ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.2
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/56
250
12704
32585
32554
2026-05-14T06:53:18Z
BalramBodhi
60
32585
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پناہ مین آئے ہوئے خوف زدہ کو بیخوف کر دیتے ہین انھین بہت بڑا ثواب ہوتا ہے اور ایسا کہا ہے کہ چھما برابر تپ نہین اور سنتوکھ سمان سکھ دوستی کے برابر دھن نہین اور دیا سم دھرم اور جو نر اپنے دھرم مین ساودھان ہے اور دھن گن بدیا جش پر بھوتا یا ابھمان نہین کرتے اور جو اپنی استری سے سنتشٹ ہین اور ستِ بادی ہین سوانت کال مکت گتِ پاتے ہین اور جٹادھاری بسترھین نرایدُھ کو مارتے ہین وے لوگ انت سمے نرک بھوگ کرتے ہین اور جو راجہ رعیت کے دُکھ دائیون کو ڈنڈ نہین دیتا وہ بھی نرک بھگتتا ہے اور جو راج پتنی یا مِتر کی استری یا کنیا یا آٹھ نو مہینے کی گربھنی استری سے بھوگ کرتا ہے وہ مہانرک مین پڑتا ہے ایسا دھرم شاستر مین کہا ہے یہ سُن راجہ نے کہا آجتک نادانی سے جو پاپ کیا سو کیا پھر بھگوان
نے چاہا تو مین نہ کرون گا راجہ کے اس کہنے سے مُنِ نے پرسن ہو کے کہا کہ جو تو بر مانگے سو دون مین تجھ سے سنتشٹ ہوا تب راجہ نے
کہا مہاراج جو تم مجھپر ستشٹ ہوئے ہو تو اپنی کنیا مجھے دو یہ سُن مُن نے اپنی کنیا راجہ کو گندھرب بواہ کی ریت سے بیاہ دی اور آپ اپنے استھان کو گیا پھر راجہ رش کنیا کو لے اپنے نگر کی طرف چلا کہ رستے مین قریب آدھی دور کے سورج غروب ہوا اور چاند نکلا تب راجہ ایک درخت گھنا سا دیکھ اسکے نیچے اتر گھوڑا اسکی جڑ سے باندھ زمین پوش بچھا اس سمیت سو رہا پھر دو پہر رات کے سمے ایک
برمھ راکش نے راجہ کو جگا کر کہا کہ اے راجہ تیری استری کو کھاؤنگا راجہ نے کہا ایسا مت کر جو تو مانگے سو مین دونگا تب راکشس نے کہا کہ اے راجہ جو تو سات برس کی برہمن کے لڑکے کا سر کاٹ کر اپنے ہاتھ سے مجھے دے تو مین اسے نہ کھاؤن راجہ نے کہا ایسا ہی کرونگا پر آج کے ساتوین دن میرے نگر آئیو مین تجھے دونگا
اسیطرح سے راجہ کو بچن بدھ کر راکشس اپنے استھان کو گیا اور بھور ہوئے راجہ بھی اپنے محل مین آ داخل بل منتری نے آنکے بہت سی خوشی کی اور آ کے بھینٹ دی اور راجہ نے منتری سے وہ بریانت کہکر پوچھا کہ ساتوین دن راکشس آویگا کہو اسکا جتن کیا کرین منتری نے کہا مہاراح کِسی بات کی چنتا نہ کیجئے بھگوان سب بھلا کریگا اتنا کہہ منتری نے سوا من سونے کا ایک پتلا بنوا اسمین جواہر جڑوا ایک چھکڑے پر رکھوا چوراہے مین کھڑا کروا کر اسکے رکھوالون سے کہا کہ جو برہمین اپنے سات برس کے لڑکے کا راجہ کو سرکاٹنے دے سو اسے لے یہ کہکر چلا آیا پھر جو لوگ اسکے دیکھنے کو آتے تھے انسے چوکیدار یہی کہتے تھے دو دن تو یوہین بیتے پر تیسرے دن اسی نگر کا دُربل سا برہمن جسکہ تین بیٹے تھے وہ یہ بات سُن گھر مین آ برہمنی سے کہنے لگا کہ ایک لڑکا اپنا راجہ کو بل کیواستے دو توسوا من
سونے کا پتلا جڑاؤ گھر مین آوے بیسن پر مینی بولی کہ چھوٹے لڑکے کو نہ دونگی بہرمن نے کہا بڑے کو میننے دونگا
یہ بات سن منجھلے نے کہا پتا میرے مین دیجئے اپنے کہا اچھا پھر زمین بولا کہ سنسار مین دھن ہی مول ہے
اور دھن بین کو سکھ کہان اور بجود لدری ہو اسکا سنسار مین آنا ہر تھا ہوا اتنا کہ منجھلے لڑکے کو بیچلا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
25w4mpo0h7eh3b54ro16wcsy0vn5udz
32586
32585
2026-05-14T08:55:12Z
Charan Gill
46
32586
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پناہ مین آئے ہوئے خوف زدہ کو بیخوف کر دیتے ہین انھین بہت بڑا ثواب ہوتا ہے اور ایسا کہا ہے کہ چھما برابر تپ نہین اور سنتوکھ سمان سکھ دوستی کے برابر دھن نہین اور دیا سم دھرم اور جو نر اپنے دھرم مین ساودھان ہے اور دھن گن بدیا جش پر بھوتا یا ابھمان نہین کرتے اور جو اپنی استری سے سنتشٹ ہین اور ستِ بادی ہین سوانت کال مکت گتِ پاتے ہین اور جٹادھاری بسترھین نرایدُھ کو مارتے ہین وے لوگ انت سمے نرک بھوگ کرتے ہین اور جو راجہ رعیت کے دُکھ دائیون کو ڈنڈ نہین دیتا وہ بھی نرک بھگتتا ہے اور جو راج پتنی یا مِتر کی استری یا کنیا یا آٹھ نو مہینے کی گربھنی استری سے بھوگ کرتا ہے وہ مہانرک مین پڑتا ہے ایسا دھرم شاستر مین کہا ہے یہ سُن راجہ نے کہا آجتک نادانی سے جو پاپ کیا سو کیا پھر بھگوان
نے چاہا تو مین نہ کرون گا راجہ کے اس کہنے سے مُنِ نے پرسن ہو کے کہا کہ جو تو بر مانگے سو دون مین تجھ سے سنتشٹ ہوا تب راجہ نے
کہا مہاراج جو تم مجھپر ستشٹ ہوئے ہو تو اپنی کنیا مجھے دو یہ سُن مُن نے اپنی کنیا راجہ کو گندھرب بواہ کی ریت سے بیاہ دی اور آپ اپنے استھان کو گیا پھر راجہ رش کنیا کو لے اپنے نگر کی طرف چلا کہ رستے مین قریب آدھی دور کے سورج غروب ہوا اور چاند نکلا تب راجہ ایک درخت گھنا سا دیکھ اسکے نیچے اتر گھوڑا اسکی جڑ سے باندھ زمین پوش بچھا اس سمیت سو رہا پھر دو پہر رات کے سمے ایک
برمھ راکش نے راجہ کو جگا کر کہا کہ اے راجہ تیری استری کو کھاؤنگا راجہ نے کہا ایسا مت کر جو تو مانگے سو مین دونگا تب راکشس نے کہا کہ اے راجہ جو تو سات برس کی برہمن کے لڑکے کا سر کاٹ کر اپنے ہاتھ سے مجھے دے تو مین اسے نہ کھاؤن راجہ نے کہا ایسا ہی کرونگا پر آج کے ساتوین دن میرے نگر آئیو مین تجھے دونگا اسیطرح سے راجہ کو بچن بدھ کر راکشس اپنے استھان کو گیا اور بھور ہوئے راجہ بھی اپنے محل مین آ داخل بل منتری نے آنکے بہت سی خوشی کی اور آکے بھینٹ دی اور راجہ نے منتری سے وہ برتانت کہکر پوچھا کہ ساتوین دن راکشس آویگا کہو اسکا جتن کیا کرین منتری نے کہا مہاراج کِسی بات کی چنتا نہ کیجئے بھگوان سب بھلا کریگا اتنا کہہ منتری نے سوا من سونے کا ایک پتلا بنوا اسمین جواہر جڑوا ایک چھکڑے پر رکھوا چوراہے مین کھڑا کروا کر اسکے رکھوالون سے کہا کہ جو برہمن اپنے سات برس کے لڑکے کا راجہ کو سر کاٹنے دے سو اسے لے یہ کہکر چلا آیا پھر جو لوگ اسکے دیکھنے کو آتے تھے انسے چوکیدار یہی کہتے تھے دو دن تو یوہین بیتے پر تیسرے دن اسی نگر کا دُربل سا برہمن جسکہ تین بیٹے تھے وہ یہ بات سُن گھر مین آ برہمنی سے کہنے لگا کہ ایک لڑکا اپنا راجہ کو بل کیواستے دو تو سوا من سونے کا پتلا جڑاؤ گھر مین آوے بی سن برہمنی بولی کہ چھوٹے لڑکے کو نہ دونگی برہمن نے کہا بڑے کو مین نہ دونگا
یہ بات سن منجھلے نے کہا پتا میرے تئین دیجئے اسنے کہا اچھا پھر زمین بولا کہ سنسار مین دھن ہی مول ہے اور دھن ھین کو سکھ کہان اور جو دلدری ہو اسکا سنسار مین آنا برتھا ہوا اتنا کہہ منجھلے لڑکے کو لیچلا۔<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
8r2vrgkgfiny7hl4h7zkzulxwjlz9v9
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/221
250
13132
32557
32556
2026-05-13T13:47:22Z
Kaur.gurmel
74
32557
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>عطر اور جواہِر سے لدی ہوئی بھلا میٹھی نِیند
کے مزے لے سکتی ہیں ۔ ایسا مُمکن نہیں ۔ یِہ
سیتا نہیں ہو سکتیں۔ ہر ایک محل میں انہوں
نے حِسین رانیوں کو مزے سے سوتے پایا۔
کوئی گوشہ ایسا نہ بچا جسے انہوں نے نہ
دیکھا ہو ۔ پر سیتا جی کا کہیں نشان نہیں۔
وہ رنج و غم سے گُھلی ہوئی سیتا کہیں نظر
نہ آئیں ۔ ہنومان کو شُبہہ ہُوا کہیں راون
نے سیتا جی کو مار تو نہیں ڈالا ۔ زندہ ہوئیں
تو کہاں جاتیں -
ہنومان ساری رات اسی حیص حیص میں
پڑے رہے ۔ جب سویرا ہونے لگا اور کوّے
بولنے لگے تو وہ اُسی درخت کی شاخ سے
باہر نکل آئے ۔ مگر اب انہیں کسی ایسی
جگہ کی ضرورت تھی جہاں وُہ دِن بھر چُھپ
سکیں ۔ کل جب وہ یہاں آئے تھے، تو شام
ہو گئی تھی ۔ اندھیرے میں کسی نے انہیں<noinclude></noinclude>
ek4uoml4rppd1xnsxpyh0bktmcvzabj
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/267
250
13143
32558
2026-05-13T13:48:18Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «کیفیت بیان کر دی : (۲) میگھناو ۔ آخر دونو فوجوں میں جنگ چھڑ گئی ۔ دن بھر تلواریں چلتی رہیں ۔ رات کو بھی لڑنے والوں نے دم نہ لیا ۔ لاشوں کے انبار لگ گئے ۔ خون کی ندیاں بہ گئیں ۔ رام چندر کی فوج اتنی بہادری سے لڑی کہ راکشسوں کی ہمت ٹوٹ گئی۔ راون جس فوج...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32558
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کیفیت بیان کر دی
:
(۲) میگھناو
۔
آخر دونو فوجوں میں جنگ چھڑ گئی ۔ دن
بھر تلواریں چلتی رہیں ۔ رات کو بھی لڑنے والوں
نے دم نہ لیا ۔ لاشوں کے انبار لگ گئے ۔ خون
کی ندیاں بہ گئیں ۔ رام چندر کی فوج اتنی بہادری
سے لڑی کہ راکشسوں کی ہمت ٹوٹ گئی۔ راون
جس فوج کو بھیجنا وہی گھنٹہ دو گھنٹہ میں جان
ہے کہ بھاگتی ۔ یہاں تک کہ اُس نے جھلا کر اپنے
لڑکے میگھناد کو بھیجا ۔ سیگھناو بڑا بہادر تھا۔ اُسے
اندرجیت کا لقب ملا ہوا تھا ۔ راکشسوں کو
اُس پر نازہ تھا :
میگھنار کے
میدان میں آتے ہی لڑائی کا
رنگ بدل گیا ۔ کہاں تو راکشس لوگ میدان سے
بھاگ رہے تھے ۔ کہاں اب رامچندر کی فوج
میں بھگدر پڑ گئی ۔ میگھنا د نے تیروں کی ایسی<noinclude></noinclude>
r1gd1yi3g4t6qxkrg54n19ox1m9lr0l
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/266
250
13144
32559
2026-05-13T13:49:00Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۶۰ کے کہ پہاڑی چوہے کس غشب کے ہوتے ہیں۔ ہے اس دربار میں کوئی جودھا جو میرے پنیر کو نہ بین سے ہٹا دے ۔ جسے دعوئے ہو نکل آئے کہ انگد کی یہ للکار سُن کر کئی سورما اُٹھے اور انگر کا پیر اُٹھانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، مگر جو بھر بھی نہ ہٹا سکے۔...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32559
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۲۶۰
کے
کہ پہاڑی چوہے کس غشب کے ہوتے ہیں۔
ہے اس دربار میں کوئی جودھا جو میرے
پنیر کو نہ بین سے ہٹا دے ۔ جسے دعوئے
ہو نکل آئے کہ
انگد کی یہ للکار سُن کر کئی سورما اُٹھے
اور انگر کا پیر اُٹھانے کے لئے ایڑی چوٹی
کا زور لگایا، مگر جو بھر بھی نہ ہٹا سکے۔ اپنا
سا منہ لے کر اپنی اپنی جگہ پر جا بیٹھے
تب راون خود سنگھاسن سے اُٹھا اور انگر
پیر پر مجھک کر اُٹھانا چاہتا تھا کہ انگر
نے پیر کھینچ لیا اور بولے اگر پیروں پر سر
' پرسر
جھکانا ہے تو رامچندر کے پیروں پر سر جھکاؤ
میرے پیر چھونے سے تمہیں کچھ فائدہ نہ ہو گائے
راون شرمندہ ہو کر اپنی جگہ پر جا بیٹھا ہے
انگر اپنا پیغام سُنا ہی چکے تھے ۔ جب انہیں
معلوم ہو گیا کہ راون پر کسی کے سمجھانے کا اثر نہ
ہوگا تو وہ رامچندر کے پاس لوٹ آئے اور ساری<noinclude></noinclude>
7jy9ruyye1nem8eaw7sfqmdluulp2xg
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/265
250
13145
32560
2026-05-13T13:49:42Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «لڑنے کو تیار بیٹھا ہوا ہے ۔ بیننا اب یہاں سے نہیں جا سکتی ۔ اُس کا خیال چھوڑ دیں۔ ورنہ اُن کے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ راکشوں کی فوج جس وقت میدان میں آئیگی گی سگریو اور ہنومان دم دبا کر بھاگتے نظر آئینگے ۔ راکشسوں سے ابھی رامچندر کو سابقہ نہیں پڑا ہے...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32560
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>لڑنے کو تیار بیٹھا ہوا ہے ۔ بیننا اب یہاں
سے نہیں جا سکتی ۔ اُس کا خیال چھوڑ دیں۔
ورنہ اُن کے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ راکشوں
کی فوج جس وقت میدان میں آئیگی
گی سگریو
اور ہنومان دم دبا کر بھاگتے نظر آئینگے ۔
راکشسوں سے ابھی رامچندر کو سابقہ نہیں
پڑا ہے ۔ ہم نے اندر تک سے اپنا لوہا
منوا لیا ہے ۔ یہ پہاڑی چوہے کس شمار
و قطار میں ہیں، ہے
انگر ۔ جن لوگوں کو تم پہاڑی چو ہے
02
کہتے
ہو۔
تمہاری ایک ایک فوج کے لئے اکیلے
کافی ہیں ۔ اگر اُن کی طاقت کا امتحان لینا
چاہتے ہو تو انہیں پہاڑی چوہوں میں سے
ایک ادنے چھوہا تمہارے دربار میں کھڑا
ہے اُس کا امتحان کر لو ۔ افسوس ہے کہ
اس وقت قاصد ہوں اور قاصد ہتھیار سے
کام نہیں لے سکتا ورنہ اسی وقت دکھا دینا<noinclude></noinclude>
ab5y2f681uklht5hdtjpx0fwm1vd2qa
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/264
250
13146
32561
2026-05-13T13:50:22Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۵۸ شرارت تھی ** اُدھر قلعہ کا محاصرہ کر کے رامچندر نے سگریو سے کہا۔ ایک بار پھر راون کو سمجھانے کی کوشش کر لینی چاہئے ۔ اگر سمجھانے سے مان جائے تو خون خرابہ کیوں ہو ۔ صلاح ہوئی کہ انگر کو قاصد بنا کر بھیجا جائے ۔ انگر نے بڑی خوشی سے یہ بات منظور کر...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32561
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۲۵۸
شرارت تھی
**
اُدھر قلعہ کا محاصرہ کر کے رامچندر نے سگریو
سے کہا۔ ایک بار پھر راون کو سمجھانے کی
کوشش کر لینی چاہئے ۔ اگر سمجھانے سے مان
جائے تو خون خرابہ کیوں ہو ۔ صلاح ہوئی کہ
انگر کو قاصد بنا کر بھیجا جائے ۔ انگر نے بڑی
خوشی سے یہ بات منظور کر لی ۔ راون اپنے
صلاح کاروں کے ساتھ دربار میں بیٹھا تھا کہ
انگر جا دھینگے ۔ اور بلند آواز سے بولے : آئے
جاو
راکشموں کے راجہ راون - میں راجہ رامچندر کا
قاصد ہوں ۔ میرا نام انگر ہے ۔ راجہ بالی کا
لڑکا ہوں ۔ مجھے راجہ رامچندر نے یہ کہنے کے
لئے بھیجا ہے کہ یا تو آج ہی سیتا جی کو واپس
کر دو یا قلعہ کے باہر میدان میں نکل کر
جنگ کرو :
مراون غرور سے اکڑ کر بولا - جا کر اپنے
چھو کرے راجہ سے کہ دے کہ راون اُن سے<noinclude></noinclude>
4sc386uxq5r3lbj7h2f45zm4hj8z2tt
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/263
250
13147
32562
2026-05-13T13:50:52Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «اتفاق سے بھھیشن کی بیوی سرما اُس وقت اشوک باٹکا میں موجود تھی ۔ سیتا جی کی گریہ و زاری سُن کہ وہ دوڑی ہوئی آئی اور پوچھنے لگی کیا ماجرا ہے؟ راون نے دیکھا اب پیر وہ فاش ہوا چاہتا ہے تو فوراً وہ وہ بنا دئی بناوٹی سر اور تیر کمان لے کر وہاں سے چل دیا ۔...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32562
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اتفاق سے بھھیشن کی بیوی سرما اُس وقت
اشوک باٹکا میں موجود تھی ۔ سیتا جی کی گریہ
و زاری سُن کہ وہ دوڑی ہوئی آئی اور پوچھنے
لگی کیا ماجرا ہے؟ راون نے دیکھا اب پیر وہ
فاش ہوا چاہتا ہے تو فوراً وہ
وہ بنا دئی
بناوٹی سر
اور تیر کمان لے کر وہاں سے چل دیا ۔ سینا
جی نے رو رو کر سرما سے یہ سانحہ بیان کیا۔
سرما ہنس کر بولی بہن یہ سب راون کی
-
دغا بازی ہے ۔ وہ سر بناؤٹی ہوگا ۔ تمہیں
فریب دینے کے لئے راون نے یہ چال چلی
ہے ۔ رام چندر تو قلعہ کا محاصرہ
کئے ہوئے
ہیں ۔ لنکا میں تہلکہ مچا ہوا ہے ۔ کوئی قلعہ کے
باہر نہیں نکل سکتا ۔ یہاں کس میں اتنی طاقت -
ہے جو رامچندر سے لڑسکے ۔ اُن کے ایک
معمولی قاصد نے تو لنکا والوں کے چھکے چھڑا دئے۔
بھلا انہیں کون مار سکتا ہے ۔ سرما کی باتوں سے
سینتا بھی کو تسکین ہوئی ۔ سمجھ گئیں یہ راون کی<noinclude></noinclude>
40q7uoztesxeh38ygvbsmg0iui5a6df
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/262
250
13148
32563
2026-05-13T13:51:36Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «مرنے لگے : راون نے سوچا اب تو را مچندر کی فوج لنکا پر چڑھ آئی ، معلوم نہیں لڑائی کا انجام کیا ہو ۔ ایک بار سیتا کو راضی کرنے کی آخری کوشش کر لینی چاہئے ۔ ابکی اُس نے دھمکی کے بجاے فریب سے کام لینے کا فیصلہ کیا۔ ایک ہوشیار کا ریگر سے رامچندر کی شبیہ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32563
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>مرنے لگے :
راون نے سوچا اب تو را مچندر کی فوج
لنکا پر چڑھ آئی ، معلوم نہیں لڑائی کا انجام
کیا ہو ۔ ایک بار سیتا کو راضی کرنے کی آخری
کوشش کر لینی چاہئے ۔ ابکی اُس نے دھمکی
کے بجاے فریب سے کام لینے کا فیصلہ کیا۔
ایک ہوشیار کا ریگر سے رامچندر کی شبیہ سے
ملتا جلتا ایک سر بنوایا ۔ ویسے ہی تیر اور
کمان بنوائے اور ان چیزوں کو سیتا جی کے
سامنے لے جا کر بولا ۔ ' یہ لو تمہارے اُس
سر ہے جس پر تم جان دیتی تھیں۔
میری فوج کے ایک آدمی نے انہیں لڑائی
میں مار ڈالا ہے اور اُن کا سرکاٹ لایا ہے۔
راون کی طاقت کا اندازہ تم اسی سے کر سکتی
ہو ۔ اب میرا کہنا مانو ، میری رانی بن جاؤ ہے
سیاہ دھوکے میں آگئیں ۔ سر پیٹ پیٹ کر
رونے لگیں ۔ دنیا اُن کی آنکھوں میں تاریک ہو گئی۔
شوہر کا<noinclude></noinclude>
f76ept7l9etjyb55x06cvstcwdl9q2m
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/261
250
13149
32564
2026-05-13T13:52:28Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «لنکا کانڈ (۱) راون کے درباریں انگر رام چندر نے سمندر کو پار کر کے لنکا کا محاصرہ کر لیا ۔ قلعہ کے چاروں دروازوں پر چار بڑے بڑے سرداروں کو کھڑا کیا ۔ سگریو کو ساری فوج کا سپہ سالار بنایا ۔ آپ اور لکشمن سگریو کے ساتھ ہو گئے ۔ تیز دوڑنے والوں کو بچن چن...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32564
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>لنکا کانڈ
(۱) راون کے درباریں انگر
رام چندر نے سمندر کو پار کر کے لنکا کا
محاصرہ کر لیا ۔ قلعہ کے چاروں دروازوں پر
چار بڑے بڑے سرداروں کو کھڑا کیا ۔ سگریو
کو ساری فوج کا سپہ سالار بنایا ۔ آپ اور لکشمن
سگریو کے ساتھ ہو گئے ۔ تیز دوڑنے والوں کو
بچن چن کر خبریں لانے اور لے جانے کے لئے
مقرر کیا ۔ جس سردار کو کوئی حکم
انہیں آدمیوں کی معرفت کہلا بھیجتے تھے ۔ شہر
کے چاروں دروازے بند ہو گئے۔ راکشسوں
کو باہر نکلنا محال ہو گیا ۔ رسد کا باہر کے
دیہاتوں سے آنا بند ہو گیا ۔ لوگ اندر بھوکوں
دینا ہوتا<noinclude></noinclude>
5fd5etobbmt1kcd46dpe5c1mnidovxh
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/260
250
13150
32565
2026-05-13T13:53:39Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۵۴ پر چپل باندھ لیا تو اُس کا نشہ ہرن ہو گیا۔ اُس دن اُسے ساری رات نیند نہیں آئی» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32565
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۲۵۴
پر چپل باندھ لیا تو اُس کا نشہ ہرن ہو گیا۔
اُس دن اُسے ساری رات نیند نہیں آئی<noinclude></noinclude>
rk40gdk96bvmhxulhe7pqsrtla5lpqn
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/259
250
13151
32566
2026-05-13T13:54:51Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «شوق سے ہر ایک بات کی جانچ کر لو ۔ کہو اپنی فوج کی صحیح تعداد بتلادوں ، اپنا رسد ساماں دکھا دوں ۔ اگر دیکھ بھال چکے ہو تو لوٹ جاؤ ۔ اور اگر ابھی دیکھنا باقی ہو تو میں تمہیں خوشی سے اجازت دیتا ہوں خوب اچھی طرح دیکھ بھال لو ہے دونو بہت شرمندہ ہوئے اور...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32566
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>شوق سے ہر ایک بات کی جانچ کر لو ۔ کہو
اپنی فوج کی صحیح تعداد بتلادوں ، اپنا رسد
ساماں دکھا دوں ۔ اگر دیکھ بھال چکے ہو تو
لوٹ جاؤ ۔ اور اگر ابھی دیکھنا باقی ہو تو میں
تمہیں خوشی سے اجازت دیتا ہوں خوب اچھی
طرح دیکھ بھال لو ہے
دونو بہت شرمندہ ہوئے اور جا کر راون
سے بولے : مہاراج ! آپ رامچندر سے لڑائی
نہ کریں ۔ وہ غضب کے دلیر ہیں ۔ آپ اُن پر
فتح نہیں پا سکتے ۔ اُن کی فوج کا ایک ایک
سردار ہماری ایک ایک فوج کے لئے کافی
ہے۔ مگر سادن تو اپنی طاقت کے نشہ میں
اندھا ہو رہا تھا ۔ وہ کسی کی نصیحت کو کب
خیال میں لاتا تھا۔ بولا تم دونو باغی ہو ۔
میرے سامنے سے نکل جاؤ ۔ میں ایسے بزدلوں
کی صورت نہیں دیکھنی چاہتا ہے
مگر جب اُسے معلوم ہوا کہ رامچندر نے سمندر<noinclude></noinclude>
bbn72erukehx4m0snilbevp89xrxbrz
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/258
250
13152
32567
2026-05-13T13:55:39Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۵۲ کنارے آکر سمندر کو عبور کرنے کی تدبیر سوچنے لگی ۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ ایک پل تعمیر کیا جائے ۔ نل اور نیل بڑے ہوشیار انجنیر تھے۔ اُنہوں نے پل بنانا شروع کیا : اُدھر راون کو جب خبر ملی کہ بھمیشن رامچندر سے جا ملا تو اس نے دو جاسوسوں کو سگریو فوج...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32567
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۲۵۲
کنارے آکر سمندر کو عبور کرنے کی تدبیر سوچنے
لگی ۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ ایک پل تعمیر کیا
جائے ۔ نل اور نیل بڑے ہوشیار انجنیر تھے۔
اُنہوں نے پل بنانا شروع کیا :
اُدھر راون کو جب خبر ملی کہ بھمیشن رامچندر
سے جا ملا تو اس نے دو جاسوسوں کو سگریو
فوج کا حال چال دریافت کرنے کے لئے
بھیجا ۔ ایک کا نام تھا' شک ، دوسرے کا سارین
دونو بھیس بدل کر سگریو کی فوج میں آئے
اور ہر ایک بات کی چھان بین کرنے لگے ۔
اتفاق سے اُن پر بھیجھیشن کی نظر پڑ گئی۔
فوراً پہچان گئے ۔ اُنہیں پکڑ کر رامچندر کے
سامنے پیش کر دیا ۔ دونو جاسوس مارے خوف
کے کانپنے لگے ۔ کیونکہ دستور کے موافق انہیں
موت کی سزا ملنی یقینی تھی ۔ پر رام چندر کو
اُن پر رحم آگیا ۔ انہیں بلا کر کہا تم لوگ
ڈرو مت، ہم تمہیں کوئی سزا نہ دینگے ۔ تم<noinclude></noinclude>
cz2jajqsj6vwvskhokc2ude7r7gee1w
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/257
250
13153
32568
2026-05-13T13:56:47Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «کو بھی نہیں نکالتا۔ سگے بھائی کو کیسے نکا لیگا بھیجیش - مهاراج! میرا قصور صرف یہی تھا کہ میں نے راون سے وہ بات کہی جو اُسے پسند نہ تھی ۔ میں نے اُسے سمجھایا تھا کہ سینتا جی کو رامچندر کے پاس پہنچا دو ۔ یہ بات اُسے تیر کی طرح لگ گئی ۔ جو آدمی نفس کا غ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32568
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کو بھی نہیں نکالتا۔ سگے بھائی کو کیسے
نکا لیگا
بھیجیش - مهاراج! میرا قصور صرف یہی تھا کہ
میں نے راون سے وہ بات کہی جو اُسے
پسند نہ تھی ۔ میں نے اُسے سمجھایا تھا کہ
سینتا جی کو رامچندر کے پاس پہنچا دو ۔ یہ
بات اُسے تیر کی طرح لگ گئی ۔ جو آدمی
نفس کا غلام ہو جانا ہے اُسے نیک اور بد
کی تمیز نہیں رہتی ۔ وہ اپنے بارے میں
سچی بات سننا کبھی پسند نہیں کرتا ہے
رامچندر نے بھیجھیشن کو بہت تشقی دی اور
وعدہ کیا کہ راون کو مار کر لنکا کا راج تمہیں
دونگا ۔ اسی وقت بھھیشن کو راج تیلک بھی دیدیا ۔
بھیشن نے بھی ہر حالت میں رامچندر کی مدد
کرنے کا پکا وعدہ کیا :
دوسرے دن سے لنکا پر چڑھائی کرنے
کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔ اور فوج سمندر کے<noinclude></noinclude>
jly2mp65w8wkxjx4sb6hfnav13vj9ug
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/256
250
13154
32569
2026-05-13T13:57:32Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «آدمی ہے تو وہ بھی ہے ۔ جس وقت سارا دربار میرا دشمن تھا، اُس وقت اسی آدمی نے میری جان بچائی تھی ۔ اسے ضرور راون نے راج سے نکال دیا ہے ۔ وہ اب آپ کی سرن آیا ہے ۔ اس سے بے مروتی کرنا مناسب نہیں۔ آخر رام چندر کا شبہہ دُور ہو گیا ۔ انہوں نے اُسی وقت بھبھی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32569
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>آدمی ہے تو وہ بھی ہے ۔ جس وقت سارا
دربار میرا دشمن تھا، اُس وقت اسی آدمی نے
میری جان بچائی تھی ۔ اسے ضرور راون نے
راج سے نکال دیا ہے ۔ وہ اب آپ کی سرن
آیا ہے ۔ اس سے بے مروتی کرنا مناسب نہیں۔
آخر رام چندر کا شبہہ دُور ہو گیا ۔ انہوں نے
اُسی وقت بھبھیشن کو بلایا اور بڑے تپاک سے
ہلے
بھیھی بولا ۔ مہاراج! آپ سے ملنے کی بہت
دنوں سے تمنا تھی، وہ آج پوری ہوئی ۔ میں
اپنے بھائی راون کے ہاتھوں بہت ذلیل
ہو کر آپ کی سرن آیا ہوں ۔ اب آپ ہی
میرا بیڑا پار لگائیے ۔ راون نے مجھے اتنی
بے دردی سے نکالا ہے جیسے کوئی کتے کو
بھی نہ نکا لیگا ۔ اب میں اُس کا منہ نہیں دیکھنا
چاہتا ہے
را نچندر نے کہا ۔ مگر بے قصور تو کوئی اپنے نوکر<noinclude></noinclude>
5tbjflo2qimhh6jd62dkij88766ffet
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/255
250
13155
32570
2026-05-13T13:58:17Z
Kaur.gurmel
74
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «مجھے یہ سزا دی ۔ آپ کا حکم سر اور آنکھوں پر ۔ میں جاتا ہوں ۔ آپ پھر میرا منہ نہ دیکھینگے ۔ مگر اتنا پھر کہتا ہوں کہ آپ کو ایک دن پچھتانا پڑیگا ۔ اور اُس وقت آپ بد نصیب بھبھیشن کی بات یاد آئیگی : (۵) حمله بھیشن یہاں سے ذلیل ہو کہ سگریو کی فوج میں پہنچا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32570
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>مجھے یہ سزا دی ۔ آپ کا حکم سر اور آنکھوں
پر ۔ میں جاتا ہوں ۔ آپ پھر میرا منہ نہ
دیکھینگے ۔ مگر اتنا پھر کہتا ہوں کہ آپ کو
ایک دن پچھتانا پڑیگا ۔ اور اُس وقت آپ
بد نصیب بھبھیشن کی بات یاد آئیگی :
(۵) حمله
بھیشن یہاں سے ذلیل ہو کہ سگریو کی
فوج میں پہنچا اور سگریو سے اپنا سارا حال
کہا ۔ سگریو نے رامچندر کو اُس کے آنے کی
دی - رامچندر کو خیال آیا کہیں یہ راون
کا مخبر نہ ہو ۔ ہماری فوج کی حالت دیکھنے کے
لئے آیا ہو۔ اسے فوراً فوج سے نکال دینا
چاہئے ۔ انگر ، جامونت اور دوسرے سرداروں
نے بھی یہی راے دی ۔ اُس وقت ہنومان بولے
آپ لوگ اس آدمی کے بارے میں کسی قسم
کا شبہہ نہ کریں ۔ لنکا میں اگر کوئی سچا اور شریف<noinclude></noinclude>
bs3gqjibe8l8upe65zl0tuykcp5puzn
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/253
250
13156
32571
2026-05-14T03:54:16Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «ساتھ دیتا ۔ سینتا جی کو یہاں لاکر قید کر رکھنے میں آپ نے زیادتی کی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ آپ کو سمجھا دیں ۔ اگر آپ نے سیتاجی کو نہ واپس کیا تو لنکا پر ضرور آفت آئیگی کراون نے جب دیکھا کہ اُس کا بھائی بھی رعایا کی طرف سے وکالت کر رہا ہے تو اور بھی جام...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32571
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ساتھ دیتا ۔ سینتا جی کو یہاں لاکر قید کر رکھنے
میں آپ نے زیادتی کی ہے اور ہمارا فرض ہے
کہ آپ کو سمجھا دیں ۔ اگر آپ نے سیتاجی کو نہ
واپس کیا تو لنکا پر ضرور آفت آئیگی
کراون نے جب دیکھا کہ اُس کا بھائی بھی رعایا
کی طرف سے وکالت کر رہا ہے تو اور بھی
جامہ سے باہر ہو کر بولا ۔ بھیجھیشن تم پوجا
کرنے والے ۔ پوتھی پران کے کیڑے ہو ۔
ریاست کے معاملات میں زبان کھولنے کا
تمہیں حق نہیں ۔ خاموش رہو ۔ میں تم سے
زیادہ لائق ہوں ، یہ
-
بھھیں ۔ میں آپ سے یہ جتا دینا چاہتا ہوں
کہ اس لڑائی میں آپ کا ساتھ رعایا ہرگز
نہ دیگی :
راون کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں ۔
گرج کر بولا : میں جو کچھ کہوں یا کروں،
رعایا کو ماننا پڑیگا :<noinclude></noinclude>
mhh20ds2x330cepwauyttka0pm79f70
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/290
250
13157
32572
2026-05-14T03:54:40Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۸۴ سری رامچندر جی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وہ خود آتے مگر شہر میں آئے سے مجبور ہیں ۔ سیتا جی خوشی خوشی پالکی پر بیٹھیں ۔ رامچندر سے ملنے کی خوشی میں انہیں کپڑوں کی بھی پرواہ نہ تھی ۔ مگر بھھیشن کی رانی سرما نے اُن کے جسم پر اُبٹن ملا، سر...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32572
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۸۴
سری رامچندر جی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے
ہیں ۔ وہ خود آتے مگر شہر میں آئے سے مجبور
ہیں ۔ سیتا جی خوشی خوشی پالکی پر بیٹھیں ۔ رامچندر
سے ملنے کی خوشی میں انہیں کپڑوں کی بھی پرواہ
نہ تھی ۔ مگر بھھیشن کی رانی سرما نے اُن کے جسم
پر اُبٹن ملا، سر میں تیل ڈالا، بال گوندھے۔
بیش قیمت ساڑی پہنائی اور رخصت کیا۔ سواری
روانہ ہوئی ۔ ہزاروں آدمی ساتھ تھے :
رامچندر کو دیکھتے ہی سیتا جی کی آنکھوں -
خوشی کے آنسو بہنے لگے ۔ وہ پالکی سے اُتر
کر اُن کی طرف چلیں ۔ رامچندر اپنی جگہ پر کھڑے
رہے ۔ اُن کے چہرے سے خوشی نہیں ظاہر ہو
رہی تھی ۔ بلکہ رنج ظاہر ہوتا تھا ۔ سیتا قریب
آگئیں ۔ پھر بھی وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔
تب سیتا جی اُن کے دل کی بات سمجھ گئیں ۔
وُہ اُن کے پیروں پر نہیں گریں ۔ سر جھکا کر
کھڑی ہو گئیں ۔ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ہے
سے<noinclude></noinclude>
fxtymnqh0dwkq4emlqt8bca2sijgc14
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/291
250
13158
32573
2026-05-14T03:54:57Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «ایک منٹ کے بعد سیتا جی نے لکشمن سے کہا ۔ بھیا ۔ کھڑے کیا دیکھتے ہو ۔ میرے لئے ایک چتا تیار کرواؤ ۔ جب سوامی جی کو مجھ سے نفرت ہے تو میرے لئے آگ کی گود کے سوا اور کہیں جگہ نہیں ۔ اُن کے درشن ہو گئے ۔ میرے لئے یہی خوش نصیبی کی بات ہے۔ ہائے! کیا سوچ رہی ت...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32573
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ایک منٹ کے بعد سیتا جی نے لکشمن سے
کہا ۔ بھیا ۔ کھڑے کیا دیکھتے ہو ۔ میرے لئے ایک
چتا تیار کرواؤ ۔ جب سوامی جی کو مجھ سے نفرت
ہے تو میرے لئے آگ کی گود کے سوا اور کہیں
جگہ نہیں ۔ اُن کے درشن ہو گئے ۔ میرے لئے یہی
خوش نصیبی کی بات ہے۔ ہائے! کیا سوچ رہی
تھی ۔ اور کیا ہوا !
یہ بات نہ تھی کہ رامچندر کو سیتا جی پر
کسی قسم کا شبہہ تھا ۔ وہ خوب جانتے تھے کہ
سیتا جی نے کبھی راون سے سیدھے منہ بات
بھی نہیں کی ۔ ہمیشہ اس سے نفرت کرتی رہیں۔
لیکن دنیا کو سیتا جی کی صاف دلی پر کیسے یقین
آتا ۔ سیتا جی بھی دل میں یہ بات خوب سمجھتی
تھیں ۔ اسی لئے انہوں نے اپنے بارے میں
کچھ
نہ کہا ۔ جان دینے کے لئے تیار ہو گئیں ۔
را مچندر کا سینہ پھٹا جاتا تھا مگر مجنوز تھے :
ذرا دیر میں چتا تیار ہو گئی ۔ اس میں آگ
-<noinclude></noinclude>
7k4ypqr4paip214pv4gehg7axbzrupw
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/292
250
13159
32574
2026-05-14T03:55:20Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۸۶ لگا دی گئی ۔ شعلے اُٹھنے لگے ۔ سیتا جی نے رام چندر کو پر نام کیا اور چنتا میں کودنے چلیں۔ وہاں ساری فوج جمع تھی ۔ سیتا جی کو آگ کی طرف بڑھتے دیکھ کہ چاروں طرف شور مچ گیا ۔ سب لوگ چلا چلا کر کہنے لگے ۔ ہم کو سیتاجی پر کسی قسم کا شک نہیں ہے ۔ وہ دیو...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32574
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۸۶
لگا دی گئی ۔ شعلے اُٹھنے لگے ۔ سیتا جی نے
رام چندر کو پر نام کیا اور چنتا میں کودنے چلیں۔
وہاں ساری فوج جمع تھی ۔ سیتا جی کو آگ کی
طرف بڑھتے دیکھ کہ چاروں طرف شور مچ گیا ۔
سب لوگ چلا چلا کر کہنے لگے ۔ ہم کو سیتاجی
پر کسی قسم کا شک نہیں ہے ۔ وہ دیوی ہیں۔
ہماری ماتا ہیں، ہم اُن کی پرستش کرتے ہیں۔
ہنومان انگد، سگریو وغیرہ سیتاجی کا راستہ
روک کر کھڑے ہو گئے ۔ اُس وقت رامچندر کو
یقین ہوا کہ اب سیتا جی کی پاکدامنی پر کسی
کو شبہہ نہیں ۔ اُنہوں نے آگے بڑھ کر سیتا
جی کو چھاتی سے لگا لیا ۔ سارا میدان خوشی
کے نعروں سے گونج اُٹھا :
(6) اجودھیا کو واپسی
رام چندر نے لنکا پر جس ارادہ سے حملہ
کیا تھا وہ پورا ہو گیا ۔ سیتا جی چُھڑا لی گئیں۔<noinclude></noinclude>
qe9el4ypikit358amsr0o1h4b5p454b
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/293
250
13160
32575
2026-05-14T03:55:34Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۸۷ راون کو سزا دی جا چکی ۔ اب لنکا میں رہنے کی ضرورت نہ تھی ۔ رام چندر نے چلنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا ۔ بھھیشن نے سنا کہ رامچندر جا رہے ہیں تو آکر بولا ۔ ' مہاراج ! مجھ سے ایسی کونسی خطا ہوئی جو آپ نے اتنی جلد چلنے کی ٹھان لی ۔ بھلا دس پانچ دن تو مج...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32575
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۸۷
راون کو سزا دی جا چکی ۔ اب لنکا میں رہنے کی
ضرورت نہ تھی ۔ رام چندر نے چلنے کی تیاری
کرنے کا حکم دیا ۔ بھھیشن نے سنا کہ رامچندر
جا رہے ہیں تو آکر بولا ۔ ' مہاراج ! مجھ سے
ایسی کونسی خطا ہوئی جو آپ نے اتنی جلد چلنے
کی ٹھان لی ۔ بھلا دس پانچ دن تو مجھے خدمت
کرنے کا موقع دیجئے ۔ ابھی تو میں آپ کی کچھ
مهمانی کر ہی نہ سکا یہ
رامچندر نے کہا ۔ بھھیشن ! میرے لئے راس
سے زیادہ خوشی کی اور کونسی بات ہو سکتی
تھی کہ کچھ دن تمہاری صحبت کا نظمت
اُٹھاؤں ۔ تم جیسے صاف دل آدمی بڑے
نصیبوں سے ملتے ہیں ۔ مگر بات یہ
۔ ہے کہ
میں نے بھرت سے چودھویں سال کے پورے
ہوتے ہی کوٹ جانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب
چودہ سال پورے ہونے میں دو ہی چار دن
کی کسر ہے۔ اگر مجھے ایک دن کی بھی دیر<noinclude></noinclude>
0mu5f04ehvnue48u5c781psb8fkkzov
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/294
250
13161
32576
2026-05-14T03:55:53Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «ہو گئی تو بھرت کو بڑا صدمہ ہوگا ۔ بشرط زندگی پھر کبھی ملاقات ہوگی ۔ ابھی تو اجودھیا تک پہنچنے میں مہینوں لگینگے بے بھیشن ۔ مہاراج! اجودھیا تو آپ دو دن میں پہنچ جائینگے را مچندر صرف دو دن میں ؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ بھھیں ۔ میرے بھائی راون نے اپنے لئے ا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32576
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ہو گئی تو بھرت کو بڑا صدمہ ہوگا ۔ بشرط
زندگی پھر کبھی ملاقات ہوگی ۔ ابھی تو اجودھیا
تک پہنچنے میں مہینوں لگینگے بے
بھیشن ۔ مہاراج! اجودھیا تو آپ دو دن میں
پہنچ جائینگے
را مچندر صرف دو دن میں ؟ یہ کیسے ممکن
ہے؟
بھھیں ۔ میرے بھائی راون نے اپنے لئے ایک
ہوائی تخت بنوایا تھا ۔ اُسے پشک بمان کہتے
ہیں۔ اس کی چال ایک ہزار میل روزانہ ہے۔
بڑے آرام کی چیز ہے ۔ دس بارہ آدمی
آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں ۔ ایشور نے چاہا
تو آج کے تیسرے دن آپ اجودھیا میں
ہونگے ۔ مگر میری اتنی عرض آپ کو قبول
کرنا پڑیگی۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا۔
جہان آپ کے ہزاروں چاکر ہیں وہاں مجھے
بھی ایک چاکر سمجھتے کیا<noinclude></noinclude>
ml59dq0pb7u024k4e6hs5y2nlv9n6kv
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/295
250
13162
32577
2026-05-14T03:56:16Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «اُسی دن پشک بمان آگیا ۔ عجیب و غریب چیز تھی ۔ کل گھماتے ہی ہوا میں اٹھ کر اُڑنے لگتی تھی ۔ بیٹھنے کی جگہ الگ ، سونے کی جگہ الگ ہیرے جواہرات جڑے ہوئے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی اُڑنے والا محل ہے ۔ رامچندر اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ مگر جب چلنے کو...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32577
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اُسی دن پشک بمان آگیا ۔ عجیب و غریب
چیز تھی ۔ کل گھماتے ہی ہوا میں اٹھ کر اُڑنے
لگتی تھی ۔ بیٹھنے کی جگہ الگ ، سونے کی جگہ الگ
ہیرے جواہرات جڑے ہوئے ۔ ایسا معلوم
ہوتا تھا کہ کوئی اُڑنے والا محل ہے ۔ رامچندر
اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ مگر جب چلنے
کو تیار ہوئے تو ہنومان، سگریو، انگر ، نیل،
جامونت ، سبھی سرداروں نے کہا مہاراج !
آپ کی خدمت میں اتنے دنوں تک رہنے کے
بعد اب یہ جُدائی نہیں سہی جاتی ۔ اگر آپ
یہاں نہیں رہتے تو ہم لوگوں کو ہی ساتھ لیتے
چلئے۔ وہاں آپ کی تاجپوشی کا جشن منائینگے ۔
کو سلبا ماتا کے درشن کرینگے، گرو وشسٹ ،
وشوا متر، بھاردواج وغیرہ کے اُپدیش نینگے ۔
اور آپ کی خدمت کرینگے ؟
رامچندر نے پہلے تو اُنہیں سمجھایا کہ آپ
لوگوں نے میرے اوپر جو احسان کئے ہیں وہی<noinclude></noinclude>
kvejdo2uy7edjkn3z8rnkt23c7o17l7
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/296
250
13163
32578
2026-05-14T03:56:32Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۹۰ کافی ہیں ، اب اور زیادہ احسانوں کے بوجھ سے نہ دبائیے ۔ مگر جب اُن لوگوں نے بہت اصرار کیا تو مجبوراً اُن لوگوں کو بھی ساتھ لے لیا ۔ سب کے سب بمان پر بیٹھے ۔ اور یمان ہوا میں اُڑا چلا ۔ رام چند اور سیتاجی میں باتیں ہونے لگیں ۔ دونو نے اپنے اپنے حا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32578
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۹۰
کافی ہیں ، اب اور زیادہ احسانوں کے بوجھ
سے نہ دبائیے ۔ مگر جب اُن لوگوں نے بہت
اصرار کیا تو مجبوراً اُن لوگوں کو بھی ساتھ
لے لیا ۔ سب کے سب بمان پر بیٹھے ۔ اور
یمان ہوا میں اُڑا چلا ۔ رام چند اور سیتاجی
میں باتیں ہونے لگیں ۔ دونو نے اپنے اپنے
حالات بیان کئے ۔ ہمان ہوا میں اڑتا چلا
جاتا تھا ۔ جس راستہ سے آئے تھے۔ اُسی
راستہ سے جا رہے تھے ۔ راستہ میں جو
خاص خاص مقامات آتے تھے انہیں رامچندر
جی سینا کو دکھا دیتے تھے ۔ پہلے سمندر نظر
آیا ۔ اُس پر بندھا ہوا میل دیکھ کر سینتا جی
کو بڑا تعجب ہوا۔ پھر وہ مقام آیا جہاں
رام چندر نے بانی کو مارا تھا ۔ اس کے بعد
کسکند ها پوری نظر آئی ۔ رام چندر نے کہا
جس راجہ سگریو کی مدد سے ہم نے لنکا فتح
کی اُن کا مکان نہیں ہے ۔ سیتا جی نے<noinclude></noinclude>
givv4pkz36go98ntom69iic1q8kk45w
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/297
250
13164
32579
2026-05-14T03:56:57Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۹۱ سگریو کی رانی سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ اس لئے بمان روک دیا گیا ۔ اور لوگ سگریو کے گھر اُترے ۔ تارا نے سیتا جی کے گلے میں پھولوں کی مالا پہنائی اور اپنے ساتھ محل میں لے گئیں ۔ سگریو نے اپنے معزز مہمانوں کی دعوت کی اور انہیں دو چار دن رو...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32579
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۹۱
سگریو کی رانی سے ملاقات کرنے کی خواہش
ظاہر کی ۔ اس لئے بمان روک دیا گیا ۔ اور لوگ
سگریو کے گھر اُترے ۔ تارا نے سیتا جی کے
گلے میں پھولوں کی مالا پہنائی اور اپنے ساتھ
محل میں لے گئیں ۔ سگریو نے اپنے معزز مہمانوں
کی دعوت کی اور انہیں دو چار دن روکنا چاہا
مگر رامچندر کیسے رک سکتے تھے ۔ دوسرے دن
پھر بمان روانہ ہوا ۔ سگریو وغیرہ بھی اُس پر
کر چلے - رامچندر جی سے اُن لوگوں کو
اتنی محبت ہو گئی تھی کہ اُن کو چھوڑتے ہوئے
ان لوگوں کو صدمہ ہوتا تھا :
رامچندر نے پھر سیتا جی کو خاص خاص
مقامات دکھانا شروع کئے ۔ دیکھو یہ وہ جنگل
ہے جہاں ہم تمہیں تلاش کرتے پھرتے تھے۔
اہا دیکھو وہ چھوٹی سی جھونپڑی جو نظر آ رہی
ہے وہی شیوری کا مکان ہے ۔ یہاں رات
بھر ہم نے جو آرام پایا اتنا کبھی اپنے<noinclude></noinclude>
9zgndjz235xq7d5xu225pxzww6gi4mt
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/298
250
13165
32580
2026-05-14T03:57:10Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «- بھی نہ پایا تھا ۔ یہ لو وہ مقام آگیا جہاں بیرت جٹا یو سے ہماری ملاقات ہوئی تھی ۔ وُہ اُس کی کٹی ہے ۔ صرف دیواریں باقی رہ گئی ہیں ۔ جٹا یو نے ہمیں تمہارا پتہ نہ بنایا ہوتا تو خبر نہیں کہاں کہاں بھٹکتے پھرتے ۔ وہ دیکھو پہنچوٹی کا مقام ہے ۔ وہ ہماری ک...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32580
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>-
بھی نہ پایا تھا ۔ یہ لو وہ مقام آگیا جہاں
بیرت جٹا یو سے ہماری ملاقات ہوئی
تھی ۔ وُہ اُس کی کٹی ہے ۔ صرف دیواریں باقی
رہ گئی ہیں ۔ جٹا یو نے ہمیں تمہارا پتہ نہ بنایا
ہوتا تو خبر نہیں کہاں کہاں بھٹکتے پھرتے ۔
وہ دیکھو پہنچوٹی کا مقام ہے ۔ وہ ہماری کئی
ہے ۔ جی بے اختیار چاہتا ہے کہ چل کر ایک بار
اس کئی کے درشن کر لوں ۔ سیتا جی اس گئی کو
کر رونے لگیں ۔ آہ ! یہیں سے انہیں راون
ہر لے گیا تھا ۔ وہ دن ، وہ گھڑی کتنی منحوس تھی۔
کہ اتنے دنوں تک انہیں ایک ظالم کی قید میں
رہنا پڑا ۔ راون کی وہ فقیرانہ صورت اُن کی
نظروں میں پھر گئی ۔ آنسو کسی طرح نہ تھمتے تھے۔
ه مشکل را مچندر نے انہیں سمجھا کر چُپ کیا ۔
جہان اور آگے بڑھا ۔ اگست منی کا آشرم نظر
آیا۔ رامچندر نے اُن کے درشن کئے ۔ لیکن
رکنے کا موقع نہ تھا ۔ اس لئے تھوری دیر<noinclude></noinclude>
rk5lwvvy3m7y30w9zmobnm4noa9472d
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/299
250
13166
32581
2026-05-14T03:57:49Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۹۳ منی - - کے بعد پھر بمان روانہ ہوا ۔ چتر کوٹ نظر آیا۔ سیتا جی اپنی کئی دیکھ کر بہت خوش ہوئیں کچھ دیر بعد۔ پر باگ دکھائی دیا۔ یہیں بھاردواج کا آشرم تھا ۔ رامچندر نے بمان کو اتارنے کا حکم دیا اور منی جی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ منی جی اُن سے مل کر بہت...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32581
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۹۳
منی
-
-
کے بعد پھر بمان روانہ ہوا ۔ چتر کوٹ نظر آیا۔
سیتا جی اپنی کئی دیکھ کر بہت خوش ہوئیں
کچھ دیر بعد۔ پر باگ دکھائی دیا۔ یہیں بھاردواج
کا آشرم تھا ۔ رامچندر نے بمان کو اتارنے
کا حکم دیا اور منی جی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
منی جی اُن سے مل کر بہت خوش ہوئے ۔
بڑی دیر تک رامچندر اُنہیں اپنے حالات
مناتے رہے ۔ پھر اور باتیں ہونے لگیں ۔
رامچندر نے کہا ۔ مہاراج! مجھے تو اُمید نہ تھی
کہ پھر آپ کے درشن ہونگے ۔ مگر آپ کے
آشیر باد سے آج پھر آپ کی قدمبوسی کا موقع
مل گیا :
بھاردواج بولے ۔ بیٹا ! جب تم یہاں سے
جا رہے تھے اُس وقت مجھے جننا رنج ہوا
تھا اُس سے کہیں زیادہ خوشی آج تمہاری
واپسی پر ہو رہی ہے :
رام آپ کو اجودھیا کے حالات تو ملتے ہونگے ؟<noinclude></noinclude>
5temqhcazjbz0lqlvjnyev4zomzka68
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/300
250
13167
32582
2026-05-14T03:58:07Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۳۹۴ بھاردواج ۔ ہاں بیٹا وہاں کے حالات برابر ملتے رہتے ہیں ۔ بھرت تو اجودھیا سے دور ایک گاؤں میں کئی بنا کر رہتے ہیں۔ مگر شتر شنز دہن کی مدد سے انہوں نے بہت اچھی طرح راج کا کام سنبھالا ہے ۔ رعایا خوش ہے۔ ظلم کا نام و نشان نہیں، مگر سب لوگ تمہارے لئے...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32582
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۳۹۴
بھاردواج ۔ ہاں بیٹا وہاں کے حالات برابر
ملتے رہتے ہیں ۔ بھرت تو اجودھیا سے
دور ایک گاؤں میں کئی بنا کر رہتے ہیں۔
مگر شتر
شنز دہن کی مدد سے انہوں نے بہت
اچھی طرح راج کا کام سنبھالا ہے ۔ رعایا
خوش ہے۔ ظلم کا نام و نشان نہیں، مگر
سب لوگ تمہارے لئے بیقرار ہو رہے ہیں۔
بھرت تو اتنے بیقرار ہیں کہ اگر تمہیں ایک
دن کی بھی دیر ہو گئی تو شاید تم انہیں
زندہ نہ پاؤ ہے
رامچندر نے اُسی وقت ہنومان کو بلا کر
کہا تم ابھی بھرت کے پاس جاؤ اور انہیں
میرے آنے کی خبر دو ۔ وہ بہت گھبرا رہے
ہونگے ۔ میں کل سویرے یہاں سے چلونگا ۔
یہ حکم پاتے ہی ہنومان اجودھیا کی طرف
روانہ ہوئے ۔ اور بھرت کا پتہ پوچھتے ہوئے
نندی گرام پہنچے۔ بھرت نے جونہی یہ خوشخبری<noinclude></noinclude>
lfwz7g5pkpvazfrb25o2hqrlbusjv11
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/301
250
13168
32583
2026-05-14T03:58:48Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «شنی انہیں مارے خوشی کے غش آ گیا ۔ اسی وقت ایک آدمی کو بھیج کر شتر و ہن کو بلوایا اور کہا۔ بھائی آج کا دن بڑا مبارک ہے کہ ہمارے بھائی صاحب چودہ برس کی جلا وطنی کے بعد اجودھیا آ رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹوا دو کہ لوگ اپنے اپنے گھر چراغ جلائیں ۔ اور اس...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32583
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>شنی انہیں مارے خوشی کے غش آ گیا ۔ اسی
وقت ایک آدمی کو بھیج کر شتر و ہن کو بلوایا اور
کہا۔ بھائی آج کا دن بڑا مبارک ہے کہ
ہمارے بھائی صاحب چودہ برس کی جلا وطنی
کے بعد اجودھیا آ رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی
پٹوا دو کہ لوگ اپنے اپنے گھر چراغ جلائیں ۔
اور اس خوشی میں جشن منائیں ۔ سویرے تم
اُن کے جلوس کا انتظام کر کے یہاں آنا ۔ ہم
سب لوگ بھائی صاحب کی پیشوائی کرنے چلینگے ۔
دوسرے دن سویرے را مچندر جی بھاردواج
منی کے آشرم سے روانہ ہوئے ۔ جس اجودھیا
کی گود میں پلے اور کھیلے اُس اجودھیا کے
آج پھر درشن ہوئے ۔ جب اجودھیا کے
بڑے بڑے عالی شان محل نظر آنے لگے تو
رامچندر کا چہرہ مارے خوشی کے چمک اُٹھا۔
اُس کے ساتھ ہی آنکھوں سے آنسہ بھی بینے
لگے ۔ ہنومان سے بولے : دوست مجھے دنیا
.<noinclude></noinclude>
6qla4htr0m9e4ofz2xn51vp7ihxvsx8
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/302
250
13169
32584
2026-05-14T03:59:53Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ «۲۹۶ میں کوئی جگہ اپنی اجودھیا سے زیادہ پیاری نہیں ۔ مجھے یہاں کے کانٹے بھی دوسری جگہ پھولوں سے زیادہ خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ دیکھو سرجو نڈی شہر کو اپنی گود میں لئے کیسا بچوں کی طرح کھلا رہی ہے ۔ اگر فقیر بن کر بھی یہاں رہنا پڑے تو دوسری جگہ را...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
32584
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۹۶
میں کوئی جگہ اپنی اجودھیا سے زیادہ پیاری
نہیں ۔ مجھے یہاں کے کانٹے بھی دوسری جگہ
پھولوں سے زیادہ خوبصورت معلوم ہوتے
ہیں ۔ وہ دیکھو سرجو نڈی شہر کو اپنی گود میں
لئے کیسا بچوں کی طرح کھلا رہی ہے ۔ اگر
فقیر بن کر بھی یہاں رہنا پڑے تو
دوسری جگہ راج کرنے سے زیادہ خوش رہونگا۔
ابھی وہ یہی باتیں کر رہے تھے کہ نیچے ہاتھی
گھوڑوں، رتھوں کا جلوس نظر آیا ۔ سب کے
آگے بھرت گیروے رنگ کی چادر اوڑھے،
جٹا بڑھائے ، ننگے پاؤں ایک ہاتھ میں رامچندر
کی کھڑاؤں لئے چلے آ رہے تھے۔ اُن کے
پیچھے شتر و ہن تھے ۔ پالکیوں میں کوسلیا - سمنترا -
اور کیکئی تھیں ۔ جلوس کے پیچھے اجودھیا کے
لاکھوں آدمی اچھے اچھے کپڑے پہنے چلے آرہے
تھے ۔ جلوس کو دیکھتے ہی رامچندر نے بمان
نیچے اُتارا - نیچے کے آدمیوں کو ایسا معلوم ہوا<noinclude></noinclude>
24rhnaxqc10zzok5t8s21zbkigzpw0a