ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.7 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/16 250 12682 35063 32350 2026-06-18T07:16:50Z Taranpreet Goswami 90 35063 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٥|}}</noinclude>دکن کی طرف سے بیربر نام راچپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجہ کی ڈیوڑھی پر آیا دربان نے اسکا احوال معلوم کر کے راجہ سے کہا مہاراج ایک شخص ہتھیاربند چاکری کے آسرے پر آیا ہے سو دروازے پر کھڑا ہے مہاراج کی اجازت پاوے تو وہ روبرو آوے یہ سن راجہ نے فرمایا آو یہ اسے جاکر لے آیا تب راجہ نے پوچھا اے راجپوت تیرے تھین روز خرچ کو کیا دون یہ سُن کے بیربر بولا ہزار تولے سونا مجھے روز دو تو میری گذران ہو راجہ نے پوچھا تمھارے ساتھ لوگ کتنے ہین اسنے کہا کہ ایک عورت دوسرا بیٹا تیسری بیٹی چوتھا مین پانچوان ہمارے ساتھ کوئی نہیں اسکی یہ بات سن راجہ کے دربار کے لوگ منھ پھر پھیر کے ہسنے لگے پر راجہ اپنے جی مین سوچ کرنے لگا کہ بہت مال اسنے کِسواستے مانگا پھر آپ ہی اپنے دِل مین سمجھ کر کہ بہت مال دیتا ہون کِسی روز سوارت بوویگا یہ وچار کے راجہ نے بھنڈاری کو بلا کر کہا ہمارے خزانے سے ہزار تولہ سونا اِس بیربر کے تئین روز دیا کرو یہ اجازت سُن بیربر نے ہزار تولے سونا اُس دن کا لے اپنی جگہ لا حِصّے کر آدھا تو برہمنون کو بانٹا اور آدھے کے پھر دو بانٹ کر ایک بکھرہ اسمین سے اتیت بیراگی وشنو سنیاسیون کو بانٹ دیا اور باقی جو حصّہ رہا اس کا کھانا پکوا غریبون کو کھلا دیا باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا اسی طرح ہمیشہ جورو لڑکے سمیت اپنی گذران کرتا تھا لیکن شام کیوقت روز ڈھال تلوار لے راجہ کے پلنگ کی چوکی مین جا حاضِر رہتا اور راجہ جب سوتے سے چونک کر پکارتا کہ کوئی ہے تو یہی جواب دیتا کہ بیربر حاضِر ہے جو حکم ہو اسی طرح راجہ جب پکارتا تو یہی جواب دیتا پھر اسمین جو کام فرمایا سو یہی بجا لاتا اسطرح مال کی لالچ سے رات بھر ہوشیار رہتا بلکہ کھاتے پیتے سوتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد مین رہتا ریت یہ ہے کہ کوئی کسو کو بیچتا ہے تو بکتا ہی مگر نوکر نوکری کر کے اپنے تئین آپ بیچتا ہے اور جب بکا تو میطع ہوا جو پراے بس مین ہو اسے سکھ کہان مشہور ہے کیسا ہی چالاک عاقل پنڈت ہووے لیکن جسوقت اپنے مالک کے سامنے ہوتا ہے تو ڈر کے مارے گونگے کی برابر چپ ہی رہتا ہے جب تلک دور ہے چین سے ہے اسواسطے پنڈت لوگ کہتے ہین کہ نوکری کرنا لوگ سے بھی کٹھن ہے القصہ ایک روز کا ذکر ہے کہ اتفاقاً رات کے وقت مرگھٹ سے رونے کی آواز آئی راجہ سنکے پکارا کوئی حاضر ہے بیربر سنتے ہی بولا حاضر جو حکم پھر راجہ نے یون حکم کیا جہان سے رونے کی آواز آتی ہے وہان جاؤ اور اس سے سبب رونے کا پوچھ کے جلد آؤ راجہ یہ اس سے فرما دِل مین کہنے لگا کہ کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو تو وقت بے وقت اس سے کام کو کہے اگر وہ حکم اسکا بجا لاوے تو جانیے کام کا ہے اور جو انکار کر دے تو جانیے ناکارہ اسی طرح سے بھائیون اور دوستون کو بُرے وقت مین پرکھیے اور عورت کو مفلسی مین جانچیئے غرض یہ حکم پا کر اس کے رونیکی آواز کی دھن پر گیا اور راجہ بھی اسکی ہمّت دیکھنے کے لئے کالے کپڑے پہنکر پیچھے پیچھے بےمعلوم چلا کہ اسمین بیربر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> cvdaf0htd3068s27t971r2zr5efgypy صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/237 250 12840 35040 31488 2026-06-18T06:24:01Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35040 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>اُس کی تلوار میان سے نکل پڑی ۔ قریب تھا کہ رسیوں میں جکڑے ہوئے ہنومان کی گردن پر اس کی تلوار گرے کہ راون کے بھائی بھیجیشن نے کھڑے ہو کر کہا۔ ' بھائی صاحب ! پہلے اس سے پوچھٹے کہ یہ کون ہے اور یہاں کس لئے آیا ہے ؟ ممکن ہے برا مھر ہو تو ہمیں برہم ہتیا کا پاپ لگ جائے ۔ ہنومان نے کہا میں راجہ سگریو کا ایلچی ہوں ۔ رامچندر جی نے مجھے سیتا جی کا پتہ لگانے کے لئے بھیجا ہے ۔ مجھے یہاں سیتا جی کے درشن ہو گئے ۔ تم نے بہت بڑا کیا کہ اُنہیں یہاں اُٹھا لائے ۔ اب تمہاری خیریت اسی میں ہے کہ سیتاجی کو رامچندر جی کے پاس پہنچا دو۔ ورنہ تمہارے حق میں بُرا ہوگا۔ و تم نے راجہ بالی کا نام سُنا ہوگا ۔ اُس نے تمہیں ایک بار نیچا بھی دکھایا تھا ۔ اُسی راجہ بانی کو رامچندر نے ایک تیر سے ہلاک کر دیا۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> qta3qeueq36896wps0l92qk80tzfav3 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/238 250 12848 35041 31561 2026-06-18T06:28:15Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35041 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۳۲}}</noinclude>کھر اور دوکھن کی موت کا حال بھی تم نے سنا ہی ہوگا ۔ اُن سے تم کسی طرح پیش نہیں پا سکتے۔ یہ سُن کر کہ یہ رامچندر کا ایلچی ہے اور سیتاجی کا سراغ لگانے کے لئے آیا ہے راون کا خون کھولنے لگا ۔ اُس نے پھر تلوار اُٹھائی مگر بھیجویشن نے پھر اُسے سمجھایا ' مہاراج ! ایلچیوں کو مارنا سلطنت کے آئین کے خلاف ہے ۔ آپ اسے اور جو سزا چاہیں دیں مگر قتل نہ کریں۔ اس میں آپ کی بڑی بدنامی ہوگی بھیمیشن بڑا خدا ترس، سچا ، با ایمان آدمی تھا ۔ حق بات کہنے میں اُس کی زبان کبھی نہیں رکتی تھی۔ وہ راون کو کئی بار سمجھا چکا تھا کہ سینتا جی کو رامچندر کے پاس بھیج دیجئے ۔ مگر راون اُس کی باتوں کی کب پرواہ کرتا تھا۔ اس وقت بھی بھیشن کی بات اُسے بُری لگی۔ مگر سلطنت کے آئین کو توڑنے کی اُسے جرات نہ ہوئی۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> bj2zuzrbsuubixoi8iuohdtce7kflaw صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/239 250 12849 35042 31563 2026-06-18T06:30:16Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35042 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>دل میں پیچ و تاب کھا کر تلوار میان میں رکھ لی اور بولا تو بڑا خوش قسمت ہے کہ اس وقت میرے ہاتھ سے بچ گیا ۔ تو اگر سگریو کا ایلچی نہ ہوتا تو اسی وقت تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتا ۔ تجھ جیسے گستاخ آدمی کی یہی سزا ہے ۔ مگر میں تجھے بالکل بے داغ نہ چھوڑونگا۔ ایسی سزا دونگا کہ تو بھی یاد کرے کہ کسی سے پالا پڑا تھا یہ را دن سوچنے لگا اسے ایسی کونسی سزا دی جائے کہ اس کی جان تو نہ نکلے پر یہ خوب ذلیل اور رسوا ہو ۔ اس کے ساتھ ہی سانست بھی ایسی ہو کہ زندگی بھر نہ بھولے۔ پھر ادھر آنے کا حوصلہ ہی نہ ہو ۔ سوچتے سوچتے اُسے ایک انوکھی دل لگی سوجھی۔ وہ مارے خوشی کے اُچھل پڑا ۔ اسے بندر بنا کر اس کی دُم میں آگ لگا دی جائے ۔ اور اس کا تاریخ دیکھا جائے ۔ عجیب و غریب تماشہ ہوگا۔ راکشوں<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 3kkm5l4lakm0htun0yxoqqqn034kufb صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/240 250 12853 35038 31599 2026-06-18T06:12:00Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35038 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۳۴}}</noinclude>نے ایسا تماشا کبھی نہ دیکھا ہوگا ۔ بڑی دل لگی رہیگی ۔ ہزاروں آدمی اُس کے پیچھے " لینا لینا کرتے دوڑینگے اور وہ اِدھر اُدھر اُچکتا پھر یگا. فوراً میگھناد کو حکم دیا کہ اس آدمی کا منہ رنگ دو اس کے بدن پر بُھورے بھورے روٹیں لگا دو اور ایک لمبی دم لگا کہ اچھا خاصا لنگور بنا دو ۔ اُس دم میں لئے باندھ کر تیل میں بھگا دو اور اُس میں آگ لگا کر چھوڑ دو ۔ شہر میں ڈونڈی پٹوا دو کہ آج شام کو ایک نیا ، انوکھا اور حیرت میں ڈالنے والا تماشہ ہوگا ۔ سب لوگ اپنی چھتوں پر سے تماشہ دیکھیں ہے یہ محکم پاتے ہی راکشسوں نے ہنومان کو بندر بنانا شروع کر دیا ۔ کوئی منہ رنگتا تھا، کوئی بدن پر رومیں چپکاتا تھا، کوئی دم لگاتا تھا۔ دم کے دم میں بندر کا سوانگ بن کر کھڑا ہو گیا ۔ خوب لمبی دُم تھی ۔ پھر لوگ<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> qta8pjmil2hr03ms6vdq6vr9jachl3f 35039 35038 2026-06-18T06:13:24Z Shahnoorkhatoon 227 35039 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۳۴}}</noinclude>نے ایسا تماشا کبھی نہ دیکھا ہوگا ۔ بڑی دل لگی رہیگی ۔ ہزاروں آدمی اُس کے پیچھے " لینا لینا کرتے دوڑینگے اور وہ اِدھر اُدھر اُچکتا پھر یگا. فوراً میگھناد کو حکم دیا کہ اس آدمی کا منہ رنگ دو اس کے بدن پر بُھورے بھورے روٹیں لگا دو اور ایک لمبی دم لگا کہ اچھا خاصا لنگور بنا دو ۔ اُس دم میں لئے باندھ کر تیل میں بھگا دو اور اُس میں آگ لگا کر چھوڑ دو ۔ شہر میں ڈونڈی پٹوا دو کہ آج شام کو ایک نیا ، انوکھا اور حیرت میں ڈالنے والا تماشہ ہوگا ۔ سب لوگ اپنی چھتوں پر سے تماشہ دیکھیں یہ محکم پاتے ہی راکشسوں نے ہنومان کو بندر بنانا شروع کر دیا ۔ کوئی منہ رنگتا تھا، کوئی بدن پر رومیں چپکاتا تھا، کوئی دم لگاتا تھا۔ دم کے دم میں بندر کا سوانگ بن کر کھڑا ہو گیا ۔ خوب لمبی دُم تھی ۔ پھر لوگ<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 2o6npwc4ysu37e7c7a3phpqo7vcz212 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/241 250 12854 35037 31601 2026-06-18T06:11:23Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35037 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>چاروں طرف سے لئے لا لا کر اس میں باندھنے لگے ۔ ادھر شہر میں ڈونڈی پٹ گئی ۔ راکشس لوگ جلدی جلدی شام کا کھانا کھا ، اچھے اچھے کپڑے پہن ، اپنی اپنی چھتوں پر ڈٹ گئے ۔ راون کی سینکڑوں رانیاں تھیں ۔ سب کی گہنے کپڑے سے آراستہ ہو کر یہ تماشہ دیکھنے کے لئے سب سے اونچی چھت پر جا بیٹھیں۔ اتنے میں شام بھی ہو گئی ۔ ہنومان کی دُم پر تیل چھڑکا جانے لگا ۔ منوں تیل ڈال دیا گیا ۔ جب دم خوب تیل سے تر ہوگئی تو ایک آدمی نے اُس میں آگ لگا دی ۔ شعلے بھڑک اُٹھے ۔ چاروں طرف تالیاں بجنے لگیں ۔ تماشہ شروع ہو گیا : ہنومان اپنی اس ذلت اور ہنسی پر دل میں خوب گڑھ رہے تھے ۔ اس سے تو کہیں اچھا ہوتا اگر ظالم نے مار ڈالا ہوتا ۔ دل نہیں کہا ۔ اس ذلت کا اگر بدلہ نہ لیا تو کچھ نہ کیا ۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> th8zvavoco42syvkgmikt1auk8z4ns3 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/242 250 12868 35036 31653 2026-06-18T05:59:56Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35036 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۳۶}}</noinclude>اور وہ بھی اسی وقت ۔ ایسا تماشہ دکھاؤں کہ عمر بھر نہ بھولے ۔ سارے شہر کی ہولی ہو جائے ۔ جب دم میں آگ لگ گئی تو وہ ایک درخت پر چڑھ گئے ۔ اس فن میں اُن کا ثانی نہ تھا۔ درخت کی ایک شاخ راج محل میں مجھکی ہوئی تھی ۔ اُسی شاخ سے کود کر وہ رنواس میں پہنچ گئے اور ایک لمحہ میں سارا راج محل جلنے لگا ۔ سب لوگ چھتوں پر تھے ۔ کوئی روکنے والا نہ تھا ۔ بیش قیمت کپڑے اور سجاوٹ کے سامان ، فرش، گڈے ۔ قالین ، پردے ۔ پنکھے، ان میں آگ لگتے کیا دیر تھی ۔ ہنومان جدھر سے اپنی آتشیں دم لئے نکل جاتے تھے اُدھر ہی شعلے بھڑکنے لگتے تھے راج محل میں آگ لگا کر ہنومان بستی کی طرف مجھکے ۔ چھتوں سے چھتیں ملی ہوئی تھیں۔ ایک گھر سے دوسرے گھر میں کود جانا مشکل نہ تھا۔ گھنٹہ بھر میں سارا شہر آگ کے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 01oapj9gaiq06n2bfdi7sav7bictewz صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/243 250 12869 35043 31655 2026-06-18T06:39:01Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35043 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>پردے میں ڈھک گیا ۔ چاروں طرف گہرام مچ گیا ۔ کوئی اپنا اسباب نکالتا تھا ۔ کوئی پانی پانی چلاتا تھا ۔ کتنے ہی آدمی جو نیچے نہ اتر سکے جل گئے ۔ اتفاق سے اسی وقت زور کی ہوا چلنے لگی ۔ آگ اور بھی بھڑک اُٹھی ۔ گویا ہوا اگن دیوتا کی مدد کرنے کے لئے آئی ہے۔ یسا معلوم ہوتا تھا کہ آسمان سے آگ کے بهَن تختے برس رہے ہیں :- شہر کی ہولی بنا کر ہنومان سمندر کی طرف بھاگے اور پانی میں کود کر دم کی آگ بجھائی ۔ انہوں نے لنکا باسیوں کو سچ سچ عجیب و غریب تماشہ دکھا دیا : (۳) حملہ کی تیاری ہنومان نے راتوں رات سمندر کو پار کیا۔ اور اپنے ساتھیوں سے جاملے ۔ یہ بیچارے گھبرا رہے تھے کہ نہ جانے ہنومان پر کیا[[<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> f5jfhp654c04pzfuugjdc0gfhhk1c2h صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/244 250 12870 35044 31657 2026-06-18T06:39:23Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35044 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۳۸}}</noinclude>آفت آئی ۔ اب تک نہیں کوئے ۔ اب ہم لوگ سگریو کو کیا منہ دکھائینگے ۔ رامچندر کے سامنے کیسے جائینگے ۔ اس سے تو یہ کہیں اچھا ہے نہیں ڈوب مریں ۔ اتنے ہی میں ہنومان جا پہنچے ۔ اُنہیں دیکھتے ہی سب کے سب خوشی سے اچھلنے لگے ۔ دوڑ دوڑ کر اُن سے گلے ملے اور پوچھنے لگے ۔ کہو بھائی کیا کر آئے۔ سینتا جی کا کچھ سُراغ ملا۔ راون سے کچھ بات چیت ہوئی ؟ ہم لوگ تو بہت پریشان تھے ہے ہنومان نے لنکا کا سارا حال کہ سنایا ۔ راون کے محل میں جانا ، اشوک کے باغ میں سیتا جی کے درشن پانا ، باغ کو اُجاڑنا ، راکشوں کو مارنا، میگھناد کے ہاتھوں گرفتار ہونا ۔ پھر لنکا کو جلانا، ساری باتیں مفصل بیان کیں۔ سب نے ہنومان کی جوانمردی اور ہوشیاری کو سراہا اور گا بجا کر سوئے ۔ منہ اندھیرے رکسکندھا پوری کو روانہ ہوئے ۔ سینکڑوں کوسوں کا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 5nxpxxmmwkjm7oyakmfue8a7fycgzk1 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/245 250 12871 35045 31659 2026-06-18T06:39:48Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35045 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>کا سفر تھا پر یہ لوگ اپنی کامیابی پر اتنے خوش تھے کہ نہ دن کو آرام کرتے ، نہ رات کو سوتے۔ کھانے پینے کی کسی کو سُدھ نہ تھی ۔ جلد سے جلد رامچندر کے پاس پہنچ کر یہ مژدہ جانفزا سُنانے کے لئے بے قرار ہو رہے تھے ۔ آخر کئی دنوں کے بعد کسکندھا کا پہاڑ نظر آیا ۔ اسی کے قریب راجہ سگریو کا ایک باغ تھا۔ اُس کا نام مدھوبن تھا۔ اُس میں بہت سی شہد کی مکھیاں پلی ہوئی تھیں ۔ سگریو کو جب شہد کی ضرورت پڑتی تو اسی باغ سے لیتا تھا ۔ جب یہ لوگ مدھوبن کے پاس پہنچے تو شہد کے چھتے دیکھ کر اُن کی رال ٹپک پڑی ۔ بیچاروں نے کئی دن سے کھانا نہیں کھایا تھا۔ فورا باغ میں گھس گئے اور شہد پینا شروع کر دیا ۔ باغ کے مالیوں نے منع کیا تو انہیں خوب پیٹا ۔ شہد کی ٹوٹ بیچ گئی ۔ سگریو کو جب خبر ملی کہ ہنومان، انگه جامونت وغیرہ مدھوبن میں ٹوٹ مچائے ہوئے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> ns1ob2lcbleis9sckp7wt73cl5saiyy صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/246 250 12872 35046 31661 2026-06-18T06:40:13Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35046 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>ہیں تو سمجھ گیا یہ لوگ سُرخرو ہو کر لوٹے ہیں۔ ناکام لوٹنے تو یہ شرارت کب سوجھتی ۔ فوراً اُن کی پیشوائی کرنے چل کھڑا ہوا ۔ ان لوگوں نے اُسے دیکھا تو اور بھی اُودھم مچانا شروع کیا. سگریو نے ہنس کر کہا یہ معلوم ہوتا ہے تم لوگوں نے کئی دن سے مارے خوشی کے کھانا نہیں کھایا ہے ۔ آؤ تمہیں گلے لگا لوں جب سب لوگ سگریو سے گلے مل چکے تو ہنومان نے لنکا کی ساری داستان اُس سے کہ سُنائی ۔ سگریو خوشی سے پھولا نہ سمایا ۔ اُسی وقت اُن لوگوں کو ساتھ لے کر رام چندر کے پاس پہنچا ۔ رام چندر بھی اُن کے بشرہ سے تاڑ گئے کہ یہ لوگ سینتا جی کا سراغ لگا لائے۔ ادھر کئی دن سے دونو بھائی بہت مایوس ہو رہے تھے ۔ ان لوگوں کو دیکھ کر اُمید کی کھیتی ہری ہو گئی * را میچندر نے پوچھا۔ کہو کیا خبر لائے ۔ سیتا جی<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> cid8u0ycqvza7fpjvdqqxhycymthtou صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/247 250 12873 35047 31663 2026-06-18T06:40:45Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35047 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>کہاں ہیں ۔ اُن کا کیا حال ہے ؟ ہنومان نے مذاق کر کے کہا ۔ مہاراج کچھ انعام دلوائیے تو کہوں کی رام - شکریہ کے سوا میرے پاس اور کیا ہے جو تمہیں دوں ۔ جب تک زندہ رہونگا تمہارا احسان ماٹونگا : ہنومان : وعدہ کیجئے کہ مجھے کبھی اپنے قدموں سے جدا نہ کیجئے گا ہے رام - واہ ! یہ تو میرے ہی فائدے کی بات ہے ۔ تم جیسے وفادار دوست کس کو نصیب ہوتے ہیں ۔ ہم اور تم ہمیشہ ساتھ رہیں، اس سے بڑھ کر میرے لئے خوشی کی اور کیا بات ہو سکتی ہے ۔ سیتا جی کیا لنکا میں ہیں ؟ ہنومان ۔ ہاں مہاراج - لنکا کے ظالم راجہ راون نے اُنہیں ایک باغ میں قید کر رکھا ہے اور طرح طرح کی تکلیفیں دے رہا ہے۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 9hgtwrcebrsjr2cwrhpd2ua5h9i5e0u صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/248 250 12874 35048 31665 2026-06-18T06:42:48Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35048 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۳۴۲}}</noinclude>کبھی دھمکاتا ہے ، کبھی پھسلاتا ہے مگر وُہ اس کی مطلق پرواہ نہیں کرتیں جب میں نے آپ کی انگوٹھی دی تو اُسے کلیجہ سے لگا لیا اور دیر تک روتی رہیں۔ چلتے وقت مجھ سے کہا کہ پران ناتھ سے کہنا جلد ہی مجھے اس قید سے آزاد کریں کیونکہ اب مجھ میں زیادہ سہنے کی طاقت نہیں ہے۔ یہ کہہ کر ہنومان نے سیتا جی کی بینی رامچندر کے ہاتھ میں رکھ دی ہے را مچندر نے اِس بینی کو دیکھا تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اُسے بار بار چوما اور آنکھوں سے لگایا ۔ پھر بڑی دیر تک سیتا جی ہی کے متعلق باتیں پوچھتے رہے ۔ ان باتوں سے اُن کا جی ہی نہ بھرتا تھا ۔ وہ کیسے کپڑے پہنے ہوئے تھیں ؟ بہت وبلی تو نہیں ہو گئی ہیں ؟ بہت رویا تو نہیں کرتیں ؟ ہنومان جی ہر ایک بات کا جواب[[<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 5ntfuzu354tga0b46teo3rr76sc8yaw صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/249 250 12875 35049 31667 2026-06-18T06:43:19Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35049 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>دیتے جاتے تھے اور دل میں سوچتے تھے اس استری اور پریش میں کتنا پریم ہے ! تھوڑی دیر تک کچھ سوچنے کے بعد رامچندر نے سگریو سے کہا ۔ اب حملہ کرنے میں دیر نہ کرنی چاہئے ۔ تم اپنی فوج کو کب تک تیار کر سکو گے ؟ سگریو نے کہا ۔ مہاراج ! میری فوج تو پہلے ہی سے تیار ہے ۔ صرف آپ کے محکم کی دیر ہے رام ۔ جنگ کے سوا اب اور کوئی چارہ نہیں ہے ہے یو ۔ ایشور نے چاہا تو ہماری جیت ہوگی ہے رام حق کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے . (۴) بھبھیشن ہنومان کے چلے آنے کے بعد راکشسوں کو بڑی فکر ہوئی ۔ اُنہوں نے سوچا جس فوج کا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> glfscyhy3wpweanccidcucsecnd837q صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/250 250 12876 35050 31669 2026-06-18T06:44:35Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35050 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۴۴}}</noinclude>ایک سپاہی اتنا طاقتور اور بہادر ہے اُس فوج سے بھلا کون لڑیگا ۔ اُس فوج کا سردار کتنا بہادر ہوگا ۔ ایک آدمی نے آکر بہاری لنکا میں ہلچل مچا دیا ۔ اگر بہادر میگھنا و خود نہ جاتا شاید ہماری ساری فوج مل کر بھی اُسے پکڑ نہ سکتی ۔ کتنا غضب کا چالاک آدمی تھا۔ دم تو لگائی گئی اس کی ہنسی اُڑانے کے لئے۔ س کا بدلہ اُس نے یہ دیا کہ ساری لنکا جلا ڈالی ۔ اور کوئی بھی اُسے نہ پکڑ سکا ۔ صاف گیا ۔ اب رام چندر کی فوج دو چار دن میں لنکا پر چڑھ آئیگی ۔ راجہ را دن اور راجکمار میگھناد کتنے ہی بہادر ہوں ، مگر فوج کا مقابلہ تو نہیں کر سکتے ۔ اس ایک عورت کے لئے را دن سارے ملک کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ رامچندر کے پاس نہ بھیج دی گئی اور اُن سے معافی نہ مانگی گئی تو ضرور لنکا پر آفت آئیگی : نکل<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> htvx2b8vdemp2lu1hnozqm6blp348vc صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/251 250 12877 35051 31671 2026-06-18T06:44:55Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35051 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>دوسرے دن شہر کے خاص خاص آدمی راون کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی مہاراج ! آپ کے راج میں ہم لوگ اب تک بڑے آرام اور چین سے رہے ۔ مگر اب ہمیں ایسا اندیشہ ہو رہا ہے کہ اس ملک پر کوئی آفت آنے والی ہے ۔ ہماری آپ سے یہی درخواست ہے۔ کہ آپ سیتا جی کو رامچندر کے پاس پہنچا دیں۔ اور ملک کو اس آنے والی آفت سے بچالیں ہے راون بھی کل رات سے اسی فکر میں پڑا ہوا تھا ۔ مگر اپنی رعایا کے سامنے وہ اپنے دل کی کمزوری کو ظاہر نہ کر سکا ۔ اُسے اس کی تاب نہ تھی کہ کوئی اُس کے کاموں پر اعتراض کرے ۔ اعتراض سُنتے ہی وہ آپے سے باہر ہو جاتا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ رعایا کا کام ہے ۔ راجہ کا حکم ماننا، نہ کہ اُس کے کاموں پر اعتراض کرنا ۔ غصہ سے بولا ۔ " تمہیں ایسی درخواست کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ جس<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> n6id581rr5vfvhh2q8a1b28t4jjqh5l صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/252 250 12878 35052 31673 2026-06-18T06:46:11Z Shahnoorkhatoon 227 35052 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>شخص نے میری بہن کی آبرو خاک میں ملائی اُس سے اُس کا بدلہ نہ لوں ! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ راون اتنا بے شرم اور بے غیرت نہیں ہے ۔ بیتا میری ہے اور میری رہیگی۔ تم لوگ جا کر اپنا کام دیکھو ۔ ملک کی حفاظت کا میں ذشتہ وار ہوں ۔ میں تم سے اس معاملہ میں کوئی - صلاح نہیں لینی چاہتا. یہ پھٹکار سُن کر سب لوگ خاموش ہو گئے ۔ سبھی راون کے غصے سے ڈرتے تھے ۔ مگر بھیجیش رعایا کا سچا دوست تھا اور حق بات کہنے میں اُس کی زبان کبھی نہ رکتی تھی۔ بولا- مہاراج راجہ کا دھرم ہے کہ جب رعایا کو بے راہ ہوتے دیکھے تو اُسے سزا دے ۔ اُسی طرح رعایا کا بھی دھرم ہے کہ جب راجہ کو بے راہ چلتے دیکھے تو اسے سمجھائے ۔ آپ کو رامچندر سے بے عزتی کا بدلہ لینا تھا ۔ تو اُن پر حملہ کرتے ۔ اُس وقت سارا ملک آپ کا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> neez3i6zsycanib40xrlqjwzo10smzo 35053 35052 2026-06-18T06:46:26Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35053 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>شخص نے میری بہن کی آبرو خاک میں ملائی اُس سے اُس کا بدلہ نہ لوں ! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ راون اتنا بے شرم اور بے غیرت نہیں ہے ۔ بیتا میری ہے اور میری رہیگی۔ تم لوگ جا کر اپنا کام دیکھو ۔ ملک کی حفاظت کا میں ذشتہ وار ہوں ۔ میں تم سے اس معاملہ میں کوئی - صلاح نہیں لینی چاہتا. یہ پھٹکار سُن کر سب لوگ خاموش ہو گئے ۔ سبھی راون کے غصے سے ڈرتے تھے ۔ مگر بھیجیش رعایا کا سچا دوست تھا اور حق بات کہنے میں اُس کی زبان کبھی نہ رکتی تھی۔ بولا- مہاراج راجہ کا دھرم ہے کہ جب رعایا کو بے راہ ہوتے دیکھے تو اُسے سزا دے ۔ اُسی طرح رعایا کا بھی دھرم ہے کہ جب راجہ کو بے راہ چلتے دیکھے تو اسے سمجھائے ۔ آپ کو رامچندر سے بے عزتی کا بدلہ لینا تھا ۔ تو اُن پر حملہ کرتے ۔ اُس وقت سارا ملک آپ کا<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 7aa4auqn3wr4hf7zmmlsmu1bzfrc64b صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/254 250 12879 35055 31675 2026-06-18T07:03:50Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35055 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" />{{c|۲۴۸}}</noinclude>بھیجیشن نے جوش میں آکر کہا ۔ ہرگز نہیں۔ پ کے کام میں رعایا آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی ، * اب راون سے ضبط نہ ہو سکا ۔ اُس نے اُٹھ کر بھیجیشن کو اتنے زور سے لات ماری کہ وہ کئی قدم کے فاصلے پر جا گرا اور بولا۔ نکل جا میرے راج سے ؛ اسی وقت نکل جا۔ یں تجھ جیسے باغی اور دغا باز کا منہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔ تو میرا بھائی نہیں ، میرا دشمن ہے۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اپنی کئی میں بیٹھا ہوا رعایا کو میرے خلاف بھڑکاتا رہتا ہے ، ورنہ آج تو میرے سامنے زباندرازی نہ کرتا ۔ پھر کبھی میرے راج میں قدم نہ رکھنا ورنہ جان سے ہاتھ دھوئیگا کنید بھیشن نے اٹھ کر کہا۔ ' مہاراج ، آپ میرے بڑے بھائی ہیں، اس لئے میں نے آپ کو سمجھانے کی جرات کی تھی ۔ اُس کی آپ نے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 2scyfhfel6budij7ov4fmugcisk6aob صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/260 250 13150 35062 32659 2026-06-18T07:06:57Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35062 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude> پر پ باندھ لیا تو اُس کا نشہ ہرن ہو گیا۔ اُس دن اُسے ساری رات نیند نہیں آئی.<noinclude></noinclude> ngljkih3bxz7ar997f7i9chc6s2yj8j صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/259 250 13151 35061 32566 2026-06-18T07:06:35Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35061 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>شوق سے ہر ایک بات کی جانچ کر لو ۔ کہو اپنی فوج کی صحیح تعداد بتلادوں ، اپنا رسد ساماں دکھا دوں ۔ اگر دیکھ بھال چکے ہو تو لوٹ جاؤ ۔ اور اگر ابھی دیکھنا باقی ہو تو میں تمہیں خوشی سے اجازت دیتا ہوں خوب اچھی طرح دیکھ بھال لو ہے دونو بہت شرمندہ ہوئے اور جا کر راون سے بولے : مہاراج ! آپ رامچندر سے لڑائی نہ کریں ۔ وہ غضب کے دلیر ہیں ۔ آپ اُن پر فتح نہیں پا سکتے ۔ اُن کی فوج کا ایک ایک سردار ہماری ایک ایک فوج کے لئے کافی ہے۔ مگر سادن تو اپنی طاقت کے نشہ میں اندھا ہو رہا تھا ۔ وہ کسی کی نصیحت کو کب خیال میں لاتا تھا۔ بولا تم دونو باغی ہو ۔ میرے سامنے سے نکل جاؤ ۔ میں ایسے بزدلوں کی صورت نہیں دیکھنی چاہتا ہے مگر جب اُسے معلوم ہوا کہ رامچندر نے سمندر<noinclude></noinclude> 8ilx81wb7yj1cp6gu908m8gnu6sbiqx صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/258 250 13152 35060 32632 2026-06-18T07:06:15Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35060 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>کنارے آ کر سمندر کو عبور کرنے کی تدبیر سوچنے لگی ۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ ایک پل تعمیر کیا جائے ۔ نل اور نیل بڑے ہوشیار انجنیئر تھے۔ اُنہوں نے پل بنانا شروع کیا . اُدھر راون کو جب خبر مِلی کہ بھبھیشن رامچندر سے جا مِلا تو اس نے دو جاسوسوں کو سگریو کی فوج کا حال چال دریافت کرنے کے لئے بھیجا ۔ ایک کا نام تھا' شک ، دوسرے کا سارن دونو بھیس بدل کر سگریو کی فوج میں آئے اور ہر ایک بات کی چھان بین کرنے لگے ۔ اتفاق سے اُن پر بھبھیشن کی نظر پڑ گئی۔ فوراً پہچان گئے ۔ اُنہیں پکڑ کر رامچندر کے سامنے پیش کر دیا ۔ دونو جاسوس مارے خوف کے کانپنے لگے ۔ کیونکہ دستور کے موافق انہیں موت کی سزا ملنی یقینی تھی ۔ پر رام چندر کو اُن پر رحم آ گیا ۔ انہیں بلا کر کہا تم لوگ ڈرو مت، ہم تمہیں کوئی سزا نہ دینگے ۔ تُم<noinclude></noinclude> 39jz0geviuo3xpnmdi38gun1fn3l5kd صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/257 250 13153 35058 32606 2026-06-18T07:05:11Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35058 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>کو بھی نہیں نکالتا۔ سگے بھائی کو کیسے نکا لیگا. بھبھیشن - مہاراج! میرا قصور صرف یہی تھا کہ میں نے راون سے وہ بات کہی جو اُسے پسند نہ تھی ۔ میں نے اُسے سمجھایا تھا کہ سیتا جی کو رامچندر کے پاس پہنچا دو ۔ یہ بات اُسے تیر کی طرح لگ گئی ۔ جو آدمی نفس کا غلام ہو جانا ہے اُسے نیک اور بد کی تمیز نہیں رہتی ۔ وہ اپنے بارے میں سچی بات سُننا کبھی پسند نہیں کرتا . رامچندر نے بھبھیشن کو بہت تشفّی دی اور وعدہ کیا کہ راون کو مار کر لنکا کا راج تُمہیں دونگا ۔ اسی وقت بھبھیشن کو راج تیلک بھی دیدیا ۔ بھبھیشن نے بھی ہر حالت میں رامچندر کی مدد کرنے کا پکّا وعدہ کیا . دوسرے دن سے لنکا پر چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔ اور فوج سمندر کے<noinclude></noinclude> 4k8oykibxh2izvcgx2r9dsum6me40qw 35059 35058 2026-06-18T07:05:56Z Shahnoorkhatoon 227 35059 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>کو بھی نہیں نکالتا۔ سگے بھائی کو کیسے نکا لیگا. بھبھیشن - مہاراج! میرا قصور صرف یہی تھا کہ میں نے راون سے وہ بات کہی جو اُسے پسند نہ تھی ۔ میں نے اُسے سمجھایا تھا کہ سیتا جی کو رامچندر کے پاس پہنچا دو ۔ یہ بات اُسے تیر کی طرح لگ گئی ۔ جو آدمی نفس کا غلام ہو جانا ہے اُسے نیک اور بد کی تمیز نہیں رہتی ۔ وہ اپنے بارے میں سچی بات سُننا کبھی پسند نہیں کرتا . رامچندر نے بھبھیشن کو بہت تشفّی دی اور وعدہ کیا کہ راون کو مار کر لنکا کا راج تُمہیں دونگا ۔ اسی وقت بھبھیشن کو راج تیلک بھی دیدیا ۔ بھبھیشن نے بھی ہر حالت میں رامچندر کی مدد کرنے کا پکّا وعدہ کیا . دوسرے دن سے لنکا پر چڑھائی کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔ اور فوج سمندر کے<noinclude></noinclude> dyluisp3a4ua34r9y090lvl1xf6xv1g صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/256 250 13154 35057 32590 2026-06-18T07:04:54Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35057 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>آدمی ہے تو وہ بھبھیشن ہے ۔ جس وقت سارا دربار میرا دشمن تھا، اُس وقت اسی آدمی نے میری جان بچائی تھی ۔ اسے ضرور راون نے راج سے نکال دیا ہے ۔ وُہ اب آپ کی سرن آیا ہے ۔ اس سے بے مُروّتی کرنا مناسب نہیں۔ آخر رام چندر کا شُبہہ دُور ہو گیا ۔ انہوں نے اُسی وقت بھبھیشن کو بلایا اور بڑے تپاک سے مِلے. بھیبھیشن بولا ۔ مہاراج! آپ سے مِلنے کی بہت دنوں سے تمنا تھی، وہ آج پوری ہوئی ۔ میں اپنے بھائی راون کے ہاتھوں بہت ذلیل ہو کر آپ کی سرن آیا ہوں ۔ اب آپ ہی میرا بیڑا پار لگائیے ۔ راون نے مجھے اتنی بے دردی سے نکالا ہے جیسے کوئی کُتّے کو بھی نہ نکا لیگا ۔ اب میں اُس کا مُنہ نہیں دیکھنا چاہتا. رام چندر نے کہا ۔ مگر بے قصوُر تو کوئی اپنے نَوکر<noinclude></noinclude> 6d6do4khscx9n5sa2eujxyopolj78il صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/255 250 13155 35056 32570 2026-06-18T07:04:16Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35056 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>مجھے یہ سزا دی ۔ آپ کا حکم سر اور آنکھوں پر ۔ میں جاتا ہوں ۔ آپ پھر میرا منہ نہ دیکھینگے ۔ مگر اتنا پھر کہتا ہوں کہ آپ کو ایک دن پچھتانا پڑیگا ۔ اور اُس وقت آپ بد نصیب بھبھیشن کی بات یاد آئیگی : (۵) حمله بھیشن یہاں سے ذلیل ہو کہ سگریو کی فوج میں پہنچا اور سگریو سے اپنا سارا حال کہا ۔ سگریو نے رامچندر کو اُس کے آنے کی دی - رامچندر کو خیال آیا کہیں یہ راون کا مخبر نہ ہو ۔ ہماری فوج کی حالت دیکھنے کے لئے آیا ہو۔ اسے فوراً فوج سے نکال دینا چاہئے ۔ انگر ، جامونت اور دوسرے سرداروں نے بھی یہی راے دی ۔ اُس وقت ہنومان بولے آپ لوگ اس آدمی کے بارے میں کسی قسم کا شبہہ نہ کریں ۔ لنکا میں اگر کوئی سچا اور شریف<noinclude></noinclude> inqk4breidutoto95d8b36lmhiiefxq صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/253 250 13156 35054 33177 2026-06-18T06:46:47Z Shahnoorkhatoon 227 /* پروف خوانی شدہ */ 35054 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Shahnoorkhatoon" /></noinclude>ساتھ دیتا ۔ سینتا جی کو یہاں لاکر قید کر رکھنے میں آپ نے زیادتی کی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ آپ کو سمجھا دیں ۔ اگر آپ نے سیتاجی کو نہ واپس کیا تو لنکا پر ضرور آفت آئیگی کراون نے جب دیکھا کہ اُس کا بھائی بھی رعایا کی طرف سے وکالت کر رہا ہے تو اور بھی جامہ سے باہر ہو کر بولا ۔ بھیجھیشن تم پوجا کرنے والے ۔ پوتھی پران کے کیڑے ہو ۔ ریاست کے معاملات میں زبان کھولنے کا تمہیں حق نہیں ۔ خاموش رہو ۔ میں تم سے زیادہ لائق ہوں ، یہ - بھھیں ۔ میں آپ سے یہ جتا دینا چاہتا ہوں کہ اس لڑائی میں آپ کا ساتھ رعایا ہرگز نہ دیگی : راون کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں ۔ گرج کر بولا : میں جو کچھ کہوں یا کروں، رعایا کو ماننا پڑیگا :<noinclude></noinclude> 8p21mkon6syx6qt2o9dd340rlqj8avg صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/280 250 13702 35031 35030 2026-06-18T04:17:45Z Jinder77 234 35031 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|۲۷۴}} ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا کہ دونہ دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔ گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناو پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں کا کاٹنا مشکل پڑ گیا ۔ مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا لکشمن سنبھلتے گئے ۔ اور میگھنا د کمزور پڑتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ لکشمن اُس پر غالب آگئے اور ایک تیر اُس کی گردن پر ایسا مارا کہ اُس کا سر کٹ کی الگ جا گرا [.] میگھناد کے گرتے ہی راکشسوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ بھگدر پڑ گئی ۔ راوں نے یہ خبر سنی تو اُس کے منہ سے ٹھنڈی آہ نکل گئی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ انتقام کے جوش سے پاگل ہو گیا ۔ رام اور لکشمن تو اُس کے قابو سے باہر تھے ۔ سیتاجی کو قتل<noinclude></noinclude> fq35wevh2neqkbq1im7byp8saevamjq 35032 35031 2026-06-18T04:51:47Z Jinder77 234 35032 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٧٤}} ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا کہ دونہ دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔ گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناو پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں کا کاٹنا مشکل پڑ گیا ۔ مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا لکشمن سنبھلتے گئے ۔ اور میگھنا د کمزور پڑتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ لکشمن اُس پر غالب آگئے اور ایک تیر اُس کی گردن پر ایسا مارا کہ اُس کا سر کٹ کی الگ جا گرا [.] میگھناد کے گرتے ہی راکشسوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ بھگدر پڑ گئی ۔ راوں نے یہ خبر سنی تو اُس کے منہ سے ٹھنڈی آہ نکل گئی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ انتقام کے جوش سے پاگل ہو گیا ۔ رام اور لکشمن تو اُس کے قابو سے باہر تھے ۔ سیتاجی کو قتل<noinclude></noinclude> grydqt3xq85oywkvitjg0bp7hf0aen4 35064 35032 2026-06-18T09:46:29Z Kaur.gurmel 74 35064 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٧٤}} ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا'. د ونو دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔ گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناد پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں کا کاٹنا مُشکل پڑ گیا ۔ مگر جوں جوں وقت گُزرتا گیا لکشمن سنبھلتے گئے ۔ اور میگھناد کمزور پڑتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ لکشمن اُس پر غالب آگئے اور ایک تیر اُس کی گردن پر ایسا مارا کہ اُس کا سر کٹ کر الگ جا گرا. میگھناد کے گرتے ہی راکشسوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ بھگدر پڑ گئی ۔ راوں نے یہ خبر سُنی تو اُس کے مُنہ سے ٹھنڈی آہ نکل گئی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ انتقام کے جوش سے پاگل ہو گیا ۔ رام اور لکشمن تو اُس کے قابو سے باہر تھے ۔ سیتاجی کو قتل<noinclude></noinclude> 5mdcp5ljybwu8ro0ep30h6pd520k8yt 35065 35064 2026-06-18T09:47:33Z Kaur.gurmel 74 35065 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٧٤}} ہو جائے ۔ ذرا دیکھ لو کہ شیر زخمی ہو کر کتنا خونخوار ہو جاتا ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کا مقابلہ تو تمہارے باپ ہی سے ہوگا'. {{gap}}دونو دلاوروں نے تیر چلانے شروع کر دئے۔ گھن گھن، تن تن کی آوازیں آنے لگیں میگھناد پہلے تو غالب آیا ۔ لکشمن کو اس کے واروں کا کاٹنا مُشکل پڑ گیا ۔ مگر جوں جوں وقت گُزرتا گیا لکشمن سنبھلتے گئے ۔ اور میگھناد کمزور پڑتا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ لکشمن اُس پر غالب آگئے اور ایک تیر اُس کی گردن پر ایسا مارا کہ اُس کا سر کٹ کر الگ جا گرا. میگھناد کے گرتے ہی راکشسوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ بھگدر پڑ گئی ۔ راوں نے یہ خبر سُنی تو اُس کے مُنہ سے ٹھنڈی آہ نکل گئی ۔ آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔ انتقام کے جوش سے پاگل ہو گیا ۔ رام اور لکشمن تو اُس کے قابو سے باہر تھے ۔ سیتاجی کو قتل<noinclude></noinclude> 5hgwp8icnoo4q4aoyglwltt2wyu1fw7 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/281 250 13703 35033 34923 2026-06-18T04:52:49Z Jinder77 234 35033 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٧٥}} کر ڈالنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ تلوار لے کر دوڑتا ہوا اشوک بانکا میں پہنچا ۔ سیتا جی نے اُس کے ہاتھ میں ننگی تلوارہ دیکھی تو سہم اٹھیں۔ مگر راون کا وزیر بڑا دانا تھا ۔ وہ بھی اُس کے پیچھے پیچھے دوڑتا چلا گیا تھا ۔ راون کو ایک سیکس کی جان لینے پر آمادہ دیکھ کر بولا ۔ مہاراج - گستاخی معاف ہو ، عورت پر ہاتھ اُٹھانا آپ کی شان کے خلاف ہے ۔ آپ دیدوں کے عالم ہیں ۔ ہمت اور دلاوری نہیں آج دنیا میں آپ کا ہمسر نہیں ۔ اپنے رتبے اور علم کا خیال کیجئے اور اس فعل سے باز آئیے ان باتوں نے راون کا غصہ ٹھنڈا کر دیا ۔ تلوار میان میں رکھ لی ۔ اور لوٹ آیا * اُسی وقت میگھناد کی عصمت آب بیوی سلوچنا نے آکر کہا ۔ مہاراج - اب کہیں زندہ رہ کر کیا کرونگی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے اُسے لے کر ستی ہو جاؤنگی .<noinclude></noinclude> s70qrzpo9zkni5mfkoldomf9tb7f51p 35035 35033 2026-06-18T05:07:53Z Jinder77 234 35035 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٧٥}} کر ڈالنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ تلوار لے کر دوڑتا ہوا اشوک باٹکا میں پہنچا ۔ سیتا جی نے اُس کے ہاتھ میں ننگی تلوارہ دیکھی تو سہم اٹھیں۔ مگر راون کا وزیر بڑا دانا تھا ۔ وہ بھی اُس کے پیچھے پیچھے دوڑتا چلا گیا تھا ۔ راون کو ایک سیکس کی جان لینے پر آمادہ دیکھ کر بولا ۔ مہاراج - گستاخی معاف ہو ، عورت پر ہاتھ اُٹھانا آپ کی شان کے خلاف ہے ۔ آپ دیدوں کے عالم ہیں ۔ ہمت اور دلاوری نہیں آج دنیا میں آپ کا ہمسر نہیں ۔ اپنے رتبے اور علم کا خیال کیجئے اور اس فعل سے باز آئیے ان باتوں نے راون کا غصہ ٹھنڈا کر دیا ۔ تلوار میان میں رکھ لی ۔ اور لوٹ آیا * اُسی وقت میگھناد کی عصمت آب بیوی سلوچنا نے آکر کہا ۔ مہاراج - اب کہیں زندہ رہ کر کیا کرونگی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے اُسے لے کر ستی ہو جاؤنگی .<noinclude></noinclude> 9u3xqnrm1qbmsg1jetbxhpw8v7c4fe2 صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/47 250 13712 35034 34949 2026-06-18T05:02:44Z BalramBodhi 60 35034 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۵}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> سبار کی حاصل کی جو مسیح مقدس نے فرمائی تھی مبارک ہوے ہیں جو دل میں بےغرور ہیں اس لئے کہ آسمان کی بادشاہت اُنہی کی ہے ان حاکموں نےاپنا حلم انصاف والا سب رعایا کو جتایا اور زمین پر حکومت کی جیسا کہ یسوع مقدس نے فرمایا تھا مبارک وہ ہیں جو حلیم ہیں اس لئے کہ زمین کے وارث ہونگے ان حاکموں نے اپنی روشنی عیسیٰ مسیح کے قول کے موجب اسی طرح رعایا کو دکھائی کہ تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے ویسی چمکے تا کہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے شکر کریں اس قسم کے حاکم اگرچہ کم تھے مگر جہاں تھے عزیز تھے. {{gap}}اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ یہ باتیں ہر ایک قوم کے لوگوں کو ناگوار تھیں مگر مسلمانوں کو بہت زیادہ گراں گذرتی تھیں اس کا سبب بہت روشن ہے کہ صدہا سال سے مسلمان ہندوستان میں بھی باعزت چلےآتے ہیں ان کی طبیعت اور جبلت میں ایک غیرت ہے دل میں لالچ روپیہ کی بہت کم ہے کسی لالچ سے عزت کا جانا نہیں چاہتے بہت تجربہ ہوا ہوگا کہ اور قوم میں جو باتیں بغیر رنج کے اُٹھا لیتے ہیں مسلمانوں کو اُس سے بھی ادنےٰ بات کا اُٹھانا نہایت مشکل ہوتا تھا۔ ہم نے مانا کہ مسلمانوں میں یہ خصلتیں بہت بُری ہی سہی مگر مجبوری ہے خدا نے جو طبیعت بنائی ہے وہ بدلی نہیں جاتی اس میں مسلمانوں کی بدبختی سہی مگر کچھ قصور نہیں یہی رنج تھے جن کے باعث تحمل عملداری کو دل چاہتا تھا سرکار کے بر خلاف خبریں سُن کر دل خوش ہوتا تھا مگر افسوس یہ ہے کہ ہماری گورنمنٹ کو مسلمانوں کی بھلائی سے اغماض نہ تھا اُن کی لیاقت اور تعلیم اُن کا ادب سب پیشِ نظر تھا مگر یہ لوگ اس سے بے خبر تھے اور ہماری گورنمنٹ کا ارادہ اور دِلی نیت حکام کے وسیلہ سے ظاہر نہیں ہوتا تھا. {{gap}}اہلِ ہند علیٰ الخصوص مسلمانوں کی ناراضی کا بڑا سبب یہ تھا کہ اعلیٰ عہد جات پر ترقی بہت کم تھی بہت ہی کم زمانہ گذرا ہے کہ یہ لوگ تمام ہندوستان </div> </div> {{Float right|متی باب ۵ درس ۳}}</br> {{Float right|متی باب ۵ درس ١٦}}</br> {{Float right|مسلمانوں کو یہ باتیں}}</br> {{Float right|زیادہ ناگوار تھیں اور}}</br> {{Float right|اس کا سبب}}</br> {{Float right|اہلِ ہند کا}}</br> {{Float right|بڑے عہدوں سے بکلیئے}}</br> {{Float right|جو ترقی کی دکانی دتھی}}<noinclude></noinclude> rfikuhml7zzj4rxsuyk0z9s0lilp6id