ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.15
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/7
250
388
35695
1616
2026-08-15T06:42:35Z
Asimali2003
224
35695
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Mbee-wiki" />{{rh||۱|}}</noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|{{x-larger|'''طوطا کہانی باتصویر'''}}}}
{{center|{{larger|بسم الله الرحمان الرحيم}}}}
احسان اُس خدا کا کہ جس نے دریائے سخن کو اپنے ابر کرم سے گو ہرِ معنی بخشا اور زبان کو واسطے اپنی حمد کے گویا کیا اور پیغمبر آخرالزہ ان کو ہم گنہگاروں کی شفاعت کیواسطے رحمۃ اللعالمین پیدا کیا کہ جسکے سبب سے ارض و سما نے قیام پا یا۔ حسن وہ الحق کہ ایسا ہی معبود ہے۔ قلم جو لکہے اس سے افزود ہے۔ پیمبر کو بھیجا ہمارے لۓ۔ وصی اور امام اُس نے پیدا کۓ۔ سمجهوں کا وہی دین و ایمان ہے۔ یہ میں دل تمام اور وہی جان ہے۔ ترو تازہ ہے اُس سے گلزار خلق۔ وہ ابر کرم ہے ہوادار خلق، اگر چہ وہ بیفکر و غیور ہے۔ دلے پر ورش سب کی منظور ہے، کسی سے برائے نہ کچھ کام جان۔ جو وہ مہربان ہو تو کل مہربان۔ اگر چہ یہاں کیا ہے اور کیا نہیں۔ پر اُس بن تو کوئی کسی کا نہیں، یہ سیّد حيدر بخش متخلص حیدری شاہجہان آبادی تعلیم یافته مجلس خاص نواب علی ابراہیم خان بہادر مرحوم شاگر و غلام حسین خان غازی پوری دست گر فتہ صاحب عالیجناب سخندان آبرو بخش سخنوران معدن مروت چشمۃ فتوت دریائے جود و کرم منبع علم و حلم صاحب والاشان جان گمگرٹ صاحب بہادر دلم اقبالہ، کا ہے۔ اگر چہ تھوڑا بہت ربط موافق اپنے حوصلے کے عبارت فارسی میں بھی رکھتا ہے لیکن بموجب فرمائیش صاحب موصوف کے ۱٢١٥ ہجری مطابق ١٨٠١ عسیوی کے حکومت میں سرگرده امیران جہان حامی غریبان و ہیکسان زبدۀ نؤعینان عظیم الشان مشیر خاص شاه کیوان بارگاهِ انگلستان مارکولیس ولزلی گورنر جنرل بہادر دام اقبالہ کی محمد قادری کے طوطی نامے کا جس کا ماخذ طوطی نامہ ضیاء الدین نبخشی ہے۔ زبان ہندی میں موافق محاورہ اردوۓ معلےٰ کے نشر میں موافق عبارت سلیس و خوب و الفاظ رمگین و مرغوب سے ترجمہ کیا۔ اور نام اس کا طوطا کہانی رکھا۔ اصاحب نو آموزوں کی فہم میں جلد آوے۔ اور پہچان ہر ایک اہلِ سخن سے امید رکھتا ہے۔
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
4gwt7ezvzj0gbsujfejfdl9jkknzm9l
35696
35695
2026-08-15T06:43:11Z
Asimali2003
224
35696
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Mbee-wiki" />{{rh||۱|}}</noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|{{xx-larger|'''طوطا کہانی باتصویر'''}}}}
{{center|{{larger|بسم الله الرحمان الرحيم}}}}
احسان اُس خدا کا کہ جس نے دریائے سخن کو اپنے ابر کرم سے گو ہرِ معنی بخشا اور زبان کو واسطے اپنی حمد کے گویا کیا اور پیغمبر آخرالزہ ان کو ہم گنہگاروں کی شفاعت کیواسطے رحمۃ اللعالمین پیدا کیا کہ جسکے سبب سے ارض و سما نے قیام پا یا۔ حسن وہ الحق کہ ایسا ہی معبود ہے۔ قلم جو لکہے اس سے افزود ہے۔ پیمبر کو بھیجا ہمارے لۓ۔ وصی اور امام اُس نے پیدا کۓ۔ سمجهوں کا وہی دین و ایمان ہے۔ یہ میں دل تمام اور وہی جان ہے۔ ترو تازہ ہے اُس سے گلزار خلق۔ وہ ابر کرم ہے ہوادار خلق، اگر چہ وہ بیفکر و غیور ہے۔ دلے پر ورش سب کی منظور ہے، کسی سے برائے نہ کچھ کام جان۔ جو وہ مہربان ہو تو کل مہربان۔ اگر چہ یہاں کیا ہے اور کیا نہیں۔ پر اُس بن تو کوئی کسی کا نہیں، یہ سیّد حيدر بخش متخلص حیدری شاہجہان آبادی تعلیم یافته مجلس خاص نواب علی ابراہیم خان بہادر مرحوم شاگر و غلام حسین خان غازی پوری دست گر فتہ صاحب عالیجناب سخندان آبرو بخش سخنوران معدن مروت چشمۃ فتوت دریائے جود و کرم منبع علم و حلم صاحب والاشان جان گمگرٹ صاحب بہادر دلم اقبالہ، کا ہے۔ اگر چہ تھوڑا بہت ربط موافق اپنے حوصلے کے عبارت فارسی میں بھی رکھتا ہے لیکن بموجب فرمائیش صاحب موصوف کے ۱٢١٥ ہجری مطابق ١٨٠١ عسیوی کے حکومت میں سرگرده امیران جہان حامی غریبان و ہیکسان زبدۀ نؤعینان عظیم الشان مشیر خاص شاه کیوان بارگاهِ انگلستان مارکولیس ولزلی گورنر جنرل بہادر دام اقبالہ کی محمد قادری کے طوطی نامے کا جس کا ماخذ طوطی نامہ ضیاء الدین نبخشی ہے۔ زبان ہندی میں موافق محاورہ اردوۓ معلےٰ کے نشر میں موافق عبارت سلیس و خوب و الفاظ رمگین و مرغوب سے ترجمہ کیا۔ اور نام اس کا طوطا کہانی رکھا۔ اصاحب نو آموزوں کی فہم میں جلد آوے۔ اور پہچان ہر ایک اہلِ سخن سے امید رکھتا ہے۔
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
88uho09wn8o9pvphzdm2y16urihzxyz
35698
35696
2026-08-15T06:59:31Z
Asimali2003
224
/* تصدیق شدہ */
35698
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />{{rh||۱|}}</noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
{{center|{{xx-larger|'''طوطا کہانی باتصویر'''}}}}
{{center|{{larger|بسم الله الرحمان الرحيم}}}}
احسان اُس خدا کا کہ جس نے دریائے سخن کو اپنے ابر کرم سے گو ہرِ معنی بخشا اور زبان کو واسطے اپنی حمد کے گویا کیا اور پیغمبر آخرالزہ ان کو ہم گنہگاروں کی شفاعت کیواسطے رحمۃ اللعالمین پیدا کیا کہ جسکے سبب سے ارض و سما نے قیام پا یا۔ حسن وہ الحق کہ ایسا ہی معبود ہے۔ قلم جو لکہے اس سے افزود ہے۔ پیمبر کو بھیجا ہمارے لۓ۔ وصی اور امام اُس نے پیدا کۓ۔ سمجهوں کا وہی دین و ایمان ہے۔ یہ میں دل تمام اور وہی جان ہے۔ ترو تازہ ہے اُس سے گلزار خلق۔ وہ ابر کرم ہے ہوادار خلق، اگر چہ وہ بیفکر و غیور ہے۔ دلے پر ورش سب کی منظور ہے، کسی سے برائے نہ کچھ کام جان۔ جو وہ مہربان ہو تو کل مہربان۔ اگر چہ یہاں کیا ہے اور کیا نہیں۔ پر اُس بن تو کوئی کسی کا نہیں، یہ سیّد حيدر بخش متخلص حیدری شاہجہان آبادی تعلیم یافته مجلس خاص نواب علی ابراہیم خان بہادر مرحوم شاگر و غلام حسین خان غازی پوری دست گر فتہ صاحب عالیجناب سخندان آبرو بخش سخنوران معدن مروت چشمۃ فتوت دریائے جود و کرم منبع علم و حلم صاحب والاشان جان گمگرٹ صاحب بہادر دلم اقبالہ، کا ہے۔ اگر چہ تھوڑا بہت ربط موافق اپنے حوصلے کے عبارت فارسی میں بھی رکھتا ہے لیکن بموجب فرمائیش صاحب موصوف کے ۱٢١٥ ہجری مطابق ١٨٠١ عسیوی کے حکومت میں سرگرده امیران جہان حامی غریبان و ہیکسان زبدۀ نؤعینان عظیم الشان مشیر خاص شاه کیوان بارگاهِ انگلستان مارکولیس ولزلی گورنر جنرل بہادر دام اقبالہ کی محمد قادری کے طوطی نامے کا جس کا ماخذ طوطی نامہ ضیاء الدین نبخشی ہے۔ زبان ہندی میں موافق محاورہ اردوۓ معلےٰ کے نشر میں موافق عبارت سلیس و خوب و الفاظ رمگین و مرغوب سے ترجمہ کیا۔ اور نام اس کا طوطا کہانی رکھا۔ اصاحب نو آموزوں کی فہم میں جلد آوے۔ اور پہچان ہر ایک اہلِ سخن سے امید رکھتا ہے۔
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
g4cuo0h5ugj7rar6tjy65pwmsn9l8lq
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/8
250
389
35697
1626
2026-08-15T06:59:02Z
Asimali2003
224
/* تصدیق شدہ */
35697
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" /></noinclude><div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
کہ جو کوئی چشم غور سے اس ترجمہ کو ملاحظہ کرے اور غلطی معنی یا نا مربوطی الفاظ اس کی نظر پڑے۔ تو وہ شمشیر علیم سے انند ہر دشمن کے اس کو صفحہ ہستی سے اٹا دے ابیات جو بہر صلاح اس پہ رکھے قلم۔ آتی نہ دینا کبھی اس کو غم۔ آللہی بحق امام انام۔ یہ جلدی ہو مجھ سے کہانی تمام۔ آمدم بر سر مطلب۔ بننا چاہیئے کہ کیا کیا خون جگر کھایا ہے۔ اور کیسا کیسا مضمون باندہا ہے۔
''''''پہلی داستان میمون کے پیدا ہونے اور خبستہ کے ساتھ بیا ہے جانے کی''''''
اگلے دو لتمندوں میں سے احمد سلطان نام ایک شخص بڑا مالدار اور صاحب فوج تھا لاکھ گھوڑے اور پندرہ سو زنجیر فیل اور نو سو قطار بار برداری اونٹوں کی اُس کے در دولت پر حاضر رہتے تھے
پر اُس کا لڑکا بالا کوئی نہ تھا کہ گھر اپنے باپ کا روشن کرتا۔ حسن اسی بات کا اُس کے دل پر تھا۔ داغ نہ رکھتا وہ اپنے گھر کا چراغ ۔ اسی واسطے صبح و شام خدمت میں خدا پرستوں کی جاتا اور اُن سے درخواست دعا کی کرتا غرض تھوڑے دنوں میں خالق زمین و آسمان نے ایک بیٹا مہ جبین خوبصورت مہر چہر اُسے بخشا۔ احمد سلطان اسی خوشی سے گل کی مانند کھلا اور نام اُس کا میموں رکھا۔ کئی ہزار روپے فقیروں کو بخش کر سجدہ شکر بجالایا اور یہ بہت پڑھنے لگا۔ حسن تجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار۔ نہ ہو تجھ سے مایوس امیدوار۔ دوگانہ غرض شکر کا کراط۔ تہیہ کیا شادی جشن کا۔ اور تین مہینے تک شہر کے امیروں وزیروں دانایوں فاضلوں اُستادوں کی ضیافتیں کیں۔ کشتیاں بعضوں کے آگے کہیں اور اکثروں کو خلعت بھاری بھاری دئے۔ جس وقت وہ لڑکا سات برس کا ہوا واسطے تربیت کے لیکن استناد وانا کامل کو سونپا۔ حسن معلم اتالیق ونشی ادیبہ ہر ایک فن کے اُستاد بیٹھے قریب کیا قاعدے
سے شروع کلام ، پڑھانے لگے علم اس کو تمام ، اور کتنے دنوں میں الف بے تے سے لیکر گلستان اور انشائے ہر کرن و جامع القوانين و ابوالفضل یوسفی در قعات جامی تک پڑھا بلکہ علم عربی کو بھی تحصیل کیا حسن دیا تھا بس حق نے ذہن رسا، کئی سال میں علم سب پڑھ چکا، معافی و منطق بیان و ادب، پڑ ہے اُس نے منقول و معقول سب، خبردار حکمت کے مضمون سے ، غرض جو پڑھا اُس نے قانون سے، اور قاعدہ نشست و به خاست مجلس بادشاہی کا طریقہ عرض و معروض کا اسنے سیکھا پر یہ ہے کہ بعض فنون میں باپ پر بھی سبقت لیگیا۔ جب باپ نے دیکہا کہ جوان ہوا تب ایک عورت صاحب جمال گل اندام خسته نام کیساتھ بیاہ کردیا دونوں اپسمیں عیش و عشرت کرنے لگے۔ اور کسی وقت جدا ہو تے۔ غرض یہا تک شیفتہ و فریفتہ ہوئے کہ عاشقی و حقوقی کے درجے سے گزر گئے۔ اتفاق احمد شہزادہ گھوڈے پر سوار ہو کر بازار
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
1wu602kwi6ygf3x4h7ktv691y7ut6jc
35699
35697
2026-08-15T07:03:57Z
Asimali2003
224
35699
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" /></noinclude>{{right|طوطا کہانی}} {{center|٢}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
کہ جو کوئی چشم غور سے اس ترجمہ کو ملاحظہ کرے اور غلطی معنی یا نا مربوطی الفاظ اس کی نظر پڑے۔ تو وہ شمشیر علیم سے انند ہر دشمن کے اس کو صفحہ ہستی سے اٹا دے ابیات جو بہر صلاح اس پہ رکھے قلم۔ آتی نہ دینا کبھی اس کو غم۔ آللہی بحق امام انام۔ یہ جلدی ہو مجھ سے کہانی تمام۔ آمدم بر سر مطلب۔ بننا چاہیئے کہ کیا کیا خون جگر کھایا ہے۔ اور کیسا کیسا مضمون باندہا ہے۔
''''''پہلی داستان میمون کے پیدا ہونے اور خبستہ کے ساتھ بیا ہے جانے کی''''''
اگلے دو لتمندوں میں سے احمد سلطان نام ایک شخص بڑا مالدار اور صاحب فوج تھا لاکھ گھوڑے اور پندرہ سو زنجیر فیل اور نو سو قطار بار برداری اونٹوں کی اُس کے در دولت پر حاضر رہتے تھے
پر اُس کا لڑکا بالا کوئی نہ تھا کہ گھر اپنے باپ کا روشن کرتا۔ حسن اسی بات کا اُس کے دل پر تھا۔ داغ نہ رکھتا وہ اپنے گھر کا چراغ ۔ اسی واسطے صبح و شام خدمت میں خدا پرستوں کی جاتا اور اُن سے درخواست دعا کی کرتا غرض تھوڑے دنوں میں خالق زمین و آسمان نے ایک بیٹا مہ جبین خوبصورت مہر چہر اُسے بخشا۔ احمد سلطان اسی خوشی سے گل کی مانند کھلا اور نام اُس کا میموں رکھا۔ کئی ہزار روپے فقیروں کو بخش کر سجدہ شکر بجالایا اور یہ بہت پڑھنے لگا۔ حسن تجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار۔ نہ ہو تجھ سے مایوس امیدوار۔ دوگانہ غرض شکر کا کراط۔ تہیہ کیا شادی جشن کا۔ اور تین مہینے تک شہر کے امیروں وزیروں دانایوں فاضلوں اُستادوں کی ضیافتیں کیں۔ کشتیاں بعضوں کے آگے کہیں اور اکثروں کو خلعت بھاری بھاری دئے۔ جس وقت وہ لڑکا سات برس کا ہوا واسطے تربیت کے لیکن استناد وانا کامل کو سونپا۔ حسن معلم اتالیق ونشی ادیبہ ہر ایک فن کے اُستاد بیٹھے قریب کیا قاعدے
سے شروع کلام ، پڑھانے لگے علم اس کو تمام ، اور کتنے دنوں میں الف بے تے سے لیکر گلستان اور انشائے ہر کرن و جامع القوانين و ابوالفضل یوسفی در قعات جامی تک پڑھا بلکہ علم عربی کو بھی تحصیل کیا حسن دیا تھا بس حق نے ذہن رسا، کئی سال میں علم سب پڑھ چکا، معافی و منطق بیان و ادب، پڑ ہے اُس نے منقول و معقول سب، خبردار حکمت کے مضمون سے ، غرض جو پڑھا اُس نے قانون سے، اور قاعدہ نشست و به خاست مجلس بادشاہی کا طریقہ عرض و معروض کا اسنے سیکھا پر یہ ہے کہ بعض فنون میں باپ پر بھی سبقت لیگیا۔ جب باپ نے دیکہا کہ جوان ہوا تب ایک عورت صاحب جمال گل اندام خسته نام کیساتھ بیاہ کردیا دونوں اپسمیں عیش و عشرت کرنے لگے۔ اور کسی وقت جدا ہو تے۔ غرض یہا تک شیفتہ و فریفتہ ہوئے کہ عاشقی و حقوقی کے درجے سے گزر گئے۔ اتفاق احمد شہزادہ گھوڈے پر سوار ہو کر بازار
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
ce8n6mr997o72xj492tdyg9dcc4o4zg
35700
35699
2026-08-15T07:04:47Z
Asimali2003
224
35700
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" /></noinclude>{{right|طوطا کہانی}}{{center|٢}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
کہ جو کوئی چشم غور سے اس ترجمہ کو ملاحظہ کرے اور غلطی معنی یا نا مربوطی الفاظ اس کی نظر پڑے۔ تو وہ شمشیر علیم سے انند ہر دشمن کے اس کو صفحہ ہستی سے اٹا دے ابیات جو بہر صلاح اس پہ رکھے قلم۔ آتی نہ دینا کبھی اس کو غم۔ آللہی بحق امام انام۔ یہ جلدی ہو مجھ سے کہانی تمام۔ آمدم بر سر مطلب۔ بننا چاہیئے کہ کیا کیا خون جگر کھایا ہے۔ اور کیسا کیسا مضمون باندہا ہے۔
''''''پہلی داستان میمون کے پیدا ہونے اور خبستہ کے ساتھ بیا ہے جانے کی''''''
اگلے دو لتمندوں میں سے احمد سلطان نام ایک شخص بڑا مالدار اور صاحب فوج تھا لاکھ گھوڑے اور پندرہ سو زنجیر فیل اور نو سو قطار بار برداری اونٹوں کی اُس کے در دولت پر حاضر رہتے تھے
پر اُس کا لڑکا بالا کوئی نہ تھا کہ گھر اپنے باپ کا روشن کرتا۔ حسن اسی بات کا اُس کے دل پر تھا۔ داغ نہ رکھتا وہ اپنے گھر کا چراغ ۔ اسی واسطے صبح و شام خدمت میں خدا پرستوں کی جاتا اور اُن سے درخواست دعا کی کرتا غرض تھوڑے دنوں میں خالق زمین و آسمان نے ایک بیٹا مہ جبین خوبصورت مہر چہر اُسے بخشا۔ احمد سلطان اسی خوشی سے گل کی مانند کھلا اور نام اُس کا میموں رکھا۔ کئی ہزار روپے فقیروں کو بخش کر سجدہ شکر بجالایا اور یہ بہت پڑھنے لگا۔ حسن تجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار۔ نہ ہو تجھ سے مایوس امیدوار۔ دوگانہ غرض شکر کا کراط۔ تہیہ کیا شادی جشن کا۔ اور تین مہینے تک شہر کے امیروں وزیروں دانایوں فاضلوں اُستادوں کی ضیافتیں کیں۔ کشتیاں بعضوں کے آگے کہیں اور اکثروں کو خلعت بھاری بھاری دئے۔ جس وقت وہ لڑکا سات برس کا ہوا واسطے تربیت کے لیکن استناد وانا کامل کو سونپا۔ حسن معلم اتالیق ونشی ادیبہ ہر ایک فن کے اُستاد بیٹھے قریب کیا قاعدے
سے شروع کلام ، پڑھانے لگے علم اس کو تمام ، اور کتنے دنوں میں الف بے تے سے لیکر گلستان اور انشائے ہر کرن و جامع القوانين و ابوالفضل یوسفی در قعات جامی تک پڑھا بلکہ علم عربی کو بھی تحصیل کیا حسن دیا تھا بس حق نے ذہن رسا، کئی سال میں علم سب پڑھ چکا، معافی و منطق بیان و ادب، پڑ ہے اُس نے منقول و معقول سب، خبردار حکمت کے مضمون سے ، غرض جو پڑھا اُس نے قانون سے، اور قاعدہ نشست و به خاست مجلس بادشاہی کا طریقہ عرض و معروض کا اسنے سیکھا پر یہ ہے کہ بعض فنون میں باپ پر بھی سبقت لیگیا۔ جب باپ نے دیکہا کہ جوان ہوا تب ایک عورت صاحب جمال گل اندام خسته نام کیساتھ بیاہ کردیا دونوں اپسمیں عیش و عشرت کرنے لگے۔ اور کسی وقت جدا ہو تے۔ غرض یہا تک شیفتہ و فریفتہ ہوئے کہ عاشقی و حقوقی کے درجے سے گزر گئے۔ اتفاق احمد شہزادہ گھوڈے پر سوار ہو کر بازار
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
a3uajemci2jkjxsg1nxm794ka3akg7d
35701
35700
2026-08-15T07:07:40Z
Asimali2003
224
35701
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" /></noinclude>{{right|طوطا کہانی}}{{center|٢}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
<center>کہ جو کوئی چشم غور سے اس ترجمہ کو ملاحظہ کرے اور غلطی معنی یا نا مربوطی الفاظ اس کی نظر پڑے۔ تو وہ شمشیر علیم سے انند ہر دشمن کے اس کو صفحہ ہستی سے اٹا دے ابیات جو بہر صلاح اس پہ رکھے قلم۔ آتی نہ دینا کبھی اس کو غم۔ آللہی بحق امام انام۔ یہ جلدی ہو مجھ سے کہانی تمام۔ آمدم بر سر مطلب۔ بننا چاہیئے کہ کیا کیا خون جگر کھایا ہے۔ اور کیسا کیسا مضمون باندہا ہے۔
''''''پہلی داستان میمون کے پیدا ہونے اور خبستہ کے ساتھ بیا ہے جانے کی''''''
اگلے دو لتمندوں میں سے احمد سلطان نام ایک شخص بڑا مالدار اور صاحب فوج تھا لاکھ گھوڑے اور پندرہ سو زنجیر فیل اور نو سو قطار بار برداری اونٹوں کی اُس کے در دولت پر حاضر رہتے تھے پر اُس کا لڑکا بالا کوئی نہ تھا کہ گھر اپنے باپ کا روشن کرتا۔ حسن اسی بات کا اُس کے دل پر تھا۔ داغ نہ رکھتا وہ اپنے گھر کا چراغ ۔ اسی واسطے صبح و شام خدمت میں خدا پرستوں کی جاتا اور اُن سے درخواست دعا کی کرتا غرض تھوڑے دنوں میں خالق زمین و آسمان نے ایک بیٹا مہ جبین خوبصورت مہر چہر اُسے بخشا۔ احمد سلطان اسی خوشی سے گل کی مانند کھلا اور نام اُس کا میموں رکھا۔ کئی ہزار روپے فقیروں کو بخش کر سجدہ شکر بجالایا اور یہ بہت پڑھنے لگا۔ حسن تجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار۔ نہ ہو تجھ سے مایوس امیدوار۔ دوگانہ غرض شکر کا کراط۔ تہیہ کیا شادی جشن کا۔ اور تین مہینے تک شہر کے امیروں وزیروں دانایوں فاضلوں اُستادوں کی ضیافتیں کیں۔ کشتیاں بعضوں کے آگے کہیں اور اکثروں کو خلعت بھاری بھاری دئے۔ جس وقت وہ لڑکا سات برس کا ہوا واسطے تربیت کے لیکن استناد وانا کامل کو سونپا۔ حسن معلم اتالیق ونشی ادیبہ ہر ایک فن کے اُستاد بیٹھے قریب کیا قاعدے سے شروع کلام ، پڑھانے لگے علم اس کو تمام ، اور کتنے دنوں میں الف بے تے سے لیکر گلستان اور انشائے ہر کرن و جامع القوانين و ابوالفضل یوسفی در قعات جامی تک پڑھا بلکہ علم عربی کو بھی تحصیل کیا حسن دیا تھا بس حق نے ذہن رسا، کئی سال میں علم سب پڑھ چکا، معافی و منطق بیان و ادب، پڑ ہے اُس نے منقول و معقول سب، خبردار حکمت کے مضمون سے ، غرض جو پڑھا اُس نے قانون سے، اور قاعدہ نشست و به خاست مجلس بادشاہی کا طریقہ عرض و معروض کا اسنے سیکھا پر یہ ہے کہ بعض فنون میں باپ پر بھی سبقت لیگیا۔ جب باپ نے دیکہا کہ جوان ہوا تب ایک عورت صاحب جمال گل اندام خسته نام کیساتھ بیاہ کردیا دونوں اپسمیں عیش و عشرت کرنے لگے۔ اور کسی وقت جدا ہو تے۔ غرض یہا تک شیفتہ و فریفتہ ہوئے کہ عاشقی و حقوقی کے درجے سے گزر گئے۔ اتفاق احمد شہزادہ گھوڈے پر سوار ہو کر بازار</center>
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
b90yrwry1jun3aniucw97ior5buge00
35702
35701
2026-08-15T07:13:03Z
Asimali2003
224
35702
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" /></noinclude>{{right|طوطا کہانی}}{{center|٢}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
<right>کہ جو کوئی چشم غور سے اس ترجمہ کو ملاحظہ کرے اور غلطی معنی یا نا مربوطی الفاظ اس کی نظر پڑے۔ تو وہ شمشیر علیم سے انند ہر دشمن کے اس کو صفحہ ہستی سے اٹا دے ابیات جو بہر صلاح اس پہ رکھے قلم۔ آتی نہ دینا کبھی اس کو غم۔ آللہی بحق امام انام۔ یہ جلدی ہو مجھ سے کہانی تمام۔ آمدم بر سر مطلب۔ بننا چاہیئے کہ کیا کیا خون جگر کھایا ہے۔ اور کیسا کیسا مضمون باندہا ہے۔
''''''پہلی داستان میمون کے پیدا ہونے اور خبستہ کے ساتھ بیا ہے جانے کی''''''
اگلے دو لتمندوں میں سے احمد سلطان نام ایک شخص بڑا مالدار اور صاحب فوج تھا لاکھ گھوڑے اور پندرہ سو زنجیر فیل اور نو سو قطار بار برداری اونٹوں کی اُس کے در دولت پر حاضر رہتے تھے پر اُس کا لڑکا بالا کوئی نہ تھا کہ گھر اپنے باپ کا روشن کرتا۔ حسن اسی بات کا اُس کے دل پر تھا۔ داغ نہ رکھتا وہ اپنے گھر کا چراغ ۔ اسی واسطے صبح و شام خدمت میں خدا پرستوں کی جاتا اور اُن سے درخواست دعا کی کرتا غرض تھوڑے دنوں میں خالق زمین و آسمان نے ایک بیٹا مہ جبین خوبصورت مہر چہر اُسے بخشا۔ احمد سلطان اسی خوشی سے گل کی مانند کھلا اور نام اُس کا میموں رکھا۔ کئی ہزار روپے فقیروں کو بخش کر سجدہ شکر بجالایا اور یہ بہت پڑھنے لگا۔ حسن تجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار۔ نہ ہو تجھ سے مایوس امیدوار۔ دوگانہ غرض شکر کا کراط۔ تہیہ کیا شادی جشن کا۔ اور تین مہینے تک شہر کے امیروں وزیروں دانایوں فاضلوں اُستادوں کی ضیافتیں کیں۔ کشتیاں بعضوں کے آگے کہیں اور اکثروں کو خلعت بھاری بھاری دئے۔ جس وقت وہ لڑکا سات برس کا ہوا واسطے تربیت کے لیکن استناد وانا کامل کو سونپا۔ حسن معلم اتالیق ونشی ادیبہ ہر ایک فن کے اُستاد بیٹھے قریب کیا قاعدے سے شروع کلام ، پڑھانے لگے علم اس کو تمام ، اور کتنے دنوں میں الف بے تے سے لیکر گلستان اور انشائے ہر کرن و جامع القوانين و ابوالفضل یوسفی در قعات جامی تک پڑھا بلکہ علم عربی کو بھی تحصیل کیا حسن دیا تھا بس حق نے ذہن رسا، کئی سال میں علم سب پڑھ چکا، معافی و منطق بیان و ادب، پڑ ہے اُس نے منقول و معقول سب، خبردار حکمت کے مضمون سے ، غرض جو پڑھا اُس نے قانون سے، اور قاعدہ نشست و به خاست مجلس بادشاہی کا طریقہ عرض و معروض کا اسنے سیکھا پر یہ ہے کہ بعض فنون میں باپ پر بھی سبقت لیگیا۔ جب باپ نے دیکہا کہ جوان ہوا تب ایک عورت صاحب جمال گل اندام خسته نام کیساتھ بیاہ کردیا دونوں اپسمیں عیش و عشرت کرنے لگے۔ اور کسی وقت جدا ہو تے۔ غرض یہا تک شیفتہ و فریفتہ ہوئے کہ عاشقی و حقوقی کے درجے سے گزر گئے۔ اتفاق احمد شہزادہ گھوڈے پر سوار ہو کر بازار</center>
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
ds1t3fsjyj5o9ce741wdxy03zpynx61
35703
35702
2026-08-15T07:13:25Z
Asimali2003
224
35703
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" /></noinclude>{{right|طوطا کہانی}}{{center|٢}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;">
<right>کہ جو کوئی چشم غور سے اس ترجمہ کو ملاحظہ کرے اور غلطی معنی یا نا مربوطی الفاظ اس کی نظر پڑے۔ تو وہ شمشیر علیم سے انند ہر دشمن کے اس کو صفحہ ہستی سے اٹا دے ابیات جو بہر صلاح اس پہ رکھے قلم۔ آتی نہ دینا کبھی اس کو غم۔ آللہی بحق امام انام۔ یہ جلدی ہو مجھ سے کہانی تمام۔ آمدم بر سر مطلب۔ بننا چاہیئے کہ کیا کیا خون جگر کھایا ہے۔ اور کیسا کیسا مضمون باندہا ہے۔
{{center|''''''پہلی داستان میمون کے پیدا ہونے اور خبستہ کے ساتھ بیا ہے جانے کی''''''}}
اگلے دو لتمندوں میں سے احمد سلطان نام ایک شخص بڑا مالدار اور صاحب فوج تھا لاکھ گھوڑے اور پندرہ سو زنجیر فیل اور نو سو قطار بار برداری اونٹوں کی اُس کے در دولت پر حاضر رہتے تھے پر اُس کا لڑکا بالا کوئی نہ تھا کہ گھر اپنے باپ کا روشن کرتا۔ حسن اسی بات کا اُس کے دل پر تھا۔ داغ نہ رکھتا وہ اپنے گھر کا چراغ ۔ اسی واسطے صبح و شام خدمت میں خدا پرستوں کی جاتا اور اُن سے درخواست دعا کی کرتا غرض تھوڑے دنوں میں خالق زمین و آسمان نے ایک بیٹا مہ جبین خوبصورت مہر چہر اُسے بخشا۔ احمد سلطان اسی خوشی سے گل کی مانند کھلا اور نام اُس کا میموں رکھا۔ کئی ہزار روپے فقیروں کو بخش کر سجدہ شکر بجالایا اور یہ بہت پڑھنے لگا۔ حسن تجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار۔ نہ ہو تجھ سے مایوس امیدوار۔ دوگانہ غرض شکر کا کراط۔ تہیہ کیا شادی جشن کا۔ اور تین مہینے تک شہر کے امیروں وزیروں دانایوں فاضلوں اُستادوں کی ضیافتیں کیں۔ کشتیاں بعضوں کے آگے کہیں اور اکثروں کو خلعت بھاری بھاری دئے۔ جس وقت وہ لڑکا سات برس کا ہوا واسطے تربیت کے لیکن استناد وانا کامل کو سونپا۔ حسن معلم اتالیق ونشی ادیبہ ہر ایک فن کے اُستاد بیٹھے قریب کیا قاعدے سے شروع کلام ، پڑھانے لگے علم اس کو تمام ، اور کتنے دنوں میں الف بے تے سے لیکر گلستان اور انشائے ہر کرن و جامع القوانين و ابوالفضل یوسفی در قعات جامی تک پڑھا بلکہ علم عربی کو بھی تحصیل کیا حسن دیا تھا بس حق نے ذہن رسا، کئی سال میں علم سب پڑھ چکا، معافی و منطق بیان و ادب، پڑ ہے اُس نے منقول و معقول سب، خبردار حکمت کے مضمون سے ، غرض جو پڑھا اُس نے قانون سے، اور قاعدہ نشست و به خاست مجلس بادشاہی کا طریقہ عرض و معروض کا اسنے سیکھا پر یہ ہے کہ بعض فنون میں باپ پر بھی سبقت لیگیا۔ جب باپ نے دیکہا کہ جوان ہوا تب ایک عورت صاحب جمال گل اندام خسته نام کیساتھ بیاہ کردیا دونوں اپسمیں عیش و عشرت کرنے لگے۔ اور کسی وقت جدا ہو تے۔ غرض یہا تک شیفتہ و فریفتہ ہوئے کہ عاشقی و حقوقی کے درجے سے گزر گئے۔ اتفاق احمد شہزادہ گھوڈے پر سوار ہو کر بازار</center>
</div>
</div><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
qqo2ko71avtw4d6zioew31gl6h3s06b
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/5
250
12012
35694
26989
2026-08-15T06:34:00Z
Asimali2003
224
35694
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Satdeep Gill" /></noinclude>{{xxxx-larger|{{center|طوطاکھانے}}}}
{{center|[[File:Cover img Tota Kahani.png]]
}}<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
54ymyb8tqrfhbmv9pzdkmzmef671qhx
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/34
250
12700
35692
32351
2026-08-15T05:42:31Z
Taranpreet Goswami
90
/* پروف خوانی شدہ */
35692
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اور پشو پنچھی تک ہرایک جی کی رکشا کرنا دھرم ہے جہان مین اسکے برابر کوئی ادھرم نہین جو شخص دوسرے کا گوشت کھا کر اپنا گوشت بڑھاتے ہین وہ آخرکار دوزخ مین پڑتے ہین اس سے انسان کو لازم یہ ہے کہ جی کی رکشا کرے اور جو لوگ کہ دوسرے کا دکھ نہ سمجھتے ہون اور غیرون کے جی بھی مار مار کے کھاتے ہون انکی اس دنیا مین عمر کم ہوتی ہے اور لولے لنگڑے کانے اندھے ہونے کبڑے ایسے اعضاء سے محروم ہو جنم لیتے ہین جیسے پشو اور پنچھی کے انگ کھاتے ہین ویسے ہی انگ اپنے کھواتے ہین اور شراب پینا بہت بڑا گناہ ہے اس سے شراب اور گوشت کا کھانا بجا نہین اس طرح راجہ کو دیوان نے اپنی مت کا گیان سمجھا کر ایسا جین دھرم مین لایا کہ جو یہ کہتا تھا وہے راجہ کرتا تھا اور برہمن جوگی جنگم سیورا سنیاسی درویش کسی کو نہ مانا چاہئے اور اسی دھرم سے راج کرتا تھا ایک دن کال کے بس ہو مرگیا پھر اسکا بیٹا دھرم دھوج نام گدی پر بیٹھا اور راج کرنے لگا ایک دن اسنے ابھی چند دیوان کو پکڑوا سر پر سات چوٹی رکھوا منھ کالا کروا گدھے پر چڑھوا ڈونڈی بجوا تالی دلوا دیس سے نکال دیا ایک دن وہ راجہ بسنت رت مین رانیون کو ساتھ لے ایک باغ کی سیر کو گیا اس باغ مین ایک بڑا تالاب تھا اور اسمین کنول پھول رہے تھے راجہ اس سروور کی شوبھا دیکھ کپڑے اتار اشنان کرنے کو اترا ایک پھول توڑ تیر پر آ رانی کے ہاتھ مین دینے لگا کہ وہ پھول ہاتھ سے چھوٹ کر رانی کے پائون پر گرا اور اسکی چوٹ سے رانی کا پانون ٹوٹ گیا تب راجہ گھبرا کر ایک بارگی باہر نکل کر اس کی اوکھد کرنے لگا کہ اتنے مین رات ہوئی اور چندرمان نے پرکاش کیا چاند کی جوت پڑتے ہی دوسری رانی کے شریر مین پھپھولے پڑگئے تو مین اچانک دوسرے کسی گرہستی کی موسل کی آواز آئی اس سے تیسری رانی کے سر مین ایسا درد ہوا کہ غش آگیا اتنی بات کہہ بیتال بولا اے راجہ ان تینون مین اتِ شکمار کون ہے راجہ نے کہا جس کے شریر مین درد ہو غش آیا وہی بہت نازک ہے یہ بات سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ اسے اتار گٹھری باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا
{{c|گیارھوین کہانی}}
بیتال بولا کہ پونے پور نام ایک نگر ہے وہان بلبھ نام ایک راجہ تھا اور اسکے دیوان کا نام ست پرکاش تھا اس دیوان کی استری کا نام لکشمی اس راجہ نے ایک روز اپنے دیوان سے کہا جو راجہ ہوکر سندر استری سے بھوگ نہ کرے تو راج کرنا اسکا ہے سود ہے یہ بات کہہ دیوان کو راج کا بھار دے آپ سکھہ سے عیش کرنے لگا اور راج کی سب چنتا چھوڑ دی اور دن رات آنند مین رہنے لگا اتفاقاً ایک روز وہ دیوان اپنے گھر مین اداس بیٹھا تھا کہ اسمین اسکی جورو نے پوچھا سوامی ان دنون آپکو بہت دُبلا دیکھتی ہون وہ بولا رات دن مجھے راج کی فکر رہتی ہی اس سے شریر دبلا ہو گیا ہے اور راجہ تو اٹھون پہر اپنے عیش و آرام مین رہتا ہے تب دیوان<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude>
n99elcpkdip7x3ow329anwqj7g2be9u
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/287
250
13753
35693
35174
2026-08-15T06:00:07Z
Tamanpreet Kaur
81
/* پروف خوانی شدہ */
35693
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>{{Block center|٢٨١}}
مارے جانے سے میں ڈر گیا ہوں ۔ راون کو
اپنی ہمّت اور قُوت کا بھروسہ ہے ۔ وہ دوسروں
کے بل پر نہیں لڑ٘تا ۔ دلیروں کی اولاد لڑائی
میں مرنے کے سوا اور ہوتی ہی کس لئے ہے.
اب سنبھل جاؤ ۔ میں پھر وار کرتا ہوں'.
{{gap}}مگر یہ محض گیدڑ بھبکی تھی ۔ رامچندر نے ابکی جو تیر مارا تو وہ پھر راون کے سینہ میں لگا ۔ ایک زخم پہلے لگ چُکا تھا ۔ اس دوسرے زخم نے خاتمہ کر دیا ۔ راون رتھ کے نیچے گر پڑا ۔ اور تڑپ تڑپ کر جان دے دی ۔ ظالم تھا ۔ بےانصاف تھا ۔ کمینہ تھا ۔ مگر دلیر بھی تھا مرتے وقت بھی کمان اُس کے ہاتھ میں تھی.
{{gap}}راون کو رتھ کے نِیچے گِرْتے دیکھ بھبھیشن دَوڑ کر اُس کے پاس آگیا ۔ دیکھا تو وُہ دم توڑ رہا تھا ۔ اُس وقت بھائی کے خون نے جوش مارا ۔ بھبھیشن راون کی خون آلود لاش
سے لپٹ کر زار زار رونے لگا ۔ اتنے میں<noinclude></noinclude>
kx2v10jw2pwzcbi8subrqpeno2bsiwa
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/98
250
13860
35682
35676
2026-08-14T12:40:21Z
BalramBodhi
60
35682
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>حاصل ہو جائیگی۔ اسکے سوا مولانا نے حقیقت مین کوئی نتیجہر نہین نکالا بلکہ حکایت کا خلاصہ ایک بیت مین دوبارہ بیان کر دیا ہے۔ اور شیخ نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ ایک اچھوتا مضمون ہے کہ جب تک بیان نہ کیا جاوے ہر شخص کا ذہن وہان تک انتقال نہین کر سکتا۔
نیج شیخ نے ایسا حاوی نتجہ نکالا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ کیونکہ سلف کی تعظیم اور ادب اور اون کے محاسن و کمالات کی قدر کرنی ہر شخص کے حق مین شمر برکات ہے اور مولانا کا نتیجہ صرف سلاطین اولوالعزم کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ ملک سکندر کی خواہش اون کے سوا
اور کسی کو نہین ہوتی۔
{{Multicol}}
<poem>گلستان۔ رازیکہ نہان خواہی با کسے
درمیان منه اگرچه دوست باشد که مر آن
دوست را نیز دوستان باشد و ہمچنین
مسلسل '''قطعہ'''۔
خامُشی به که ضمیرِ دلِ خویش
با کسے گفتن و گفتن که مگوۓ
اے سلیم آب ز سرچشمه بہ بند
که چو پر شد نتوان بستن جوۓ
{{center|'''بیت'''}}
سخنی در خلل نباید گفت</poem>
{{Multicol-break}}
<poem>بہارستان۔ اسرارِ نہان خود را با ہیچ
دوستی درمیان منہ زیرا که بسیار بود که
در دوستی خلل افتد و بدشمنی بدل
گردد۔ '''قطعہ'''۔
اے پسر سترے کش از دشمن نہفتن لازمت
بہ کہ از افشائے آن با دوستی کم دم زنی
دیدہ ام بسیار گز سیر \شہید\ کج نہاد
دوستان دشمن شوند رود ستیہا دشمنی
'''قطعه''' برسرسر بمہر کہ افتد بخاطرست
سرعت مکن به سوج بیانش نگاشتن</poem>
{{Multicol-end}}<noinclude></noinclude>
jo05y8j0vxgpig6yij53uird3owo8fy
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/99
250
13861
35681
35680
2026-08-14T12:14:15Z
Charan Gill
46
35681
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Multicol}}
کان سخن بر ملانشاید گفت
{{Multicol-break}}
<poem>ترسم شودغر است اظہارآن ترا
مشکل تراز نداست پوشیده داشتن</poem>
{{Multicol-end}}
اِس مثال من بھی گلستان کا بیان بہارستان کی نسبت چند وجوہ سے زیادہ بلیخ ہے '''١''' شیخ کہتا ہے۔ "رازیکہ نہان خواهی" یعنی جس بھید کو چُھپانا منظور ہو اُسے کسی سے نہ کہو اور مولانا کہتے ہین "اسرار نہان خود را" یعنی اپنے پوشیده بھیدون کو ظاہر نا کرو ۔ ہالانکہ بعضے بھید کیسے ہی پوشیدہ
جون ایک مدت کے بعد کہنے کے لائک ہو جاتے ہین مگر جن کا چھپانا منظور ہوتا ہے وہ کبی کہنے کے لائک نہین ہوتے '''٢'''۔ شیخ کہتا ہے "باکس درمیان منہ اگرچہ دوست باشد" اور مولانا کتنے ہین "بہ ہیچ دوستے درمیان منہ" پہلے بیان مین دوست اور غیردوست سب سے راز کہنے کی ممالغت ہے مگر دوسرا بیان جبتک اس طرح نہو "با دوست ہم درمیان منہ" تب تک اوسمین تہمیم پیدا نہیں ہوتی '''٣''' شیخ نے راز نہ کہنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اد کے بھی دوست ہون گے اور ان دوستون
کے بھی دوست ہون گے اور یہ اسلامی طرح لا جائیگا۔ پس چکے ہی چپکے راز جمهوری اپیل
جائیگا۔ مولانا نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ شاید دوستی مین غل آجائے اور دوست دشمن ہو جائے
اره مطلب دونون هیچ بین لیکن پلی وجہ زیادہ وجہ ہے کیونکہ یقینا کون شخص دوستون سے خالی
نہین ہوتا اور دوستی مین فرق آجانا کبھی ہوتا ہے کبھی نہین ہوتاہم شیخ کا قطعہ باغت مین مولانا
کے قطعہ سے بمراتب افضل اور فائق تر ہے۔ پہلی بہیت مین اس نے انسان کی ایک این نمالنفس
اور دقیق خدمات کیطرف اشارہ کیا ہےجو عام نظرون سے خفی ہے وہ کرتا ہے
{{Multicol}}
خاشی به کهیر دل خویش
{{Multicol-break}}
با کسے گفتن و گفتن که مگوے
{{Multicol-end}}<noinclude></noinclude>
6t3u7u31ibchbjgw7vv8a51jodkkeiq
35683
35681
2026-08-14T13:03:59Z
BalramBodhi
60
35683
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{Multicol}}
کان سخن بر ملانشاید گفت
{{Multicol-break}}
<poem>ترسم شودغر است اظہار آن ترا
مشکل ترازند است پوشیده داشتن</poem>
{{Multicol-end}}
اِس مشال من بہی گلستان کا بیان بہارستان کی نسبت چند وجوہ سے زیادہ بلیخ ہے '''١''' شیخ کہتا ہے۔ "رازیکہ نہان خواہی" یعنی جس بھید کو چُھپانا منظور ہو اُسے کسی سے نہ کہو اور مولانا کہتے ہین "اسرار نہان خود را" یعنی اپنے پوشیده بھیدون کو ظاہر نا کرو۔ہالانکہ بعضے بہید کیسے ہی پوشیدہ حون ایک مدت کے بعد کہنے کے لائک ہو جاتے ہین مگر جن کا چھپانا منظور ہوتا ہے وہ کبی کہنے کے لائک نہین ہوتے '''٢'''۔ شیخ کہتا ہے "باکس درمیان منہ اگرچہ دوست باشد" اور مولانا کہتے ہین "بہ ہیچ دوستے درمیان منہ" پہلے بیان مین دوست اور غیردوست سب سے راز کہنے کی ممالغت ہے مگر دوسرا بیان جبتک اس طرح نہو "با دوست ہم درمیان منہ" تب تک اوسمین تہمیم پیدا نہیں ہوتی '''٣''' شیخ نے راز نہ کہنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اوسکے بہی دوست ہون گے اور اون دوستون کے بھی دوست ہون گے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلا جائیگا۔ پس چپکے ہی چپکے راز جمہور مین پہیل
جائیگا۔ مولانا نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ شاید دوستی مین خلل آجائے اور دوست دشمن ہو جائے اگرچہ مطلب دونون سحیح بین لیکن پہلی وجہ زیادہ موجہ ہے کیونکہ یقیناً کوئ شخص دوستون سے خالی نہین ہوتا اور دوستی مین فرق آجانا کبہی ہوتا ہے کبہی نہین ہوتا '''٤'''۔ شیخ کا قطعہ بلاغت مین مولانا کے قطعہ سے بمراتب افضل اور فائق تر ہے۔ پہلی بیت مین اُس نے انسان کی ایک ایسی \غامالنفس\ اور دقیق خصلت کی طرف اشارہ کیا ہے جو عام نظرون سے مخفی ہے وہ کہتا ہے۔
{{Multicol}}
خاشی به کہ ضمیرِ دلِ خویش
{{Multicol-break}}
با کسے گفتن و گفتن که مگوے
{{Multicol-end}}<noinclude></noinclude>
asm63zz65m7ve5qv6b8i3x6kwodhpy9
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/100
250
13862
35684
35464
2026-08-14T13:25:14Z
BalramBodhi
60
35684
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یعنی کسی سے اپنا بہید کہکر اوسکو افشاے راز سے منع کرنا کچہہ مفید نہیں ہے کیونکہ انسان ممنوعات پر زیادہ حریص ہوتا ہے اسلئے اب اوسکو ضبط راز کرنا اور بہی مشکل ہوگا۔ پر اِس سے خامشی ہی بہتر ہے۔ دوسری بیت مین ایک نہایت لطیف اور واضح مثال سے مطالب کو
خاطر خواہ دلنشین کیا ہے۔ مولانا کے قطعہ مین کوئی خوبی اِس مضمون کے سوا نہین ہے کہ جو راز دشمن سے چھپانا چاہیے اُسے دوست سے بہی چہپانا چاہیے۔ مگر اُن کے ساتھہ لفظ افشا زاءد معلوم ہوتا ہے کیونکہ "ازان دم نزنی" کی جگہ "از افشاے آن دم نزنی" کہا گیا ہے
اور قطعہ کا اخیر \مصرءہ\ بہی ہشو یا تکرار سے خالی نہین ہے۔ دوستون کا دشمن ہو جانا اور دوستی کا دشمنی ہو جانا نی الحقیقت ایک ہی بات ہے '''۵''' قطعہ کے بعد شیخ نے ایک فرد لکھی ہے جو فی الواقعہ سہل و ممتنع ہے۔ یعنی
سنے در انباید گفت کان سخن بلانش می گفت
ہو کا اکثر اشخاص کو ہو جاتا ہے کہ جب صحبت میں کوئی غیر نس نہیں ہوتا تو گفتی با تین
گتے ہیں اوریہ سمجھتے ہیں ہم تھیلے میں گفتگو کر رہے ہیں اس سے معیار مطلق نہیں
ہوسکتے حالانه و این مرد رفته رفته نشر ہو جاتی ہیں۔ اس مجرب اور پیچھے مضمون کو جو
کسی قدر دقیق بھی تھا ایسے صاف طور سے بیان کیا ہے کہ اس سے زیادہ بیان کی
صفائی مکن نہیں ۔ پھر خا اور ملا اور در اور بر کا معت ابلہ اور صنعت خود قانتین اوس کے
علاوہ ہے ۔ مولانائے کوئی فرد میں لکھی مگر ایک دوسر قطعہ لکھا ہے یعنی ہر سرسر مہر کی
انست بخاطرت آن ، امین پہلے مصر سے معلوم ہوتاہےکہ چور را سربستہ تیرے خیال<noinclude></noinclude>
020xjfd6c56levvuo1crabvv7fih32e
35685
35684
2026-08-14T14:38:44Z
Charan Gill
46
35685
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یعنی کسی سے اپنا بہید کہکر اوسکو افشاے راز سے منع کرنا کچہہ مفید نہیں ہے کیونکہ انسان ممنوعات پر زیادہ حریص ہوتا ہے اسلئے اب اوسکو ضبط راز کرنا اور بہی مشکل ہوگا۔ پر اِس سے خامشی ہی بہتر ہے۔ دوسری بیت مین ایک نہایت لطیف اور واضح مثال سے مطالب کو
خاطر خواہ دلنشین کیا ہے۔ مولانا کے قطعہ مین کوئی خوبی اِس مضمون کے سوا نہین ہے کہ جو راز دشمن سے چھپانا چاہیے اُسے دوست سے بہی چہپانا چاہیے۔ مگر اُن کے ساتھہ لفظ افشا زاءد معلوم ہوتا ہے کیونکہ "ازان دم نزنی" کی جگہ "از افشاے آن دم نزنی" کہا گیا ہے
اور قطعہ کا اخیر \مصرءہ\ بہی ہشو یا تکرار سے خالی نہین ہے۔ دوستون کا دشمن ہو جانا اور دوستی کا دشمنی ہو جانا نی الحقیقت ایک ہی بات ہے '''۵''' قطعہ کے بعد شیخ نے ایک فرد لکھی ہے جو فی الواقعہ سہل و ممتنع ہے۔ یعنی
{{Multicol}}
سخنے در خلل نباید گفت
{{Multicol-break}}
کان سخن بلانشید گفت
{{Multicol-end}}
ہو کا اکثر اشخاص کو ہو جاتا ہے کہ جب صحبت میں کوئی غیر نس نہیں ہوتا تو گفتی با تین
گتے ہیں اوریہ سمجھتے ہیں ہم تھیلے میں گفتگو کر رہے ہیں اس سے معیار مطلق نہیں
ہوسکتے حالانه و این مرد رفته رفته نشر ہو جاتی ہیں۔ اس مجرب اور پیچھے مضمون کو جو
کسی قدر دقیق بھی تھا ایسے صاف طور سے بیان کیا ہے کہ اس سے زیادہ بیان کی
صفائی مکن نہیں ۔ پھر خا اور ملا اور در اور بر کا معت ابلہ اور صنعت خود قانتین اوس کے
علاوہ ہے ۔ مولانائے کوئی فرد میں لکھی مگر ایک دوسر قطعہ لکھا ہے یعنی ہر سرسر مہر کی
انست بخاطرت آن ، امین پہلے مصر سے معلوم ہوتاہےکہ چور را سربستہ تیرے خیال<noinclude></noinclude>
3rt8an76piuafnxph7qi6xegzukhcaq
35686
35685
2026-08-14T15:16:32Z
Charan Gill
46
35686
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یعنی کسی سے اپنا بہید کہکر اوسکو افشاے راز سے منع کرنا کچہہ مفید نہیں ہے کیونکہ انسان ممنوعات پر زیادہ حریص ہوتا ہے اسلئے اب اوسکو ضبط راز کرنا اور بہی مشکل ہوگا۔ پر اِس سے خامشی ہی بہتر ہے۔ دوسری بیت مین ایک نہایت لطیف اور واضح مثال سے مطالب کو
خاطر خواہ دلنشین کیا ہے۔ مولانا کے قطعہ مین کوئی خوبی اِس مضمون کے سوا نہین ہے کہ جو راز دشمن سے چھپانا چاہیے اُسے دوست سے بہی چہپانا چاہیے۔ مگر اُن کے ساتھہ لفظ افشا زاءد معلوم ہوتا ہے کیونکہ "ازان دم نزنی" کی جگہ "از افشاے آن دم نزنی" کہا گیا ہے
اور قطعہ کا اخیر \مصرءہ\ بہی ہشو یا تکرار سے خالی نہین ہے۔ دوستون کا دشمن ہو جانا اور دوستی کا دشمنی ہو جانا نی الحقیقت ایک ہی بات ہے '''۵''' قطعہ کے بعد شیخ نے ایک فرد لکھی ہے جو فی الواقعہ سہل و ممتنع ہے۔ یعنی
{{Multicol}}
سخنے در خلا نباید گفت
{{Multicol-break}}
کان سخن بر ملا نشاید گفت
{{Multicol-end}}
یہ دہوکا اکثر اشخاص کو ہو جاتا ہے کہ جب صحبت میں کوئی غیر جنس نہیں ہوتا تو گفتنی باتین کہنے لگتے ہیں اوریہ سمجھتے ہیں ہم تھیلے میں گفتگو کر رہے ہیں اس سے معیار مطلق نہیں ہوسکتے حالانه و این مرد رفته رفته نشر ہو جاتی ہیں۔ اس مجرب اور پیچھے مضمون کو جو کسی قدر دقیق بھی تھا ایسے صاف طور سے بیان کیا ہے کہ اس سے زیادہ بیان کی صفائی مکن نہیں ۔ پھر خا اور ملا اور در اور بر کا معت ابلہ اور صنعت خود قانتین اوس کے علاوہ ہے ۔ مولانائے کوئی فرد میں لکھی مگر ایک دوسر قطعہ لکھا ہے یعنی ہر سرسر مہر کی انست بخاطرت آن ، امین پہلے مصر سے معلوم ہوتاہےکہ چور را سربستہ تیرے خیال<noinclude></noinclude>
6lakyczwcy4yg94ctr21zjb11waafs2
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/132
250
13904
35687
2026-08-15T05:22:45Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کی حد سے متجاوز نمین مشال شیخ بوستان میں کہتا ہے سیان در کس دشمنی بود جنگ سرا کر به یکدیگر چون پنگ سران ز دیدار هم تاب رمان که بربر در تنگ آوت آسمان دوسری بہیت کا یہ مطلب ہے کہ وہ ایک دوسرے کی صورت سے ایسے بیزار تھے کہ جب کبھی راہ میں دو چار ہو جات...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35687
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی حد سے متجاوز نمین مشال شیخ بوستان میں کہتا ہے
سیان در کس دشمنی بود جنگ سرا کر به یکدیگر چون پنگ
سران
ز دیدار هم تاب رمان که بربر در تنگ آوت آسمان
دوسری بہیت کا یہ مطلب ہے کہ وہ ایک دوسرے کی صورت سے ایسے بیزار تھے کہ جب
کبھی راہ میں دو چار ہو جاتے تھے تو ایک دوسرے کو دیکھ کر رستے سے اُلٹے ہٹ جاتے
تھے اور اسوقت کہاں نفرت سے مہکا جی چاہتا تھا آسمان پر سامنے مسائل نظر آتا ہے اسکو
جو
ترد کر نکل جائیں یہ مبالغ جب کہ بادی نظرمین با معلوم ہوتاہے فی حقیقت ایسا نہیں ہے
کیہ نکہ نفرت ایک نفسانی کیفیت ہے جس کاکوئی اندازہ اور سیاہ مقرنین ہے۔ اس طرح
ادنی درجے کی نفرت یہ ہے کہ دو شمن ایک مجلس میں اکٹھا ہونا پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح انتہا
درجے کی نفرت یہ ہو سکتی ہے
کہ وہ ایک عالم میں رہنا پسند کریں۔
س لی مین کی عظیم ترین جان کی سالہا یا اسے اطراف سے خالی نمین
ہوتا مثلا اگستان مین ایک دولت نبیل کا ذکر اس طرح سے کرتے ہیں ۔ وہ مالداری را شنیدم کی
جل چنان معروف بود که حاتم طائی استخارات نظام حالش بنمت و یا راست دست
به
نفس نمایش همچنان ممکن تا جائیکہ اتنے ما ہائے در دست مارے گریہ اور پورا
لقمه نواخته درساب اصحاب کهف را استخوانے مینداختے ۔ فی الجھا کے خانہ اور اندیس
در کشاده و سفره اور اس بیت
مد دین جز بری معاشی شهید مرغ از پس این دوران اور رو ندید<noinclude></noinclude>
ckpfkv3ii0pctywnap4gqnyk2trgs3h
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/133
250
13905
35688
2026-08-15T05:23:01Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”ایک اور جگہ سمندر کی سوچ اور یونان کا بیان اس طرح کیا ہے جو سنگین آبے کا مانی در ایمین نبود اگر غور سے دیکھئے تو حد سے زیادہ مبالغہ ہے۔ مگر بادی النظر میں کوئی کا مکن بات نہیں معلوم ہوئی۔ سوپر نیچرل یعنی فوق العاده با تین اور مجیب وغریب قصے بھی ب...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35688
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>ایک اور جگہ سمندر کی سوچ اور یونان کا بیان اس طرح کیا ہے جو سنگین آبے کا مانی در
ایمین نبود اگر غور سے دیکھئے تو حد سے زیادہ مبالغہ ہے۔ مگر بادی النظر میں کوئی
کا مکن بات نہیں معلوم ہوئی۔
سوپر نیچرل یعنی فوق العاده با تین اور مجیب وغریب قصے بھی بنے قدیم اور متوسط
زمانے کی مغربی و مشرقی لیکر جا ہوا ہے ان کتابوں میں بہت گر ہیں ۔ تمام گلستان اور
بوستان میں صرف دو تین حکایتین ایسی بین جو اس زمانے میں مستبعد معلوم ہوتی ہیں اور
تاویل کے بعد ان میں بھی کچھ استاد باقی نہیں رہتا ۔
صلی اخلاق کے معنی اصلا جن میں میر ا تا رہاہے اور بھی چا جاتا ہے اگر
کسی کتاب میں زمانہ حال کے فلسفہ سایہ کے بر خلاف ہوں تو اس کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔
یک ایسی کوئی کتاب این اسکی باتوں پر امام کا انا وہ شان کے
اس فقرے پر کہ و دروغ مصلحت آمیز باز است نفت انگیز کرتی ہوگی۔ کتا این که بود
کیسا ہی مصالحت آمیز و سیج کے برابربا بیچ سے بہتر ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ اس بحث کے متعاق
ہمارے ایک دوست نے نہایت دلچسپ قصد نقل کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک علمی سوسائی
مین چند یوروپین عالم اور مشنری موجود تھے۔ راستی اور روغ پر ایک مضمون پڑھا گیا ۔
جسمین گلستان کے فقرہ مذکورہ کی تائید کی گئی تھی۔ ایک پادری صاحب نے کہا کہ مضمون عمده
ہے مگر بعد اس نعرے کی تائید میں لکھا گیا ہے اس میں سے نکال دینا چا ہیے ۔ اسپیر
بہت دیر تک بحث ہوتی رہی مار کر پیدا ہوا ۔ اگر ہمارے دوست جو اس قصے کے<noinclude></noinclude>
e7hj97ogfb1cgbtkhg3bj79dctbiod4
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/134
250
13906
35689
2026-08-15T05:23:13Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”رادی بین انہوں نے کھڑے ہو گیا کہ اس بحث کا محاکم دین ہوسکتا ہے کہ اپنی ذاتی اورافت کے لیے تو میشک جھوٹ بولنا کسی حالت میں جائز نہیں لیکن اگر جھوٹ سے کسی مظلوم کی جان بچتی ہو تو ایسی حالت میں جھوٹ بولنا بینک سے بولنے سے بہتر ہے سکے بعد انہوں نے یہ...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35689
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>رادی بین انہوں نے کھڑے ہو گیا کہ اس بحث کا محاکم دین ہوسکتا ہے کہ اپنی ذاتی اورافت
کے لیے تو میشک جھوٹ بولنا کسی حالت میں جائز نہیں لیکن اگر جھوٹ سے کسی
مظلوم کی جان بچتی ہو تو ایسی حالت میں جھوٹ بولنا بینک سے بولنے سے بہتر ہے
سکے بعد انہوں نے یہ مثال دی کہ مشاله مین جواکثر وگون نے رحم اور انسانی ہمدردی
کی راہ سے یوروپین عور تون اور بچون کو ظالموں اور بے رحمون کی شر سے بچانے کے
لیے اپنے گردن میں چھپا لیا تھا اور باغی لوگ اُن کوڈ ہونا ہتے پھرتے تھے اور ایک
ایک سے
اُن کا حال پوچھتے تھے ایسی حالت میں جھوٹ بول کر ان بیگناہوں کو خطرے
سے بچانا مشک بیج بونے سے بہت تھا۔ اس تقریر و تمام جس نے پسند کیا اور وہ فقر
سب کے اتفاق سے مضمون میں بحال رکھا گیا ۔ مذکورہ بالا توجیہ کی تائید خود شیخ کے
کلام سے بھی ہوتی ہے کیونکہ اس نے گلستان کے آٹھویں باب میں اپنے ذاتی اغراض
کے لیے جھوٹ بولنے کو بہت بڑا بتایا ہے چنانچہ وہ کہتا ہے
گر است سخن گوئی و در بند بانی و نانکه در دست دو مندر بائی
بعض صاحبون
کی یہ رائے ہے کہ صورت سفر وعندہ میں بھی مقتضا ہے جو اعری ہی ہے۔
کہ جھوٹ نہ بولا جائے ہا یا لموں کا مقابلہ کرکے اپنے تین ان مظلوموں پر نا کیا جاے
جب اپنے میں سے کوئی باقی ترہے تب اُن مظلوموں کی باری ہوئے تو آئے کہ لیکن بہار
نزدیک جہی تک جوانمردی ہے کہ ظالموں کے مقابلہ کرنے یا اپنی جان پر کھیلنے۔
ان بیگناہوں
کی جان پہنچ جانی کا یقین کامل بورن به حک تو را در نادانی اور ساتین<noinclude></noinclude>
j46xszmgzg7mu3krpdk4mrg7vl2wdi3
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/135
250
13907
35690
2026-08-15T05:23:53Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”مار ہوگی۔ اس ارج فین کے اس شہر کے مضمون پری اعتراض کیا جاتا ہے ہے شمیر نیک تر آن به چون کند که تاکسی تربیت نشود اے حکیم کس ن اس سے اہم کتاب کی تربیت اور ان را باور نام یاسین بابت اور فضول ری کریں گی مسلہ تعلیم سے انسان کی جہالت بدل جاتی ہے یا نہیں...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35690
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مار ہوگی۔ اس ارج فین کے اس شہر کے مضمون پری اعتراض کیا جاتا ہے ہے
شمیر نیک تر آن به چون کند که تاکسی تربیت نشود اے حکیم کس
ن اس سے اہم کتاب کی تربیت اور ان را باور نام یاسین بابت اور فضول
ری کریں گی مسلہ تعلیم سے انسان کی جہالت بدل جاتی ہے یا نہیں ۔ علم اخلاق کے
ن مسائل میں سے ہے جن کا جنگ کسی تعلمی دلیل سے فیصلہ نہیں ہوا۔ انگلستان کے ایک
شخص مورخ کی رائے ہے حال کی سویا بین نے انسان کے اخلاق پر اس کے سواکچھ اثر
ی کیا گناہوں کی صورتی اور امام بیگی این گرگان بر تو و دو دن پہلے زمانے میں بشیک
ناہ بہت سخت اور شدید در مری ہوتے تھے لیکن بہت کم ہوتےتھے اواب اگرچہ ایسے شدید اور
خت گناہ نہیں ہوتے لیکن نہایت کثرت سے ہوتے ہیں اور چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ اسی لیے
وشند
ول خدا صلی الہ علیہ والہ سلم نے فرمایاہے اگر اپنی جیسے تل جائے تو ہی انسان اپنی جبلت
سے نہیں ملتا۔
ایک جگہ شیخ نے کہا ہے کہ سعودی کیساہی دولتمند ہوجائے شریف نہیں ہو سکتا
البقع میں سے کمال تعصب پایا جاتا ہے مگر سپر کوئی مہندی سے مہذب ہی اعتراض نہیں کر سکتا
روم اپنی حکومت کے زمانے من محکوم قوم کایا ہی جاتی رہی ہے آریا نے ہندوستان کے قدیم
اشندوں کو اس سے بھی زیادہ حقیر بجھاتھا۔مسلمانوں نے بھی اپنے دور میں اپنے برابری کو نہیں
اور انگریزی با این شایستگی و ادیب نوبلٹی یا شرافت کو اپنی ہی قوم کے ساتھ مخصوص جانترین
ایک اور دیگر گھستان میں لکھا ہے کہ اگلے زمانہ ہی ایک مریض بادشاہ کے لیے چند دیکھنا ہے<noinclude></noinclude>
19l5p2ygsr91aeh8bdo7zjrawngaoil
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/136
250
13908
35691
2026-08-15T05:24:08Z
Taranpreet Goswami
90
/* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۱۲۸ یونان نے آدمی کا پتہ جو خاص صفات سے موصوف بہ تجویز کیاتھا اگر تجربے کی نوبت نہیں آئی وہ بات حال کی تحقیقات کے برخلاف بنائی جاتی ہے۔ شاید عیساہی ہو مگر شیخ این اعتراض سے بری ہے سنا الروم چیچہ ہے جو زین پر ہے۔ ان کی تقریر کے دار پر شیخ پر انتہ ا...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
35691
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۱۲۸
یونان نے آدمی کا پتہ جو خاص صفات سے موصوف بہ تجویز کیاتھا اگر تجربے کی نوبت نہیں آئی
وہ بات حال کی تحقیقات کے برخلاف بنائی جاتی ہے۔ شاید عیساہی ہو مگر شیخ این اعتراض سے بری
ہے سنا الروم چیچہ ہے جو زین پر ہے۔ ان کی تقریر کے دار پر شیخ پر انتہ اس صورت میں مانی
ایک کو نانی نیو کوپسندکرتا ۔ یایہ کتا اس سے بادشاہ کو شفا ہوگئی۔ یا جور معلمین
اخلاق کا ہے یعنی ہر قصے وہ افسانے سے ایک میری با استخراج
کرنا اس سے عمود و بر آنتا
بعض مایانہ اعتراض ہی شیخ کے کلام پر کئے گئے ہیں۔ مثلا اپنے گلستان میں کہا ہے
ره راست برود گرچه دورست زن بیوه مکن اگرچه ور است
اسپر بعض حضرات یہ نقص دارد کرتے ہیں کہ جب امرکی اجازت شریعیت سے پائی جاتی ہے اس سے
منع کرنے کے کا معنی اور سینے کا لاہو کی جگہ یہ بات میں جسے سنی انہیں کومعلوم میں
یہ دیا ہی اعتراض ہے جس کسی نے
کہاتھا ی شعر را مدرسہ کہ وہ ظاہر ہے کہ شیخ کی کتاب
استان کوئی فقہ کا فتاوی نہین ہر ک یکی بر روی کو رامانی حالا ما معمول کیا جائے وہ اکثر اتے
تجربے اور اسے کے موافق جس بات کو بنی نوع کے حق میں مفید سمجھتا ہے اسکی ترغیب
دیتا ہے اورجبکہ مصر سجتا ہے اس سے منع کرتا ہے۔ گو فقہا نے اوس او سبار لکھا ہو۔ کیونکہ
سباحات میں بفعل اور ترک دونوں باتوں
کا اختیار دیا گیا ہے رہی یہ بات کہ شیخ کی راے فی نفس
کیسی ہے۔ سوح بیث نبوی سے ہی انکار کی ترجیح ثبات پرٹا بہت ہوتی ہے ۔
سے زیادہ متقول اعتراض بوستان کی اس حکایت پرواہ ہوتے ہیں جہمین شیخ نے
لہ ہو کے معنی لغت میں تہجد اور تیز ہونیکے لکھے ہی جواس شرمین کسی طرح پان نہیں ہو سکتے۔<noinclude></noinclude>
kgttrgc1w97m1hkwhj3aov936m2zwjr