مین لیے ایک ڈراونی صورت اسکے سامنے اُن کے بولا کہ اسے راجہ تیرے دروازے پر ایک پٹارا رکھا ہوا اسمین جو لڑکا ہوا اسے تو ے آدمی تیرا راج رکھے گا یہ سنتے ہی راجہ کی آنکھ کھل گئی تنب رانی سے سب احوال کہہ پھر وہان سے اُٹھ دروازے پر دیکھا کہ بشارا د بھرا ہے جون ہی پیارے کو کھولکرا دیکھا تو اسمین ایک لڑکا اور ہزار اشرفی کا توڑا ہر اس لڑکے کو آپ اٹھالا یا اور دوار پال سکو کہا کہ اس توڑے کو اٹھالا پھر محل مین جاکر لڑکے کو رانی کی گود مین دیا اتنے مین صبح ہوئی راجہ نے باہر آگرینڈ تونس اور جو شیون سے بلا کر پو چھا کہ کہو اس لڑکے مین اج لکشن کیسا ہو تب ان ہینڈ تون مین سو ایک کے جانے والا برم من بولا کہ ماراح اس لڑکے مین مین نکشن تو صاف صاف مین ایک تو بڑی چھاتی دوستار اونچی پیشانی تیسرے بڑا چہرہ سوائے انکے مہاراج نہین لکشن جو مرد کے کے ہین سو سب سین بین اس یقین رکھین کہ یہ اج کریگا یہ سن راجہ نے خوش ہو کر موتیون کا ہار اپنے گلے سے اتاراس بر من کو دیا اور سب پر منون کو بہت سی خیرات دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھوٹ پنڈتون نے کہا کہ مہاراج آپ کنٹھ مالا باندھ بیٹھے مہارانی گودین را کالے بیٹھین اورسب انگلی لوگون کو بلا مشکل چار کرواؤ ہم شاستر کی رو سے نام کرن کرین بہمن راج نے دیوان کوحکم دیا جو کہین سوکرو دیوان نے گ گیا سے بدھائی آنے لگی راجہ کے مندرمین آنند کے باجے بجنے لگے اور منگلا چار ہوئے پھر راجہ اور رانی گود مین لڑکے کو لے چوک مین آبیٹھے اور برہمن بید پڑھنے لگے ان بر منون مین سے ایک جوتشی نے شبھ گھڑی لگن مہورت بچا ر اس لڑکے کا نام مہرت رکھا پھر وہ دن بدن بڑھنے لگا ندان سولہ برس کی عمرمین چھ شاستر اور چودہ بدی پڑھ کر مینڈت ہوا سیمین بھگوان کا چاہا یون ہوا کہ اسکے مان باپ مرکئے اور راجگدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن وہ راجہ اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ مین نے مان باپ کے یہان جنم لے کے ابھی خاطر کیا کیا<noinclude></noinclude> nq9rsmytljmwkgi9da8cdjchavpnxtv 32538 32537 2026-05-11T18:03:07Z Charan Gill 46 32538 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2409:40D1:1D:7B08:8000:0:0:0" /></noinclude>سر پر جٹا ماتھے پر چاند اُجّل بھبھوت مھلے سفید جنیو پہنے سفید سانپون کی سیلی پہنے منڈ مالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ مین کھپّر اور دوسرے مین ترسول لئے ہوئے مہا بھیادنی صورت بنائے اسکے سامنے آ کہنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے مین مہرکا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دروار کے دروازے پر رکھ آئ دیکھتے ہی اسکی آنکھ کھلی اور خبر موئی اپنی امن کے آگے اسنے سب حال کہا یہ سنکے دوسرے دن اسکی مان اسی طرح پٹارے مین اس لڑکے کو بند کر راجہ کے دروازے پر رکھ آئی اور او مصر راجہ کے خواب دیکھا کہ دنل ہا تھ پانچ سر ہر ایک سرزمین تین تین آنکھین اور ہر ایک شر پر ایک ایک چاند دانت بڑے بڑے ترسول ہاتھ مین لیے ایک ڈراونی صورت اسکے سامنے آن کے بولا کہ اسے راجہ تیرے دروازے پر ایک پٹارا رکھا ہوا اسمین جو لڑکا ہوا اسے تو ے آدمی تیرا راج رکھے گا یہ سنتے ہی راجہ کی آنکھ کھل گئی تنب رانی سے سب احوال کہہ پھر وہان سے اُٹھ دروازے پر دیکھا کہ بشارا د بھرا ہے جون ہی پیارے کو کھولکرا دیکھا تو اسمین ایک لڑکا اور ہزار اشرفی کا توڑا ہر اس لڑکے کو آپ اٹھالا یا اور دوار پال سکو کہا کہ اس توڑے کو اٹھالا پھر محل مین جاکر لڑکے کو رانی کی گود مین دیا اتنے مین صبح ہوئی راجہ نے باہر آگرینڈ تونس اور جو شیون سے بلا کر پو چھا کہ کہو اس لڑکے مین اج لکشن کیسا ہو تب ان ہینڈ تون مین سو ایک کے جانے والا برم من بولا کہ ماراح اس لڑکے مین مین نکشن تو صاف صاف مین ایک تو بڑی چھاتی دوستار اونچی پیشانی تیسرے بڑا چہرہ سوائے انکے مہاراج نہین لکشن جو مرد کے کے ہین سو سب سین بین اس یقین رکھین کہ یہ اج کریگا یہ سن راجہ نے خوش ہو کر موتیون کا ہار اپنے گلے سے اتاراس بر من کو دیا اور سب پر منون کو بہت سی خیرات دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھوٹ پنڈتون نے کہا کہ مہاراج آپ کنٹھ مالا باندھ بیٹھے مہارانی گودین را کالے بیٹھین اورسب انگلی لوگون کو بلا مشکل چار کرواؤ ہم شاستر کی رو سے نام کرن کرین بہمن راج نے دیوان کوحکم دیا جو کہین سوکرو دیوان نے گ گیا سے بدھائی آنے لگی راجہ کے مندرمین آنند کے باجے بجنے لگے اور منگلا چار ہوئے پھر راجہ اور رانی گود مین لڑکے کو لے چوک مین آبیٹھے اور برہمن بید پڑھنے لگے ان بر منون مین سے ایک جوتشی نے شبھ گھڑی لگن مہورت بچا ر اس لڑکے کا نام مہرت رکھا پھر وہ دن بدن بڑھنے لگا ندان سولہ برس کی عمرمین چھ شاستر اور چودہ بدی پڑھ کر مینڈت ہوا سیمین بھگوان کا چاہا یون ہوا کہ اسکے مان باپ مرکئے اور راجگدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن وہ راجہ اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ مین نے مان باپ کے یہان جنم لے کے ابھی خاطر کیا کیا<noinclude></noinclude> rnmnwcjjxrk8vc4ealt22bzaqgl8ucc 32539 32538 2026-05-12T00:05:14Z Charan Gill 46 32539 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2409:40D1:1D:7B08:8000:0:0:0" /></noinclude>سر پر جٹا ماتھے پر چاند اُجّل بھبھوت مھلے سفید جنیو پہنے سفید سانپون کی سیلی پہنے منڈ مالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ مین کھپّر اور دوسرے مین ترسول لئے ہوئے مہا بھیادنی صورت بنائے اسکے سامنے آ کہنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے مین مہرکا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دروار کے دروازے پر رکھ آئ دیکھتے ہی اسکی آنکھ کھلی اور خبر موئی اپنی امن کے آگے اسنے سب حال کہا یہ سنکے دوسرے دن اسکی مان اسی طرح پٹارے مین اس لڑکے کو بند کر راجہ کے دروازے پر رکھ آئی اور او مصر راجہ کے خواب دیکھا کہ دنل ہا تھ پانچ سر ہر ایک سرزمین تین تین آنکھین اور ہر ایک شر پر ایک ایک چاند دانت بڑے بڑے ترسول ہاتھ مین لیے ایک ڈراونی صورت اسکے سامنے آن کے بولا کہ اسے راجہ تیرے دروازے پر ایک پٹارا رکھا ہوا اسمین جو لڑکا ہوا اسے تو ے آدمی تیرا راج رکھے گا یہ سنتے ہی راجہ کی آنکھ کھل گئی تب رانی سے سب احوال کہہ پھر وہان سے اُٹھ دروازے پر آ دیکھا کہ پٹارا دھرا ہے جون ہی پٹارے کو کھولکر دیکھا تو اسمین ایک لڑکا اور ہزار اشرفی کا توڑا ہے اس لڑکے کو آپ اٹھا لایا اور دوار پال کو کہا کہ اس توڑے کو اٹھا لا پھر محل مین جاکر لڑکے کو رانی کی گود مین دیا اتنے مین صبح ہوئی راجہ نے باہر آکر پنڈتون اور جوتشیون سے بلا کر پوچھا کہ کہو اس لڑکے مین راج لکشن کیسا ہے تب ان پنڈتون مین سے ایک کے جاننے والا برہمن بولا کہ ماراح اس لڑکے مین مین نکشن تو صاف صاف مین ایک تو بڑی چھاتی دوستار اونچی پیشانی تیسرے بڑا چہرہ سوائے انکے مہاراج نہین لکشن جو مرد کے کے ہین سو سب سین بین اس یقین رکھین کہ یہ اج کریگا یہ سن راجہ نے خوش ہو کر موتیون کا ہار اپنے گلے سے اتاراس بر من کو دیا اور سب پر منون کو بہت سی خیرات دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھوٹ پنڈتون نے کہا کہ مہاراج آپ کنٹھ مالا باندھ بیٹھے مہارانی گودین را کالے بیٹھین اورسب انگلی لوگون کو بلا مشکل چار کرواؤ ہم شاستر کی رو سے نام کرن کرین بہمن راج نے دیوان کوحکم دیا جو کہین سوکرو دیوان نے گ گیا سے بدھائی آنے لگی راجہ کے مندرمین آنند کے باجے بجنے لگے اور منگلا چار ہوئے پھر راجہ اور رانی گود مین لڑکے کو لے چوک مین آبیٹھے اور برہمن بید پڑھنے لگے ان بر منون مین سے ایک جوتشی نے شبھ گھڑی لگن مہورت بچا ر اس لڑکے کا نام مہرت رکھا پھر وہ دن بدن بڑھنے لگا ندان سولہ برس کی عمرمین چھ شاستر اور چودہ بدی پڑھ کر مینڈت ہوا سیمین بھگوان کا چاہا یون ہوا کہ اسکے مان باپ مرکئے اور راجگدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن وہ راجہ اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ مین نے مان باپ کے یہان جنم لے کے ابھی خاطر کیا کیا<noinclude></noinclude> lcns4fo0rdzbx1fdzh99hbmnl63p4zx 32540 32539 2026-05-12T00:29:09Z Charan Gill 46 32540 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2409:40D1:1D:7B08:8000:0:0:0" /></noinclude>سر پر جٹا ماتھے پر چاند اُجّل بھبھوت مھلے سفید جنیو پہنے سفید سانپون کی سیلی پہنے منڈ مالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ مین کھپّر اور دوسرے مین ترسول لئے ہوئے مہا بھیادنی صورت بنائے اسکے سامنے آ کہنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے مین مہرکا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دروار کے دروازے پر رکھ آئ دیکھتے ہی اسکی آنکھ کھلی اور خبر موئی اپنی امن کے آگے اسنے سب حال کہا یہ سنکے دوسرے دن اسکی مان اسی طرح پٹارے مین اس لڑکے کو بند کر راجہ کے دروازے پر رکھ آئی اور او مصر راجہ کے خواب دیکھا کہ دنل ہا تھ پانچ سر ہر ایک سرزمین تین تین آنکھین اور ہر ایک شر پر ایک ایک چاند دانت بڑے بڑے ترسول ہاتھ مین لیے ایک ڈراونی صورت اسکے سامنے آن کے بولا کہ اسے راجہ تیرے دروازے پر ایک پٹارا رکھا ہوا اسمین جو لڑکا ہوا اسے تو ے آدمی تیرا راج رکھے گا یہ سنتے ہی راجہ کی آنکھ کھل گئی تب رانی سے سب احوال کہہ پھر وہان سے اُٹھ دروازے پر آ دیکھا کہ پٹارا دھرا ہے جون ہی پٹارے کو کھولکر دیکھا تو اسمین ایک لڑکا اور ہزار اشرفی کا توڑا ہے اس لڑکے کو آپ اٹھا لایا اور دوار پال کو کہا کہ اس توڑے کو اٹھا لا پھر محل مین جاکر لڑکے کو رانی کی گود مین دیا اتنے مین صبح ہوئی راجہ نے باہر آکر پنڈتون اور جوتشیون سے بلا کر پوچھا کہ کہو اس لڑکے مین راج لکشن کیسا ہے تب ان پنڈتون مین سے ایک کے جاننے والا برہمن بولا کہ مہاراج اس لڑکے مین تین لکشن تو صاف صاف ہین ایک تو بڑی چھاتی دوسرے اونچی پیشانی تیسرے بڑا چہرہ سوائے انکے مہاراج نین لکشن جو مرد کے کہے ہین سو سب اسمین ہین اس سے یقین رکھین کہ یہ راج کریگا یہ سن راجہ نے خوش ہو کر موتیون کا ہار اپنے گلے سے اتاراس برہمن کو دیا اور سب برہمنون کو بہت سی خیرات دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھو تب پنڈتون نے کہا کہ مہاراج آپ کٹھمالا باندھ بیٹھے مہارانی گود مین لڑکا لے بیٹھین اور سب منگلی لوگون کو بلا منکل چار کرواؤ تب ہم شاستر کی رو سے نام کرن کرین یہ سن راجہ نے دیوان کو حکم دیا جو کہین سو کرو دیوان نے گ گیا سے بدھائی آنے لگی راجہ کے مندرمین آنند کے باجے بجنے لگے اور منگلا چار ہوئے پھر راجہ اور رانی گود مین لڑکے کو لے چوک مین آبیٹھے اور برہمن بید پڑھنے لگے ان بر منون مین سے ایک جوتشی نے شبھ گھڑی لگن مہورت بچا ر اس لڑکے کا نام مہرت رکھا پھر وہ دن بدن بڑھنے لگا ندان سولہ برس کی عمرمین چھ شاستر اور چودہ بدی پڑھ کر مینڈت ہوا سیمین بھگوان کا چاہا یون ہوا کہ اسکے مان باپ مرکئے اور راجگدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن وہ راجہ اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ مین نے مان باپ کے یہان جنم لے کے ابھی خاطر کیا کیا<noinclude></noinclude> nu4wbxv09osbgsrs3e4bs5qzr92gjpe 32541 32540 2026-05-12T00:43:59Z Charan Gill 46 32541 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2409:40D1:1D:7B08:8000:0:0:0" /></noinclude>سر پر جٹا ماتھے پر چاند اُجّل بھبھوت مھلے سفید جنیو پہنے سفید سانپون کی سیلی پہنے منڈ مالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ مین کھپّر اور دوسرے مین ترسول لئے ہوئے مہا بھیادنی صورت بنائے اسکے سامنے آ کہنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے مین مہرکا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دروار کے دروازے پر رکھ آئ دیکھتے ہی اسکی آنکھ کھلی اور خبر موئی اپنی امن کے آگے اسنے سب حال کہا یہ سنکے دوسرے دن اسکی مان اسی طرح پٹارے مین اس لڑکے کو بند کر راجہ کے دروازے پر رکھ آئی اور او مصر راجہ کے خواب دیکھا کہ دنل ہا تھ پانچ سر ہر ایک سرزمین تین تین آنکھین اور ہر ایک شر پر ایک ایک چاند دانت بڑے بڑے ترسول ہاتھ مین لیے ایک ڈراونی صورت اسکے سامنے آن کے بولا کہ اسے راجہ تیرے دروازے پر ایک پٹارا رکھا ہوا اسمین جو لڑکا ہوا اسے تو ے آدمی تیرا راج رکھے گا یہ سنتے ہی راجہ کی آنکھ کھل گئی تب رانی سے سب احوال کہہ پھر وہان سے اُٹھ دروازے پر آ دیکھا کہ پٹارا دھرا ہے جون ہی پٹارے کو کھولکر دیکھا تو اسمین ایک لڑکا اور ہزار اشرفی کا توڑا ہے اس لڑکے کو آپ اٹھا لایا اور دوار پال کو کہا کہ اس توڑے کو اٹھا لا پھر محل مین جاکر لڑکے کو رانی کی گود مین دیا اتنے مین صبح ہوئی راجہ نے باہر آکر پنڈتون اور جوتشیون سے بلا کر پوچھا کہ کہو اس لڑکے مین راج لکشن کیسا ہے تب ان پنڈتون مین سے ایک کے جاننے والا برہمن بولا کہ مہاراج اس لڑکے مین تین لکشن تو صاف صاف ہین ایک تو بڑی چھاتی دوسرے اونچی پیشانی تیسرے بڑا چہرہ سوائے انکے مہاراج نین لکشن جو مرد کے کہے ہین سو سب اسمین ہین اس سے یقین رکھین کہ یہ راج کریگا یہ سن راجہ نے خوش ہو کر موتیون کا ہار اپنے گلے سے اتاراس برہمن کو دیا اور سب برہمنون کو بہت سی خیرات دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھو تب پنڈتون نے کہا کہ مہاراج آپ کٹھمالا باندھ بیٹھے مہارانی گود مین لڑکا لے بیٹھین اور سب منگلی لوگون کو بلا منکل چار کرواؤ تب ہم شاستر کی رو سے نام کرن کرین یہ سن راجہ نے دیوان کو حکم دیا جو کہین سو کرو دیوان نے لڑکے ہونے کی اسی وقت نگر مین ڈونڈی خوشی کی پھروا دی یہ سنکے سب منگلا مکھی حاضر ہوئین اور گھر گھر سے بدھائی آنے لگی راجہ کے مندر مین آنند کے باجے بجنے لگے اور منگلا چار ہوئے پھر راجہ اور رانی گود مین لڑکے کو لے چوک مین آ بیٹھے اور برہمن بید پڑھنے لگے ان برہمنون مین سے ایک جوتشی نے شبھ گھڑی لگن مہورت بچار اس لڑکے کا نام مہرت رکھا پھر وہ دن بدن بڑھنے لگا تد ان سولہ برس کی عمر مین چھ شاستر اور چودہ بدی پڑھ کر مینڈت ہوا سیمین بھگوان کا چاہا یون ہوا کہ اسکے مان باپ مرکئے اور راجگدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن وہ راجہ اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ مین نے مان باپ کے یہان جنم لے کے ابھی خاطر کیا کیا<noinclude></noinclude> mw003r63847alqejshawhd1ir2gtnoh 32543 32541 2026-05-12T06:46:23Z BalramBodhi 60 32543 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="2409:40D1:1D:7B08:8000:0:0:0" /></noinclude>سر پر جٹا ماتھے پر چاند اُجّل بھبھوت مھلے سفید جنیو پہنے سفید سانپون کی سیلی پہنے منڈ مالا گلے مین ڈالے ایک ہاتھ مین کھپّر اور دوسرے مین ترسول لئے ہوئے مہا بھیاونی صورت بنائے اسکے سامنے آ کہنے لگا کہ کل آدھی رات کے وقت ایک پٹارے مین مہر کا توڑا اور اس لڑکے کو بند کر راج دوار کے پر رکھ آ دیکھتے ہی اسکی آنکھ کھلی اور خبر ہوئی اپنی مان کے آگے اسنے سب حال کہا یہ سنکے دوسرے دن اسکی مان اسی طرح پٹارے مین اس لڑکے کو بند کر راجہ کے دروازے پر رکھ آئی اور اودھر راجہ نے خواب دیکھا کہ دس ہاتھ پانچ سر ہر ایک سر مین تین تین آنکھین اور ہر ایک سر پر ایک ایک چاند دانت بڑے بڑے ترسول ہاتھ مین لیے ایک اتِ ڈراونی صورت اسکے سامنے آن کے بولا کہ اسے راجہ تیرے دروازے پر ایک پٹارا رکھا ہے اسمین جو لڑکا ہے اسے تو لے آدہی تیرا راج رکھےگا یہ سنتے ہی راجہ کی آنکھ کھل گئی تب رانی سے سب احوال کہہ پھر وہان سے اُٹھ دروازے پر آ دیکھا کہ پٹارا دھرا ہے جون ہی پٹارے کو کھولکر دیکھا تو اسمین ایک لڑکا اور ہزار اشرفی کا توڑا ہے اس لڑکے کو آپ اٹھا لایا اور دوار پال کو کہا کہ اس توڑے کو اٹھا لا پھر محل مین جاکر لڑکے کو رانی کی گود مین دیا اتنے مین صبح ہوئی راجہ نے باہر آکر پنڈتون اور جوتشیون سے بلا کر پوچھا کہ کہو اس لڑکے مین راج لکشن کیسا ہے تب ان پنڈتون مین سے ایک سامدرک جاننے والا برہمن بولا کہ مہاراج اس لڑکے مین تین لکشن تو صاف صاف ہین ایک تو بڑی چھاتی دوسرے اونچی پیشانی تیسرے بڑا چہرہ سوائے انکے مہاراج بتیس لکشن جو مرد کے کہے ہین سو سب اسمین ہین اس سے یقین رکھین کہ یہ راج کریگا یہ سن راجہ نے خوش ہو کر موتیون کا ہار اپنے گلے سے اتار اس برہمن کو دیا اور سب برہمنون کو بہت سی خیرات دے حکم کیا کہ اس لڑکے کا نام رکھو تب پنڈتون نے کہا کہ مہاراج آپ کٹھمالا باندھ بیٹھیے مہارانی گود مین لڑکا لے بیٹھین اور سب منگلی لوگون کو بلا منگل چار کرواؤ تب ہم شاستر کی رو سے نام کرن کرین یہ سن راجہ نے دیوان کو حکم دیا جو کہین سو کرو دیوان نے لڑکے ہونے کی اسی وقت نگر مین ڈونڈی خوشی کی پھروا دی یہ سنکے سب منگلا مکھی حاضر ہوئین اور گھر گھر سے بدھائی آنے لگی راجہ کے مندر مین آنند کے باجے بجنے لگے اور منگلاچار ہوئے پھر راجہ اور رانی گود مین لڑکے کو لے چوک مین آ بیٹھے اور برہمن بید پڑھنے لگے اُن برہمنون مین سے ایک جوتشی نے شبھ گھڑی لگن مہورت بچار اس لڑکے کا نام ہردت رکھا پھر وہ دن بدن بڑھنے لگا تدان سولہ برس کی عمر مین چھ شاستر اور چودہ بدیا پڑھ کر پنڈت ہوا اسمین بھگوان کا چاہا یون ہوا کہ اسکے مان باپ مرکئے اور راجگدی پر بیٹھا اور دھرم راج کرنے لگا کئی ایک برس کے پیچھے ایک دن وہ راجہ اپنے من مین چنتا کرنے لگا کہ مین نے مان باپ کے یہان جنم لے کے انکی خاطر کیا کیا<noinclude></noinclude> qtarxja4mk1nfat7o6up8pw47ika7yl صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/45 250 13126 32542 32534 2026-05-12T05:21:53Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 32542 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude> روکھ مین جا لٹکا پھر راجہ گیا اور بیتال کو باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا {{center|'''پندروین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ ہماچل نام ایک پربت ہے تہان گندھرب کا نگر ہے اور وہان کا راج راجہ جمیوت گُپت کرتا تھا ایک سمے اسنے اولاد کے لیے کلپ برکش کی بہت پوجا کی تب کلپ برکش خوش ہو بولا اے راجہ تیری سیوا دیکھ مین بہت خوش ہوا جو تو چاہے سو بر یانگ راجہ نے کہا کہ ایک پتر مجھے دو جو میرا راج اور نام رہے اسنے کہا ایسا ہی ہوگا کتنے دنون کے بعد راجہ کے بیٹا ہوا اسنے بہت خوشی کی اور بڑی دھوم دھام سے شادی کی بہت سا دان پن کر ہرہمنون کو بلا اسکا نامکرن کیا برہمنون نے اسکا نام جیموت باھن دھرا جبکہ وہ بارہ برس کا ہوا تب شیو کی پوجا کرنے لگا اور بہت شا ساستر منتر پڑھ کے بڑا گیانی دھیانی ہو سخی بہادر دھرماتما پنڈت ہوا اس سمے اسکے برابر کوئی نہ تھا اور جتنے اسکے سماج مین لوگ تھے سب اپنے دھرم مین ساودھان تھے جب وہ جوان ہوا تب ان نے کلپ برکش کی بہت سیوا کی تب کلپ برکش نے خوش ہو اس سے کہا جس بات کی تجھے خواہش ہو سو مانگ مین تجھے دونگا پھر جمیوت باہن بولا جو تم مجھ پر خوش ہوئے ہو میری سب رعیت کی محتاجگی دور کر اور جتنے لوگ میرے راج مین ہون وہ سب مال اور دولت مین برابر ہو جائین تب کلپ برکش نے بر دیا سب لوگ دھن سے ایسے آسودہ ہوئے کہ نہ کوئی کیس کا حکم مانتا اور نہ کوئی کسی کا کام کرتا جب اس راج کے لوگ ایسے ہو گئے تب جو بھائی بند راجہ کے تھے یہ آپسمین بچار کرنے لگے کہ باپ بیٹے دونون دھرم کے بس ہوئے اور لوگ انکا حکم نہین جانتے اس سے بہتر یہ ہوگا دونون کو پکڑ کر قید کیجئے اور راج آنکا چھین لیجئے غرض راجہ تو انھون کی طرف سے غافل رہا اور انھون نے آپسمین منصوبہ باندھہ فوج لے راجہ کا مندر جا گیھرا جب یہ خبر راجہ کو پونچھی تب راجہ نے اپنے بیٹے سے کہا اب کیا کرین راجکمام بول امہاراج آپ یہان بر اجئے آپ کے دھرم سے ابھی جا کے دشمنون کو مارے لیتا ہون راجہ نے کہا اے پتر یہ زندگی غیر منتقل ہوا اور دھن بھی استھر ہو جائے مین نا تو مزا بھی اس کے ساتھ ہو اس سواب راج چھوڑ دھرم کا تاج کیا چاہئیے ایسے شریر کے کارن اور اس راج کی واسطے جہا پاپ کرنا اچست ہی نہین کیونکہ راجہ مدھیہ بھی مہا بھارت کرکے مجھے کھاتے تھے مین اسکے بیٹے نے کہا اچھا راج اپنا بھائی بند و نکو دیجئے اور آپ ملکر پیا کیجئے یہ بات ٹھہرا بھائی تجھ کو باراج دے دونون باپ بیٹے لینا اچل پربت کے اوپر گئے اور وہان جائی بنا رہنے لئے حیرت اہن اور ایک کبھی کے بیٹے سے آپسیمین بستی ہو گئی ایک دن اس پرست کے اوپر راج کا بیٹا اور بیٹی کا بٹیا سر کو گئے وہان ایک بھوانی کا مند نظر آیا اس مندر مین ایک تاج کینیا<noinclude></noinclude> 171jjs3oavtovb3nvxx8r1xc01ua89a صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/221 250 13132 32544 32468 2026-05-12T07:28:51Z Harry sidhuz 157 32544 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>عطر اور جواہر سے لدی ہوئی بھلا میٹھی نیند کے مزے لے سکتی ہیں ۔ ایسا ممکن نہیں ۔ یہ سیتا نہیں ہو سکتیں۔ ہر ایک محل میں انہوں نے حِسین رانیوں کو مزے سے سوتے پایا۔ کوئی گوشہ ایسا نہ بچا جسے انہوں نے نہ دیکھا ہو ۔ پر سیتا جی کا کہیں نشان نہیں۔ وہ رنج و غم سے گھلی ہوئی سینا کہیں نظر نہ آئیں ۔ ہنومان کو شبہہ ہوا کہیں رادن نے سیتا جی کو مار تو نہیں ڈالا ۔ زندہ ہوئیں تو کہاں جاتیں : ہنومان ساری رات اسی حیص ہیں میں پڑے رہے ۔ جب سویرا ہونے لگا اور کوے بولنے لگے تو وہ اُسی درخت کی شاخ سے باہر نکل آئے ۔ مگر اب انہیں کسی ایسی جگہ کی ضرورت تھی جہاں وہ دن بھر چُھپ سکیں ۔ کل جب وہ یہاں آئے تھے، تو شام ہو گئی تھی ۔ اندھیرے میں کسی نے انہیں MAMANAN LAZDA MCLE<noinclude></noinclude> 8o2pvc9tfpejnmlue9eeqvr2pw6bx5q