ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.15 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/13 250 12096 35704 27440 2026-08-15T15:10:34Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35704 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>پر رکھا اَور انْدھے کے پاس جا کر یِہ ماجراے غم سُنایا۔ بیچارے دونو بُڈّھے۔ اس پر دونو آنکھوں کے انْدھے۔ یِہی اِکْلوَتا بیٹا ان کی زِنْدگی کا سہارا تھا۔ اِس کے مرْنے کی کَیفِیّت سُن کر دونو پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگے۔ جب آن٘سُو ذرا تھے تو اُنْہیں راجہ پر غُصّہ آیا۔ اُن کو خُوب جی بھر کر کوسا اَور یِہ بد دُعا دے کر کِہ جِس طرح بیٹے کے غم میں ہماری جان نِکل رہی ہَے۔ اُسی طرح تُم بھی بیٹے ہی کے غم میں مروگے۔ دونو مر گۓ۔ راجہ دسْرتھ بھی رو دھو کر یہاں سے رُخصت ہُوۓ. راجہ دسْرتھ کے اب تک کوئی اَولاد نہ تھی۔ اَولاد ہی کے لئے اُنہوں نے تِین شادِیاں کی تِھیں۔ بڑی رانی کا نام کو شلْیا تھا۔ منجْھلی زانی کا سمترا۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> f75iwh2pk4sao8o7rnt1u169petr6q3 35706 35704 2026-08-16T04:30:08Z Kaur.gurmel 74 35706 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>پر رکھا اَور انْدھے کے پاس جا کر یِہ ماجراے غم سُنایا۔ بیچارے دونو بُڈّھے۔ اس پر دونو آنکھوں کے انْدھے۔ یِہی اِکْلوَتا بیٹا ان کی زِنْدگی کا سہارا تھا۔ اِس کے مرْنے کی کَیفِیّت سُن کر دونو پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگے۔ جب آن٘سُو ذرا تھمے تو اُنْہیں راجہ پر غُصّہ آیا۔ اُن کو خُوب جی بھر کر کوسا اَور یِہ بد دُعا دے کر کِہ جِس طرح بیٹے کے غم میں ہماری جان نِکل رہی ہَے۔ اُسی طرح تُم بھی بیٹے ہی کے غم میں مروگے۔ دونو مر گۓ۔ راجہ دسْرتھ بھی رو دھو کر یہاں سے رُخصت ہُوۓ. راجہ دسْرتھ کے اب تک کوئی اَولاد نہ تھی۔ اَولاد ہی کے لئے اُنہوں نے تِین شادِیاں کی تِھیں۔ بڑی رانی کا نام کوشلْیا تھا۔ منجْھلی زانی کا سمترا۔<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> gccck9ybu6nojkumeo7rsxmdj534dyz صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/35 250 12701 35715 32352 2026-08-16T05:09:39Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35715 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کی جورو بولی کہ اے شوہر بہت دنون تمنے راج کاج کیا اب تھوڑے دنون کے لیے راجہ سے بدا ہو تیرتھ جاترا کرو یہ بات اسکی سن دیوان چپ ہو رہا جب وہان سے اٹھا تو وقت دربار کے راجہ کے پاس جا رخصت لے تیرتھ جاترا کرنے نکلا جاتے جاتے سمندر کے کنارے سیت بندھ رامیشور جا پہونچا وہان جاتے ہی مہادیو کا درشن کر باہر نکلا تھا کہ اتفاقاً نظر اسکی سمندر کیطرف جا پڑی تو دیکھتا کیا ہے کہ ایک ایسا کنچن کا پیڑ اسمین سے نکلا کہ جسکے زمرّد کے پتے پکھراج کے پھول مونگے کے پھل نہایت خوشنما نظر آیا اس درخت پر ات سندر نائیکا بین ہاتھ مین لیے بیٹھی دلغرب سُریلی آواز سے بیٹھی گاتی ہے بعد ایک گھڑی کے وہ خوشنما درخت سمندر مین {{c|'''تصویر پرکاش دیوان اور دریا مین ایک درخت پر عورت حسین بین لۓ گاتی ہوئی'''}} گیا یہ تماشہ دیوان وبان دیکھ الٹا پھر اپنے نگر مین آیا اور راجہ کے پاس جا ڈنڈوت کر ہاتھ جوڑ بولا مہاراج مین ایک اچرچ دیکھ آیا ہون راجہ نے کہا بیان کرو دیوان نے کہا مہاراج پہلے کے لوگ کہہ گئے ہین جو بات کِسی کی عقل مین نہ آوے اور کوئی باور نہ کرے ویسی بات نہ کہے پر میں نے آنکھون سے صاف صاف دیکھا اس سے کہتا ہون مہاراج جہان رگھناتھ جی نے سمندر پر پل باندھا ہے اسجگہ دیکھتا کیا ہون کہ سمندر سے سونے کا پیڑ نکلا کہ زمرّد کے پات پکھراج کے پھول مونگے کے پھلون سے ایسا خوب لدا ہوا تھا کہ جسکا بیان نہیں ہو سکتا اور اسپر ایک بڑی خوبصورت بین ہاتھ مین لیے میٹھے میٹھے سرون سے گاتی تھی پر ایک گھڑی کے بعد وہ پیڑ سمندر مین چھپ گیا یہ بات راجہ سن دیوان کو راج سونپ اکیلا سمندر کے کنارے کو چلا کتنے ایک دنوں مین وہان جا پہونچا اور مہادیو کے درشن کو سمندر مین گیا جون پوجا کر باہر آیا کہ سمندر سے وہی درخت نایکہ سمیت نِکلا راجہ اسکو دیکھتے ہی سمندر مین کود اسی درخت پر جا بیٹھا وہ راجہ سمیت پاتال کو چلا گیا اِسکو دیکھ کے بولی کہ اے راجہ مرد بہادر کس واسطے تو یہاں آیا ہے راجہ نے کہا مین تیرے حُشن کی لالچ سے آیا ہون اسنے کہا جو تو کالی چودس کے دن مجھ سے نہ مِلے تو مین تیرے ساتھ بواہ کرون راجہ نے یہ بات مانی اس سندری نے بچن لیکر راجہ کے ساتھ وواہ کیا غرض جب اندھیری چتردشی آئی تو<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> e4fk6vopqrcqacwfscf8uzif1mdyffi صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/274 250 13182 35705 34888 2026-08-16T03:15:15Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35705 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>اب صرف آدھ گھنٹہ کی اور میعاد ہے ۔ ادھر لکشمن کی حالت پل پل پر خراب ہوتی جاتی تھی ۔ رامچندر مایوس ہو کر پھر رونے لگے کہ یکا یک انگہ نے آکر کہا ' مہاراج ! ہنومان دوڑا چلا آ رہا ہے ۔ بس آیا ہی چاہتا ہے۔ رامچندر کا چھره چمک اُٹھا ۔ وہ بیقرار ہو کرخود ہنومان کی طرف دوڑے اور اُسے چھاتی سے لگا لیا ۔ ہنومان نے گھاس پات کا ایک ڈھیر سکھین کے سامنے رکھ دیا سکھیں نے اس میں سے سنجیونی بوٹی نکالی اور فوراً لکشمن کے زخم پر اُس کا لیپ کیا۔ بوٹی نے اکسیر کا کام کیا ۔ دیکھتے دیکھتے زخم بھرنے لگا ۔ لکشمن کی آنکھیں کُھل گئیں ۔ ایک گھنٹہ میں وُہ اُٹھ بیٹھے اور دو پہر تک تو باتیں کرنے لگے ۔ فوج میں خوشی کے نعرے بلند ہوئے.<noinclude></noinclude> 2ykj42af7297kvorhpiono2g92n36ar صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/137 250 13909 35707 2026-08-16T04:55:36Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”۱۲۹ سومنات کا قصہ کیا ہے مگر مجھے اسکی بہت ہے باب میں کچھ مندر کے ہیں جن سے اعرض کسی قدر ہکے ہو سکتے ہیں۔ امر پر ستی کا ذکر جان کتابوں مینا اکثر آتا ہے یا بھی سخت اعتراض کے مقابل بات معلوم ہوتی ہے مگر اس باب میں جوکہ ہم نے خاتمہ کتاب میں لکھا ہے و...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35707 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۱۲۹ سومنات کا قصہ کیا ہے مگر مجھے اسکی بہت ہے باب میں کچھ مندر کے ہیں جن سے اعرض کسی قدر ہکے ہو سکتے ہیں۔ امر پر ستی کا ذکر جان کتابوں مینا اکثر آتا ہے یا بھی سخت اعتراض کے مقابل بات معلوم ہوتی ہے مگر اس باب میں جوکہ ہم نے خاتمہ کتاب میں لکھا ہے و شایدان اعتراضنون کے فیصلے کے لیے کافی ہو۔ ایسے ایسے اعتراضون سے بجائے اسکے کہ ان کتابوں کی قدر قیمت میں فرق آئے اور زیادہ ان کی عظمت ثابت ہوتی ہے۔ کپڑا جبفد را جلا ہوتا ہے ا سدیقہ رجلہ ذرا سے دستبنے سے میلا ہوتا ہے۔ ان کتابوں کا بھی یہی حال ہے ۔ یہ کتابین ساڑھے چھ سویرس سے بار تعلیم میں داخل رہی ہیںاور آجکل ہی کہ نہایت نکتہ چینی کا زمانہ ہے اسی طرح مشرقی سالہ تعلیم کا جزر اعظم بین من کے ایک ایک فقرے اور ایک ایک مصرعے کو نہایت غور سے دیکھا گیا ہے، مرلین نے صرف اوجہ سے کرانی مسلمان کی ایسی باتیں بہت ملی ہوئی ہیں اور ایسے مضامین کا سلس بیلیم میں داخل رہنا مشن کے مقاصد کے خلاف ہے ۔ ان پرنکہ چینی کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا اور گورنمنٹ میں پیش کرنے کے لیے بڑے بڑے طولانی رویو لکھکر چھ چھائے ہیں ۔ نیز اس لحاظ سے کہ ان کتابوں کو زیادہ تر صغیرسن بچے پڑھتے ہیں درس میں زیادہ چھان بین کی گئی ہے ۔ باوجود ان سب باتوں کے ایسے چند سرسری اعتراضون کا دارو ونا جیسے کہ اوپر ذکر کیے گئے اس بت کی دلیل ہے کہ دو بلاشبہ اسقدر بی عیب بہن سبقدر کہ ہوتا۔ زمان متوسط میں انسان کا کلام ہے جیب ہو سکتا تھا ۔<noinclude></noinclude> 4u1iwv8cbmggeutki3da7nto18rphjz صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/138 250 13910 35708 2026-08-16T04:55:49Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”دوسری عام در گیری خوبی جوان کتابوں کی خصوصیات میں سے ہے دو شی کا نا زیبات ہے جسکا ملک اس کی طبیعت میں دوعیت کیا گیا تھا۔ بات قواعد عالم باعت کی پابندی سے حاصل ہوسکتی ہے اور نیکی استان یک تیل سے آتی ہے بلکہ جس طرح سن عورت اورحسن نصرت قدرتی خوبیان...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35708 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دوسری عام در گیری خوبی جوان کتابوں کی خصوصیات میں سے ہے دو شی کا نا زیبات ہے جسکا ملک اس کی طبیعت میں دوعیت کیا گیا تھا۔ بات قواعد عالم باعت کی پابندی سے حاصل ہوسکتی ہے اور نیکی استان یک تیل سے آتی ہے بلکہ جس طرح سن عورت اورحسن نصرت قدرتی خوبیان بین اوسی طرح حسن بیان بھی ایک جبلی خاصہ ہے سمین کتاب کو چندان دخل نہین اور یہی وہ چیز ہے جسکی کمی و زیادتی پر شاعری کا نقصان اور کمال موقوف ہے ۔ جو مطلب اسکو بیان کرنا ہوتا ہے اُسکے لیے وہ ایسا دلکش اور لطیف پیرایہ موٹاڈالتا ہے جو کسی کے وجود گان میں انہیں ہوتا مثلا عربی میں ایک قول مشورة الصمت زينة النار سیر الیا می بینی خاموشی عالم کی انتہا ہے او ایل کی پا پیش ۔ اس مطلب کو وہ شعر مین | اس طرح بیان کرتا ہے ترا خامشی اے خداوند ہوش و فارست و نا اہل را پرده پوش اگر عالمی بیست خوب اگر بالی پر رکا خود نذر | یا مثلا اسکو بیان کرتاست که جولوگ قیمت نہیں سنتے رہا کر کو بتاتے ہیں یانک انشات ہیں ۔ اس مطلب کو دہ یوں اور کرتا ہے دو ہر کی نصیحت نشته د سرعلامت شنیدن دارد یا مثلا مسکویہ بیان کرنا ہے کہ ہرنے کی قدر اس کے کمیاب ہو جیسے ہوتی ہے۔ اسکوہ سطلن لکھتا ہے۔ اگر بها هر شب قدر بودے شب قدر بے قدر بود سے ، با مثلا اسکو یوں بیان کرنا ہے کا پتہ سے زیادہ علی الے سے مباہ کرنا نادان ہے۔ اس کہ اس طرح بین کرتا ہے وہ کہ با انارکی از خود مجادله نماید تا بدانند کرد ان است. بدانند که نادان است ، یا مثال اس مطلب کو سب<noinclude></noinclude> emyy9va06awspejkcjmzr6znukhwtcm صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/139 250 13911 35709 2026-08-16T04:56:03Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”پیٹ کی خاطر نفتی اٹھاتے ہیں۔ وہ اس عنوان سے بیان کرتا ہے اگر پور شکر نبورے ہی من ہو جاتا ہے اسطرح بیان کرتا ہے یہ ہمہ کس راوندان به ترشی کند گردگر قاضیان را شیرینی ، پاشان اس مطالب گوگر ریا کے لیے لذتوں کو تر کرنا برا ہے وہ اس سلوم سے اور کرتا ہے...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35709 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>پیٹ کی خاطر نفتی اٹھاتے ہیں۔ وہ اس عنوان سے بیان کرتا ہے اگر پور شکر نبورے ہی من ہو جاتا ہے اسطرح بیان کرتا ہے یہ ہمہ کس راوندان به ترشی کند گردگر قاضیان را شیرینی ، پاشان اس مطالب گوگر ریا کے لیے لذتوں کو تر کرنا برا ہے وہ اس سلوم سے اور کرتا ہے او ہر کہ ترک شهرت از بهر قبول خلق داده است از شهوت حلال در شهوت حرام افتاده است یا مثلا اسکوپ لکھنا ہے لوکسی کی آہ وزاری سے قضا آلمی نہیں بدلتی اور قانون قدرت نہیں ٹوٹتا۔ اسکو وہ اس طرح ادا کرتا ہے 2 اقتصاد گر نشود در هزار مالی و بی شک یا به شکایت برآید از دست فرشته که دلیل است بر فرا که با فر خورد که میر چراغ بیوه زن برخزانه بادی اسکو یہ کہناہے کہ اے ریا کاری و کادے کی عبادت تجھ کو خدا نکن پر پنچائیگی ۔ اس مطلب کو وہ بین ادا کرتا ہے ہے ترسم رسمی یکمی است اعرابی کین رو که تو میروی بترکستانت کبھی وہ ایک نصیحت کے مضمون کو جو اسے بیان کرنا ہے ایک واقعے کی صورت مین بیان کرکے مکر زیادہ پرتاثیر اردونشین کردیتی ہے مثلا اسکو یہ بیان کرنا تھا ک میں پانی ہم سے پہلے لوگ خود را اسیدین اور افغان دل میں لیے ہوئے مرگئے اسلامی ایک روز مر تبھی میرانیان اس مطلب کو وہ اس طرح بیان کرتا ہے ینیم که یک بار درود با سخن گفت با عا بدرست کلمه یکبار<noinclude></noinclude> oowrubu8ichrxm99ma1makrx8qt3ixj صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/140 250 13912 35710 2026-08-16T04:56:43Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کرمن فرنه ماندهی داشتم بهم کلا و می در ستتم سپرم مذکر و نصرت انسان گرفتم بیبی از وب دولت عراق می کرده بودم که کرمان خوردم ناگه نخوردن کرمان کرم که کن پنبه غفلت از گوش بوش که از مردگان پندت آید بگه ش اخیر کے شعر سے اُس نے یہ بات بتادی ہے کوحقیقت م...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35710 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کرمن فرنه ماندهی داشتم بهم کلا و می در ستتم سپرم مذکر و نصرت انسان گرفتم بیبی از وب دولت عراق می کرده بودم که کرمان خوردم ناگه نخوردن کرمان کرم که کن پنبه غفلت از گوش بوش که از مردگان پندت آید بگه ش اخیر کے شعر سے اُس نے یہ بات بتادی ہے کوحقیقت میں کوئی گوری میں بولی تھی بلکہ یہ صرف بیان کرنے کا پیرایہ ہے۔ یا مثلا مسکویہ دکان منظور تھا کہ شخص اپنے مذہب کو حق اور دوسرے کے مذہب کو باطل سمجھتا ہے ۔ اس مطلب کو وہ اسطرح بیان کرتا ہے کے جو ڈر سلمان خلاف می بستند چنان گرفته و گرفت ارزان ایشانم د به لنز گفت مسلمان گر این قبال این درست نیست خدا یا جود میرانم مبود گفت به تورین میخورد سوگنت دار فضلات کنم همچو تو مسلمانم همچون گراز بسیط هم گر از بسیجا زمین عقل مند و گروه نخود گمان بیر و هیچکس که تا دانی یہ مطلب اگر ایک جلد مین بیان کیا جاے توجھی اتنا مورا در دلاویز نہیں ہوسکتا جیسا کہ اس پر نے اسکو دلاویز و سورکردیا ہے۔ یا تلا اسکو یہ بیان کرناتھا امن اور عافیت اسی میں ہے کر انسان لوگوں کے قصے جنگرہ دن سے علیحدہ رہے اورنہ داری کو ہاتہ سے ندے ۔ اس مطالب کو وہ اس طرح بیان کرتا ہے دوکس گرد دیدند و آشوب و جنگ پراگنده پنسلین و پرنده سنگ کیک خستنه دید از طرف بر شکست یکی در میان آمد ورشکست<noinclude></noinclude> aydvy9jexdgwy2rthfpue45y3z8vow4 صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/141 250 13913 35711 2026-08-16T04:57:08Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”کے خوشتر از خویشتن دا نیست که با خوب در نشست کش شرکا نیست لا اسکو کتنا منتظر مقالہ شخص اپنا کام جو گروہ دس دن کے کام میں دخل دیتا ہے دہ ایک بڑی جواہد ہی اپنے ذمہ لیتا ہے ۔ اس مطلب کو وہ اسطرح ادا کرتا ہے ہے آن شنیدی که معرفی می کوفت از ایفایین خوشی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35711 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>کے خوشتر از خویشتن دا نیست که با خوب در نشست کش شرکا نیست لا اسکو کتنا منتظر مقالہ شخص اپنا کام جو گروہ دس دن کے کام میں دخل دیتا ہے دہ ایک بڑی جواہد ہی اپنے ذمہ لیتا ہے ۔ اس مطلب کو وہ اسطرح ادا کرتا ہے ہے آن شنیدی که معرفی می کوفت از ایفایین خوشی بیچنے پسند استیش گرفت سرینگی که بیا نسل پرستارم میشد امین پر اپنے بیان کے علاوہ صوفی کی تخصیص کرنے سے شوخی اور ظرافت بھی انتہا در جسکی براتان حبت یا مثلا اسکو دیکھنا تھا کہ بھیک مانگتا ہوا ایک سالہ میری خصلت ہے ، سکا الزام صرف ایران ہی پرشین بلکه دو تیمت رون پر ہی ہے۔ اس مطلب کو دہ اسطرح بیان کرتا ہے ۔ در خواهند د مغربی در حصنیف بزازان حلب میگفت ای خداوندان نعمت اگر شمار انفستان بودے و ا را قناعت رسم سوال ازجهان برخاسته، پادشاهی بیان کرنا مقصود تا که توانی اور انکسار سے عزت اور مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ اسکو وہ اس طرح بیان کرتا ہے کے قطره باران زا بری چکید نجل شد جو بہت سے دریا بدید ہ جائیکہ دریاست من کیستم اگر او دست منقار من نیستم من کیستم گراد حقا چه خود را بچشم حقارت بدید صدف در کنارش ایمان پری درید پرورید سپهرش بجای رسانید کار اک شد نامور لولوے شاہوار بلندی بدان یافت کو لیست شد و نیستی کوفت تا هست شد باشلا اسکو یہ بیان کرنا تھا کہ جس طرح بار سانوگ زندون کی صحبت سے منقبض ہوتے ہیں<noinclude></noinclude> 9q4o8meaoe7a0y3c7nld6skr2rekvru صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/142 250 13914 35712 2026-08-16T04:57:26Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”اسی طرح رند لوگ پار ساؤن کی صحبت سے گھبراتے ہیں ۔ اسکو وہ اس طرح بیان کرتا ہے ہے تاب در میان دندان بود آنان میان گفت شاہ بانی سے اگر اولی زما ترش منشین که توهم در سیان ما تلمی کبھی دو اپنے ہی کام کرادر کا قول را در کار سایت با ما کردیتا ہے جیسے ۵ د...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35712 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اسی طرح رند لوگ پار ساؤن کی صحبت سے گھبراتے ہیں ۔ اسکو وہ اس طرح بیان کرتا ہے ہے تاب در میان دندان بود آنان میان گفت شاہ بانی سے اگر اولی زما ترش منشین که توهم در سیان ما تلمی کبھی دو اپنے ہی کام کرادر کا قول را در کار سایت با ما کردیتا ہے جیسے ۵ در گرد دور سے در میر جگر گرد رو نے کباب کرمی گفت گویند که با ر باب در لینا کی ہے ، بے روزگار بروید گل و بش گند نو بیار ہے تیرو نے مار را در بهشت بیاید که خاک باشیم داشت یا جیسے جو دخالت نیست خروج آسته تر کن که میگویند ملاحان سرودی اگر باران بوستان بارہ کہلائے جلد گرود خشک ہے ا جسے ہمچنان همکاران بیمار گفت پیلیا نے براب دریائے نیل زیر پایت گردانی مال اور پیچھے حال نشست زیر پاسے پیل ا جیسے میں خوش گفت باکودک آموزگار که کار نکردیم و شد روزگار ، کرارے رشد ا یا جیسے آن شنید می که شاهدی به هفت تبادل از دست داده می گفت تراند ر خولیش من باشد پیش چشمت چه قدرمن باشد ۳- ان معنون آنا بات مین یہ بات بھی تعجب کی ہے کہ یا جو یا مناع فعلی و معنوی این کثرت سے موجود میں ۔ اور تقریباً نصف گلستان کے فقرے صحیح را علی این یا مینہ وہ سادگی مین ضرب المثل مین اور جہان نشرعاری کا ذکر آتا ہے وہان سے پہلے گلستان کی مثال<noinclude></noinclude> kznjbm06iyu4ulyubb9igew84qxlw2f صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/143 250 13915 35713 2026-08-16T04:57:42Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”. دی جاتی ہے۔ فی الواقع یہ شیخ کی کمال انشا پردازی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ شاعراه رفتی جب الفاظ کی زیادہ حمایت کرتاہے تو اس کے کلام میں خواہ مخواہی بناوٹ اور تکلف پیدا ہو جاتا ہے اور رشتہ حسن معنی ہاتھہ سے جاتا رہتا ہے۔ شیخ نے صنائع لفظی معنوی کو...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35713 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>. دی جاتی ہے۔ فی الواقع یہ شیخ کی کمال انشا پردازی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ شاعراه رفتی جب الفاظ کی زیادہ حمایت کرتاہے تو اس کے کلام میں خواہ مخواہی بناوٹ اور تکلف پیدا ہو جاتا ہے اور رشتہ حسن معنی ہاتھہ سے جاتا رہتا ہے۔ شیخ نے صنائع لفظی معنوی کو ایسی خوبصورتی اور سلیقے سے برتا ہے اکسین ساختگی اور تصیح کا گمان نہیں ہوتا گردمان عارضتی نالشون کا ایساپابند نہیں ہے کہ اسکے لیے مضراحت و بلا تخت سے دست بر است ہو جائے جہان الفاظ مساعدت کرتے ہیں وہاں ایک ہلکی سی چاشنی اسکی بھی دیدیا ہے ۔ کی ترین مجمع اور من فقرے سارے فقروں میں ایسے ملے ہوئے ہیں۔ جیسے پینے کی شمال مین اسٹیم ہر کے تار- جب تک خاص توجہ سے نہ دیکها جای تمام فقری یکسان در هوا معلوم ہوتے ہیں البتہ بعض حکایتون مین اُس نے صنائع لفظی و معنوی کی زیادہ رعایت کی ہے جیسے ساترین باب کی انیسوین حکایت جمعی اپنا اور ایک شخص کا مناظرہ تونگری اور درویشی کے تاب میں لکھا ہے مگر امین بھی الفاظ کوحش مسمن من خلال انداز ہونے نہیں دیا بقدر اس حکامی کے الفاخ میں تناسب در حسن انتظام پایا جاتا ہے اس سے زیادہ خیالات میں سنجیدگی، در اصلیت اور واقعیت موجود ہے۔ حکایت مذکور کے چند متفرق فقرے بطور نمونے کے بیان نقل کیے جاتے ہیں تو نگران دخل مسکنانند و ذخیره گوشه نشینان و مقصد ید زائران و کهف مسافران و تعمل بارگران از سه راحت دگران دست به دام انگریزند و متعلقان وزیردستان بخورند و فضاء مکارم ایشان به ارام ایتام پیران و قارب و جبران برسد با ؛ از معده پنشان 4 4 4 اسبات کے مین کو میاں کہ فقرے چھیڑ دیے گئے ہیں۔<noinclude></noinclude> 7y4q4carbdaec0b5s371jrlmzchijib صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/144 250 13916 35714 2026-08-16T04:58:16Z Taranpreet Goswami 90 /* غیر پروف خوانی شدہ */ ”عشاب خالی چه قوت آید و از دست تھی چه مروت زاید و از پا است چه سر آیا - دار دوست گرست پنیز ؛ ؛ ؛ فراغت بافانہ نے پوند - جمعیت با نگریستی صورت نہ ہندو یکے تحریں بسته و دیگری منتظر عشا نشته این بدان کیسے ماند - به اشارت خواجه عالم بفقر طائفه ایست هر سی...“ مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا 35714 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>عشاب خالی چه قوت آید و از دست تھی چه مروت زاید و از پا است چه سر آیا - دار دوست گرست پنیز ؛ ؛ ؛ فراغت بافانہ نے پوند - جمعیت با نگریستی صورت نہ ہندو یکے تحریں بسته و دیگری منتظر عشا نشته این بدان کیسے ماند - به اشارت خواجه عالم بفقر طائفه ایست هر سیدان مانده های رایانه این کارت ها را داشته وقد ادرار داشتند و مشغول کفان از دولت عفان محروم است و ملک فرشت زیر نگین رزق معلوم ہے ہے بچے به گفت چندان مساله در اصعب ایشان بکردی سخنهای پریشان نبی کر ہم تصویر کند تریاقت یا کلی خانه ارزاق - مشتے مگر مغرور - معجب و لفور مشتقفل مال و نعمت - مفتین بہادر ثروت به خون گویند الاسبات وانظر نیست شد تا بیکرا است. علم را بگدائی منسوب کننده و فقر را بہ بے سروپائی معیوب گردانند برت مالے کہ دارند وغیت جائے که ندارند. برتراز هم نشیند خود را ابراز می شناسند نه آن در راند کر سیکس فرود آرتا ی از قول حکمار گفتهاند هر کجاست از دیگران که ست و به نعمت بیش بصورت تونگرست و بمعنی درویش - : : گفتم دست ایشان را اداره خدا ندیم اندر گفت کمند اده کردی که بندگان در بند چه قانده که می داند دو کس نے بارند و شمار است بند کریں نے تابند- و بمرکب استطاعت سوارند و نمیدانستند و قدرت بهر خدا نه نهسند و درست سن و ہے من والی دہندہ اسے بمشقت فریم آرنده و پیست نگهدارند و سر بگذارند است که در میان گفته از دوسیم بیل وقتے ازخاک برآیدا نیل بانک در آید و به بافتش بنیا د ادارات<noinclude></noinclude> e7g8nxm81ot9fadun9s7pmdwtbfv5iv