ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.6 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/290 250 13157 35008 32572 2026-06-16T01:54:54Z Charan Gill 46 35008 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۸۴ سری رامچندر جی آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وہ خود آتے مگر شہر میں آئے سے مجبور ہیں ۔ سیتا جی خوشی خوشی پالکی پر بیٹھیں ۔ رامچندر سے ملنے کی خوشی میں انہیں کپڑوں کی بھی پرواہ نہ تھی ۔ مگر بھھیشن کی رانی سرما نے اُن کے جسم پر اُبٹن ملا، سر میں تیل ڈالا، بال گوندھے۔ بیش قیمت ساڑی پہنائی اور رخصت کیا۔ سواری روانہ ہوئی ۔ ہزاروں آدمی ساتھ تھے. رامچندر کو دیکھتے ہی سیتا جی کی آنکھوں - خوشی کے آنسو بہنے لگے ۔ وہ پالکی سے اُتر کر اُن کی طرف چلیں ۔ رامچندر اپنی جگہ پر کھڑے رہے ۔ اُن کے چہرے سے خوشی نہیں ظاہر ہو رہی تھی ۔ بلکہ رنج ظاہر ہوتا تھا ۔ سیتا قریب آگئیں ۔ پھر بھی وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔ تب سیتا جی اُن کے دل کی بات سمجھ گئیں ۔ وُہ اُن کے پیروں پر نہیں گریں ۔ سر جھکا کر کھڑی ہو گئیں ۔ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ہے سے<noinclude></noinclude> sqaq5l1r2do7gjt6tp15uzkcw4n24fl صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/40 250 13698 35002 34934 2026-06-15T16:21:23Z ~2026-35125-82 235 35002 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> {{Block center|<poem>عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو نفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند</poem>}} امن اور آسائش اور آزادی۔ رستوں کا صاف ہونا ڈاکوؤں رہزنوں ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا۔ سڑکوں کا آراستہ ہونا مسافروں کی آسایش۔ بیوپاریوں کا مال دُور دُور بھیجنا۔ غریب اعلیٰ اور ادنیٰ کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا۔ خونریزی اور خانہ جنگی کا بند ہونا۔ زیردست زبردست کا زور اُٹھنا اور اسی قسم کی بہت سی باتیں ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہونگی مگر غور کرو کہ ان باتوں سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی ایک اور بات دیکھو کہ یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہُوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا۔ اول عورتوں کو کہ سب طرح آسایش میں تھیں خانہ جنگی میں اولاد کا مارا جانا۔ چور ٹھگوں کے ہاتھ سے لُٹنا۔ عاملوں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ رہنا اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں۔ پھر دیکھو لو کہ کس قدر خیر خواہ اور مداح سرکار کی عملداری کی تھیں۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسائش سے تھے پھر ان میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں پہنچا تھا ان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا. {{center|{{x-larger|اصل چہارم}}}}</br> {{gap}}ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا. جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں گو وہ ہمارے بعض حکام کے ناگوارِ طبع ہوں مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس مقام بہت ضرور ہے یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور دام میں آتے ہیں درندے رام ہوتے ہیں انسان کی تو کیا حقیقت ہے </div> </div> {{Float right|چہارم نہ کرتا اُن باتوں کا جن کا کرنا گورنمنٹ دریغ}} </br> {{Float right|محبت اور اتحاد کا ہندوستانیوں سے نہ کرنا }}<noinclude></noinclude> 9usvt5yz0fhsxdvtxht47fobkgq49ny 35003 35002 2026-06-15T16:22:25Z ~2026-35125-82 235 35003 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> {{Block center|<poem>عیب مے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو نفی حکمت مکن از بہر دل عامے چند</poem>}} امن اور آسائش اور آزادی۔ رستوں کا صاف ہونا ڈاکوؤں رہزنوں ٹھگوں کا نیست و نابود ہونا۔ سڑکوں کا آراستہ ہونا مسافروں کی آسایش۔ بیوپاریوں کا مال دُور دُور بھیجنا۔ غریب اعلیٰ اور ادنیٰ کے خطوط دور دست ملکوں میں برابر پہنچنا۔ خونریزی اور خانہ جنگی کا بند ہونا۔ زیردست زبردست کا زور اُٹھنا اور اسی قسم کی بہت سی باتیں ایسی اچھی ہیں کہ کسی عملداری میں نہ ہوئی ہیں نہ ہونگی مگر غور کرو کہ ان باتوں سے وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کرتے ہیں نہیں جاتی ایک اور بات دیکھو کہ یہ نفع عملداری کا جو مذکور ہُوا کن لوگوں کو زیادہ تر تھا۔ اول عورتوں کو کہ سب طرح آسایش میں تھیں خانہ جنگی میں اولاد کا مارا جانا۔ چور ٹھگوں کے ہاتھ سے لُٹنا۔ عاملوں کے ہاتھ سے خاوندوں اور بچوں کا محفوظ رہنا اور ہزارہا طرح کے مصائب سے محفوظ تھیں۔ پھر دیکھو لو کہ کس قدر خیر خواہ اور مداح سرکار کی عملداری کی تھیں۔ مہاجن اور تجارت پیشہ لوگ بہت آسائش سے تھے پھر ان میں کوئی بھی بدخواہ نہ تھا۔ حاصل یہ کہ جن لوگوں کو عملداری سرکار سے نقصان نہیں پہنچا تھا ان میں سے کوئی بدخواہ نہ ہوا. {{center|{{x-larger|اصل چہارم}}}} {{gap}}ترک ہونا اُن امور کا ہماری گورنمنٹ کی طرف سے جن کا بجا لانا ہماری گورنمنٹ پر ہندوستان کی حکومت کے لئے واجب اور لازم تھا. جو مراتب کہ ہم اس مقام پر لکھتے ہیں گو وہ ہمارے بعض حکام کے ناگوارِ طبع ہوں مگر ہم کو سچ لکھنا اور دل سے کھول کر کہنا اس مقام بہت ضرور ہے یہ وہ بات ہم کہتے ہیں کہ جس سے جنگلی وحشی جانور دام میں آتے ہیں درندے رام ہوتے ہیں انسان کی تو کیا حقیقت ہے </div> </div> {{Float right|چہارم نہ کرتا اُن باتوں کا جن کا کرنا گورنمنٹ دریغ}} </br> {{Float right|محبت اور اتحاد کا ہندوستانیوں سے نہ کرنا }}<noinclude></noinclude> 9c9p7vhiq1yfja0c0rbvcvqoc47jwyc صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/278 250 13700 34981 34920 2026-06-15T14:38:16Z Sonia Atwal 220 34981 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مل گئی۔ بھائی کے غم میں بڑی دیر تک ماتم کرتا رہا : {{Block center|(۴) میگھنا د کا مارا جانا}} دوسرے دن میگھناد بڑے سج دھج سے میدان میں آیا ۔ اُس نے دونو بھائیوں کو مار گرانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا ۔ ساری رات اپنی دیوی کی پوجا کرتا رہا تھا ۔ اُسے اپنی طاقت اور جوانمردی کا بڑا غرہ تھا ۔ راون کی ساری اُمیدیں آج ہی کی لڑائی پر قائم تھیں ۔ لنکا میں پہلے ہی سے فتح کا جشن منانے کی ت یاریاں ہونے لگیں ۔ میگھنا د نے میدان میں آکر ڈنکے پر چوٹ دلوائی تو بھیجھیشن نے اُس کے سامنے جا کر کہا ۔ میگھناد میں جانتا ہوں کہ طاقت اور ہمت میں تم اپنا ثانی نہیں رکھتے ، نگر حق کی ہمیشہ جیت ہوئی ہے اور ہمیشہ ہوگی ۔ میرا کہنا مانو ، چل کر رامچندر سے صلح کرلو۔<noinclude></noinclude> snomnqrg4d24333pj6k95dc7v2x0kvw 35001 34981 2026-06-15T16:06:39Z Sonia Atwal 220 35001 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مل گئی۔ بھائی کے غم میں بڑی دیر تک ماتم کرتا رہا : {{Block center|(۴) میگھنا د کا مارا جانا}} دوسرے دن میگھناد بڑے سج دھج سے میدان میں آیا ۔ اُس نے دونو بھائیوں کو مار گرانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا ۔ ساری رات اپنی دیوی کی پوجا کرتا رہا تھا ۔ اُسے اپنی طاقت اور جوانمردی کا بڑا غرہ تھا ۔ راون کی ساری اُمیدیں آج ہی کی لڑائی پر قائم تھیں ۔ لنکا میں پہلے ہی سے فتح کا جشن منانے کی تیاریاں ہونے لگیں ۔ میگھناد نے میدان میں آکر ڈنکے پر چوٹ دلوائی تو بھیجھیشن نے اُس کے سامنے جا کر کہا ۔ میگھناد میں جانتا ہوں کہ طاقت اور ہمت میں تم اپنا ثانی نہیں رکھتے ، نگر حق کی ہمیشہ جیت ہوئی ہے اور ہمیشہ ہوگی ۔ میرا کہنا مانو ، چل کر رامچندر سے صلح کرلو۔<noinclude></noinclude> 5aso7eocg3csh5zdqqmgie229v23jnd صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/43 250 13708 35020 34947 2026-06-16T04:30:54Z BalramBodhi 60 35020 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۱}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> بیشک محبت ایک دِل کی چیز ہے جو کہے سے اور بناے سے نہیں بنتی ظاہر میں بھی اگرچہ اس کے آثار پائے جاتے ہیں الا سچ یہ ہے کہ نہ وہ بیان ہو سکتی ہے اور نہ نشان دیجا سکتی ہے۔ مگر دِل اُس کو خوب جانتا ہے بلکہ اُس کے ہاتھ میں بلکہ اُس کے ہاتھ میں ایک ایسی سچی ترازو ہے کہ وہ کمی بیشی کو بھی پہچانتا ہے ؎ {{center|دل را بدل رہے است دریں گنبدِ پہر}} {{center|از سوئے کینہ کینہ روز سوئے مہر مہر}} ہماری گورنمنٹ نے اپنے آپ کو آج تک ہندوستانیوں سےایسا الگ اور اُن میل رکھا ہے جیسے آگ اور سوکھی گھاس ہماری گورنمنٹ اور ہندوستانی پتھر کے دو ٹکڑے ہیں سفید و کالے کہ الگ الگ پہچانے جاتے ہیں اور پھر ان دونوں میں ایک فاصلہ ہے کہ دن بدن زیادہ ہوتا جاتا ہے حالانکہ ہماری گورنمنٹ کو ہندوستان کی رعایا کے ساتھ ایسا ہونا چاہئے جیسے ابریکا پتھر کہ باوجود دو رنگ کے ایک ہوتا ہے سفید رنگ میں سیاہ خال بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اور سیاہی میں سفیدی عجیب بہار دکھلاتی ہے۔ {{gap}}ہم نا انصافی کی بات نہیں کہتے۔ ہماری گورنمنٹ کو بلا شبہ عیسائیوں کے ساتھ ایک خاص محبّت دینداری کی رکھنی چاہئے مگر ہم اپنی گورنمنٹ سے رعایاے ہندوستان پر وہ برادرانہ محبت اور برادرانہ محبت پر وہ الفت چاہتے ہیں جس کی نصیحت پطرس مقدس نے کی ہے اب غور کرو کہ ہمارے حکام اور ہندوستانیوں کا خون ایک نہ تھا مذہب ایک نہ تھا رسم و رواج ایک نہ تھا دِلی رضامندی رعایا کو نہ تھی آپس میں محبت اور اتحاد نہ تھا۔ پھر کس بات پر ہمارے حکام ہندوستان سے وفاداری کی توقع رکھتے تھے. {{gap}}ہندوستان کی پچھلی سلطنتوں کا حال دیکھو اول ہندوستان پر </div> </div> {{Float right|پطرس کا خط ۲ باب}}</br> {{Float right|درس ۷ }} </br> {{Float right|پچھلی عملداریوں میں جبتک </br> ہندوستانیوں سے محبت و اتحاد کی </br> اساع\ت/ نہیں ہوئی +}}<noinclude></noinclude> d2jhyl7l0sz97pe4nzdbpsxo0a3ldvt 35021 35020 2026-06-16T04:33:20Z BalramBodhi 60 35021 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۱}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> بیشک محبت ایک دِل کی چیز ہے جو کہے سے اور بناے سے نہیں بنتی ظاہر میں بھی اگرچہ اس کے آثار پائے جاتے ہیں الا سچ یہ ہے کہ نہ وہ بیان ہو سکتی ہے اور نہ نشان دیجا سکتی ہے۔ مگر دِل اُس کو خوب جانتا ہے بلکہ اُس کے ہاتھ میں بلکہ اُس کے ہاتھ میں ایک ایسی سچی ترازو ہے کہ وہ کمی بیشی کو بھی پہچانتا ہے ؎ {{center|دل را بدل رہے است دریں گنبدِ پہر}} {{center|از سوئے کینہ کینہ روز سوئے مہر مہر}} ہماری گورنمنٹ نے اپنے آپ کو آج تک ہندوستانیوں سےایسا الگ اور اُن میل رکھا ہے جیسے آگ اور سوکھی گھاس ہماری گورنمنٹ اور ہندوستانی پتھر کے دو ٹکڑے ہیں سفید و کالے کہ الگ الگ پہچانے جاتے ہیں اور پھر ان دونوں میں ایک فاصلہ ہے کہ دن بدن زیادہ ہوتا جاتا ہے حالانکہ ہماری گورنمنٹ کو ہندوستان کی رعایا کے ساتھ ایسا ہونا چاہئے جیسے ابریکا پتھر کہ باوجود دو رنگ کے ایک ہوتا ہے سفید رنگ میں سیاہ خال بہت خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اور سیاہی میں سفیدی عجیب بہار دکھلاتی ہے۔ {{gap}}ہم نا انصافی کی بات نہیں کہتے۔ ہماری گورنمنٹ کو بلا شبہ عیسائیوں کے ساتھ ایک خاص محبّت دینداری کی رکھنی چاہئے مگر ہم اپنی گورنمنٹ سے رعایاے ہندوستان پر وہ برادرانہ محبت اور برادرانہ محبت پر وہ الفت چاہتے ہیں جس کی نصیحت پطرس مقدس نے کی ہے اب غور کرو کہ ہمارے حکام اور ہندوستانیوں کا خون ایک نہ تھا مذہب ایک نہ تھا رسم و رواج ایک نہ تھا دِلی رضامندی رعایا کو نہ تھی آپس میں محبت اور اتحاد نہ تھا۔ پھر کس بات پر ہمارے حکام ہندوستان سے وفاداری کی توقع رکھتے تھے. {{gap}}ہندوستان کی پچھلی سلطنتوں کا حال دیکھو اول ہندوستان پر </div> </div> {{Float right|پطرس کا خط ۲ باب}}</br> {{Float right|درس ۷ }} </br> {{Float right|پچھلی عملداریوں میں جبتک </br> ہندوستانیوں سے محبت و اتحاد کی </br> آسایش نہیں ہوئی +}}<noinclude></noinclude> bj84x30ppxt0dzxdqkt36ve31i3vpt6 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/44 250 13709 35022 34976 2026-06-16T04:53:26Z BalramBodhi 60 35022 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۲}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> مسلمانوں نے فتح پائی ترکوں اور پٹھانوں کی سلطنت میں ہندوستان کی رعایا سے محبت اور میل جول نہ ہوا جب تک آسایش اور آسودگی سلطنت نے صورت نہ پکڑی مغلیہ کی سلطنت میں اکبر اول کے عہد سے یہ ملاپ بخوبی شروع ہُوا اور شاہجہان کے وقت تک بدستور رہا باوجود یکہ اُس زمانہ میں بھی رعایا کو بے نظمی اصول سلطنت کے سبب تکلیفیں پہنچتی تھیں مگر وہ زخم مندمل ہو جاتا تھا اُس برادرانہ محبت سے جو آپس میں تھی \۱۶۵۸ء\ میں یعنی عالمگیر کے عہد میں یہ محبت ٹوٹ گئی اور بہ سبب مقابلہ اور سرکشی قوم ہندو کے مشل سیوا جی مرہٹہ وغیرہ کے عالمگیر جملہ قوم ہندو سے ناراض ہوا اور اپنے صوبہ داروں کے نام حکم بھیجے کہ جملہ قوم ہندو کے ساتھ سخت گیری پیش آوے اور ہر ایک سے جزیہ لے پھر جو مضرت اور ناراضی رعایا کو ہوئی وہ ظاہر ہے غرضکہ ہماری گورنمنٹ نے سو برس کی عملداری میں بھی رعایا سے محبت اور الفت پیدا نہ کی. {{gap}}اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ رعایا کو باعزت رکھنا اور اُن کی تالیف کرنی یعنی اُن کے دلوں کو ہاتھ میں رکھنا بہت بڑا سبب ہے پائداری گورنمنٹ کا تھوڑا ملے اور آدمی کی عزت ہو تو وہ بہت زیادہ خوش ہوتا ہے بہ نسبت اُس کے کہ بہت ملے اور تھوڑی عزت ہو۔ بے عزتی کرنی کسی کی ایسی بد چیز ہے کہ آدمی کے دل کو دُکھاتی ہے یہی چیز ہے کہ بغیر ظاہری نقصان پہنچائے عداوت پیدا کرتی ہے اور اس کا ایسا گہرا زخم ہوتا ہے کہ کبھی نہیں بھرتا ؎ {{center|جراحات السنان لها التيام}} {{center|ولا يلتام ما جرح اللسان}} تالیف کی خاصیت اس کے برخلاف ہے یہ وہ چیز ہے کہ اس سے </div> </div> ہندوستانیوں کی بے توقیری<noinclude></noinclude> ov5tjrioywqakvgvpkk6aya4q5a9scw صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/311 250 13732 34980 2026-06-15T14:35:51Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34980 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>سمجھتی تھی۔ گھر گھر یگیہ اور ہَون ہوتا تھا۔ رام چندر محض اپنے صلاحکاروں ہی کی باتیں نہ سنتے تھے۔ وہ خود بھی اکثر بھیس بدل کر اجودھیا اور راج کے دوسرے شہروں میں گھومتے رہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ رعایا کا ٹھیک ٹھیک حال انہیں ملتا رہے۔ جوں ہی وہ کسی سرکاری اہلکار کی بُرائی سنتے فوراً اُس سے جواب طلب کرتے۔ اور سخت سزا دیتے۔ مجال نہ تھی کہ رعایا پر کوئی ظلم کرے اور رامچندر کو اُس کی خبر نہ ملے۔ جس ہراہٹھ کو دولت کی طرف جھکتے دیکھتے فوراً اُس کا نام دیشوں میں لکھا دیتے۔ اُن کے راج میں یہ ممکن نہ تھا کہ کوئی نو دولت اور عزت دونو ہی لوٹے، اور کوئی دو میں سے ایک بھی نہ پائے۔ کئی سال اسی طرح گزر گئے۔ ایک دن رامچندر رات کو اجودھیا کی گلیوں میں بھیس بدلے گھوم رہے تھے کہ ایک دھوبی کے گھر<noinclude></noinclude> 7xzkhic2z98tlea9kz2utslj9vih7lh صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/312 250 13733 34982 2026-06-15T14:38:38Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34982 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>میں جھگڑے کی آواز سُن کر وہ رُک گئے اور کان لگا کر سُننے لگے۔ معلوم ہوا کہ دھوبن آدھی رات کو باہر سے لوٹی ہے اور اُس کا شوہر اُس سے پوچھ رہا ہے کہ تو اتنی رات تک کہاں رہی۔ عورت کہہ رہی تھی یہیں پڑوس میں تو ایک کام سے گئی تھی۔ کیا قیدی بن کر تیرے گھر میں رہوں؟ اس پر شوہر نے کہا۔ "میرے پاس رہے گی تو تجھے قیدی بن کر ہی رہنا پڑیگا، نہیں کوئی دوسرا گھر ڈھونڈ لے میں راجہ نہیں ہوں کہ تو چاہے جو عیب کر اُس پر پردہ پڑ جائے۔ یہاں تو ذرا بھی ایسی ویسی بات ہوئی تو برادری سے نکال دیا جائیگا۔ حقہ پانی بند ہو جائیگا۔ برادری کو بھوج دینا پڑ جائیگا۔ اتنا کس کے گھر سے لاؤنگا۔ تجھے اگر سیر سپاٹا کرنا ہے تو میرے گھر سے چلی جا۔" اتنا سُننا تھا کہ رامچندر کے ہوش اُڑ گئے<noinclude></noinclude> psuzu6rtzypz2dryfgf6yu32a1w8ct6 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/313 250 13734 34983 2026-06-15T14:42:27Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34983 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>ایسا معلوم ہوا کہ زمین نیچے دھنسی جا رہی ہے ۔ ایسے ایسے چھوٹے آدمی بھی میری بُرائی کر رہے ہیں ! میں اپنی رعایا کی نظروں میں اتنا گر گیا ہوں ! جب ایک دھوبی کے دل میں ایسے خیالات پیدا ہو رہے ہیں تو بھلے آدمی تو شاید میرا چھوا پانی بھی نہ پیئیں ۔ اُسی وقت رامچندر گھر کی طرف چلے ۔ اور ساری رات اسی بات پر غور کرتے رہے۔ کچھ عقل کام نہ کرتی تھی کہ کیا کرنا چاہئے۔ اس کے سوا کوئی تدبیر نہ تھی کہ سیتا جی کو اپنے پاس سے الگ کر دیں۔ مگر اس پاکیزگی کی دیوی کے ساتھ اتنی بے رحمی کرتے ہوئے انہیں روحانی صدمہ ہو رہا تھا ۔ سویرے رامچندر نے تینوں بھائیوں کو بلایا اور رات کے واقعہ کا ذکر کر کے اُن کی صلاح پوچھی۔ لکشمن نے کہا، 'اُس کمینے دھوبی کو پھانسی دے دینی چاہئے ۔ تاکہ پھر کسی کو<noinclude></noinclude> glgjo7cy4cozt0qk5fvi75iu4889s0t صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/314 250 13735 34984 2026-06-15T14:46:45Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34984 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>ایسی بُرائی کرنے کا حوصلہ نہ ہو۔‘ شتروہن نے کہا، ’اُسے راج سے نکال دیا جائے۔ اُس کی بد زبانی کی یہی سزا ہے۔‘ بھرت بولے، ’بکنے دیجئے۔ ان کمینے آدمیوں کے کہنے سے ہوتا ہی کیا ہے۔ سیتا جی سے زیادہ پاکیزہ دیوی دُنیا میں تو کیا دیولوک میں بھی نہ ہوگی۔‘ لکشمن نے جوش سے کہا، ’آپ کیا کہتے ہیں بھائی صاحب، ان ٹکے کے آدمیوں کی اتنی جرات کہ سیتا جی کے بارے میں ایسی بدگمانیاں کریں۔ ایسے آدمی کو ضرور پھانسی دینی چاہئے۔ سیتا جی نے اپنی پاکیزگی کا ثبوت اُسی وقت دے دیا جب وہ چتا میں کودنے کو تیار ہو گ گئیں،‘ رامچندر نے دیر تک خیال میں ڈوبے رہنے کے بعد سر اُٹھایا اور بولے، ’آپ لوگوں نے سوچ کر صلاح نہیں دی، غصہ میں آگئے۔<noinclude></noinclude> fmer2njhsbeky23j2bb055gakzmol0i صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/315 250 13736 34985 2026-06-15T14:49:46Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34985 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>دھوبی کو قتل کر دینے سے ہماری یہ بدنامی دُور نہ ہوگی، بلکہ اور بھی پھیلیگی۔ بدنامی کو دُور کرنے کا صرف ایک علاج ہے اور وہ یہ ہے کہ سیتا جی کو ترک کر دیا جائے۔ میں جانتا ہوں کہ سیتا حیا اور پاکیزگی کی دیوی ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے۔ کہ انہوں نے خواب میں بھی میرے سوائے اور کسی کا خیال نہیں کیا۔ لیکن میرا یقین جب رعایا کے دلوں میں یقین نہیں پیدا کر سکتا تو اس سے فائدہ ہی کیا ۔ میں اپنے خاندان میں کلنک لگتے نہیں دیکھ سکتا۔ میرا دھرم ہے کہ رعایا کے سامنے زندگی کا ایسا نمونہ پیش کروں جو سماج کو اور بھی اُونچا اور پاک بنائے۔ اگر میں ہی لوک نندا اور بدنامی سے نہ ڈروںگا تو رعایا اس کی کب پرواہ کریگی۔ اور اس طرح عوام کو سیدھے اور سچے<noinclude></noinclude> 83n8z6vcs1wxl8mrwuulzuoagshiy18 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/316 250 13737 34986 2026-06-15T14:52:00Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34986 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>سے ہٹ جانا آسان ہو جائیگا۔ بدنامی سے بڑھ کر ہماری زندگی کو سدھارنے کی کوئی دوسری طاقت نہیں ہے۔ میں نے جو تدبیر بتلائی اس کے سوا اور کوئی دوسری تدبیر نہیں ہے،‘ تینوں بھائی رامچندر کی یہ گفتگو سن کر گم سُم ہو گئے۔ کچھ جواب نہ دے سکے۔ ہاں دل میں اُن کی قربانی کی تعریف کرنے لگے۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ سیتا جی بے قصور ہیں، پھر بھی سماج کی بھلائی کے خیال سے اپنے دل پر اتنا جبر کر رہے ہیں۔ فرض کے سامنے، رعایا کی بھلائی کے مقابلہ میں انہیں اُس کی بھی پرواہ نہیں ہے جو انہیں دُنیا میں سب سے عزیز ہے ۔ شاید اپنی بُرائی سُن کر یہ اتنی ہی مستعدی سے اپنی جان دے دیتے۔ رامچندر نے ایک لمحہ کے بعد پھر کہا، ’ہاں اس کے سوا اب کوئی دوسری تدبیر نہیں ہے۔<noinclude></noinclude> skp1dq2c6ytg2v6sfpveowmv8i5pjeb صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/317 250 13738 34987 2026-06-15T14:55:41Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34987 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude> آج مجھے ایک دھوبی سے شرمندہ ہونا پڑ رہا ہے ۔ میں اسے برداشت نہیں کر سکتا ۔ بھیا لکشمن، تُم نے بڑے نازک موقعوں پر میری مدد کی ہے ۔ یہ کام بھی تمہیں کو کرنا ہوگا۔ مجھ میں سیتا سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہے ۔ میں اُن کے سامنے جانے کی جرات نہیں کر سکتا۔ اُن کے سامنے جاکر میں اپنے قومی فرض سے ہٹ جاؤنگا۔ اس لئے تم آج ہی سیتا جی کو کسی بہانے سے لے کر چلے جاؤ میں جانتا ہوں کہ یہ بےرحمی کرتے ہوئے تمہارا دل تم کو کوسیگا، مگر یاد رکھو فرض کا راستہ کٹھن ہے۔ جو آدمی تلوار کی دھار پر چل سکے وہی فرض کے راستہ پر چل سکتا ہے ۔‘ یہ حکم دے کر رامچندر دربار میں چلے گئے۔ لکشمن جانتے تھے کہ اگر آج ہی رام چندر کے حکم کی تعمیل نہ کی گئی تو وہ ضرور خودکشی کر لینگے،<noinclude></noinclude> hrnjgfas6618kuv2g88ir93y96cyra1 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/318 250 13739 34988 2026-06-15T14:58:35Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34988 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>وہ اپنی بدنامی ہرگز نہیں سہہ سکتے۔ سیتا جی کے ساتھ دغا کرتے ہوئے اُن کا دل اُن کو ملامت کر رہا تھا مگر مجبور تھے ۔ جاکر سیتا جی سے بولے، ’بھابھی! آپ جنگلوں کی سیر کا کئی بار تقاضا کر چکی ہیں۔ میں آج سیر کرنے جا رہا ہوں ۔ چلئے آپ کو بھی لیتا چلوں۔‘ غریب سیتا کیا جانتی تھیں کہ آج یہ گھر مجھ سے ہمیشہ کے لئے چھوٹ رہا ہے۔ میرے سوامی مجھے ہمیشہ کے لئے بن باس دے رہے ہیں۔ بڑی خوشی سے چلنے کو تیار ہو گئیں۔ اُسی وقت رتھ تیار ہوا، لکشمن اور سیتا اُس پر بیٹھ کر چلے ۔ سیتا جی بہت خوش تھیں۔ ہر ایک نئی چیز کو دیکھ کر سوال کرنے لگتی تھیں۔ ’یہ کیا ہے،‘ ’وہ کیا چیز ہے؟‘ مگر لکشمن اتنے غمگین تھے کہ ہاں ہاں کر کے ٹال دیتے تھے۔ اُن کے مُنہ سے آواز نہ نکلتی تھی۔ باتیں کرتے تو فوراً پردہ کھل جاتا ۔ کیونکہ اُن کی آنکھوں میں<noinclude></noinclude> pwy5eh7oth0f9i6uwjbn9146lgsfy3k صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/319 250 13740 34989 2026-06-15T15:04:03Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34989 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>بار بار آنسو بھر آتے تھے ۔ آخر رتھ گنگا کے کنارے جا پہنچا ۔ سیتا جی بولیں ’تو کیا ہم لوگ آج جنگلوں ہی میں رہیں گے ۔ شام ہونے آئی۔ ابھی تو کسی رِشی مُنی کے آشرم میں بھی نہیں گئی ۔ لوٹیں گے کب تک؟‘ لکشمن نے مُنہ پھیرے ہوئے جواب دیا ۔ ’دیکھئے کب تک لوٹتے ہیں‘۔ مانجھی کو جوں ہی رانی سیتا کے آنے کی خبر ملی۔ وہ شاہی کشتی کھیتا ہوا آیا ۔ سیتا رتھ سے اُتر کر کشتی میں جا بیٹھیں ۔ اور پانی سے کھیلنے لگیں۔ جنگل کی تازہ ہوا نے انہیں بشاش کر دیا تھا۔ (۲) سیتا بن باس ندی کے پار پہنچ کر سیتا جی کی نگاہ یکایک لکشمن کے چہرے پر پڑی تو دیکھا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں ۔ ویر لکشمن نے<noinclude></noinclude> t7bmgbjnrax7xpum7z0ly4ykqmp03nx صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/320 250 13741 34990 2026-06-15T15:07:40Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34990 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>اب تک تو ضبط کیا تھا ۔ پر اب آنسو نہ رُک سکے ۔ میدان میں تیروں کو روکنا آسان ہے۔ آنسوؤں کو کون ویر روک سکتا ہے ! سیتا جی تعجب سے بولیں ۔ ’لکشمن تم رو کیوں رہے ہو ؟ کیا آج جنگل کو دیکھ کر پھر بن باس کے دن یاد آ رہے ہیں ؟ لکشمن اور بھی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے سیتا جی کے پیروں پر گر پڑے اور بولے ۔ ’نہیں دیوی ! اس لئے کہ آج مجھ سے زیادہ بد نصیب ، بے رحم آدمی دُنیا میں نہیں۔ کاش مجھے موت آ جاتی ۔ میگھناد کی شکتی ہی نے کام تمام کر دیا ہوتا تو آج یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتا ۔ جس دیوی کے درشنوں سے زندگی پاک ہو جاتی ہے اُسے آج میں بن باس دینے آیا ہوں ۔ ہائے ہمیشہ کے لئے۔‘ سیتا جی اب بھی کچھ صاف صاف نہ سمجھ سکیں۔ گھبرا کر بولیں ۔ ’بھیا تم کیا کہہ رہے ہو ۔ میری<noinclude></noinclude> stq5hn5z5btrb69qrubpgafjh81pitx صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/321 250 13742 34991 2026-06-15T15:10:33Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34991 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>سمجھ میں نہیں آتا ۔ تمہاری طبیعت تو اچھی ہے ۔ آج تم راستہ بھر اداس رہے ۔ بخار تو نہیں ہو آیا ہے ؟‘ لکشمن نے سیتا جی کے پیروں پر سر رگڑتے ہوئے کہا ۔ ’ماتا ۔ ماتا ! میرا قصور معاف کرو ۔ میں بالکل بے خطا ہوں ۔ بھائی صاحب نے جو حکم دیا ہے اُس کی تعمیل کر رہا ہوں ۔ شاید اسی دن کے لئے میں اب تک زندہ تھا ۔ مجھ سے ایشور کو یہی جلاد کا کام لینا تھا ۔ ہائے !‘ سیتا جی اب صورتِ حال سمجھ گئیں ۔ غور سے گردن اُٹھا کر بولیں ۔ ’تو کیا سوامی جی نے مجھے بن باس دے دیا ہے ؟ میری کوئی خطا، کوئی قصور، ابھی رات کو تو شہر میں گشت کرنے کے پہلے وہ میرے ہی پاس تھے ۔ اُن کے چہرے پر غصے کا نشان تک نہ تھا ۔ پھر کیا بات ہو گئی ۔<noinclude></noinclude> onmezd0mffnxgiwvz7906aahpogqa9i صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/322 250 13743 34992 2026-06-15T15:12:57Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34992 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>صاف صاف کہو ۔ میں سُننا چاہتی ہوں ۔ اور اگر کوئی سُننے والا ہو تو اُس کا جواب بھی دینا چاہتی ہوں،‘ لکشمن نے مجرموں کی طرح سر جھکا کر کہا ۔ ’ماتا ! کیا بتلاؤں ، ایسی بات ہے جو میرے مُنہ سے نکل نہیں سکتی ۔ اجودھیا میں آپ کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کہہ رہے ہیں ۔ بھائی صاحب کو آپ جانتی ہیں بدنامی سے کتنا ڈرتے ہیں ۔ اور میں آپ سے کیا کہوں،‘ سیتا جی کی آنکھوں میں نہ آنسو تھے، نہ گھبراہٹ ۔ وہ خاموش ٹکٹکی لگائے گنگا کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ پھر بولیں ۔ ’کیا سوامی کو بھی مجھ پر شک ہے؟‘ لکشمن نے زبان کو دانتوں سے دبا کر کہا ۔ ’نہيں بھابھی جی ۔ ہرگز نہیں ۔ انہیں<noinclude></noinclude> t0c22pn88qpd7edp2pxazp963b5eb37 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/323 250 13744 34993 2026-06-15T15:16:32Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34993 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>ہے ۔ اُ نہیں آپ کی پاکیزگی کا اُتنا ہی یقین ہے جتنا اپنی ہستی کا ۔ یہ یقین کسی طرح نہیں مٹ سکتا چاہے ساری دُنیا آپ پر اُنگلی اُٹھائے ۔ لیکن عوام کی زبان کو وہ کیسے روک سکتے ہیں ۔ اُن کے دل میں آپ کی جتنی محبت ہے وہ میں دیکھ چکا ہوں ۔ جس وقت انہوں نے مجھے یہ حکم دیا ہے اُن کا چہرہ زرد ہو گیا تھا ، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ کوئی اُن کے سینہ کے اندر بیٹھا ہوا چھریاں مار رہا ہے ۔ بدنامی کے سوا انہیں اور کوئی خیال نہیں ہے، نہ ہو سکتا ہے،‘ سیتا جی کی آنکھوں سے آنسو کی دو بڑی بڑی بوندیں ٹپ ٹپ گر پڑیں ۔ مگر انہوں نے ضبط کیا اور بولیں ۔ ’پیارے لکشمن ۔ اگر یہ سوامی کا حکم ہے تو میں اُس کے<noinclude></noinclude> r6pogi3qc0ij4u4mvucte5e2nsamkh0 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/324 250 13745 34994 2026-06-15T15:18:26Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34994 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>سامنے سر جھکاتی ہوں ۔ میں انہیں کچھ نہیں کہتی ۔ میرے لئے یہی خیال کافی ہے کہ اُن کا دل میری طرف سے صاف ہے۔ میں اور کسی بات کی پرواہ نہیں کرتی۔ تم نہ روؤ بھیا، تمہارا کوئی قصور نہیں، تم کیا کر سکتے ہو ۔ میں مر کر بھی تمہارے احسانوں کو نہیں بھول سکتی ۔ یہ سب برے کرموں کا پھل ہے ۔ نہیں تو جس آدمی نے کبھی کسی جانور کے ساتھ بھی بے انصافی نہیں کی، جو مُروّت اور رحم کا دیوتا ہے، جس کی ایک ایک بات میرے دل میں پریم کی لہریں پیدا کر دیتی تھی اُس کے ہاتھوں میری یہ درگت ہوتی۔ جس کے لئے میں نے چودہ سال رو رو کر کاٹے وہ آج مجھے تیاگ دیتا۔ یہ سب میرے کھوٹے کرموں کا بھوگ ہے۔ تمہاری کوئی خطا نہیں ۔ مگر تمہیں دل میں سوچو<noinclude></noinclude> l3fz8tm923oagy5mdn28jkqq740pzba صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/325 250 13746 34995 2026-06-15T15:22:16Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34995 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>کیا یہ میرے ساتھ انصاف ہوا ہے؟ کیا بدنامی سے بچنے کے لئے کسی بےگناہ کا خون کر دینا انصاف ہے؟ اب اور کچھ نہ کہونگی۔ بھیا، اِس غم اور غصہ کی حالت میں ممکن ہے زبان سے کوئی ایسا لفظ مُنہ سے نکل جائے جو نہ نکلنا چاہئے۔ اُف! کیسے ضبط کروں۔ ایسا جی چاہتا ہے کہ اسی وقت جاکر گنگا میں ڈوب مروں۔ ہائے! کیسے دل کو سمجھاؤں۔ کس اُمید پر زندہ رہوں۔ کس لئے زندہ رہوں؟ یہ پہاڑ سی زندگی کیا رو رو کر ہی کاٹوں؟ عورت کیا محبت کے بغیر زندہ رہ سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ سیتا آج سے مرگئی۔‘ گنگا کے کنارے کے لمبے لمبے درخت سر دُھن رہے تھے۔ گنگا کی لہریں گویا رو رہی تھیں۔ اندھیرا بھیانک صورت بنائے دوڑا<noinclude></noinclude> izva6358bb4drxhhhm7ol2c23c3b1rs صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/326 250 13747 34996 2026-06-15T15:24:48Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34996 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>چلا آتا تھا ۔ لکشمن پتھر کی مورت بنے بے حس و حرکت کھڑے تھے ۔ گویا بدن میں جان ہی نہیں۔ سیتا دو تین منٹ تک کسی خیال میں ڈوبی رہیں ۔ پھر بولیں، ’نہيں ویر لکشمن۔ ابھی جان نہ دُونگی ۔ مجھے ابھی ایک بہت بڑا فرض پورا کرنا ہے ۔ میں اپنے بچے کے لئے جیونگی ۔ وہ تمہارے بھائی کی امانت ہے۔ اُسے اُن کو سپرد کر کے ہی میرا فرض پورا ہوگا ۔ اب وہی میرے جیون کا آدھار ہوگا۔ سوامی نہیں ہیں تو اُن کی یادگار ہی سے دل کو تسکین دُونگی۔ مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ اپنے بھائی صاحب سے کہہ دینا میرے دل میں اُن کی طرف سے کوئی ملال نہیں ہے ۔ جب تک جیونگی اُن کی محبت کو یاد کرتی رہونگی ۔ بھیا! دل بہت کمزور ہو رہا ہے کتنا ہی ضبط کرتی ہوں پر رہا نہیں جاتا ۔ میری سمجھ<noinclude></noinclude> pf8pna3eq3gg4za4ppox5evd4v7094a صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/327 250 13748 34997 2026-06-15T15:31:33Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34997 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>میں نہیں آتا کہ جب اس تپوبن کے رِشی مُنی مجھ سے پوچھیںگے تیرے سوامی نے تجھے کیوں بن باس دیا ہے تو کیا کہوںگی ؟ کم سے کم تمہارے بھائی صاحب کو اتنا تو بتلا ہی دینا چاہئے تھا ۔ ایشور کی بھی کیسی عجیب لیلا ہے کہ وہ بعضے آدمیوں کو محض رونے کے لئے پیدا کرتا ہے ! ایک بار کے آنسو ابھی سوکھنے بھی نہ پائے تھے کہ رونے کا یہ نیا سامان پیدا ہو گیا ۔ ہائے! انہیں جنگلوں میں زندگی کے کتنے دن آرام سے گزرے ۔ مگر اب رونا ہے اور ہمیشہ کے لئے رونا ہے ۔ بھیا تم اب جاؤ ۔ میرا ولاپ کب تک سنتے رہوگے ۔ یہ تو زندگی بھر ختم نہ ہوگا ۔ ماتاوں سے میرا نمسکار کہہ دینا ۔ مجھ سے جو کچھ بے ادبی ہوئی ہو اُسے معاف کریں ۔ ہاں میرے پالے ہوئے ہرن کے بچوں کی کھوج خبر لیتے رہنا ۔<noinclude></noinclude> 2snfokglds310oag0s21e2s7q2hv2by صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/328 250 13749 34998 2026-06-15T15:33:28Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34998 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>پنجرے میں میرا ہیرا من طوطا پڑا ہوا ہے۔ اُس کے دانہ پانی کی فکر رکھنا ۔ اور کیا کہوں ۔ ایشور تمہیں ہمیشہ خیریت سے رکھیں ۔ میرے رونے دھونے کا ذکر اپنے بھائی صاحب سے نہ کرنا نہیں شاید انہیں رنج ہو ، اب تم جاؤ ۔ اندھیرا ہوا جاتا ہے۔ ابھی تمہیں بہت دُور جانا ہے ۔‘ لکشمن یہاں سے چلے تو انہیں ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ دل کے اندر آگ سی جل رہی ہے ۔ یہی جی چاہتا تھا کہ سیتا جی کے ساتھ رہ کر ساری زندگی اُن کی سیوا کرتا رہوں۔ قدم قدم پر مُڑ مُڑ کر سیتا جی کو دیکھ لیتے تھے ۔ وہ اب تک وہیں سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھیں ۔ جب تاریکی نے انہیں اپنے پردے میں چُھپا لیا تو لکشمن زمین پر بیٹھ گئے اور بڑی دیر تک زار زار روتے رہے ۔ یکایک مایوسی میں انہیں اُمید کی ایک کرن دکھائی دی<noinclude></noinclude> lrnwn71vuyrf6okvthg6a9zm01smyk8 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/329 250 13750 34999 2026-06-15T15:34:52Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 34999 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>شاید رام چندر نے اس سوال پر پھر غور کیا ہو اور وہ سیتا جی کو واپس لینے کو تیار ہوں ۔ شاید وہ پھر انہیں کل ہی یہ حکم دیں کہ جاکر سیتا کو لوا لاؤ۔‘ اس اُمید نے دلِ شکستہ اور مایوس لکشمن کو بڑی تسکین دی ۔ وہ تیزی سے قدم اُٹھاتے ہوئے کشتی کی طرف چلے۔ (۳) لو اور کش جہاں سیتا جی مایوسی اور غم میں ڈوبی ہوئی بیٹھی رو رہی تھیں اس سے تھوڑی ہی دُور پر رِشی والمیک کا آشرم تھا ۔ اس وقت رِشی سندھیا کرنے کے لئے گنگا کی طرف جایا کرتے تھے ۔ آج بھی وہ حسبِ معمول چلے تو راستہ میں کسی عورت کے سسکنے کی آواز کان میں آئی ۔ تعجب ہوا کہ اس وقت کون عورت رو رہی ہے ۔ سمجھے شاید کوئی لکڑی بٹورنے والی عورت راستہ بھول گئی ہو ۔ سسکیوں کی آہٹ لیتے<noinclude></noinclude> m0kmzra6mlqjxrw00q3czd6164iikv3 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/330 250 13751 35000 2026-06-15T15:36:08Z Aleezarafiq69 215 /* پروف خوانی شدہ */ 35000 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Aleezarafiq69" /></noinclude>ہوئے قریب آئے تو دیکھا کہ ایک عورت نہایت بیش قیمت کپڑے اور زیور پہنے اکیلی بیٹھی رو رہی ہے ۔ پوچھا۔ ’بیٹی تو کون ہے اور یہاں بیٹھی کیوں رو رہی ہے؟‘ سیتا رشی والمیک کو پہچانتی تھیں ۔ انہیں دیکھتے ہی اُٹھ کر اُن کے قدموں سے لپٹ گئیں اور بولیں ۔ ’بھگون! میں اجودھیا کی ابھاگنی رانی سیتا ہوں ۔ سوامی نے بدنامی کے خوف سے مجھے تیاگ دیا ہے ۔ لکشمن مجھے یہاں چھوڑ گئے ہیں‘۔ والمیک نے محبت سے سیتا کو اپنے پیروں سے اُٹھا لیا اور بولے۔ ’بیٹی اپنے کو ابھاگنی نہ کہو۔ تم اُس راجہ کی بیٹی ہو جس کے اُپدیشوں سے ہم نے گیان سیکھا ہے۔ تمہارے پتا میرے دوست تھے ۔ جب تک میں جیتا ہوں یہاں تمہیں کسی<noinclude></noinclude> 3nij5gz9niknk6uta52q6b536n5h6g9 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/286 250 13752 35004 2026-06-16T01:50:03Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”ہی بھالے سے وار کیا ۔ چاہتا تھا ۔ کہ اُس کی دغا بازی کی سزا دے دے۔ مگر لکشمن نے ایک تیر چلا کر بھالے کو کاٹ ڈالا ۔ بھبھیشن کی جان بچ گئی ۔ اب کی راون نے اگن بان چھوڑنے شروع کئے ۔ ان تیروں سے آگ کے شعلے نکلتے تھے ۔ رامچندر کی فوج میں کھلبلی پر گئی ۔ م...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35004 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>ہی بھالے سے وار کیا ۔ چاہتا تھا ۔ کہ اُس کی دغا بازی کی سزا دے دے۔ مگر لکشمن نے ایک تیر چلا کر بھالے کو کاٹ ڈالا ۔ بھبھیشن کی جان بچ گئی ۔ اب کی راون نے اگن بان چھوڑنے شروع کئے ۔ ان تیروں سے آگ کے شعلے نکلتے تھے ۔ رامچندر کی فوج میں کھلبلی پر گئی ۔ مگر راون کے سینہ میں جو زخم لگا تھا اُس سے وہ ہر لمحہ کمزور ہوتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ اُس کے ہاتھ سے کمان چھوٹ کر گر پڑا ۔ اس وقت رامچندر رامچندر نے کہا ۔ راجہ راون - اب تو تمہیں معلوم ہو گیا کہ ہم لوگ اتنے کمزور نہیں ہیں جتنا تم سمجھتے تھے ۔ تمہارا سارا خاندان تمہاری ۔ حماقت کا شکار ہو گیا ۔ کیا اب بھی تمہاری آنکھیں نہیں کھلیں ۔ اب بھی اگر تم اپنی شرارت سے بانہ آؤ تو ہم تمہیں معاف کر دینگے. که اون نے سنبھل کر کمان اُٹھا لی اور بولا- کیا تم سمجھتے ہو کہ کمبھ کرن اور میگھنا د کے<noinclude></noinclude> 3uktp46xgbkk9tiaq66954x3lkp4bk6 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/287 250 13753 35005 2026-06-16T01:51:08Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”مارے جانے سے میں ڈر گیا ہوں ۔ راون کو اپنی ہمت اور قوت کا بھروسہ ہے ۔ وہ دوسروں کے بل پر نہیں لڑتا ۔ دلیروں کی اولاد لڑائی میں مرنے کے سوا اور ہوتی ہی کس لئے ہے۔ اب سنبھل جاؤ ۔ میں پھر وار کرتا ہوں. مگر یہ محض گیدڑ بھبکی تھی ۔ رامچندر نے جو تیر مار...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35005 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>مارے جانے سے میں ڈر گیا ہوں ۔ راون کو اپنی ہمت اور قوت کا بھروسہ ہے ۔ وہ دوسروں کے بل پر نہیں لڑتا ۔ دلیروں کی اولاد لڑائی میں مرنے کے سوا اور ہوتی ہی کس لئے ہے۔ اب سنبھل جاؤ ۔ میں پھر وار کرتا ہوں. مگر یہ محض گیدڑ بھبکی تھی ۔ رامچندر نے جو تیر مارا تو وہ پھر راون کے سینہ میں لگا ۔ ایک زخم پہلے لگ چکا تھا ۔ اس دوسرے زخم نے خاتمہ کر دیا ۔ ساون رتھ کے نیچے گر پڑا ۔ اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی ۔ ظالم تھا ۔ بے انصاف تھا ۔ کمینہ تھا ۔ مگر دلیر بھی تھا مرتے وقت بھی کمان اُس کے ہاتھ میں تھی. راون کو رتھ کے نیچے گرتے دیکھ بھھیشن دوڑ کر اُس کے پاس آگیا ۔ دیکھا تو وہ دم توڑ رہا تھا ۔ اس وقت بھائی کے خون نے جوش مارا ۔ بھھیشن راون کی خون آلود لاش سے لپٹ کر زار زار رونے لگا ۔ اتنے میں -<noinclude></noinclude> qhlzos4icq392oyyj9ya3nxkzoy2tb6 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/288 250 13754 35006 2026-06-16T01:53:22Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”راون کی رانی مندو دری اور دوسری رانیاں بھی آکر ماتم کرنے لگیں ۔ رامچندر نے انہیں سمجھا کر رخصت کیا ۔ سپاہیوں نے چاہا کہ چل کر لنکا کو ٹو میں ، مگر رامچندر نے انہیں منع کیا۔ ہارے ہوئے دشمن کے ساتھ وہ کسی قسم کی زیادتی نہیں کرنی چاہتے تھے . {{center|<big...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35006 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>راون کی رانی مندو دری اور دوسری رانیاں بھی آکر ماتم کرنے لگیں ۔ رامچندر نے انہیں سمجھا کر رخصت کیا ۔ سپاہیوں نے چاہا کہ چل کر لنکا کو ٹو میں ، مگر رامچندر نے انہیں منع کیا۔ ہارے ہوئے دشمن کے ساتھ وہ کسی قسم کی زیادتی نہیں کرنی چاہتے تھے . {{center|<big>'''(٦) بھیجھیشن کی تاجپوشی'''</big>}} ایک دن وہ تھا کہ بھبھیشن ذلیل ہو کر روتا ہوا نکلا تھا ۔ آج وہ فتحمند اور سرخرو ہو کہ لنکا میں داخل ہوا ۔ سامنے سواروں کا ایک دستہ تھا ۔ طرح طرح کے باجے بج رہے تھے ۔ بھھیشن ایک خوبصورت رتھ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ لکشمن بھی اُن کے ساتھ تھے ۔ فوج کے نامی سورما اپنے اپنے رکھوں پر شان سے بیٹھے ہوئے چلے جا رہے تھے ۔ آج بھھیشن کا باقاعدہ راج تیلک ہوگا نہ وہ<noinclude></noinclude> lsp3hcre8b2nu3ew6f9a5lmjos40tg5 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/289 250 13755 35007 2026-06-16T01:53:54Z Charan Gill 46 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”لنکا کی گدی پر بیٹھینگے ۔ رامچندر نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا اُسے پورا کرنے کے لئے لکشمن کے ساتھ جا رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ہے. کہ اب راجہ بھھیشن لنکا کے راجہ ہوئے ۔ دونو طرف چھتوں سے اُن پر پھولوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ امرا نذریں پیش کرنے کی ت...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35007 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Charan Gill" /></noinclude>لنکا کی گدی پر بیٹھینگے ۔ رامچندر نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا اُسے پورا کرنے کے لئے لکشمن کے ساتھ جا رہے ہیں ۔ شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ہے. کہ اب راجہ بھھیشن لنکا کے راجہ ہوئے ۔ دونو طرف چھتوں سے اُن پر پھولوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ امرا نذریں پیش کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ عام معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔ راون کا غم کوئی نہیں کرتا۔ سبھی اُس کے ظلم سے بیزار تھے ۔ بھھیشن کا سبھی جس گا رہے ہیں. بھیجھیشن کو گدی پر بٹھا کر رامچندر نے ہنومان کو سیتاجی کے پاس بھیجا بھبھیشن پالکی لے کر پہلے ہی سے حاضر تھے ۔ سیتاجی کی خوشی کا کون اندازہ کر سکتا ہے ۔ اتنے دنوں کی قید کے بعد آج اُنہیں آزادی ملی ہے مارے خوشی کے انہیں غش آ گیا ۔ جب ہوش آیا تو ہنومان نے اُن کے قدموں پر سر جھکا کر کہا ۔ مانا !<noinclude></noinclude> tn2w8in7yzu4sn0smnud9npgr6ab69r صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/331 250 13756 35009 2026-06-16T01:56:58Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”سب - بات کی تکلیف نہ ہوگی ۔ چل کر میرے آشرم میں رہو - رامچندر نے تمہاری پاکیزگی پر یقین رکھتے ہوئے بھی محض بدنامی کے خون سے تمہیں تیاگ دیا ، یہ اُن کی بے انصافی ہے ۔ سراسر بے انصافی ہے ۔ لیکن اس کا غم نہ کرو ۔ سے سیکھی وہی آدمی ہے جو ہمیشہ اور ہر حال...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35009 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>سب - بات کی تکلیف نہ ہوگی ۔ چل کر میرے آشرم میں رہو - رامچندر نے تمہاری پاکیزگی پر یقین رکھتے ہوئے بھی محض بدنامی کے خون سے تمہیں تیاگ دیا ، یہ اُن کی بے انصافی ہے ۔ سراسر بے انصافی ہے ۔ لیکن اس کا غم نہ کرو ۔ سے سیکھی وہی آدمی ہے جو ہمیشہ اور ہر حالت میں اپنے فرض کو پورا کرنا رہے ۔ یہ بڑی فضا کی جگہ ہے ۔ یہاں تمہاری طبیعت خوش ہوگی ۔ رشیوں کی لڑکیوں کے ساتھ رہ کر تم اپنے سب دُکھ بھول جاؤ گی ۔ راج محل میں تمہیں وہی چیزیں مل سکتی تھیں جن سے جسم کو آرام پہنچتا ہے ۔ یہاں تمہیں وہ چیزیں ملینگی جن سے رُوح کو سکون اور سرور حاصل ہوتا ہے ۔ اُٹھو ، میں - اُٹھو ، میرے ساتھ چلو - کاش مجھے پہلے معلوم ہو جاتا تو تمہیں اتنی<noinclude></noinclude> sui87naq516szat0ty7qnug934p9ef8 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/332 250 13757 35010 2026-06-16T01:57:19Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۳۲۶ تکلیف نہ ہوتی ہے سینتا جی کو ریشی والمیک کی ان باتوں سے بڑی تسکین ہوئی ۔ اُٹھ کر ان کے ساتھ اُن کٹیا میں آئیں ۔ وہاں اور بھی کئی ریشیوں کی کٹیاں تھیں ۔ سینا اُن کی عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ رہنے لگیں ۔ اس طرح کئی مہینے کے بعد اُن کے دو بچے پید...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35010 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۳۲۶ تکلیف نہ ہوتی ہے سینتا جی کو ریشی والمیک کی ان باتوں سے بڑی تسکین ہوئی ۔ اُٹھ کر ان کے ساتھ اُن کٹیا میں آئیں ۔ وہاں اور بھی کئی ریشیوں کی کٹیاں تھیں ۔ سینا اُن کی عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ رہنے لگیں ۔ اس طرح کئی مہینے کے بعد اُن کے دو بچے پیدا ہوئے ۔ رشی والمیک نے بڑے کا نام کو اور چھوٹے کا نام کش رکھا ۔ دونو ہی بچے رامچندر سے بہت ملتے تھے ۔ ذہین اور تیز اتنے تھے کہ جو بات ایک بار سن لیتے ہمیشہ کے لئے دل پر نقش ہو جاتی۔ اپنی بھولی بھوئی، توتلی باتوں سے سیتا کو خوش کیا کرتے تھے ۔ ریشی والمیک دونو بچوں کو بہت پیار کرتے تھے ۔ ان دونو بچوں کے پالنے پوسنے میں سینتا اپنا غم بھول گئیں ہ جب دونو بچے ذرا بڑے ہوئے تو رشی والمیک نے اُنہیں پڑھانا شروع کیا ۔ اپنے<noinclude></noinclude> pdqncukhm6z1iyn7odiy7m8qn6cked4 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/333 250 13758 35011 2026-06-16T01:58:44Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”ساتھ جنگل میں لے جاتے اور طرح طرح کے پھل پھول دکھاتے ۔ بچپن ہی سے سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت کرنا سکھایا۔ لڑائی کے فن بھی خوب دل لگا کر سکھائے ۔ دونو اتنے بہادر تھے کہ بڑے بڑے خوفناک جانوروں کو بھی مار گراتے تھے ۔ اُن کا گلا بہت اچھا تھا۔ اُن کا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35011 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>ساتھ جنگل میں لے جاتے اور طرح طرح کے پھل پھول دکھاتے ۔ بچپن ہی سے سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت کرنا سکھایا۔ لڑائی کے فن بھی خوب دل لگا کر سکھائے ۔ دونو اتنے بہادر تھے کہ بڑے بڑے خوفناک جانوروں کو بھی مار گراتے تھے ۔ اُن کا گلا بہت اچھا تھا۔ اُن کا گانا سُن کر ریشی لوگ بھی مست ہو جاتے تھے ۔ والمیک نے رامچندر کی زندگی کے حالات نظم میں لکھ کر دونو را چکمہاروں کو یاد کرا دیا تھا۔ جب دونو اس نظم کو گا گا کر سناتے تو سیتا جی غرور اور مسرت کی بہروں میں بہنے لگتی تھیں{{center| <big>(۴) '''اشو میدھ مگر'''</big>}} سننا کو تیاگ دینے کے بع۔ رامچندر بہت رنجیدہ اور غمگین رہنے لگے ۔ سیتا کی یاد نہیں ہمیشہ سناتی رہتی تھی ۔ سوچتے بچاری نہ جانے<noinclude></noinclude> tczlfjer6w0gqb7lu8j2aeg4xo5cssa صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/334 250 13759 35012 2026-06-16T01:59:13Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کہاں ہوگی ۔ نہ ہوگی ۔ نہ جانے اُس پر کیا گزر رہی ہوگی ۔ اُس زمانہ کو یاد کر کے جو اُنہوں نے سیتاجی کے ساتھ بسر کیا تھا وہ اکثر رونے لگتے تھے ۔ گھر کی ہر ایک چیز انہیں بیتا کی یاد دلا دیتی تھی ۔ اُن کے کمرے کی تصویریں سیتاجی ہی کی بنائی ہوئی تھیں ۔ ب...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35012 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کہاں ہوگی ۔ نہ ہوگی ۔ نہ جانے اُس پر کیا گزر رہی ہوگی ۔ اُس زمانہ کو یاد کر کے جو اُنہوں نے سیتاجی کے ساتھ بسر کیا تھا وہ اکثر رونے لگتے تھے ۔ گھر کی ہر ایک چیز انہیں بیتا کی یاد دلا دیتی تھی ۔ اُن کے کمرے کی تصویریں سیتاجی ہی کی بنائی ہوئی تھیں ۔ باغ کے کتنے ہی پورے سیتا جی کے ہاتھوں کے لگائے ہوئے تھے ۔ کبھی سیتنا کے سوئمبر کے زمانے کی یاد کرتے، کبھی سینا کے ساتھ جنگلوں کی زندگی کا خیال کرتے ۔ اُن باتوں کو یاد کر کے وہ تڑپنے لگتے تھے۔ خوشی کے جلسوں میں شریک ہونا اُنہوں نے بالکل چھوڑ دیا ۔ بالکل تپتیوں کی طرح زندگی بسر کرنے لگے۔ دریا کے امیروں اور وزیروں نے سمجھایا کہ آپ دوسری شادی کر لیں، کسی طرح نام تو چلے۔ کب تک۔ اس طرح تپسیا کیجئے گا ۔ مگر رامچندر شادی کرنے پر راضی نہ ہوئے ۔ یہاں تک<noinclude></noinclude> hkqs7amabskydvosoarspklxl4lxjxe صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/335 250 13760 35013 2026-06-16T01:59:48Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کہ کئی سال گزر گئے . اُس زمانہ میں کئی طرح کے یگیہ ہوتے تھے۔ اُسی میں ایک اشو میدھ یگیہ بھی تھا ۔ اشو گھوڑے کو کہتے ہیں ۔ جو راجہ یہ حوصلہ رکھنا تھا کہ وہ سارے ملک کا مہاراجہ ہو جاے، اور سبھی راجے اُس کے فرماتگزار بن جائیں ، ہ ایک گھوڑے کو چھوڑ دی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35013 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کہ کئی سال گزر گئے . اُس زمانہ میں کئی طرح کے یگیہ ہوتے تھے۔ اُسی میں ایک اشو میدھ یگیہ بھی تھا ۔ اشو گھوڑے کو کہتے ہیں ۔ جو راجہ یہ حوصلہ رکھنا تھا کہ وہ سارے ملک کا مہاراجہ ہو جاے، اور سبھی راجے اُس کے فرماتگزار بن جائیں ، ہ ایک گھوڑے کو چھوڑ دیتا تھا ۔ گھوڑا چاروں طرف گھومتا تھا ۔ اگر کوئی راجہ اُس گھوڑے کو پکڑ لیتا تھا تو اس کے معنی یہ ہوتے تھے کہ اُسے اُس راجہ کا تابعدار بننا منظور نہیں ۔ تب لڑائی سے اس کا فیصلہ ہوتا تھا ۔ راجہ رامچندر کی طاقت اور سلطنت اتنی بڑھ گئی کہ اُنہوں نے اشو میدھ یگیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دور دور کے راجاؤں، رشیوں، عالموں کے پاس نوید بھیجے گئے ۔ سگریو، بھھیشن ، انگر، سب اُس میں شریک ہونے کے لئے آ پہنچے ۔ رشی والمیک کو بھی نوید ملا ۔ وہ تو اور گمش<noinclude></noinclude> r07x34chs08xka3khs837vdxsfm2k6u صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/336 250 13761 35014 2026-06-16T02:00:11Z Kaur.gurmel 74 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۳۳۰ ساتھ آگئے ۔ گیہ کی بڑی دھوم دھام سے تیاریاں ہونے لگیں ۔ مہمانوں کی تفریح کے لئے طرح طرح کے سامان کئے گئے تھے ۔ کہیں پہلوانوں کے دنگل تھے ، کہیں راگ رنگ کی مجلسیں ۔ مگر جو لطف لوگوں کو تو اور کش کے منہ سے رام چندر کی چرچا سُننے میں آتا تھا وہ او...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35014 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>۳۳۰ ساتھ آگئے ۔ گیہ کی بڑی دھوم دھام سے تیاریاں ہونے لگیں ۔ مہمانوں کی تفریح کے لئے طرح طرح کے سامان کئے گئے تھے ۔ کہیں پہلوانوں کے دنگل تھے ، کہیں راگ رنگ کی مجلسیں ۔ مگر جو لطف لوگوں کو تو اور کش کے منہ سے رام چندر کی چرچا سُننے میں آتا تھا وہ اور کسی بات میں نہ آتا تھا ۔ دونو لڑکے سر ملا کر اتنے پیارے انداز سے یہ نظم گاتے تھے کہ سُننے والے محو ہو جاتے تھے ۔ چاروں طرف اُن کی واہ واہ بھی ہوئی تھی ۔ رفتہ رفتہ رانیوں کو بھی اُن کا گانا سُننے کا شوق پیدا ہوا ۔ ایک آدمی دونو برہمچاریوں کو رنو اس میں لے گیا ۔ وہاں تینوں بڑی را نیاں اُن کی تینوں بہو میں ۔ اور بہت سی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ رام چندر بھی موجود تھے۔ ان لڑکوں کی لمبی لمبی زلفیں، جنگل کی صحت بخش ہوا سے نکھرا ہوا سرخ رنگ اور<noinclude></noinclude> oawj2ursn6bxur7k2nvtk555fk1srkl صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/337 250 13762 35015 2026-06-16T02:03:17Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”خوبصورت چہرہ دیکھ کر سب کے سب دنگ گئے ۔ دونو کی صورت رامچندر سے بہت ملتی تھی۔ وہی اونچی پیشانی تھی، وہی لبی ناک، وہی چوڑا سینہ - جنگل میں ایسے لڑکے کہاں سے آگئے ، سب کو یہی تعجب ہو رہا تھا ۔ کوسلیا دل میں سوچ رہی تھیں رام چندر کے لڑکے ہوتے تو وہ بھ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35015 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>خوبصورت چہرہ دیکھ کر سب کے سب دنگ گئے ۔ دونو کی صورت رامچندر سے بہت ملتی تھی۔ وہی اونچی پیشانی تھی، وہی لبی ناک، وہی چوڑا سینہ - جنگل میں ایسے لڑکے کہاں سے آگئے ، سب کو یہی تعجب ہو رہا تھا ۔ کوسلیا دل میں سوچ رہی تھیں رام چندر کے لڑکے ہوتے تو وہ بھی ایسے ہی ہوتے۔ جب لڑکوں نے نظم گانا شروع کیا تو سب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ لڑکوں کا لہجہ جتنا پیارا تھا اُتنی ہی پیاری اور دل کو ہلا دینے والی نظم تھی ۔ گانا سننے کے بعد رامچندر نے بہت چاہا کہ ان لڑکوں کو کچھ انعام دیں۔ مگر انہوں نے لینا قبول نہ کیا ۔ آخر انہوں نے پوچھا تم دونو کو گانا کس نے سکھایا اور تم کہاں رہتے ہو ؟ لو نے کہا ۔ ہم لوگ رشی والمیک کے آشرم میں رہتے ہیں ۔ اُنہیں نے ہمیں گانا سکھایا<noinclude></noinclude> spf1yfut1rlfrw0gxtwenl12xmzejco صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/338 250 13763 35016 2026-06-16T02:03:35Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۳۳۲ ہے : رام چندر نے پھر پوچھا ' اور یہ نظم رکس نے بنائی؟ لو نے جواب دیا ۔ ریشی والمیک نے ہی نظم بھی بنائی ہے: رام چندر کو اُن دونو لڑکوں سے اتنی محبت تھی کہ وہ اُسی وقت رشی والمیک کے ہو پاس گئے اور اُن سے کہا ۔ مہاراج ! آپ سے ایک سوال کرنے آیا ہوں ۔ د...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35016 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۳۳۲ ہے : رام چندر نے پھر پوچھا ' اور یہ نظم رکس نے بنائی؟ لو نے جواب دیا ۔ ریشی والمیک نے ہی نظم بھی بنائی ہے: رام چندر کو اُن دونو لڑکوں سے اتنی محبت تھی کہ وہ اُسی وقت رشی والمیک کے ہو پاس گئے اور اُن سے کہا ۔ مہاراج ! آپ سے ایک سوال کرنے آیا ہوں ۔ دیا کیجئے گا ؟ ریشی نے مسکرا کر کہا ۔ راجہ رنگ سے سوال کرنے آیا ہے ؟ تعجب ہے ۔ کہئے ، یہ رام چندر نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ان دونو لڑکوں کو جنہوں نے آپ کے رچے ہوئے سنائے ہیں اپنے پاس رکھ لوں ۔ میرے کوئی لڑکا نہیں ہے یہ تو آپ جانتے ہی ہیں ۔ یہ میرے اندھیرے گھر کے چراغ ہونگے ہیں تو کسی اچھے خاندان کے لڑکے؟"<noinclude></noinclude> 8fannquvsbsxis687jroyj0at4n6fvt صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/339 250 13764 35017 2026-06-16T02:03:54Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”والمیک نے کہا ۔ ہاں بہت اونچے خاندان کے ہیں ۔ ایسا خاندان بھارت ورش میں دوسرا نہیں ہے! رام تب تو اور بھی اچھا ہے ۔ میرے بعد - وہی میرے جانشین ہونگے ۔ اُن کے ماں باپ کو اس میں کوئی اعتراض تو نہ ہوگا ؟ والمیک : کہ نہیں سکتا۔ ممکن ہے اعتراض ہو۔ باپ کو...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35017 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>والمیک نے کہا ۔ ہاں بہت اونچے خاندان کے ہیں ۔ ایسا خاندان بھارت ورش میں دوسرا نہیں ہے! رام تب تو اور بھی اچھا ہے ۔ میرے بعد - وہی میرے جانشین ہونگے ۔ اُن کے ماں باپ کو اس میں کوئی اعتراض تو نہ ہوگا ؟ والمیک : کہ نہیں سکتا۔ ممکن ہے اعتراض ہو۔ باپ کو تو مطلق نہ ہوگا ۔ لیکن ماں کی بابت میں کچھ نہیں کہ سکتا ۔ اپنی عزت پر جان دینے والی عورت ہے ، یہ رام - اگر آپ اُس دیوی کو کسی طرح راضی کر سکیں تو مجھ پر بڑی عنایت ہوگی ہے والمبیک کوشش کرونگا ۔ میں نے ایسی شریف حیا دار اور سنی عورت نہیں دیکھی۔ حالانکہ اُس کے شوہر نے اُسے بے گناہ ، ہے تیاگ دیا ہے مگر وہ ہمیشہ اسی . سبب<noinclude></noinclude> 6v5w9mbe0zigtklt9ar5d1omtxpnv5z صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/340 250 13765 35018 2026-06-16T02:04:11Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”شوہر کی پرستش کرتی ہے : رام چندر کی چھاتی دھڑکنے لگی ۔ کہیں یہ میری سینتا ہی نہ ہو ۔ آہ ! کاش یہ دونو لڑکے میرے ہوتے ۔ تب تو تقدیر ہی کھل جاتی ہے والمیک پھر بولے ۔ بیٹا ! اب تو تم سمجھ گئے ہوگے کہ میں کس طرف اشارہ کر رہا ہوں" رام چندر کا چہرہ مسرت سے ک...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35018 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>شوہر کی پرستش کرتی ہے : رام چندر کی چھاتی دھڑکنے لگی ۔ کہیں یہ میری سینتا ہی نہ ہو ۔ آہ ! کاش یہ دونو لڑکے میرے ہوتے ۔ تب تو تقدیر ہی کھل جاتی ہے والمیک پھر بولے ۔ بیٹا ! اب تو تم سمجھ گئے ہوگے کہ میں کس طرف اشارہ کر رہا ہوں" رام چندر کا چہرہ مسرت سے کھل گیا ۔ بولے۔ وہاں مہاراج ! سمجھ گیا : والمیک : جب سے تم نے سیتا کو تیاگ دیا ہے وہ میرے ہی آشرم میں ہے ۔ میرے آشرم میں آنے کے دو تین مہینے بعد یہ لڑکے پیدا ہوئے تھے ۔ یہ تمہارے لڑکے ہیں ۔ اُن کا چہرہ آپ کو رہا ہے ۔ کیا اب بھی تم سیتا کو اپنے گھر نہ لاؤ گے ؟ تم نے اُس کے ساتھ بڑی بے انصافی کی ہے ۔ میں اُس دیوی کو آج پندرہ سالوں سے دیکھ رہا ۔ ایسی پاکیزہ عورت<noinclude></noinclude> ogzfzrx9ednneaspynlasywvgb3hvuj صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/341 250 13766 35019 2026-06-16T02:04:25Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کبھی دُنیا میں مشکل سے ملیگی تمہارے خلاف ایک لفظ بھی اُس کے منہ سے شنا ۔ تمہارا ذکر ہمیشہ عزت اور محبت سے کرتی ہے ۔ اُس کی حالت دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹا جاتا ہے۔ بہت رُلا چکے ۔ اب اُسے اپنے گھر لاؤ ۔ وہ لکشمی نہیں ہے ؟ رام چندر بولے منی جی ! مجھے تو...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35019 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کبھی دُنیا میں مشکل سے ملیگی تمہارے خلاف ایک لفظ بھی اُس کے منہ سے شنا ۔ تمہارا ذکر ہمیشہ عزت اور محبت سے کرتی ہے ۔ اُس کی حالت دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹا جاتا ہے۔ بہت رُلا چکے ۔ اب اُسے اپنے گھر لاؤ ۔ وہ لکشمی نہیں ہے ؟ رام چندر بولے منی جی ! مجھے تو سیتا جی پر کسی قسم کا شک کبھی نہیں ہوا ۔ مین اُن کو اب بھی پاک سمجھتا ہوں ۔ لیکن اپنی رعایا کو کیا کروں ۔ اُن کی زبان کیسے بند کروں ۔ رامچندر کی بیوی کو شہر سے پاک ہونا چاہئے ۔ اگر سیتنا میری رعایا کو اپنی بات یقین دلا دیں تو وہ اب بھی میری رانی بن سکتی ہیں۔ یہ میرے لئے عین خوشی کی بات ہوگی ، : والمیک نے فوراً اپنے دو چیلوں کو حکم دیا۔<noinclude></noinclude> b1kkulupf2mm8xtp9duqtqisms2cl65