ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.2 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/55 250 12703 32546 32545 2026-05-12T14:10:18Z Charan Gill 46 32546 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثل مشہور ہے کہ جو دیانت ہوتے ہین وے سب پر دیا کرتے ہین وہی گیانی ہین اور انھین کو بیکنٹھ ہوتا ہے اور جن کا من سدھ نہین انکا دان پوجا تپ تیرتھ کرنا شاستر سننا سب بیکار ہے جو شردھا ہین سجھ سمیت شرادھ کرتے ہین ان کا نرپھل ہوتا ہے اور پر انکے نراس جاتے ہین یہ بات راجہ نے سوچ سمجھ کر بچار کیا کہ اب بزرگوار کی عاقبت کے لیے بھی کیا چاہیے پھر راجہ ہردت گیا نامی تبر تھ مین جاکر اپنے بزرگون کے نام پھلگوندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی مین سے تینون کے ہاتھ نکلے یہ دیکھ جی مین گھبرایا کہ مین کِسکے ہاتھ مین دون اور کِسکے ہاتھ مین نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان تینون مین سے کِسے پنڈ دینا واجب ہے راجہ نے کہا چور کو پھر بیال بولا کِس کارن تب اسنے کہا برہمن کا پیچ تو مول لیا گیا اور راجہ نے ہزار اشرفی لیکر پالا اس واسطے ان دونون کو پنڈ کا اودھ کار نہ ہوا اتنی بات سن پھر بیتال اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے وہان سے باندھ لیچلا۔ {{center|'''انیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چترکوٹ نام یک نگری تان کا روپ دت نام راجب ایک دن اکیلا سوار و شکار کو گیا سو بھولا ہوا ایک مہابن بین جانکلا و ان جاکے دیکھتا کیاہے کہ ایک بڑا تالاب ہو سیمین کو کھیل رہا ہو اور بھانت بھانت کے کچھی کلول کر رہے ہین تالاب کے چارون طرف درختون کی گھنی گھنی چھاؤن ! مین ٹھنڈی ٹھنڈی ہو اسگندھون کے ساتھ آرہی ہو یہ بھی دھوپ کا مارا ہوا تھا گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ زمین پوش بچھا کر بیٹھ گیا گھڑی ایک بنتی تھی کہ ایک رش کنیا ات سُندر جوین وتی وہان پھول لینے کو آئی اسے پھول توڑتے ہوے دیکھ راجرات کام کو بیس مواجب وہ پھول جن اپنے استھان کو شک وہ پھر کھڑی ہوئی تب راجہ نے کہا کہ اسے کہتے ہین کہ تم ان کے گر رنج برن بھی امید ہوتے تو وہ بھی پوجتے ہو اورچور ہویا چنڈال سر ہویا پر گھاتک اگر یہ بھی اپنےگھر وین تو اسکی ہو چاکری اچست ہے کیونکہ یہ سب کا گرو ہو اس طرح سے جب راجہ نے کہاب دہ کھڑی ہوئی پھر تو دونون ہاتھی لڑانے لگے اتنے مین وہ من آپہونچا راجہ نے اس منشی کو دیکھ نشکار کیا اوران نے آشیر باد یا کہ رنجور و اتنا کہ اس نے راجہ سے پوچھا کہ بیان کہین کارن آئے اسنے کہا مہاراج شکار کرنے آیا ہون وہ بولا کس لیے تو ماپاپ ترا ہے ایسا کہا ہو کہ ایک جن پاپ کرتا ہو اور ایک جن اسکے پاپ کا پھل بھو گئے ہین راجہ نے کہا ما را مچھر کر پا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کم توب و من بولائٹے ماراح کہ جو یوجنت گھاس پھوس جل کھا بن باس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> gpszsvm24dsyfhgrriudc5l7ziplndt 32547 32546 2026-05-12T16:08:32Z Charan Gill 46 32547 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثل مشہور ہے کہ جو دیانت ہوتے ہین وے سب پر دیا کرتے ہین وہی گیانی ہین اور انھین کو بیکنٹھ ہوتا ہے اور جن کا من سدھ نہین انکا دان پوجا تپ تیرتھ کرنا شاستر سننا سب بیکار ہے جو شردھا ہین سجھ سمیت شرادھ کرتے ہین ان کا نرپھل ہوتا ہے اور پر انکے نراس جاتے ہین یہ بات راجہ نے سوچ سمجھ کر بچار کیا کہ اب بزرگوار کی عاقبت کے لیے بھی کیا چاہیے پھر راجہ ہردت گیا نامی تبر تھ مین جاکر اپنے بزرگون کے نام پھلگوندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی مین سے تینون کے ہاتھ نکلے یہ دیکھ جی مین گھبرایا کہ مین کِسکے ہاتھ مین دون اور کِسکے ہاتھ مین نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان تینون مین سے کِسے پنڈ دینا واجب ہے راجہ نے کہا چور کو پھر بیال بولا کِس کارن تب اسنے کہا برہمن کا پیچ تو مول لیا گیا اور راجہ نے ہزار اشرفی لیکر پالا اس واسطے ان دونون کو پنڈ کا اودھ کار نہ ہوا اتنی بات سن پھر بیتال اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے وہان سے باندھ لیچلا۔ {{center|'''انیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چترکوٹ نام یک نگر ہے تہان کا روپ دت نام راجہ ایک دن اکیلا سوار ہو شکار کو گیا سو بھولا ہوا ایک مہابن مین جا نِکلا وہان جاکے دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑا تالاب ہے اسمین کنول کھِل رہا ہے اور بھانت بھانت کے پنچھی کلول کر رہے ہین تالاب کے چارون طرف درختون کی گھنی گھنی چھاؤن مین ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سگندھون کے ساتھ آرہی ہو یہ بھی دھوپ کا مارا ہوا تھا گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ زمین پوش بچھا کر بیٹھ گیا گھڑی ایک بنتی تھی کہ ایک رش کنیا ات سُندر جوین وتی وہان پھول لینے کو آئی اسے پھول توڑتے ہوے دیکھ راجرات کام کو بیس مواجب وہ پھول جن اپنے استھان کو شک وہ پھر کھڑی ہوئی تب راجہ نے کہا کہ اسے کہتے ہین کہ تم ان کے گر رنج برن بھی امید ہوتے تو وہ بھی پوجتے ہو اورچور ہویا چنڈال سر ہویا پر گھاتک اگر یہ بھی اپنےگھر وین تو اسکی ہو چاکری اچست ہے کیونکہ یہ سب کا گرو ہو اس طرح سے جب راجہ نے کہاب دہ کھڑی ہوئی پھر تو دونون ہاتھی لڑانے لگے اتنے مین وہ من آپہونچا راجہ نے اس منشی کو دیکھ نشکار کیا اوران نے آشیر باد یا کہ رنجور و اتنا کہ اس نے راجہ سے پوچھا کہ بیان کہین کارن آئے اسنے کہا مہاراج شکار کرنے آیا ہون وہ بولا کس لیے تو ماپاپ ترا ہے ایسا کہا ہو کہ ایک جن پاپ کرتا ہو اور ایک جن اسکے پاپ کا پھل بھو گئے ہین راجہ نے کہا ما را مچھر کر پا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کم توب و من بولائٹے ماراح کہ جو یوجنت گھاس پھوس جل کھا بن باس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 1qrzi66z8s9nb0llo4ocitntjvnxbph 32548 32547 2026-05-12T16:53:51Z Charan Gill 46 32548 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثل مشہور ہے کہ جو دیانت ہوتے ہین وے سب پر دیا کرتے ہین وہی گیانی ہین اور انھین کو بیکنٹھ ہوتا ہے اور جن کا من سدھ نہین انکا دان پوجا تپ تیرتھ کرنا شاستر سننا سب بیکار ہے جو شردھا ہین سجھ سمیت شرادھ کرتے ہین ان کا نرپھل ہوتا ہے اور پر انکے نراس جاتے ہین یہ بات راجہ نے سوچ سمجھ کر بچار کیا کہ اب بزرگوار کی عاقبت کے لیے بھی کیا چاہیے پھر راجہ ہردت گیا نامی تبر تھ مین جاکر اپنے بزرگون کے نام پھلگوندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی مین سے تینون کے ہاتھ نکلے یہ دیکھ جی مین گھبرایا کہ مین کِسکے ہاتھ مین دون اور کِسکے ہاتھ مین نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان تینون مین سے کِسے پنڈ دینا واجب ہے راجہ نے کہا چور کو پھر بیال بولا کِس کارن تب اسنے کہا برہمن کا پیچ تو مول لیا گیا اور راجہ نے ہزار اشرفی لیکر پالا اس واسطے ان دونون کو پنڈ کا اودھ کار نہ ہوا اتنی بات سن پھر بیتال اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے وہان سے باندھ لیچلا۔ {{center|'''انیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چترکوٹ نام یک نگر ہے تہان کا روپ دت نام راجہ ایک دن اکیلا سوار ہو شکار کو گیا سو بھولا ہوا ایک مہابن مین جا نِکلا وہان جاکے دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑا تالاب ہے اسمین کنول کھِل رہا ہے اور بھانت بھانت کے پنچھی کلول کر رہے ہین تالاب کے چارون طرف درختون کی گھنی گھنی چھاؤن مین ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سگندھون کے ساتھ آرہی ہو یہ بھی دھوپ کا مارا ہوا تھا گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ زمین پوش بچھا کر بیٹھ گیا گھڑی ایک بیتی تھی کہ ایک رِش کنیا اتِ سُندر جوُبن وتی وہان پھول لینے کو آئی اسے پھول توڑتے ہوے دیکھ راجراتِ کام کے بس ہوا جب وہ پھول چن اپنے استھانکو چلی تب راجہ بولا کہ یہ تمہارا کیا آچار ہے پھر کھڑی ہوئی تب راجہ نے کہا کہ اسے کہتے ہین کہ تم ان کے گر رنج برن بھی امید ہوتے تو وہ بھی پوجتے ہو اورچور ہویا چنڈال سر ہویا پر گھاتک اگر یہ بھی اپنےگھر وین تو اسکی ہو چاکری اچست ہے کیونکہ یہ سب کا گرو ہو اس طرح سے جب راجہ نے کہاب دہ کھڑی ہوئی پھر تو دونون ہاتھی لڑانے لگے اتنے مین وہ من آپہونچا راجہ نے اس منشی کو دیکھ نشکار کیا اوران نے آشیر باد یا کہ رنجور و اتنا کہ اس نے راجہ سے پوچھا کہ بیان کہین کارن آئے اسنے کہا مہاراج شکار کرنے آیا ہون وہ بولا کس لیے تو ماپاپ ترا ہے ایسا کہا ہو کہ ایک جن پاپ کرتا ہو اور ایک جن اسکے پاپ کا پھل بھو گئے ہین راجہ نے کہا ما را مچھر کر پا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کم توب و من بولائٹے ماراح کہ جو یوجنت گھاس پھوس جل کھا بن باس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 020g0o7uwkrtqte0v3gzuirxczxqgxz 32549 32548 2026-05-12T17:05:07Z Charan Gill 46 32549 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثل مشہور ہے کہ جو دیانت ہوتے ہین وے سب پر دیا کرتے ہین وہی گیانی ہین اور انھین کو بیکنٹھ ہوتا ہے اور جن کا من سدھ نہین انکا دان پوجا تپ تیرتھ کرنا شاستر سننا سب بیکار ہے جو شردھا ہین سجھ سمیت شرادھ کرتے ہین ان کا نرپھل ہوتا ہے اور پر انکے نراس جاتے ہین یہ بات راجہ نے سوچ سمجھ کر بچار کیا کہ اب بزرگوار کی عاقبت کے لیے بھی کیا چاہیے پھر راجہ ہردت گیا نامی تبر تھ مین جاکر اپنے بزرگون کے نام پھلگوندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی مین سے تینون کے ہاتھ نکلے یہ دیکھ جی مین گھبرایا کہ مین کِسکے ہاتھ مین دون اور کِسکے ہاتھ مین نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان تینون مین سے کِسے پنڈ دینا واجب ہے راجہ نے کہا چور کو پھر بیال بولا کِس کارن تب اسنے کہا برہمن کا پیچ تو مول لیا گیا اور راجہ نے ہزار اشرفی لیکر پالا اس واسطے ان دونون کو پنڈ کا اودھ کار نہ ہوا اتنی بات سن پھر بیتال اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے وہان سے باندھ لیچلا۔ {{center|'''انیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چترکوٹ نام یک نگر ہے تہان کا روپ دت نام راجہ ایک دن اکیلا سوار ہو شکار کو گیا سو بھولا ہوا ایک مہابن مین جا نِکلا وہان جاکے دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑا تالاب ہے اسمین کنول کھِل رہا ہے اور بھانت بھانت کے پنچھی کلول کر رہے ہین تالاب کے چارون طرف درختون کی گھنی گھنی چھاؤن مین ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سگندھون کے ساتھ آرہی ہو یہ بھی دھوپ کا مارا ہوا تھا گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ زمین پوش بچھا کر بیٹھ گیا گھڑی ایک بیتی تھی کہ ایک رِش کنیا اتِ سُندر جوُبن وتی وہان پھول لینے کو آئی اسے پھول توڑتے ہوے دیکھ راجراتِ کام کے بس ہوا جب وہ پھول چن اپنے استھانکو چلی تب راجہ بولا کہ یہ تمھارا کیا آچار ہے کہ ہم تمھارے آشرم مین اتیتھ آۓ اور تم ہماری سیوا نہ کرو یہ سنکر وہ پھر کھڑی ہوئی تب راجہ نے کہا کہ ایسے کہتے ہین کہ تم ان کے گھر رنج برن بھی امید ہوتے تو وہ بھی پوجتے ہو اورچور ہویا چنڈال سر ہویا پر گھاتک اگر یہ بھی اپنےگھر وین تو اسکی ہو چاکری اچست ہے کیونکہ یہ سب کا گرو ہو اس طرح سے جب راجہ نے کہاب دہ کھڑی ہوئی پھر تو دونون ہاتھی لڑانے لگے اتنے مین وہ من آپہونچا راجہ نے اس منشی کو دیکھ نشکار کیا اوران نے آشیر باد یا کہ رنجور و اتنا کہ اس نے راجہ سے پوچھا کہ بیان کہین کارن آئے اسنے کہا مہاراج شکار کرنے آیا ہون وہ بولا کس لیے تو ماپاپ ترا ہے ایسا کہا ہو کہ ایک جن پاپ کرتا ہو اور ایک جن اسکے پاپ کا پھل بھو گئے ہین راجہ نے کہا ما را مچھر کر پا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کم توب و من بولائٹے ماراح کہ جو یوجنت گھاس پھوس جل کھا بن باس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> pl82ca7quykhwk5rpxcc91n4lnxmpa3 32550 32549 2026-05-12T17:21:22Z Charan Gill 46 32550 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثل مشہور ہے کہ جو دیانت ہوتے ہین وے سب پر دیا کرتے ہین وہی گیانی ہین اور انھین کو بیکنٹھ ہوتا ہے اور جن کا من سدھ نہین انکا دان پوجا تپ تیرتھ کرنا شاستر سننا سب بیکار ہے جو شردھا ہین سجھ سمیت شرادھ کرتے ہین ان کا نرپھل ہوتا ہے اور پر انکے نراس جاتے ہین یہ بات راجہ نے سوچ سمجھ کر بچار کیا کہ اب بزرگوار کی عاقبت کے لیے بھی کیا چاہیے پھر راجہ ہردت گیا نامی تبر تھ مین جاکر اپنے بزرگون کے نام پھلگوندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی مین سے تینون کے ہاتھ نکلے یہ دیکھ جی مین گھبرایا کہ مین کِسکے ہاتھ مین دون اور کِسکے ہاتھ مین نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان تینون مین سے کِسے پنڈ دینا واجب ہے راجہ نے کہا چور کو پھر بیال بولا کِس کارن تب اسنے کہا برہمن کا پیچ تو مول لیا گیا اور راجہ نے ہزار اشرفی لیکر پالا اس واسطے ان دونون کو پنڈ کا اودھ کار نہ ہوا اتنی بات سن پھر بیتال اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے وہان سے باندھ لیچلا۔ {{center|'''انیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چترکوٹ نام یک نگر ہے تہان کا روپ دت نام راجہ ایک دن اکیلا سوار ہو شکار کو گیا سو بھولا ہوا ایک مہابن مین جا نِکلا وہان جاکے دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑا تالاب ہے اسمین کنول کھِل رہا ہے اور بھانت بھانت کے پنچھی کلول کر رہے ہین تالاب کے چارون طرف درختون کی گھنی گھنی چھاؤن مین ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سگندھون کے ساتھ آرہی ہو یہ بھی دھوپ کا مارا ہوا تھا گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ زمین پوش بچھا کر بیٹھ گیا گھڑی ایک بیتی تھی کہ ایک رِش کنیا اتِ سُندر جوُبن وتی وہان پھول لینے کو آئی اسے پھول توڑتے ہوے دیکھ راجراتِ کام کے بس ہوا جب وہ پھول چن اپنے استھانکو چلی تب راجہ بولا کہ یہ تمھارا کیا آچار ہے کہ ہم تمھارے آشرم مین اتیتھ آۓ اور تم ہماری سیوا نہ کرو یہ سنکر وہ پھر کھڑی ہوئی تب راجہ نے کہا کہ ایسے کہتے ہین کہ اتم برن کے گھر جو بنچ برن بھی اتیتھ آوے تو وہ بھی پوجے ہے اور چور ہو یا چنڈال ستر ہو یا پتر گھاتک اگر یہ بھی اپنےگھر وین تو اسکی ہو چاکری اچست ہے کیونکہ یہ سب کا گرو ہو اس طرح سے جب راجہ نے کہاب دہ کھڑی ہوئی پھر تو دونون ہاتھی لڑانے لگے اتنے مین وہ من آپہونچا راجہ نے اس منشی کو دیکھ نشکار کیا اوران نے آشیر باد یا کہ رنجور و اتنا کہ اس نے راجہ سے پوچھا کہ بیان کہین کارن آئے اسنے کہا مہاراج شکار کرنے آیا ہون وہ بولا کس لیے تو ماپاپ ترا ہے ایسا کہا ہو کہ ایک جن پاپ کرتا ہو اور ایک جن اسکے پاپ کا پھل بھو گئے ہین راجہ نے کہا ما را مچھر کر پا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کم توب و من بولائٹے ماراح کہ جو یوجنت گھاس پھوس جل کھا بن باس<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 2yg9of9dqk3yavivc01ru4uc468jv9p 32551 32550 2026-05-13T00:43:55Z Charan Gill 46 32551 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثل مشہور ہے کہ جو دیانت ہوتے ہین وے سب پر دیا کرتے ہین وہی گیانی ہین اور انھین کو بیکنٹھ ہوتا ہے اور جن کا من سدھ نہین انکا دان پوجا تپ تیرتھ کرنا شاستر سننا سب بیکار ہے جو شردھا ہین سجھ سمیت شرادھ کرتے ہین ان کا نرپھل ہوتا ہے اور پر انکے نراس جاتے ہین یہ بات راجہ نے سوچ سمجھ کر بچار کیا کہ اب بزرگوار کی عاقبت کے لیے بھی کیا چاہیے پھر راجہ ہردت گیا نامی تبر تھ مین جاکر اپنے بزرگون کے نام پھلگوندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی مین سے تینون کے ہاتھ نکلے یہ دیکھ جی مین گھبرایا کہ مین کِسکے ہاتھ مین دون اور کِسکے ہاتھ مین نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان تینون مین سے کِسے پنڈ دینا واجب ہے راجہ نے کہا چور کو پھر بیال بولا کِس کارن تب اسنے کہا برہمن کا پیچ تو مول لیا گیا اور راجہ نے ہزار اشرفی لیکر پالا اس واسطے ان دونون کو پنڈ کا اودھ کار نہ ہوا اتنی بات سن پھر بیتال اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے وہان سے باندھ لیچلا۔ {{center|'''انیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چترکوٹ نام یک نگر ہے تہان کا روپ دت نام راجہ ایک دن اکیلا سوار ہو شکار کو گیا سو بھولا ہوا ایک مہابن مین جا نِکلا وہان جاکے دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑا تالاب ہے اسمین کنول کھِل رہا ہے اور بھانت بھانت کے پنچھی کلول کر رہے ہین تالاب کے چارون طرف درختون کی گھنی گھنی چھاؤن مین ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سگندھون کے ساتھ آرہی ہو یہ بھی دھوپ کا مارا ہوا تھا گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ زمین پوش بچھا کر بیٹھ گیا گھڑی ایک بیتی تھی کہ ایک رِش کنیا اتِ سُندر جوُبن وتی وہان پھول لینے کو آئی اسے پھول توڑتے ہوے دیکھ راجراتِ کام کے بس ہوا جب وہ پھول چن اپنے استھانکو چلی تب راجہ بولا کہ یہ تمھارا کیا آچار ہے کہ ہم تمھارے آشرم مین اتیتھ آۓ اور تم ہماری سیوا نہ کرو یہ سنکر وہ پھر کھڑی ہوئی تب راجہ نے کہا کہ ایسے کہتے ہین کہ اتم برن کے گھر جو نیچ برن بھی اتیتھ آوے تو وہ بھی پوجے ہے اور چور ہو یا چنڈال ستر ہو یا پتر گھاتک اگر یہ بھی اپنے گھر آوین تو اسکی پوچا کرنی اچت ہے کیونکہ اتیتھ سب کا گرو ہے اس طرح سے جب راجہ نے کہا تب وہ کھڑی ہوئی پھر تو دونون آنکھین لڑانے لگے اتنے مین وہ من آپہونچا راجہ نے اس تپشوی کو دیکھ نمشکار کیا اور ان نے آشیر باد دیا کہ چرنجیو رہو اتنا کہہ اسنے راجہ سے پوچھا کہ یہان کِس کارن آئے اسنے کہا مہاراج شکار کرنے آیا ہون وہ بولا کِس لیے تو مہاپاپ کرتا ہے ایسا کہا ہے کہ ایک جن پاپ کرتا ہے اور انیک جن اسکے پاپ کا پھل بھوگتے ہین راجہ نے کہا مہاراج مچھپر کرپا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کہو تو تب وہ من بولا سنئے مہاراج کہ جو جیوجنت گھاس پھوس جل کھا بن باس کرتے ہین انکو مارنے سے بڑا ادھرم ہوتا ہے<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 5kiqkqd0hoaywwvnuep56tc9hi4u09c 32552 32551 2026-05-13T03:19:49Z Charan Gill 46 32552 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثل مشہور ہے کہ جو دیانت ہوتے ہین وے سب پر دیا کرتے ہین وہی گیانی ہین اور انھین کو بیکنٹھ ہوتا ہے اور جن کا من سدھ نہین انکا دان پوجا تپ تیرتھ کرنا شاستر سننا سب بیکار ہے جو شردھا ہین سجھ سمیت شرادھ کرتے ہین ان کا نرپھل ہوتا ہے اور پر انکے نراس جاتے ہین یہ بات راجہ نے سوچ سمجھ کر بچار کیا کہ اب بزرگوار کی عاقبت کے لیے بھی کیا چاہیے پھر راجہ ہردت گیا نامی تبر تھ مین جاکر اپنے بزرگون کے نام پھلگوندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی مین سے تینون کے ہاتھ نکلے یہ دیکھ جی مین گھبرایا کہ مین کِسکے ہاتھ مین دون اور کِسکے ہاتھ مین نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان تینون مین سے کِسے پنڈ دینا واجب ہے راجہ نے کہا چور کو پھر بیال بولا کِس کارن تب اسنے کہا برہمن کا پیچ تو مول لیا گیا اور راجہ نے ہزار اشرفی لیکر پالا اس واسطے ان دونون کو پنڈ کا اودھ کار نہ ہوا اتنی بات سن پھر بیتال اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے وہان سے باندھ لیچلا۔ {{center|'''انیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چترکوٹ نام یک نگر ہے تہان کا روپ دت نام راجہ ایک دن اکیلا سوار ہو شکار کو گیا سو بھولا ہوا ایک مہابن مین جا نِکلا وہان جاکے دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑا تالاب ہے اسمین کنول کھِل رہا ہے اور بھانت بھانت کے پنچھی کلول کر رہے ہین تالاب کے چارون طرف درختون کی گھنی گھنی چھاؤن مین ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سگندھون کے ساتھ آرہی ہو یہ بھی دھوپ کا مارا ہوا تھا گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ زمین پوش بچھا کر بیٹھ گیا گھڑی ایک بیتی تھی کہ ایک رِش کنیا اتِ سُندر جوُبن وتی وہان پھول لینے کو آئی اسے پھول توڑتے ہوے دیکھ راجراتِ کام کے بس ہوا جب وہ پھول چن اپنے استھانکو چلی تب راجہ بولا کہ یہ تمھارا کیا آچار ہے کہ ہم تمھارے آشرم مین اتیتھ آۓ اور تم ہماری سیوا نہ کرو یہ سنکر وہ پھر کھڑی ہوئی تب راجہ نے کہا کہ ایسے کہتے ہین کہ اتم برن کے گھر جو نیچ برن بھی اتیتھ آوے تو وہ بھی پوجے ہے اور چور ہو یا چنڈال ستر ہو یا پتر گھاتک اگر یہ بھی اپنے گھر آوین تو اسکی پوچا کرنی اچت ہے کیونکہ اتیتھ سب کا گرو ہے اس طرح سے جب راجہ نے کہا تب وہ کھڑی ہوئی پھر تو دونون آنکھین لڑانے لگے اتنے مین وہ من آپہونچا راجہ نے اس تپشوی کو دیکھ نمشکار کیا اور ان نے آشیر باد دیا کہ چرنجیو رہو اتنا کہہ اسنے راجہ سے پوچھا کہ یہان کِس کارن آئے اسنے کہا مہاراج شکار کرنے آیا ہون وہ بولا کِس لیے تو مہاپاپ کرتا ہے ایسا کہا ہے کہ ایک جن پاپ کرتا ہے اور انیک جن اسکے پاپ کا پھل بھوگتے ہین راجہ نے کہا مہاراج مچھپر کرپا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کہو تو تب وہ من بولا سنئے مہاراج کہ جو جیوجنت گھاس پھوس جل کھا بن باس کرتے ہین انکو مارنے سے بڑا ادھرم ہوتا ہے اور منش کو پشو پنچھی کے پرت پال کرنیکا بڑا ادھرم ہے اور پھر کھا ہے کہ جو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> qagvwwvbgy52rcsyf1gl13injpz9sqn 32555 32552 2026-05-13T06:22:41Z BalramBodhi 60 32555 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مثل مشہور ہے کہ جو دیانت ہوتے ہین وے سب پر دیا کرتے ہین وہی گیانی ہین اور انھین کو بیکنٹھ ہوتا ہے اور جن کا من سدھ نہین انکا دان پوجا تپ تیرتھ کرنا شاستر سننا سب بیکار ہے جو شردھا کرتے ہین انکا نِر پھل ہوتا ہے پتر نراس جاتے ہین یہ بات راجہ نے سوچ سمجھ کر بچار کیا کہ اب بزرگوار کی عاقبت کے لیے بھی کیا چاہیے پھر راجہ ہردت گیا نامی تیرتھ مین جاکر اپنے بزرگون کے نام پھلگو ندی کے کنارے پنڈ دینے لگا کہ اس ندی مین سے تینون کے ہاتھ نکلے یہ دیکھ جی مین گھبرایا کہ مین کِسکے ہاتھ مین دون اور کِسکے ہاتھ مین نہ دون اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجہ بکرم ان تینون مین سے کِسے پنڈ دینا واجب ہے راجہ نے کہا چور کو پھر بیال بولا کِس کارن تب اسنے کہا برہمن کا بیچ تو مول لیا گیا اور راجہ نے ہزار اشرفی لیکر پالا اس واسطے ان دونون کو پنڈ کا اودھ کار نہ ہوا اتنی بات سن پھر بیتال اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے وہان سے باندھ لیچلا۔ {{center|'''انیسوین کهانی'''}} بیتال بولا اے راجہ چترکوٹ نام یک نگر ہے تہان کا روپ دت نام راجہ ایک دن اکیلا سوار ہو شکار کو گیا سو بھولا ہوا ایک مہابن مین جا نِکلا وہان جاکے دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑا تالاب ہے اسمین کنول کھِل رہا ہے اور بھانت بھانت کے پنچھی کلول کر رہے ہین تالاب کے چارون طرف درختون کی گھنی گھنی چھاؤن مین ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سگندھون کے ساتھ آ رہی ہے یہ بھی دھوپ کا مارا ہوا تھا گھوڑے کو ایک درخت سے باندھ زمین پوش بچھا کر بیٹھ گیا گھڑی ایک بیتی تھی کہ ایک رِش کنیا اتِ سُندر جوُبن وتی وہان پھول لینے کو آئی اسے پھول توڑتے ہوے دیکھ راجہ اتِ کام کے بس ہوا جب وہ پھول چن اپنے استھانکو چلی تب راجہ بولا کہ یہ تمھارا کیا آچار ہے کہ ہم تمھارے آشرم مین اتیتھ آۓ اور تم ہماری سیوا نہ کرو یہ سنکر وہ پھر کھڑی ہوئی تب راجہ نے کہا کہ ایسے کہتے ہین کہ اتم برن کے گھر جو نیچ برن بھی اتیتھ آوے تو وہ بھی پوجے ہے اور چور ہو یا چنڈال ستر ہو یا پتر گھاتک اگر یہ بھی اپنے گھر آوین تو اسکی پوچا کرنی اچت ہے کیونکہ اتیتھ سب کا گرو ہے اس طرح سے جب راجہ نے کہا تب وہ کھڑی ہوئی پھر تو دونون آنکھین لڑانے لگے اتنے مین وہ من آ پہونچا راجہ نے اس تپشوی کو دیکھ نمشکار کیا اور ان نے آشیرباد دیا کہ چرنجیو رہو اتنا کہہ اسنے راجہ سے پوچھا کہ یہان کِس کارن آئے اسنے کہا مہاراج شکار کرنے آیا ہون وہ بولا کِس لیے تو مہاپاپ کرتا ہے ایسا کہا ہے کہ ایک جن پاپ کرتا ہے اور انیک جن اسکے پاپ کا پھل بھوگتے ہین راجہ نے کہا مہاراج مچھپر کرپا کر کے دھرم ادھرم کا بچار کہو تو تب وہ من بولا سنئے مہاراج کہ جو جیوجنت گھاس پھوس جل کھا بن باس کرتے ہین انکو مارنے سے بڑا ادھرم ہوتا ہے اور منش کو پشو پنچھی کے پرت پال کرنیکا بڑا ادھرم ہے اور پھر کھا ہے کہ جو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 9kcc74v6wfxki8tl9ybt8r9futqh0fh صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/56 250 12704 32553 30806 2026-05-13T04:28:41Z Charan Gill 46 32553 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پناہ مین آئے ہوئے خوف زدہ کو بیخوف کر دیتے ہین انھین بہت بڑا ثواب ہوتا ہے اور ایسا کہا ہے کہ تھیما سا تھا برابرتپ نہین اور نستو کی سان سکھ دوستی کے برابر معن نہین اور دیا سم دھرم اور جوہر اپنے حرم مین جوان ہو اور دھن گن بدیا جش پر بھوتا یا ایمان نہین کرتے اور جو اپنی استری سے سنتشٹ مین اورست بادی بین سوانت کال مت گت پاتے ہین اور عبادھاری بسر مین زائیدہ کو مارتے ہین وے لوگ انت سے ترک بھوگ کرتے ہین اور جو راجہ رعیت کے دُکھ دائیون کو ڈنڈ نہین دیتا وہ بھی نوک جھگتتا ہے اور جو اج تینی یا میترکی استری یا کینیا یا آٹھ نو مینے کی گر بھنی استری سر بھوگ کرتا ہو وہ ماتریک مین پڑتا ہے ایسا دھرم شاسترین گیا ہو یہ سن راجہ نے کہا آجتک نادانی سے جو پاپ کیا سو کیا پھربھگوان نے چاہا تو مین نہ کرون گا راجہ کے اس کہنے سے من نے پرسن ہوئے کہا کہ جو تو بر مانگے سودون مین تجھ سے نقشے ہو اتب راجہ نے کہا مہاراج جو تم گھر تشٹ ہوئے ہو تو اپنی کیا مجھے دو یہ شن بمن نے اپنی کینا راجہ کو گند عرب بواہ کی ریت سے بیاہ دمی اور آپ اپنے استھان کو گیا پھر راجہ رش کینیا کو نے اپنے نگر کی طرف چلا کہ رستے مین قریب آدھی دور کے سورج غروب ہوا اور چاند نکلا تب راجہ ایک درخت گھنا سا دیکھ اسکے نیچے اترگھوڑا اسکی جڑ سے باندھ زمین پوش بچھا اس سمیت سورہا پھر دو سر رات کر سے ایک برمھ راکش نے راجہ کو جگا کر کہا کہ اے راجہ تیری استرسی کو تھا ؤ نگا راجہ نے کہا ایسا مت کر جو تو مانگے سومین دونگا تب اس نے کہا کہ امر را جہ جو تو سات برس کر برہمن کے لڑکے کا سرکاٹ کر اپنے ہاتھ سے مجھے دے تو مین اسم نہ کھاؤن راجہ نے کہا ایسا ہی کر دیگا پر آج کے ساتوین دن میرے نگر آئیو مین مجھے دونگا سیطرح سے راجہ کو بچن بدھ کر اس اپنے استھان کو گیا اور بھور ہوئے راجہ بھی اپنے محل مین آداخل بلانتری نے آنکے بہت سی خوشی کی اور آ کے بھینٹ دی اور راجہ نے فتری سودہ بریانت کہ کر پوچھا کہ ساتوین دن ش آریگا کہ لا سکا جتن کیا کرین متری نے کہا منا باح کیسی بات کی چنتا نہ کیجئے بھگوان سب بھلا کریگا اتنا کہ منتری نے سو امن سونے کا ایک پتلا بنوا اسمین جواہر ڑ وا ایک چھکڑے پر رکھو چوراہی مین کھڑا کروا کر اسکے رکھوالون سر کہا کہ جو بر مین اپنے سات برس کی لڑکے کا راجہ کو سکاٹنے دے سو سے لے یہ کہا چلا آیا پھر جو لوگ اسکے دیکھنے کو آتے تھے انسے جو کیدار ہی کہتے تھے دو دن تو ی بین بیتے پر میر دن اسی نگر کا درال سرزمین کہ جسکے تین بیٹے تھے وہ یہ بات من گھڑمن آب منی سے کنے لگا کہ ایک لڑکا اپنا راجہ کول کو اسکے دو وسلوان سونے کا پتلا جڑاؤ گھر مین آوے بیسن پر مینی بولی کہ چھوٹے لڑکے کو نہ دونگی بہرمن نے کہا بڑے کو میننے دونگا یہ بات سن منجھلے نے کہا پتا میرے مین دیجئے اپنے کہا اچھا پھر زمین بولا کہ سنسار مین دھن ہی مول ہے اور دھن بین کو سکھ کہان اور بجود لدری ہو اسکا سنسار مین آنا ہر تھا ہوا اتنا کہ منجھلے لڑکے کو بیچلا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> gg6r2vy60p8ez9nvif1nswd99wcqyud 32554 32553 2026-05-13T05:47:40Z Charan Gill 46 32554 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پناہ مین آئے ہوئے خوف زدہ کو بیخوف کر دیتے ہین انھین بہت بڑا ثواب ہوتا ہے اور ایسا کہا ہے کہ چھما برابر تپ نہین اور سنتوکھ سمان سکھ دوستی کے برابر دھن نہین اور دیا سم دھرم اور جو نر اپنے دھرم مین ساودھان ہے اور دھن گن بدیا جش پر بھوتا یا ابھمان نہین کرتے اور جو اپنی استری سے سنتشٹ ہین اور ستِ بادی ہین سوانت کال مکت گتِ پاتے ہین اور جٹادھاری بسر مین زائیدہ کو مارتے ہین وے لوگ انت سے ترک بھوگ کرتے ہین اور جو راجہ رعیت کے دُکھ دائیون کو ڈنڈ نہین دیتا وہ بھی نوک جھگتتا ہے اور جو اج تینی یا میترکی استری یا کینیا یا آٹھ نو مینے کی گر بھنی استری سر بھوگ کرتا ہو وہ ماتریک مین پڑتا ہے ایسا دھرم شاسترین گیا ہو یہ سن راجہ نے کہا آجتک نادانی سے جو پاپ کیا سو کیا پھربھگوان نے چاہا تو مین نہ کرون گا راجہ کے اس کہنے سے من نے پرسن ہوئے کہا کہ جو تو بر مانگے سودون مین تجھ سے نقشے ہو اتب راجہ نے کہا مہاراج جو تم گھر تشٹ ہوئے ہو تو اپنی کیا مجھے دو یہ شن بمن نے اپنی کینا راجہ کو گند عرب بواہ کی ریت سے بیاہ دمی اور آپ اپنے استھان کو گیا پھر راجہ رش کینیا کو نے اپنے نگر کی طرف چلا کہ رستے مین قریب آدھی دور کے سورج غروب ہوا اور چاند نکلا تب راجہ ایک درخت گھنا سا دیکھ اسکے نیچے اترگھوڑا اسکی جڑ سے باندھ زمین پوش بچھا اس سمیت سورہا پھر دو سر رات کر سے ایک برمھ راکش نے راجہ کو جگا کر کہا کہ اے راجہ تیری استرسی کو تھا ؤ نگا راجہ نے کہا ایسا مت کر جو تو مانگے سومین دونگا تب اس نے کہا کہ امر را جہ جو تو سات برس کر برہمن کے لڑکے کا سرکاٹ کر اپنے ہاتھ سے مجھے دے تو مین اسم نہ کھاؤن راجہ نے کہا ایسا ہی کر دیگا پر آج کے ساتوین دن میرے نگر آئیو مین مجھے دونگا سیطرح سے راجہ کو بچن بدھ کر اس اپنے استھان کو گیا اور بھور ہوئے راجہ بھی اپنے محل مین آداخل بلانتری نے آنکے بہت سی خوشی کی اور آ کے بھینٹ دی اور راجہ نے فتری سودہ بریانت کہ کر پوچھا کہ ساتوین دن ش آریگا کہ لا سکا جتن کیا کرین متری نے کہا منا باح کیسی بات کی چنتا نہ کیجئے بھگوان سب بھلا کریگا اتنا کہ منتری نے سو امن سونے کا ایک پتلا بنوا اسمین جواہر ڑ وا ایک چھکڑے پر رکھو چوراہی مین کھڑا کروا کر اسکے رکھوالون سر کہا کہ جو بر مین اپنے سات برس کی لڑکے کا راجہ کو سکاٹنے دے سو سے لے یہ کہا چلا آیا پھر جو لوگ اسکے دیکھنے کو آتے تھے انسے جو کیدار ہی کہتے تھے دو دن تو ی بین بیتے پر میر دن اسی نگر کا درال سرزمین کہ جسکے تین بیٹے تھے وہ یہ بات من گھڑمن آب منی سے کنے لگا کہ ایک لڑکا اپنا راجہ کول کو اسکے دو وسلوان سونے کا پتلا جڑاؤ گھر مین آوے بیسن پر مینی بولی کہ چھوٹے لڑکے کو نہ دونگی بہرمن نے کہا بڑے کو میننے دونگا یہ بات سن منجھلے نے کہا پتا میرے مین دیجئے اپنے کہا اچھا پھر زمین بولا کہ سنسار مین دھن ہی مول ہے اور دھن بین کو سکھ کہان اور بجود لدری ہو اسکا سنسار مین آنا ہر تھا ہوا اتنا کہ منجھلے لڑکے کو بیچلا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> eb2hsn3ehj35fd0ncg4ywj05pspifn6 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/221 250 13132 32556 32544 2026-05-13T10:16:28Z Harry sidhuz 157 32556 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>عطر اور جواہِر سے لدی ہوئی بھلا میٹھی نِیند کے مزے لے سکتی ہیں ۔ ایسا مُمکن نہیں ۔ یِہ سیتا نہیں ہو سکتیں۔ ہر ایک محل میں انہوں نے حِسین رانیوں کو مزے سے سوتے پایا۔ کوئی گوشہ ایسا نہ بچا جسے انہوں نے نہ دیکھا ہو ۔ پر سیتا جی کا کہیں نشان نہیں۔ وہ رنج و غم سے گُھلی ہوئی سیتا کہیں نظر نہ آئیں ۔ ہنومان کو شُبہہ ہُوا کہیں راون نے سیتا جی کو مار تو نہیں ڈالا ۔ زندہ ہوئیں تو کہاں جاتیں - ہنومان ساری رات اسی حیص ہیں میں پڑے رہے ۔ جب سویرا ہونے لگا اور کوے بولنے لگے تو وہ اُسی درخت کی شاخ سے باہر نکل آئے ۔ مگر اب انہیں کسی ایسی جگہ کی ضرورت تھی جہاں وہ دن بھر چُھپ سکیں ۔ کل جب وہ یہاں آئے تھے، تو شام ہو گئی تھی ۔ اندھیرے میں کسی نے انہیں<noinclude></noinclude> p830avxow1t3vt6k8oh72tb7782134e