ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.6
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/1
250
12026
34911
34886
2026-06-14T13:55:32Z
Asimali2003
224
34911
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
رسالہ اسباب بغاوت ہند
از سر سید احمد خان
سرورق</noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:1em; margin:1em;">
{{center| {{xxx-larger| '''اسباب بغاوت ہند سنہ 1857 ء '''}}
مولفہ
'''عالی جناب آنریبل ڈاکٹر سر سید احمد خان صاحب بہادر'''
کے-سی-ایس-آئی-ایل-ایل-ڈی-ایف-ار-ایس
{{x-larger| '''بانی مدرسۃ العلوم للمسلمین علیگڑھ'''}}
<small>مرحوم و مغفور علیہ الرحمۃ
سابق صدرالصدور مرادآباد
حسب فرمائش</small>
<br>
'''منشی فضل الدین ککے زئی تاجر کتب قومی مالک اخبار اشاعت'''
<small>بازار کشمیری</small>
لاہور
مطبوعہ مصطفائے پریس لاہور
<small>قیمت فی جلد 6/</small>
}}<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
1lzkz17vrqfel7rjypvbms24hditbdi
34914
34911
2026-06-14T18:13:46Z
Asimali2003
224
34914
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
رسالہ اسباب بغاوت ہند
از سر سید احمد خان
سرورق</noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:1em; margin:1em; margin-left:8em;">
{{center| {{xxx-larger| '''اسباب بغاوت ہند سنہ 1857 ء '''}}
مولفہ
'''عالی جناب آنریبل ڈاکٹر سر سید احمد خان صاحب بہادر'''
کے-سی-ایس-آئی-ایل-ایل-ڈی-ایف-ار-ایس
{{x-larger| '''بانی مدرسۃ العلوم للمسلمین علیگڑھ'''}}
<small>مرحوم و مغفور علیہ الرحمۃ
سابق صدرالصدور مرادآباد
حسب فرمائش</small>
<br>
'''منشی فضل الدین ککے زئی تاجر کتب قومی مالک اخبار اشاعت'''
<small>بازار کشمیری</small>
لاہور
مطبوعہ مصطفائے پریس لاہور
<small>قیمت فی جلد 6/</small>
}}<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
i6jwqhscoastxapsvrw1th32e45337t
34917
34914
2026-06-14T18:23:53Z
Asimali2003
224
34917
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
رسالہ اسباب بغاوت ہند
از سر سید احمد خان
سرورق</noinclude> <div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center| {{xxx-larger| '''اسباب بغاوت ہند سنہ 1857 ء '''}}
مولفہ
'''عالی جناب آنریبل ڈاکٹر سر سید احمد خان صاحب بہادر'''
کے-سی-ایس-آئی-ایل-ایل-ڈی-ایف-ار-ایس
{{x-larger| '''بانی مدرسۃ العلوم للمسلمین علیگڑھ'''}}
<small>مرحوم و مغفور علیہ الرحمۃ
سابق صدرالصدور مرادآباد
حسب فرمائش</small>
<br>
'''منشی فضل الدین ککے زئی تاجر کتب قومی مالک اخبار اشاعت'''
<small>بازار کشمیری</small>
لاہور
مطبوعہ مصطفائے پریس لاہور
<small>قیمت فی جلد 6/</small>
}}
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
8lu1p6a6kbxvl7gtdr2oz3uzzwwcgrh
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/2
250
12027
34907
34883
2026-06-14T13:44:59Z
Asimali2003
224
/* تصدیق شدہ */
34907
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />تعارف کتاب
پس سرورق</noinclude>
{{center|{{xx-larger| ''' فہرست تصنیفات سر سید احمد خاں صاحب بہادر مرحوم مغفور علیہ رحمۃ }}}}
<br>
{{center|{{larger|'''مجموعہ لیکچرز و اسپیچز سرسید'''}}}}
مصنف مرحوم علیہ رحمۃ کا مبارک نام ہی اس مجموعہ کی خوبیوں اور اوصاف کے واسطے کافی شہادت ہے اور اس کی توہین اور فقر میں کچھ سیکھنا سراسر بے ادبی اور اس کی کسر شان ہے ۔ سر سید مرحوم علیہ الرحمۃ کے مبارک نام اور اس کے مشن ( مدعا ) سے شاید ہی کوئی تعلیم بافتہ مسلمان ایسا ہو جو واقف نہ ہو۔بے بہا کارنامے اس مرحوم مغفور نے اسلامی ملک کی ترقی تعلیم اور ہر قسم کی بہبودی کی خاطر اپنی گراں بہا پر درد زندگی میں کئے ۔ واقعی اس قابل ہیں کہ فی زمانہ یا آینده ہر ایک قسم کے قومی کاموں کی تمہید اس کے مبارک نام سے تبر کا و تمینا شروع ہو۔ چنانچہ عموما مرحوم مغفور کا ذکر خیر کسی نہ کسی طرح سے اس قسم کے قومی جلسوں میں آنا شروع ہو گیاہے ۔
اس کتاب مکمل لکچرز و اسپیچز سر سید میں مرحوم کی تمام عرق ریزی شروع سے لے کر اختتام تک بھری پڑی ہے جیساکہ انہوں نے مختلف طریقے سے مسلمانوں کی حالت گمنام کو روباصلاح کرنے کی کوشش کی۔ ویساہی یہ لیکچر بھی بے نظیر دل اور دماغ کے طرح طرح کے نتیجوں سے مملو ہیں ۔ جو شخص اس مرحوم ہیرو کی اولوالعزمی استقلال صبر و تحمل بردباری انکساری اور عالی حوصلگی نیز گاہے گاہے مایوسیوں کا جو وقتا فوقتا منہ دکھاتی رہی ہیں اندازہ کرنا چاہیے ۔ قوم اور قومی ہمدردی اور ملک کی بہتری ۔ اسلام کی حمایت ۔ سچی دلسوزی ۔ صاف بیانی ۔ اعلی درجہ کی زبان اردو کی تقریر و تحریر ۔ تہذیب اور اخلاق کا بے مثل نمونہ بننے کے لیے اپنی آئندہ زندگی میں اس سے اچھا سبق سیکھنا چاہیے ۔ اس کے واسطے اس مجموعہ لکچرز و اسپیچز سے بڑھ کر کوئی ناصح مشفق اور رہبر کامل ہو نہيں سکتا۔ لقمان کی حکمت ،ارسطو کا فلسفہ اور شیکسپیر کی فصاحت اس کے آگے معمول قرار دی جا سکتی ہيں ۔
یہ بے بہا ذخیرہ زمانہ حال کی دینی اور دنیاوی بہتری کے لیے ہی عزیز تر نہ ہوگا ۔ بلکہ جوں جوں ضروریات آنے والی نسلوں کو پیش آئینگی خود بخود یہ مجموعہ عزیز تر ہوگا ۔ ملکی و قومی لائبریریوں کی زیب و زینت ہوگا ،۔ عام پبلک جلسوں میں اس کے نہایت شوق سے تذکرے ہوا کریں گے ۔ بڑے بڑے لکچرار اس مجموعہ سے مدد لیں گے اردو لٹریچر کے سیکھنے والے اس سے سند لیا کریں گے ۔ غرضیکہ یہ بے نظیر مجموعہ بے نطیر ہے ، بنظیر ہے ۔ اس کے شروع میں ممرحوم سر سید کی عکسی رنگین تصویر ہے ۔ اور سنہ 1857ء سے لے کر سنہ 1898ء تک کے کل لکچرز اس میں نہایت محنت سے جمع کر دیے ہيں ۔ اور وہ لکچرز بھی اس میں ہیں جن کا سر سید مرحوم کے دوستوں نے آج تک نام نہ سنا ہوگا۔ 600 صفحے ، نہایت اعلی درجہ کا کاغذ ، عمدہ چھپائی ، خوشخط لکھائی نیز اس سے پہلے جس قدر مجموعے لکچرز سرسید کے لوگوں نے چھاپے ہیں وہ بالکل نامکمل ہیں
{{right|قیمت مجلد <br>
ملے
8/
}}
{{left|قیمت بلاجلد<br>
ملے}}<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
2bsm307s6ejmljl3qz7cowhrtjugkae
34908
34907
2026-06-14T13:45:45Z
Asimali2003
224
34908
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />تعارف کتاب
پس سرورق</noinclude>{{center|{{xx-larger| ''' فہرست تصنیفات سر سید احمد خاں صاحب بہادر مرحوم مغفور علیہ رحمۃ }}}}
<br>
{{center|{{larger|'''مجموعہ لیکچرز و اسپیچز سرسید'''}}}}
مصنف مرحوم علیہ رحمۃ کا مبارک نام ہی اس مجموعہ کی خوبیوں اور اوصاف کے واسطے کافی شہادت ہے اور اس کی توہین اور فقر میں کچھ سیکھنا سراسر بے ادبی اور اس کی کسر شان ہے ۔ سر سید مرحوم علیہ الرحمۃ کے مبارک نام اور اس کے مشن ( مدعا ) سے شاید ہی کوئی تعلیم بافتہ مسلمان ایسا ہو جو واقف نہ ہو۔بے بہا کارنامے اس مرحوم مغفور نے اسلامی ملک کی ترقی تعلیم اور ہر قسم کی بہبودی کی خاطر اپنی گراں بہا پر درد زندگی میں کئے ۔ واقعی اس قابل ہیں کہ فی زمانہ یا آینده ہر ایک قسم کے قومی کاموں کی تمہید اس کے مبارک نام سے تبر کا و تمینا شروع ہو۔ چنانچہ عموما مرحوم مغفور کا ذکر خیر کسی نہ کسی طرح سے اس قسم کے قومی جلسوں میں آنا شروع ہو گیاہے ۔
اس کتاب مکمل لکچرز و اسپیچز سر سید میں مرحوم کی تمام عرق ریزی شروع سے لے کر اختتام تک بھری پڑی ہے جیساکہ انہوں نے مختلف طریقے سے مسلمانوں کی حالت گمنام کو روباصلاح کرنے کی کوشش کی۔ ویساہی یہ لیکچر بھی بے نظیر دل اور دماغ کے طرح طرح کے نتیجوں سے مملو ہیں ۔ جو شخص اس مرحوم ہیرو کی اولوالعزمی استقلال صبر و تحمل بردباری انکساری اور عالی حوصلگی نیز گاہے گاہے مایوسیوں کا جو وقتا فوقتا منہ دکھاتی رہی ہیں اندازہ کرنا چاہیے ۔ قوم اور قومی ہمدردی اور ملک کی بہتری ۔ اسلام کی حمایت ۔ سچی دلسوزی ۔ صاف بیانی ۔ اعلی درجہ کی زبان اردو کی تقریر و تحریر ۔ تہذیب اور اخلاق کا بے مثل نمونہ بننے کے لیے اپنی آئندہ زندگی میں اس سے اچھا سبق سیکھنا چاہیے ۔ اس کے واسطے اس مجموعہ لکچرز و اسپیچز سے بڑھ کر کوئی ناصح مشفق اور رہبر کامل ہو نہيں سکتا۔ لقمان کی حکمت ،ارسطو کا فلسفہ اور شیکسپیر کی فصاحت اس کے آگے معمول قرار دی جا سکتی ہيں ۔
یہ بے بہا ذخیرہ زمانہ حال کی دینی اور دنیاوی بہتری کے لیے ہی عزیز تر نہ ہوگا ۔ بلکہ جوں جوں ضروریات آنے والی نسلوں کو پیش آئینگی خود بخود یہ مجموعہ عزیز تر ہوگا ۔ ملکی و قومی لائبریریوں کی زیب و زینت ہوگا ،۔ عام پبلک جلسوں میں اس کے نہایت شوق سے تذکرے ہوا کریں گے ۔ بڑے بڑے لکچرار اس مجموعہ سے مدد لیں گے اردو لٹریچر کے سیکھنے والے اس سے سند لیا کریں گے ۔ غرضیکہ یہ بے نظیر مجموعہ بے نطیر ہے ، بنظیر ہے ۔ اس کے شروع میں ممرحوم سر سید کی عکسی رنگین تصویر ہے ۔ اور سنہ 1857ء سے لے کر سنہ 1898ء تک کے کل لکچرز اس میں نہایت محنت سے جمع کر دیے ہيں ۔ اور وہ لکچرز بھی اس میں ہیں جن کا سر سید مرحوم کے دوستوں نے آج تک نام نہ سنا ہوگا۔ 600 صفحے ، نہایت اعلی درجہ کا کاغذ ، عمدہ چھپائی ، خوشخط لکھائی نیز اس سے پہلے جس قدر مجموعے لکچرز سرسید کے لوگوں نے چھاپے ہیں وہ بالکل نامکمل ہیں
{{right|قیمت مجلد <br>
ملے
8/
}}
{{left|قیمت بلاجلد<br>
ملے}}<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
257ya3lmz7sjp65laohk0b9b003d7we
34909
34908
2026-06-14T13:50:10Z
Asimali2003
224
34909
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />تعارف کتاب
پس سرورق</noinclude><div style="border:2px solid #aaa; padding:1.5em; margin:1em; background:#fdfdf8;">
{{center|{{xx-larger| ''' فہرست تصنیفات سر سید احمد خاں صاحب بہادر مرحوم مغفور علیہ رحمۃ }}}}
<br>
{{center|{{larger|'''مجموعہ لیکچرز و اسپیچز سرسید'''}}}}
مصنف مرحوم علیہ رحمۃ کا مبارک نام ہی اس مجموعہ کی خوبیوں اور اوصاف کے واسطے کافی شہادت ہے اور اس کی توہین اور فقر میں کچھ سیکھنا سراسر بے ادبی اور اس کی کسر شان ہے ۔ سر سید مرحوم علیہ الرحمۃ کے مبارک نام اور اس کے مشن ( مدعا ) سے شاید ہی کوئی تعلیم بافتہ مسلمان ایسا ہو جو واقف نہ ہو۔بے بہا کارنامے اس مرحوم مغفور نے اسلامی ملک کی ترقی تعلیم اور ہر قسم کی بہبودی کی خاطر اپنی گراں بہا پر درد زندگی میں کئے ۔ واقعی اس قابل ہیں کہ فی زمانہ یا آینده ہر ایک قسم کے قومی کاموں کی تمہید اس کے مبارک نام سے تبر کا و تمینا شروع ہو۔ چنانچہ عموما مرحوم مغفور کا ذکر خیر کسی نہ کسی طرح سے اس قسم کے قومی جلسوں میں آنا شروع ہو گیاہے ۔
اس کتاب مکمل لکچرز و اسپیچز سر سید میں مرحوم کی تمام عرق ریزی شروع سے لے کر اختتام تک بھری پڑی ہے جیساکہ انہوں نے مختلف طریقے سے مسلمانوں کی حالت گمنام کو روباصلاح کرنے کی کوشش کی۔ ویساہی یہ لیکچر بھی بے نظیر دل اور دماغ کے طرح طرح کے نتیجوں سے مملو ہیں ۔ جو شخص اس مرحوم ہیرو کی اولوالعزمی استقلال صبر و تحمل بردباری انکساری اور عالی حوصلگی نیز گاہے گاہے مایوسیوں کا جو وقتا فوقتا منہ دکھاتی رہی ہیں اندازہ کرنا چاہیے ۔ قوم اور قومی ہمدردی اور ملک کی بہتری ۔ اسلام کی حمایت ۔ سچی دلسوزی ۔ صاف بیانی ۔ اعلی درجہ کی زبان اردو کی تقریر و تحریر ۔ تہذیب اور اخلاق کا بے مثل نمونہ بننے کے لیے اپنی آئندہ زندگی میں اس سے اچھا سبق سیکھنا چاہیے ۔ اس کے واسطے اس مجموعہ لکچرز و اسپیچز سے بڑھ کر کوئی ناصح مشفق اور رہبر کامل ہو نہيں سکتا۔ لقمان کی حکمت ،ارسطو کا فلسفہ اور شیکسپیر کی فصاحت اس کے آگے معمول قرار دی جا سکتی ہيں ۔
یہ بے بہا ذخیرہ زمانہ حال کی دینی اور دنیاوی بہتری کے لیے ہی عزیز تر نہ ہوگا ۔ بلکہ جوں جوں ضروریات آنے والی نسلوں کو پیش آئینگی خود بخود یہ مجموعہ عزیز تر ہوگا ۔ ملکی و قومی لائبریریوں کی زیب و زینت ہوگا ،۔ عام پبلک جلسوں میں اس کے نہایت شوق سے تذکرے ہوا کریں گے ۔ بڑے بڑے لکچرار اس مجموعہ سے مدد لیں گے اردو لٹریچر کے سیکھنے والے اس سے سند لیا کریں گے ۔ غرضیکہ یہ بے نظیر مجموعہ بے نطیر ہے ، بنظیر ہے ۔ اس کے شروع میں ممرحوم سر سید کی عکسی رنگین تصویر ہے ۔ اور سنہ 1857ء سے لے کر سنہ 1898ء تک کے کل لکچرز اس میں نہایت محنت سے جمع کر دیے ہيں ۔ اور وہ لکچرز بھی اس میں ہیں جن کا سر سید مرحوم کے دوستوں نے آج تک نام نہ سنا ہوگا۔ 600 صفحے ، نہایت اعلی درجہ کا کاغذ ، عمدہ چھپائی ، خوشخط لکھائی نیز اس سے پہلے جس قدر مجموعے لکچرز سرسید کے لوگوں نے چھاپے ہیں وہ بالکل نامکمل ہیں
{{right|قیمت مجلد <br>
ملے
8/
}}
{{left|قیمت بلاجلد<br>
ملے}}<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
hioibcmpqcjeiwdk37rqbs86yoov1pj
34910
34909
2026-06-14T13:54:21Z
Asimali2003
224
34910
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />تعارف کتاب
پس سرورق</noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:1em; margin:1em;">
{{center|{{xx-larger| ''' فہرست تصنیفات سر سید احمد خاں صاحب بہادر مرحوم مغفور علیہ رحمۃ }}}}
<br>
{{center|{{larger|'''مجموعہ لیکچرز و اسپیچز سرسید'''}}}}
مصنف مرحوم علیہ رحمۃ کا مبارک نام ہی اس مجموعہ کی خوبیوں اور اوصاف کے واسطے کافی شہادت ہے اور اس کی توہین اور فقر میں کچھ سیکھنا سراسر بے ادبی اور اس کی کسر شان ہے ۔ سر سید مرحوم علیہ الرحمۃ کے مبارک نام اور اس کے مشن ( مدعا ) سے شاید ہی کوئی تعلیم بافتہ مسلمان ایسا ہو جو واقف نہ ہو۔بے بہا کارنامے اس مرحوم مغفور نے اسلامی ملک کی ترقی تعلیم اور ہر قسم کی بہبودی کی خاطر اپنی گراں بہا پر درد زندگی میں کئے ۔ واقعی اس قابل ہیں کہ فی زمانہ یا آینده ہر ایک قسم کے قومی کاموں کی تمہید اس کے مبارک نام سے تبر کا و تمینا شروع ہو۔ چنانچہ عموما مرحوم مغفور کا ذکر خیر کسی نہ کسی طرح سے اس قسم کے قومی جلسوں میں آنا شروع ہو گیاہے ۔
اس کتاب مکمل لکچرز و اسپیچز سر سید میں مرحوم کی تمام عرق ریزی شروع سے لے کر اختتام تک بھری پڑی ہے جیساکہ انہوں نے مختلف طریقے سے مسلمانوں کی حالت گمنام کو روباصلاح کرنے کی کوشش کی۔ ویساہی یہ لیکچر بھی بے نظیر دل اور دماغ کے طرح طرح کے نتیجوں سے مملو ہیں ۔ جو شخص اس مرحوم ہیرو کی اولوالعزمی استقلال صبر و تحمل بردباری انکساری اور عالی حوصلگی نیز گاہے گاہے مایوسیوں کا جو وقتا فوقتا منہ دکھاتی رہی ہیں اندازہ کرنا چاہیے ۔ قوم اور قومی ہمدردی اور ملک کی بہتری ۔ اسلام کی حمایت ۔ سچی دلسوزی ۔ صاف بیانی ۔ اعلی درجہ کی زبان اردو کی تقریر و تحریر ۔ تہذیب اور اخلاق کا بے مثل نمونہ بننے کے لیے اپنی آئندہ زندگی میں اس سے اچھا سبق سیکھنا چاہیے ۔ اس کے واسطے اس مجموعہ لکچرز و اسپیچز سے بڑھ کر کوئی ناصح مشفق اور رہبر کامل ہو نہيں سکتا۔ لقمان کی حکمت ،ارسطو کا فلسفہ اور شیکسپیر کی فصاحت اس کے آگے معمول قرار دی جا سکتی ہيں ۔
یہ بے بہا ذخیرہ زمانہ حال کی دینی اور دنیاوی بہتری کے لیے ہی عزیز تر نہ ہوگا ۔ بلکہ جوں جوں ضروریات آنے والی نسلوں کو پیش آئینگی خود بخود یہ مجموعہ عزیز تر ہوگا ۔ ملکی و قومی لائبریریوں کی زیب و زینت ہوگا ،۔ عام پبلک جلسوں میں اس کے نہایت شوق سے تذکرے ہوا کریں گے ۔ بڑے بڑے لکچرار اس مجموعہ سے مدد لیں گے اردو لٹریچر کے سیکھنے والے اس سے سند لیا کریں گے ۔ غرضیکہ یہ بے نظیر مجموعہ بے نطیر ہے ، بنظیر ہے ۔ اس کے شروع میں ممرحوم سر سید کی عکسی رنگین تصویر ہے ۔ اور سنہ 1857ء سے لے کر سنہ 1898ء تک کے کل لکچرز اس میں نہایت محنت سے جمع کر دیے ہيں ۔ اور وہ لکچرز بھی اس میں ہیں جن کا سر سید مرحوم کے دوستوں نے آج تک نام نہ سنا ہوگا۔ 600 صفحے ، نہایت اعلی درجہ کا کاغذ ، عمدہ چھپائی ، خوشخط لکھائی نیز اس سے پہلے جس قدر مجموعے لکچرز سرسید کے لوگوں نے چھاپے ہیں وہ بالکل نامکمل ہیں
{{right|قیمت مجلد <br>
ملے
8/
}}
{{left|قیمت بلاجلد<br>
ملے}}<noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
4mde8280hf92b8vvk397wf0eo9kx15w
34916
34910
2026-06-14T18:22:50Z
Asimali2003
224
34916
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />تعارف کتاب
پس سرورق</noinclude> <div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|{{xx-larger| ''' فہرست تصنیفات سر سید احمد خاں صاحب بہادر مرحوم مغفور علیہ رحمۃ }}}}
<br>
{{center|{{larger|'''مجموعہ لیکچرز و اسپیچز سرسید'''}}}}
مصنف مرحوم علیہ رحمۃ کا مبارک نام ہی اس مجموعہ کی خوبیوں اور اوصاف کے واسطے کافی شہادت ہے اور اس کی توہین اور فقر میں کچھ سیکھنا سراسر بے ادبی اور اس کی کسر شان ہے ۔ سر سید مرحوم علیہ الرحمۃ کے مبارک نام اور اس کے مشن ( مدعا ) سے شاید ہی کوئی تعلیم بافتہ مسلمان ایسا ہو جو واقف نہ ہو۔بے بہا کارنامے اس مرحوم مغفور نے اسلامی ملک کی ترقی تعلیم اور ہر قسم کی بہبودی کی خاطر اپنی گراں بہا پر درد زندگی میں کئے ۔ واقعی اس قابل ہیں کہ فی زمانہ یا آینده ہر ایک قسم کے قومی کاموں کی تمہید اس کے مبارک نام سے تبر کا و تمینا شروع ہو۔ چنانچہ عموما مرحوم مغفور کا ذکر خیر کسی نہ کسی طرح سے اس قسم کے قومی جلسوں میں آنا شروع ہو گیاہے ۔
اس کتاب مکمل لکچرز و اسپیچز سر سید میں مرحوم کی تمام عرق ریزی شروع سے لے کر اختتام تک بھری پڑی ہے جیساکہ انہوں نے مختلف طریقے سے مسلمانوں کی حالت گمنام کو روباصلاح کرنے کی کوشش کی۔ ویساہی یہ لیکچر بھی بے نظیر دل اور دماغ کے طرح طرح کے نتیجوں سے مملو ہیں ۔ جو شخص اس مرحوم ہیرو کی اولوالعزمی استقلال صبر و تحمل بردباری انکساری اور عالی حوصلگی نیز گاہے گاہے مایوسیوں کا جو وقتا فوقتا منہ دکھاتی رہی ہیں اندازہ کرنا چاہیے ۔ قوم اور قومی ہمدردی اور ملک کی بہتری ۔ اسلام کی حمایت ۔ سچی دلسوزی ۔ صاف بیانی ۔ اعلی درجہ کی زبان اردو کی تقریر و تحریر ۔ تہذیب اور اخلاق کا بے مثل نمونہ بننے کے لیے اپنی آئندہ زندگی میں اس سے اچھا سبق سیکھنا چاہیے ۔ اس کے واسطے اس مجموعہ لکچرز و اسپیچز سے بڑھ کر کوئی ناصح مشفق اور رہبر کامل ہو نہيں سکتا۔ لقمان کی حکمت ،ارسطو کا فلسفہ اور شیکسپیر کی فصاحت اس کے آگے معمول قرار دی جا سکتی ہيں ۔
یہ بے بہا ذخیرہ زمانہ حال کی دینی اور دنیاوی بہتری کے لیے ہی عزیز تر نہ ہوگا ۔ بلکہ جوں جوں ضروریات آنے والی نسلوں کو پیش آئینگی خود بخود یہ مجموعہ عزیز تر ہوگا ۔ ملکی و قومی لائبریریوں کی زیب و زینت ہوگا ،۔ عام پبلک جلسوں میں اس کے نہایت شوق سے تذکرے ہوا کریں گے ۔ بڑے بڑے لکچرار اس مجموعہ سے مدد لیں گے اردو لٹریچر کے سیکھنے والے اس سے سند لیا کریں گے ۔ غرضیکہ یہ بے نظیر مجموعہ بے نطیر ہے ، بنظیر ہے ۔ اس کے شروع میں ممرحوم سر سید کی عکسی رنگین تصویر ہے ۔ اور سنہ 1857ء سے لے کر سنہ 1898ء تک کے کل لکچرز اس میں نہایت محنت سے جمع کر دیے ہيں ۔ اور وہ لکچرز بھی اس میں ہیں جن کا سر سید مرحوم کے دوستوں نے آج تک نام نہ سنا ہوگا۔ 600 صفحے ، نہایت اعلی درجہ کا کاغذ ، عمدہ چھپائی ، خوشخط لکھائی نیز اس سے پہلے جس قدر مجموعے لکچرز سرسید کے لوگوں نے چھاپے ہیں وہ بالکل نامکمل ہیں
{{right|قیمت مجلد <br>
ملے
8/
}}
{{left|قیمت بلاجلد<br>
ملے}}
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
eq8drf58wkthyklw5qi001fip2rai4v
34933
34916
2026-06-15T06:16:03Z
Asimali2003
224
34933
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />تعارف کتاب
پس سرورق</noinclude> <div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|{{xx-larger| ''' فہرست تصنیفات سر سید احمد خاں صاحب بہادر مرحوم مغفور علیہ رحمۃ }}}}
<br>
{{center|{{larger|'''مجموعہ لیکچرز و اسپیچز سرسید'''}}}}
{{gap}}مصنف مرحوم علیہ رحمۃ کا مبارک نام ہی اس مجموعہ کی خوبیوں اور اوصاف کے واسطے کافی شہادت ہے اور اس کی توہین اور فقر میں کچھ سیکھنا سراسر بے ادبی اور اس کی کسر شان ہے ۔ سر سید مرحوم علیہ الرحمۃ کے مبارک نام اور اس کے مشن ( مدعا ) سے شاید ہی کوئی تعلیم بافتہ مسلمان ایسا ہو جو واقف نہ ہو۔بے بہا کارنامے اس مرحوم مغفور نے اسلامی ملک کی ترقی تعلیم اور ہر قسم کی بہبودی کی خاطر اپنی گراں بہا پر درد زندگی میں کئے ۔ واقعی اس قابل ہیں کہ فی زمانہ یا آینده ہر ایک قسم کے قومی کاموں کی تمہید اس کے مبارک نام سے تبر کا و تمینا شروع ہو۔ چنانچہ عموما مرحوم مغفور کا ذکر خیر کسی نہ کسی طرح سے اس قسم کے قومی جلسوں میں آنا شروع ہو گیاہے</br>
{{gap}}اس کتاب مکمل لکچرز و اسپیچز سر سید میں مرحوم کی تمام عرق ریزی شروع سے لے کر اختتام تک بھری پڑی ہے جیساکہ انہوں نے مختلف طریقے سے مسلمانوں کی حالت گمنام کو روباصلاح کرنے کی کوشش کی۔ ویساہی یہ لیکچر بھی بے نظیر دل اور دماغ کے طرح طرح کے نتیجوں سے مملو ہیں ۔ جو شخص اس مرحوم ہیرو کی اولوالعزمی استقلال صبر و تحمل بردباری انکساری اور عالی حوصلگی نیز گاہے گاہے مایوسیوں کا جو وقتا فوقتا منہ دکھاتی رہی ہیں اندازہ کرنا چاہیے ۔ قوم اور قومی ہمدردی اور ملک کی بہتری ۔ اسلام کی حمایت ۔ سچی دلسوزی ۔ صاف بیانی ۔ اعلی درجہ کی زبان اردو کی تقریر و تحریر ۔ تہذیب اور اخلاق کا بے مثل نمونہ بننے کے لیے اپنی آئندہ زندگی میں اس سے اچھا سبق سیکھنا چاہیے ۔ اس کے واسطے اس مجموعہ لکچرز و اسپیچز سے بڑھ کر کوئی ناصح مشفق اور رہبر کامل ہو نہيں سکتا۔ لقمان کی حکمت ،ارسطو کا فلسفہ اور شیکسپیر کی فصاحت اس کے آگے معمول قرار دی جا سکتی ہيں ۔</br>
{{gap}}یہ بے بہا ذخیرہ زمانہ حال کی دینی اور دنیاوی بہتری کے لیے ہی عزیز تر نہ ہوگا ۔ بلکہ جوں جوں ضروریات آنے والی نسلوں کو پیش آئینگی خود بخود یہ مجموعہ عزیز تر ہوگا ۔ ملکی و قومی لائبریریوں کی زیب و زینت ہوگا ،۔ عام پبلک جلسوں میں اس کے نہایت شوق سے تذکرے ہوا کریں گے ۔ بڑے بڑے لکچرار اس مجموعہ سے مدد لیں گے اردو لٹریچر کے سیکھنے والے اس سے سند لیا کریں گے ۔ غرضیکہ یہ بے نظیر مجموعہ بے نطیر ہے ، بنظیر ہے ۔ اس کے شروع میں ممرحوم سر سید کی عکسی رنگین تصویر ہے ۔ اور سنہ 1857ء سے لے کر سنہ 1898ء تک کے کل لکچرز اس میں نہایت محنت سے جمع کر دیے ہيں ۔ اور وہ لکچرز بھی اس میں ہیں جن کا سر سید مرحوم کے دوستوں نے آج تک نام نہ سنا ہوگا۔ 600 صفحے ، نہایت اعلی درجہ کا کاغذ ، عمدہ چھپائی ، خوشخط لکھائی نیز اس سے پہلے جس قدر مجموعے لکچرز سرسید کے لوگوں نے چھاپے ہیں وہ بالکل نامکمل ہیں
{{right|قیمت مجلد <br>
ملے
8/
}}
{{left|قیمت بلاجلد<br>
ملے}}
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
cqo9qyeyfubxihdtz140hp81ecainw9
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/3
250
12029
34971
32690
2026-06-15T10:27:07Z
Asimali2003
224
34971
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 1</noinclude>
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|'''بسم اللہ الرحمن الرحيم''' <br><br>}}{{xx-larger|}}
ازبندہ خضوع و التجا سید - بخشایش بندہ از خدا میز سید<br>
گر من کنم آنکہ آن مرا نازیبات - تو کن ہمہ آنکہ آن ترا میز سید<br>
سرکشی ہندوستان کے جواب مضمون میں جو میں نے اصلی اسباب بغاوت ہندوستان کے بیان کئے تھے اگر چہ دل چاہتا تھا کہ اب اُن کو صفحہ روزگار پر سے مٹا دوں بلکہ اپنے دل سے بھی بھلا دوں کیونکہ جو اشتہار جناب ملکہ معظمہ کوئین وکٹوریا دام سلطنتہا نے جاری کیا ہے در حقیقت وہ بغاوت کے ہر ایک اصلی سبب کا پوُرا علاج ہے حق یہ ہے کہ اشتہار کا مضمون دیکھ کر بغاوت کے سبب لکھنے والوں کے ہاتھ سے قلم گر پڑے کسی کو ضرورت نہ رہی کہ اب اُن کی تشخیص کریں اسلئے کہ اب اُن کا علاج پوُرا ہو گیا.
مگر ان فساد کے اصلی سببوں پر غور کرنا اور اپنی صداقت سے سچے سچے سببوں کا بیان کرنا میں ایک عمدہ خیر خواہی اپنی گورنمنٹ کی سمجھتا ہوں اس لئے مجھ پر واجب ہے کہ گو اُن کا علاج بہ خوبی ہوگیا پھر بھی جو سبب میرے دل میں ہیں اُن کو بھی ظاہر کردوں ۔
سچ ہے کہ بہت بڑے بڑے دانا اور تجربہ کار لوگوں نے اِس بغاوت کے سبب لکھے ہیں مگر امید ہے کہ شاید کسی ہندوستانی
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
msp5l033psfvun86hizyzlizbta0m70
34972
34971
2026-06-15T10:27:31Z
Asimali2003
224
34972
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Nooruddin2020" />Asbab-e-Baghawat-e-Hind
<br>
رسالہ اسباب بغاوت ہند
<br>
از سر سید احمد خان
<br>
صفحہ نمبر 1</noinclude>
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|'''بسم اللہ الرحمن الرحيم''' <br><br>}}{{xxx-larger|}}
ازبندہ خضوع و التجا سید - بخشایش بندہ از خدا میز سید<br>
گر من کنم آنکہ آن مرا نازیبات - تو کن ہمہ آنکہ آن ترا میز سید<br>
سرکشی ہندوستان کے جواب مضمون میں جو میں نے اصلی اسباب بغاوت ہندوستان کے بیان کئے تھے اگر چہ دل چاہتا تھا کہ اب اُن کو صفحہ روزگار پر سے مٹا دوں بلکہ اپنے دل سے بھی بھلا دوں کیونکہ جو اشتہار جناب ملکہ معظمہ کوئین وکٹوریا دام سلطنتہا نے جاری کیا ہے در حقیقت وہ بغاوت کے ہر ایک اصلی سبب کا پوُرا علاج ہے حق یہ ہے کہ اشتہار کا مضمون دیکھ کر بغاوت کے سبب لکھنے والوں کے ہاتھ سے قلم گر پڑے کسی کو ضرورت نہ رہی کہ اب اُن کی تشخیص کریں اسلئے کہ اب اُن کا علاج پوُرا ہو گیا.
مگر ان فساد کے اصلی سببوں پر غور کرنا اور اپنی صداقت سے سچے سچے سببوں کا بیان کرنا میں ایک عمدہ خیر خواہی اپنی گورنمنٹ کی سمجھتا ہوں اس لئے مجھ پر واجب ہے کہ گو اُن کا علاج بہ خوبی ہوگیا پھر بھی جو سبب میرے دل میں ہیں اُن کو بھی ظاہر کردوں ۔
سچ ہے کہ بہت بڑے بڑے دانا اور تجربہ کار لوگوں نے اِس بغاوت کے سبب لکھے ہیں مگر امید ہے کہ شاید کسی ہندوستانی
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]
[[Category:Syed Ahmad Khan]]
[[Category:Asbab-e-Baghawat-e-Hind]]</noinclude>
5g4fd423yu4y3ug3r3n696du1fl9icy
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/38
250
13203
34904
34890
2026-06-14T12:40:47Z
BalramBodhi
60
34904
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="2401:4900:46D8:F11E:BBFE:5838:54F6:7B00" /></noinclude>ہماری گورنمتٹ میں بہت کم تھا۔ سرکاری فوج جو غالباً مرکب تھی تلنگوں سے اس میں اشراف لوگ نوکری کرنی معیوب سمجھتے تھے سواروں میں البتہ اشرافوں کی نوکری باقی تھی مگر وہ تعداد میں اس قدر قلیل تھی کہ اگلی سپاہ سوار سے اُس کو کچھ بھی نسبت نہ تھی علاوہ سرکاری نوکری کے اگلے عہد کے صوبہ داروں اور سرداروں اور امیروں کے عج کے نوکر ہوتے تھے کہ اُن کی تعداد بھی کچھ کم خیال کرنی نہیں چاہئے۔اب یہ بات ہماری گورنمنٹ میں نہیں ہے اس سبب سے رعایا کو حد سے زیادہ قلت روزگار تھی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب باغیوں نے لوگوں کو نوکر رکھنا چاہا ہزار ہا آدمی نوکری کو جمع ہوگئے اور جیسے بھوکا آدمی قحط کے دنوں اناج پر گرتا ہے اُسی طرح یہ لوگ نوکریوں پر جا گرے ؎
{{center|<poem>ملحد گرسنه در خانه خالی بر خوان
عقل باور نکند کز رمضان اندیشد</poem>}}
'''اسے مفلسی کے سبب لوگوں کا ایک آنہ یا ڈیڑھ آنہ یومیہ یا سیر بھر اناج پر باغیوںکی نوکری اختیار کرنا'''
بہت سے آدمی صرف آنہ ڈیڑھ آنہ یومیہ پر نوکر ہوئے تھے اور بہت سے آدمی بعوض یومیہ کے سیر ڈیرھ سیر اناج پاتے تھے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی رعایا جیسی نوکری کی خواہش مند تھی ویسی ہی مفلسی اور ناداری سے محتاج اور تنگ تھی.
'''خیراتی پنشن اور انعام ہونے سے ہندوستان کا زیادہ محتاج ہونا'''
ایک اور راہ تھی اگلی عملداریوں میں آسودگی رعایا کی یعنی جاگیر روزینہ انعام اکرام جب شاہجہان تخت پر بیٹھا تو صرف بروز تخت نشینی چار لاکھ بیگہ زمین اور ایک سو بیس گانوں جاگیر میں اور لاکھوں روپیہ انعام میں دئے یہ بات ہماری گورنمنٹ میں یک قلم مسدود تھی بلکہ پہلی جاگیریں بھی ضبط ہوگئی تھیں جس ضبطی کے سبب ہزار ہا آدمی نان نشبینہ کو محتاج ہو گئے تھے۔ زمینداروں کاشتکاروں کی مفلسی کا حال ہم پہلے بیان کر چکے اہل حرفہ کا روزگار سبب جاری اور راءج ہونے اشیا تجارت ولایت کے بالکل جاتا رہا تھا یہاں تک کہ ہندوستان<noinclude></noinclude>
5cy4o49fd8hp12cn9y8gubnfgejl3qp
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/42
250
13691
34932
34785
2026-06-15T06:08:42Z
BalramBodhi
60
34932
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Krupal (OKI)" /></noinclude>خلاصہ یہی ہے مراد مسیح مقدس کی اس نصیحت سے محبت ہے غرضکہ کوئی عقلمند اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محبت اور اتحاد بہت عمدہ چیز ہے اور بہت اچھے اچھے نتیجہ دیتی ہے اور بہت سی برائیوں کو روکتی ہے آج تک ہماری گورنمنٹ نے یہ محبت ہندوستان کی رعایا کے ساتھ پیدا نہیں کی.
یہ بھی ایک قاعدہ محبّت کا جبلّت انسانی بلکہ حیوانی میں بھی قدرتی پیدا کیا گیا ہے کہ اعلیٰ کی طرف سے ادنے کی طرف محبت چلتی ہے باپ کی محبت اپنے بیٹے کی طرف پہلے اُس سے شروع ہوتی ہے کہ بیٹے کو باپ سے ہے اسی طرح مرد کی محبت اپنی عورت کی طرف عورت کی محبت سے جو مرد کی طرف ہے مقدم ہے اسی بنا پر یہ بات ہے کہ ادنئے جو اعلے سے محبت شروع کر لے وہ خوشامد گنی جاتی ہے نہ محبت اس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ ہماری گورنمنٹ کو اول چاہئے تھا کہ رعایا کے ساتھ محبت اور اتحاد کرنے میں تقدم کرتی پھر محبت کا یہ قاعدہ جو ہزار ہا تجربہ سے حاصل ہوا ہے کہ خواہ نخواہ محبت دوسرے کی دل میں اثر کرتی ہے اور اپنی طرف کھینچ لاتی ہے رعایا کے دل میں اثر کرتی اور رعایا اُس سے زیادہ ہماری گورنمنٹ کی محبت بلکہ فریفتہ ہو جاتی
عشق آں خانماں خرابے ہست
که ترا آورد سبخانه ما
مگر افسوس کہ ہماری گورنمنٹ نے ایسا نہیں کیا.
اگر ہماری گورنمنٹ دعوے کرے کہ یہ بات غلط ہے ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ محبت کی اور نیکی کا بدلا بدی پائی تو اس کا انصاف ہم خود گورنمنٹ کے سپرد کرینگے اگر یہ بات یوں ہی ہوتی تو رعایا کو بلاشبہ ہماری گورنمنٹ کی محبت سے زیادہ محبت ہوتی۔ بیشک<noinclude></noinclude>
g4yqecj1d9lultfc3neu9drknd0aggk
34936
34932
2026-06-15T06:20:05Z
Asimali2003
224
34936
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Krupal (OKI)" /></noinclude>خلاصہ یہی ہے مراد مسیح مقدس کی اس نصیحت سے محبت ہے غرضکہ کوئی عقلمند اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محبت اور اتحاد بہت عمدہ چیز ہے اور بہت اچھے اچھے نتیجہ دیتی ہے اور بہت سی برائیوں کو روکتی ہے آج تک ہماری گورنمنٹ نے یہ محبت ہندوستان کی رعایا کے ساتھ پیدا نہیں کی.
{{gap}}یہ بھی ایک قاعدہ محبّت کا جبلّت انسانی بلکہ حیوانی میں بھی قدرتی پیدا کیا گیا ہے کہ اعلیٰ کی طرف سے ادنے کی طرف محبت چلتی ہے باپ کی محبت اپنے بیٹے کی طرف پہلے اُس سے شروع ہوتی ہے کہ بیٹے کو باپ سے ہے اسی طرح مرد کی محبت اپنی عورت کی طرف عورت کی محبت سے جو مرد کی طرف ہے مقدم ہے اسی بنا پر یہ بات ہے کہ ادنئے جو اعلے سے محبت شروع کر لے وہ خوشامد گنی جاتی ہے نہ محبت اس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ ہماری گورنمنٹ کو اول چاہئے تھا کہ رعایا کے ساتھ محبت اور اتحاد کرنے میں تقدم کرتی پھر محبت کا یہ قاعدہ جو ہزار ہا تجربہ سے حاصل ہوا ہے کہ خواہ نخواہ محبت دوسرے کی دل میں اثر کرتی ہے اور اپنی طرف کھینچ لاتی ہے رعایا کے دل میں اثر کرتی اور رعایا اُس سے زیادہ ہماری گورنمنٹ کی محبت بلکہ فریفتہ ہو جاتی
عشق آں خانماں خرابے ہست
که ترا آورد سبخانه ما
مگر افسوس کہ ہماری گورنمنٹ نے ایسا نہیں کیا.
{{gap}}اگر ہماری گورنمنٹ دعوے کرے کہ یہ بات غلط ہے ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ محبت کی اور نیکی کا بدلا بدی پائی تو اس کا انصاف ہم خود گورنمنٹ کے سپرد کرینگے اگر یہ بات یوں ہی ہوتی تو رعایا کو بلاشبہ ہماری گورنمنٹ کی محبت سے زیادہ محبت ہوتی۔ بیشک<noinclude></noinclude>
3ziv2wtsvzqfo4f9rzp4zupy2l5ju3l
34975
34936
2026-06-15T11:16:05Z
Asimali2003
224
34975
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Krupal (OKI)" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
خلاصہ یہی ہے مراد مسیح مقدس کی اس نصیحت سے محبت ہے غرضکہ کوئی عقلمند اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محبت اور اتحاد بہت عمدہ چیز ہے اور بہت اچھے اچھے نتیجہ دیتی ہے اور بہت سی برائیوں کو روکتی ہے آج تک ہماری گورنمنٹ نے یہ محبت ہندوستان کی رعایا کے ساتھ پیدا نہیں کی.
{{gap}}یہ بھی ایک قاعدہ محبّت کا جبلّت انسانی بلکہ حیوانی میں بھی قدرتی پیدا کیا گیا ہے کہ اعلیٰ کی طرف سے ادنے کی طرف محبت چلتی ہے باپ کی محبت اپنے بیٹے کی طرف پہلے اُس سے شروع ہوتی ہے کہ بیٹے کو باپ سے ہے اسی طرح مرد کی محبت اپنی عورت کی طرف عورت کی محبت سے جو مرد کی طرف ہے مقدم ہے اسی بنا پر یہ بات ہے کہ ادنئے جو اعلے سے محبت شروع کر لے وہ خوشامد گنی جاتی ہے نہ محبت اس کا نتیجہ یہ ہُوا کہ ہماری گورنمنٹ کو اول چاہئے تھا کہ رعایا کے ساتھ محبت اور اتحاد کرنے میں تقدم کرتی پھر محبت کا یہ قاعدہ جو ہزار ہا تجربہ سے حاصل ہوا ہے کہ خواہ نخواہ محبت دوسرے کی دل میں اثر کرتی ہے اور اپنی طرف کھینچ لاتی ہے رعایا کے دل میں اثر کرتی اور رعایا اُس سے زیادہ ہماری گورنمنٹ کی محبت بلکہ فریفتہ ہو جاتی
عشق آں خانماں خرابے ہست
که ترا آورد سبخانه ما
مگر افسوس کہ ہماری گورنمنٹ نے ایسا نہیں کیا.
{{gap}}اگر ہماری گورنمنٹ دعوے کرے کہ یہ بات غلط ہے ہم نے ایسا نہیں کیا بلکہ محبت کی اور نیکی کا بدلا بدی پائی تو اس کا انصاف ہم خود گورنمنٹ کے سپرد کرینگے اگر یہ بات یوں ہی ہوتی تو رعایا کو بلاشبہ ہماری گورنمنٹ کی محبت سے زیادہ محبت ہوتی۔ بیشک
</div>
</div><noinclude></noinclude>
p23yw8qtp2qp3kcvp8h27limbotks0z
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/39
250
13692
34905
34892
2026-06-14T13:06:21Z
BalramBodhi
60
34905
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> میں کوئی سوئی بنانے والے اور دیاسلائی جلانے والے کو بھی نہیں پوچھتا تھا جولاہوں کا تار تو بالکل ٹوٹ گیا تھا جو بدذات سب سے زیادہ اس ہنگامہ میں گرمجوش تھے خدا کے فضل سے جب کہ ہندوستان بھی سلطنتِ گریٹ برٹن میں داخل تھا تو سرکار کو رعایا کے اس تنگیِ حال پر توجہ کرنی اور اُن کے روحانی غم اور دلی رنجشوں کے مٹانے میں سعی کرنی ضرور تھی.
'''کمپنی لوٹ سے ملک کی زیرباری'''
کمپنی لوٹ سے ایک نئی طرح کی زیرباری ملک ہوئی تھی جو کسی پہلی عملداری میں اس کی نظیر نہیں ہے جتنا روپیہ قرض لیا جاتا تھا اُس کے سود کے وصول کرنے کی تدبیر بلکہ سود اور اخراجات اور انتفاع کے وصول کرنے کی تدبیر ملک سے ہوتی تھی غرضکہ ہر طرح سے ملک مفلس اور محتاج ہو گیا اگلے خاندان جن کو ہزاروں کا مقدور تھا۔
معاش سے بھی تنگ تھے اور یہ ایک اصلی سبب ناراضی رعایا کا گورنمنٹ سے تھا لوگوں کے دل جو تبدیل عملداری کو چاہتے تھے اور نئی عملداری کے راغب اور دل سے اُس سے خوش تھے میں بہت سچ کہتا ہوں کہ اسی سبب سے تھے ہم سچ کہتے ہیں اور پھر ہم کہتے ہیں کہ ہم بہت
سچ کہتے ہیں جب افغانستان سرکار نے فتح کیا لوگوں کو بڑا غم ہُوا۔
کیا سبب تھا صرف یہ تھا کہ اب مذہب پر علانیہ دست اندازی ہوگی جب گوالیار فتح ہُوا پنجاب فتح ہُوا اودھ لیا گیا لوگوں کو کمال رنج
ہُوا کیوں ہُوا اس لئے ہُوا کہ اِن پاس کی ہندوستانی عملداریوں سے ہندوستانیوں کو بہت آسودگی تھی نوکریاں اکثر ہاتھ آتی تھیں ہر قسم کی ہندوستانی اشیا کی تجارت بکثرت تھی اُن عملداریوں کے خراب ہونے سے زیادہ افلاس اور محتاجی ہوتی جاتی تھی ہماری گورنمنٹ کی عملداری میں خوبیاں اور بھلائیاں بھی حد سے زیادہ تھیں میں سب پر عیب نہیں لگاتا بقول شخصے؎<noinclude></noinclude>
5fe6ixaja5nzpk47jmah84wzs22gvif
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/277
250
13697
34919
34899
2026-06-15T02:02:52Z
Kaur.gurmel
74
34919
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Harisubeg singh" /></noinclude>سوا اور کوئی دوسرا مددگار نہیں نظر آتا '.
یہ سنتے ہی کمبھ کرن سنبھل کر اُٹھ بیٹھا ہتھیار
باندھے اور میدان کی طرف چل کھڑا ہُوأ ۔ اُسے
میدان میں دیکھ کر ہنومان انگد ، سگریو سب
کے سب دہل اُٹھے ۔ آدمی کیا" خاصا دیو تھا ۔
سپاہی تو اُس کی خوفناک صورت ہی دیکھ کر
بھاگ کھڑے ہوئے ۔ کتنے ہی سرداروں کو
اُس نے زخمی کر دیا ۔ آخر رامچندر خود اُس سے
لڑنے کو تیار ہوئے ۔ انہیں دیکھتے ہی کمبھ کرن
نے بھالے کا وار کیا ۔ مگر رامچندر نے وار خالی
دیا اور دو تیر اتنی پھرتی سے چلائے کہ اُس کے
دونو ہاتھ کٹ گئے ۔ تیسرا تیر اُس کے سینہ میں
لگا۔ کام تمام ہو گیا ۔ راکشس فوج نے اپنے
سردار کو گرتے دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔
ادھر رامچندر کی فوج میں خوشی منائی جانے لگی۔
راون کو جب یہ خبر مِلی تو سر پیٹ کر رونے لگا۔
کُمبھ کرن سے اُسے بڑی اُمید تھی ۔ وہ خاک میں<noinclude></noinclude>
nt3a5ete6ad8jixxn8it6j5tglyw5ng
34928
34919
2026-06-15T04:06:39Z
Sonia Atwal
220
34928
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Harisubeg singh" /></noinclude>سوا اور کوئی دوسرا مددگار نہیں نظر آتا '.
یہ سنتے ہی کمبھ کرن سنبھل کر اُٹھ بیٹھا ہتھیار باندھے اور میدان کی طرف چل کھڑا ہُوأ ۔ اُسے میدان میں دیکھ کر ہنومان انگد ، سگریو سب کے سب دہل اُٹھے ۔ آدمی کیا" خاصا دیو تھا ۔
سپاہی تو اُس کی خوفناک صورت ہی دیکھ کر
بھاگ کھڑے ہوئے ۔ کتنے ہی سرداروں کو
اُس نے زخمی کر دیا ۔ آخر رامچندر خود اُس سے
لڑنے کو تیار ہوئے ۔ انہیں دیکھتے ہی کمبھ کرن
نے بھالے کا وار کیا ۔ مگر رامچندر نے وار خالی
دیا اور دو تیر اتنی پھرتی سے چلائے کہ اُس کے
دونو ہاتھ کٹ گئے ۔ تیسرا تیر اُس کے سینہ میں
لگا۔ کام تمام ہو گیا ۔ راکشس فوج نے اپنے
سردار کو گرتے دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔
ادھر رامچندر کی فوج میں خوشی منائی جانے لگی۔
راون کو جب یہ خبر مِلی تو سر پیٹ کر رونے لگا۔
کُمبھ کرن سے اُسے بڑی اُمید تھی ۔ وہ خاک میں<noinclude></noinclude>
psapnp0i7zmvppw5ari433vypbghqd5
34969
34928
2026-06-15T10:13:22Z
Sonia Atwal
220
34969
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Harisubeg singh" /></noinclude>سوا اور کوئی دوسرا مددگار نہیں نظر آتا '.
یہ سنتے ہی کمبھ کرن سنبھل کر اُٹھ بیٹھا ہتھیار باندھے اور میدان کی طرف چل کھڑا ہُوأ ۔ اُسے میدان میں دیکھ کر ہنومان انگد ، سگریو سب کے سب دہل اُٹھے ۔ آدمی کیا" خاصا دیو تھا ۔ سپاہی تو اُس کی خوفناک صورت ہی دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ کتنے ہی سرداروں کو اُس نے زخمی کر دیا ۔ آخر رامچندر خود اُس سے لڑنے کو تیار ہوئے ۔ انہیں دیکھتے ہی کمبھ کرن نے بھالے کا وار کیا ۔ مگر رامچندر نے وار خالی دیا اور دو تیر اتنی پھرتی سے چلائے کہ اُس کے دونو ہاتھ کٹ گئے ۔ تیسرا تیر اُس کے سینہ میں لگا۔ کام تمام ہو گیا ۔ راکشس فوج نے اپنے سردار کو گرتے دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔ ادھر رامچندر کی فوج میں خوشی منائی جانے لگی۔ راون کو جب یہ خبر مِلی تو سر پیٹ کر رونے لگا۔
کُمبھ کرن سے اُسے بڑی اُمید تھی ۔ وہ خاک میں<noinclude></noinclude>
3srveiaa6maor3t1gl49oofi1tvquud
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/40
250
13698
34901
2026-06-14T12:27:51Z
Asimali2003
224
header
34901
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|
۳۹
عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو
نفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند
امن اور آسائش اور آزادی۔ رستوں کا صاف ہونا ڈاکوؤں ہرزہ
ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا۔ سڑکوں کا آراستہ ہونا مسافروں
کی آسایش۔ بیوپاریوں کا مال دُور دُور بھیجنا۔ غریب اعلیٰ اور ادنیٰ
کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا۔ خونریزی اور خانہ جنگی کا بند
ہونا۔ زیردست زبردست کا زد وساٹھنا اور اسی قسم کی بہت سی باتیں
ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہونگی مگر غور کرو کہ ان سبوں
سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی ایک اور بات دیکھو کہ
یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا۔ اول عورتوں کو
کہ سب طرح آسایش میں تھیں فلاں جنگی میں اولاد کا مارا جانا۔ چورتھگوں
کے ہاتھ سے لُٹنا۔ عاملوں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ
رہنا اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں، پھر دیکھو لوگو کس قدر خیر خواہ اور مطیع
سرکار کی عملداری کی تھیں ۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسائش سے تھے یہاں
میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں
پہنچا نقصان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا +
{{x-larger|اصل چہارم}}
{{right| چہارم ذکر ان باتوں کا جس کا گورنمنٹ کو دریغ}} {{right| محبت و اتحاد کا ہندوستانیوں سے ذکر کرنا۔}}
ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا
ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا ۔
جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں گو وہ ہمارے بعض حکام
کے ناگوارِ طبع ہوں مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس
مقام بہت ضرور ہے یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور
دام میں آتے ہیں درندے رام ہوتے ہیں انسان کی تو کیا حقیقت ہے
}}<noinclude></noinclude>
1qnjzu2yi4uheagfuogh9pid74w84ed
34902
34901
2026-06-14T12:34:24Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34902
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|
۳۹
عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو
نفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند
امن اور آسائش اور آزادی۔ رستوں کا صاف ہونا ڈاکوؤں ہرزہ
ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا۔ سڑکوں کا آراستہ ہونا مسافروں
کی آسایش۔ بیوپاریوں کا مال دُور دُور بھیجنا۔ غریب اعلیٰ اور ادنیٰ
کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا۔ خونریزی اور خانہ جنگی کا بند
ہونا۔ زیردست زبردست کا زد وساٹھنا اور اسی قسم کی بہت سی باتیں
ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہونگی مگر غور کرو کہ ان سبوں
سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی ایک اور بات دیکھو کہ
یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا۔ اول عورتوں کو
کہ سب طرح آسایش میں تھیں فلاں جنگی میں اولاد کا مارا جانا۔ چورتھگوں
کے ہاتھ سے لُٹنا۔ عاملوں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ
رہنا اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں، پھر دیکھو لوگو کس قدر خیر خواہ اور مطیع
سرکار کی عملداری کی تھیں ۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسائش سے تھے یہاں
میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں
پہنچا نقصان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا +
{{x-larger|اصل چہارم}}
{{right| چہارم ذکر ان باتوں کا جس کا گورنمنٹ کو دریغ}} {{right| محبت و اتحاد کا ہندوستانیوں سے ذکر کرنا۔}}
ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا
ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا ۔
جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں گو وہ ہمارے بعض حکام
کے ناگوارِ طبع ہوں مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس
مقام بہت ضرور ہے یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور
دام میں آتے ہیں درندے رام ہوتے ہیں انسان کی تو کیا حقیقت ہے
}}<noinclude></noinclude>
7emgh49x4lr4zf23lq3y7zqiysljgxa
34903
34902
2026-06-14T12:35:30Z
Asimali2003
224
34903
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|
۳۹
عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو
<br>
نفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند
<br>
امن اور آسائش اور آزادی۔ رستوں کا صاف ہونا ڈاکوؤں ہرزہ
ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا۔ سڑکوں کا آراستہ ہونا مسافروں
کی آسایش۔ بیوپاریوں کا مال دُور دُور بھیجنا۔ غریب اعلیٰ اور ادنیٰ
کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا۔ خونریزی اور خانہ جنگی کا بند
ہونا۔ زیردست زبردست کا زد وساٹھنا اور اسی قسم کی بہت سی باتیں
ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہونگی مگر غور کرو کہ ان سبوں
سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی ایک اور بات دیکھو کہ
یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا۔ اول عورتوں کو
کہ سب طرح آسایش میں تھیں فلاں جنگی میں اولاد کا مارا جانا۔ چورتھگوں
کے ہاتھ سے لُٹنا۔ عاملوں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ
رہنا اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں، پھر دیکھو لوگو کس قدر خیر خواہ اور مطیع
سرکار کی عملداری کی تھیں ۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسائش سے تھے یہاں
میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں
پہنچا نقصان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا +
{{x-larger|اصل چہارم}}
{{right| چہارم ذکر ان باتوں کا جس کا گورنمنٹ کو دریغ}} {{right| محبت و اتحاد کا ہندوستانیوں سے ذکر کرنا۔}}
ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا
ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا ۔
جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں گو وہ ہمارے بعض حکام
کے ناگوارِ طبع ہوں مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس
مقام بہت ضرور ہے یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور
دام میں آتے ہیں درندے رام ہوتے ہیں انسان کی تو کیا حقیقت ہے
}}<noinclude></noinclude>
8zcnjzrv7v0jfm4w7vhbp67b7vsgkzk
34906
34903
2026-06-14T13:29:56Z
BalramBodhi
60
34906
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو
<br>
نفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند
<br>
امن اور آسائش اور آزادی۔ رستوں کا صاف ہونا ڈاکوؤں رہزنوں ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا۔ سڑکوں کا آراستہ ہونا مسافروں کی آسایش۔ بیوپاریوں کا مال دُور دُور بھیجنا۔ غریب اعلیٰ اور ادنیٰ کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا۔ خونریزی اور خانہ جنگی کا بند ہونا۔ زیردست زبردست کا زور اُٹھنا اور اسی قسم کی بہت سی باتیں ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہونگی مگر غور کرو کہ ان باتوں سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی ایک اور بات دیکھو کہ یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہُوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا۔ اول عورتوں کو کہ سب طرح آسایش میں تھیں خانہ جنگی میں اولاد کا مارا جانا۔ چور ٹھگوں کے ہاتھ سے لُٹنا۔ عاملوں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ رہنا اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں۔ پھر دیکھو لو کہ کس قدر خیر خواہ اور مداح سرکار کی عملداری کی تھیں۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسائش سے تھے پھر ان میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں پہنچا تھا ان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا.
{{x-larger|اصل چہارم}}
{{right| چہارم نہ کرتا اُن باتوں کا جن کا کرنا گورنمنٹ دریغ}} {{right| محبت اور اتحاد کا ہندوستانیوں سے نہ کرنا۔}}
ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا.
جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں گو وہ ہمارے بعض حکام کے ناگوارِ طبع ہوں مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس
مقام بہت ضرور ہے یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور دام میں آتے ہیں درندے رام ہوتے ہیں انسان کی تو کیا حقیقت ہے<noinclude></noinclude>
nbj56qbugrf9wn5tg7wy1vp46en7hvy
34912
34906
2026-06-14T14:02:07Z
Asimali2003
224
34912
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:1em; margin:1em;">
{{center|عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو}}
{{center|نفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند}}
امن اور آسائش اور آزادی۔ رستوں کا صاف ہونا ڈاکوؤں رہزنوں ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا۔ سڑکوں کا آراستہ ہونا مسافروں کی آسایش۔ بیوپاریوں کا مال دُور دُور بھیجنا۔ غریب اعلیٰ اور ادنیٰ کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا۔ خونریزی اور خانہ جنگی کا بند ہونا۔ زیردست زبردست کا زور اُٹھنا اور اسی قسم کی بہت سی باتیں ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہونگی مگر غور کرو کہ ان باتوں سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی ایک اور بات دیکھو کہ یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہُوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا۔ اول عورتوں کو کہ سب طرح آسایش میں تھیں خانہ جنگی میں اولاد کا مارا جانا۔ چور ٹھگوں کے ہاتھ سے لُٹنا۔ عاملوں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ رہنا اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں۔ پھر دیکھو لو کہ کس قدر خیر خواہ اور مداح سرکار کی عملداری کی تھیں۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسائش سے تھے پھر ان میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں پہنچا تھا ان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا.
{{center|{{x-larger|اصل چہارم}}}}
{{right| چہارم نہ کرتا اُن باتوں کا جن کا کرنا گورنمنٹ دریغ}} {{right| محبت اور اتحاد کا ہندوستانیوں سے نہ کرنا۔}}
ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا.
جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں گو وہ ہمارے بعض حکام کے ناگوارِ طبع ہوں مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس
مقام بہت ضرور ہے یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور دام میں آتے ہیں درندے رام ہوتے ہیں انسان کی تو کیا حقیقت ہے<noinclude></noinclude>
mqwc3jz6of4dpfmpo62v50dbfajamqq
34918
34912
2026-06-14T18:34:43Z
Asimali2003
224
34918
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو}}
{{center|نفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند}}
امن اور آسائش اور آزادی۔ رستوں کا صاف ہونا ڈاکوؤں رہزنوں ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا۔ سڑکوں کا آراستہ ہونا مسافروں کی آسایش۔ بیوپاریوں کا مال دُور دُور بھیجنا۔ غریب اعلیٰ اور ادنیٰ کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا۔ خونریزی اور خانہ جنگی کا بند ہونا۔ زیردست زبردست کا زور اُٹھنا اور اسی قسم کی بہت سی باتیں ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہونگی مگر غور کرو کہ ان باتوں سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی ایک اور بات دیکھو کہ یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہُوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا۔ اول عورتوں کو کہ سب طرح آسایش میں تھیں خانہ جنگی میں اولاد کا مارا جانا۔ چور ٹھگوں کے ہاتھ سے لُٹنا۔ عاملوں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ رہنا اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں۔ پھر دیکھو لو کہ کس قدر خیر خواہ اور مداح سرکار کی عملداری کی تھیں۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسائش سے تھے پھر ان میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں پہنچا تھا ان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا.
{{center|{{x-larger|اصل چہارم}}}}
ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا.
جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں گو وہ ہمارے بعض حکام کے ناگوارِ طبع ہوں مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس
مقام بہت ضرور ہے یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور دام میں آتے ہیں درندے رام ہوتے ہیں انسان کی تو کیا حقیقت ہے
</div>
</div>
{{Float right|چہارم نہ کرتا اُن باتوں کا جن کا کرنا گورنمنٹ دریغ}}
</br>
{{Float right|محبت اور اتحاد کا ہندوستانیوں سے نہ کرنا
}}<noinclude></noinclude>
o1wy8suadrktjh1oaz5ptbi2l83yxoz
34934
34918
2026-06-15T06:17:56Z
Asimali2003
224
34934
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو}}
{{center|نفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند}}
امن اور آسائش اور آزادی۔ رستوں کا صاف ہونا ڈاکوؤں رہزنوں ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا۔ سڑکوں کا آراستہ ہونا مسافروں کی آسایش۔ بیوپاریوں کا مال دُور دُور بھیجنا۔ غریب اعلیٰ اور ادنیٰ کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا۔ خونریزی اور خانہ جنگی کا بند ہونا۔ زیردست زبردست کا زور اُٹھنا اور اسی قسم کی بہت سی باتیں ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہونگی مگر غور کرو کہ ان باتوں سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی ایک اور بات دیکھو کہ یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہُوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا۔ اول عورتوں کو کہ سب طرح آسایش میں تھیں خانہ جنگی میں اولاد کا مارا جانا۔ چور ٹھگوں کے ہاتھ سے لُٹنا۔ عاملوں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ رہنا اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں۔ پھر دیکھو لو کہ کس قدر خیر خواہ اور مداح سرکار کی عملداری کی تھیں۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسائش سے تھے پھر ان میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں پہنچا تھا ان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا.
{{center|{{x-larger|اصل چہارم}}}}</br>
{{gap}}ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا.
جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں گو وہ ہمارے بعض حکام کے ناگوارِ طبع ہوں مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس
مقام بہت ضرور ہے یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور دام میں آتے ہیں درندے رام ہوتے ہیں انسان کی تو کیا حقیقت ہے
</div>
</div>
{{Float right|چہارم نہ کرتا اُن باتوں کا جن کا کرنا گورنمنٹ دریغ}}
</br>
{{Float right|محبت اور اتحاد کا ہندوستانیوں سے نہ کرنا
}}<noinclude></noinclude>
esy57e0jg988k8nv8xsrdjslbst4t8d
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/41
250
13699
34913
2026-06-14T18:13:09Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34913
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:1em; margin:1em; margin-left:8em;">
{{center|۳۶}}
{{right|کہ لارڈ بیکز اسپیچ کافی نہیں کہ ہم اس مقام پر دوستی اورمحبت اور ربط اور اتحاد کے فائدہ بیان کریں ہاں اتنی بات بیان کرنی ضرور ہے کہ آپس کی محبت اور ہمسایہ کی دوستی سے گورنمنٹ اور رعایا کی محبت بہت بڑھ کر ہے دوست کو ایک شخص سے دوستی کرنی پڑتی ہے۔ اورگورنمنٹ کو اپنی تمام رعایا سے محب اور محبوب صرف دو شخص ہوتےہیں جو دلی ارتباط سے ایک گنے جاتے ہیں گورنمنٹ کو تمام رعایا سےایسا ارتباط پیدا کرنا پڑتا ہے کہ رعیت اور گورنمنٹ سب مل کر
ایک تن ہو جاویں ؎}}
{{center|رعیت چو بیخ است و سلطان درخت}}
{{center|درخت اے پسر باشد از بیخ سخت}}
کیا یہ بات ہندوستان میں ہماری گورنمنٹ سے نہیں ہو سکتی تھی
کیوں نہ ہو سکتی تھی اس لئے کہ ہم کو دن رات تجربہ ہوتا ہے کہ دو غیرملک اور مختلف مذہب کے آدمیوں میں دلی اتحاد ہوتا ہے اس صورت میں کہ وہ اتحاد کرنا چاہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دو ہم قوم اور ہم مذہب اور ہم وطن آدمیوں میں کمال عداوت اور دشمنی ہوتی ہے اس سےثابت ہے کہ محبت اور اتحاد اور دوستی ہونے کو اتحادِ مذہب و ہم وطن اور ہم قوم ہونا ضرورنہیں کیا پاؤل مقدس کی یہ نصیحت حکمت آمیزنہیں ہے کہ جیسے ہم تم سے محبت کرتے ہیں ویسا ہی خداوند تمہاری محبت آپس میں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بڑھنے اور زیادہ ہونےدیوے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف اپنے پڑوسیوں اور ہم قوموں سے بلکہ سب سے یہاں تک کہ دشمنوں سے سچی محبت ہو اور وہ محبت اورمہربانی روز بروز بڑھتی جاوے اور کیا مسیح مقدس کا یہ قول دل کوتسلی دینے والا نہیں ہے کہ جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں ویسا ہی تم بھی اُن سے کرو کیونکہ توریت اور نبیوں کی کتاب کا
{{left|پاؤل کا خط
باب ۳ درس
}}<noinclude></noinclude>
06lt3otafe9ub7h0kgm7ykwqcfu30ly
34915
34913
2026-06-14T18:21:43Z
Asimali2003
224
34915
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۳۶}}
{{right|کہ لارڈ بیکز اسپیچ کافی نہیں کہ ہم اس مقام پر دوستی اورمحبت اور ربط اور اتحاد کے فائدہ بیان کریں ہاں اتنی بات بیان کرنی ضرور ہے کہ آپس کی محبت اور ہمسایہ کی دوستی سے گورنمنٹ اور رعایا کی محبت بہت بڑھ کر ہے دوست کو ایک شخص سے دوستی کرنی پڑتی ہے۔ اورگورنمنٹ کو اپنی تمام رعایا سے محب اور محبوب صرف دو شخص ہوتےہیں جو دلی ارتباط سے ایک گنے جاتے ہیں گورنمنٹ کو تمام رعایا سےایسا ارتباط پیدا کرنا پڑتا ہے کہ رعیت اور گورنمنٹ سب مل کر
ایک تن ہو جاویں ؎}}
{{center|رعیت چو بیخ است و سلطان درخت}}
{{center|درخت اے پسر باشد از بیخ سخت}}
کیا یہ بات ہندوستان میں ہماری گورنمنٹ سے نہیں ہو سکتی تھی
کیوں نہ ہو سکتی تھی اس لئے کہ ہم کو دن رات تجربہ ہوتا ہے کہ دو غیرملک اور مختلف مذہب کے آدمیوں میں دلی اتحاد ہوتا ہے اس صورت میں کہ وہ اتحاد کرنا چاہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دو ہم قوم اور ہم مذہب اور ہم وطن آدمیوں میں کمال عداوت اور دشمنی ہوتی ہے اس سےثابت ہے کہ محبت اور اتحاد اور دوستی ہونے کو اتحادِ مذہب و ہم وطن اور ہم قوم ہونا ضرورنہیں کیا پاؤل مقدس کی یہ نصیحت حکمت آمیزنہیں ہے کہ جیسے ہم تم سے محبت کرتے ہیں ویسا ہی خداوند تمہاری محبت آپس میں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بڑھنے اور زیادہ ہونےدیوے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف اپنے پڑوسیوں اور ہم قوموں سے بلکہ سب سے یہاں تک کہ دشمنوں سے سچی محبت ہو اور وہ محبت اورمہربانی روز بروز بڑھتی جاوے اور کیا مسیح مقدس کا یہ قول دل کوتسلی دینے والا نہیں ہے کہ جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں ویسا ہی تم بھی اُن سے کرو کیونکہ توریت اور نبیوں کی کتاب کا
{{left|پاؤل کا خط
باب ۳ درس
}}
</div>
</div><noinclude></noinclude>
n2zc9vu4tk8iz9mhamgalygf8gwjzek
34929
34915
2026-06-15T05:46:16Z
BalramBodhi
60
34929
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۳۶}}
کہ لارڈ بیکز ایسیچ کافی نہیں کہ ہم اس مقام پے دوستی اور محبّت اور ربط اور اتحاد کے فائدہ بیان کریں ہاں اتنی بات بیان کرنی ضرور ہے کہ آپس کی محبت اور ہمسایہ کی دوستی سے گورنمنٹ اور رعایا کی محبت بہت بڑھ کر ہے دوست کو ایک شخص سے دوستی کرنی پڑتی ہے۔ اور گورنمنٹ کو اپنی تمام رعایا سے محب اور محبوب صرف دو شخص ہوتے ہیں جو دلی ارتباط سے ایک گنے جاتے ہیں گورنمنٹ کو تمام رعایا سے ایسا ارتباط پیدا کرنا پڑتا ہے کہ رعیت اور گورنمنٹ سب مل کر
ایک تن ہو جاویں ؎}}
{{center|رعیت چو بیخ است و سلطان درخت}}
{{center|درخت اے پسر باشد از بیخ سخت}}
کیا یہ بات ہندوستان میں ہماری گورنمنٹ سے نہیں ہو سکتی تھی
کیوں نہ ہو سکتی تھی اس لئے کہ ہم کو دن رات تجربہ ہوتا ہے کہ دو غیرملک اور مختلف مذہب کے آدمیوں میں دلی اتحاد ہوتا ہے اس صورت میں کہ وہ اتحاد کرنا چاہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دو ہم قوم اور ہم مذہب اور ہم وطن آدمیوں میں کمال عداوت اور دشمنی ہوتی ہے اس سے ثابت ہے کہ محبت اور اتحاد اور دوستی ہونے کو اتحاد مذہب اور ہم وطن اور ہم قوم ہونا ضرور نہیں کیا پاؤل مقدس کی یہ نصیحت حکمت آمیز نہیں ہے کہ جیسے ہم تم سے محبت کرتے ہیں ویسا ہی خداوند تمہاری محبت آپس میں اور دوسروں کے ساتھ بڑھنے اور زیادہ ہونے دیوے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف اپنے پڑوسیوں اور ہم قوموں سے بلکہ سب سے یہاں تک کہ دشمنوں سے سچی محبت ہو اور وہ محبت اور مہربانی روز بروز بڑھتی جاوے اور کیا مسیح مقدس کا یہ قول دل کو تسلی دینے والا نہیں ہے کہ جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں ویسا ہی تم بھی اُن سے کرو کیونکہ توریت اور نبیوں کی کتاب کا
{{left|پاؤل کا خط
باب ۳ درس
}}
</div>
</div><noinclude></noinclude>
jgzc6qrqew0sdt32bxf1jn51p9lae47
34935
34929
2026-06-15T06:18:31Z
Asimali2003
224
34935
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۳۶}}
کہ لارڈ بیکز ایسیچ کافی نہیں کہ ہم اس مقام پے دوستی اور محبّت اور ربط اور اتحاد کے فائدہ بیان کریں ہاں اتنی بات بیان کرنی ضرور ہے کہ آپس کی محبت اور ہمسایہ کی دوستی سے گورنمنٹ اور رعایا کی محبت بہت بڑھ کر ہے دوست کو ایک شخص سے دوستی کرنی پڑتی ہے۔ اور گورنمنٹ کو اپنی تمام رعایا سے محب اور محبوب صرف دو شخص ہوتے ہیں جو دلی ارتباط سے ایک گنے جاتے ہیں گورنمنٹ کو تمام رعایا سے ایسا ارتباط پیدا کرنا پڑتا ہے کہ رعیت اور گورنمنٹ سب مل کر
ایک تن ہو جاویں ؎
{{center|رعیت چو بیخ است و سلطان درخت}}
{{center|درخت اے پسر باشد از بیخ سخت}}
کیا یہ بات ہندوستان میں ہماری گورنمنٹ سے نہیں ہو سکتی تھی
کیوں نہ ہو سکتی تھی اس لئے کہ ہم کو دن رات تجربہ ہوتا ہے کہ دو غیرملک اور مختلف مذہب کے آدمیوں میں دلی اتحاد ہوتا ہے اس صورت میں کہ وہ اتحاد کرنا چاہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دو ہم قوم اور ہم مذہب اور ہم وطن آدمیوں میں کمال عداوت اور دشمنی ہوتی ہے اس سے ثابت ہے کہ محبت اور اتحاد اور دوستی ہونے کو اتحاد مذہب اور ہم وطن اور ہم قوم ہونا ضرور نہیں کیا پاؤل مقدس کی یہ نصیحت حکمت آمیز نہیں ہے کہ جیسے ہم تم سے محبت کرتے ہیں ویسا ہی خداوند تمہاری محبت آپس میں اور دوسروں کے ساتھ بڑھنے اور زیادہ ہونے دیوے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف اپنے پڑوسیوں اور ہم قوموں سے بلکہ سب سے یہاں تک کہ دشمنوں سے سچی محبت ہو اور وہ محبت اور مہربانی روز بروز بڑھتی جاوے اور کیا مسیح مقدس کا یہ قول دل کو تسلی دینے والا نہیں ہے کہ جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں ویسا ہی تم بھی اُن سے کرو کیونکہ توریت اور نبیوں کی کتاب کا
{{left|پاؤل کا خط
باب ۳ درس
}}
</div>
</div><noinclude></noinclude>
bfdwc70dw96madn1xu0i7k5gukcnyah
34974
34935
2026-06-15T11:14:24Z
Asimali2003
224
34974
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۳۶}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
کہ لارڈ بیکز ایسیچ کافی نہیں کہ ہم اس مقام پے دوستی اور محبّت اور ربط اور اتحاد کے فائدہ بیان کریں ہاں اتنی بات بیان کرنی ضرور ہے کہ آپس کی محبت اور ہمسایہ کی دوستی سے گورنمنٹ اور رعایا کی محبت بہت بڑھ کر ہے دوست کو ایک شخص سے دوستی کرنی پڑتی ہے۔ اور گورنمنٹ کو اپنی تمام رعایا سے محب اور محبوب صرف دو شخص ہوتے ہیں جو دلی ارتباط سے ایک گنے جاتے ہیں گورنمنٹ کو تمام رعایا سے ایسا ارتباط پیدا کرنا پڑتا ہے کہ رعیت اور گورنمنٹ سب مل کر
ایک تن ہو جاویں ؎
{{center|رعیت چو بیخ است و سلطان درخت}}
{{center|درخت اے پسر باشد از بیخ سخت}}
کیا یہ بات ہندوستان میں ہماری گورنمنٹ سے نہیں ہو سکتی تھی
کیوں نہ ہو سکتی تھی اس لئے کہ ہم کو دن رات تجربہ ہوتا ہے کہ دو غیرملک اور مختلف مذہب کے آدمیوں میں دلی اتحاد ہوتا ہے اس صورت میں کہ وہ اتحاد کرنا چاہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دو ہم قوم اور ہم مذہب اور ہم وطن آدمیوں میں کمال عداوت اور دشمنی ہوتی ہے اس سے ثابت ہے کہ محبت اور اتحاد اور دوستی ہونے کو اتحاد مذہب اور ہم وطن اور ہم قوم ہونا ضرور نہیں کیا پاؤل مقدس کی یہ نصیحت حکمت آمیز نہیں ہے کہ جیسے ہم تم سے محبت کرتے ہیں ویسا ہی خداوند تمہاری محبت آپس میں اور دوسروں کے ساتھ بڑھنے اور زیادہ ہونے دیوے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ صرف اپنے پڑوسیوں اور ہم قوموں سے بلکہ سب سے یہاں تک کہ دشمنوں سے سچی محبت ہو اور وہ محبت اور مہربانی روز بروز بڑھتی جاوے اور کیا مسیح مقدس کا یہ قول دل کو تسلی دینے والا نہیں ہے کہ جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں ویسا ہی تم بھی اُن سے کرو کیونکہ توریت اور نبیوں کی کتاب کا
</div>
</div>
{{left|پاؤل کا خط
باب ۳ درس
}}<noinclude></noinclude>
e27o8vxn1zkiskjk6lnthb6z4e2b0os
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/278
250
13700
34920
2026-06-15T03:39:48Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”مل گئی۔ بھائی کے غم میں بڑی دیر تک ماتم کرتا رہا : (۴) میگھنا د کا مارا جانا دوسرے دن میگھناد بڑے سج دھج سے میدان میں آیا ۔ اُس نے دونو بھائیوں کو مار گرانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا ۔ ساری رات اپنی دیوی کی پوجا کرتا رہا تھا ۔ اُسے اپنی طاقت اور جوانم...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34920
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مل گئی۔ بھائی کے غم میں بڑی دیر تک ماتم
کرتا رہا :
(۴) میگھنا د کا مارا جانا
دوسرے دن میگھناد بڑے سج دھج سے
میدان میں آیا ۔ اُس نے دونو بھائیوں کو
مار گرانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا ۔ ساری رات
اپنی دیوی کی پوجا کرتا رہا تھا ۔ اُسے اپنی
طاقت اور جوانمردی کا بڑا غرہ تھا ۔ راون
کی ساری اُمیدیں آج ہی کی لڑائی پر قائم
تھیں ۔ لنکا میں پہلے ہی سے فتح کا جشن
منانے کی تیاریاں ہونے لگیں ۔ میگھنا د نے
میدان میں آکر ڈنکے پر چوٹ دلوائی تو بھیجھیشن
نے اُس کے سامنے جا کر کہا ۔ میگھناد میں جانتا
ہوں کہ طاقت اور ہمت میں تم اپنا ثانی نہیں
رکھتے ، نگر حق کی ہمیشہ جیت ہوئی ہے اور ہمیشہ
ہوگی ۔ میرا کہنا مانو ، چل کر رامچندر سے صلح کرلو۔<noinclude></noinclude>
b7rhkjfzm32ypcnr361p73gzi8553di
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/279
250
13701
34921
2026-06-15T03:40:01Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”9. وہ تمہیں معاف کر دینگے ، " میگھناو نے غصہ سے آنکھیں نکال کر کہا۔ چچا صاحب تمہیں شرم نہیں آتی کہ مجھے سمجھانے آئے ہو ۔ بغاوت سے بڑھ کر دنیا میں دوسرا گناہ نہیں ۔ جو آدمی مدعی سے مل کر اپنے گھر اور اپنے ملک کی بدخواہی کرتا ہے اُس کی صُورت دیکھنا ب...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34921
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>9.
وہ تمہیں معاف کر دینگے ،
"
میگھناو نے غصہ سے آنکھیں نکال کر کہا۔
چچا صاحب تمہیں شرم نہیں آتی کہ مجھے
سمجھانے آئے ہو ۔ بغاوت سے بڑھ کر دنیا
میں دوسرا گناہ نہیں ۔ جو آدمی مدعی سے مل کر
اپنے گھر اور اپنے ملک کی بدخواہی کرتا ہے
اُس کی صُورت دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ آپ میرے
سامنے سے چلے جائیے
بھیشن تو ادھر شرمندہ ہو کر چلا گیا "
ادھر لکشمن نے سامنے آکر میگھناد کو دعوتِ
جنگ دی ۔ لکشمن کو دیکھ کر میگھناد بولا۔ ابھی
دو چار روز زخم کی مرہم پٹی اور کروا لیتے۔
کہیں آج زخم پھر نہ تازہ ہو جائے ۔ جا کہ
جاتے
اپنے بڑے بھائی کو بھیج دو ہے
لکشمن نے کمان پر تیر چڑھا کر کہا۔ ایسے
ایسے زخموں کی جوانمرد لوگ بالکل پرواه نهین
کرتے ۔ آج ایک بار پھر ہماری اور تمہاری<noinclude></noinclude>
ew0xe6kjdqd30k7efdoq3ijyg6bhsyh
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/280
250
13702
34922
2026-06-15T03:40:19Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۲۷۴ ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا کہ دو نہ دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔ گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناون پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں ک...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34922
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۷۴
ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا
خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا
مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا کہ
دو نہ دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔
گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناون
پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں کا
کاٹنا مشکل پڑ گیا ۔ مگر جوں جوں وقت گزرتا
گیا لکشمن سنبھلتے گئے ۔ اور میگھنا د کمزور
جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ لکشمن اُس پر غالب
آگئے اور ایک تیر اُس کی گردن پر ایسا مارا
کہ اُس کا سرکٹ کی الگ جا گرا ہے
میگھناد کے گرتے ہی راکشسوں کے ہاتھ
پاؤں پھول گئے ۔ بھگدر پڑ گئی ۔ راوں نے
یہ خبر سنی تو اُس کے منہ سے ٹھنڈی آہ
نکل گئی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ انتقام
کے جوش سے پاگل ہو گیا ۔ رام اور لکشمن تو
اُس کے قابو سے باہر تھے ۔ سیتاجی کو قتل<noinclude></noinclude>
sesghtib83v2uvwie1cz43uhywf9s5i
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/281
250
13703
34923
2026-06-15T03:40:30Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”b کر ڈالنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ تلوار لے کر دوڑتا ہوا اشوک بانکا میں پہنچا ۔ سیتا جی نے اُس کے ہاتھ میں ننگی تلوارہ دیکھی تو سہم اٹھیں۔ مگر راون کا وزیر بڑا دانا تھا ۔ وہ بھی اُس کے پیچھے پیچھے دوڑتا چلا گیا تھا ۔ راون کو ایک سیکس کی جان لینے پر آم...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34923
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>b
کر ڈالنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ تلوار لے کر
دوڑتا ہوا اشوک بانکا میں پہنچا ۔ سیتا جی نے
اُس کے ہاتھ میں ننگی تلوارہ دیکھی تو سہم
اٹھیں۔
مگر راون کا وزیر بڑا دانا تھا ۔ وہ بھی اُس کے
پیچھے پیچھے دوڑتا چلا گیا تھا ۔ راون کو ایک سیکس
کی جان لینے پر آمادہ دیکھ کر بولا ۔
مہاراج - گستاخی معاف ہو ، عورت پر ہاتھ
اُٹھانا آپ کی شان کے خلاف ہے ۔ آپ
دیدوں کے عالم ہیں ۔ ہمت اور دلاوری نہیں
آج دنیا میں آپ کا ہمسر نہیں ۔ اپنے رتبے
اور علم کا خیال کیجئے اور اس فعل سے باز آئیے
ان باتوں نے راون کا غصہ ٹھنڈا کر دیا ۔
تلوار میان میں رکھ لی ۔ اور لوٹ آیا *
اُسی وقت میگھناد کی عصمت آب بیوی
سلوچنا نے آکر کہا ۔ مہاراج - اب کہیں زندہ
رہ کر کیا کرونگی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے
اُسے لے کر ستی ہو جاؤنگی .<noinclude></noinclude>
hxz6zmarhspufhck09q8gmtx7nqviay
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/282
250
13704
34924
2026-06-15T03:43:30Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۲۷۶ راون نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔ بیٹی ۔ تیرے پتی کا سر تجھے اُسی وقت ملیگا جب میں دونو بھائیوں کا سرکاٹ ٹونگا صبر کہ : سلوچنا اپنی ساس مندودری کے پاس آئی۔ دونو ساس بہوئیں گلے مل کر خوب روئیں ۔ ب سلوچنا بولی - ماتا جی ۔ میں اب انا تھ ہو گئی ۔...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34924
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۷۶
راون نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔
بیٹی ۔ تیرے پتی کا سر تجھے اُسی وقت ملیگا
جب میں دونو بھائیوں کا سرکاٹ ٹونگا
صبر کہ :
سلوچنا اپنی ساس مندودری کے پاس آئی۔
دونو ساس بہوئیں گلے مل کر خوب روئیں ۔
ب سلوچنا بولی - ماتا جی ۔ میں اب انا تھ ہو گئی ۔
میرے پتی کا سر منگوا دیجئے تو سنتی ہو جاؤں۔
اب جی کہ کیا کرونگی ۔ جہاں سوامی ہیں وہیں
میں بھی جاؤنگی ۔ یہ جدائی اب مجھ سے نہیں
سی جاتی ، :
مندودری نے بہو کو پیار کر کے کہا بیٹی
اگر تم نے یہی فیصلہ کیا ہے تو مُبارک ہو۔
میگھناد کا سر اور تو کسی طرح نہ ملیگا ۔ تم
خود جا کر مانگو تو البتہ مل سکتا ہے ۔ رامچندر
بڑے نیک آدمی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ
تمہارے سوال کو رد نہ کرینگے ۔<noinclude></noinclude>
s953bvwcby2gjofs5f79uys8ib5qkon
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/283
250
13705
34925
2026-06-15T03:43:44Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سلوچنا اُسی وقت راج محل سے نکل کر رامچندر کی فوج میں آئی ۔ اور رامچندر کے روبرو جاکر بولی' مہاراج - ایک اناتھ بدھوا آپ سے ایک درخواست کرنے آئی ہے ۔ اُسے قبول میرے بہتی ویہ میگھناد کا سر مجھے دے دیجئے ۔ میگھناد کا سر سلوچنا کو دلوا دیا ۔ اور اُس کے...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34925
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>سلوچنا اُسی وقت راج محل سے نکل کر
رامچندر کی فوج میں آئی ۔ اور رامچندر کے روبرو
جاکر بولی' مہاراج - ایک اناتھ بدھوا آپ سے
ایک درخواست کرنے آئی ہے ۔ اُسے قبول
میرے بہتی ویہ میگھناد کا سر مجھے دے دیجئے ۔
میگھناد کا سر سلوچنا کو
دلوا دیا ۔ اور اُس کے تھوڑی ہی دیر بعد سلوچنا
ستی ہو گئی ۔ چتا کی لپٹ آسمان تک پہنچی۔
سی
نے سلوچنا کو جاتے نہ دیکھا ۔ پر وہ
بہشت میں داخل ہو گئی ؟
رامچندر نے فوراً
(۵) راون میدان میں
رات بھر تو راون غم اور غصہ سے جلتا
رہا ۔ صبح ہوتے ہی میدان کی طرف چلا ۔
لنکا کی ساری فوج اُس کے ساتھ تھی ۔ آج
لڑائی کا فیصلہ ہو جائیگا ۔ اس لئے دوٹو طرف
کے لوگ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے تیار<noinclude></noinclude>
25nrpl8c7tzs2m001hok0yfomztcao9
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/284
250
13706
34926
2026-06-15T03:43:57Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”میٹھے تھے ۔ راون کو میدان میں دیکھتے ہی رامچندر خود تیر و کمان لئے نکل آئے ۔ اب تک انہوں نے راون کا صرف نام سنا تھا۔ اب اُس کی صورت دیکھی تو مارے غصہ کے آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے ۔ اُدھر راون کو بھی اپنے دو بیٹوں کے خون کا اور اپنی بہن کی بے عزتی کا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34926
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>میٹھے تھے ۔ راون کو میدان میں دیکھتے ہی رامچندر
خود تیر و کمان لئے نکل آئے ۔ اب تک انہوں
نے راون کا صرف نام سنا تھا۔ اب اُس کی
صورت دیکھی تو مارے غصہ کے آنکھوں سے
شعلے نکلنے لگے ۔ اُدھر راون کو بھی اپنے دو
بیٹوں کے خون کا اور اپنی بہن کی بے عزتی
کا بدلہ لینا تھا ۔ گھمسان کی لڑائی ہونے لگی۔
راون کی برابری کرنے والا لنکا میں تو کیا
رامچندر کی فوج میں بھی کوئی نہ تھا ۔ سگریو،
انگر ہنومان وغیرہ دلاور اُس پر ایک ساتھ
بھالے، گرز اور تیر چلاتے تھے ۔ نیل اور نل
اُس پر پتھر مارتے تھے ۔ پر اُس نے اتنی
تیزی سے تیر چلائے کہ کوئی سامنے نہ ٹھیر سکا.
نے دیکھا کہ رامچند یہ اس کے مقابلہ میں
اکیلے رہے جاتے ہیں تو وہ بھی آکھڑے ہوئے
اور نیزوں کی بوچھار کرنے لگے ۔ مگر راون پہاڑ
کی طرح اٹل کھڑا سب کے حملوں کا جواب دے رہا<noinclude></noinclude>
srwmzid5u8xhz4ih71ifyawb0trwwzi
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/285
250
13707
34927
2026-06-15T03:44:11Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”تھا۔ آخر اُس نے موقع پا کر ایک تیر ایسا چلایا کہ لکشمن بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ دوسرا تیر رامچندر پر پڑا ۔ وہ بھی گھر پڑے ۔ راون نے فوراً تلوار نکالی اور چاہتا تھا کہ رامچندر کو قتل کر دے کہ ہنومان نے لیک کر اُس کے سینہ میں ایک گڑا اتنے زور سے ماری کہ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34927
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>تھا۔ آخر اُس نے موقع پا کر ایک تیر ایسا چلایا
کہ لکشمن بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ دوسرا تیر
رامچندر پر پڑا ۔ وہ بھی گھر پڑے ۔ راون نے
فوراً تلوار نکالی اور چاہتا تھا کہ رامچندر کو قتل
کر دے کہ ہنومان نے لیک کر اُس کے سینہ
میں ایک گڑا اتنے زور سے ماری کہ وہ سنبھل
نہ سکا ۔ اس کا گرنا تھا کہ رام اور لکشمن اُٹھ
بیٹھے ۔ راون بھی ہوش میں آگیا ۔ پھر لڑائی
ہونے لگی ۔ آخر رامچندر کا ایک تیر راون کے
سینہ میں ترازو ہو گیا ۔ خون کی دھار یہ نکلی
اُس کی آنکھیں بند ہو گئیں ۔ رتھ بان نے سمجھا
راون کا کام تمام ہو گیا ۔ رتھ کو میدان سے
بھگا کر شہر کی طرف چلا ۔ راستہ میں راون کو
ہوش آ گیا ۔ رتھ کو شہر کی طرف جاتے دیکھ کر
غصہ سے آگ ہو گیا ۔ اُسی وقت رتھ کو میدان
کی طرف لے چلنے کا حکم دیا ۔ اتفاق سے اسی
وقت بھھیشن سامنے آگیا ۔ راون نے اُسے<noinclude></noinclude>
5jhya6bzuytgzw0m6nuftj7azq49bwl
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/43
250
13708
34930
2026-06-15T05:48:45Z
Asimali2003
224
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ” <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> {{center|۴۱}} بیشک محبت ایک دِل کی چیز ہے جو کہے ساد اور بنانے سے نہیں بنتی ظاہر میں بھی اگر چہ اس کے آثار پائے جاتے ہیں الا سچ یہ ہےکہ نہ وہ بیان ہو سکتی ہے اور نہ نشان دیکھا سکتی ہے۔ مگر دِل اِ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34930
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Asimali2003" /></noinclude> <div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۴۱}}
بیشک محبت ایک دِل کی چیز ہے جو کہے ساد اور بنانے سے نہیں بنتی ظاہر میں بھی اگر چہ اس کے آثار پائے جاتے ہیں الا سچ یہ ہےکہ نہ وہ بیان ہو سکتی ہے اور نہ نشان دیکھا سکتی ہے۔ مگر دِل اِس کوخوب جانتا ہے بلکہ اُس کے ہاتھ میں بلکہ اُس کے ہاتھ میں ایک ایسی سچی ترازو ہے کہ وہ کمی بیشی کو بھی پہچانتا ہے ؎
{{center|دل را بدل رہے است دریں گنبدِ پیر}}
{{center|از سوئے کینہ کینہ و زسوئے مہر مہر}}
ہماری گورنمنٹ نے اپنے آپ کو آج تک ہندوستانیوں سےایسا الگ اور اُن میل رکھا ہے جیسے آگ اور سوکھی گھاس ہماری گورنمنٹ
اور ہندوستانی پتھر کے دو ٹکڑے ہیں سفید و کالے کہ الگ الگ پہچانےجاتے ہیں اور پھر ان دونوں میں ایک فاصلہ ہے کہ دن بدن زیادہ ہوتاجاتا ہے حالانکہ ہماری گورنمنٹ کو ہندوستان کی رعایاکے ساتھ ایسا ہونا چاہئے جیسے ابریکا پتھر کہ باوجود دو رنگ کے ایک ہوتا ہےسفید رنگ میں سیاہ خال بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اورسیاہی میں سفیدی عجیب بہار دکھلاتی ہے۔ +
ہم نا انصافی کی بات نہیں کہتے۔ ہماری گورنمنٹ کو بلا شبہ عیسائیوں کے ساتھ ایک خاص محبت دینداری کی رکھنی چاہئے مگر ہم اپنی گورنمنٹ سے رعایائے ہندوستان پر وہ برادرانہ محبت اور برادرانہ محبت پر وہ الفت چاہتے ہیں جس کی نصیحت پطرس مقدس نےکی ہے اب غور کرو کہ ہمارے حکام اور ہندوستانیوں کا خون ایک نہ تھا مذہب ایک نہ تھا رسم و رواج ایک نہ تھا دِلی رضامندی رعایا کو نہ تھی آپس میں محبت اور اتحاد نہ تھا۔ پھر کس بات پر ہمارے حکام ہند
وستان سے وفاداری کی توقع رکھتے تھے +
ہندوستان کی پچھلی سلطنتوں کا حال دیکھو دِل ہندوستان پر
</div>
</div>
{{Float right|پطرس کا خط ۲ باب}}</br>
{{Float right|درس ۷ }} </br>
{{Float right|پچھلی عملداریوں میں جبتک </br>
ہندوستانیوں کو محبت و اتحاد کی </br>
ساعت نہیں ہوئی +}}<noinclude></noinclude>
g0gwko6b6e399abuaif5lwtik16sz7s
34931
34930
2026-06-15T05:49:34Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34931
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude> <div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۴۱}}
بیشک محبت ایک دِل کی چیز ہے جو کہے ساد اور بنانے سے نہیں بنتی ظاہر میں بھی اگر چہ اس کے آثار پائے جاتے ہیں الا سچ یہ ہےکہ نہ وہ بیان ہو سکتی ہے اور نہ نشان دیکھا سکتی ہے۔ مگر دِل اِس کوخوب جانتا ہے بلکہ اُس کے ہاتھ میں بلکہ اُس کے ہاتھ میں ایک ایسی سچی ترازو ہے کہ وہ کمی بیشی کو بھی پہچانتا ہے ؎
{{center|دل را بدل رہے است دریں گنبدِ پیر}}
{{center|از سوئے کینہ کینہ و زسوئے مہر مہر}}
ہماری گورنمنٹ نے اپنے آپ کو آج تک ہندوستانیوں سےایسا الگ اور اُن میل رکھا ہے جیسے آگ اور سوکھی گھاس ہماری گورنمنٹ
اور ہندوستانی پتھر کے دو ٹکڑے ہیں سفید و کالے کہ الگ الگ پہچانےجاتے ہیں اور پھر ان دونوں میں ایک فاصلہ ہے کہ دن بدن زیادہ ہوتاجاتا ہے حالانکہ ہماری گورنمنٹ کو ہندوستان کی رعایاکے ساتھ ایسا ہونا چاہئے جیسے ابریکا پتھر کہ باوجود دو رنگ کے ایک ہوتا ہےسفید رنگ میں سیاہ خال بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اورسیاہی میں سفیدی عجیب بہار دکھلاتی ہے۔ +
ہم نا انصافی کی بات نہیں کہتے۔ ہماری گورنمنٹ کو بلا شبہ عیسائیوں کے ساتھ ایک خاص محبت دینداری کی رکھنی چاہئے مگر ہم اپنی گورنمنٹ سے رعایائے ہندوستان پر وہ برادرانہ محبت اور برادرانہ محبت پر وہ الفت چاہتے ہیں جس کی نصیحت پطرس مقدس نےکی ہے اب غور کرو کہ ہمارے حکام اور ہندوستانیوں کا خون ایک نہ تھا مذہب ایک نہ تھا رسم و رواج ایک نہ تھا دِلی رضامندی رعایا کو نہ تھی آپس میں محبت اور اتحاد نہ تھا۔ پھر کس بات پر ہمارے حکام ہند
وستان سے وفاداری کی توقع رکھتے تھے +
ہندوستان کی پچھلی سلطنتوں کا حال دیکھو دِل ہندوستان پر
</div>
</div>
{{Float right|پطرس کا خط ۲ باب}}</br>
{{Float right|درس ۷ }} </br>
{{Float right|پچھلی عملداریوں میں جبتک </br>
ہندوستانیوں کو محبت و اتحاد کی </br>
ساعت نہیں ہوئی +}}<noinclude></noinclude>
3dvrsg29u3enzu602nbxene1ud1z2eb
34937
34931
2026-06-15T06:22:01Z
Asimali2003
224
34937
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude> <div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۴۱}}
بیشک محبت ایک دِل کی چیز ہے جو کہے ساد اور بنانے سے نہیں بنتی ظاہر میں بھی اگر چہ اس کے آثار پائے جاتے ہیں الا سچ یہ ہےکہ نہ وہ بیان ہو سکتی ہے اور نہ نشان دیکھا سکتی ہے۔ مگر دِل اِس کوخوب جانتا ہے بلکہ اُس کے ہاتھ میں بلکہ اُس کے ہاتھ میں ایک ایسی سچی ترازو ہے کہ وہ کمی بیشی کو بھی پہچانتا ہے ؎
{{center|دل را بدل رہے است دریں گنبدِ پیر}}
{{center|از سوئے کینہ کینہ و زسوئے مہر مہر}}
ہماری گورنمنٹ نے اپنے آپ کو آج تک ہندوستانیوں سےایسا الگ اور اُن میل رکھا ہے جیسے آگ اور سوکھی گھاس ہماری گورنمنٹ
اور ہندوستانی پتھر کے دو ٹکڑے ہیں سفید و کالے کہ الگ الگ پہچانےجاتے ہیں اور پھر ان دونوں میں ایک فاصلہ ہے کہ دن بدن زیادہ ہوتاجاتا ہے حالانکہ ہماری گورنمنٹ کو ہندوستان کی رعایاکے ساتھ ایسا ہونا چاہئے جیسے ابریکا پتھر کہ باوجود دو رنگ کے ایک ہوتا ہےسفید رنگ میں سیاہ خال بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اورسیاہی میں سفیدی عجیب بہار دکھلاتی ہے۔ +</br>
{{gap}}ہم نا انصافی کی بات نہیں کہتے۔ ہماری گورنمنٹ کو بلا شبہ عیسائیوں کے ساتھ ایک خاص محبت دینداری کی رکھنی چاہئے مگر ہم اپنی گورنمنٹ سے رعایائے ہندوستان پر وہ برادرانہ محبت اور برادرانہ محبت پر وہ الفت چاہتے ہیں جس کی نصیحت پطرس مقدس نےکی ہے اب غور کرو کہ ہمارے حکام اور ہندوستانیوں کا خون ایک نہ تھا مذہب ایک نہ تھا رسم و رواج ایک نہ تھا دِلی رضامندی رعایا کو نہ تھی آپس میں محبت اور اتحاد نہ تھا۔ پھر کس بات پر ہمارے حکام ہند
وستان سے وفاداری کی توقع رکھتے تھے +</br>
{{gap}}ہندوستان کی پچھلی سلطنتوں کا حال دیکھو دِل ہندوستان پر
</div>
</div>
{{Float right|پطرس کا خط ۲ باب}}</br>
{{Float right|درس ۷ }} </br>
{{Float right|پچھلی عملداریوں میں جبتک </br>
ہندوستانیوں کو محبت و اتحاد کی </br>
ساعت نہیں ہوئی +}}<noinclude></noinclude>
hf99iy67kjv036dhvy4hu8gvcoiyxau
34947
34937
2026-06-15T06:49:53Z
Asimali2003
224
34947
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۱}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
بیشک محبت ایک دِل کی چیز ہے جو کہے ساد اور بنانے سے نہیں بنتی ظاہر میں بھی اگر چہ اس کے آثار پائے جاتے ہیں الا سچ یہ ہےکہ نہ وہ بیان ہو سکتی ہے اور نہ نشان دیکھا سکتی ہے۔ مگر دِل اِس کوخوب جانتا ہے بلکہ اُس کے ہاتھ میں بلکہ اُس کے ہاتھ میں ایک ایسی سچی ترازو ہے کہ وہ کمی بیشی کو بھی پہچانتا ہے ؎
{{center|دل را بدل رہے است دریں گنبدِ پیر}}
{{center|از سوئے کینہ کینہ و زسوئے مہر مہر}}
ہماری گورنمنٹ نے اپنے آپ کو آج تک ہندوستانیوں سےایسا الگ اور اُن میل رکھا ہے جیسے آگ اور سوکھی گھاس ہماری گورنمنٹ
اور ہندوستانی پتھر کے دو ٹکڑے ہیں سفید و کالے کہ الگ الگ پہچانےجاتے ہیں اور پھر ان دونوں میں ایک فاصلہ ہے کہ دن بدن زیادہ ہوتاجاتا ہے حالانکہ ہماری گورنمنٹ کو ہندوستان کی رعایاکے ساتھ ایسا ہونا چاہئے جیسے ابریکا پتھر کہ باوجود دو رنگ کے ایک ہوتا ہےسفید رنگ میں سیاہ خال بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اورسیاہی میں سفیدی عجیب بہار دکھلاتی ہے۔ +</br>
{{gap}}ہم نا انصافی کی بات نہیں کہتے۔ ہماری گورنمنٹ کو بلا شبہ عیسائیوں کے ساتھ ایک خاص محبت دینداری کی رکھنی چاہئے مگر ہم اپنی گورنمنٹ سے رعایائے ہندوستان پر وہ برادرانہ محبت اور برادرانہ محبت پر وہ الفت چاہتے ہیں جس کی نصیحت پطرس مقدس نےکی ہے اب غور کرو کہ ہمارے حکام اور ہندوستانیوں کا خون ایک نہ تھا مذہب ایک نہ تھا رسم و رواج ایک نہ تھا دِلی رضامندی رعایا کو نہ تھی آپس میں محبت اور اتحاد نہ تھا۔ پھر کس بات پر ہمارے حکام ہند
وستان سے وفاداری کی توقع رکھتے تھے +</br>
{{gap}}ہندوستان کی پچھلی سلطنتوں کا حال دیکھو دِل ہندوستان پر
</div>
</div>
{{Float right|پطرس کا خط ۲ باب}}</br>
{{Float right|درس ۷ }} </br>
{{Float right|پچھلی عملداریوں میں جبتک </br>
ہندوستانیوں کو محبت و اتحاد کی </br>
ساعت نہیں ہوئی +}}<noinclude></noinclude>
8tk7jzt9vvyvt7dkqgrb1rrgohlr5l6
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/44
250
13709
34938
2026-06-15T06:22:29Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34938
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۴۲}}
مسلمانوں نے فتح پائی ترکوں اور پٹھانوں کی سلطنت میں ہندوستان کی رعایا سے محبت اور میل جول نہ ہوا جب تک آسایش اور آسودگی سلطنت نے صورت نہ پکڑسی مغلیہ کی سلطنت میں اکبر اول کے عہد سےیہ ملاپ بخوبی شروع ہوا اور شاہجہان کے وقت تک بدستور رہاباوجودیکہ اُس زمانہ میں بھی رعایا کو بے نظمی اصول سلطنت کے سبب تکلیفیں پہنچتی تھیں مگر وہ زخم مندمل ہو جاتا تھا اُس برادرانہ محبت سےجو آپس میں تھی ۱۶۵۸ء میں یعنی عالمگیر کے عہد میں یہ محبت ٹوٹ گئی اور بہ سبب مقابلہ اور سرکشی قوم ہنود کے مثل سیوا جی مرہٹہ وغیرہ کےعالمگیر جملہ قوم ہنود سے ناراض ہوا اور اپنے صوبہ داروں کے نام حکم بھیجے کہ جملہ قوم ہنود کے ساتھ سخت گیری پیش آوے اورہر ایک سے جزیہ لے پھر جو مضرت اور ناراضی رعایا کو ہوئی وہ ظاہر ہے غرضکہ ہماری گورنمنٹ نے سو برس کی عملداری میں بھیرعایا سے محبت اور الفت پیدا نہ کی +</br>
{{gap}}اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ رعایا کو با مروترکھنا اور اُن کی تالیف کرنی یعنی اُن کے دلوں کو ہاتھ میں رکھنابہت بڑا سبب ہے پائداری گورنمنٹ کا تھوڑا ملے اور آدمی کی عزت ہو تو وہ بہت زیادہ خوش ہوتا ہے بہ نسبت اُس کے کہ بہت ملے اور تھوڑی عزت ہو۔ بے عزتی کرنی کسی کی ایسی بد چیز ہے کہ آدمیکے دل کو دُکھاتی ہے یہی چیز ہے کہ بغیر ظاہری نقصان پہنچائےعداوت پیدا کرتی ہے اور اس کا ایسا گہرا زخم ہوتا ہے کہ کبھی نہیں
بھرتا ؎
{{center|جراحات السنان لها التيام}}
{{center|ولا يلتام ما جرح اللسان}}
تالیف کی خاصیت اس کے بر خلاف ہے یہ وہ چیز ہے کہ اس سے
</div>
</div>
ہندوستانیوں کی
بے توقیری<noinclude></noinclude>
ddsrvyoyyzft7f7v1yx0nv0wtsv8vwj
34976
34938
2026-06-15T11:18:33Z
Asimali2003
224
34976
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۲}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
مسلمانوں نے فتح پائی ترکوں اور پٹھانوں کی سلطنت میں ہندوستان کی رعایا سے محبت اور میل جول نہ ہوا جب تک آسایش اور آسودگی سلطنت نے صورت نہ پکڑسی مغلیہ کی سلطنت میں اکبر اول کے عہد سےیہ ملاپ بخوبی شروع ہوا اور شاہجہان کے وقت تک بدستور رہاباوجودیکہ اُس زمانہ میں بھی رعایا کو بے نظمی اصول سلطنت کے سبب تکلیفیں پہنچتی تھیں مگر وہ زخم مندمل ہو جاتا تھا اُس برادرانہ محبت سےجو آپس میں تھی ۱۶۵۸ء میں یعنی عالمگیر کے عہد میں یہ محبت ٹوٹ گئی اور بہ سبب مقابلہ اور سرکشی قوم ہنود کے مثل سیوا جی مرہٹہ وغیرہ کےعالمگیر جملہ قوم ہنود سے ناراض ہوا اور اپنے صوبہ داروں کے نام حکم بھیجے کہ جملہ قوم ہنود کے ساتھ سخت گیری پیش آوے اورہر ایک سے جزیہ لے پھر جو مضرت اور ناراضی رعایا کو ہوئی وہ ظاہر ہے غرضکہ ہماری گورنمنٹ نے سو برس کی عملداری میں بھیرعایا سے محبت اور الفت پیدا نہ کی +</br>
{{gap}}اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ رعایا کو با مروترکھنا اور اُن کی تالیف کرنی یعنی اُن کے دلوں کو ہاتھ میں رکھنابہت بڑا سبب ہے پائداری گورنمنٹ کا تھوڑا ملے اور آدمی کی عزت ہو تو وہ بہت زیادہ خوش ہوتا ہے بہ نسبت اُس کے کہ بہت ملے اور تھوڑی عزت ہو۔ بے عزتی کرنی کسی کی ایسی بد چیز ہے کہ آدمیکے دل کو دُکھاتی ہے یہی چیز ہے کہ بغیر ظاہری نقصان پہنچائےعداوت پیدا کرتی ہے اور اس کا ایسا گہرا زخم ہوتا ہے کہ کبھی نہیں
بھرتا ؎
{{center|جراحات السنان لها التيام}}
{{center|ولا يلتام ما جرح اللسان}}
تالیف کی خاصیت اس کے بر خلاف ہے یہ وہ چیز ہے کہ اس سے
</div>
</div>
ہندوستانیوں کی
بے توقیری<noinclude></noinclude>
rmlikwgh4kzp4bvg2fk7j71de28usce
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/45
250
13710
34939
2026-06-15T06:31:16Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34939
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۴۳}}
دشمن دوست ہوتا ہے اور دوستوں کی محبت زیادہ ہوتی ہے۔ بیگانہ یگانہ ہوتا ہے یہی چیز ہے کہ جس سے وحشی جنگل کے جانور چرند و پرندتابع دام ہوتے ہیں۔ پھر اگر رعایا کے ساتھ ہو تو وہ کس قدر مطیع اورفرمانبردار ہونگے ابتدائے عملداری میں یہ چیز تھی کہ جس نے سبکےدلوں کو ہماری گورنمنٹ کی طرف سے کھینچ لیا تھا ایک دِلی اطاعت پیدا کر دی تھی جبتک ہماری گورنمنٹ ان باتوں کو بھول گئی بلا شبہ
تمام رعایا ہندوستان کی اس بات کی شاہد ہے کہ ہماری گورنمنٹ نے اُن کو نہایت بے قدر اور بے وقار کر دیا ہے۔ ہندوستان کےاشراف آدمی کی ایک چھوٹے سے یورپین کے سامنے ایسی بھی قدرنہیں ہے جیسی کہ ایک چھوٹے یورپین کی ایک بہت بڑے ڈیوک کےسامنے یوں تصور کیا جاتا تھا کہ ہندوستان میں کوئی جنٹلمین نہیں
ہے +</br>
{{gap}}یہ سب باتیں یعنی محبت اور الفت اور عزت اور تالیفِ رعایا کی گورنمنٹ کی طرف سے ظاہر ہوتی ہے بوسیلہ اُن حکامِ منتحمد کے جوہماری گورنمنٹ کی طرف سے ہندوستان میں کارپردازی اور رعایا سےمعاملہ اور میل جول اورملاقات رکھتے ہیں گورنمنٹ کا ارادہ کیسا ہی نیک ہو وہ کبھی ظاہر نہ ہو گا جب تک یہ لوگ اُس کے ظاہر کرنے پر کمر نہ باندھیںاگلے حکام منتحمد کے عادات اور روش اور اخلاق بہت بر خلاف تھے۔حال کے حکام منتحمد سے وہ پہلے لوگ بہت عزت کرتے تھے ہندوستانیوں کی ہر طرح خاطر داری سے پیش آتے تھے اُن کے دلوں کو اپنے ہاتھمیں رکھتے تھے دوستانہ اُن کے رنج و راحت کے شریک ہوتےتھے باوجودیکہ بہت بڑی شراری اور حکومت ہندوستان میں رکھتے تھےاور تخشم اور رعب اور دبدبہ جو شایانِ حکومت ہے وہ بھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے پھر ایسی محبت اور عزت ہندوستانیوں کی کرتے تھے کہ
</div>
</div>
{{Float right|حکامِ منتحمد کی}}
{{Float right|سخت مزاجی}}
{{Float right|اور بد زبانی}}<noinclude></noinclude>
8l6o3tknlp59vffbjl1o2yscso1bpo2
34940
34939
2026-06-15T06:31:50Z
Asimali2003
224
34940
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۴۳}}
دشمن دوست ہوتا ہے اور دوستوں کی محبت زیادہ ہوتی ہے۔ بیگانہ یگانہ ہوتا ہے یہی چیز ہے کہ جس سے وحشی جنگل کے جانور چرند و پرندتابع دام ہوتے ہیں۔ پھر اگر رعایا کے ساتھ ہو تو وہ کس قدر مطیع اورفرمانبردار ہونگے ابتدائے عملداری میں یہ چیز تھی کہ جس نے سبکےدلوں کو ہماری گورنمنٹ کی طرف سے کھینچ لیا تھا ایک دِلی اطاعت پیدا کر دی تھی جبتک ہماری گورنمنٹ ان باتوں کو بھول گئی بلا شبہ
تمام رعایا ہندوستان کی اس بات کی شاہد ہے کہ ہماری گورنمنٹ نے اُن کو نہایت بے قدر اور بے وقار کر دیا ہے۔ ہندوستان کےاشراف آدمی کی ایک چھوٹے سے یورپین کے سامنے ایسی بھی قدرنہیں ہے جیسی کہ ایک چھوٹے یورپین کی ایک بہت بڑے ڈیوک کےسامنے یوں تصور کیا جاتا تھا کہ ہندوستان میں کوئی جنٹلمین نہیں
ہے +</br>
{{gap}}یہ سب باتیں یعنی محبت اور الفت اور عزت اور تالیفِ رعایا کی گورنمنٹ کی طرف سے ظاہر ہوتی ہے بوسیلہ اُن حکامِ منتحمد کے جوہماری گورنمنٹ کی طرف سے ہندوستان میں کارپردازی اور رعایا سےمعاملہ اور میل جول اورملاقات رکھتے ہیں گورنمنٹ کا ارادہ کیسا ہی نیک ہو وہ کبھی ظاہر نہ ہو گا جب تک یہ لوگ اُس کے ظاہر کرنے پر کمر نہ باندھیںاگلے حکام منتحمد کے عادات اور روش اور اخلاق بہت بر خلاف تھے۔حال کے حکام منتحمد سے وہ پہلے لوگ بہت عزت کرتے تھے ہندوستانیوں کی ہر طرح خاطر داری سے پیش آتے تھے اُن کے دلوں کو اپنے ہاتھمیں رکھتے تھے دوستانہ اُن کے رنج و راحت کے شریک ہوتےتھے باوجودیکہ بہت بڑی شراری اور حکومت ہندوستان میں رکھتے تھےاور تخشم اور رعب اور دبدبہ جو شایانِ حکومت ہے وہ بھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے پھر ایسی محبت اور عزت ہندوستانیوں کی کرتے تھے کہ
</div>
</div>
{{Float right|حکامِ منتحمد کی}}</br>
{{Float right|سخت مزاجی}}</br>
{{Float right|اور بد زبانی}}<noinclude></noinclude>
nnfyas8ewnev6df6oqzhm6e76bq4jr6
34977
34940
2026-06-15T11:19:04Z
Asimali2003
224
34977
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۳}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
دشمن دوست ہوتا ہے اور دوستوں کی محبت زیادہ ہوتی ہے۔ بیگانہ یگانہ ہوتا ہے یہی چیز ہے کہ جس سے وحشی جنگل کے جانور چرند و پرندتابع دام ہوتے ہیں۔ پھر اگر رعایا کے ساتھ ہو تو وہ کس قدر مطیع اورفرمانبردار ہونگے ابتدائے عملداری میں یہ چیز تھی کہ جس نے سبکےدلوں کو ہماری گورنمنٹ کی طرف سے کھینچ لیا تھا ایک دِلی اطاعت پیدا کر دی تھی جبتک ہماری گورنمنٹ ان باتوں کو بھول گئی بلا شبہ
تمام رعایا ہندوستان کی اس بات کی شاہد ہے کہ ہماری گورنمنٹ نے اُن کو نہایت بے قدر اور بے وقار کر دیا ہے۔ ہندوستان کےاشراف آدمی کی ایک چھوٹے سے یورپین کے سامنے ایسی بھی قدرنہیں ہے جیسی کہ ایک چھوٹے یورپین کی ایک بہت بڑے ڈیوک کےسامنے یوں تصور کیا جاتا تھا کہ ہندوستان میں کوئی جنٹلمین نہیں
ہے +</br>
{{gap}}یہ سب باتیں یعنی محبت اور الفت اور عزت اور تالیفِ رعایا کی گورنمنٹ کی طرف سے ظاہر ہوتی ہے بوسیلہ اُن حکامِ منتحمد کے جوہماری گورنمنٹ کی طرف سے ہندوستان میں کارپردازی اور رعایا سےمعاملہ اور میل جول اورملاقات رکھتے ہیں گورنمنٹ کا ارادہ کیسا ہی نیک ہو وہ کبھی ظاہر نہ ہو گا جب تک یہ لوگ اُس کے ظاہر کرنے پر کمر نہ باندھیںاگلے حکام منتحمد کے عادات اور روش اور اخلاق بہت بر خلاف تھے۔حال کے حکام منتحمد سے وہ پہلے لوگ بہت عزت کرتے تھے ہندوستانیوں کی ہر طرح خاطر داری سے پیش آتے تھے اُن کے دلوں کو اپنے ہاتھمیں رکھتے تھے دوستانہ اُن کے رنج و راحت کے شریک ہوتےتھے باوجودیکہ بہت بڑی شراری اور حکومت ہندوستان میں رکھتے تھےاور تخشم اور رعب اور دبدبہ جو شایانِ حکومت ہے وہ بھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے پھر ایسی محبت اور عزت ہندوستانیوں کی کرتے تھے کہ
</div>
</div>
{{Float right|حکامِ منتحمد کی}}</br>
{{Float right|سخت مزاجی}}</br>
{{Float right|اور بد زبانی}}<noinclude></noinclude>
qu18bdpzgaspgfsi6qutzkjrch27e9j
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/46
250
13711
34941
2026-06-15T06:43:30Z
Asimali2003
224
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”<div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> ۴۴ ہر ایک شخص مِلکر اُن کے اخلاق اور اُن کی محبت کا فریفتہ ہو جاتا تھااور تعجب سے کہتا تھا کہ یہ کیسے اچھے لوگ ہیں کہ باوصف اِس حشمت و شوکت اور حکومت کے بغیر و رہیں اور کس طرح اخلاق سے ملتے ہ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34941
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
۴۴
ہر ایک شخص مِلکر اُن کے اخلاق اور اُن کی محبت کا فریفتہ ہو جاتا تھااور تعجب سے کہتا تھا کہ یہ کیسے اچھے لوگ ہیں کہ باوصف اِس حشمت و شوکت اور حکومت کے بغیر و رہیں اور کس طرح اخلاق سے ملتے ہیں ہندوستان میں جو لوگ بزرگ گنے جاتے تھے اُن سے اُسی طرح پیش آتے تھے بیشک اُن لوگوں نے پطرس مقدس کی پیروی کی تھی اور برادرانہ محبت اور اُس برادرانہ محبت پر الفت بڑھائی تھی حال میں جو حکام منتحمدہیں اُن میں سے اکثروں کی طبیعتیں اس کے برعکس ہیں کیا اُن کےغرور اور تکبر نے تمام ہندوستانیوں کو اُن کی آنکھوں میں ناچیز نہیں کر دیا ہے کیا اُن کی بد مزاجی اور بے پروائی نے ہندوستانیوں کےدل میں بیجا دہشت نہیں ڈالی ہے کیا ہماری گورنمنٹ کو نہیں معلوم ہےکہ بڑے سے بڑا ذیعزت ہندوستانی حکام سے لرزاں اور بے عزتی کے
خوف سے ترساں نہ تھا اور کیا یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ ایک اشراف اہلکارصاحب کے سامنے مثل پرّہ رہا ہے اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر باتیں کرتا ہےاور صاحب کی بد مزاجی اور سخت کلامی بلکہ دشنام دہی سے دل میں روتاجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس روٹی اور کہیں نہیں ملتی۔ اس نوکری سے تو گھانس کھودنی بہتر ہے میں سب حکام پر تو یہ الزام نہیں
لگاتا بیشک ایسے بھی حکام ہیں کہ اُن کی محبت اور اُن کے اخلاق اور اوصاف سب میں مشہور ہیں اور تمام ہندوستانی ان کو چاند اور سورج کی طرح پہچانتے ہیں اور اُن کو اگلے حکام کا نمونہ سمجھتے ہیں اور حقیقت میں وہ اسی نصیحت
پر چلتے ہیں جو مسیح مقدس نے شمعون مقدس اور اندریا کو فرمائی تھی جبکہ وہ دریا میں مچھلیوں کے شکار کو جال ڈالتے تھے کہ میرے پیچھے چلے آؤمیں تم کو آدمیوں کاشکار کرنے والا بناؤں گا انہوں نے اپنی نیک خصلت سے رعایا کو اپنی محبت کے جال میں کھینچ لیا ہے ان حاکموں نے اپنی حکومت کا رعب بھی کھا ہے اور پھر بیجا غرور بھی رعایا کے ساتھ نہیں کیا اور وہی
</div>
</div>
{{Float right|پطرس}}</br>
{{Float right|خط ۲ باب ۱}}</br>
{{Float right|درس ۷}}</br>
{{Float right|متی باب ۴}}</br>
{{Float right|درس ۱۹}}</br>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۶}}<noinclude></noinclude>
87b422vb21vllkj98toa4u5jljmtwaw
34942
34941
2026-06-15T06:45:21Z
Asimali2003
224
34942
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
۴۴
ہر ایک شخص مِلکر اُن کے اخلاق اور اُن کی محبت کا فریفتہ ہو جاتا تھااور تعجب سے کہتا تھا کہ یہ کیسے اچھے لوگ ہیں کہ باوصف اِس حشمت و شوکت اور حکومت کے بغیر و رہیں اور کس طرح اخلاق سے ملتے ہیں ہندوستان میں جو لوگ بزرگ گنے جاتے تھے اُن سے اُسی طرح پیش آتے تھے بیشک اُن لوگوں نے پطرس مقدس کی پیروی کی تھی اور برادرانہ محبت اور اُس برادرانہ محبت پر الفت بڑھائی تھی حال میں جو حکام منتحمدہیں اُن میں سے اکثروں کی طبیعتیں اس کے برعکس ہیں کیا اُن کےغرور اور تکبر نے تمام ہندوستانیوں کو اُن کی
آنکھوں میں ناچیز نہیں کر دیا ہے کیا اُن کی بد مزاجی اور بے پروائی نے ہندوستانیوں کےدل میں بیجا دہشت نہیں ڈالی ہے کیا ہماری گورنمنٹ کو نہیں معلوم ہےکہ بڑے سے بڑا ذیعزت ہندوستانی حکام سے لرزاں اور بے عزتی کے
خوف سے ترساں نہ تھا اور کیا یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ ایک اشراف اہلکارصاحب کے سامنے مثل پرّہ رہا ہے اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر باتیں کرتا ہےاور صاحب کی بد مزاجی اور سخت کلامی بلکہ دشنام دہی سے دل میں روتاجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس روٹی اور کہیں نہیں ملتی۔ اس نوکری سے تو گھانس کھودنی بہتر ہے میں سب حکام پر تو یہ الزام نہیں
لگاتا بیشک ایسے بھی حکام ہیں کہ اُن کی محبت اور اُن کے اخلاق اور اوصاف سب میں مشہور ہیں اور تمام ہندوستانی ان کو چاند اور سورج کی طرح پہچانتے ہیں اور اُن کو اگلے حکام کا نمونہ سمجھتے ہیں اور حقیقت میں وہ اسی نصیحت
پر چلتے ہیں جو مسیح مقدس نے شمعون مقدس اور اندریا کو فرمائی تھی جبکہ وہ دریا میں مچھلیوں کے شکار کو جال ڈالتے تھے کہ میرے پیچھے چلے آؤمیں تم کو آدمیوں کاشکار کرنے والا بناؤں گا انہوں نے اپنی نیک خصلت سے رعایا کو اپنی محبت کے جال میں کھینچ لیا ہے ان حاکموں نے اپنی حکومت کا رعب بھی کھا ہے اور پھر بیجا غرور بھی رعایا کے ساتھ نہیں کیا اور وہی
</div>
</div>
{{Float right|پطرس}}</br>
{{Float right|خط ۲ باب ۱}}</br>
{{Float right|درس ۷}}</br>
{{Float right|متی باب ۴}}</br>
{{Float right|درس ۱۹}}</br>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۶}}<noinclude></noinclude>
3fqe3tksxbzju8ofzhcdpvaen8nsyde
34943
34942
2026-06-15T06:46:14Z
Asimali2003
224
34943
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|۴۴}}</br>
ہر ایک شخص مِلکر اُن کے اخلاق اور اُن کی محبت کا فریفتہ ہو جاتا تھااور تعجب سے کہتا تھا کہ یہ کیسے اچھے لوگ ہیں کہ باوصف اِس حشمت و شوکت اور حکومت کے بغیر و رہیں اور کس طرح اخلاق سے ملتے ہیں ہندوستان میں جو لوگ بزرگ گنے جاتے تھے اُن سے اُسی طرح پیش آتے تھے بیشک اُن لوگوں نے پطرس مقدس کی پیروی کی تھی اور برادرانہ محبت اور اُس برادرانہ محبت پر الفت بڑھائی تھی حال میں جو حکام منتحمدہیں اُن میں سے اکثروں کی طبیعتیں اس کے برعکس ہیں کیا اُن کےغرور اور تکبر نے تمام ہندوستانیوں کو اُن کی
آنکھوں میں ناچیز نہیں کر دیا ہے کیا اُن کی بد مزاجی اور بے پروائی نے ہندوستانیوں کےدل میں بیجا دہشت نہیں ڈالی ہے کیا ہماری گورنمنٹ کو نہیں معلوم ہےکہ بڑے سے بڑا ذیعزت ہندوستانی حکام سے لرزاں اور بے عزتی کے
خوف سے ترساں نہ تھا اور کیا یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ ایک اشراف اہلکارصاحب کے سامنے مثل پرّہ رہا ہے اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر باتیں کرتا ہےاور صاحب کی بد مزاجی اور سخت کلامی بلکہ دشنام دہی سے دل میں روتاجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس روٹی اور کہیں نہیں ملتی۔ اس نوکری سے تو گھانس کھودنی بہتر ہے میں سب حکام پر تو یہ الزام نہیں
لگاتا بیشک ایسے بھی حکام ہیں کہ اُن کی محبت اور اُن کے اخلاق اور اوصاف سب میں مشہور ہیں اور تمام ہندوستانی ان کو چاند اور سورج کی طرح پہچانتے ہیں اور اُن کو اگلے حکام کا نمونہ سمجھتے ہیں اور حقیقت میں وہ اسی نصیحت
پر چلتے ہیں جو مسیح مقدس نے شمعون مقدس اور اندریا کو فرمائی تھی جبکہ وہ دریا میں مچھلیوں کے شکار کو جال ڈالتے تھے کہ میرے پیچھے چلے آؤمیں تم کو آدمیوں کاشکار کرنے والا بناؤں گا انہوں نے اپنی نیک خصلت سے رعایا کو اپنی محبت کے جال میں کھینچ لیا ہے ان حاکموں نے اپنی حکومت کا رعب بھی کھا ہے اور پھر بیجا غرور بھی رعایا کے ساتھ نہیں کیا اور وہی
</div>
</div>
{{Float right|پطرس}}</br>
{{Float right|خط ۲ باب ۱}}</br>
{{Float right|درس ۷}}</br>
{{Float right|متی باب ۴}}</br>
{{Float right|درس ۱۹}}</br>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۶}}<noinclude></noinclude>
52nkh4hlsud9f7tlykz8tjhh23aexsz
34944
34943
2026-06-15T06:46:55Z
Asimali2003
224
34944
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Asimali2003" /></noinclude>{center|۴۴}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
ہر ایک شخص مِلکر اُن کے اخلاق اور اُن کی محبت کا فریفتہ ہو جاتا تھااور تعجب سے کہتا تھا کہ یہ کیسے اچھے لوگ ہیں کہ باوصف اِس حشمت و شوکت اور حکومت کے بغیر و رہیں اور کس طرح اخلاق سے ملتے ہیں ہندوستان میں جو لوگ بزرگ گنے جاتے تھے اُن سے اُسی طرح پیش آتے تھے بیشک اُن لوگوں نے پطرس مقدس کی پیروی کی تھی اور برادرانہ محبت اور اُس برادرانہ محبت پر الفت بڑھائی تھی حال میں جو حکام منتحمدہیں اُن میں سے اکثروں کی طبیعتیں اس کے برعکس ہیں کیا اُن کےغرور اور تکبر نے تمام ہندوستانیوں کو اُن کی
آنکھوں میں ناچیز نہیں کر دیا ہے کیا اُن کی بد مزاجی اور بے پروائی نے ہندوستانیوں کےدل میں بیجا دہشت نہیں ڈالی ہے کیا ہماری گورنمنٹ کو نہیں معلوم ہےکہ بڑے سے بڑا ذیعزت ہندوستانی حکام سے لرزاں اور بے عزتی کے
خوف سے ترساں نہ تھا اور کیا یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ ایک اشراف اہلکارصاحب کے سامنے مثل پرّہ رہا ہے اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر باتیں کرتا ہےاور صاحب کی بد مزاجی اور سخت کلامی بلکہ دشنام دہی سے دل میں روتاجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس روٹی اور کہیں نہیں ملتی۔ اس نوکری سے تو گھانس کھودنی بہتر ہے میں سب حکام پر تو یہ الزام نہیں
لگاتا بیشک ایسے بھی حکام ہیں کہ اُن کی محبت اور اُن کے اخلاق اور اوصاف سب میں مشہور ہیں اور تمام ہندوستانی ان کو چاند اور سورج کی طرح پہچانتے ہیں اور اُن کو اگلے حکام کا نمونہ سمجھتے ہیں اور حقیقت میں وہ اسی نصیحت
پر چلتے ہیں جو مسیح مقدس نے شمعون مقدس اور اندریا کو فرمائی تھی جبکہ وہ دریا میں مچھلیوں کے شکار کو جال ڈالتے تھے کہ میرے پیچھے چلے آؤمیں تم کو آدمیوں کاشکار کرنے والا بناؤں گا انہوں نے اپنی نیک خصلت سے رعایا کو اپنی محبت کے جال میں کھینچ لیا ہے ان حاکموں نے اپنی حکومت کا رعب بھی کھا ہے اور پھر بیجا غرور بھی رعایا کے ساتھ نہیں کیا اور وہی
</div>
</div>
{{Float right|پطرس}}</br>
{{Float right|خط ۲ باب ۱}}</br>
{{Float right|درس ۷}}</br>
{{Float right|متی باب ۴}}</br>
{{Float right|درس ۱۹}}</br>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۶}}<noinclude></noinclude>
7z07qu5swfsarpgsxqnhzei5l9dmp7u
34945
34944
2026-06-15T06:49:16Z
Asimali2003
224
34945
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۴}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
ہر ایک شخص مِلکر اُن کے اخلاق اور اُن کی محبت کا فریفتہ ہو جاتا تھااور تعجب سے کہتا تھا کہ یہ کیسے اچھے لوگ ہیں کہ باوصف اِس حشمت و شوکت اور حکومت کے بغیر و رہیں اور کس طرح اخلاق سے ملتے ہیں ہندوستان میں جو لوگ بزرگ گنے جاتے تھے اُن سے اُسی طرح پیش آتے تھے بیشک اُن لوگوں نے پطرس مقدس کی پیروی کی تھی اور برادرانہ محبت اور اُس برادرانہ محبت پر الفت بڑھائی تھی حال میں جو حکام منتحمدہیں اُن میں سے اکثروں کی طبیعتیں اس کے برعکس ہیں کیا اُن کےغرور اور تکبر نے تمام ہندوستانیوں کو اُن کی
آنکھوں میں ناچیز نہیں کر دیا ہے کیا اُن کی بد مزاجی اور بے پروائی نے ہندوستانیوں کےدل میں بیجا دہشت نہیں ڈالی ہے کیا ہماری گورنمنٹ کو نہیں معلوم ہےکہ بڑے سے بڑا ذیعزت ہندوستانی حکام سے لرزاں اور بے عزتی کے
خوف سے ترساں نہ تھا اور کیا یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ ایک اشراف اہلکارصاحب کے سامنے مثل پرّہ رہا ہے اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر باتیں کرتا ہےاور صاحب کی بد مزاجی اور سخت کلامی بلکہ دشنام دہی سے دل میں روتاجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس روٹی اور کہیں نہیں ملتی۔ اس نوکری سے تو گھانس کھودنی بہتر ہے میں سب حکام پر تو یہ الزام نہیں
لگاتا بیشک ایسے بھی حکام ہیں کہ اُن کی محبت اور اُن کے اخلاق اور اوصاف سب میں مشہور ہیں اور تمام ہندوستانی ان کو چاند اور سورج کی طرح پہچانتے ہیں اور اُن کو اگلے حکام کا نمونہ سمجھتے ہیں اور حقیقت میں وہ اسی نصیحت
پر چلتے ہیں جو مسیح مقدس نے شمعون مقدس اور اندریا کو فرمائی تھی جبکہ وہ دریا میں مچھلیوں کے شکار کو جال ڈالتے تھے کہ میرے پیچھے چلے آؤمیں تم کو آدمیوں کاشکار کرنے والا بناؤں گا انہوں نے اپنی نیک خصلت سے رعایا کو اپنی محبت کے جال میں کھینچ لیا ہے ان حاکموں نے اپنی حکومت کا رعب بھی کھا ہے اور پھر بیجا غرور بھی رعایا کے ساتھ نہیں کیا اور وہی
</div>
</div>
{{Float right|پطرس}}</br>
{{Float right|خط ۲ باب ۱}}</br>
{{Float right|درس ۷}}</br>
{{Float right|متی باب ۴}}</br>
{{Float right|درس ۱۹}}</br>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۶}}<noinclude></noinclude>
70vd7m9gj0k0dpnlo9i7uzfjx2vhj4d
34946
34945
2026-06-15T06:49:31Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34946
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۴}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
ہر ایک شخص مِلکر اُن کے اخلاق اور اُن کی محبت کا فریفتہ ہو جاتا تھااور تعجب سے کہتا تھا کہ یہ کیسے اچھے لوگ ہیں کہ باوصف اِس حشمت و شوکت اور حکومت کے بغیر و رہیں اور کس طرح اخلاق سے ملتے ہیں ہندوستان میں جو لوگ بزرگ گنے جاتے تھے اُن سے اُسی طرح پیش آتے تھے بیشک اُن لوگوں نے پطرس مقدس کی پیروی کی تھی اور برادرانہ محبت اور اُس برادرانہ محبت پر الفت بڑھائی تھی حال میں جو حکام منتحمدہیں اُن میں سے اکثروں کی طبیعتیں اس کے برعکس ہیں کیا اُن کےغرور اور تکبر نے تمام ہندوستانیوں کو اُن کی
آنکھوں میں ناچیز نہیں کر دیا ہے کیا اُن کی بد مزاجی اور بے پروائی نے ہندوستانیوں کےدل میں بیجا دہشت نہیں ڈالی ہے کیا ہماری گورنمنٹ کو نہیں معلوم ہےکہ بڑے سے بڑا ذیعزت ہندوستانی حکام سے لرزاں اور بے عزتی کے
خوف سے ترساں نہ تھا اور کیا یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ ایک اشراف اہلکارصاحب کے سامنے مثل پرّہ رہا ہے اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر باتیں کرتا ہےاور صاحب کی بد مزاجی اور سخت کلامی بلکہ دشنام دہی سے دل میں روتاجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس روٹی اور کہیں نہیں ملتی۔ اس نوکری سے تو گھانس کھودنی بہتر ہے میں سب حکام پر تو یہ الزام نہیں
لگاتا بیشک ایسے بھی حکام ہیں کہ اُن کی محبت اور اُن کے اخلاق اور اوصاف سب میں مشہور ہیں اور تمام ہندوستانی ان کو چاند اور سورج کی طرح پہچانتے ہیں اور اُن کو اگلے حکام کا نمونہ سمجھتے ہیں اور حقیقت میں وہ اسی نصیحت
پر چلتے ہیں جو مسیح مقدس نے شمعون مقدس اور اندریا کو فرمائی تھی جبکہ وہ دریا میں مچھلیوں کے شکار کو جال ڈالتے تھے کہ میرے پیچھے چلے آؤمیں تم کو آدمیوں کاشکار کرنے والا بناؤں گا انہوں نے اپنی نیک خصلت سے رعایا کو اپنی محبت کے جال میں کھینچ لیا ہے ان حاکموں نے اپنی حکومت کا رعب بھی کھا ہے اور پھر بیجا غرور بھی رعایا کے ساتھ نہیں کیا اور وہی
</div>
</div>
{{Float right|پطرس}}</br>
{{Float right|خط ۲ باب ۱}}</br>
{{Float right|درس ۷}}</br>
{{Float right|متی باب ۴}}</br>
{{Float right|درس ۱۹}}</br>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۶}}<noinclude></noinclude>
5cwz1e8e7cn0wfcmih7zmdoj4hjmjg1
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/47
250
13712
34948
2026-06-15T07:06:49Z
Asimali2003
224
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”{{center|۴۵}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> سبارکی حاصل کی جو مسیح مقدس نے فرمائی تھی مبارک وہ سے ہیں جو دل میں بے غرور ہیں اس لئے کہ آسمان کی بادشاہت اُنہی کی ہے ان حاکموں نےاپنا حلم انصاف والا سب رعایا کو جتایا اور زمین پر...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
34948
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۵}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
سبارکی حاصل کی جو مسیح مقدس نے فرمائی تھی مبارک وہ سے ہیں جو دل میں بے غرور ہیں اس لئے کہ آسمان کی بادشاہت اُنہی کی ہے ان حاکموں نےاپنا حلم انصاف والا سب رعایا کو جتایا اور زمین پر حکومت کی جیسا کہ یسوع مقدس نےفرمایا تھا مبارک وہ ہیں جو حلیم ہیں اس لئے کہ زمین کےوارث ہونگے ان حاکموں نے اپنی روشنی عیسیٰ مسیح کے قول کےموجب
اسی طرح رعایا کو دکھائی کہ تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے ویسی چمکےتاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہےشکر کریں اس قم کے حاکم اگرچہ کم تھے مگر جہاں تھے عزیز تھے +</br>
{{gap}}اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ یہ باتیں ہر ایک قوم کے لوگوں کو ناگوارتھیں مگر مسلمانوں کو بہت زیادہ گراں گذرتی تھیں اس کا سبب بہتروشن ہے کہ صدہا سال سے مسلمان ہندوستان میں بھی باعزت چلےآتے ہیں ان کی طبیعت اور جبلت میں ایک غیرت ہے دل میں لالچ روپیہ کی بہت کم ہے کسی لالچ سے عزت کا جانا نہیں چاہتے بہت تجربہ ہوا ہو گا
کہ اور قوم میں جو باتیں بغیر رنج کے اُٹھا لیتے ہیں مسلمانوں کو اُس سےبھی ادنےٰ بات کا اُٹھانا نہایت مشکل ہوتا تھا۔ ہم نے مانا کہ مسلمانوں میں یہ خصلتیں بہت بُری ہی سہی مگر مجبوری ہے خدا نے جو طبیعت بنائی ہے وہ بدلی نہیں جاتی اس میں مسلمانوں کی بدبختی سہی مگر کچھ قصور نہیں یہی رنج تھے جن کے باعث تحملِ عملداری کو دل چاہتا تھا سرکار کے بر خلاف خبروں سُن کر دل خوش ہوتا تھا مگر افسوس یہ ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو مسلمانوں کی بھلائی سے اغماض نہ تھا اُن کی لیاقت اور تعلیم اُن کا ادب سب پیشِ نظر تھا مگر یہ لوگ اس سے بے خبر تھے اور ہماری گورنمنٹ کا ارادہ اور دِلی نیت حکام کے وسیلہ سے ظاہر نہیں ہوتا تھا ماسا</br>
{{gap}}اہلِ ہند علیٰ الخصوص مسلمانوں کی ناراضی کا بڑا سبب یہ تھا کہ اعلیٰعہدجات پر ترقی بہت کم تھی بہت ہی کم زمانہ گذرا ہے کہ یہ لوگ تمام ہندوستان
</div>
</div>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۳}}</br>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۶}}</br>
{{Float right|مسلمانوں کو یہ باتیں}}</br>
{{Float right|زیادہ ناگوار تھیں اور}}</br>
{{Float right|اس کا سبب}}</br>
{{Float right|اہلِ ہند کا}}</br>
{{Float right|بڑے عہدوں سے بکلیئے}}</br>
{{Float right|جو ترقی کی دکانی دتھی}}<noinclude></noinclude>
du0t760pgdcui98ieh5pv8ahx76ilaf
34949
34948
2026-06-15T07:14:14Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34949
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۵}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
سبارکی حاصل کی جو مسیح مقدس نے فرمائی تھی مبارک وہ سے ہیں جو دل میں بے غرور ہیں اس لئے کہ آسمان کی بادشاہت اُنہی کی ہے ان حاکموں نےاپنا حلم انصاف والا سب رعایا کو جتایا اور زمین پر حکومت کی جیسا کہ یسوع مقدس نےفرمایا تھا مبارک وہ ہیں جو حلیم ہیں اس لئے کہ زمین کےوارث ہونگے ان حاکموں نے اپنی روشنی عیسیٰ مسیح کے قول کےموجب
اسی طرح رعایا کو دکھائی کہ تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے ویسی چمکےتاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہےشکر کریں اس قم کے حاکم اگرچہ کم تھے مگر جہاں تھے عزیز تھے +</br>
{{gap}}اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ یہ باتیں ہر ایک قوم کے لوگوں کو ناگوارتھیں مگر مسلمانوں کو بہت زیادہ گراں گذرتی تھیں اس کا سبب بہتروشن ہے کہ صدہا سال سے مسلمان ہندوستان میں بھی باعزت چلےآتے ہیں ان کی طبیعت اور جبلت میں ایک غیرت ہے دل میں لالچ روپیہ کی بہت کم ہے کسی لالچ سے عزت کا جانا نہیں چاہتے بہت تجربہ ہوا ہو گا
کہ اور قوم میں جو باتیں بغیر رنج کے اُٹھا لیتے ہیں مسلمانوں کو اُس سےبھی ادنےٰ بات کا اُٹھانا نہایت مشکل ہوتا تھا۔ ہم نے مانا کہ مسلمانوں میں یہ خصلتیں بہت بُری ہی سہی مگر مجبوری ہے خدا نے جو طبیعت بنائی ہے وہ بدلی نہیں جاتی اس میں مسلمانوں کی بدبختی سہی مگر کچھ قصور نہیں یہی رنج تھے جن کے باعث تحملِ عملداری کو دل چاہتا تھا سرکار کے بر خلاف خبروں سُن کر دل خوش ہوتا تھا مگر افسوس یہ ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو مسلمانوں کی بھلائی سے اغماض نہ تھا اُن کی لیاقت اور تعلیم اُن کا ادب سب پیشِ نظر تھا مگر یہ لوگ اس سے بے خبر تھے اور ہماری گورنمنٹ کا ارادہ اور دِلی نیت حکام کے وسیلہ سے ظاہر نہیں ہوتا تھا ماسا</br>
{{gap}}اہلِ ہند علیٰ الخصوص مسلمانوں کی ناراضی کا بڑا سبب یہ تھا کہ اعلیٰعہدجات پر ترقی بہت کم تھی بہت ہی کم زمانہ گذرا ہے کہ یہ لوگ تمام ہندوستان
</div>
</div>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۳}}</br>
{{Float right|متی باب ۵ درس ۶}}</br>
{{Float right|مسلمانوں کو یہ باتیں}}</br>
{{Float right|زیادہ ناگوار تھیں اور}}</br>
{{Float right|اس کا سبب}}</br>
{{Float right|اہلِ ہند کا}}</br>
{{Float right|بڑے عہدوں سے بکلیئے}}</br>
{{Float right|جو ترقی کی دکانی دتھی}}<noinclude></noinclude>
8pwx3nzbk25yxw9kox9kaulvf4ha4n9
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/48
250
13713
34950
2026-06-15T07:24:53Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34950
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۶}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
میں معزز تھے بڑے بڑے عہدے پاتے تھے۔ ان کا عزم اور ان کاارادہ اب بھی ویسا ہی تھا اُسی طرح اپنی قدر و منزلت کی ترقی چاہتے تھےاور ظاہر میں کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ ابتدائے عملداری سرکار میں جو لوگ خاندانی اور معزز تھے وے منتخب ہو کر معزز عہدے پاتے تھے رفتہ رفتہ
یہ بات نہ رہی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ان لوگوں میں چنداں لیاقت نہ تھی۔ اس لئے امتحان کا قاعدہ ہماری رائے میں کسی طرح قابلِ الزام نہیں اور نہ در حقیقت کسی کو اس کا رنج ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ امتحان سے عمدہ اہلکار ہاتھ آئے مگر ایسے ایسے لوگ ان معزز عہدوں پر مقرر ہوئے
جو ہندوستانیوں کی آنکھوں میں نہایت بیقدر تھے سرٹیفکٹ ملنے میں خاندانی اور ذیعزت ہونے کا بہت کم لحاظ رہا جس قدر ہندوستانیوں کی ترقی لارڈ بنٹنگ صاحب بہادر نے کی اُس سے زیادہ پھر نہیں ہوئی کچھ شک نہیں ہے کہ وہ ترقی بہ سبب قلت عہدجات کے نہایت ناکافی تھی۔ بڑے بڑے اعلیٰ حاکم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جیسی ترقی ہندوستانیوں کی چاہئے تھی ویسی ہی نہیں ہوئی +</br>
{{gap}}اہلِ ہند کو قدیم عادت تھی کہ اپنے بادشاہوں کے دربار میں حاضر ہوتےتھے بادشاہ کی شان اور شوکت اور تجمل اور تخشم دیکھ کر خوش ہوتےتھے۔ ایک قاعدہ جبلتِ انسانی میں پڑا ہے کہ اپنے بادشاہ اور مالک سےملکر دل خوش ہوتا ہے یہ بات جانتا ہے کہ یہ ہمارا بادشاہ اور ہمارا مالک ہےہم اُس کے تابع اور رعیت ہیں۔ علی الخصوص اہل ہند کو قدیم سے اس کی عادت پڑی ہوئی تھی جو اب مدت سے نایاب تھی۔ نواب گورنر جنرل بہادر اگرچہ دورہ میں دربار کرتے تھے مگر ہندوستانیوں کی مراد تک پورا نہ تھا ۔لارڈ اکلنڈ اور لارڈ اکلن برا صاحب البتہ شاہانہ دربار کئے شاید ولایت میں یہ طریقہ کچھ ناپسند ہوا ہو مگر حق یہ ہے کہ ہندوستان کے حالات کے نہایت مناسب تھا بلکہ اب بھی جیسا چاہئے تھا ویسا نہ ہوا تھا خدا ہمیشہ ہماری
</div>
</div>
{{Float right|بادشاہ نے دربار کا}}</br>
{{Float right|نہ ہونا}}</br>
{{Float right|لارڈ اکلنڈ اور لارڈ}}</br>
{{Float right|الن برو کا دربار}}</br>
{{Float right|سے جو دربار کئے وہ بہت}}</br>
{{Float right|ہی مناسب تھے}}<noinclude></noinclude>
s7o0w151htxni9nsz2aqa9hdicae78j
34951
34950
2026-06-15T07:27:13Z
Asimali2003
224
34951
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۶}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
میں معزز تھے بڑے بڑے عہدے پاتے تھے۔ ان کا عزم اور ان کاارادہ اب بھی ویسا ہی تھا اُسی طرح اپنی قدر و منزلت کی ترقی چاہتے تھےاور ظاہر میں کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ ابتدائے عملداری سرکار میں جو لوگ خاندانی اور معزز تھے وے منتخب ہو کر معزز عہدے پاتے تھے رفتہ رفتہ
یہ بات نہ رہی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ان لوگوں میں چنداں لیاقت نہ تھی۔ اس لئے امتحان کا قاعدہ ہماری رائے میں کسی طرح قابلِ الزام نہیں اور نہ در حقیقت کسی کو اس کا رنج ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ امتحان سے عمدہ اہلکار ہاتھ آئے مگر ایسے ایسے لوگ ان معزز عہدوں پر مقرر ہوئے
جو ہندوستانیوں کی آنکھوں میں نہایت بیقدر تھے سرٹیفکٹ ملنے میں خاندانی اور ذیعزت ہونے کا بہت کم لحاظ رہا جس قدر ہندوستانیوں کی ترقی لارڈ بنٹنگ صاحب بہادر نے کی اُس سے زیادہ پھر نہیں ہوئی کچھ شک نہیں ہے کہ وہ ترقی بہ سبب قلت عہدجات کے نہایت ناکافی تھی۔ بڑے بڑے اعلیٰ حاکم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جیسی ترقی ہندوستانیوں کی چاہئے تھی ویسی ہی نہیں ہوئی +</br>
{{gap}}اہلِ ہند کو قدیم عادت تھی کہ اپنے بادشاہوں کے دربار میں حاضر ہوتےتھے بادشاہ کی شان اور شوکت اورتجمل اور تخشم دیکھ کر خوش ہوتےتھے۔ ایک قاعدہ جبلتِ انسانی میں پڑا ہے کہ اپنے بادشاہ اور مالک سےملکر دل خوش ہوتا ہے یہ بات جانتا ہے کہ یہ ہمارا بادشاہ اور ہمارا مالک ہےہم اُس کے تابع اور رعیت ہیں۔ علی الخصوص اہل ہند کو قدیم سے اس کی عادت پڑی ہوئی تھی جو اب مدت سے نایاب تھی۔ نواب گورنر جنرل بہادر اگرچہ دورہ میں دربار کرتے تھے مگر ہندوستانیوں کی مراد تک پورا نہ تھا ۔لارڈ اکلنڈ اور لارڈ اکلن برا صاحب البتہ شاہانہ دربار کئے شایدولایت میں یہ طریقہ کچھ ناپسند ہوا ہو مگر حق یہ ہے کہ ہندوستان کے حالات کے نہایت مناسب تھا بلکہ اب بھی جیسا چاہئے تھا ویسا نہ ہوا تھا خدا ہمیشہ ہماری
</div>
</div>
{{Float right|بادشاہ نے دربار کا}}</br>
{{Float right|نہ ہونا}}</br>
{{Float right|لارڈ اکلنڈ اور لارڈ}}</br>
{{Float right|الن برو کا دربار}}</br>
{{Float right|سے جو دربار کئے وہ بہت}}</br>
{{Float right|ہی مناسب تھے}}<noinclude></noinclude>
jl8grgrgtivuyj5up7xhmzj0wj7cc5u
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/49
250
13714
34952
2026-06-15T07:35:22Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34952
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>۴۷
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
ملکہ معظمہ وکٹوریا کا حافظ ہے خدا ہمیشہ بجائے ناظم مملکت ہند نائبِ مناب ملکہ معظمہ اور گورنر جنرل بہادر ہندوستان کا حافظ ہے ہم کو امید ہے کہ آپ کی اَپار زو اہلِ ہند کی بے پوری ہوئے باقی نہ رہےگی +</br>
{{gap}}سچ ہے کہ حقیقی بادشاہت خدا تعالیٰ کو ہے جس نے تمام عالم کو پیداکیا گیا للہ تعالیٰ نے اپنی حقیقی سلطنت کا نمونہ دنیا میں بادشاہوں کو پیداکیا ہے تاکہ اُس کے بندے اس نمونہ سے اپنے حقیقی بادشاہ کو پہچان کراُس کا شکر ادا کریں۔ اس لئے بڑے بڑے حکیموں اور عقلمندوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ جیسا کہ اُس حقیقی بادشاہ کی خصلتیں داد و دہش اور بخششاور مہربانی کی ہیں اُسی کا نمونہ ان مجازی بادشاہوں میں بھی چاہئے یہی بات ہے کہ جس کے سبب بڑے بڑے عقلمندوں نے بادشاہ کو ظلِّ اللہ ٹھہرایا
ہے اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح خداوند تعالیٰ کی بے انتہا بخشش اپنے تمام بندوں کے ساتھ ہے اُسی طرح بادشاہوں کی بخشش اور انعام اپنی ساری رعیت کے ساتھ چاہئے اگرچہ ابتدا میں یہ بات خیال میں آتی ہے کہ ذرا ذرا سی بات میں انعام و اکرام دینا بیفائدہ خزانہ کا خالی کرنا ہےمگر یہ بات یوں نہیں بلکہ انعام اکرام سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ رعیت کو اپنے بادشاہ کی محبت بڑھتی ہے کلیہ قاعدہ ہے کہ الانسان عبید الاحسان اس لئےتمام رعیت اپنے بادشاہ کا انعام و اکرام دیکھ کر خواہ مخواہ دلی محبت پیدا کرتی ہےاور اچھی اچھی خدمت گزاریوں اور خیر خواہیوں کا حوصلہ رکھتی ہے تاریخ کی کتابوں سے ظاہر ہے کہ اگلی عملداریوں میں یہ بات بہت رائج تھی۔ ہر ہر
ملک سے انعام و اکرام رعایا کو اور سرداروں کو ملتاتھا۔ بڑے بڑے قیمتی خلعت اور عمدہ عمدہ تحفہ اور نقد روپیہ اور زمین جاگیر انعام میں ملتی تھی خاندانی آدمی خطاب پاتے تھے۔ ہم چشموں میں عزت پیدا کرتے تھے۔ اُن کے دل میں بڑے بڑے حوصلے ہوتے تھے اور ہندوستان کی رعایا اس بات کوبہت پسند کرتی تھی بلکہ صدہا سال سے اس کے عادی ہو رہے تھے ہماری
</div>
</div><noinclude></noinclude>
t2l0nqo2ui92ssdbq1ouvfkxxefg8b2
34953
34952
2026-06-15T07:35:35Z
Asimali2003
224
34953
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۷}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
ملکہ معظمہ وکٹوریا کا حافظ ہے خدا ہمیشہ بجائے ناظم مملکت ہند نائبِ مناب ملکہ معظمہ اور گورنر جنرل بہادر ہندوستان کا حافظ ہے ہم کو امید ہے کہ آپ کی اَپار زو اہلِ ہند کی بے پوری ہوئے باقی نہ رہےگی +</br>
{{gap}}سچ ہے کہ حقیقی بادشاہت خدا تعالیٰ کو ہے جس نے تمام عالم کو پیداکیا گیا للہ تعالیٰ نے اپنی حقیقی سلطنت کا نمونہ دنیا میں بادشاہوں کو پیداکیا ہے تاکہ اُس کے بندے اس نمونہ سے اپنے حقیقی بادشاہ کو پہچان کراُس کا شکر ادا کریں۔ اس لئے بڑے بڑے حکیموں اور عقلمندوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ جیسا کہ اُس حقیقی بادشاہ کی خصلتیں داد و دہش اور بخششاور مہربانی کی ہیں اُسی کا نمونہ ان مجازی بادشاہوں میں بھی چاہئے یہی بات ہے کہ جس کے سبب بڑے بڑے عقلمندوں نے بادشاہ کو ظلِّ اللہ ٹھہرایا
ہے اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح خداوند تعالیٰ کی بے انتہا بخشش اپنے تمام بندوں کے ساتھ ہے اُسی طرح بادشاہوں کی بخشش اور انعام اپنی ساری رعیت کے ساتھ چاہئے اگرچہ ابتدا میں یہ بات خیال میں آتی ہے کہ ذرا ذرا سی بات میں انعام و اکرام دینا بیفائدہ خزانہ کا خالی کرنا ہےمگر یہ بات یوں نہیں بلکہ انعام اکرام سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ رعیت کو اپنے بادشاہ کی محبت بڑھتی ہے کلیہ قاعدہ ہے کہ الانسان عبید الاحسان اس لئےتمام رعیت اپنے بادشاہ کا انعام و اکرام دیکھ کر خواہ مخواہ دلی محبت پیدا کرتی ہےاور اچھی اچھی خدمت گزاریوں اور خیر خواہیوں کا حوصلہ رکھتی ہے تاریخ کی کتابوں سے ظاہر ہے کہ اگلی عملداریوں میں یہ بات بہت رائج تھی۔ ہر ہر
ملک سے انعام و اکرام رعایا کو اور سرداروں کو ملتاتھا۔ بڑے بڑے قیمتی خلعت اور عمدہ عمدہ تحفہ اور نقد روپیہ اور زمین جاگیر انعام میں ملتی تھی خاندانی آدمی خطاب پاتے تھے۔ ہم چشموں میں عزت پیدا کرتے تھے۔ اُن کے دل میں بڑے بڑے حوصلے ہوتے تھے اور ہندوستان کی رعایا اس بات کوبہت پسند کرتی تھی بلکہ صدہا سال سے اس کے عادی ہو رہے تھے ہماری
</div>
</div><noinclude></noinclude>
2bncjd0645lew818v5q1nzae95oxofu
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/50
250
13715
34954
2026-06-15T07:41:29Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34954
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۸}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
گورنمنٹ نے یہ سلسلہ بالکل دُور کر دیا تھا کسی شخص کو رعیت میں سے اِس قسم کے ظاہری انعام و اکرام کی توقع نہیں رہی تھی اور اسی باعث سےتبدلِ عملداری کو اُن کا دل چاہتا تھا یہاں تک کہ جب دِلی نوباب ایسٹ انڈیا کمپنی
کے ٹھیکہ ختم ہونے اور ملکہ معظمہ کی عملداری ہونے کی خبر سنتے تھے تو خوش ہوتے تھے اگلے بادشاہوں کے عہد میں انعام و اکرام دو قسم کا ہوتا تھا۔ایک وہ جو بادشاہ اپنی عیاشی اور اپنی ناپسندیدہ خصلتوں کے پالنےمیں خرچ کرتا تھا یہ بات حقیقت ناپسندیدہ تھی اور ہندوستانی بھی
اس کو ناپسند کرتے تھے بلکہ پاجیوں اور غیر مستحقوں کا انعام سنکر راضی نہ تھے۔ دوسری قسم کا انعام وہ تھا جو بادشاہ اپنے خیر خواہ نوکروں اور فتح نصیب سرداروں اپنی رعیت کے علما اور مصلما اور فقرا اور شعرا اور خانہ نشینوں اوربے رزقوں کو دیتا تھا اس قسم کے انعام کی سب خواہش رکھتے ہیں اور اُسی کے نہ ہونے سے ناراض ہیں کہ ان باتوں سے رعایا کم ہمت اور آرا طلب ہو جاتی ہے اور محنت کش اور قوتِ بازو سے روٹی کمانے والے نہیں رہتےاس لئے بادشاہ کو اس قسم کے انعام سے قطع نظر کر کر دوسری قسم کا انعام یعنی آزادی دینا بہتر ہے تاکہ اُن کو خود روٹی کمانے کی گنجایش ملے۔ یہ بات سچ ہے مگر یہ انعام اُس وقت جاری ہو سکتا ہے جب کہ رعایا آسودہ اورتربیت یافتہ ہو نہ یہ کہ وحش سیرتوں کے ناک میں سے نکیل نکال کر بے آب و دانہ جنگل میں ہانک دیں کہ خود دانہ پانی ڈھونڈ لو ان کا انجام کیا ہو گا بجز اس کےکہ یا مر جاویں گے یا وہی وحشیوں کی سی حرکتیں کرینگے جس سے ہماری مرادہندوستان کی یہ سرکشی ہے +</br>
{{gap}}غصہ ایک ایسی چیز ہے کہ معاملات کی اصلیت کو آنکھ سے چھپا دیتا ہےطبیعت انتقام اور سیاست کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے سچ ہے کہ خود دارتیں ہندوستان میں ۱۸۵۷ء میں پیش آئیں اسی لائق تھیں کہ ہمارے حکام کوجس قدر غصہ آوے اور جس قدر انتقام اور سیاست کریں سب بجا ہے مگر ہندوستان
</div>
</div>
{{Float right|حیرتِ اصلی سرکشی}}</br>
{{Float right|ہندوستان میں ہوئی}}</br>
{{Float right|اس سے زیادہ دکھائی}}</br>
{{Float right|دی}}<noinclude></noinclude>
radu50tmrkqqscyom3zmmfyo5iaein1
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/51
250
13716
34955
2026-06-15T07:48:07Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34955
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۹}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
کے حالات پر غور کرنا چاہئے کہ درحقیقت کس قدر سرکشی ہندوستان میں اصلی تھی اور کیوں اِس قدر بڑھ گئی اور کیوں اِس قدر دکھائی دی اور بہ سببِ مسلمانوں کے کیوں زیادہ مفسدہ بعض اضلاع میں دکھائی دئے غور کرنے کی بات ہے کہ صدہا سال سے عملداریِ ہندوستان میں ترّدد تھا۔ رعایاے ہندوستان کو یہ موروثی عادت تھی کہ جب کوئی امیر یا سردار یا بادشاہ زادہ قابو یافتہ ہوااُس کے ساتھ ہزاروں آدمی جمع ہو گئے اُس کی نوکری اس کی نوکری کو اُس کی طرف سےعاملی کو اُس کی طرف سے انتظام کو کسی طرح اپنا قصور نہیں سمجھتے تھے ہندوستان میں یہ ایک مثل مشہور ہے کہ نوکری پیشہ کا کیا قصور جس نےنوکر رکھا تنخواہ دی اُس کی نوکری کی۔ البتہ جب سردار اُٹھایا جاوےاور اُس کی جگہ دوسرا سردار قائم ہو اُس کی اطاعت نہ کرنے کو قصور سمجھتےتھے۔ ہندوستان کے امیروں اور سرداروں کا عملے خصوصاً ان کا جو قبل عملداری سرکار ہندوستان پر مسلط تھے اور جس کے سبب ہندوستان طوائف الملوک ہو رہا تھا۔ یہی عادت تھی کہ ملازمین سیف اور قلم سے کسی طرح کی مزاحمت نہ کرتے تھے وہی عادت تمام ہندوستان کے لوگوں کو پڑی ہوئی تھی جب ہندوستان میں مفسدوں نے سر اُٹھایا اور لوگوں کو نوکررکھنا چاہا ہزارہا آدمی جو روٹی سے محتاج اور نوکریوں کے خواہشمند تھےجا کر نوکر ہو گئے۔ یہ سب کہتے تھے کہ ہمارا کیا قصور ہے ہم تو نوکری پیشہ ہیں عام رعایا میں سے بہت سے لوگ اُس اپنی قدیمی عادت سے کہ اب جوسردار ہے اُس کی اطاعت کریں ہم تو رعیت ہیں جو زبردست ہے اُس کےتابع ہیں باغیوں کے تابع ہو گئے۔ بہت سے اہلکارانِ سرکاری یہ سمجھکرکہ باغیوں سے ظاہر داری کر کے جان بچاویں اور جب سرکار کا تسلط ہوپھر سرکار کے تابع ہوں وہ بھی مجرم ہو گئے حالانکہ کچھ شک نہیں ہے
کہ وہ دل سے سرکار کے تابع تھے اکثر لوگوں اور اہلکاروں سے دفعتاً مجبوری یاخواہ نادانی خواہ بمقتضائے بشریت کوئی بات ہو گئی انہوں نے خیال کیا
</div>
</div><noinclude></noinclude>
1u44uuq7ws5ufdeke4hul9n2r425lli
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/52
250
13717
34956
2026-06-15T07:54:36Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34956
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۰}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
کہ اب ہمارے اس قصورِ اتفاقیہ یا مجبورانہ یا بیجا ہلانے سے سرکار درگزرنہیں کرنے کی اور سزا دیگی اس خوف اور ڈر سے لاچار باغیوں کےساتھ شامل ہو گئے بہت سے آدمیوں نے در حقیقت کچھ نہیں کیا تھامگر خوف اور بہ سبب اور خیالاتِ چند در چند باغیوں میں مل گئے بہت لوگوں نے اس زمانہ میں وہ باتیں کیں جن باتوں کو وہ لوگ اپنے ذہن اوراپنی سمجھ میں جرمِ مخالفِ سرکار نہیں سمجھتے اگر تمام ہندوستان کے حالاتِ بغاوت پر نظر کی جادیگی تو ہم کو یقین ہے کہ دو نو فرتوں میں جو ہندوستان میں بستی ہیں برابر بلکہ ایک سے زیادہ ایک اور ایک سے زیادہ ایک اُس
فساد میں مفسد نظر پڑیگی اور اُس کے اثبات پر تمام حالاتِ ہندوستان کے گواہ موجود ہیں۔ مگر جن اضلاع میں مسلمان زیادہ تر مفسد دکھائی دئےاس کا سبب صرف یہی نہیں خیال کرنا چاہئے کہ دکن کی سلطنت پر مسلمان بادشاہ نے دعوےٰ کیا تھا اور درحقیقت مسلمان اُسی قدر مفسد ہوئےتھے جیسا کہ نظر پڑے نہیں حکام کا مزاج دفعتاً اُن باتوں سے جو ظاہرمیں مسلمانوں سے ہوئیں ناراض ہو گیا اُن کے مخالفوں کو بڑی گنجایش مل گئی خود غرضانہ باتیں پیش کرنے کو بخوبی بات کو بہت بڑھا کر کہاادھر حکام کو زیادہ ناراضی ہوئی اُدھر مسلمانوں کو زیادہ تر خوف اور مایوسی ہوئی اور اپنی تقدیر سے جتنے تھے اُس سے زیادہ مفسد دکھائی دئےاس میں کچھ شک نہیں کہ پانچویں قسم کی بغاوت مسلمانوں میں بہت تھی اور وہ تبدلِ عملداری کے خیال سے بہت خوش ہوتے تھے جس کا سبب ہر ایک مقام ہم بیان کرتے آئے ہیں با ایں ہمہ ہماری گورنمنٹ پر مخفی نہ ہو گا
کہ اس حال پر بھی جاں بازی کی خیرخواہیاں اس ہنگامہ میں کس سے زیادہ ظہور میں آئی ہیں خدا کے آگے جس کو حقیقی بادشاہت ہے اور دنیا کے بادشاہوں کے آگے جن کو مجازی سلطنت خداوند نے عطا کی ہے سب گنہگار ہیں سچ فرمایا داؤد مقدس علیہ السلام نے کہ اے خداوند اپنے بندے سےحساب
</div>
</div>
{{Float right|زبور ۱۴۳ درس ۲}}</br>
{{Float right|زبور ۸۱}}</br>
{{Float right|درس ۱ و ۲}}<noinclude></noinclude>
kv5f6fxl97vj1ch3bo9pz5w1w7mbnj3
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/53
250
13718
34957
2026-06-15T08:14:00Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34957
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۱}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
نہ ملے۔ کیونکہ کوئی جاندار تیرے حضور بیگناہ نہیں ٹھیر سکتا اے خدا اپنے کامل کرم سے مجھ پر رحم کر اور اپنے رحموں کی فراوانی سے میرے گناہ مٹا دےمجھے میری برائی سے خوب دھو اور مجھے میرے گناہ سے پاک کر آمین
خدا ہمیشہ ہماری ملکہ معظمہ وکٹوریا کا حافظ ہے میں بیان نہیں کر سکتاخوبی اُس پُر رحم اشتہار کی جو ہماری ملکہ معظمہ نے جاری کیا۔ بیشک ہمارے ملکہ معظمہ کے سر پر خدا کا ہاتھ ہے۔ بیشک یہ پُر رحم اشتہار الہام جاری ہوا ہے ہندوستان کا بہت قدیم قاعدہ چلا آیا ہے۔ کہ جب
دارالسلطنت پر کوئی بادشاہ خواہ ازروےِ استحقاق یا خواہ بغیراستحقاق کے قائم ہوا سب سردار ملکوں کے اُس کی طرف رجوع کرتےتھے اس ہنگامہ میں بھی یہی ہوا کہ جب دِلّی کا بادشاہ تخت پر بیٹھا اورملکوں میں خبر پہنچی کہ دِلّی کے بادشاہ نے تخت سنبھالا۔ سب نےبادشاہ کی طرف رجوع کی جب کہ دِلّی کا بادشاہ پکڑا گیا اور وہ دارالسلطنت ہماری گورنمنٹ کے قبضہ میں آیا سب کو یقین تھا کہ جملہ مفسد جنہوں نے سر اُٹھایا ہے اطاعت کرینگے شاید فوج باغی کے
لوگ رہجاتے رہجاتے مگر یہ امر خطور میں نہ آیا اس کا سبب لکھنا ہماپنی اس رائے میں ضرور نہیں سمجھتے +
{{center|{{xx-larger|ا'''صل پنجم'''}}}}
{{center|بدانتظامی اور بے اہتمامی فوج}}
{{gap}}ہماری گورنمنٹ کا انتظام فوج ہمیشہ قابلِ اعتراض کے تھا فوجانگلشیہ کی کمی ہمیشہ اعتراض کی جگہ تھی۔ جب کہ نادر شاہ نے خاسان پر فتح پائی اور ایران اور افغانستان دو مختلف ملک اُس کے قبضہ میںآئے اُس نے برابر کی دو فوجیں آراستہ کیں ایک ایرانی فوّاج تھی دوسری افغانی جب ایرانی فوج کچھ عدول حکمی کا ارادہ کرتی تو افغانی فوج اُس کے
</div>
</div>
{{Float right|ملکہ معظمہ کا اشتہار}}</br>
{{Float right|نہایت قابلِ تعریف}}</br>
{{Float right|ہے اسی لیے خدا کا الہام}}</br>
{{Float right|اسے جاری ہوا ہے}}</br>
{{Float right|پنجم بدانتظامی و بے اہتمامی}}</br>
{{Float right|فوج}}</br>
{{Float right|فوج انگلشیہ کی کمی}}<noinclude></noinclude>
1d4r1son67qiroobale61uj98hltdkq
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/54
250
13719
34958
2026-06-15T08:21:43Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34958
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۲}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
دباتے کو موجود تھی اور جب افغانی فوج سرتابی کرتی تو قزلباشی اُس کےتدارک کو موجود ہوتی۔ ہماری گورنمنٹ نے یہ کام ہندوستان میں نہیں کیا ہم نے مانا کہ ہندوستانی فوج سرکار کی بڑی تابعدار اور خیر خواہ اورجاں نثار تھی مگر یہ کہاں سے عہد ہو گیا تھا کہ کبھی اِس فوج کی خلافِ مرضی حکم نہ ہو گا اور کسی حکم سے یہ فوج آزردہ خاطر نہ ہو گی پھر در صورتِ ناراض ہونےاس فوج کے جیسا کہ ہوا کیا باراہ رکھتی تھی ہماری گورنمنٹ نے جس سے اِستمردی کا رفع فی الفور ہو سکتا +</br>
{{gap}}یہ بات سچ ہے کہ ہماری گورنمنٹ نے ہندو مسلمان دونوں قوموں کو جو آپس میں مخالف ہیں نوکر رکھا تھا مگر بہ سبب مخلوط ہو جانے ان دونوں قوموں کے ہر ایک پلٹن میں یہ تفرقہ نہ رہا تھا ظاہر ہے کہ ایک پلٹن کےجتنے نوکر ہیں اُن میں بہ سبب ایک جگہ رہنے کے اور ایک لڑی میں مرتبہ ہونے کے آپس میں اتحاد اور ارتباط برادرانہ ہوتا جاتا تھا ایک پلٹن کے سپاہی اپنے آپ کو ایک برادری سمجھتے تھے اور اسی سبب سےہندو مسلمان کی تمیز نہ تھی دونوں قومیں آپس میں اپنے آپ کو بھائی سمجھتی تھیں اُس پلٹن کے آدمی جو کچھ کرتے تھے سب اُس میں شریک ہو جاتے تھے ایک دوسرے کے حامی اور مددگار ہو جاتا تھا اگر اُنہی دونوں قوموں کی پلٹن اِس طرح پر آراستہ ہوتیں کہ ایک پلٹن نری ہندوؤں کی ہوتی۔جس میں کوئی مسلمان نہ ہوتا اور ایک پلٹن نری مسلمانوں کی ہوتی جس میں کوئی ہندو نہ ہوتا تو یہ آپس کا اتحاد اور برادری نہ ہونے پاتی اور
وہی تفرقہ قائم رہتا اور میں خیال کرتا ہوں کہ شاید مسلمان پلٹنوں کو کارتوس جدید کاٹنے میں بھی کچھ عذر نہ ہوتا +</br>
{{gap}}فوجِ انگلشیہ کے کم ہونے سے رعایا کو بھی کچھ خوف تھا وہ حشرہندوستانی ہی فوج کا تھا علاوہ اس کےہندوستانی فوج کو بھی یہ تنہاغرور تھا وہ اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتے تھے فوج انگلشیہ کی کچھ حقیقت نہیں
</div>
</div>
{{Float right|مسلمانوں اور}}</br>
{{Float right|ہندوؤں کو مخلوط}}</br>
{{Float right|کر کے پلٹنوں میں}}</br>
{{Float right|نوکر رکھنا}}</br>
{{Float right|اگر مسلمانوں کی جدا}}</br>
{{Float right|پلٹن ہوتی تو شاید}}</br>
{{Float right|مسلمانوں کو کارتوس}}</br>
{{Float right|کاٹنے میں عذر نہ ہوتا}}<noinclude></noinclude>
i5f5ha7g5foxkmnsvv9gfyg6nflm2r4
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/55
250
13720
34959
2026-06-15T08:52:22Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34959
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۳}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
سمجھتے تھے تمام ہندوستان کی فتوحات صرف اپنی تلوار کے زور سے جانتےتھے اُن کا یہ قول تھا کہ برہما سے لے کر کابل تک ہم نے سرکار کو فتح کر دیاہے علیٰ الخصوص پنجاب کی فتح کے بعد ہندوستانی فوج کا غرور بہت زیادہ ہو گیا تھا اب ان کے غرور نے یہاں تک نوبت پہنچائی تھی کہ ادنےٰ
ادنےٰ بات پر تکرار کرنے پر مستعد تھے۔ میں خیال کرتاہوں کہ فوج کےغرور اور تکبر کی یہاں نوبت پہنچی تھی کہ کچھ عجب نہ تھا کہ وہ آج اور تمامپر بھی تکرار کرنے لگتی +</br>
{{gap}}ایسے وقت میں کہ جب فوج کا یہ حال تھا اور اُن کے سر غرور اور تکبر سےبھرے ہوئے تھے اور دل میں یہ جانتے تھے کہ جس بات پر ہم اڑینگےاور تکرار کرینگے خواہ نخواہ سرکار کو ماننا پڑیگا اُن کو نئے کارتوس دئے گئےجس میں وہ یقین سمجھتے تھے کہ چربی کا میل ہے اور اس کےاستعمال سےہمارا دھرم جاتا رہیگا انہوں نے اس کے کاٹنے سے انکار کیا۔ جب بارک پور کی پلٹن اس جرم میں موقوف ہو گئی اور حکم سُنایا گیا تو تمام فوج نہایت رنجیدہ ہوئی۔ کیونکہ وہ یوں سمجھتے تھے کہ بہ سبب مخلِ مذہب کےبارک پور کی پلٹن کا کچھ قصور نہ تھا وہ محض بے قصور اور صرف نا انصافی سے موقوف ہوئی ہے تمام فوج نہایت رنجیدہ تھی کہ ہم نے سرکار کےساتھ رفاقتیں کیں اپنے سر کٹائے سرکار کو ملک در ملک فتح کر دئے اورسرکار ہمارے مذہب لینے کے درپے ہوئی اور واجبی بات پر موقوف کر دیا اُس وقت کچھ فساد نہ ہوا۔ کیونکہ فوج پر بجز موقوفی کے اور کچھ جبر نہ ہواتھا۔ مگر تمام فوج کے دل میں کچھ تو بہ سبب یقین ہونے چربی کارتوس میں اور کچھ بہ سبب رنج موقوفی پلٹن بارک پور کے اور سب سے زیادہ بہ سبب غروراور خود بینی اور اس خیال سے کہ جو کچھ ہم ہیں ہمیں ہیں مصمم ارادہ ہو گیا کہ ہم میں سے کوئی بھی کارتوس نہیں کاٹنے کا اس میں کچھ ہی ہو جائے بلا شبہ یہ واقعہ بارک پور آپس میں فوجوں کی خط و کتابت ہوئی پیغام آئے گئے کارتوس
</div>
</div>
{{Float right|فوجِ ہندوستانی}}</br>
{{Float right|کا نہایت مغرور}}</br>
{{Float right|ہو جانا اور اُس کا}}</br>
{{Float right|سبب}}</br>
{{Float right|جنوری ۱۸۵۷ء}}</br>
{{Float right|کے بعد فوج میں مسلح}}</br>
{{Float right|اور پیغام ہونے}}</br>
{{Float right|کارتوس کاٹنے کے}}<noinclude></noinclude>
e9mz01fpils2tm94ixjqezyujijnapg
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/56
250
13721
34960
2026-06-15T09:01:47Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34960
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۴}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
جدید کو کوئی نہ کاٹے اِس تک تمام فوج کے دِل میں ناراضی اور غصہ تو ہے مگر میریرائے میں ابھی تک کچھ فاسد ارادہ نہیں +
{{gap}}دفعتاً تقدیر سے کمبخت مئی ۱۸۵۷ء کی آگئی میرٹھ میں سپاہ کوبہت سخت سزا دی گئی جس کو ہر ایک عقلمند بہت بُرا اور ناپسند جانتا ہےاِس سزا کا رنج جو کچھ فوج کے دِل پر گذرا بیان سے باہر ہے وہ اپنی تینوں کو یاد کرتے تھے اور بجائے اِس کے بیڑیوں اور ہتھکڑیوں کو پہنے ہوئے
دیکھ کر روتے تھے وہ اپنی وفاداریوں کا خیال کرتے تھے اور پھر اُس کےصلہ میں جو اِن کو انعام ملا تھا دیکھتے تھے اور علاوہ اِس کے اُن کا وہ قدیمی غرور جو اُن کے سر میں تھا اور جس کے سبب وہ اپنے تئیں ایک بہت ہی بڑاسمجھتے تھے اُن کو زیادہ رنج دیتا تھا۔ پھر سب فوج مقیم میرٹھ کو یقین ہو گیاکہ یا ہم کو کارتوس کاٹنا پڑیگا یا یہی دن نصیب ہو گا اُسی رنج اور غصہ کی حالت میں دسویں مئی کو فوج سے وہ حرکت سرزد ہوئی کہ شاید اُس کا نظیربھی کسی تاریخ میں نہیں ملنے کا اُس فوج کو کیا چارہ رہا تھا اُس حرکت کے بعد بجز اِس کے کہ جہاں تک ہو سکے مفسدے پوری کرے +
{{gap}}جہاں جہاں فوج میں یہ خبر پہنچی تمام فوج زیادہ تر رنجیدہ ہوئی میرٹھ کی فوج سے جو حرکت ہوئی تھی اُس سے تمام ہندوستانی فوج نے یقین جان لیا تھا کہ اب سرکار کو ہندوستانی فوج کا اعتبار نہ رہا سرکار وقت پا کر سب کو سزا دیگی اور اُس سبب تمام فوج کو اپنے افسروں کے فعل اورقول کا اعتبار اور اعتماد نہ تھا۔ سب آپس میں کہتے تھے کہ اِس وقت تویہ ایسی باتیں ہیں جب وقت نکل جاوے گا تو یہ سب آنکھیں بدل لینگے۔ میں بہت معتبر بات کہتا ہوں کہ دِلّی میں جو فوج باغی جمع تھی اُس میں سےہزاروں آدمیوں کو اِس بیجا حرکت اور بیفائدہ بغاوت کا رنج تھا وہ روتے
اور کہتے تھے کہ ہماری قسمت نے یہ کام ہم سے کروایا پھر بہت افسوس کہتے تھے کہ اگر ہم نہ کرتے تو کیا کرتے ایک نہ ایک دن سرکار ہم کو تباہ
</div>
</div>
{{Float right|میرٹھ میں سزا سے}}</br>
{{Float right|نامناسب کا اُٹھنا اور}}</br>
{{Float right|بہ سبب اور غرور کے}}</br>
{{Float right|فوج کی سرکشی کرنا}}</br>
{{Float right|بعدِ فسادِ میرٹھ کے}}</br>
{{Float right|فوج کو گورنمنٹ کا}}</br>
{{Float right|اعتبار نہ رہنا}}<noinclude></noinclude>
6b2ugtuokm15owxo5b0sfba3bealfyp
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/57
250
13722
34961
2026-06-15T09:07:06Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34961
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۵}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
کردیتی۔ کیونکہ سرکار کو اب ہندوستانی فوج پر اعتماد نہیں رہا تھاوہ قابو کا وقت جب پاتے ہم کو تباہ کردیتے۔ ابتدائے غدر میں جب تک کہ ہندوستان پر فوج کشی کا ارادہ ہوا ہے ہنوز فوج روانہ نہ ہوئی تھی کہ بعضے آدمیوں کی صاف رائے تھی کہ جس وقت دِلّی پر فوج سے لڑائی شروع ہوئی بلا شبہ تمام ہندوستانی فوج بگڑ جاوے گی۔ چنانچہ یہی ہوا سبب اِس کا یہی تھا کہ فوج سے لڑائی شروع ہونے کے بعد ممکن نہ تھا کہ باقی فوج سرکار سے مطمئن رہتی وہ ضرور سمجھتے تھے کہ جب ہمارے بھائی بندوں کو مار لینگے تب ہم پرمتوجہ ہونگے۔ اِس لئے سب نے فساد پر کمر باندھ لی اور بگڑتے گئےجن کے دل میں فساد نہ تھا وہ بھی بہ سبب شامل ہونے فوج کےاُس جتھے سے الگ نہ ہو سکے۔ ہندوستانی رعایا جانتی تھی کہ سرکارکے پاس جو کچھ ہے وہ ہندوستانی فوج ہے جب تمام فوج کا بگڑنامشہور ہو گیا۔ سب نے سر اُٹھایا عملداری کا ڈر دِلوں سے جاتا رہااور سب جگہ فساد برپا ہو گیا +</br>
{{gap}}اب ہماری اِس رائے کو پنجاب کے حالات پر تولو پنجاب
کے مسلمان بہت ستم رسیدہ تھے سکھوں کے ہاتھ سے سرکاری
عملداری سے اُن کا چنداں نقصان نہ ہوا تھا سرکار نے پنجاب
میں ابتدائے عملداری میں بہت تشدّد کیا تھا اور اب دن بدن
رفاہ کرتی جاتی تھی۔ برخلاف ہندوستان کے کہ یہاں معاملہ
بالعکس تھا۔ ابتدائے عملداری میں تمام ملک کے ہتھیار لئے گئےکسی کو قابو فساد کا نہ رہا تھا۔ اگرچہ وہ تلاطم سکھوں کو جو پہلے تھا نہ رہاتھا مگر اُن کا کمایا ہوا روپیہ جو اُن کے پاس جمع تھا ابھی خرچ نہ ہو چکاتھا اور وہ مفلسی جو ہندوستان میں تھی وہاں ابھی نہیں آئی تھی اِس کے سو تین سبب اور بہت قومی تھے جو پنجاب نہ بگڑا :۔
</div>
</div>
{{Float right|پنجاب میں سرکشی}}</br>
{{Float right|نہ ہونے کا سبب}}<noinclude></noinclude>
d19an9hre0dizhl4mnr3ig3umrfzqbw
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/58
250
13723
34962
2026-06-15T09:11:41Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34962
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۶}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{gap}}اول یہ کہ فوجِ انگلشیہ وہاں موجود تھی+
{{gap}}دوسرے یہ کہ وہاں کے حکام کی ہوشیاری سے دفعتاً
بے خبری میں ہندوستانی فوج کے ہتھیار لے لئے گئے ، بہ سبب طغیانی اور کثرت سے واقع ہونے دریاؤں اور بند ہوجانے گھاٹوں کے ہندوستانی فوج بے قابو ہو گئی فوج کا فساد برپا نہ ہو سکا۔ ؎
{{gap}}تیسرے یہ کہ تمام سکھ اور پنجابی اور پٹھان جن سے احتمالِ فساد تھاسرکار میں نوکر ہو گئے اور لوٹ کا لالچ اُس پر مزید تھا جو بات رعایائےہندوستان اور روزگار پیشہ کو باغیوں کے ہاں مُشکل اور بذلت حاصل ہوتی تھی وہ اہلِ پنجاب کو سرکار کے ہاں عزت و بلا دقت نصیب تھاپھر حالاتِ پنجاب کے ہندوستان کے حالات سے بالکل مخالف تھے +
</div>
</div><noinclude></noinclude>
tvg6vnk376v3upvgfowo5849kcshyej
34963
34962
2026-06-15T09:12:09Z
Asimali2003
224
34963
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۶}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{gap}}اول یہ کہ فوجِ انگلشیہ وہاں موجود تھی+</br>
{{gap}}دوسرے یہ کہ وہاں کے حکام کی ہوشیاری سے دفعتاً
بے خبری میں ہندوستانی فوج کے ہتھیار لے لئے گئے ، بہ سبب طغیانی اور کثرت سے واقع ہونے دریاؤں اور بند ہوجانے گھاٹوں کے ہندوستانی فوج بے قابو ہو گئی فوج کا فساد برپا نہ ہو سکا۔ ؎
{{gap}}تیسرے یہ کہ تمام سکھ اور پنجابی اور پٹھان جن سے احتمالِ فساد تھاسرکار میں نوکر ہو گئے اور لوٹ کا لالچ اُس پر مزید تھا جو بات رعایائےہندوستان اور روزگار پیشہ کو باغیوں کے ہاں مُشکل اور بذلت حاصل ہوتی تھی وہ اہلِ پنجاب کو سرکار کے ہاں عزت و بلا دقت نصیب تھاپھر حالاتِ پنجاب کے ہندوستان کے حالات سے بالکل مخالف تھے +
</div>
</div><noinclude></noinclude>
8mclqq7qpzp59do8p4m786k27tvqyh7
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/59
250
13724
34964
2026-06-15T09:19:10Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34964
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۷}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|{{xx-larger|نقلِ اشتہار}}}}</br>
{{gap}}دریں نزدیک برسمعِ مبارکِ نوابِ معلّٰی القاب لفٹنٹ گورنر بہادر بنگال چنان رسیده که بعضی اشخاص از راهِ تعصب و نادانی محض برائے حیرانی و پریشانی جمہور خلائق چند سخنانِ بے اصل و نالائق متعلقِ بند وبستِ ملک و رسم و طریقتِ ہنود و مسلماناں چناں مشہور و اعلان کردہ اند کہ باستماعِ خطراتِ پنجہ طور دلِ مر دماں جا کردہ جنابِ نوابِ لفٹنٹ گورنر بہادر رابسیار حیرت و حسرت است کہ سکنائے ایں ملک حقیقتِ حال را دریافت نہ کردہ صرف با فسادِ مفسدانِ چرا خود را زیرِ بارِ تشویش میکنند لاجرم بذریعہ
اشتہارِ عام حقیقتِ نفس الامر ہی اختر اعات کہ بگوشِ حقیقت نیوش نوابِ معظم الیہ در آمدہ مشتہر کردہ می شود تاکہ کافۂ انام بر حقیقتِ حال و اِسپندو بیقینِ معلوم نمایند کہ سرکارِ بہادر را نو عے درملت و مذہبِ طریق و رسم و راہِ
رعایا مداخلت و مزاحمت نیست و آئندہ را نیز نخواہد بود بلکہ حفاظتِ جان و مال و عزت و حرمتِ ایناں پیشِ نہاد است و مساعی جمیلہ دریں باببکار مے آید و آمدنی است +</br>
{{gap}}اوّل اینکہ بعضے پادریاں کلکتہ بطریقِ طریقہ و وظیفہ معمولی خود نہاًسوال دربارہ مذہب و ملت بطریقِ مناظرہ و مباحثہ چاپ کردہ ملفوف بلفا فہا عموماً پیشِ ہندوستا نیاں فرستادہ و آنها از غلط فہمی خودانگاشتند کہ آنچناں مضامین باِشارہ سرکار ابد پادار بظہور رسیدہ حالانکہ سرکارِ بہادر را ازاں ہیچگونہ اطلاعے و آگاہی نیست و نیز ہرگزو بہر آئین شایانِ سرکارِ عالی اقتدار نہ بودہ کہ ترغیب و تحریض کسے از رعایابسوئے ملت و دین خودفرماید چہ ظاہر است کہ رعایائے ایں ملک ہر قسم محرمِ اند و ملت و مذہبِ کیش و آئین جداگانہ میدارند و رقبہ ایشاں تحتِ رقبہ اقتدارِ سرکارِ والا اقتدار اساست و نظرِ لطف و کرم برحالِ آںہا
</div>
</div><noinclude></noinclude>
o0a9422m9enfz9ki6rt907egsu49i61
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/60
250
13725
34965
2026-06-15T09:25:58Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34965
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۸}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
مساوی و یکسان است با وجودِ امتدادِ مدتِ سلطنتِ سرکارِ ابد پادارہیچ وقتے مزاحمت ، تعرض کیش و ملتِ کدامی اہلِ اسلام و دیگر مذہب بعمل نیامده پادریانِ صاحباں ایں قسم امور از طرفِ خود اجرا میکنند و انہیں گویا لوازمِ معاداتِ معمولی شاں است چنانچہ مسلماناں و ہنود دائرہ مساجد
معابد وعظ و نصائح می کنند و اظہار و ابرازِ اموراتِ شرعی و ترغیبِ بیت و اجتناب از نواحی می سازند و اگر تامل کردہ شود صاف واضح شود کہ ایں معنی سخنے نو و امرے جدید نیست بلکہ طریقِ مناظرہ و مباحثہ درمیاں علمائے مختلف الہذا ہب ہموارہ جاری است و از بہر اموراتِ سرکاربہادر را ہیچ علاقہ نیست +</br>
{{gap}}دوم ایں کہ بعض اخبار اخبار کردہ و در عوام نیز شہرت یافتہ است کہ بالفعل از طرفِ سرکار آنچنان قوانین جاری شدنی ست کہ ازاں رسم تعزیہ داری و مراسمِ فتنہ و پردہ نشینی زنانِ شرفاء وغیرہ احکاماتِ شرع وشاستر بر افتد و یکسر موقوف گرد دحالانکہ اینہم غلط است و افترا مے محض سرکارِ بہادر در راہ و رسم و کیش و مذہبِ کدامی کس دست اندازی منظور نیست بلکہ اینمعنی بر خلافِ طریقہ ورعیت پروری کہ سجیہ مرضیہ سرکار بہادراست بودہ است +</br>
{{gap}}سیوم ایں کہ صاحب سپر نٹنڈنٹ جہانی نہ بعضے اضلاع بلا اطلاع و داتاسرکارِ والا اقتدار حکم سنیدہ گرفتنِ ظروفِ اکل و شرب از قیدیاں بخیالِ تصور تفرقہ و امتیاز در مصایبِ قید و راحت خانہ صادر کردہ بُو دلیکن سرکارِ بہادر را معلوم گردید کہ ایں امر نقصانے در مذہبِ آںہاو از لاعلمی مہتمم جیلخانہ آنچنان حکم صادر گردیدہ علی الفور جلیڈاک
برقی حکمِ موقوفی آں صادر گشت ہ</br>
{{gap}}چہارم ایں کہ بسمعِ معدلت مجتمع در آمد کہ سکنہ ایں مملکت بلایئے اکول و اسبابِ علوم و تحصیلِ فنون و ترویجِ زبانِ انگریزی را اسبابِ تبدیل
</div>
</div><noinclude></noinclude>
7dv0d0od414lmvs3pxhuvhy4zznzemx
34966
34965
2026-06-15T09:26:56Z
Asimali2003
224
34966
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۸}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
مساوی و یکسان است با وجودِ امتدادِ مدتِ سلطنتِ سرکارِ ابد پادارہیچ وقتے مزاحمت ، تعرض کیش و ملتِ کدامی اہلِ اسلام و دیگر مذہب بعمل نیامده پادریانِ صاحباں ایں قسم امور از طرفِ خود اجرا میکنند و انہیں گویا لوازمِ معاداتِ معمولی شاں است چنانچہ مسلماناں و ہنود دائرہ مساجد
معابد وعظ و نصائح می کنند و اظہار و ابرازِ اموراتِ شرعی و ترغیبِ بیت و اجتناب از نواحی می سازند و اگر تامل کردہ شود صاف واضح شود کہ ایں معنی سخنے نو و امرے جدید نیست بلکہ طریقِ مناظرہ و مباحثہ درمیاں علمائے مختلف الہذا ہب ہموارہ جاری است و از بہر اموراتِ سرکاربہادر را ہیچ علاقہ نیست +</br>
{{gap}}دوم ایں کہ بعض اخبار اخبار کردہ و در عوام نیز شہرت یافتہ است کہ بالفعل از طرفِ سرکار آنچنان قوانین جاری شدنی ست کہ ازاں رسم تعزیہ داری و مراسمِ فتنہ و پردہ نشینی زنانِ شرفاء وغیرہ احکاماتِ شرع وشاستر بر افتد و یکسر موقوف گرد دحالانکہ اینہم غلط است و افترا مے محض سرکارِ بہادر در راہ و رسم و کیش و مذہبِ کدامی کس دست اندازی منظور نیست بلکہ اینمعنی بر خلافِ طریقہ ورعیت پروری کہ سجیہ مرضیہ سرکار بہادراست بودہ است +</br>
{{gap}}سیوم ایں کہ صاحب سپر نٹنڈنٹ جہانی نہ بعضے اضلاع بلا اطلاع و داتاسرکارِ والا اقتدار حکم سنیدہ گرفتنِ ظروفِ اکل و شرب از قیدیاں بخیالِ تصور تفرقہ و امتیاز در مصایبِ قید و راحت خانہ صادر کردہ بُو دلیکن سرکارِ بہادر را معلوم گردید کہ ایں امر نقصانے در مذہبِ آںہاو از لاعلمی مہتمم جیلخانہ آنچنان حکم صادر گردیدہ علی الفور جلیڈاک
برقی حکمِ موقوفی آں صادر گشت +</br>
{{gap}}چہارم ایں کہ بسمعِ معدلت مجتمع در آمد کہ سکنہ ایں مملکت بلایئے اکول و اسبابِ علوم و تحصیلِ فنون و ترویجِ زبانِ انگریزی را اسبابِ تبدیل
</div>
</div><noinclude></noinclude>
kyuyetsgqcvcrg1af2owd40o76qqghg
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/61
250
13726
34967
2026-06-15T09:41:14Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34967
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۵۴}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
ملت و تخریب بنائے دین مذهب پندارند و ازینجا است که بسعی خودتان در تحصیل علم و تکمیل فنون تعلل و تهاون می کنند و بعض اشخاص بفرستادن اطفال در اسکول مضایقه می دارند ظاهراً منشائے آں جز ناقصی اندیشی نیست والا اصل این است که هرگاه بحضور سرکار والا اقتدار متحقق گردید
که رعایائے این مملکت بسبب بے علمی و بے هنری از طریقه کسب معاش چناں بے خبر اند که از اوقات گذاری خودها با راحت و آسایش معذوراند۔ لاجرم بحکم والاے جناب ملکه انگلستان که از راه تفضلات خسروانه صدور یافت برائےتعلیم و تربیت آنها باهتمام تمام و صرف مالاکلام درهر یک اضلاع و امصار مدارس اسکول و کالج بنا گردید و در هر ضلع صاحباں
بعهده انسپکٹر بہ نیابت شاں مستعد و دہر هندوستانی برائے طریقہ تربیت معین گشتند و برائے درس و تدریس و تعلیم کسب علوم و فنوں زبان انگریزی وغیرہ آں تاکید مزید شد تا باشندگان ایں ملک عموماًاز جهل و بے دانشی وارسته تحصیل علم و دانش بخوبی تحصیل معاش نمایندو از تنگنائے تنگی و عسرت بر آمده با مسرت و عشرت صرف اوقات
خودہا نمایند+</br>
{{gap}}مخفی نیست که باشندگان ملک یورپ یعنی ولایت بمقتضائے عیش بتحصیل علوم هرگونه امورات را از رسائی عقل رسائے خود بجو بهائے تمامانجام میدہند۔ بخلاف اهالی ایں دیار که باعث بعلمی و بے دانشی بے سلیقہ محض اند اگر علم و هنر و فهم و دانش در میان شائع گردد هر یکی از مرکز آسایش وآرام سا جا مع شود و تشریف شاہی را کما حقہ ندر یافتن ذینگی را بجائے خودحمل کردن چه قدر افسوس و حسرت است که بشرح نمی آید جناب لفتنٹ گورنر بہادرچناں قیاس میفرمایند که بلکه اینهمه خیالات فاسدہ براہ غلط فہمی است
نه از روئے تعصب باطنی میباید دانست که غرض سرکار بہ تربیت و تعلیم انگریزی آں نیست که مخل بر دین و آئین شاں در آید بلکه هر کس مجاز است که بر حکم و
</div>
</div><noinclude></noinclude>
no7dyt3it3q9g7or16ohfas34bxx5i5
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/62
250
13727
34968
2026-06-15T09:47:34Z
Asimali2003
224
/* پروف خوانی شدہ */
34968
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۱}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
ہنر کہ مرغوب و متبوع باد و باعث فائدہ دانیچہ تحصیل آں پرواندہ مگر ایں ہم دانستی است کہ بکان زبان انگریزی کتب وسائل ہر فن موجود است و ہمیشہ تجربہ ہائے جدیدواختراعات نو بہ نو برو سے کار می آیند کہ بزبان دیگر حاصل نیست
زبان انگریزی زبان والی ملک صاحب سلطنت است و در عدالتہا
باعث افہام و تفہیم عوام زبان مروجہ ایں ملک جاری ست دریں صورت بتحصیل و تکمیل زبان انگریزی وارد و جنگلہ از برائے حصول معاش وترقیات حرمت و غرمت و اقبال بلا شک است و از واجبات است۔</br>
{{gap}}مخفی مباد کہ از ارائیکہ نواب معلے القاب لفتنٹ گورنر بہادر احوالایں دیار را بچشم خود دیدہ و از اکثر اشخاص شنید ہ و ہمت والا نعمت مختتم الیہ بفکر درستی اوضاع باشندگان ایں ملک با یجاد طریق تعلیم و تربیت
و آرام و آسایش و حفظ عزت و حرمت ہر یک عموماً مصروف است و ازغایت مہربانی و دلسوزی اصلاح حال شرفا و نجباء و زمینداران و رعایاںخصوصاً مد نظر است۔</br>
{{gap}}لہذا اشتہار دادہ می آید کہ ہمگنان سکنہ ایں ملک بر نیک نیتی و بلند ہمتی سرکار والا اقتدار واقف و مطلع بودہ شکر خدا بجا آرند و باطمینان تمام اوقات خود با بسر کردہ بدعائے دوام دولت ابد مدت مکرر و لتدأ
مصروف باشند۔
</div>
</div><noinclude></noinclude>
64i94af397cpxsywkfkwqehzg4fudi7
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/63
250
13728
34970
2026-06-15T10:23:17Z
Asimali2003
224
/* بدون متن */
34970
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Asimali2003" /></noinclude><noinclude></noinclude>
3dcfjnucng18sjc1hp1dwiv8exvbi4q
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/4
250
13729
34973
2026-06-15T10:38:58Z
Aleezarafiq69
215
/* پروف خوانی شدہ */
34973
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> سیتا جی کی مورتی کی روزانہ پوجا نہ ہوتی ہو۔
یہ رتبہ رام چندر کو کیسے حاصل ہوا۔ آج ہم
تم سے وہی قصہ کہتے ہیں۔ دل لگا کر پڑھو۔
تم والمیک، یا تلسی داس کی کتابیں ابھی نہیں
سمجھ سکتے۔ اس لئے ہم نے رام چندر کے
حالات تمہارے لئے آسان عبارت میں لکھے
ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ تم اس لاثانی بزرگ
کے حالات دھیان سے پڑھوگے اور اُن سے
سبق حاصل کرو گے۔
پریم چند<noinclude></noinclude>
iwk7l4cyfpag4hjkgbioax5gcxmeokz
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/309
250
13730
34978
2026-06-15T11:36:20Z
Aleezarafiq69
215
/* پروف خوانی شدہ */
34978
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>راستنی ترقی ہوئی، رعایا اتنی خوشحال تھی کہ
”رام راج“ ایک مثل ہو گیا ہے۔ جب کسی
زمانہ کی بہت تعریف کرنا ہوتا ہے تو اُسے
”رام راج“ کہتے ہیں۔ اُس زمانہ میں چھوٹے
بڑے سب خوشحال تھے۔ اِس لئے کوئی چوری
نہ کرتا تھا۔ تعلیم عام تھی، بڑے بڑے رِشی
لڑکوں کو پڑھاتے تھے، اِس لئے بدکاریاں نہ
ہوتی تھیں۔ وہ وان لوگ انصاف کرتے تھے،
اِس لئے جھوٹی گواہیاں نہ بنائی جاتی تھیں۔
کاشتکاروں پر سختی نہ کی جاتی تھی، اِس لئے
وہ دل لگا کر کھیتی کرتے تھے۔ غلہ بہ افراط پیدا
ہوتا تھا۔ ہر ایک گاؤں میں کنوئیں اور تالاب
کھدوا دئے گئے تھے، نہریں بنا دی گئی تھیں
اِس لئے کسان لوگ آسمانی بارش کے محتاج نہ
تھے۔ صفائی کا بہت اچھا انتظام تھا۔ کھانے
پینے کی چیزوں کی کمی نہ تھی، دودھ گھی افراط
سے پیدا ہوتا تھا کیونکہ ہر ایک گاؤں میں<noinclude></noinclude>
4suvktlz2jkqzh1fbu6gyk6lzi0v4sl
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/310
250
13731
34979
2026-06-15T11:54:56Z
Aleezarafiq69
215
/* پروف خوانی شدہ */
34979
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>صاف چراگاہیں تھیں، اِس لئے ملک میں
بیماریاں نہ تھیں ۔ پلیگ، ہیضہ، چیچک وغیرہ
مرضوں کے نام بھی کوئی نہ جانتا تھا۔ تندرست
رہنے کے باعث سبھی خوبصورت تھے۔ بدصورت
آدمی مشکل سے ملتا تھا۔ کیونکہ صحت ہی خوبصورتی
کا راز ہے ۔ جوان موتیں بہت کم ہوتی تھیں ۔
اِس لئے کہ لوگ اپنی پوری عمر جیتے تھے۔ گلی
گلی یتیم خانے نہ تھے اِس لئے کہ ملک میں یتیم
اور بدھوائیں ہوتی ہی نہیں ۔
اُس زمانہ میں آدمی کی عزت اُس کی دولت
یا ثروت کے اعتبار سے نہ کی جاتی تھی بلکہ
دھرم اور علم کے اعتبار سے ۔ امیر لوگ غریبوں
کا خون چوسنے کی فکر میں نہ رہتے تھے، نہ
غریب لوگ امیروں کو دھوکا دیتے تھے۔ دھرم
اور فرض کے مقابلہ میں غرض اور مطلب کو
لوگ حقیر سمجھتے تھے۔ رامچندر رعایا کو اپنے لڑکے
کی طرح مانتے تھے ۔ رعایا بھی انہیں اپنا باپ<noinclude></noinclude>
b1ozen3bmaevudcp4wly64kuj6ztgrl