ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.7
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/26
250
12048
35023
27270
2026-06-16T16:08:51Z
Charan Gill
46
35023
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Faismeen" />{{rh|از خواتین نظامی|٢٤|بیوی کی تربیت}}</noinclude>(۱۳) اگر ہندوستان کو خود مختاری کی حکومت مل جائے تو عورتوں کا حصّہ اس میں کیا ہونا چاہئے ۔ یعنی اِس خود مختار حکومت سے اُن کوئی
کچھ فائدہ حاصل کرنے کی توقع ہے یا نہیں ؟
(۱۳۳) غریب و محتاج لڑکیوں کی تعلیم کا کیا بند دست مناسب ہوگا ؟
(۱۴) عورتوں کی جبریہ تعلیم ہونی چاہئے یا نہیں ؟
(۱۵) مسلمان عورتوں کا قومی لباس کیا ہونا چاہئے۔ اور انکی ضرورت ہے
یا نہیں ؟ (۱۶) حفظان صحت کے اصول میں عورتوں کو کیا کیا کام کرنے لاڑی ہیں ،
گڑھ کا</big>
{{center|<big>'''پہلا جواب'''</big><br>
<big>ز - خ - ش - صاحبہ ساکن ضلع علی }}
(۱) بچہ کی دینی تربیت کا آغاز ٹھیک اس وقت سے ہونا چاہیئے
جب اس سے مخاطب ہو کر کچھ کہا حیائے ۔ اسکی اب کشائی اللہ کے
اسم اعظم سے کرانی چاہئے ۔ جب کسی قدر سمجھ آ جائے تو اسے الشہریوں
کی باتیں بتائی جائیں ۔ اور یوں کے دنوں میں دینی لوریاں اور کہانی
کے زمانہ میں اکابر اسلام و انبیا علیہم السلام کی سیر مطہرہ شنائی جائیں۔
میں یہ نہیں کہتی کہ بچیوں کو دنیوی امور سے لاعلم رکھا جائے ۔ یاد وزخ
کے رعشہ انداز عذابوں کا ذکر کرکر کے ان کا دل کمزور کر دیا جائے ۔ میرا
مطلب یہ ہو کہ ان کے نتھے ننھے دماغوں پر زور ڈالے بغیر بہت
سپ پیرائے میں مذہبی تلقین کرتے رہنا چا ہیے ۔ تاکہ مذہبی ترا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
qwezg141129z46r3wglpyu43h6p77cs
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/278
250
13700
35024
35001
2026-06-16T16:24:37Z
Kaur.gurmel
74
35024
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مل گئی۔ بھائی کے غم میں بڑی دیر تک ماتم
کرتا رہا :
{{Block center|(۴) میگھنا د کا مارا جانا}}
دوسرے دن میگھناد بڑے سج دھج سے میدان میں آیا ۔ اُس نے دونو بھائیوں کو مار گرانے کا پکا ارادہ کر لیا تھا ۔ ساری رات اپنی دیوی کی پوجا کرتا رہا تھا ۔ اُسے اپنی طاقت اور جوانمردی کا بڑا غرہ تھا ۔ راون کی ساری اُمیدیں آج ہی کی لڑائی پر قائم تھیں ۔ لنکا میں پہلے ہی سے فتح کا جشن منانے کی تیاریاں ہونے لگیں ۔ میگھناد نے میدان میں آکر ڈنکے پر چوٹ دلوائی تو بھیجھیشن نے اُس کے سامنے جا کر کہا ۔ میگھناد میں جانتا ہوں کہ طاقت اور ہمت میں تم اپنا ثانی نہیں
رکھتے ، مگر حق کی ہمیشہ جیت ہوئی ہے اور ہمیشہ ہوگی ۔ میرا کہنا مانو ، چل کر رامچندر سے صلح کرلو۔<noinclude></noinclude>
jbr35mqbudwyierpgt0ntla7fskxvry
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/279
250
13701
35025
34921
2026-06-16T16:35:09Z
Kaur.gurmel
74
35025
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
وہ تمہیں معاف کر دینگے ،.
میگھناو نے غصّہ سے آنکھیں نکال کر کہا۔
چچا صاحب تمہیں شرم نہیں آتی کہ مجھے
سمجھانے آئے ہو ۔ بغاوت سے بڑھ کر دنیا
میں دوسرا گناہ نہیں ۔ جو آدمی مدعی سے مل کر
اپنے گھر اور اپنے ملک کی بدخواہی کرتا ہے
اُس کی صُورت دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ آپ میرے
سامنے سے چلے جائیے'.
بھبھیشن تو ادھر شرمندہ ہو کر چلا گیا "
ادھر لکشمن نے سامنے آکر میگھناد کو دعوتِ
جنگ دی ۔ لکشمن کو دیکھ کر میگھناد بولا۔ ابھی
دو چار روز زخم کی مرہم پٹی اور کروا لیتے۔
کہیں آج زخم پھر نہ تازہ ہو جائے ۔ جا کہ
جاتے
اپنے بڑے بھائی کو بھیج دو ہے
لکشمن نے کمان پر تیر چڑھا کر کہا۔ ایسے
ایسے زخموں کی جوانمرد لوگ بالکل پرواه نهین
کرتے ۔ آج ایک بار پھر ہماری اور تمہاری<noinclude></noinclude>
dsfdskcvavfz6zullxknanahohy07be
35026
35025
2026-06-16T16:46:14Z
Kaur.gurmel
74
35026
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
وہ تمہیں معاف کر دینگے'.
میگھناو نے غصّہ سے آنکھیں نکال کر کہا۔
چچا صاحب تمہیں شرم نہیں آتی کہ مجھے
سمجھانے آئے ہو ۔ بغاوت سے بڑھ کر دنیا
میں دوسرا گناہ نہیں ۔ جو آدمی مدعی سے مل کر
اپنے گھر اور اپنے ملک کی بدخواہی کرتا ہے
اُس کی صُورت دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ آپ میرے
سامنے سے چلے جائیے'.
بھبھیشن تو ادھر شرمندہ ہو کر چلا گیا'
ادھر لکشمن نے سامنے آکر میگھناد کو دعوتِ
جنگ دی ۔ لکشمن کو دیکھ کر میگھناد بولا۔ ابھی
دو چار روز زخم کی مرہم پٹی اور کروا لیتے۔
کہیں آج زخم پھر نہ تازہ ہو جائے ۔ جا کر
اپنے بڑے بھائی کو بھیج دو'.
لکشمن نے کمان پر تیر چڑھا کر کہا۔ ایسے
ایسے زخموں کی جوانمرد لوگ بالکل پرواه نہین
کرتے ۔ آج ایک بار پھر ہماری اَور تمہاری<noinclude></noinclude>
dshitk0ihozs8dhdj72kamtuvn2sa9u
35028
35026
2026-06-17T05:36:09Z
Jinder77
234
35028
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>
وہ تمہیں معاف کر دینگے'.
میگھناو نے غصّہ سے آنکھیں نکال کر کہا۔ چچا صاحب تمہیں شرم نہیں آتی کہ مجھے سمجھانے آئے ہو ۔ بغاوت سے بڑھ کر دنیا میں دوسرا گناہ نہیں ۔ جو آدمی مدعی سے مل کر اپنے گھر اور اپنے ملک کی بدخواہی کرتا ہے اُس کی صُورت دیکھنا بھی گناہ ہے ۔ آپ میرے سامنے سے چلے جائیے'.
بھبھیشن تو ادھر شرمندہ ہو کر چلا گیا'
ادھر لکشمن نے سامنے آکر میگھناد کو دعوتِ
جنگ دی ۔ لکشمن کو دیکھ کر میگھناد بولا۔ ابھی دو چار روز زخم کی مرہم پٹی اور کروا لیتے۔ کہیں آج زخم پھر نہ تازہ ہو جائے ۔ جا کر اپنے بڑے بھائی کو بھیج دو'.
لکشمن نے کمان پر تیر چڑھا کر کہا۔ ایسے
ایسے زخموں کی جوانمرد لوگ بالکل پرواه نہین کرتے ۔ آج ایک بار پھر ہماری اَور تمہاری<noinclude></noinclude>
0dvmayu860ksgxrmb2fspp3n88vlzn4
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/280
250
13702
35030
34922
2026-06-17T06:47:45Z
Jinder77
234
35030
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۲۷۴
ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا کہ
دونہ دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔
گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناو
پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں کا کاٹنا مشکل پڑ گیا ۔ مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا لکشمن سنبھلتے گئے ۔ اور میگھنا د کمزور پڑتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ لکشمن اُس پر غالب آگئے اور ایک تیر اُس کی گردن پر ایسا مارا کہ اُس کا سر کٹ کی الگ جا گرا [.]
میگھناد کے گرتے ہی راکشسوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ بھگدر پڑ گئی ۔ راوں نے یہ خبر سنی تو اُس کے منہ سے ٹھنڈی آہ نکل گئی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ انتقام
کے جوش سے پاگل ہو گیا ۔ رام اور لکشمن تو
اُس کے قابو سے باہر تھے ۔ سیتاجی کو قتل<noinclude></noinclude>
anaqq0yyg0qw3j3kx02n433gxczlldo
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/45
250
13710
35027
34977
2026-06-17T05:18:40Z
BalramBodhi
60
35027
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۳}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
دشمن دوست ہوتا ہے اور دوستوں کی محبت زیادہ ہوتی ہے۔ بیگانہ یگانہ ہوتا ہے یہی چیز ہے کہ جس سے وحشی جنگل کے جانور چرند و پرند تابع دام ہوتے ہیں۔ پھر اگر رعایا کے ساتھ ہو تو وہ کس قدر مطیع اور فرمانبردار ہونگے ابتدائے عملداری میں یہ چیز تھی کہ جس نے سبکے دلوں کو ہماری گورنمنٹ کی طرف سے کھینچ لیا تھا ایک دِلی اطاعت پیدا کر دی تھی بیشک ہماری گورنمنٹ ان باتوں کو بھول گئی بلا شبہ تمام رعایا ہندوستان کی اس بات کی شاہد کی ہے کہ ہماری گورنمنٹ نے اُن کو نہایت بےزفر کر دیا بے۔ ہندوستان کےاشراف آدمی کی ایک چھوٹے سے یورپین کے سامنے ایسی بھی قدر نہیں ہے جیسی کہ ایک چھوٹے یورپین کی ایک بہت بڑے ڈیوک کے سامنے یوں تصور کیا جاتا تھا کہ ہندوستان میں کوئی جنٹلمین نہیں ہے.
{{gap}}یہ سب باتیں یعنی محبت اور الفت اور عزت اور تالیفِ رعایا کی گورنمنٹ کی طرف سے ظاہر ہوتی ہے بوسیلہ اُن حکامِ متحد کے جو ہماری گورنمنٹ کی طرف سے ہندوستان میں کارپردازی اور رعایا سے معاملہ اور میل جول اور ملاقات رکھتے ہیں گورنمنٹ کا ارادہ کیسا ہی نیک ہو وہ کبھی ظاہر نہ ہوگا جب تک یہ لوگ اُس کے ظاہر کرنے پر کمر نہ باندھیں اگلے حکام متحد کے عادات اور روش اور اخلاق بہت بر خلاف تھے۔ حال کے حکام متحد سے وہ پہلے لوگ بہت عزت کرتے تھے ہندوستانیوں کی ہر طرح خاطرداری سے پیش آتے تھے اُن کے دلوں کو اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے دوستانہ اُن کے رنج و راحت کے شریک ہوتے تھے باوجود یکہ بہت بڑی سرداری اور حکومت ہندوستان میں رکھتے تھے اور تحشم اور رُعب اور دبدبہ جو شایانِ حکومت ہے وہ بھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے پھر ایسی محبت اور عزت ہندوستانیوں کی کرتے تھے کہ
</div>
</div>
{{Float right|حکامِ ازلاع کی}}</br>
{{Float right|سخت مزاجی}}</br>
{{Float right|اور بد زبانی}}<noinclude></noinclude>
nnqbv43yluea7q7xbz46wt9toqu45o8
صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/46
250
13711
35029
34946
2026-06-17T05:37:52Z
BalramBodhi
60
35029
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۴}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
ہر ایک شخص مِلکر اُن کے اخلاق اور اُن کی محبت کا فریفتہ ہو جاتا تھا اور تعجب سے کہتا تھا کہ یہ کیسے اچھے لوگ ہیں کہ باوصف اِس حشمت و شوکت اور حکومت کے بغیر و رہیں اور کس طرح اخلاق سے ملتے ہیں ہندوستان میں جو لوگ بزرگ گنے جاتے تھے اُن سے اُسی طرح پیش آتے تھے بیشک اُن لوگوں نے پطرس مقدس کی پیروی کی تھی اور برادرانہ محبت اور اُس برادرانہ محبت پر الفت بڑھائی تھی حال میں جو حکام متحد ہیں اُن میں سے اکثروں کی طبیعتیں اس کے برعکس ہیں کیا اُن کے غرور اور تکبّر نے تمام ہندوستانیوں کو اُن کی آنکھوں میں ناچیز نہیں کر دیا ہے کیا اُن کی بدمزاجی اور بے پرائی نے ہندوستانیوں کے دل میں بیجا دہشت نہیں ڈالی ہے کیا ہماری گورنمنٹ کو نہیں معلوم ہے کہ بڑے سے بڑا ذیعزت ہندوستانی حکام سے لرزاں اور بےعزتی کے خوف سے ترساں نہ تھا اور کیا یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ ایک اشراف اہلکار صاحب کے سامنے مثل پڑہ رہا ہے اور ہاتھ جوڑ جوڑ کر باتیں کرتا ہے اور صاحب کی بدمزاجی اور سخت کلامی بلکہ دشنام دہی سے دل میں روتا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس روٹی اور کہیں نہیں ملتی۔ اس نوکری سے تو گھانس کھودنی بہتر ہے میں سب حکام پر تو یہ الزام نہیں لگاتا بیشک ایسے بھی حکام ہیں کہ اُن کی محبت اور اُن کے اخلاق اور اوصاف سب میں مشہور ہیں اور تمام ہندوستانی ان کو چاند اور سورج کی طرح پہچانتے ہیں اور اُن کو اگلے حکام کا نمونہ سمجھتے ہیں اور حقیقت میں وہ اسی نصیحت پر چلتے ہیں جو مسیح مقدس نے شمعون مقدس اور اندریا کو فرمائی تھی جبکہ وہ دریا میں مچھلیوں کے شکار کو جال ڈالتے تھے کہ میرے پیچھے چلے آؤ میں تم کو آدمیوں کا شکار کرنے والا بناؤںگا انہوں نے اپنی نیک خصلت سے رعایا کو اپنی محبت کے جال میں کھینچ لیا ہے اِن حاکموں نے اپنی حکومت کا رعب بھی رکھا ہے اور پھر بیجا غرور بھی رعایا کے ساتھ نہیں کیا اور وہی
</div>
</div>
{{Float right|پطرس}}</br>
{{Float right|خط ۲ باب ۱}}</br>
{{Float right|درس ۷}}</br>
{{Float right|متی باب ٤}}</br>
{{Float right|درس ۱۹}}</br>
{{Float right|متی باب ۵ درس ٣}}<noinclude></noinclude>
iuocq2vlvtzdibxs5xd2pdkmuua8h18