ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.7 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/16 250 12682 35076 35071 2026-06-20T03:08:18Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35076 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh|بیتال پچیسی|١٥|}}</noinclude>دکن کی طرف سے بیربر نام راچپوت چاکری کرنے کی آس کیے راجہ کی ڈیوڑھی پر آیا دربان نے اسکا احوال معلوم کر کے راجہ سے کہا مہاراج ایک شخص ہتھیاربند چاکری کے آسرے پر آیا ہے سو دروازے پر کھڑا ہے مہاراج کی اجازت پاوے تو وہ روبرو آوے یہ سن راجہ نے فرمایا آو یہ اسے جاکر لے آیا تب راجہ نے پوچھا اے راجپوت تیرے تھین روز خرچ کو کیا دون یہ سُن کے بیربر بولا ہزار تولے سونا مجھے روز دو تو میری گذران ہو راجہ نے پوچھا تمھارے ساتھ لوگ کتنے ہین اسنے کہا کہ ایک عورت دوسرا بیٹا تیسری بیٹی چوتھا مین پانچوان ہمارے ساتھ کوئی نہیں اسکی یہ بات سن راجہ کے دربار کے لوگ منھ پھر پھیر کے ہسنے لگے پر راجہ اپنے جی مین سوچ کرنے لگا کہ بہت مال اسنے کِسواستے مانگا پھر آپ ہی اپنے دِل مین سمجھ کر کہ بہت مال دیتا ہون کِسی روز سوارت بوویگا یہ وچار کے راجہ نے بھنڈاری کو بلا کر کہا ہمارے خزانے سے ہزار تولہ سونا اِس بیربر کے تئین روز دیا کرو یہ اجازت سُن بیربر نے ہزار تولے سونا اُس دن کا لے اپنی جگہ لا حِصّے کر آدھا تو برہمنون کو بانٹا اور آدھے کے پھر دو بانٹ کر ایک بکھرہ اسمین سے اتیت بیراگی وشنو سنیاسیون کو بانٹ دیا اور باقی جو حصّہ رہا اس کا کھانا پکوا غریبون کو کھلا دیا باقی جو کچھ رہا وہ آپ کھایا اسی طرح ہمیشہ جورو لڑکے سمیت اپنی گذران کرتا تھا لیکن شام کیوقت روز ڈھال تلوار لے راجہ کے پلنگ کی چوکی مین جا حاضِر رہتا اور راجہ جب سوتے سے چونک کر پکارتا کہ کوئی ہے تو یہی جواب دیتا کہ بیربر حاضِر ہے جو حکم ہو اسی طرح راجہ جب پکارتا تو یہی جواب دیتا پھر اسمین جو کام فرمایا سو یہی بجا لاتا اسطرح مال کی لالچ سے رات بھر ہوشیار رہتا بلکہ کھاتے پیتے سوتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے آٹھ پہر اپنے خاوند کی یاد مین رہتا ریت یہ ہے کہ کوئی کسو کو بیچتا ہے تو بکتا ہی مگر نوکر نوکری کر کے اپنے تئین آپ بیچتا ہے اور جب بکا تو میطع ہوا جو پراے بس مین ہو اسے سکھ کہان مشہور ہے کیسا ہی چالاک عاقل پنڈت ہووے لیکن جسوقت اپنے مالک کے سامنے ہوتا ہے تو ڈر کے مارے گونگے کی برابر چپ ہی رہتا ہے جب تلک دور ہے چین سے ہے اسواسطے پنڈت لوگ کہتے ہین کہ نوکری کرنا لوگ سے بھی کٹھن ہے القصہ ایک روز کا ذکر ہے کہ اتفاقاً رات کے وقت مرگھٹ سے رونے کی آواز آئی راجہ سنکے پکارا کوئی حاضر ہے بیربر سنتے ہی بولا حاضر جو حکم پھر راجہ نے یون حکم کیا جہان سے رونے کی آواز آتی ہے وہان جاؤ اور اس سے سبب رونے کا پوچھ کے جلد آؤ راجہ یہ اس سے فرما دِل مین کہنے لگا کہ کسی کو چاکر اپنا آزمانا ہو تو وقت بے وقت اس سے کام کو کہے اگر وہ حکم اسکا بجا لاوے تو جانیے کام کا ہے اور جو انکار کر دے تو جانیے ناکارہ اسی طرح سے بھائیون اور دوستون کو بُرے وقت مین پرکھیے اور عورت کو مفلسی مین جانچیئے غرض یہ حکم پا کر اس کے رونیکی آواز کی دھن پر گیا اور راجہ بھی اسکی ہمّت دیکھنے کے لئے کالے کپڑے پہنکر پیچھے پیچھے بےمعلوم چلا کہ اسمین بیربر<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> 1e9mt6b9degahz5c53o6ejb34sbxglv صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/17 250 12683 35077 31767 2026-06-20T03:27:31Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35077 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" />{{rh||١٦|بیتال پچیسی}}</noinclude>جا پہونچا اس مرگھٹ مین جہان رنڈی روتی تھی دیکھتا کیا ہے کہ ایک عورت خوبصورت سر سے پائون تلک گہنے سے لدی ہوئی ڈاہین مار مار کر روتی ہے کبھی ناچتی کبھی کودتی ہے انکھون مین آنسو ایک نہین مگر سر پیٹ ہائے ہائے کر زمین پر ٹپکنیان کھاتی ہے اسکا یہ احوال دکھ بیربر نے پوچھا تو کیون اسقدر روتی پیٹتی ہے اور تجھ پر کیا دکھ ہے وہ بولی مین راج لکشمی ہون بیربر نے کہا تو کس لئے روتی ہے پھر اسنے اپنی بیربر سے کہنی شرح کی راجہ کے راج مین شودر کرم ہوتا ہے تِیس سے اسکے گھر مین لکشمی آوےگی اور مین اسکے گھر سے جاؤن گی بعد ایک مہینے کے راجہ بہت دکھ پا کے مر جائے گا اس دُکھ سے روتی ہون اور مین نے اسکے گھر مین بہت سُکھ پایا ہے اسواسطے یہ پچھتاوا ہے اور یہ بات کسی طرح سے جھوٹ نہ ہوگی پھر بیرہر نے پوچھا کہ اسکا کچھ ایسا بھی علاج ہے کہ جس سے راجہ بچے اور سو برس جیئے وہ بولی پورب کی طرف چار کوس پر دیبی کا مندر ہے تو اس دیبی کو اپنے بیٹے کا سر اپنے ہاتھ سے کاٹے کے دے تو راجہ سو برس تک اسطرح سے راج کرے اور کسی طرح کا خلل راجہ کو نہ ہو یہ بات سنتے ہی بیربر اپنے گھر کو چلا اور راجہ بھی اسکے پیچھے ہو لیا غرض جب وہ اپنے گھر مین آیا تو اپنی جورو کو جگا کر اپنے احوال شرح وار کہا ان نے یہ احوال سُن بیٹے کو جگایا بیٹا جاگا تب اُس عورت نے کہا کہ بیٹا تمھارے سر دینے سے راجہ کا جی بچتا ہے اور راج بھی قائم رہتا ہے یہ سُن وہ بالک بولا ماتا ایک تو آپکا حکم دوسرے آقا کا کام تیسرے یہ دیوتا کے کام آوے تو اس سے اچھی کوئی بات دنیا مین نہین ہے میرے نزدیک اب اس کام مین دیر کرنی مناسب نہین ہے کہ بیٹا ہووے تو اپنے بس کا اور جسم تندرست علم سے نفع دوست ہوشیار عورت ہکم بردار جو یہ پانچ باتین آدمی کو میّسر ہون تو سُکھ کی دینے والی اور دکھ کی دور کرنیوالی ہین اگر نوکر ہےمرضی اور راجہ بخیل اور دوست کپٹی اور جورو نافرمان ہو تو یہ چار باتیں آرام کو دور کرنیوالی ہین پھر بیربر اپنی استری سے کہنے لگا جو تو اپنی خوشی سے اپنے لڑکے کو دے تو مین لیجا راجہ کے لیے دیبی کے آگے بلدان دون وہ بولی مجھے بیٹا بیٹی بھائی بندھون باپ کِسی سے کچھ کام نہین میری گت تمھین سے ہے اور دھرم شاستر مین یون بھی لکھا ہے کہ ناری نہ دان سے سدھ ہوتی ہے نہ برت سے لنگڑا لولا بہرا اندھا کانا کوڑھی کبڑا کیسا ہی اسکا شوہر ہو اسکو اسی کی خِدمت کرنے سے فائدہ ہے اگر کِسی طرح کا دنیا مین ریاضت کرے اور خاوند کا حکم نہ مانے تو دوزخ مین پڑے اسکا بیٹا بولا پتا جس آدمی سے خاوند کا کام ہووے جگ مین اسی کا جینا اچھا ہے اور اسمین دونون جہان مین بھلا ہے پھر اُسکی لڑکی بولی جو مان دیوے بس لڑکی کواور باپ پیچھے پوت کو اور راجہ لے سربس چھین تو پناہ کِسکی لے ایسا کہ وہی چارون آپس مین بچار کرکے دیبی کے مندر کو گئے راجہ بھی چھپ کے انکے پیچھے چلا جب بیربر وہان پہونچا تو مندر مین جا دیبی کی پوجا کر ہاتھ جوڑ کہنے لگا ہے دیبی میرے پتر کے بل دینے سے راجہ کی سو برس کی عمر ہووے اتنا کہ ایک کھانڈا ایسا مارا کہ لڑکے کا سر زمین پر گر پڑا بھائی کا<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> io40vet8un1zde9c1tvlb5via96mvfd صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/282 250 13704 35074 35069 2026-06-19T13:30:37Z Jinder77 234 35074 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Block center|۲۷۶}} راون نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔ بیٹی ۔ تیرے پتی کا سر تجھے اُسی وقت ملیگا جب میں دونو بھائیوں کا سرکاٹ ٹونگا صبر کہ : {{gap}}سلوچنا اپنی ساس مندودری کے پاس آئی۔ دونو ساس بہوئیں گلے مل کر خوب روئیں ۔ تب سلوچنا بولی - ماتا جی ۔ میں اب انا تھ ہو گئی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے تو سنتی ہو جاؤں۔ اب جی کہ کیا کرونگی ۔ جہاں سوامی ہیں وہیں میں بھی جاؤنگی ۔ یہ جدائی اب مجھ سے نہیں سی جاتی ، : {{gap}}مندودری نے بہو کو پیار کر کے کہا بیٹی اگر تم نے یہی فیصلہ کیا ہے تو مُبارک ہو۔ میگھناد کا سر اور تو کسی طرح نہ ملیگا ۔ تم خود جا کر مانگو تو البتہ مل سکتا ہے ۔ رامچندر بڑے نیک آدمی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارے سوال کو رد نہ کرینگے ۔<noinclude></noinclude> 0k51s8esc4i1hv7cvpvkfmok9saz4qk 35075 35074 2026-06-20T01:17:25Z Kaur.gurmel 74 /* پروف خوانی شدہ */ 35075 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>{{Block center|۲۷۶}} راون نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔ 'بیٹی ۔ تیرے پتی کا سر تجھے اُسی وقت مِلیگا جب میں دونو بھائیوں کا سرکاٹ لُونگا صبر کر. {{gap}}سلوچنا اپنی ساس مندودری کے پاس آئی۔ دونو ساس بہوئیں گلے مِل کر خوب روئیں ۔ تب سلوچنا بولی - 'ماتا جی ۔ میں اب اناتھ ہو گئی ۔ میرے پتی کا سر منگوا دیجئے تو ستی ہو جاؤں۔ اب جی کہ کیا کرونگی ۔ جہاں سوامی ہیں وہیں میں بھی جاؤنگی ۔ یہ جدائی اب مجھ سے نہیں سہی جاتی،. {{gap}}مندودری نے بہو کو پیار کر کے کہا - 'بیٹی اگر تم نے یہی فیصلہ کیا ہے تو مُبارک ہو۔ میگھناد کا سر اور تو کسی طرح نہ ملیگا ۔ تم خود جا کر مانگو تو البتہ مِل سکتا ہے ۔ رامچندر بڑے نیک آدمی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارے سوال کو رد نہ کرینگے'.<noinclude></noinclude> fyr4wdgy7kwxlpczd0htq1xpflfh6ks صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/50 250 13715 35088 35067 2026-06-20T05:15:13Z BalramBodhi 60 35088 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{| |- |+ {{center|۴۸}} |- | ";style="vertical-align: bottom | {{Float right|جس قدر اصلی سرکشی}}</br> {{Float right|ہندوستان میں ہوئی}}</br> {{Float right|اس سے زیادہ دکھائی}}</br> {{Float right|دی}} | <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> گورنمنٹ نے یہ سلسلہ بالکل دُور کر دیا تھا کسی شخص کو رعیت میں سے اِس قسم کے ظاہری انعام و اکرام کی توقع نہیں رہی تھی اور اسی باعث سے تبدلِ عملداری کو اُن کا دل چاہتا تھا یہاں تک کہ جب کبھی ازبل ایسٹ انڈیا کمپنی کے ٹھیکہ ختم ہونے اور ملکہ معظمہ کی عملداری ہونے کی خبر سنتے تھے تو خوش ہوتے تھے اگلے بادشاہوں کے عہد میں انعام و اکرام دو قسم کا ہوتا تھا۔ایک وہ جو بادشاہ اپنی عیاشی اور اپنی ناپسندیدہ خصلتوں کے پالنے میں خرچ کرتا تھا یہ بات در حقیقت ناپسندیدہ تھی اور ہندوستانی بھی اس کو ناپسند کرتے تھے بلکہ پاجیوں اور غیر مستحقوں کے انعام سے ناراض ہوتے تھے۔ دوسری قسم کا انعام وہ تھا جو بادشاہ اپنے خیر خواہ نوکروں اور فتح نصیب سرداروں اپنی رعیت کے علما اور مصلحا اور فقرا اور شعرا اور خانہ نشینوں اور بے رزقوں کو دیتا تھا اس قسم کے انعام کی سب خواہش رکھتے ہیں اور اُسی کے نہ ہونے سے ناراض ہیں کہ ان باتوں سے رعایا کم ہمت اور آرام طلب ہو جاتی ہے اور محنت کش اور قوتِ بازو سے روٹی کمانے والے نہیں رہتے اس لئے بادشاہ کو اس قسم کے انعام سے قطع نظر کر کر دوسری قسم کا انعام یعنی آزادی دینا بہتر ہے تاکہ اُن کو خود روٹی کمانے کی گنجایش ملے۔ یہ بات سچ ہے مگر یہ انعام اُس وقت جاری ہو سکتا ہے جب کہ رعایا آسودہ اور تربیت یافتہ ہو نہ یہ کہ وحوش سیرتوں کے ناک میں سے نکیل نکال کر بے آب و دانہ جنگل میں ہانک دیں کہ خود دانہ و پانی ڈھونڈ لو اُن کا انجام کیا ہوگا بجز اس کے کہ یا مر جاویںگے یا وہی وحشیوں کی سی حرکتیں کرینگے جس سے ہماری مراد ہندوستان کی یہ سرکشی ہے. {{gap}}غصہ ایک ایسی چیز ہے کہ معاملات کی اصلیت کو آنکھ سے چھپا دیتا ہے طبیعت انتقام اور سیاست کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے سچ ہے کہ خوداردتں ہندوستان میں ۱۸۵۷ء میں پیش آئیں اسی لائق تھیں کہ ہمارے حکام کو جس قدر غصہ آوے اور جس قدر انتقام اور سیاست کریں سب بجا ہے مگر ہندوستان </div> </div> |}<noinclude></noinclude> i8cz8tx7kp5r32rpkynfl2a7mbwsk5w صفحہ:Asbab-e-Baghawat-e-Hind.pdf/51 250 13716 35089 34955 2026-06-20T05:37:18Z BalramBodhi 60 35089 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Asimali2003" /></noinclude>{{center|۴۹}} <div style="border:1px solid #000; padding:3px;"> <div style="border:1px solid #000; padding:1em;"> کے حالات پر غور کرنا چاہئے کہ در حقیقت کس قدر سرکشی ہندوستان میں اصلی تھی اور کیوں اِس قدر بڑھ گئی اور کیوں اِس قدر دکھائی دی اور بدنسبب مسلمانوں کے کیوں زیادہ مفسد بعض اضلاع میں دکھائی دئے غور کرنے کی بات ہے کہ صدہا سال سے عملداریِ ہندوستان میں تزلزل تھا۔ رعایاے ہندوستان کو یہ موروثی عادت تھی کہ جب کوئی امیر یا سردار یا بادشاہ زادہ قابو یافتہ ہوا اُس کے ساتھ ہزاروں آدمی جمع ہو گئے اُس کی نوکری کو اُس کی طرف سے عاملی کو اُس کی طرف سے انتظام کو کسی طرح اپنا قصور نہیں سمجھتے تھے ہندوستان میں یہ ایک مثل مشہور ہے کہ نوکری پیشہ کا کیا قصور جس نے نوکر رکھا تنخواہ دی اُس کی نوکری کی۔ البتہ جب سردار اُٹھایا جاوے اور اُس کی جگہ دوسرا سردار قائم ہو اُس کی اطاعت نہ کرنے کو قصور سمجھتے تھے۔ ہندوستان کے امیروں اور سرداروں کا علے ال خصوصا اُن کا جو قبل عملداری سرکار ہندوستان پر متسلط تھے اور جس کے سبب ہندوستان طوالیف الملوک ہو رہا تھا۔ یہی عادت تھی کہ ملازمین سیف اور قلم سے کسی طرح کی مزاحمت نہ کرتے تھے وہی عادت تمام ہندوستان کے لوگوں کو پڑی ہوئی تھی جب ہندوستان میں مفسدوں نے سر اُٹھایا اور لوگوں کو نوکر رکھنا چاہا ہزارہا آدمی جو روٹی سے محتاج اور نوکریوں کے خواہشمند تھے جا کر نوکر ہوئے۔ سب کہتے تھے کہ ہمارا کیا قصور ہے ہم تو نوکری پیشہ ہیں عام رعایا میں سے بہت سے لوگ اُس اپنی قدیمی عادت سے کہ اب جو سردار ہے اُس کی اطاعت کریں ہم تو رعیت ہیں جو زبردست ہے اُس کے تابع ہیں باغیوں کے تابع ہو گئے۔ بہت سے اہلکارانِ سرکاری یہ سمجھکر کہ باغیوں سے ظاہر داری کر کے جان بچاویں اور جب سرکار کا تسلط ہو پھر سرکار کے تابع ہوں وہ بھی مجرم ہو گئے حالانکہ کچھ شک کا مقام نہیں ہے کہ وہ دل سے سرکار کے تابع تھے اکثر لوگوں اور اہلکاروں سے دفعتاً مجبوری خواہ نادانی خواہ بمقتضائے بشریت کوئی بات ہو گئی انہوں نے خیال کیا </div> </div><noinclude></noinclude> o5ioe9d9xanm4oe1v83lzhx1ndjcg5p صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/67 250 13767 35078 2026-06-20T03:34:18Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت ۶۵ از خواجه نظامی (۱۵) قومی لباس کی اشد ضرورت ہے ۔ چوڑی دار پائجامہ گھٹنے کو نیچے لمبان تک کا کرتہ اور حیدر آبادی دو یہ اسکے لیے لازم ہے : (۱۶) کم سونا ، سویرے اُٹھنا ۔ اگر گھر میں سواری کا انتظام ہے تو ہوا خوری کو جانا ۔ غذا وقت پر صاف...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35078 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت ۶۵ از خواجه نظامی (۱۵) قومی لباس کی اشد ضرورت ہے ۔ چوڑی دار پائجامہ گھٹنے کو نیچے لمبان تک کا کرتہ اور حیدر آبادی دو یہ اسکے لیے لازم ہے : (۱۶) کم سونا ، سویرے اُٹھنا ۔ اگر گھر میں سواری کا انتظام ہے تو ہوا خوری کو جانا ۔ غذا وقت پر صاف اور ملکی کھانا ۔ پانی فلٹر کرکے یا جوش دیکر پینیا - ہوا دار اور روشن مکان میں رہنا مکان اور اپنے کو صاف ستھرا رکھنا ۔ آب و ہوا جہاں کی خواب ہو جائے وہاں سے علیحدہ ہو جانا ہے ساتواں جواب از ام کاظم صاحب کنه گوشه محل حیدرآباد دکن ( 1 ) ہر مولود کی فطرت اسلام ہے ۔ لیکن اثرات صحبت کے نتائج مخالف ظاہر ہوتے ہیں ۔ اور تقلیدی مادہ بھی بچوں میں جیسا کچھ ہوتا ہے اُس کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے ۔ لہذا اوائل عمر سے یعنی تنظیم کے وقت سے بچے کی پرورش کرنے والوں کو چاہئے کہ بجائے فضول بک بک کے اللہ رسول کا نام لیا کریں ۔ کلے و مناجاتیں وغیرہ پڑھکر اُسکو کھلایا یا سلا یا کریں۔ تاکہ پہلا لفظ جو بچے کی زبان سے نکلے وہ اللہ ہو دو برس کی عمر سے اسی قسم کے کلمات اولیا اللہ کا ذکر<noinclude></noinclude> gnwx04po9oqgi1j0ga2lk9iaikx17qr صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/68 250 13768 35079 2026-06-20T03:34:33Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت 44 از خواجه حسن امی اور پیغمبروں کے قصے وغیرہ سنانے چاہئیں ۔ چار برس کے تبعد سے بچوں کو قرآن شریعت و اُردو مسائل پڑھانے لازم ہیں ۔ بعد نو برس کی عمر کے انگریزی وغیرہ کی تعلیم دینا مناب ہوگا * اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ والدین کو پابند ص...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35079 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت 44 از خواجه حسن امی اور پیغمبروں کے قصے وغیرہ سنانے چاہئیں ۔ چار برس کے تبعد سے بچوں کو قرآن شریعت و اُردو مسائل پڑھانے لازم ہیں ۔ بعد نو برس کی عمر کے انگریزی وغیرہ کی تعلیم دینا مناب ہوگا * اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ والدین کو پابند صوم و صلوۃ ہونا چاہیئے ۔ اس کا اثر ضرور بچوں پر ہوگا : (۲) بڑی لڑکیوں کی تعلیم و تربیت زیر نگرانی والدین گھری پر ہوئی بہتر ہے ۔ (۳) قوم کے سرغنہ اشخاص شادی وغیرہ کی تقریبات میں فضول رسمیں ترک کر کے سادہ طریقہ اختیار کریں تو سب لوگ خودہی ان کی تقلید کریں گے ؟ (۴) میاں کو اپنی حسب حیثیت بی بی کی ضرورتیں اور بجا خواہشیں پوری کرنی چاہئیں : ہمیشہ نرمی سے تشستی آمیز گفتگو کرنی لازم ہے ۔ بے ضرورت کام میں بہت جلدی کرنی مناسب نہیں تھوڑی غلطی پہ بی بی کی صبر کرنا بہتر ہے یا سمجھا دینا کافی ہے ۔ سنی ہوئی شکایتون بغیر کافی تحقیقات کے عفتہ یا بد گمانی کرنا نہیں چاہئے ۔ خانہ داری کا خرج انسان سے خرچ کے موافق دنیا اور بی بی کے رینج درجات کا ہمیشہ خیال رکھنا مناسب ہے . بی بی کو جہاں تک ممکن ہو میاں کی اطاعت و خدمت آرام و عزت کا خیال کرنا لازم ہے اور میاں کے اُن احکام کو جو خلاف<noinclude></noinclude> lzaqgnd2akh60pgsuddiy0jplgv55yx صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/69 250 13769 35080 2026-06-20T03:34:46Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت 2 از خواجہ حسن نظامی شرح نہ ہوں بخوشی مانا اور اس کی خوشی کو سب باتوں پر مقدم سمجھنا اور غصہ کی حالت میں جو بات شوہر کے اُس کا جواب نہ دنیا اور اپنے کو حقیقتاً مطلوب اور مرد کو ہر حال میں غالب سمجھنا اور اپنے گھر کی صفائی رکھنا قیام...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35080 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت 2 از خواجہ حسن نظامی شرح نہ ہوں بخوشی مانا اور اس کی خوشی کو سب باتوں پر مقدم سمجھنا اور غصہ کی حالت میں جو بات شوہر کے اُس کا جواب نہ دنیا اور اپنے کو حقیقتاً مطلوب اور مرد کو ہر حال میں غالب سمجھنا اور اپنے گھر کی صفائی رکھنا قیام اتفاق کے لیے ضروری +4 (۵) بعض مرد بے وجہ اپنی بد مزاجی سے اپنی نیک بیویوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ اِس کا علاج صبر و شکر ہے - ہمیں بہنوں سے مدد حاصل کرنا ۔ اس سے ممکن ہے کہ اور بھی زیادہ برافروختگی ہو ج (4) ہندوستان کا موجودہ پر دہ زمانہ کی شرمناک حالت سے مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ البتہ سفر کی ضرورت میں برقع پوش ہو کر چند قدم چلنا یا حفظانِ صحت کے لیے گاڑی پر نکلنا بے موقع نہیں ہے ؟ (4) نئی روشنی کی تقلید سے انکار نہیں کرنا چاہئے اور نہ تیری دستور سے نفرت ۔ ملکہ دونوں طریقوں میں سے عمدہ اور کارآمد دنتیجہ خیز باتیں چُن کر اختیار کرنی چاہئیں جو مذہب کے بھی موافق ہوں . (۸) ابتدائی عمر میں لڑکیوں کو قابل اطمیان زنانہ اسکولوں میں تعلیم دلوانا کچھ بے موقع نہیں ہے ۔ (9) عورتوں کو کچھ یونانی طب اور کچھ ڈاکٹری کی کتا ہیں پڑھانی چاہئیں ۔ یا کسی نرس سے تعلیم تیمار داری دلائی جائے<noinclude></noinclude> gqx4wg2ojz1xlreh78txxa2yftmfdnc صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/70 250 13770 35081 2026-06-20T03:35:01Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت ۶۸ از خواجہ حسن نظامی تو تیمار داری کی لیاقت آسکتی ہے ۔ (۱۰) بڑے بڑے شہروں میں کبھی کبھی کوئی جلیبہ مقرر کر کے مختلف صوبوں کی عورتوں کو دعوت دی جائے ۔ سب کے یکجا جمع ہونے سے تبدیل خیالات اور میل جول پیدا ہو سکتا ہے : (۱۱) زیادہ تر اخبا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35081 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت ۶۸ از خواجہ حسن نظامی تو تیمار داری کی لیاقت آسکتی ہے ۔ (۱۰) بڑے بڑے شہروں میں کبھی کبھی کوئی جلیبہ مقرر کر کے مختلف صوبوں کی عورتوں کو دعوت دی جائے ۔ سب کے یکجا جمع ہونے سے تبدیل خیالات اور میل جول پیدا ہو سکتا ہے : (۱۱) زیادہ تر اخبار بینی وکتب بینی اور زنانہ جلسوں میں شریک ہو کر تقریریں سننے سے تقریر کرنے کی لیاقت آسکتی ہے . (۱۲) اگر ہندوستان کو خود مختاری حاصل ہو تو عورتیں بھی رہے دینے کا حق طلب کر سکتی ہیں ۔ (۱۳) دولت مند لوگوں پر زکواۃ فرض ہے اور اس کا بہترین مصرف غریب لڑکیوں کی تعلیم ہے (۱۴۲) عورتوں کی ضروری تعلیم جبریہ ہونی چاہئے : (۱۵) بے شک قومی لباس کی ضرورت ہے۔ تنگ مُہری کا پائجامہ ، لمبا کرتہ بڑا دوپٹہ بالعموم قومی لباس ہونا چاہیئے ؟ کتخدا لڑکیاں ساڑی اور جاکٹ کا بھی استعمال کر سکتی ہیں : (۱۶) حفظان صحت کے لیے عورتوں کو جسمانی محنت کو کام اختیار کرنے چاہئیں ۔ خانہ باغ یا گھر کے اندر جانا پھر گھر کا کام کاج کرنا ضروریات سے ہے ۔<noinclude></noinclude> 26ngaz295xke4y9ob782cb36aarivpw صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/71 250 13771 35082 2026-06-20T03:35:30Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت 49 از خواجه نظامی آٹھواں جواب از بی جے بیگم صاحبہ سول لائن آگرہ (۱) بیجوں کی مذہبی تعلیم دین برس کی عمر سے قبل والدین اپنی نقل پر تجوں کو دیں ۔ اس لیے کہ بچپن کی تعلیم کو نمونہ و نقل سے خصوصیت ہے ۔ جب والدین کو بچے روزہ رکھتے نماز پڑھت...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35082 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت 49 از خواجه نظامی آٹھواں جواب از بی جے بیگم صاحبہ سول لائن آگرہ (۱) بیجوں کی مذہبی تعلیم دین برس کی عمر سے قبل والدین اپنی نقل پر تجوں کو دیں ۔ اس لیے کہ بچپن کی تعلیم کو نمونہ و نقل سے خصوصیت ہے ۔ جب والدین کو بچے روزہ رکھتے نماز پڑھتے ، تلاوت کرتے اور طہارت و صفائی کرتے دیکھینگے تو یہ تمام والدین کے نیک حصائل بچوں کے دل پر عملی تعلیم کا اثر پیدا کرینگے ۔ اور تھوڑی سی ترغیب و شوق دلانے پر چھوٹے چھوٹے بچوں کی نقل اصل میں تبدیل ہو جائینگی . (۲) لڑکیوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ بشرط امکان والدین لڑکیوں کو خود یا کسی اپنے عزیز یا ایسے اُستاد کی زیر نگرانی رکھیں جو خدا ترس اور صادق الودود ہو اور یہ لڑکیاں تعلیم کے واسطے ایسی لڑکیوں میں شامل کیجا ہیں جن کو خود پڑھنے لکھنے کا شوق ہو اور جن کی تعلیم جاری ہو اور بالکل ابتدائی تعلیم بچوں کو کھیل کھلا کر دی جائے ۔ جسکو انگریزی میں کنڈرگارٹن سسٹم کہتے ہیں : (۲) شادی و غمی کی فضول خرچیاں جب تک کہ مذہبی تعلیم کافی نہ ہو کم نہیں ہو سکتی ہیں۔ لہذا اگر تمام فقہ و حدیث پر مجبور نہ کر دیا جان تو کم سے کم ایک ایسی جامع اور مختصر نہ ہبی تعلیم ضرور دی جائے جو<noinclude></noinclude> hyozzi6597jq3a924q92vobr1qc9viu صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/72 250 13772 35083 2026-06-20T03:35:43Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت 6. از خواجہ حسن نظامی دنیادی امور کے بھی متعلق ہو بلکہ مدارس اسلامیہ میں اس کا ایک کورس مقرر کر کے خصوصیت کے ساتھ اِس کورس میں کامیاب طلبہ کے واسطے انعام مقرر کیا جائے جس طرح کہ مدارس عیسائی میں ایک خاص انعام مذہبی کورس میں کامیابی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35083 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت 6. از خواجہ حسن نظامی دنیادی امور کے بھی متعلق ہو بلکہ مدارس اسلامیہ میں اس کا ایک کورس مقرر کر کے خصوصیت کے ساتھ اِس کورس میں کامیاب طلبہ کے واسطے انعام مقرر کیا جائے جس طرح کہ مدارس عیسائی میں ایک خاص انعام مذہبی کورس میں کامیابی پر چھوٹے چھوٹے اسکولوں میں بھی ایک مطلا اور خوبصورت سارٹیفکٹ ضرور ہی دیگر طلباء کا دل خوش کیا جاتا ہے ؟ (۴) میاں بیوی میں محبت و سلوک قائم کرنے کی تدبیر اپنا کرنا بڑی ٹیڑھی کھیر ہے کیونکہ مشاہدہ و تجربہ سے ایسا ثابت ہوچکا ہے کہ با وجود بڑے بڑے معاہدات باہمی اور سلوک و محبت انتہائی کے بھی نفاق زوجین نے خراب نتائج پیدا کیے ہیں ۔ میری رائے میں یہ نہایت سخت بد اخلاقی ہے اور جب تک فریقین تعلیم یافتہ نہ ہوں محبت و سلوک باہمی قائم رہنا محال ہے ۔ تعلیم سے میری یہ مراد نہیں ہے کہ میاں گریجویٹ ہو گئے اور بیوی انٹرنس پاس مل گئیں ۔ ایک صاحب دوسری میم اور دونوں آزادی کے دلدادہ - بلکہ تعلیم سے میری مراد یہ ہے کہ میاں کو علمہ ادب و اخلاق کے بعد حقوق زوجہ کے امتیاز اور اُن کی پابندی کی بھی تعلیم دی گئی ہو اور بیوی کو بھی ضروری " مذہبی ادب و اخلاق کے بعد حقوق شوہر وغیرہ کی تعلیم پانے کا انصرام کیا گیا ہو اور شادی سے قبل جبکہ فریقین میں امتیاز حسن وضیح کی کافی عقل ملحاظ عمر کے پیدا ہو گئی ہو اور نکاح کے وقت حقیقتاً ایجاب و قبول فریقین بطیب خاطر ہو سکے نہ کہ رسمی بیاس<noinclude></noinclude> 0xajaajbsshjex4ciwbaqa36wibd1zk صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/73 250 13773 35084 2026-06-20T03:36:03Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت خاطر والدین یا سرپرست : از خواجه سن نظامی (۵) بعض مرد اپنی بیو یوں پڑھنکم کرتے ہیں ۔ یہ سوال پنیر کی بات ہے ۔ میرے مشاہدے میں یہ واقع ہوا ہے کہ بعض سوئی میں پر ظلم کر رہی ہے ۔ پس محصن دونوں میں سے کسی ایک پر اطلاقِ ظلم نہیں ہو سکتا ۔ می...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35084 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت خاطر والدین یا سرپرست : از خواجه سن نظامی (۵) بعض مرد اپنی بیو یوں پڑھنکم کرتے ہیں ۔ یہ سوال پنیر کی بات ہے ۔ میرے مشاہدے میں یہ واقع ہوا ہے کہ بعض سوئی میں پر ظلم کر رہی ہے ۔ پس محصن دونوں میں سے کسی ایک پر اطلاقِ ظلم نہیں ہو سکتا ۔ میری رائے میں مستورات کی مدد ظلم سے بچانے میں حسب ذیل تدابیر سے کی جا سکتی ہے :- اول یہ کہ اگر بیوی خدمات اور حقوق شوہر سے جہالت کے سبب سے آگاہ نہیں ہے اور اِس وجہ سے مورد عتاب شوہر ہے تو اُس کو تعلیم دیگر ضروری تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے اور اگر شوہر حقیقتاً ظالم اور جاہل ہے تو اتفاق رائی کر کے اور اپنی حفاظت میں لیکر شوہر سے احکامِ شرعی کو مطابق طلاق حاصل کرالی جائے : ظاہر ہے کہ ظلم ہمیشہ خفیہ طور پر کیا جاتا ہے مگر اِس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ آخر کار مسلم کی ناؤ یار نہیں لگتی اور وہ ضرور ظاہر ہو جاتا ہے ۔ اگر کسی پر حقیقتاً ظلم ہو اور اُسکا مستند بند رکھنے کی انتہائی کوشش کی جائے تو اُس مظلومیہ کو یہ چاہیے کہ کسی موقع سے کسی اپنے طرفدار سے مہذب الفاظ میں ایک مضمون تہذیب نسواں میں شائع کرا کے امداد طلب کرے ۔ مگر سب سے پہلے یہ شرط ہے کہ ایک متفقہ جماعت مستورات کی تجویز ہو جس کی سکریٹری بننا میں خود پسند کرتی ہوں اور ایک کافی چندہ دینے پر آمادہ ہوں۔ تمام اراکین مجمات مذکور<noinclude></noinclude> 4j51s4ctg5ovk65xkesf8m15my5b2dj صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/74 250 13774 35085 2026-06-20T03:36:18Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت 67 از خواجہ حسن نظامی خود چندہ دیں اور دوسری بہنیں بھی اِس امداد میں شریک ہوں اور اس کمیٹی کا نام جماعت مستورات مظلومہ اسلامیہ رکھا جائے اور بیرونی یا عدالتی کارروائی کے واسطے ایک قابل مرد قانون جاننے والا جو حدیث فقہ سے بھی واقفی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35085 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت 67 از خواجہ حسن نظامی خود چندہ دیں اور دوسری بہنیں بھی اِس امداد میں شریک ہوں اور اس کمیٹی کا نام جماعت مستورات مظلومہ اسلامیہ رکھا جائے اور بیرونی یا عدالتی کارروائی کے واسطے ایک قابل مرد قانون جاننے والا جو حدیث فقہ سے بھی واقفیت رکھتا ہو بطریق مختار عام مقرر کیا جاوے۔ جس کا انتظام میرے دفتہ ہو گا اس کمیٹی کے چندہ کی کیشیر اور پریزیڈنٹ محمود بیگم صاحبہ علیگر یا حسب تجویز اُن کے کوئی دوسری بی بی مقرر کی جائیں ۔ متقدم کا فیصلہ مقام وقوعہ کے عالم یا مفتی اور خواتین قابل کی شرعی اور قانونی رائے سے کیا جایا کرے جس میں ہمارا مختار عام بحث اور شہادت کو با قاعدہ سماعت کر کے مفتی یا عالم کے سامنے اور ہماری جماعت ثالث کے سامنے فیصلہ کے واسطے پیش کرتا رہیگا : (4) مہندوستان کی موجودہ حالت پرده خلاف شریعت اُس طرح ہرگز قابل اصلاح نہیں ہے جس طرح بعض نئے تعلیمیافتہ حضرات اپنی بیویوں کی خوبصورتی کو کمپیٹیشن (مقابلہ) کے شوق میں انگریزی سسٹم (طریقہ) پر صحت بخش ہوا کھلانی کے حیلہ سے ایمان و اسلام کے رُکن اعظم حیا کو فخریہ مشربان کر کے سیداکبر حسین صاحب حج کی مہذب و منظوم لعنت کے مستوجب قرار دیے جاتے ہیں : (۷) اگر زمانہ کی رفتار ضروریات کے موافق نئی روشنی کے جائز اصول کی تقلید کرے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ یا کوئی<noinclude></noinclude> iw11nn6yymxhecbdbc8l4iby0lptsbe صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/75 250 13775 35086 2026-06-20T03:36:55Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت از خواجه جس نظامی قدیمی ناقص دستور جوازاً منسوخ کر دیا جائے تو کوئی ہرج نہیں * (۸) مدارس میں لڑکیوں کو بھیج کر تعلیم دلوانا اس شرط پر بہتر ہے کہ مدرسہ میں احتیاط اور ضروریات کے ہر پہلو سے انتظام کافی اور قابل اطمینان ہو اور ملحاظ خا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35086 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت از خواجه جس نظامی قدیمی ناقص دستور جوازاً منسوخ کر دیا جائے تو کوئی ہرج نہیں * (۸) مدارس میں لڑکیوں کو بھیج کر تعلیم دلوانا اس شرط پر بہتر ہے کہ مدرسہ میں احتیاط اور ضروریات کے ہر پہلو سے انتظام کافی اور قابل اطمینان ہو اور ملحاظ خامی عقل لڑکیوں کے اُن کے وپر مذہب اور اسلامی اخلاق کے خلاف کسی امر کے پیدا کیے جانے کا احتمال نہ ہو یا گھر میں مذہبی تعلیم دینے کے بعد جب لڑکیوں کا عقیدہ پختہ ہو جائے اور اُن کو اپنے نیک و بد کا خود امتیاز ہو جائے تو ضروری احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوے مدرسہ میں بھیجنا کوئی معیوب امر نہیں ہے : (9) زنانہ تیمار داری کے اصول جدید کے بموجب مستورات کا تعلیم پانا اُس وقت تک مشکل ہے جب تک زنانه مدارس میں ایک کلاس اِس ضروری تعلیم کا علیحدہ نہ کھولا جائے " (۱۰) متعدد مرتبہ مجھکو چند بڑی بڑی مستورات کی میٹنگ میں شریک ہونے کا اتفاق پڑا ہر مرتبہ میں نے بچشم خود دیکھا کہ ہماری بعض خاص اسلامی بہنیں جن کو صرف ایک جوڑ لائی کڑے پہننے کا ہی حق حاصل ہے ۔ اُن کو غریب بہن کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے میں بھی عار معلوم ہوتی تھی ۔ اور مسٹر فلاں - س فلاں خاں صاحب اُمرا کی بیویاں ، بہنیں ، بھانجیاں جو جواہرا پہنکر آئی تھیں اور اُن میں سے بعض بلکہ اکثر ایسی تھیں جن کو دولت علم نصیب نہ ہونے کے سبب سے یہ کہنا جائز ہوگا کہ وہ کنکروں پتھروں سے لدی ہوئی تھیں۔ اُن کے عزو رابر<noinclude></noinclude> 1ixxntu6vaqkltq1y3s6gkvgk74tf0l صفحہ:Biwi-ki-tarbiyat-khwaja-hasan-nizami-ebooks.pdf/76 250 13776 35087 2026-06-20T03:37:10Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”بیوی کی تربیت ۷۴ از خواجه سن نظامی تکبیر کا تو عالم ہی نرالا تھا ۔ اس قصہ سے میرا مطلب یہ ہے کہ ایک طلبہ میں تو میل جول اور اتحاد کا یہ عالم ہے کہ غریب بہنوں کی آنکھوں دیکھی مروت تک نہ کی جائے تو بھلا کیا امید کی جاسکتی ہے کہ بعید ترین صوبجات میں م...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35087 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>بیوی کی تربیت ۷۴ از خواجه سن نظامی تکبیر کا تو عالم ہی نرالا تھا ۔ اس قصہ سے میرا مطلب یہ ہے کہ ایک طلبہ میں تو میل جول اور اتحاد کا یہ عالم ہے کہ غریب بہنوں کی آنکھوں دیکھی مروت تک نہ کی جائے تو بھلا کیا امید کی جاسکتی ہے کہ بعید ترین صوبجات میں مستورات کے باہمی اتحاد کی تدابیر پر خامہ فرسائی کرنے سے کوئی سفید نتیجہ پیدا ہو سکے گا ہے (۱۱) پہلے گھر میں معمولی مضامین کو مختصر لکھی ہوئی عبارت میں بآواز بلند پڑھوا کر سننا پھر متعلمہ کے دل سے مضمون مینوا کر بآواز سننا۔ اور اس طرح جب گھر کے آدمیوں میں تعلیم پاچکے تو کسی چھوٹی مجلس میں تھوڑا سا تحریری مضمون ذاتی پڑھنا اور اُسے چھپوا دینا ۔ اسی طرح آئیندہ ترقی کرتے کرتے عورت ایک قابل اسپیکر یا نامہ نگار (بشرطیکہ تعلیم میں بھی ترقی کرتی رہے تو بن سکتی ہے ۔ (۱۳) جس طرح دیگر ممالک کی خود مختار حکومت میں مقومات کو ملحاظ اُن کی قابلیت کے حقوق حاصل ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ حکومت خو اختیاری میں ہندوستان کی مستورات کو اُن کی توقع نہ ہو (۱۳) غریب اور محتاج لڑکیوں کی تعلیم کا جس قدر احسن ترین انتظام گورنمنٹ نے کیا ہے اُس سے بہتر تو شاید نہیں ہو سکتا ہے لیکن تمام ہندوستان کے صاحب مقدرت مہند و ستانی تقبیل ترین چندہ سے بھی ایک عمدہ انتظام کر سکتے ہیں ۔ اور جس طرح علی گوند<noinclude></noinclude> jmla6z9lvaplr8fn24n3mvt2du6rnxk اشاریہ:1904 Bachaoun-Ka-Akhbar urdu.pdf 252 13777 35090 2026-06-20T10:18:15Z Asimali2003 224 ”“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35090 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title=بچوں کا اخبار |Language=ur |Volume= |Author=Mahboob Alam |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher=The Muqannin Press |Address=Hyderabad |Year=1904 |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=pdf |Image=2 |Progress=C |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist 1="_" 2="Cover" 3="_" 4="الف" 5="ب" 6="3" 7to37="normal" 38="33" 39to53="normal" 54="_" 55="Cover" 58="Cover" 108="_" 109="cover" 113="4" 56to57="_" 59to60="_" 110to111="_" 162to163="-" 164="cover" 166="1" 165="_" 218to220="_"/> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header= |Footer= |tmplver= }} flgmsyzwm5llrzs2qt3b84dlkt2obob 35091 35090 2026-06-20T11:01:32Z Asimali2003 224 35091 proofread-index text/x-wiki {{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template |Type=book |Title=بچوں کا اخبار |Language=ur |Volume= |Author=Mahboob Alam |Translator= |Editor= |Illustrator= |School= |Publisher=The Muqannin Press |Address=Hyderabad |Year=1904 |Key= |ISBN= |OCLC= |LCCN= |BNF_ARK= |ARC= |DOI= |Source=pdf |Image=2 |Progress=C |Transclusion=no |Validation_date= |Pages=<pagelist 1="_" 2="Cover" 3="_" 4="الف" 5="ب" 6="3" 7to37="normal" 38="33" 39to53="normal" 54="_" 55="50" 58="Cover" 108="_" 109="cover" 113="4" 56to57="_" 59to60="_" 110to111="_" 162to163="-" 164="cover" 166="1" 165="_" 218to220="_" 61="2" 112="3" 167="2" /> |Volumes= |Remarks= |Width= |Header= |Footer= |tmplver= }} 0opovydhu73of5ka53nmag0xt1ae6sd