ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.7 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/16 250 12682 35071 35063 2026-06-19T04:27:48Z Taranpreet Goswami 90 35071 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٥|}}</noinclude>دکن کی طرف سے بیربر نام راچپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجہ کی ڈیوڑھی پر آیا دربان نے اسکا احوال معلوم کر کے راجہ سے کہا مہاراج ایک شخص ہتھیاربند چاکری کے آسرے پر آیا ہے سو دروازے پر کھڑا ہے مہاراج کی اجازت پاوے تو وہ روبرو آوے یہ سن راجہ نے فرمایا آو یہ اسے جاکر لے آیا تب راجہ نے پوچھا اے راجپوت تیرے تھین روز خرچ کو کیا دون یہ سُن کے بیربر بولا ہزار تولے سونا مجھے روز دو تو میری گذران ہو راجہ نے پوچھا تمھارے ساتھ لوگ کتنے ہین اسنے کہا کہ ایک عورت دوسرا بیٹا تیسری بیٹی چوتھا مین پانچوان ہمارے ساتھ کوئی نہیں اسکی یہ بات سن راجہ کے دربار کے لوگ منھ پھر پھیر کے ہسنے لگے پر راجہ اپنے جی مین سوچ کرنے لگا کہ بہت مال اسنے کِسواستے مانگا پھر آپ ہی اپنے دِل مین سمجھ کر کہ بہت مال دیتا ہون کِسی روز سوارت بوویگا یہ وچار کے راجہ نے بھنڈاری کو بلا کر کہا ہمارے خزانے سے ہزار تولہ سونا اِس بیربر کے تئین روز دیا کرو یہ اجازت سُن بیربر نے ہزار تولے سونا اُس دن کا لے اپنی جگہ لا حِصّے کر آدھا تو برہمنون کو بانٹا اور آدھے کے پھر دو بانٹ کر ایک بکھرہ اسمین سے اتیت بیراگی وشنو سنیاسیون کو بانٹ دیا اور باقی جو حصّہ رہا اس کا کھانا پکوا غریبون کو کھلا دیا باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا اسی طرح ہمیشہ جورو لڑکے سمیت اپنی گذران کرتا تھا لیکن شام کیوقت روز ڈھال تلوار لے راجہ کے پلنگ کی چوکی مین جا حاضِر رہتا اور راجہ جب سوتے سے چونک کر پکارتا کہ کوئی ہے تو یہی جواب دیتا کہ بیربر حاضِر ہے جو حکم ہو اسی طرح راجہ جب پکارتا تو یہی جواب دیتا پھر اسمین جو کام فرمایا سو یہی بجا لاتا اسطرح مال کی لالچ سے رات بھر ہوشیار رہتا بلکہ کھاتے پیتے سوتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد مین رہتا ریت یہ ہے کہ کوئی کسو کو بیچتا ہے تو بکتا ہی مگر نوکر نوکری کر کے اپنے تئین آپ بیچتا ہے اور جب بکا تو میطع ہوا جو پراے بس مین ہو اسے سکھ کہان مشہور ہے کیسا ہی چالاک عاقل پنڈت ہووے لیکن جسوقت اپنے مالک کے سامنے ہوتا ہے تو ڈر کے مارے گونگے کی برابر چپ ہی رہتا ہے جب تلک دور ہے چین سے ہے اسواسطے پنڈت لوگ کہتے ہین کہ نوکری کرنا لوگ سے بھی کٹھن ہے القصہ ایک روز کا ذکر ہے کہ اتفاقاً رات کے وقت مرگھٹ سے رونے کی آواز آئی راجہ سنکے پکارا کوئی حاضر ہے بیربر سنتے ہی بولا حاضر جو حکم پھر راجہ نے یون حکم کیا جہان سے رونے کی آواز آتی ہے وہان جاؤ اور اس سے سبب رونے کا پوچھ کے جلد آؤ راجہ یہ اس سے فرما دِل مین کہنے لگا کہ کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو تو وقت بے وقت اس سے کام کو کہے اگر وہ حکم اسکا بجا لاوے تو جانیے کام کا ہے اور جو انکار کر دے تو جانیے ناکارہ اسی طرح سے بھائیون اور دوستون کو بُرے وقت مین پرکھیے اور عورت کو مفلسی مین جانچیئے غرض یہ حکم پا کر اس کے رونیکی آواز کی دھن پر گیا اور راجہ بھی اسکی ہمّت دیکھنے کے لئے کالے کپڑے پہنکر پیچھے پیچھے بےمعلوم چلا کہ اسمین بیربر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> fc9e4ocy3xtrd8at4syqyoe78h9djyv صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/281 250 13703 35070 35035 2026-06-19T01:45:12Z Kaur.gurmel 74 35070 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|٢٧٥}} کر ڈالنے کے لئے تیار ہو گیا ۔ تلوار لے کر دوڑتا ہوا اشوک باٹکا میں پہنچا ۔ سیتا جی نے اُس کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھی تو سہم اٹھیں۔ مگر راون کا وزیر بڑا دانا تھا ۔ وہ بھی اُس کے پیچھے پیچھے دوڑتا چلا گیا تھا ۔ راون کو ایک بیکس کی جان لینے پر آمادہ دیکھ کر بولا ۔ مہاراج - گستاخی معاف ہو ، عورت پر ہاتھ اُٹھانا آپ کی شان کے خلاف ہے ۔ آپ ویدوں کے عالم ہیں ۔ ہمت اور دلاوری میں آج دُنیا میں آپ کا ہمسر نہیں ۔ اپنے رُتبے اور علم کا خیال کیجئے اور اس فعل سے باز آئیے ان باتوں نے راون کا غصُہ ٹھنڈا کر دیا ۔ تلوار میان میں رکھ لی ۔ اور لوٹ آیا . اُسی وقت میگھناد کی عصمت مآب بیوی سلوچنا نے آکر کہا ۔ 'مہاراج - اب میں زندہ رہ کر کیا کرونگی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے اُسے لے کر ستی ہو جاؤنگی .<noinclude></noinclude> byurfeixx1qypne7i7ccs5vbqs77pzl صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/282 250 13704 35068 34924 2026-06-18T14:19:37Z Jinder77 234 35068 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|۲۷۶}} راون نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔ بیٹی ۔ تیرے پتی کا سر تجھے اُسی وقت ملیگا جب میں دونو بھائیوں کا سرکاٹ ٹونگا صبر کہ : {{gap}}سلوچنا اپنی ساس مندودری کے پاس آئی۔ دونو ساس بہوئیں گلے مل کر خوب روئیں ۔ ب سلوچنا بولی - ماتا جی ۔ میں اب انا تھ ہو گئی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے تو سنتی ہو جاؤں۔ اب جی کہ کیا کرونگی ۔ جہاں سوامی ہیں وہیں میں بھی جاؤنگی ۔ یہ جدائی اب مجھ سے نہیں سی جاتی ، : مندودری نے بہو کو پیار کر کے کہا بیٹی اگر تم نے یہی فیصلہ کیا ہے تو مُبارک ہو۔ میگھناد کا سر اور تو کسی طرح نہ ملیگا ۔ تم خود جا کر مانگو تو البتہ مل سکتا ہے ۔ رامچندر بڑے نیک آدمی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارے سوال کو رد نہ کرینگے ۔<noinclude></noinclude> 9slyws64jfvlddb32aw7d1v0smczqmf 35069 35068 2026-06-18T14:21:24Z Jinder77 234 35069 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|۲۷۶}} راون نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔ بیٹی ۔ تیرے پتی کا سر تجھے اُسی وقت ملیگا جب میں دونو بھائیوں کا سرکاٹ ٹونگا صبر کہ : {{gap}}سلوچنا اپنی ساس مندودری کے پاس آئی۔ دونو ساس بہوئیں گلے مل کر خوب روئیں ۔ ب سلوچنا بولی - ماتا جی ۔ میں اب انا تھ ہو گئی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے تو سنتی ہو جاؤں۔ اب جی کہ کیا کرونگی ۔ جہاں سوامی ہیں وہیں میں بھی جاؤنگی ۔ یہ جدائی اب مجھ سے نہیں سی جاتی ، : {{gap}}مندودری نے بہو کو پیار کر کے کہا بیٹی اگر تم نے یہی فیصلہ کیا ہے تو مُبارک ہو۔ میگھناد کا سر اور تو کسی طرح نہ ملیگا ۔ تم خود جا کر مانگو تو البتہ مل سکتا ہے ۔ رامچندر بڑے نیک آدمی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارے سوال کو رد نہ کرینگے ۔<noinclude></noinclude> j7gxqo3i4klboam06gqkkxqswocdo1m صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/48 250 13713 35072 34951 2026-06-19T05:11:31Z BalramBodhi 60 35072 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۶}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> میں معزز تھے بڑے بڑے عہدے پاتے تھے۔ اِن کا عزم اور ان کا ارادہ اب بھی ویسا ہی تھا اُسی طرح اپنی قدر و منزلت کی ترقی چاہتے تھے اور ظاہر میں کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ ابتدائے عملداری سرکار میں جو لوگ خاندانی اور معزز تھے وے منتخب ہو کر معزز عہدے پاتے تھے رفتہ رفتہ یہ بات نہ رہی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اُن لوگوں میں چنداں لیاقت نہ تھی۔ اس لئے امتحان کا قاعدہ ہماری رائے میں کسی طرح قابلِ الزام کے نہیں اور نہ در حقیقت کسی کو اس کا رنج ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ امتحان سے عمدہ اہلکار ہاتھ آئے مگر ایسے ایسے لوگ اِن معزز عہدوں پر مقرر ہوگئے جو ہندوستانیوں کی آنکھوں میں نہایت بیقدر تھے سرٹیفکٹ ملنے میں خاندانی اور ذیعزت ہونے کا بہت کم لحاظ رہا جس قدر ہندوستانیوں کی ترقی لارڈ بنٹنک صاحب بہادر نے کی اُس سے زیادہ پھر نہیں ہوئی کچھ شک نہیں ہے کہ وہ ترقی بہ سبب قلت عہدجات کے نہایت ناکافی تھی۔ بڑے بڑے اعلیٰ حاکم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ جیسی ترقی ہندوستانیوں کی چاہئے تھی ویسی ہی نہیں ہوئی. {{gap}}اہلِ ہند کو قدیم عادت تھی کہ اپنے بادشاہوں کے دربار میں حاضر ہوتے تھے بادشاہ کی شان اور شوکت اور تجمل اور تحشم دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ ایک قاعدہ جبلتِ انسانی میں پڑا ہے کہ اپنے بادشاہ اور مالک سے ملکر دل خوش ہوتا ہے یہ بات جانتا ہے کہ یہ ہمارا بادشاہ اور ہمارا مالک ہے ہم اُس کے تابع اور رعیت ہیں۔ علی الخصوص اہل ہند کو قدیم سے اِس کی عادت پڑی ہوئی تھی جو اب مدت سے نایاب تھی۔ نواب گورنر جنرل بہادر اگرچہ دورہ میں دربار کرتے تھے مگر ہندوستانیوں کی مراد تک پورا نہ تھا۔ لارڈ اکلنڈ اور لارڈ اّلن برا صاحب نے البتہ شاہانہ دربار کئے شاید ولایت میں یہ طریقہ کچھ ناپسند ہوا ہو مگر حق یہ ہے کہ ہندوستان کے حالات کے نہایت مناسب تھا بلکہ اب بھی جیسا چاہئے تھا ویسا نہ ہوا تھا خدا ہمیشہ ہماری </div> </div> {{Float right|بادشاہانہ دربار کا}}</br> {{Float right|نہ ہونا}}</br> {{Float right|لارڈ اکلنڈ اور لارڈ}}</br> {{Float right|الن برو صاحب بہادر تے }}</br> {{Float right| جو دربار کئے وہ بہت}}</br> {{Float right|ہی مناسب تھے}}<noinclude></noinclude> 4qqop2bfhah08zg47r42gm7npqbukpf صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/49 250 13714 35073 34953 2026-06-19T05:29:22Z BalramBodhi 60 35073 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۷}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> ملکہ معظمہ وکٹوریا کا حافظ ہے خدا ہمیشہ ہمارے ناظم مملکت ہند نائبِ مناب ملکہ معظمہ اور گورنر جنرل بہادر ہندوستان کا حافظ ہے ہم کو امید ہے کہ آپ کی اَپار زو اہلِ ہند کی بے پوری ہوئے باقی نہ رہےگی. {{gap}}سچ ہے کہ حقیقی بادشاہت خدا تعالیٰ کو ہے جس نے تمام عالم کو پیدا کیا مگر للہ تعالیٰ نے اپنی حقیقی سلطنت کا نمونہ دنیا میں بادشاہوں کو پیدا کیا ہے تا کہ اُس کے بندے اس نمونہ سے اپنے حقیقی بادشاہ کو پہچان کراُس کا شکر ادا کریں۔ اس لئے بڑے بڑے حکیموں اور عقلمندوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ جیسا کہ اُس حقیقی بادشاہ کی خصلتیں داد و دہش اور بخشش اور مہربانی کی ہیں اُسی کا نمونہ ان مجازی بادشاہوں میں بھی چاہئے یہی بات ہے کہ جس کے سبب بڑے بڑے عقلمندوں نے بادشاہ کو ظلِّ اللہ ٹھہرایا ہے اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طرح خداوند تعالیٰ کی بے انتہا بخشش اپنے تمام بندوں کے ساتھ ہے اُسی طرح بادشاہوں کی بخشش اور انعام اپنی ساری رعیت کے ساتھ چاہئے اگرچہ ابتدا میں یہ بات خیال میں آتی ہے کہ ذرا ذرا سی بات میں انعام و اکرام دینا بیفائدہ خزانہ کا خالی کرنا ہے مگر یہ بات یوں نہیں بلکہ انعام اکرام سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ رعیت کو اپنے بادشاہ کی محبت بڑھتی ہے کلیہ قاعدہ ہے کہ الانسان عبید الاحسان اس لئے تمام رعیت اپنے بادشاہ کا انعام و اکرام دیکھ کر خواہ نخواہ دلی محبت پیدا کرتی ہےاور اچھی اچھی خدمت گزاریوں اور خیر خواہیوں کا حوصلہ رکھتی ہے تاریخ کی کتابوں سے ظاہر ہے کہ اگلی عملداریوں میں یہ بات بہت رائج تھی۔ ہر ہر طرح سے انعام و اکرام رعایا کو اور سرداروں کو ملتا تھا۔ بڑے بڑے قیمتی خلعت اور عمدہ عمدہ تحفہ اور نقد روپیہ اور زمین جاگیر انعام میں ملتی تھی خاندانی آدمی خطاب پاتے تھے۔ ہم چشموں میں عزت پیدا کرتے تھے۔ اُن کے دل میں بڑے بڑے حوصلے آتے تھے اور ہندوستان کی رعایا اس بات کو بہت پسند کرتی تھی بلکہ صدہا سال سے اس کے عادی ہو رہے تھے ہماری </div> </div><noinclude></noinclude> 0u6t0jl19tx4fn4rsty8xw98k5js0vs صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/50 250 13715 35066 34954 2026-06-18T14:05:27Z A826 32 35066 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{| |- |+ {{center|۴۸}} |- | {{Float right|حیرتِ اصلی سرکشی}}</br> {{Float right|ہندوستان میں ہوئی}}</br> {{Float right|اس سے زیادہ دکھائی}}</br> {{Float right|دی}} | <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> گورنمنٹ نے یہ سلسلہ بالکل دُور کر دیا تھا کسی شخص کو رعیت میں سے اِس قسم کے ظاہری انعام و اکرام کی توقع نہیں رہی تھی اور اسی باعث سےتبدلِ عملداری کو اُن کا دل چاہتا تھا یہاں تک کہ جب دِلی نوباب ایسٹ انڈیا کمپنی کے ٹھیکہ ختم ہونے اور ملکہ معظمہ کی عملداری ہونے کی خبر سنتے تھے تو خوش ہوتے تھے اگلے بادشاہوں کے عہد میں انعام و اکرام دو قسم کا ہوتا تھا۔ایک وہ جو بادشاہ اپنی عیاشی اور اپنی ناپسندیدہ خصلتوں کے پالنےمیں خرچ کرتا تھا یہ بات حقیقت ناپسندیدہ تھی اور ہندوستانی بھی اس کو ناپسند کرتے تھے بلکہ پاجیوں اور غیر مستحقوں کا انعام سنکر راضی نہ تھے۔ دوسری قسم کا انعام وہ تھا جو بادشاہ اپنے خیر خواہ نوکروں اور فتح نصیب سرداروں اپنی رعیت کے علما اور مصلما اور فقرا اور شعرا اور خانہ نشینوں اوربے رزقوں کو دیتا تھا اس قسم کے انعام کی سب خواہش رکھتے ہیں اور اُسی کے نہ ہونے سے ناراض ہیں کہ ان باتوں سے رعایا کم ہمت اور آرا طلب ہو جاتی ہے اور محنت کش اور قوتِ بازو سے روٹی کمانے والے نہیں رہتےاس لئے بادشاہ کو اس قسم کے انعام سے قطع نظر کر کر دوسری قسم کا انعام یعنی آزادی دینا بہتر ہے تاکہ اُن کو خود روٹی کمانے کی گنجایش ملے۔ یہ بات سچ ہے مگر یہ انعام اُس وقت جاری ہو سکتا ہے جب کہ رعایا آسودہ اورتربیت یافتہ ہو نہ یہ کہ وحش سیرتوں کے ناک میں سے نکیل نکال کر بے آب و دانہ جنگل میں ہانک دیں کہ خود دانہ پانی ڈھونڈ لو ان کا انجام کیا ہو گا بجز اس کےکہ یا مر جاویں گے یا وہی وحشیوں کی سی حرکتیں کرینگے جس سے ہماری مرادہندوستان کی یہ سرکشی ہے +</br> {{gap}}غصہ ایک ایسی چیز ہے کہ معاملات کی اصلیت کو آنکھ سے چھپا دیتا ہےطبیعت انتقام اور سیاست کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے سچ ہے کہ خود دارتیں ہندوستان میں ۱۸۵۷ء میں پیش آئیں اسی لائق تھیں کہ ہمارے حکام کوجس قدر غصہ آوے اور جس قدر انتقام اور سیاست کریں سب بجا ہے مگر ہندوستان </div> </div> |}<noinclude></noinclude> h15ljtweehghc7qgeadsb7bdib0da2u 35067 35066 2026-06-18T14:11:20Z A826 32 35067 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{| |- |+ {{center|۴۸}} |- | ";style="vertical-align: bottom | {{Float right|حیرتِ اصلی سرکشی}}</br> {{Float right|ہندوستان میں ہوئی}}</br> {{Float right|اس سے زیادہ دکھائی}}</br> {{Float right|دی}} | <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> گورنمنٹ نے یہ سلسلہ بالکل دُور کر دیا تھا کسی شخص کو رعیت میں سے اِس قسم کے ظاہری انعام و اکرام کی توقع نہیں رہی تھی اور اسی باعث سےتبدلِ عملداری کو اُن کا دل چاہتا تھا یہاں تک کہ جب دِلی نوباب ایسٹ انڈیا کمپنی کے ٹھیکہ ختم ہونے اور ملکہ معظمہ کی عملداری ہونے کی خبر سنتے تھے تو خوش ہوتے تھے اگلے بادشاہوں کے عہد میں انعام و اکرام دو قسم کا ہوتا تھا۔ایک وہ جو بادشاہ اپنی عیاشی اور اپنی ناپسندیدہ خصلتوں کے پالنےمیں خرچ کرتا تھا یہ بات حقیقت ناپسندیدہ تھی اور ہندوستانی بھی اس کو ناپسند کرتے تھے بلکہ پاجیوں اور غیر مستحقوں کا انعام سنکر راضی نہ تھے۔ دوسری قسم کا انعام وہ تھا جو بادشاہ اپنے خیر خواہ نوکروں اور فتح نصیب سرداروں اپنی رعیت کے علما اور مصلما اور فقرا اور شعرا اور خانہ نشینوں اوربے رزقوں کو دیتا تھا اس قسم کے انعام کی سب خواہش رکھتے ہیں اور اُسی کے نہ ہونے سے ناراض ہیں کہ ان باتوں سے رعایا کم ہمت اور آرا طلب ہو جاتی ہے اور محنت کش اور قوتِ بازو سے روٹی کمانے والے نہیں رہتےاس لئے بادشاہ کو اس قسم کے انعام سے قطع نظر کر کر دوسری قسم کا انعام یعنی آزادی دینا بہتر ہے تاکہ اُن کو خود روٹی کمانے کی گنجایش ملے۔ یہ بات سچ ہے مگر یہ انعام اُس وقت جاری ہو سکتا ہے جب کہ رعایا آسودہ اورتربیت یافتہ ہو نہ یہ کہ وحش سیرتوں کے ناک میں سے نکیل نکال کر بے آب و دانہ جنگل میں ہانک دیں کہ خود دانہ پانی ڈھونڈ لو ان کا انجام کیا ہو گا بجز اس کےکہ یا مر جاویں گے یا وہی وحشیوں کی سی حرکتیں کرینگے جس سے ہماری مرادہندوستان کی یہ سرکشی ہے +</br> {{gap}}غصہ ایک ایسی چیز ہے کہ معاملات کی اصلیت کو آنکھ سے چھپا دیتا ہےطبیعت انتقام اور سیاست کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے سچ ہے کہ خود دارتیں ہندوستان میں ۱۸۵۷ء میں پیش آئیں اسی لائق تھیں کہ ہمارے حکام کوجس قدر غصہ آوے اور جس قدر انتقام اور سیاست کریں سب بجا ہے مگر ہندوستان </div> </div> |}<noinclude></noinclude> ora0tawzgbasx66bymfez0mhs34mpsi