ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.2
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/57
250
12705
32591
30809
2026-05-14T18:33:23Z
Charan Gill
46
32591
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چوکیدارون کو دے اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے پھر جب سات دن گزر گئے تو وہ راکشس بھی آیا راجہ نے چندن اکشت پھول دھوپ دیپ نیوید پھل پان بستر لے اسکی پوجا کی اور اس لڑکے کو بلا کھانڈا ہاتھ مین لے بل دینے کو کھڑا ہوا اسمیں وہ لڑکا
پہلے ہنسا اور پیچھے رویا اتنے میں راجہ نے کھانڈا مارا کہ سر جدا ہو گیا سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہیں کہ استری سنسار مین دکھ کی کھان ہے اور بپت کا گھر ساہس کی گرانے والی اور موح کی کرنے والی اور دھرم کی
ہرنے والی ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم گن نے کہا ہے اور ایسا بھی کہا ہے کہ آپدا کے لئے دھن رکھے اور دھن دیکے استری کی رکشا کیجئے اور دھن استری دیکے اپنے جی کو بچائے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ مرنے سمے تو آدمی روتا ہے تو اسکی حقیقت بتا کہ وہ کیوں ہنسا راجہ نے کہا یہ بچار کر وہ ہنسا کہ بالپن مین ماتا رکشا کرتی ہے اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہےاور سمے اسمے مین رعیت کی راجہ سہائی کرتا ہے سنسار کی یہ
ریت ہے اور میرا یہ حال ہے کہ اپنا نے دھن کو تو به سر راہ کو دیا اور یہ کھانڈالے نیکو کھڑا ہواور یونا کول کی چھا؟
یا کسی کو بھی نائی کی بنیال اسی پیری جالاک اور راجہ بھی دین مجھپٹ کر پہونچا اور اسے بند کا معیار کی نچلا
بیسوین کہانی ]
بیتال بولا کے راجہ بشال پور نامر ایک نگر ہر وہان کے راجہ کا نام سلیشو ا سکے نگر مین ایک نیا تھا جس کا
نام ارتھ دت اور اسکی بیٹی کا نام انگ سنجری تھا شادی اسکی کنول پور کے منی نام بنیے سے کرد سی
تھی اکتنے ایک نون کے پیچھے وہ بنیا سمندر پار تجارت کو گیا اور یہاں جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن
اپنی چوپاری پر کھڑی ہوئی کتے کا نا یا ان کا گانا گایا تھالیا
دونوں کی چار نظرین ہوئیں اور ہی گئے
برہ سے بیا کل ہو اپنے دوست کے گو گار مان کر اس المالک پچھے صورت سنبھال نہ مین کیا
جدائی کی پر سر چھین بھی کرانے میں بھی نے آم کھا
پر اسے کچھ اپنی شدہ نہ تھی پھر کھی نے گلاب چھڑ کا اور خوشبوئین سنگھائیں کہ اس سور اسے ہوش آیا اور بولی کہ
ار کام دیو مہاد ہونے مجھے جلا کر بشم کیا پسر تواپنی کھٹائی سے نہی جو کتا اور دن اپرادھ بلاون کو نیک
دکھ دیا ہے یہ باتیں کر رہی تھی کہ سانجھ ہوئی اورچاند نظر باتب چاند کی طرف دیکھ کر بولی کہ اے چند رمان ہم
سنتے تھے کہ تم میں امر ہو د کرن کی راہ سوارت برسانے موج میری تم بھی بہن برسانے لگے پر رکھی
سے کہا کہ یہاں سر مجھے اٹھا کرنے چل کہ میں چاندنی سے جلی مرتی ہوں تب یہ اسے اٹھا کر جو پارسی پرے
اور کا تجھ سے ایسی باتیں کہتے لاج نہیں آتی بدان اسنے کہا گیاہے سکھی میں سب جانتی ہوں پر مین تھے
نے مجھے مار کے نلج کیا اور میں دھیرج بہتر کرتی ہوں پر برہ کی آگ سرجون جون چلتی ہون تون تون گھرا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
s9e0nwruakjbuhncp42csmfsr17kacz
32592
32591
2026-05-14T23:49:52Z
Charan Gill
46
32592
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چوکیدارون کو دے اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے پھر جب سات دن گزر گئے تو وہ راکشس بھی آیا راجہ نے چندن اکشت پھول دھوپ دیپ نیوید پھل پان بستر لے اسکی پوجا کی اور اس لڑکے کو بلا کھانڈا ہاتھ مین لے بل دینے کو کھڑا ہوا اسمین وہ لڑکا
پہلے ہنسا اور پیچھے رویا اتنے مین راجہ نے کھانڈا مارا کہ سر جدا ہو گیا سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہین کہ استری سنسار مین دکھ کی کھان ہے اور بپت کا گھر ساہس کی گرانے والی اور موح کی کرنے والی اور دھرم کی
ہرنے والی ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم گن نے کہا ہے اور ایسا بھی کہا ہے کہ آپدا کے لئے دھن رکھے اور دھن دیکے استری کی رکشا کیجئے اور دھن استری دیکے اپنے جی کو بچائے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ مرنے سمے تو آدمی روتا ہے تو اسکی حقیقت بتا کہ وہ کیون ہنسا راجہ نے کہا یہ بچار کر وہ ہنسا کہ بالپن مین ماتا رکشا کرتی ہے اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہےاور سمے اسمے مین رعیت کی راجہ سہائی کرتا ہے سنسار کی یہ
ریت ہے اور میرا یہ حال ہے کہ ماتا پتا نے دھن کے لوبھ سے راجہ کو دیا اور یہ کھانڈا لے مارنیکو کھڑا ہے اور دیوتا کو بل کی اچھا دیا
کِسی کو بھی نہ ائی کی بیال اسی پیری جالاک اور راجہ بھی دین مجھپٹ کر پہونچا اور اسے بند کا معیار کی نچلا
{{center|'''بیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا کے راجہ بشال پور نامر ایک نگر ہر وہان کے راجہ کا نام سلیشو ا سکے نگر مین ایک نیا تھا جس کا
نام ارتھ دت اور اسکی بیٹی کا نام انگ سنجری تھا شادی اسکی کنول پور کے منی نام بنیے سے کرد سی
تھی اکتنے ایک نون کے پیچھے وہ بنیا سمندر پار تجارت کو گیا اور یہان جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن
اپنی چوپاری پر کھڑی ہوئی کتے کا نا یا ان کا گانا گایا تھالیا
دونون کی چار نظرین ہوئین اور ہی گئے
برہ سے بیا کل ہو اپنے دوست کے گو گار مان کر اس المالک پچھے صورت سنبھال نہ مین کیا
جدائی کی پر سر چھین بھی کرانے مین بھی نے آم کھا
پر اسے کچھ اپنی شدہ نہ تھی پھر کھی نے گلاب چھڑ کا اور خوشبوئین سنگھائین کہ اس سور اسے ہوش آیا اور بولی کہ
ار کام دیو مہاد ہونے مجھے جلا کر بشم کیا پسر تواپنی کھٹائی سے نہی جو کتا اور دن اپرادھ بلاون کو نیک
دکھ دیا ہے یہ باتین کر رہی تھی کہ سانجھ ہوئی اورچاند نظر باتب چاند کی طرف دیکھ کر بولی کہ اے چند رمان ہم
سنتے تھے کہ تم مین امر ہو د کرن کی راہ سوارت برسانے موج میری تم بھی بہن برسانے لگے پر رکھی
سے کہا کہ یہان سر مجھے اٹھا کرنے چل کہ مین چاندنی سے جلی مرتی ہون تب یہ اسے اٹھا کر جو پارسی پرے
اور کا تجھ سے ایسی باتین کہتے لاج نہین آتی بدان اسنے کہا گیاہے سکھی مین سب جانتی ہون پر مین تھے
نے مجھے مار کے نلج کیا اور مین دھیرج بہتر کرتی ہون پر برہ کی آگ سرجون جون چلتی ہون تون تون گھرا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
4wmwpznhizgtutl1cra2n5k83cjfqlc
32593
32592
2026-05-15T00:18:28Z
Charan Gill
46
32593
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چوکیدارون کو دے اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے پھر جب سات دن گزر گئے تو وہ راکشس بھی آیا راجہ نے چندن اکشت پھول دھوپ دیپ نیوید پھل پان بستر لے اسکی پوجا کی اور اس لڑکے کو بلا کھانڈا ہاتھ مین لے بل دینے کو کھڑا ہوا اسمین وہ لڑکا
پہلے ہنسا اور پیچھے رویا اتنے مین راجہ نے کھانڈا مارا کہ سر جدا ہو گیا سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہین کہ استری سنسار مین دکھ کی کھان ہے اور بپت کا گھر ساہس کی گرانے والی اور موح کی کرنے والی اور دھرم کی
ہرنے والی ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم گن نے کہا ہے اور ایسا بھی کہا ہے کہ آپدا کے لئے دھن رکھے اور دھن دیکے استری کی رکشا کیجئے اور دھن استری دیکے اپنے جی کو بچائے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ مرنے سمے تو آدمی روتا ہے تو اسکی حقیقت بتا کہ وہ کیون ہنسا راجہ نے کہا یہ بچار کر وہ ہنسا کہ بالپن مین ماتا رکشا کرتی ہے اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہےاور سمے اسمے مین رعیت کی راجہ سہائی کرتا ہے سنسار کی یہ
ریت ہے اور میرا یہ حال ہے کہ ماتا پتا نے دھن کے لوبھ سے راجہ کو دیا اور یہ کھانڈا لے مارنیکو کھڑا ہے اور دیوتا کو بل کی اچھا دیا
کِسی کو بھی نہ ائی یہ سُن کر بیال اسی پیڑ پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین جھپٹ کر پہونچا اور اسے بندھ کاندھے پر رخ لیچلا
{{center|'''بیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بشال پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام بپولیشور اسکے نگر مین ایک بنیا تھا جس کا نام ارتھ دت اور اسکی بیٹی کا نام اننگ منجری تھا شادی اسکی کنول پور کے منّی نام بنیے سے کر دی
تھی کتنے ایک دنون کے پیچھے وہ بنیا سمندر پار تجارت کو گیا اور یہان جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن اپنی چوپاری پر کھڑی ہوئی کستے کا تماشا دیکھتی تھی کہ ایک برہمن کا لڑکا کملا گر نام چلا آتا تھا ان دونون کی چار نظرین ہوئین اور دیکھتے ہی موہت ہو گئے برہ سے بیا کل ہو اپنے دوست کے گو گار مان کر اس المالک پچھے صورت سنبھال نہ مین کیا
جدائی کی پر سر چھین بھی کرانے مین بھی نے آم کھا
پر اسے کچھ اپنی شدہ نہ تھی پھر کھی نے گلاب چھڑ کا اور خوشبوئین سنگھائین کہ اس سور اسے ہوش آیا اور بولی کہ
ار کام دیو مہاد ہونے مجھے جلا کر بشم کیا پسر تواپنی کھٹائی سے نہی جو کتا اور دن اپرادھ بلاون کو نیک
دکھ دیا ہے یہ باتین کر رہی تھی کہ سانجھ ہوئی اورچاند نظر باتب چاند کی طرف دیکھ کر بولی کہ اے چند رمان ہم
سنتے تھے کہ تم مین امر ہو د کرن کی راہ سوارت برسانے موج میری تم بھی بہن برسانے لگے پر رکھی
سے کہا کہ یہان سر مجھے اٹھا کرنے چل کہ مین چاندنی سے جلی مرتی ہون تب یہ اسے اٹھا کر جو پارسی پرے
اور کا تجھ سے ایسی باتین کہتے لاج نہین آتی بدان اسنے کہا گیاہے سکھی مین سب جانتی ہون پر مین تھے
نے مجھے مار کے نلج کیا اور مین دھیرج بہتر کرتی ہون پر برہ کی آگ سرجون جون چلتی ہون تون تون گھرا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
py4yhiae30of66zvu90d22kw6flt1ji
32594
32593
2026-05-15T00:24:01Z
Charan Gill
46
32594
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چوکیدارون کو دے اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے پھر جب سات دن گزر گئے تو وہ راکشس بھی آیا راجہ نے چندن اکشت پھول دھوپ دیپ نیوید پھل پان بستر لے اسکی پوجا کی اور اس لڑکے کو بلا کھانڈا ہاتھ مین لے بل دینے کو کھڑا ہوا اسمین وہ لڑکا
پہلے ہنسا اور پیچھے رویا اتنے مین راجہ نے کھانڈا مارا کہ سر جدا ہو گیا سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہین کہ استری سنسار مین دکھ کی کھان ہے اور بپت کا گھر ساہس کی گرانے والی اور موح کی کرنے والی اور دھرم کی
ہرنے والی ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم گن نے کہا ہے اور ایسا بھی کہا ہے کہ آپدا کے لئے دھن رکھے اور دھن دیکے استری کی رکشا کیجئے اور دھن استری دیکے اپنے جی کو بچائے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ مرنے سمے تو آدمی روتا ہے تو اسکی حقیقت بتا کہ وہ کیون ہنسا راجہ نے کہا یہ بچار کر وہ ہنسا کہ بالپن مین ماتا رکشا کرتی ہے اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہےاور سمے اسمے مین رعیت کی راجہ سہائی کرتا ہے سنسار کی یہ
ریت ہے اور میرا یہ حال ہے کہ ماتا پتا نے دھن کے لوبھ سے راجہ کو دیا اور یہ کھانڈا لے مارنیکو کھڑا ہے اور دیوتا کو بل کی اچھا دیا
کِسی کو بھی نہ ائی یہ سُن کر بیال اسی پیڑ پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین جھپٹ کر پہونچا اور اسے بندھ کاندھے پر رخ لیچلا
{{center|'''بیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بشال پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام بپولیشور اسکے نگر مین ایک بنیا تھا جس کا نام ارتھ دت اور اسکی بیٹی کا نام اننگ منجری تھا شادی اسکی کنول پور کے منّی نام بنیے سے کر دی
تھی کتنے ایک دنون کے پیچھے وہ بنیا سمندر پار تجارت کو گیا اور یہان جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن اپنی چوپاری پر کھڑی ہوئی کستے کا تماشا دیکھتی تھی کہ ایک برہمن کا لڑکا کملا گر نام چلا آتا تھا ان دونون کی چار نظرین ہوئین اور دیکھتے ہی موہت ہو گئے پھر گھڑی ایک پیچھے ہو اپنے دوست کے گو گار مان کر اس المالک پچھے صورت سنبھال برہمن کا لڑکا برہ
جدائی کی پر سر چھین بھی کرانے مین بھی نے آم کھا
پر اسے کچھ اپنی شدہ نہ تھی پھر کھی نے گلاب چھڑ کا اور خوشبوئین سنگھائین کہ اس سور اسے ہوش آیا اور بولی کہ
ار کام دیو مہاد ہونے مجھے جلا کر بشم کیا پسر تواپنی کھٹائی سے نہی جو کتا اور دن اپرادھ بلاون کو نیک
دکھ دیا ہے یہ باتین کر رہی تھی کہ سانجھ ہوئی اورچاند نظر باتب چاند کی طرف دیکھ کر بولی کہ اے چند رمان ہم
سنتے تھے کہ تم مین امر ہو د کرن کی راہ سوارت برسانے موج میری تم بھی بہن برسانے لگے پر رکھی
سے کہا کہ یہان سر مجھے اٹھا کرنے چل کہ مین چاندنی سے جلی مرتی ہون تب یہ اسے اٹھا کر جو پارسی پرے
اور کا تجھ سے ایسی باتین کہتے لاج نہین آتی بدان اسنے کہا گیاہے سکھی مین سب جانتی ہون پر مین تھے
نے مجھے مار کے نلج کیا اور مین دھیرج بہتر کرتی ہون پر برہ کی آگ سرجون جون چلتی ہون تون تون گھرا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ns0i0qxonz1bydy7nvupyqh7gtx1suf
32595
32594
2026-05-15T00:45:05Z
Charan Gill
46
32595
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چوکیدارون کو دے اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے پھر جب سات دن گزر گئے تو وہ راکشس بھی آیا راجہ نے چندن اکشت پھول دھوپ دیپ نیوید پھل پان بستر لے اسکی پوجا کی اور اس لڑکے کو بلا کھانڈا ہاتھ مین لے بل دینے کو کھڑا ہوا اسمین وہ لڑکا
پہلے ہنسا اور پیچھے رویا اتنے مین راجہ نے کھانڈا مارا کہ سر جدا ہو گیا سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہین کہ استری سنسار مین دکھ کی کھان ہے اور بپت کا گھر ساہس کی گرانے والی اور موح کی کرنے والی اور دھرم کی
ہرنے والی ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم گن نے کہا ہے اور ایسا بھی کہا ہے کہ آپدا کے لئے دھن رکھے اور دھن دیکے استری کی رکشا کیجئے اور دھن استری دیکے اپنے جی کو بچائے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ مرنے سمے تو آدمی روتا ہے تو اسکی حقیقت بتا کہ وہ کیون ہنسا راجہ نے کہا یہ بچار کر وہ ہنسا کہ بالپن مین ماتا رکشا کرتی ہے اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہےاور سمے اسمے مین رعیت کی راجہ سہائی کرتا ہے سنسار کی یہ
ریت ہے اور میرا یہ حال ہے کہ ماتا پتا نے دھن کے لوبھ سے راجہ کو دیا اور یہ کھانڈا لے مارنیکو کھڑا ہے اور دیوتا کو بل کی اچھا دیا
کِسی کو بھی نہ ائی یہ سُن کر بیال اسی پیڑ پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین جھپٹ کر پہونچا اور اسے بندھ کاندھے پر رخ لیچلا
{{center|'''بیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بشال پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام بپولیشور اسکے نگر مین ایک بنیا تھا جس کا نام ارتھ دت اور اسکی بیٹی کا نام اننگ منجری تھا شادی اسکی کنول پور کے منّی نام بنیے سے کر دی
تھی کتنے ایک دنون کے پیچھے وہ بنیا سمندر پار تجارت کو گیا اور یہان جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن اپنی چوپاری پر کھڑی ہوئی کستے کا تماشا دیکھتی تھی کہ ایک برہمن کا لڑکا کملا گر نام چلا آتا تھا ان دونون کی چار نظرین ہوئین اور دیکھتے ہی موہت ہو گئے پھر گھڑی ایک پیچھے ہو اپنے دوست کے گو گار مان کر اس المالک پچھے صورت سنبھال برہمن کا لڑکا برہ سے بیاکل ہو اپنے دوست کے گھر گیا اور ہان یہ بھی اسکی جدائی کی پیر سے بیچین تھی کہ اتنے مین سکھی نے آنکے اٹھایا پر اسے کچھ اپنی شُدھ نہ تھی پھر سکھی نے گلاب چھڑکا اور خوشبوئین سنگھائین کہ اس سے اسے ہوش آیا اور بولی کہ اے کام دیو مہادیو نے تجھے جلا کر بھشم کیا تسپر تو اپنی کھٹائی سے نہی جوکتا اور بن اپرادھ ابلاون کو انیک دکھ دیتا ہے یہ باتین کر رہی تھی کہ سانجھ ہوئی اور چاند نظر آیا تب چاند کی طرف دیکھ کر بولی کہ اے چندرمان ہم سنتے تھے کہ تم مین امرت ہے اور کرنون کی راہ سے امرت برساتے ہو میری تم بھی بہن برسانے لگے پر رکھی
سے کہا کہ یہان سر مجھے اٹھا کرنے چل کہ مین چاندنی سے جلی مرتی ہون تب یہ اسے اٹھا کر جو پارسی پرے
اور کا تجھ سے ایسی باتین کہتے لاج نہین آتی بدان اسنے کہا گیاہے سکھی مین سب جانتی ہون پر مین تھے
نے مجھے مار کے نلج کیا اور مین دھیرج بہتر کرتی ہون پر برہ کی آگ سرجون جون چلتی ہون تون تون گھرا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
fs9t52ovx9n4zooktydq21wg4wibgqm
32597
32595
2026-05-15T05:04:43Z
BalramBodhi
60
32597
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چوکیدارون کو دے اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے پھر جب سات دن گزر گئے تو وہ راکشس بھی آیا راجہ نے چندن اکشت پھول دھوپ دیپ نیوید پھل پان بستر لے اسکی پوجا کی اور اس لڑکے کو بلا کھانڈا ہاتھ مین لے بل دینے کو کھڑا ہوا اسمین وہ لڑکا پہلے ہنسا اور پیچھے رویا اتنے مین راجہ نے کھانڈا مارا کہ سر جدا ہو گیا سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہین کہ استری سنسار مین دکھ کی کھان ہے اور بپت کا گھر ساہس کی گرانے والی اور موح کی کرنے والی اور دھرم کی ہرنے والی ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم گن نے کہا ہے اور ایسا بھی کہا ہے کہ آپدا کے لئے دھن رکھے اور دھن دیکے استری کی رکشا کیجئے اور دھن استری دیکے اپنے جی کو بچائے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ مرنے سمے تو آدمی روتا ہے تو اسکی حقیقت بتا کہ وہ کیون ہنسا راجہ نے کہا یہ بچار کر وہ ہنسا کہ بالاپن مین ماتا رکشا کرتی ہے اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہے اور سمے اسمے مین رعیت کی راجہ سہائی کرتا ہے سنسار کی یہ ریت ہے اور میرا یہ حال ہے کہ ماتا پتا نے دھن کے لوبھ سے راجہ کو دیا اور یہ کھانڈا لے مارنیکو کھڑا ہے اور دیوتا کو بل کی اچھا سے دیا کِسی کو بھی نہ ائی یہ سُن بیتال اسی پیڑ پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین جھپٹ کر پہونچا اور اسے باندھ کاندھے پر رخ لیچلا
{{center|'''بیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بشال پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام بپولیشور اسکے نگر مین ایک بنیا تھا جس کا نام ارتھ دت اور اسکی بیٹی کا نام اننگ منجری تھا شادی اسکی کنول پور کے منّی نام بنیے سے کر دی تھی کتنے ایک دنون کے پیچھے وہ بنیا سمندر پار تجارت کو گیا اور یہان جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن اپنی چوپاری پر کھڑی ہوئی رستے کا تماشا دیکھتی تھی کہ اتنے مین ایک برہمن کا لڑکا کملا گر نام چلا آتا تھا ان دونون کی چار نظرین ہوئین اور دیکھتے ہی موہت ہو گئے پھر گھڑی ایک پیچھے صورت سنبھال برہمن کابیٹا برہسے بیاکل ہو اپنے دوست کے گھر گیا اور مان کر اس المالک پچھے صورت سنبھال برہمن کا لڑکا برہ سے بیاکل ہو اپنے دوست کے گھر گیا اور ہان یہ بھی اسکی جدائی کی پیر سے بیچین تھی کہ اتنے مین سکھی نے آنکے اٹھایا پر اسے کچھ اپنی شُدھ نہ تھی پھر سکھی نے گلاب چھڑکا اور خوشبوئین سنگھائین کہ اس سے اسے ہوش آیا اور بولی کہ اے کام دیو مہادیو نے تجھے جلا کر بھشم کیا تسپر تو اپنی کھٹائی سے نہی جوکتا اور بن اپرادھ ابلاون کو انیک دکھ دیتا ہے یہ باتین کر رہی تھی کہ سانجھ ہوئی اور چاند نظر آیا تب چاند کی طرف دیکھ کر بولی کہ اے چندرمان ہم سنتے تھے کہ تم مین امرت ہے اور کرنون کی راہ سے امرت برساتے ہو میری تم بھی بہن برسانے لگے پر رکھی
سے کہا کہ یہان سر مجھے اٹھا کرنے چل کہ مین چاندنی سے جلی مرتی ہون تب یہ اسے اٹھا کر جو پارسی پرے
اور کا تجھ سے ایسی باتین کہتے لاج نہین آتی بدان اسنے کہا گیاہے سکھی مین سب جانتی ہون پر مین تھے
نے مجھے مار کے نلج کیا اور مین دھیرج بہتر کرتی ہون پر برہ کی آگ سرجون جون چلتی ہون تون تون گھرا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
ce4rplufv13xhz3cmstsnz0w7ld8yqx
32598
32597
2026-05-15T09:35:21Z
Charan Gill
46
32598
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چوکیدارون کو دے اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے پھر جب سات دن گزر گئے تو وہ راکشس بھی آیا راجہ نے چندن اکشت پھول دھوپ دیپ نیوید پھل پان بستر لے اسکی پوجا کی اور اس لڑکے کو بلا کھانڈا ہاتھ مین لے بل دینے کو کھڑا ہوا اسمین وہ لڑکا پہلے ہنسا اور پیچھے رویا اتنے مین راجہ نے کھانڈا مارا کہ سر جدا ہو گیا سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہین کہ استری سنسار مین دکھ کی کھان ہے اور بپت کا گھر ساہس کی گرانے والی اور موح کی کرنے والی اور دھرم کی ہرنے والی ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم گن نے کہا ہے اور ایسا بھی کہا ہے کہ آپدا کے لئے دھن رکھے اور دھن دیکے استری کی رکشا کیجئے اور دھن استری دیکے اپنے جی کو بچائے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ مرنے سمے تو آدمی روتا ہے تو اسکی حقیقت بتا کہ وہ کیون ہنسا راجہ نے کہا یہ بچار کر وہ ہنسا کہ بالاپن مین ماتا رکشا کرتی ہے اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہے اور سمے اسمے مین رعیت کی راجہ سہائی کرتا ہے سنسار کی یہ ریت ہے اور میرا یہ حال ہے کہ ماتا پتا نے دھن کے لوبھ سے راجہ کو دیا اور یہ کھانڈا لے مارنیکو کھڑا ہے اور دیوتا کو بل کی اچھا سے دیا کِسی کو بھی نہ ائی یہ سُن بیتال اسی پیڑ پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین جھپٹ کر پہونچا اور اسے باندھ کاندھے پر رخ لیچلا
{{center|'''بیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بشال پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام بپولیشور اسکے نگر مین ایک بنیا تھا جس کا نام ارتھ دت اور اسکی بیٹی کا نام اننگ منجری تھا شادی اسکی کنول پور کے منّی نام بنیے سے کر دی تھی کتنے ایک دنون کے پیچھے وہ بنیا سمندر پار تجارت کو گیا اور یہان جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن اپنی چوپاری پر کھڑی ہوئی رستے کا تماشا دیکھتی تھی کہ اتنے مین ایک برہمن کا لڑکا کملا گر نام چلا آتا تھا ان دونون کی چار نظرین ہوئین اور دیکھتے ہی موہت ہو گئے پھر گھڑی ایک پیچھے صورت سنبھال برہمن کابیٹا برہسے بیاکل ہو اپنے دوست کے گھر گیا اور مان کر اس المالک پچھے صورت سنبھال برہمن کا لڑکا برہ سے بیاکل ہو اپنے دوست کے گھر گیا اور ہان یہ بھی اسکی جدائی کی پیر سے بیچین تھی کہ اتنے مین سکھی نے آنکے اٹھایا پر اسے کچھ اپنی شُدھ نہ تھی پھر سکھی نے گلاب چھڑکا اور خوشبوئین سنگھائین کہ اس سے اسے ہوش آیا اور بولی کہ اے کام دیو مہادیو نے تجھے جلا کر بھشم کیا تسپر تو اپنی کھٹائی سے نہی جوکتا اور بن اپرادھ ابلاون کو انیک دکھ دیتا ہے یہ باتین کر رہی تھی کہ سانجھ ہوئی اور چاند نظر آیا تب چاند کی طرف دیکھ کر بولی کہ اے چندرمان ہم سنتے تھے کہ تم مین امرت ہے اور کرنون کی راہ سے امرت برساتے ہو میری تم بھی بہن برسانے لگے پر رکھی
سے کہا کہ یہان سے مجھے اٹھا کر لے چل کہ مین چاندنی سے جلی مرتی ہون تب یہ اسے اٹھا کر جوپارسی پر لے
اور کا تجھ سے ایسی باتین کہتے لاج نہین آتی بدان اسنے کہا گیا ہے سکھی مین سب جانتی ہون پر مین تھے
نے مجھے مار کے نلج کیا اور مین دھیرج بہتر کرتی ہون پر برہ کی آگ سے جون جون چلتی ہون تون تون گھرا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
8p8m94g0xv562ga10ixttkxir7v6i9i
32599
32598
2026-05-15T09:52:53Z
Charan Gill
46
32599
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چوکیدارون کو دے اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے پھر جب سات دن گزر گئے تو وہ راکشس بھی آیا راجہ نے چندن اکشت پھول دھوپ دیپ نیوید پھل پان بستر لے اسکی پوجا کی اور اس لڑکے کو بلا کھانڈا ہاتھ مین لے بل دینے کو کھڑا ہوا اسمین وہ لڑکا پہلے ہنسا اور پیچھے رویا اتنے مین راجہ نے کھانڈا مارا کہ سر جدا ہو گیا سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہین کہ استری سنسار مین دکھ کی کھان ہے اور بپت کا گھر ساہس کی گرانے والی اور موح کی کرنے والی اور دھرم کی ہرنے والی ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم گن نے کہا ہے اور ایسا بھی کہا ہے کہ آپدا کے لئے دھن رکھے اور دھن دیکے استری کی رکشا کیجئے اور دھن استری دیکے اپنے جی کو بچائے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ مرنے سمے تو آدمی روتا ہے تو اسکی حقیقت بتا کہ وہ کیون ہنسا راجہ نے کہا یہ بچار کر وہ ہنسا کہ بالاپن مین ماتا رکشا کرتی ہے اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہے اور سمے اسمے مین رعیت کی راجہ سہائی کرتا ہے سنسار کی یہ ریت ہے اور میرا یہ حال ہے کہ ماتا پتا نے دھن کے لوبھ سے راجہ کو دیا اور یہ کھانڈا لے مارنیکو کھڑا ہے اور دیوتا کو بل کی اچھا سے دیا کِسی کو بھی نہ ائی یہ سُن بیتال اسی پیڑ پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین جھپٹ کر پہونچا اور اسے باندھ کاندھے پر رخ لیچلا
{{center|'''بیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بشال پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام بپولیشور اسکے نگر مین ایک بنیا تھا جس کا نام ارتھ دت اور اسکی بیٹی کا نام اننگ منجری تھا شادی اسکی کنول پور کے منّی نام بنیے سے کر دی تھی کتنے ایک دنون کے پیچھے وہ بنیا سمندر پار تجارت کو گیا اور یہان جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن اپنی چوپاری پر کھڑی ہوئی رستے کا تماشا دیکھتی تھی کہ اتنے مین ایک برہمن کا لڑکا کملا گر نام چلا آتا تھا ان دونون کی چار نظرین ہوئین اور دیکھتے ہی موہت ہو گئے پھر گھڑی ایک پیچھے صورت سنبھال برہمن کابیٹا برہسے بیاکل ہو اپنے دوست کے گھر گیا اور مان کر اس المالک پچھے صورت سنبھال برہمن کا لڑکا برہ سے بیاکل ہو اپنے دوست کے گھر گیا اور ہان یہ بھی اسکی جدائی کی پیر سے بیچین تھی کہ اتنے مین سکھی نے آنکے اٹھایا پر اسے کچھ اپنی شُدھ نہ تھی پھر سکھی نے گلاب چھڑکا اور خوشبوئین سنگھائین کہ اس سے اسے ہوش آیا اور بولی کہ اے کام دیو مہادیو نے تجھے جلا کر بھشم کیا تسپر تو اپنی کھٹائی سے نہی جوکتا اور بن اپرادھ ابلاون کو انیک دکھ دیتا ہے یہ باتین کر رہی تھی کہ سانجھ ہوئی اور چاند نظر آیا تب چاند کی طرف دیکھ کر بولی کہ اے چندرمان ہم سنتے تھے کہ تم مین امرت ہے اور کرنون کی راہ سے امرت برساتے ہو میری تم بھی بہن برسانے لگے پر رکھی
سے کہا کہ یہان سے مجھے اٹھا کر لے چل کہ مین چاندنی سے جلی مرتی ہون تب یہ اسے اٹھا کر جوپارسی پر لے
گئی اور کہا تجھ سے ایسی باتین کہتے لاج نہین آتی بدان اسنے کہا گیا ہے سکھی مین سب جانتی ہون پر مین تھے
نے مجھے مار کے نلج کیا اور مین دھیرج بہتر کرتی ہون پر برہ کی آگ سے جون جون چلتی ہون تون تون گھرا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
e809k63ccv81zkrv0log14o1jnirnli
32600
32599
2026-05-15T10:17:24Z
BalramBodhi
60
32600
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>چوکیدارون کو دے اس پتلے کو اپنے گھر لے آیا اور ادھر اس لڑکے کو لوگ منتری کے پاس لے آئے پھر جب سات دن گزر گئے تو وہ راکشس بھی آیا راجہ نے چندن اکشت پھول دھوپ دیپ نیوید پھل پان بستر لے اسکی پوجا کی اور اس لڑکے کو بلا کھانڈا ہاتھ مین لے بل دینے کو کھڑا ہوا اسمین وہ لڑکا پہلے ہنسا اور پیچھے رویا اتنے مین راجہ نے کھانڈا مارا کہ سر جدا ہو گیا سچ ہے جو گیانی کہہ گئے ہین کہ استری سنسار مین دکھ کی کھان ہے اور بپت کا گھر ساہس کی گرانے والی اور موح کی کرنے والی اور دھرم کی ہرنے والی ایسی جو بش کی جڑ ہو اسے اتم گن نے کہا ہے اور ایسا بھی کہا ہے کہ آپدا کے لئے دھن رکھے اور دھن دیکے استری کی رکشا کیجئے اور دھن استری دیکے اپنے جی کو بچائے اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ہے راجہ مرنے سمے تو آدمی روتا ہے تو اسکی حقیقت بتا کہ وہ کیون ہنسا راجہ نے کہا یہ بچار کر وہ ہنسا کہ بالاپن مین ماتا رکشا کرتی ہے اور بڑے ہوئے سے پتا پالتا ہے اور سمے اسمے مین رعیت کی راجہ سہائی کرتا ہے سنسار کی یہ ریت ہے اور میرا یہ حال ہے کہ ماتا پتا نے دھن کے لوبھ سے راجہ کو دیا اور یہ کھانڈا لے مارنیکو کھڑا ہے اور دیوتا کو بل کی اچھا سے دیا کِسی کو بھی نہ ائی یہ سُن بیتال اسی پیڑ پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہین جھپٹ کر پہونچا اور اسے باندھ کاندھے پر رخ لیچلا
{{center|'''بیسوین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ بشال پور نام ایک نگر ہے وہان کے راجہ کا نام بپولیشور اسکے نگر مین ایک بنیا تھا جس کا نام ارتھ دت اور اسکی بیٹی کا نام اننگ منجری تھا شادی اسکی کنول پور کے منّی نام بنیے سے کر دی تھی کتنے ایک دنون کے پیچھے وہ بنیا سمندر پار تجارت کو گیا اور یہان جب یہ جوان ہوئی تب ایک دن اپنی چوپاری پر کھڑی ہوئی رستے کا تماشا دیکھتی تھی کہ اتنے مین ایک برہمن کا لڑکا کملا گر نام چلا آتا تھا ان دونون کی چار نظرین ہوئین اور دیکھتے ہی موہت ہو گئے پھر گھڑی ایک پیچھے صورت سنبھال برہمن کابیٹا برہ سے بیاکل ہو اپنے دوست کے گھر گیا اور یہان یہ بھی اسکی جدائی کی پیر سے بیچین تھی کہ اتنے مین سکھی نے آنکے اٹھایا پر اسے کچھ اپنی سُدھ نہ تھی پھر سکھی نے گلاب چھڑکا اور خوشبوئین سنگھائین کہ اس سے اسے ہوش آیا اور بولی کہ اے کام دیو مہادیو نے تجھے جلا کر بھسم کیا تسپر تو اپنی کھٹائی سے نہی چوکتا اور بن اپرادھ ابلاون کو انیک دکھ دیتا ہے یہ باتین کر رہی تھی کہ سانجھ ہوئی اور چاند نظر آیا تب چاند کی طرف دیکھ کے بولی کہ اے چندرمان ہم سنتے تھے کہ تم مین امرت ہے اور کرنون کی راہ سے امرت برساتے ہو سو آج میرے پر تم بھی بس برسانے لگے پھر سِکھی سے کہا کہ یہان سے مجھے اٹھا کر لے چل کہ مین چاندنی سے جلی مرتی ہون تب یہ اسے اٹھا کر چوپاری پر لے گئی اور کہا تجھ سے ایسی باتین کہتے لاج نہین آتی ندان اسنے کہا کہ اے سِکھی مین سب جانتی ہون پر منمتھ نے مجھے مار کے نلج کیا اور مین دھیرج بہترا کرتی ہون پر برہ کی آگ سے جون جون جلتی ہون تون تون گھر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
iq8fhuq24fznklom250tpzn0xjpu3mi
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/58
250
12706
32601
30812
2026-05-15T11:21:36Z
Charan Gill
46
32601
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مجھے بش سا نظر آنا ہے سِکھی بولی کہ تو خاطر جمع رکھ مین تیرا دُکھ دور کرونگی اتنا کہہ سکھی اپنے گھر گئی اوراِن نے اپنے جی مین بیچارہ کہ چھوڑ دو اور پھر کے
اور یہ ارادہ کرکے مین بھا نہ اس زندی گھن آنے مین کبھی آپہونچی اور اسے قتل ، اس سول کو بھی
کردن ڈال چاہو گلے سر
رسی نکال
کر کہا پینے سے سب کچھ ہو مرے سے نہین وہ بولی ایسے دکھانے سے مرنا بھی ہو سبھی نے کہا
کہ گھڑی بھرسکتا کہ مین اسے جا کر لے آتی ہون اتنا کہنہ ہان گئی جہان کہ اگر تھا پھر سے چھپ کے دیکھا
تو وہ بھی جدائی سے بیا کل ہورہا ہو اور اسکامستر گلا کے پانی سے چندن تھین اسکے بدن مین لگا تا ہے
اور کیلے کے کومل کو مل پاتون سربون کر رہا ہو پر بھی برہ کی آگ سے وہ گھرا کر جلا ہی جلا پکارتا ہے
اور میر سے کہتا ہو
کہ زمرلا د
سے مین اپنے پر ان تیاگ کر اس کشت سے چھوٹون اسکی یہ دستھا دیکھ
اپنے اپنے بھی مین کہا کیسا ہی سیاسی پنڈت چیری کی دھر ہو کام دیو اسے ایک چھن مین بیکل
کر دیتا ہے اتنا اپنے من مین بچار سیکھی نے اس سے کہا اے ملا کر تیرے تین انگ منجری نے کہا ہو
کہ تو آگے مجھے جی دان دے ان نے کہا یہ توان نے مجھے جی دان دیا اتنا کہا اٹھ کھڑا ہوا اور بھی ہے
اپنے ساتھ لیے ہوئے اسکے پاس
گئی یہ وہان جا کے دیکھے تو وہ موٹی ہوئی پڑی ہو پھر ان کی بھی
آہ کا نعرہ مارا کہ اسکے ساتھ اسکاد مرسل گیا اور جب صبح ہوئی اسکے گھر کے لوگ ان دو نو نگو
مرگھٹ مین لے گئے اور جتنا چنکر اسمین آگ لگائی تھی کہ اتنے مین اسکا خاوند بھی پردیس سے
کھٹ کی راہ آنے کاتب لوگون کے رونے کی آواز سنگریہ وہان گیا تو دیکھتا کیا ہے کہ اسکی استری
کے ساتھ چلتی ہو یہ بھی برہ سے بیا کل مواسی آگ مین جلکم مر گیا یہ جبرگر کے لوگ ن کے اسمین
کہنے لگے ایسا اچرج نہ آنکھون سے دیکھا نہ کانون سے سنا اتنا تھا کہ پتیال کولا کہ اسے راجہ این
مینون مین کو نسا ادمیک کلامی ہو راجہ نے کہا اسکا خاوند ادھک کا مکی ہوا بیتال نے کہا کس کا رن
راجہ نے کہا جن نے اپنی ناری کو اور کے ارتھ موٹی دیکھ کر کرد و تیاگ کر اسکے پر یم مین مگن ہوجی دیایہ
ادھک کامی ہو یہ بات محن بال پھر ای و در حال کاراجہ بھی دین جا کر باندھ کا دھیر پر کھر نے چلا۔
اکیسوین کہانی 1
بیتال بولا اے را جہ سنیل نام کا ایک نگر ہر وہ ان کا برد همان نام راجہ تھا اسکے نگرمی بین سوامی نا ہے
سر اشتی باز تیسرا تھیلا چوتھا ناستک ایک دن وہ بر می بینی
بر همین اسکے چار بیٹے تھے ایک جواری اسکے گھر مین ہی نہین رہتی یہ سن ده جواری اپنے جی
کو سمجھانے لگا کہ جو کوئی جوا کھیلتا
لگا
مین بہت دق ہوا اور کہا کہ راج نیت مین ایسا لکھا ہو کہ تواری کے ناک کان کاٹے مین سنی کا دھوکہ اور<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
a9l4aocrlsrqcr6cupfy9sr6piu8kz2
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/46
250
13127
32596
32471
2026-05-15T03:49:37Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
32596
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بین باجا لئے ہوئے دیبی کے آگے گا رہی تھی اُس کنیا اور جیموت باہن کی چار نظرین ہویئن اور دونون کی لگن لگ گئی پر راج کنیا من مار لاح کے مارے اپنے گھر چلی آئی اور ادھر یہ بھی اس رشی کے بیٹے کی شرم کے مارے اپنے استھان پر آیا وہ رات دونون گلعزارون کو نہایت بیکلی سے کٹی صبح ہوتے ہی ادھور سے راج کنیا دیبی کے مندر کو گئی اور ادھر سے راجکمار نے بھی جاتے ہی دیکھا کہ راج کنیا بھی ہے تب اسنے اسکی سِکھی سے پوچھا کہ یہ کس کی کنیا ہے سکھی نے کہا یہ ملکیت راجہ کی پتری ہے ملیاوتی اسکا نام اور ابھی کنواری ہےِ یہ کہہ سکھی نے اس راج پیرس سے پوچھا کہو سُندر پرش تم کہان سے آئے ہو اور تمھارا کیا نام ہے یہ بولا بدیادھرون کا راجہ جمیت نام لتِکا مین بیٹا ہون اور جیموت باہن میرا نام ہے میرا راج بھنگ ہونے سے ہم باپ بیٹے یہان آن کے رہے ہین پھر سِکھی نے یہ سنکر سب باتین راج کنیا سے کہین یہ سُن اپنے جی مین بہت دکھ پائے گھر کو آئی اور رات کو چنتا کر کے سو رہی یہ ڈسا دیکھ سِخی نے بہ یہ احوال اسکی مان کے آگے ظاہر کیا رانی نے سنکر راجہ کے آگے بیان کیا اور کہا مہاراج پتری آپ کی بر جوگ ہوئی ہے بر کیون نہین ڈھونڈھتے یہ شنکے راجہ نے اپنے جی مین چنتا کر اسی سمے مترابسو نام اپنے پتر کو بلاکر کہا بیٹا اپنی بہن کا بر ڈھونڈھ لا تب وہ بولا کہ مہاراج گندھربون کا راجہ جمیوت گیت نام تسکا پتر جیموت باہن کو دونگا اتنا کہہ دونون سُنا ہے کہ یہان آئے ہین یہ سُن ملیکیت راجہ نے کہا یہ پتری جیموت باہن کو دونگا اتنا کہہ بیٹے کو آگیا دی کہ پرت جمیوت باہن راج کمار کو راجہ کے پاس سے جاکر بلا لا مترا بسو باپ کا حکم پال اسکے مکان پر گیا اور وہان جاکر اسکے پتا سے کہا کہ اپنے پتر کو ہمارے ساتھ کر دو کہ ہمارے پتا نے کنیاودان دینے کو بلایا یہ سن کے راجہ جیموت گیت نے اپنے بیٹے کو ساتھ کر دیا اور جمیوت باہن یہان آیا پھر ملیکیت راجہ نے اسکا گندھرب بواہ کر دیا جبکہ اسکی شادی ہو چکی تب دُلھن کو اور پتر کواپنے استھان پر لیکر آیا پھران تینون نے راجہ کو ڈنڈوت کی اور راجہ نے بھی انہین اسیس دی وہ دن تو یو تین گذرا لیکن دوسرے دن صبح کو اٹھتے ہی دونون راجکمار ملیا گر بریت پر پھرنے کو گئے وہان جاکر حمیوت باہن
کیا دیکھتا ہو کہ ایک سفید ڈھیر اونچا سا ہے تب اسنے اپنے سالے سے پوچھا یہ دھولا ڈھیر کیسا نظر آتا ہے وہ بولا کہ پاتال لوک سے کرورون ناگ کمار یھاں اتے ہین انھین گرژڈ آن کر کھاتا ہے یہ انہین کے ہاڑون کا ڈھیر
ہے یہ سنکے جمیوت باہن نے سالے سے کہا متر تم گھر حاکر بھوجن کرو اور مین اس سمے اپنی نِت پوجا کرتا ہون کیونکہ میری پوجا کرنے کا اب وقت ہوا ہے یہ سنکے وہ تو گیا اور حمیوت باہن آگے کو جو بڑھا تو رونے کی آواز آنے لگی اس آواز کی دھن پر چلا وہاں جو پہونچا تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک بڑھیا دکھ سے بیاکل روتی ہے اس کے پاس جا کر پوچھا اے ماتا تو کِس کارن روتی ہے وہ بولی کہ سنکھ پوڑ نام<noinclude></noinclude>
awwdrtljjfvalxn39keuxob9j9qjb23
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/256
250
13154
32587
32569
2026-05-14T12:47:11Z
Kaur.gurmel
74
32587
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>آدمی ہے تو وہ بھی ہے ۔ جس وقت سارا
دربار میرا دشمن تھا، اُس وقت اسی آدمی نے
میری جان بچائی تھی ۔ اسے ضرور راون نے
راج سے نکال دیا ہے ۔ وہ اب آپ کی سرن
آیا ہے ۔ اس سے بے مروتی کرنا مناسب نہیں۔
آخر رام چندر کا شبہہ دُور ہو گیا ۔ انہوں نے
اُسی وقت بھبھیشن کو بلایا اور بڑے تپاک سے
ہلے.
بھیھی بولا ۔ مہاراج! آپ سے ملنے کی بہت
دنوں سے تمنا تھی، وہ آج پوری ہوئی ۔ میں
اپنے بھائی راون کے ہاتھوں بہت ذلیل
ہو کر آپ کی سرن آیا ہوں ۔ اب آپ ہی
میرا بیڑا پار لگائیے ۔ راون نے مجھے اتنی
بے دردی سے نکالا ہے جیسے کوئی کُتّے کو
بھی نہ نکا لیگا ۔ اب میں اُس کا مُنہ نہیں دیکھنا
چاہتا ہے.
را نچندر نے کہا ۔ مگر بے قصور تو کوئی اپنے نوکر<noinclude></noinclude>
hud8blkgh9e9degso5byxp5wnogqdvq
32588
32587
2026-05-14T13:13:07Z
Kaur.gurmel
74
32588
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>آدمی ہے تو وہ بھبھیشن ہے ۔ جس وقت سارا
دربار میرا دشمن تھا، اُس وقت اسی آدمی نے
میری جان بچائی تھی ۔ اسے ضرور راون نے
راج سے نکال دیا ہے ۔ وہ اب آپ کی سرن
آیا ہے ۔ اس سے بے مروتی کرنا مناسب نہیں۔
آخر رام چندر کا شبہہ دُور ہو گیا ۔ انہوں نے
اُسی وقت بھبھیشن کو بلایا اور بڑے تپاک سے
ہلے.
بھیھی بولا ۔ مہاراج! آپ سے ملنے کی بہت
دنوں سے تمنا تھی، وہ آج پوری ہوئی ۔ میں
اپنے بھائی راون کے ہاتھوں بہت ذلیل
ہو کر آپ کی سرن آیا ہوں ۔ اب آپ ہی
میرا بیڑا پار لگائیے ۔ راون نے مجھے اتنی
بے دردی سے نکالا ہے جیسے کوئی کُتّے کو
بھی نہ نکا لیگا ۔ اب میں اُس کا مُنہ نہیں دیکھنا
چاہتا ہے.
را نچندر نے کہا ۔ مگر بے قصور تو کوئی اپنے نوکر<noinclude></noinclude>
8j4g594yow71qy7g87uyw52e5h438es
32589
32588
2026-05-14T13:25:22Z
Kaur.gurmel
74
32589
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>آدمی ہے تو وہ بھبھیشن ہے ۔ جس وقت سارا
دربار میرا دشمن تھا، اُس وقت اسی آدمی نے
میری جان بچائی تھی ۔ اسے ضرور راون نے
راج سے نکال دیا ہے ۔ وہ اب آپ کی سرن
آیا ہے ۔ اس سے بے مروتی کرنا مناسب نہیں۔
آخر رام چندر کا شبہہ دُور ہو گیا ۔ انہوں نے
اُسی وقت بھبھیشن کو بلایا اور بڑے تپاک سے
ملے.
بھبھیشن بولا ۔ مہاراج! آپ سے ملنے کی بہت
دنوں سے تمنا تھی، وہ آج پوری ہوئی ۔ میں
اپنے بھائی راون کے ہاتھوں بہت ذلیل
ہو کر آپ کی سرن آیا ہوں ۔ اب آپ ہی
میرا بیڑا پار لگائیے ۔ راون نے مجھے اتنی
بے دردی سے نکالا ہے جیسے کوئی کُتّے کو
بھی نہ نکا لیگا ۔ اب میں اُس کا مُنہ نہیں دیکھنا
چاہتا.
رام چندر نے کہا ۔ مگر بے قصور تو کوئی اپنے نوکر<noinclude></noinclude>
qbmlkvkhk8fq1vv322mcfrdhfimz9gu
32590
32589
2026-05-14T14:08:43Z
Kaur.gurmel
74
32590
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>آدمی ہے تو وہ بھبھیشن ہے ۔ جس وقت سارا
دربار میرا دشمن تھا، اُس وقت اسی آدمی نے
میری جان بچائی تھی ۔ اسے ضرور راون نے
راج سے نکال دیا ہے ۔ وُہ اب آپ کی سرن
آیا ہے ۔ اس سے بے مُروّتی کرنا مناسب نہیں۔
آخر رام چندر کا شُبہہ دُور ہو گیا ۔ انہوں نے
اُسی وقت بھبھیشن کو بلایا اور بڑے تپاک سے
مِلے.
بھیبھیشن بولا ۔ مہاراج! آپ سے مِلنے کی بہت
دنوں سے تمنا تھی، وہ آج پوری ہوئی ۔ میں
اپنے بھائی راون کے ہاتھوں بہت ذلیل
ہو کر آپ کی سرن آیا ہوں ۔ اب آپ ہی
میرا بیڑا پار لگائیے ۔ راون نے مجھے اتنی
بے دردی سے نکالا ہے جیسے کوئی کُتّے کو
بھی نہ نکا لیگا ۔ اب میں اُس کا مُنہ نہیں دیکھنا
چاہتا.
رام چندر نے کہا ۔ مگر بے قصوُر تو کوئی اپنے نَوکر<noinclude></noinclude>
7xmfxil9iiy81hyujm153t5mx4yeqtm