ویکی ماخذ urwikisource https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84 MediaWiki 1.47.0-wmf.15 first-letter میڈیا خاص تبادلۂ خیال صارف تبادلۂ خیال صارف ویکی ماخذ تبادلۂ خیال ویکی ماخذ فائل تبادلۂ خیال فائل میڈیاویکی تبادلۂ خیال میڈیاویکی سانچہ تبادلۂ خیال سانچہ معاونت تبادلۂ خیال معاونت زمرہ تبادلۂ خیال زمرہ مصنف تبادلۂ خیال مصنف صفحہ تبادلۂ خیال صفحہ اشاریہ تبادلۂ خیال اشاریہ TimedText TimedText talk ماڈیول تبادلۂ خیال ماڈیول Event Event talk صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/14 250 12111 35721 27487 2026-08-17T15:21:40Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35721 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>اَور چھوٹی رانی کا کیکئی۔ تِینوں رانِیاں بھی اَولاد کے لِئے ترسْتی رہْتی تِھیں۔ انْدھے کِی بد دُعا راجہ کے حق میں دُعاے خَیر ہو گئی۔ چاہے بیٹے کے غم میں مرْنا ہی پڑے۔ بیٹے کا مُنْہ تو دیکھینْگے۔ تاج و تخْت کا وارِث تو پَیدا ہوگا۔ اِس خیال سے راجہ کو بڑی تسْکِین ہُوئی۔ اِس کے کُچھ ہی دِن بعْد آپْنے گُرُو وشسٹ کے مشْورے سے راجہ نے ایک یَگیّہ کِیا۔ اِس میں بہُت سے رِشی مُنی جمعْ ہُوئے اور سب نے راجہ کو دُعا دی۔ یگیّہ کے پُورے ہوتے ہی تِینوں ہی رانِیاں حامِلہ ہُوئِیں۔ اَور وقْت مُعیّن کے بعْد تِینوں رانِیوں کے چار راجْکُمار پَیدا ہُوئے۔ کوشلْیا سے رام چنْدر ہُوئے۔ سُمِترا سے لکشْمن اَور شترہن اَور کیکئی سے بھرت- سارے<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> csddu640dciq4dkanvlc9h0oqe7z8sw صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/17 250 12120 35728 27547 2026-08-18T07:00:33Z Tamanpreet Kaur 81 35728 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />ِ</noinclude>وِشوا مِتر اُس زمانہ کے بہت بڑے تپستوی تھے ۔ وہ چھتری ہو کر بھی محض اپنی عبادت کے زور سے برہم ریشی کے درجہ پر پہنچ گئے تھے ۔ سبھی ریشی اُن کے سامنے تعظیم سے سر جھکاتے تھے ۔ مگر گیانی ہونے پر بھی وہ کسی قدر غصّہ ور تھے۔ کسی نے اُن کی مرضی کے خلاف کام کیا اور اُنہوں نے بد دعا دی ۔ اس سے سبھی راجے مہاراجے اُن سے ڈرتے تھے ۔ کیونکہ اُن کی بد دُعا کو کوئی رد نہ کر سکتا تھا۔ لڑائی کے ہنر میں بھی وہ یگانہ روزگار تھے ۔ راجہ دشرتھ نے تخت سے اتر کر اُن کی تعظیم کی اور اُنہیں اپنے سنگھاسن پر بٹھا کر بولے ۔ آج غریب خانہ کو اپنے قدموں سے پاک کر کے آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ۔ میرے لائق اگر کوئی خدمت ہو تو فرمائیے ۔ یہ سر و چشم بجا لاؤں<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> 2poginqdhp52hbyfn7poe6debh2x77y 35729 35728 2026-08-18T07:00:56Z Tamanpreet Kaur 81 35729 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" /></noinclude>وِشوا مِتر اُس زمانہ کے بہت بڑے تپستوی تھے ۔ وہ چھتری ہو کر بھی محض اپنی عبادت کے زور سے برہم ریشی کے درجہ پر پہنچ گئے تھے ۔ سبھی ریشی اُن کے سامنے تعظیم سے سر جھکاتے تھے ۔ مگر گیانی ہونے پر بھی وہ کسی قدر غصّہ ور تھے۔ کسی نے اُن کی مرضی کے خلاف کام کیا اور اُنہوں نے بد دعا دی ۔ اس سے سبھی راجے مہاراجے اُن سے ڈرتے تھے ۔ کیونکہ اُن کی بد دُعا کو کوئی رد نہ کر سکتا تھا۔ لڑائی کے ہنر میں بھی وہ یگانہ روزگار تھے ۔ راجہ دشرتھ نے تخت سے اتر کر اُن کی تعظیم کی اور اُنہیں اپنے سنگھاسن پر بٹھا کر بولے ۔ آج غریب خانہ کو اپنے قدموں سے پاک کر کے آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ۔ میرے لائق اگر کوئی خدمت ہو تو فرمائیے ۔ یہ سر و چشم بجا لاؤں<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> b7rzohqw365dq5ea2r84hj1nymzw084 35730 35729 2026-08-18T07:52:21Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35730 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" /></noinclude>وِشوا مِتر اُس زمانہ کے بُہت بڑے تپسوّی تھے ۔ وُہ چھتّری ہو کر بھی محض اپنی عبادت کے زور سے برہم ریشی کے درجہ پر پہنچ گئے تھے ۔ سبھی ریشی اُن کے سامنے تعظیم سے سر جھکاتے تھے ۔ مگر گیانی ہونے پر بھی وہ کسی قدر غصّہ ور تھے۔ کسی نے اُن کی مرضی کے خلاف کام کیا اور اُنہوں نے بد دعا دی ۔ اس سے سبھی راجے مہاراجے اُن سے ڈرتے تھے ۔ کیونکہ اُن کی بد دُعا کو کوئی رد نہ کر سکتا تھا۔ لڑائی کے ہنر میں بھی وہ یگانہ روزگار تھے ۔ راجہ دشرتھ نے تخت سے اتر کر اُن کی تعظیم کی اور اُنہیں اپنے سنگھاسن پر بٹھا کر بولے ۔ آج غریب خانہ کو اپنے قدموں سے پاک کر کے آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا ۔ میرے لائق اگر کوئی خدمت ہو تو فرمائیے ۔ یہ سر و چشم بجا لاؤں<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude> rhgvb2tmrnjmsveiywc98kpjsjwnerk صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/36 250 12702 35731 32386 2026-08-18T09:25:09Z Taranpreet Goswami 90 /* پروف خوانی شدہ */ 35731 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>اُن نے کہا اے راج تو میرے نزدیک مت رہ یہ سنکے راجہ تلوار ہاتھ مین لے وہان سے اٹھا اور ایک کنارے جا چھپکر دیکھتا رہا جب آدھی رات ہوئی ایک دیو آیا اور اسنے آتے ہی اسے گلے سے لگایا یہ دیکھتے ہی راجہ کھانڈا لیکر ہاتھ مین آیا اور کہا ارے راکشس پاپی میرے سامنے تو عورت کو ہاتھ نہ لگا پہلے مجھ سے جنگ کر مجھے تبھی تک خوف تھا کہ جب تک تجھے دیکھا نہ تھا اب مین نڈر ہون اتنی بات کہہ کھانڈا نکال ایک ایسا مارا کہ ..... دھڑ سے سر جدا ہو زمین پر تڑپنے لگا یہ دیکھ وہ بولی کہ اے مرد بہادر تو نے بڑا احسان کیا کہہ کر پھر کہا کہ نہ تمام پہاڑون مین لعل ہوتے ہین نہ سب شہرون مین ستونتی ناری نہ ہر ایک بن مین چندن اپجتا ہے نہ ہر ایک ہاتھی کی مستک مین مکتا ہوتا ہے پھر راجہ نے پوچھا یہ راکشس کسواسطے کرشن چتردشی کو تیرے پاس آیا تھا وہ بولی میرے باپ کا نام بدیا دھر ہے اسکی مین لڑکی ہون سندری میرا نام اور یہ مقرر تھا کہ میرے بغیر میرا باپ بھوجن نہ کرتا ایک دن بھوجن کی بریا مین گھر مین نہ تھی تب پتا نے غصے مین آکر مجھے سراپ دیا کہ تجھے کالی چودس کے دن راکشس آن کے گلے سے لگایا کریگا یہ سنکر مین بولی پتا سراپ تو تمنے دیا پر اب میرے اوپر کرپا کیجئے اسنے کہا ایک مرد بہادر آن کر جب اس راکشس کو ماریگا تب تو اس مہا سراپ سے چھٹےگی سو مین اس مہا سراپ سے چھٹی اب مین اپنے پتا کو نمشکار کرنے جاؤنگی راجہ بولا جو تو میرے اپکار کو مانے تو ایک باری میرے راج کو چل کر دیکھ پیچھے اپنے پتا کے درشن کو جائیو وہ بولی کہ اچھا جو آپ نے کہا سو مجھے قبول ہے پھر راجہ اسے ساتھ لے اپنی راجدھانی مین آیا شادیانے بجنے لگے ساری نگری مین خبر ہوئی کہ راجہ آیا گھ رگھر بدھائی منگلچرن ہونے لگے پھر تو تمام نگری منگلا متھی آنکے دربار مین مبارک بادی دینے لگین راجہ نے بہت سا دان پن کیا پھر کئی دن پیچھے وہ سندری بولی مہاراج مین اب اپنے باپ کے یہان جاؤنگی راجہ نے اداس ہو کر کہا کہ اچھا جاؤ جب اسنے راجہ کو اداس دیکھا تو کہا مہاراج مین نہ جاؤنگی راجہ نے کہا کِسواسطے تو نے اپنے باپ کے یہان جانا موقوف کیا وہ بولی اب مین انسان کی ہو چکی اور پتا میرا گندھرب ہے اب مین جاؤن تو میرا آدر نہ کریگا اس لئے مین نہیں جاتی یہ سُن راجہ بہت خوش ہوا اور لاکھون روپئے کا دان پن کیا راجہ کے اس احوال کے سنتے دیوان کی چھاتی پھٹی اور مر گیا اتنی کتھا کہہ بیتال بولا کہ ای راجہ کس لئے وہ دیوان مرگیا تب راجہ بکرماجیت نے کہا دیوان نے دیکھا کہ راجہ تو عیش کرنے لگا اور راج کاج کی سب فکر بھلا دی پرجا اناتھ ہوئی اب میرا کہا کوئی نا مانیگا اسی فکر سے وہ مر گیا یہ سن بتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا راجہ پھراسیطرح سے اسکو کاندھے پر رکھ لے چلا۔ {{c|'''بارہوین کہانی'''}} بیتال بولا اے راجہ بیر بکرما جیت چوڑا پور ایک نگر ہے وہان کا جوڑامن نام ایک راجہ تھا جسکے گرو کا نام<noinclude>[[Category:urdu]]</noinclude> buz8l5p4vlnk3g9d8an1z3bc6i0z590 صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/37 250 13104 35732 32856 2026-08-18T09:35:12Z Taranpreet Goswami 90 35732 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>دیو سوامی اور اسکے بیٹے کا نام ہری سوامی تھا وہ کام دیو کے سمان سندر اور شاستر مین برہسپت کے برابر اور دھن اسکے کبیر کا سا وہ ایک برہمن کی بیٹی کہ نام اسکا لاونیوتی تھا بیاہ لایا ان دونون مین بہت محبت ہو گئی غرض ایک دن گرمی کے موسم مین رات کے وقت چوپاری کی چھت پر دونون غافل پڑے سوتے تھے اتفاقاً استری کے منھ پر سے اوڑنی سرک گئی اور گندھرب بمان پر بیٹھا ہوا مین اڑا ہوا کہین جاتا تھا اچانک اسکی نظر اسپر پڑی کہ وہ بمان کو نیچے لایا اور اس سوتی ہوئی کو بمان پر رکھ کر لے اڑا اور کتنی دیر کے پیچھے برہمن بھی سوتے سے اٹھا تو دیکھتا کیا ہے کہ استری نہین تب گھبریا اور وہان سے اتر کر تمام گھر مین ڈھونڈھا جب اُسے وِہان نہ ملی تو ساری نگری کی گلی گلی کوچہ کوچہ ڈھونڈھتا پھرا لیکن کہین اسے نہ پایا پھر اپنے جی مین کہنے لگا کون اسے لے گیا اور کہان گئی غرض جب کچھ بس چل نہ سکا تو آخر ناچار ہو افسوس کرتا ہوا گھر آیا اور وِہان پھر اُسے دوُبارہ بھی ڈھونڈا اور نہ پایا جب اسکے بغیر گھر سونا نظر آیا تب نہایت بیچینی اور بے کلی سے بےاختیار ہو ہائے پران پیاری ہائے پران پیاری کرکے پکارنے لگا پھر اسکی جدائی سے نہایت بچین ہو گرہستی چھوڑ کر بیراگ لے لنگوٹی باندھ بھبوت مل مالا پہن نگر تج تیرتھ جاترا کو نکلا نگر نگر گاؤُن گاؤُن تیرتھ کرتا ہوا ایک نگر مین دوپہر کے سمے جا پہونچا جب بھوک سے بیحد ناچار ہوا تو ڈھاک کے پتون کا دونا بنا ہاتھ مین لے ایک برہمن کے گھر جا اس سے کہا کہ مجھے بھوجن بھکشا دو غرض جب پریت کے بس مین آدمی ہوتا ہے تب اسے دھرم ذات اور کھانے پینے کا کچھ بچار نہین رہتا اور نرآدر ہو جہان پاتا ہے تہان کھاتا ہے جب اس برہمن سے اتنی بھیک مانگی تب اسنے اس سے دونا لے گھر مین جا کھیر سے بھر لا دیا یہ اُس دونے کو لیے تالاب کے کنارے آیا وہان ایک بڑ کا درخت تھا اسکی جڑ مین دونا رکھے تالاب مین منھ ہاتھ دھونے لگا اس درخت کی جڑ سے ایک کالا ناگ نکل اس دونے مین مُنھ ڈال چلا گیا اور وہ دونا تمام زہر سے بھر گیا اتنے مین وہ برہمن بھی ہاتھ منھ دھو کر آیا پر اسے یہ احوال معلوم نہ تھا اور بھوک بھی بہت لگی تھی آتے ہی اسنے ساری کھیر کھا ڑالی کھاتے ہی اسے زہر چڑھ گیا پھر اُن نے ہرہمن سے جاکر کہا کہ تونے میرے تئین زہر دیا اور مین اب اس سے مرتا ہون اتنا کہہ گھوم کر گرا اور مر گیا پھر اس برہمن نے اسے مرا ہوا دیکھ اپنی خاص عورت کو گھر سے نکال دیا اور کہا برہمہ ہتیاری تو یہان سے جا اتنی بات کہہ بیتال بولا کہ اے راجہ اس مین برہمہ ہتیا کا پاپ کِسکو ہوا راجہ نے کہا سانپ کے مکھ مین تو زہر ہوتا ہی ہے اس سے اسے پاپ نہین اور اس برہمن نے بھوکھا جانکے بھکشا دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس برہمنی نے سوامی کی آگیا سے بھیکھ دی تھی اسے بھی پاپ نہین اور اس نے بھی انجان کھیر کھائی تِس سے اسے بھی پاپ نہین غرض ان مین سے جسکو کوئی پاپ لگا وے وہی پاپی ہے یہ سُن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا اور راجہ بھی وہان جا اسے اتار باندھ کاندھے پر رکھ لیچلا<noinclude></noinclude> ktlsohqhj3ibwc59x6i7o8cjrm6wmpv صفحہ:Bagh-o-bahar-mir-amman-ebooks-12.pdf/23 250 13256 35723 35594 2026-08-18T02:40:26Z Kaur Jatinder Haryau 52 35723 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" />{{rh|(۲۱)|قصے کا شروع|}}</noinclude> یہ بھی کر دیکھین۔ آگئے جو اللہ کی مرضی ہی سو ہوگا. جب بادشاہ کے دل کو تسلی ہوئی۔ تب وزیر سے پوچھا کہ اور سب امیر و دبیر کیا کرتے ہیں اور کس طرح ہیں؟ اُس نے عرض کی سب ارکان دولت قبلہ عالم کے جان و مال کو دعا کرتے ہیں. آپ کی فکر سے سب حیران و پریشان ہو رہے ہیں. جمال مبارک اپنا دکھائیئے تو سب کی خاطر جمع ہو دے. چنانچہ اس وقت دیوان عام مین حاضر ہیں. یہ سنکر بادشاہ نے حکم کیا۔ انشاء اللہ تعالی کل دربار کرونگا۔ سبکو کہہ دو- حاضر رہین. خرد مند یہ وعدہ سنکر خوش ہوا۔ اور دونوں ہاتھہ اُٹھا کر دعا دی۔ کہ جب تک یہ زمین و آسمان برپا ہیں۔ تمھارا تاج و تخت قائم رہے. اور حضور سے رخصت ہو کر خوشی خوشی باہر نکلا۔ اور یہ خوش خبري امراؤن سے کہی. سب امیر ہنسی خوشی گھر کو گئے. سارے شہر میں آنند ہو گیا. رعیت پرجا مگن ہوئے کہ کل بادشاہ دربار عام کریگا. صبح کو سب خانہ زاد اعلی ادنی- اور ارکان دولت- چھوٹے بڑے اپنے اپنے پائے اور مرتبے پر آکر کھڑے<noinclude></noinclude> oxs96gyhim8009wdj7hpwgzuvwlotvn صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/15 250 13291 35722 33117 2026-08-17T16:02:21Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35722 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" />{{rh||۹}}</noinclude>راج میں شادِیا نے بجْنے لگے۔ رِعایا نے بھی خُوب جشْن منائے۔ راجہ نے اِتْنا سونا چانْدی خَیرات کِیا کِہ سارے راج میں کوئی مُفْلِس نہ رہ گیا۔ اُن کا دِلی مُدّعا‎ بر آیا۔ کہاں ایک بیٹے کا مُنْہ دیکھْنے کو رستے تھے۔ کہاں چار چار بیٹے پَیدا ہو گئے۔ گھر گُلْزار ہو گیا۔ بے نُور آنْکھیں روشن ہو گئِیں ٭ چاروں لڑْکوں کی پرْورش ہونے لگی۔ جب وُہ ذرا سِیانے ہوئے تو گُرُو وِشسٹ نے اُنْہیں تعْلِیم دینا شُرُوع کِیا۔ چاروں لڑکے بہُت ہی ذہِین تھے۔ تھوڑے ہی دِنوں میں وید شاسْتر سب ختْم کر لِئے۔ اَور عِل٘مِ جنْگ میں بھی خوب ہوشْیار ہو گئے۔ نیزہ بازی۔ تیر انْدازی۔ کُشْتی۔ کِسی فن میں اِن کا ثانی نہ تھا۔ مگر اُن میں غرور نام کو بھی نہ تھا۔ چاروں بُزُرْگوں<noinclude></noinclude> rdy3axw83e53mdlj3065vudrj4zy7zu صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/16 250 13292 35725 33140 2026-08-18T04:59:28Z Kaur.gurmel 74 /* تصدیق شدہ */ 35725 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>کا ادب کرْتے تھے۔ چھوٹوں کو بھی وُہ کبھی سخْت سُسْت نہ کہْتے۔ اُن میں آپس میں بڑی گہری محبّت تھی۔ ایک دُوسْرے کے لِئے جان دیتے تھے۔ چاروں ہی خُوبْرُو، توانا اَور خلِیق تھے۔ اُنْہیں دیکھ کہ ہر کس و ناکس کے مُنّہ سے دُعا نِکلْتی تھی۔ سب کہْتے تھے یِہ لڑْکے خانْدان کا نام روشن کریْنگے۔ یُوں تو چاروں میں یکْساں محبّت تھی۔ مگر لکْشمن کو رامْچنْدر سے اَور شترہن کو بھرت سے خاص اُنْس تھا۔ راجہ دسْرتھ مارے خُوشی کے پُھولے نہ سماتے تھے {{x-larger|(۲) تاڑْکا اَور مارِیچ کا مارا جانا}} ایک دِن راجہ دسْرتھ درْبار میں بَیٹھے ہُوئے وزِیروں سے کُچھ بات چِیت کر رہے تھے کِہ رِشی وِشْوامتِر تشْرِیف لائے۔<noinclude></noinclude> 04nw49bkr5cl8wcs53fhp3tly6z7gh6 صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/275 250 13695 35724 34896 2026-08-18T04:24:51Z Tamanpreet Kaur 81 /* پروف خوانی شدہ */ 35724 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>{{center|{{larger|'''(۳) کمبھ کرن'''}}}} {{gap}}راون نے جب سُنا کہ لکشمن چنگے ہو گئے۔ تو میگھناد سے بولا ۔ لکشمن تو شکتی بان سے بھی نہ مرا ۔ اب کیا تدبیر کی جائے ۔ میں نے تو سمجھا تھا ایک کا کام تمام ہو گیا ۔ اب ایک ہی اور باقی ہے ۔ مگر دونو کے دونو پِھر سنبھل گئے. {{gap}}میگھناد نے کہا مجھے بھی بڑا تعجب ہو رہا ہے کہ لکشمن کیسے بچ گیا ۔ شکتی بان کا زخم تو قاتل ہوتا ہے ۔ ۱۲ گھنٹہ کے اندر آدمی مر جاتا ہے ۔ ضرور اُن لوگوں کو سنجیونی بوٹی مِل گئی ۔ خیر پھر سمجھونگا ۔ جاتے کہاں ہیں ۔ آج ہی دونو کو ڈھیر کر دیتا لیکن کل کا تھکا ہُوآ ہوں ۔ میدان میں نہ جا سکونگا ۔ آج چچا کمبھ کرن کو بھیج دیجئے . {{gap}}کمبھ کرن راون کا بھائی تھا۔ ایسے ڈِیل ڈَول<noinclude></noinclude> htnson92igua431na1yovoypehkdtap 35726 35724 2026-08-18T05:04:20Z Kaur.gurmel 74 35726 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="3" user="Tamanpreet Kaur" /></noinclude>{{center|{{larger|'''(۳) کمبھ کرن'''}}}} {{gap}}راون نے جب سُنا کہ لکشمن چنگے ہو گئے۔ تو میگھناد سے بولا ۔ لکشمن تو شکتی بان سے بھی نہ مرا ۔ اب کیا تدبیر کی جائے ۔ میں نے تو سمجھا تھا ایک کا کام تمام ہو گیا ۔ اب ایک ہی اور باقی ہے ۔ مگر دونو کے دونو پِھر سنبھل گئے. {{gap}}میگھناد نے کہا مجھے بھی بڑا تعجّب ہو رہا ہے کہ لکشمن کیسے بچ گیا ۔ شکتی بان کا زخم تو قاتل ہوتا ہے ۔ ۱۲ گھنٹہ کے اندر آدمی مر جاتا ہے ۔ ضرور اُن لوگوں کو سنجیونی بوٹی مِل گئی ۔ خیر پھر سمجھونگا ۔ جاتے کہاں ہیں ۔ آج ہی دونو کو ڈھیر کر دیتا لیکن کل کا تھکا ہُوأ ہوں ۔ میدان میں نہ جا سکوُنگا ۔ آج چچا کمبھ کرن کو بھیج دیجئے {{gap}}کمبھ کرن راون کا بھائی تھا۔ ایسے ڈِیل ڈَول<noinclude></noinclude> hbjs6dwdtxrx0pzmp03h2ok1lt6y00l صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/101 250 13863 35718 35717 2026-08-17T12:55:38Z BalramBodhi 60 35718 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یا دل مین گزرے اور مطلب یہ ہے کہ جو بہید تیرے دل مین موجود یا مستور ہو پھر "بموج بیانش نگاشتن" کا لفظ "در اظهارآن" کی جگہ لایا گیا ہے جس مین نہایت تکلف ہے۔ پہر اخیر مصرعہ مین نداست کا لفظ شاید بے محل ہے کیونکہ اخفاے راز سے کہی ندامت نہین ہوتی۔ باوجود اِن تمام باتون کے دونون مشالون مین شیخ کے ہان کوئی لفظ غریب یا غیر مانوس نہین معلوم ہوتا اور مولانا کے ہان اکثر الفاظ بمقابلہ گلستان کے الفاظ کے غریب معلوم ہوتے ہین جیسے حداثتِ عہد۔ خاکہ۔ لقائد۔ بموج بیانش نگاشتن۔ غراست۔ {{center|'''گلستان اور خارستان کا مقابلہ'''}} {{Multicol}} گلستان۔ حکیمان دیر دیر خورند و عابدان نیم سیر و زاہدان تاسدِّ رمق۔ و جوانان تا طبق برگیرند۔ و پیران تا عرق کنند۔ امّا قلندران چندان خورند کہ در معده جای نفس نماند و بر سفره روزی کس۔ '''بیت''' اسیر بند شکم را دو شب نگیرد خواب شبے ز معدهٔ سنگی شبے ز دلتنگی {{Multicol-break}}خارستان هرکه د گرسنگی طاقت نیاره باین نیم سیستر و ایران تاسید رسمت - و جوانان سه یک شکم را از طعام پر کند به یک آمین بگیرید - ایران تا عرق کشت اما اگر از آب دوست یکی دیگراز با نفس زون سان قلندران پست دان خورند که در معدہ جائے کند یا صوفیان وقت امیگویند که توبه شکری نفی نماند در سفر روزی کس - بیت را از نام برگن آب خود پر لطیف است خود را سیرین شکر ما دو شب نگیرید و بجائے میکند کرا لیفان را جاے کر نیا شده ے دو ماہ منگی سے راستنگی نفس جاے گو مباش بیت بشنو که به گفت عموئی پرواری چون سیر شدی چرا غم جان داری<noinclude></noinclude> rr5a6p4ffagp8dn5m8zwz7tqezdlw5h 35719 35718 2026-08-17T14:17:05Z Charan Gill 46 35719 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یا دل مین گزرے اور مطلب یہ ہے کہ جو بہید تیرے دل مین موجود یا مستور ہو پھر "بموج بیانش نگاشتن" کا لفظ "در اظهارآن" کی جگہ لایا گیا ہے جس مین نہایت تکلف ہے۔ پہر اخیر مصرعہ مین نداست کا لفظ شاید بے محل ہے کیونکہ اخفاے راز سے کہی ندامت نہین ہوتی۔ باوجود اِن تمام باتون کے دونون مشالون مین شیخ کے ہان کوئی لفظ غریب یا غیر مانوس نہین معلوم ہوتا اور مولانا کے ہان اکثر الفاظ بمقابلہ گلستان کے الفاظ کے غریب معلوم ہوتے ہین جیسے حداثتِ عہد۔ خاکہ۔ لقائد۔ بموج بیانش نگاشتن۔ غراست۔ {{center|'''گلستان اور خارستان کا مقابلہ'''}} {{Multicol}} گلستان۔ حکیمان دیر دیر خورند و عابدان نیم سیر و زاہدان تاسدِّ رمق۔ و جوانان تا طبق برگیرند۔ و پیران تا عرق کنند۔ امّا قلندران چندان خورند کہ در معده جای نفس نماند و بر سفره روزی کس۔ '''بیت''' اسیر بند شکم را دو شب نگیرد خواب شبے ز معدهٔ سنگی شبے ز دلتنگی {{Multicol-break}} خارستان۔ہرکه درگرسنگی طاقت نیارد باید کہ سدیک شکم را از طعام پر کند به یک اگر از آب دوست یکی دیگراز با نفس زون سان کند یا صوفیان وقت امیگویند که توبه شکری را از نام برگن آب خود پر لطیف است خود را جائے میکند کرا لیفان را جاے کر نیا شده نفس جاے گو مباش '''بیت''' {{center|<poem>بشنو که به گفت عموئی پرواری چون سیر شدی چرا غم جان داری </poem>}} {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> 1cvb21kp5xb0146vu7vez90c1a1gnt0 35720 35719 2026-08-17T14:19:29Z Charan Gill 46 35720 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یا دل مین گزرے اور مطلب یہ ہے کہ جو بہید تیرے دل مین موجود یا مستور ہو پھر "بموج بیانش نگاشتن" کا لفظ "در اظهارآن" کی جگہ لایا گیا ہے جس مین نہایت تکلف ہے۔ پہر اخیر مصرعہ مین نداست کا لفظ شاید بے محل ہے کیونکہ اخفاے راز سے کہی ندامت نہین ہوتی۔ باوجود اِن تمام باتون کے دونون مشالون مین شیخ کے ہان کوئی لفظ غریب یا غیر مانوس نہین معلوم ہوتا اور مولانا کے ہان اکثر الفاظ بمقابلہ گلستان کے الفاظ کے غریب معلوم ہوتے ہین جیسے حداثتِ عہد۔ خاکہ۔ لقائد۔ بموج بیانش نگاشتن۔ غراست۔ {{center|'''گلستان اور خارستان کا مقابلہ'''}} {{Multicol}} گلستان۔ حکیمان دیر دیر خورند و عابدان نیم سیر و زاہدان تاسدِّ رمق۔ و جوانان تا طبق برگیرند۔ و پیران تا عرق کنند۔ امّا قلندران چندان خورند کہ در معده جای نفس نماند و بر سفره روزی کس۔ '''بیت''' {{center|<poem>اسیر بند شکم را دو شب نگیرد خواب شبے ز معدهٔ سنگی شبے ز دلتنگی </poem>}} {{Multicol-break}} خارستان۔ہرکه درگرسنگی طاقت نیارد باید کہ سدیک شکم را از طعام پر کند به یک اگر از آب دوست یکی دیگراز با نفس زون سان کند یا صوفیان وقت امیگویند که توبه شکری را از نام برگن آب خود پر لطیف است خود را جائے میکند کرا لیفان را جاے کر نیا شده نفس جاے گو مباش '''بیت''' {{center|<poem>بشنو که به گفت عموئی پرواری چون سیر شدی چرا غم جان داری </poem>}} {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> 7y46rz3f8g7hdl64lcu7hcoe274ph8q 35727 35720 2026-08-18T06:44:35Z BalramBodhi 60 35727 proofread-page text/x-wiki <noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>یا دل مین گزرے اور مطلب یہ ہے کہ جو بہید تیرے دل مین موجود یا مستور ہو پھر "بموج بیانش نگاشتن" کا لفظ "در اظهارآن" کی جگہ لایا گیا ہے جس مین نہایت تکلف ہے۔ پہر اخیر مصرعہ مین نداست کا لفظ شاید بے محل ہے کیونکہ اخفاے راز سے کہی ندامت نہین ہوتی۔ باوجود اِن تمام باتون کے دونون مشالون مین شیخ کے ہان کوئی لفظ غریب یا غیر مانوس نہین معلوم ہوتا اور مولانا کے ہان اکثر الفاظ بمقابلہ گلستان کے الفاظ کے غریب معلوم ہوتے ہین جیسے حداثتِ عہد۔ خاکہ۔ لقائد۔ بموج بیانش نگاشتن۔ غراست۔ {{center|'''گلستان اور خارستان کا مقابلہ'''}} {{Multicol}} گلستان۔ حکیمان دیر دیر خورند و عابدان نیم سیر و زاہدان تاسدِّ رمق۔ و جوانان تا طبق برگیرند۔ و پیران تا عرق کنند۔ امّا قلندران چندان خورند کہ در معده جای نفس نماند و بر سفره روزی کس۔ '''بیت''' {{center|<poem>اسیر بند شکم را دو شب نگیرد خواب شبے ز معدهٔ سنگی شبے ز دلتنگی </poem>}} {{Multicol-break}} خارستان۔ہر کہ در گرسنگی طاقت نیارد باید کہ سدیک شکم را از طعام پر کند بہ سدیک دیگر از آب و سدیک دیگر از براے نفس زون ربا کند امّا صوفیان وقتِ مامیگویند کہ توبمہ شکم را از طعام برکُن آب خود چیز لطیف است خود را جائے میکند کہ لتیفان را جاے کم نبا شد و نفس را جاے گو مباش '''بیت''' {{center|<poem>بشنو کہ چہ گفت صوفی پرداری چون سیر شدی چراغمِ جان داری </poem>}} {{Multicol-end}}<noinclude></noinclude> p0czzbrqz5abpdc9skkky1n74l5ry3m