ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.15
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/100
250
13862
35716
35686
2026-08-17T06:11:21Z
BalramBodhi
60
35716
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یعنی کسی سے اپنا بہید کہکر اوسکو افشاے راز سے منع کرنا کچہہ مفید نہیں ہے کیونکہ انسان ممنوعات پر زیادہ حریص ہوتا ہے اسلئے اب اوسکو ضبط راز کرنا اور بہی مشکل ہوگا۔ پر اِس سے خامشی ہی بہتر ہے۔ دوسری بیت مین ایک نہایت لطیف اور واضح مثال سے مطالب کو
خاطر خواہ دلنشین کیا ہے۔ مولانا کے قطعہ مین کوئی خوبی اِس مضمون کے سوا نہین ہے کہ جو راز دشمن سے چھپانا چاہیے اُسے دوست سے بہی چہپانا چاہیے۔ مگر اُن کے ساتھہ لفظ افشا زاءد معلوم ہوتا ہے کیونکہ "ازان دم نزنی" کی جگہ "از افشاے آن دم نزنی" کہا گیا ہے
اور قطعہ کا اخیر \مصرءہ\ بہی ہشو یا تکرار سے خالی نہین ہے۔ دوستون کا دشمن ہو جانا اور دوستی کا دشمنی ہو جانا نی الحقیقت ایک ہی بات ہے '''۵''' قطعہ کے بعد شیخ نے ایک فرد لکھی ہے جو فی الواقعہ سہل و ممتنع ہے۔ یعنی
{{Multicol}}
سخنے در خلا نباید گفت
{{Multicol-break}}
کان سخن بر ملا نشاید گفت
{{Multicol-end}}
یہ دہوکا اکثر اشخاص کو ہو جاتا ہے کہ جب صحبت مین کوئی غیر جنس نہین ہوتا تو گفتنی باتین کہنے لگتے ہین اور یہ سمجہتے ہین کہ ہم تخلیے مین گفتگو کر رہے ہین اس سے اغیار مطلع نہین ہوسکتے حالانکہ وہ باتین ضرور رفتہ رفتہ منتشر ہو جاتی ہین۔اِس مجرب اور سچے مضمون کو جو کسی قدر دقیق بہی تھا ایسے صاف طور سے بیان کیا ہے کہ اُس سے زیادہ بیان کی صفائی ممکن نہین۔ پھر خلا اور ملا اور در اور بر کا مقابلہ اور صنعت ذر \قافی\ قانتین\ اوس کے علاوہ ہے۔ مولانا نے کوئی فرد نہین لکہی مگر ایک دوسرا قطعہ لکھا ہے یعنی "ہر سرسر بمہر کہ افتد بخاطرت آنع" اسمین پہلے مصرعہ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جو راز سربستہ تیرے خیال<noinclude></noinclude>
dx9w8ve4jo08jph1fvip58z2yn2o2ct
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/101
250
13863
35717
35465
2026-08-17T11:05:51Z
Charan Gill
46
35717
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>۹۳
یا دل میں گزرے اور مطلب یہ ہے کہ جو یہ تیرے دل میں موجود یا تو ہو پھرا ہوں بیانش نگاشتن کا لفظ در در اظهارات کی جگہ لایا گیا ہے جس میں نہایت تکلیف ہے۔ پر اخیر مصرعہ مین نداست کا لفظ شاید بے محل ہے کیونکہ احفاے راز سے کہی ندامت نہیں ہوتی ۔ با دیور ان تمام بتوں کے دانون مشالون میں شین کے بان کوئی لفظ عرب یا غیر انوس سید من عام باد والہ کے بین اثر الفاظ بیت باکستان کے الفاظ کے غریب معلوم ہوتے ہیں جیسے حداثت معهد - خاکہ - لقائد - موج بیانش نگاشتن - غراست-
{{center|'''گلستان اور خارستان کا مقابلہ'''}}
{{Multicol}}
گلستان۔حکیمان دیر دیر خورند و عابدان نیم سیر و زاهدان سد رمق و جوانان تا طابق برگیرند و پیران تا عرق بکنند، اما قلندران چندان که در معده جای نفس نماند و بر سفره روزی کس. '''بیت'''
اسیر بند شکم را دو شب نگیرد خواب
شبے ز معدهٔ سنگی شبے ز دلتنگی
خارستان هرکه د گرسنگی طاقت نیاره باین
نیم سیستر و ایران تاسید رسمت - و جوانان سه یک شکم را از طعام پر کند به یک
آمین بگیرید - ایران تا عرق کشت اما اگر از آب دوست یکی دیگراز با نفس زون سان
قلندران پست دان خورند که در معدہ جائے کند یا صوفیان وقت امیگویند که توبه شکری
نفی نماند در سفر روزی کس - بیت را از نام برگن آب خود پر لطیف است خود را
سیرین شکر ما دو شب نگیرید و بجائے میکند کرا لیفان را جاے کر نیا شده
ے دو ماہ منگی سے راستنگی نفس جاے گو مباش بیت
بشنو که به گفت عموئی پرواری
چون سیر شدی چرا غم جان داری<noinclude></noinclude>
gjb3d244hs0h1j3hrvkpefpwca41fs4