ویکی ماخذ
urwikisource
https://ur.wikisource.org/wiki/%D8%B5%D9%81%D8%AD%DB%82_%D8%A7%D9%88%D9%84
MediaWiki 1.47.0-wmf.16
first-letter
میڈیا
خاص
تبادلۂ خیال
صارف
تبادلۂ خیال صارف
ویکی ماخذ
تبادلۂ خیال ویکی ماخذ
فائل
تبادلۂ خیال فائل
میڈیاویکی
تبادلۂ خیال میڈیاویکی
سانچہ
تبادلۂ خیال سانچہ
معاونت
تبادلۂ خیال معاونت
زمرہ
تبادلۂ خیال زمرہ
مصنف
تبادلۂ خیال مصنف
صفحہ
تبادلۂ خیال صفحہ
اشاریہ
تبادلۂ خیال اشاریہ
TimedText
TimedText talk
ماڈیول
تبادلۂ خیال ماڈیول
Event
Event talk
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/7
250
388
35748
35698
2026-08-19T04:16:38Z
Mbee-wiki
55
35748
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />{{rh||۱|}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;"></noinclude>{{center|{{xx-larger|'''طوطا کہانی باتصویر'''}}}}
{{center|{{larger|بسم الله الرحمان الرحيم}}}}
احسان اُس خدا کا کہ جس نے دریائے سخن کو اپنے ابر کرم سے گو ہرِ معنی بخشا اور زبان کو واسطے اپنی حمد کے گویا کیا اور پیغمبر آخرالزہ ان کو ہم گنہگاروں کی شفاعت کیواسطے رحمۃ اللعالمین پیدا کیا کہ جسکے سبب سے ارض و سما نے قیام پا یا۔ حسن وہ الحق کہ ایسا ہی معبود ہے۔ قلم جو لکہے اس سے افزود ہے۔ پیمبر کو بھیجا ہمارے لۓ۔ وصی اور امام اُس نے پیدا کۓ۔ سمجهوں کا وہی دین و ایمان ہے۔ یہ میں دل تمام اور وہی جان ہے۔ ترو تازہ ہے اُس سے گلزار خلق۔ وہ ابر کرم ہے ہوادار خلق، اگر چہ وہ بیفکر و غیور ہے۔ دلے پر ورش سب کی منظور ہے، کسی سے برائے نہ کچھ کام جان۔ جو وہ مہربان ہو تو کل مہربان۔ اگر چہ یہاں کیا ہے اور کیا نہیں۔ پر اُس بن تو کوئی کسی کا نہیں، یہ سیّد حيدر بخش متخلص حیدری شاہجہان آبادی تعلیم یافته مجلس خاص نواب علی ابراہیم خان بہادر مرحوم شاگر و غلام حسین خان غازی پوری دست گر فتہ صاحب عالیجناب سخندان آبرو بخش سخنوران معدن مروت چشمۃ فتوت دریائے جود و کرم منبع علم و حلم صاحب والاشان جان گمگرٹ صاحب بہادر دلم اقبالہ، کا ہے۔ اگر چہ تھوڑا بہت ربط موافق اپنے حوصلے کے عبارت فارسی میں بھی رکھتا ہے لیکن بموجب فرمائیش صاحب موصوف کے ۱٢١٥ ہجری مطابق ١٨٠١ عسیوی کے حکومت میں سرگرده امیران جہان حامی غریبان و ہیکسان زبدۀ نؤعینان عظیم الشان مشیر خاص شاه کیوان بارگاهِ انگلستان مارکولیس ولزلی گورنر جنرل بہادر دام اقبالہ کی محمد قادری کے طوطی نامے کا جس کا ماخذ طوطی نامہ ضیاء الدین نبخشی ہے۔ زبان ہندی میں موافق محاورہ اردوۓ معلےٰ کے نشر میں موافق عبارت سلیس و خوب و الفاظ رمگین و مرغوب سے ترجمہ کیا۔ اور نام اس کا طوطا کہانی رکھا۔ اصاحب نو آموزوں کی فہم میں جلد آوے۔ اور پہچان ہر ایک اہلِ سخن سے امید رکھتا ہے۔<noinclude></div>
</div></noinclude>
76uur3c2qb1r8xyawnt9nihv63tzsg9
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/8
250
389
35747
35703
2026-08-19T04:16:06Z
Mbee-wiki
55
35747
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Asimali2003" />{{rh|طوطا کہانی|٢|}}
<div style="border:1px solid #000; padding:3px;">
<div style="border:1px solid #000; padding:1em;"></noinclude>کہ جو کوئی چشم غور سے اس ترجمہ کو ملاحظہ کرے اور غلطی معنی یا نا مربوطی الفاظ اس کی نظر پڑے۔ تو وہ شمشیر علیم سے انند ہر دشمن کے اس کو صفحہ ہستی سے اٹا دے ابیات جو بہر صلاح اس پہ رکھے قلم۔ آتی نہ دینا کبھی اس کو غم۔ آللہی بحق امام انام۔ یہ جلدی ہو مجھ سے کہانی تمام۔ آمدم بر سر مطلب۔ بننا چاہیئے کہ کیا کیا خون جگر کھایا ہے۔ اور کیسا کیسا مضمون باندہا ہے۔
{{center|''''''پہلی داستان میمون کے پیدا ہونے اور خبستہ کے ساتھ بیا ہے جانے کی''''''}}
اگلے دو لتمندوں میں سے احمد سلطان نام ایک شخص بڑا مالدار اور صاحب فوج تھا لاکھ گھوڑے اور پندرہ سو زنجیر فیل اور نو سو قطار بار برداری اونٹوں کی اُس کے در دولت پر حاضر رہتے تھے پر اُس کا لڑکا بالا کوئی نہ تھا کہ گھر اپنے باپ کا روشن کرتا۔ حسن اسی بات کا اُس کے دل پر تھا۔ داغ نہ رکھتا وہ اپنے گھر کا چراغ ۔ اسی واسطے صبح و شام خدمت میں خدا پرستوں کی جاتا اور اُن سے درخواست دعا کی کرتا غرض تھوڑے دنوں میں خالق زمین و آسمان نے ایک بیٹا مہ جبین خوبصورت مہر چہر اُسے بخشا۔ احمد سلطان اسی خوشی سے گل کی مانند کھلا اور نام اُس کا میموں رکھا۔ کئی ہزار روپے فقیروں کو بخش کر سجدہ شکر بجالایا اور یہ بہت پڑھنے لگا۔ حسن تجھے فضل کرتے نہیں لگتی بار۔ نہ ہو تجھ سے مایوس امیدوار۔ دوگانہ غرض شکر کا کراط۔ تہیہ کیا شادی جشن کا۔ اور تین مہینے تک شہر کے امیروں وزیروں دانایوں فاضلوں اُستادوں کی ضیافتیں کیں۔ کشتیاں بعضوں کے آگے کہیں اور اکثروں کو خلعت بھاری بھاری دئے۔ جس وقت وہ لڑکا سات برس کا ہوا واسطے تربیت کے لیکن استناد وانا کامل کو سونپا۔ حسن معلم اتالیق ونشی ادیبہ ہر ایک فن کے اُستاد بیٹھے قریب کیا قاعدے سے شروع کلام ، پڑھانے لگے علم اس کو تمام ، اور کتنے دنوں میں الف بے تے سے لیکر گلستان اور انشائے ہر کرن و جامع القوانين و ابوالفضل یوسفی در قعات جامی تک پڑھا بلکہ علم عربی کو بھی تحصیل کیا حسن دیا تھا بس حق نے ذہن رسا، کئی سال میں علم سب پڑھ چکا، معافی و منطق بیان و ادب، پڑ ہے اُس نے منقول و معقول سب، خبردار حکمت کے مضمون سے ، غرض جو پڑھا اُس نے قانون سے، اور قاعدہ نشست و به خاست مجلس بادشاہی کا طریقہ عرض و معروض کا اسنے سیکھا پر یہ ہے کہ بعض فنون میں باپ پر بھی سبقت لیگیا۔ جب باپ نے دیکہا کہ جوان ہوا تب ایک عورت صاحب جمال گل اندام خسته نام کیساتھ بیاہ کردیا دونوں اپسمیں عیش و عشرت کرنے لگے۔ اور کسی وقت جدا ہو تے۔ غرض یہا تک شیفتہ و فریفتہ ہوئے کہ عاشقی و حقوقی کے درجے سے گزر گئے۔ اتفاق احمد شہزادہ گھوڈے پر سوار ہو کر بازار<noinclude></div>
</div></noinclude>
93cgzp0hns636e97ca0waq7en0m5hy5
اشاریہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf
252
917
35735
32323
2026-08-19T03:18:23Z
Mbee-wiki
55
35735
proofread-index
text/x-wiki
{{:MediaWiki:Proofreadpage_index_template
|Type=book
|Title=
|Language=ur
|Volume=
|Author=
|Translator=
|Editor=
|Illustrator=
|School=
|Publisher=
|Address=
|Year=
|Key=
|ISBN=
|OCLC=
|LCCN=
|BNF_ARK=
|ARC=
|DOI=
|Source=pdf
|Image=1
|Progress=C
|Transclusion=no
|Validation_date=
|Pages=<pagelist 1="Title" 2="1" 2to6="roman" 5to6="TOC" 7="1" 343="-" />
|Volumes=
|Remarks=
|Width=
|Header=
|Footer=
|tmplver=
}}
fnmtmva8gm3ws7pqbcxez751ap75egc
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/10
250
12097
35744
27447
2026-08-19T03:56:49Z
Mbee-wiki
55
35744
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Kaurgaganpreet1117" />{{rh|طوطا کہانی||۴}}</noinclude>خزانہ سے دلوا کر خرید کیا اور ایک مکان میں رکھوا دیا بعد دو تین دن کے سوداگر اس شہر میں داخل ہوئے اور تلاش سنبل کی کرنے لگے جب کہیں نہ پایا تب اُس کے پاس آکر سنبل کو چھ گنی قیمت دیکر مول لِیا اپنے شہر کو گئے تب میموں اس طوطے سے بہت خوش ہوا اور جان سے زیادہ عزیز رکہنے لگا۔ اور ایک سینا بھی خرید کر کے اسکے پاس رکہی اس سے کہ علم تنہائی میں اُسے حشت نہ ہو کہ عقلمندوں نے کہا ہے ۔ بیت کند ہمجنس با ہمجنس پرواز، کبوتر با کبوترباز با باز، غرض اس مینا کو بھی اس طوطے کے پاس رکھا کہ یہ دونوں اپس میں ہمجنس ہیں خوش رہینگے۔ اور بعد کئی دن کے سمیوں نے خجتہ سے کہا کہ میں سفر خشکی اور تری کا کیا چاہتا ہوں کہ شہروں کی سیر سے دل بہلے بعد میرے جو مجھے کام کرتا ہے سوئے مصلحت ان دونوں کے ہرگز نہ کرنا بلکہ جو کہیں اسکو سچ جاننا اور انکی فرمانبرداری سے باہر نہ ہوتا۔ یہ دو چار باتیں سمجھا کر آپ کسی شہر کو سفر کیا اور خجتہ کئی مہینے تک اسکی جدائی میں رویا کی کھانا سونا و دنرات کا چھوڑ دیا مغرض طوطا کچھ قصّہ کہانی کہکر اسی کے دل غملین کو ہر ایک وقت بھلایا کرتا اسیطرح سے چھ مہینے تک پھسلا پھسلا کر رکھا۔
{{center|'''دوسری داستان خجستہ کی پادشاہزادے پر عاشق ہو نیکی اور دانائی طوطے کی'''}}
ایکدن خجستہ نہادہوکر بتاؤ کر کے کوٹھے پر چڑہی اور سیر ہر ایک کوچہ و بازار کی جھروکے سے کرنے لگی اتنے میں ایک شہزادہ گھوڑے پر سوار آنکھیں اوپر کئے ہوئے گھوڑا قدم بقدم لئے ہوئے چلا جاتا تھا۔ خجتہ کو دیکھتے ہی عاشق ہوا اور اس کا دل اسپر آ گیا بے اختیار ہو کر شہزادے نے اُس گھڑی ایک عورت مکا کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا کہ اگر تم ایک رات چار گھڑی کیواسطے میرے گھر آؤ تو اسکے عوض میں ایک انگوٹھی لاکھ روپے کی تمہیں دوں اسپر اس کٹنی نے وہیں جا کر کہا کہ اے خجستہ اس شاہزادے نے تجھے بلوایا ہے اور ایک گھڑی کیواسطے لاکھ روپے کی انگشتری دیتا ہے اگر تو چاہے اور دوستی اس سے پیدا کرے تو کچھ اسی چیز پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ ہمیشہ سلوک نمایاں کیا کریگا اور خط مفت میں اُٹھاؤ گی۔ خجستہ نے پہلے تو اسبات سے بہت برا مانا اور خفا ہوگئی۔ لیکن پھر پیر نال کے دام میں آگئی اور کہنے لگی کہ اچھا میری طرف سے اُس کی خدمت میں سلام شوق کے بعد یہ کہنا کہ شب کو جس طرح سے جانونگی اُس طرح سے تمہارے پاس اپنے تسکین پہنچاؤ گی یہ پیغام وہ مکاره لیکر ادہر گئی اور ادہر رات آئی تب خجستہ نے اپنے تئیں نہایت لباس اور گہنے سے آراستہ کیا اور کرسی پر بیٹھ کر جی میں کہنے لگی کہ مینا سے چل کر یہ بات کہیئے اور رخصت لیکر چلیئے کیونکہ میں بھی عورت ہوں اور وہ بھی اسی خلقت میں ہے اغلب ہے کہ وہ میری بات سنے اور رخصت ئے یہ سخن دل میں ٹھہرایا اور مینا سے جا کر کہا کہ اے مینا مجب اجرا ہے اگر تو سئے تو کہوں اُسنے کہا۔ کہ بی بی کیا کہتی ہو میں بھی عقل کے موافق عرض کرونگی تب کہ بانو کہنے لگی کہ آج میں اپنے کوٹھے پر چڑھکر جھٹکے<noinclude></noinclude>
f25fjilc2an8x7ei6nl3wib113ov9dg
35745
35744
2026-08-19T04:14:43Z
Mbee-wiki
55
/* تصدیق شدہ */
35745
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Mbee-wiki" />{{rh|طوطا کہانی||۴}}</noinclude>خزانہ سے دلوا کر خرید کیا اور ایک مکان میں رکھوا دیا بعد دو تین دن کے سوداگر اس شہر میں داخل ہوئے اور تلاش سنبل کی کرنے لگے جب کہیں نہ پایا تب اُس کے پاس آکر سنبل کو چھ گنی قیمت دیکر مول لِیا اپنے شہر کو گئے تب میموں اس طوطے سے بہت خوش ہوا اور جان سے زیادہ عزیز رکہنے لگا۔ اور ایک سینا بھی خرید کر کے اسکے پاس رکہی اس سے کہ علم تنہائی میں اُسے حشت نہ ہو کہ عقلمندوں نے کہا ہے ۔ بیت کند ہمجنس با ہمجنس پرواز، کبوتر با کبوترباز با باز، غرض اس مینا کو بھی اس طوطے کے پاس رکھا کہ یہ دونوں اپس میں ہمجنس ہیں خوش رہینگے۔ اور بعد کئی دن کے سمیوں نے خجتہ سے کہا کہ میں سفر خشکی اور تری کا کیا چاہتا ہوں کہ شہروں کی سیر سے دل بہلے بعد میرے جو مجھے کام کرتا ہے سوئے مصلحت ان دونوں کے ہرگز نہ کرنا بلکہ جو کہیں اسکو سچ جاننا اور انکی فرمانبرداری سے باہر نہ ہوتا۔ یہ دو چار باتیں سمجھا کر آپ کسی شہر کو سفر کیا اور خجتہ کئی مہینے تک اسکی جدائی میں رویا کی کھانا سونا و دنرات کا چھوڑ دیا مغرض طوطا کچھ قصّہ کہانی کہکر اسی کے دل غملین کو ہر ایک وقت بھلایا کرتا اسیطرح سے چھ مہینے تک پھسلا پھسلا کر رکھا۔
{{center|'''دوسری داستان خجستہ کی پادشاہزادے پر عاشق ہو نیکی اور دانائی طوطے کی'''}}
ایکدن خجستہ نہادہوکر بتاؤ کر کے کوٹھے پر چڑہی اور سیر ہر ایک کوچہ و بازار کی جھروکے سے کرنے لگی اتنے میں ایک شہزادہ گھوڑے پر سوار آنکھیں اوپر کئے ہوئے گھوڑا قدم بقدم لئے ہوئے چلا جاتا تھا۔ خجتہ کو دیکھتے ہی عاشق ہوا اور اُس کا دل اسپر آ گیا بے اختیار ہو کر شہزادے نے اُس گھڑی ایک عورت مکا کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا کہ اگر تم ایک رات چار گھڑی کیواسطے میرے گھر آؤ تو اسکے عوض میں ایک انگوٹھی لاکھ روپے کی تمہیں دوں اُسپر اس کٹنی نے وہیں جا کر کہا کہ اے خجستہ اس شاہزادے نے تجھے بلوایا ہے اور ایک گھڑی کیواسطے لاکھ روپے کی انگشتری دیتا ہے اگر تو چاہے اور دوستی اس سے پیدا کرے تو کچھ اسی چیز پر موقوف نہیں ہے۔ بلکہ ہمیشہ سلوک نمایاں کیا کریگا اور خط مفت میں اُٹھاؤ گی۔ خجستہ نے پہلے تو اسبات سے بہت بُرا مانا اور خفا ہوگئی۔ لیکن پھر پیر نال کے دام میں آگئی اور کہنے لگی کہ اچھا میری طرف سے اُس کی خدمت میں سلام شوق کے بعد یہ کہنا کہ شب کو جس طرح سے جانونگی اُس طرح سے تمہارے پاس اپنے تسکین پہنچاؤنگی یہ پیغام وہ مکاره لیکر ادہر گئی اور ادہر رات آئی تب خجستہ نے اپنے تئیں نہایت لباس اور گہنے سے آراستہ کیا اور کرسی پر بیٹھ کر جی میں کہنے لگی کہ مینا سے چل کر یہ بات کہیئے اور رخصت لیکر چلیئے کیونکہ میں بھی عورت ہوں اور وہ بھی اسی خلقت میں ہے اغلب ہے کہ وہ میری بات سنے اور رخصت دے یہ سخن دل میں ٹھہرایا اور مینا سے جا کر کہا کہ اے مینا مجب اجرا ہے اگر تو سُنے تو کہوں اُسنے کہا۔ کہ بی بی کیا کہتی ہو میں بھی عقل کے موافق عرض کرونگی تب کہ بانو کہنے لگی کہ آج میں اپنے کوٹھے پر چڑھ کر جھروکے<noinclude></noinclude>
nhsci1jsc25orhemcnqlhaaba4ar3jk
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/6
250
12098
35741
27450
2026-08-19T03:24:21Z
Mbee-wiki
55
/* بدون متن */
35741
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Mbee-wiki" /></noinclude><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
rh85vg8xi0eh2ee4pgp5kmd3phwgfj1
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/9
250
12099
35743
27456
2026-08-19T03:53:35Z
Mbee-wiki
55
/* پروف خوانی شدہ */
35743
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Mbee-wiki" />{{rh||۳|ٹوٹا کہانی}}</noinclude>میں گیا اور دیکھا کہ ایک شخص اس بازار میں ایک پنجرہ طوطے کا ہاتھ میں لئے کھڑا ہے۔ اُسنے طوطا بیچنے والے
'''تصویر شاہزادیکا گھوڑے پر سوار ہو کر بازار میں جانا اور طوطے کا خرید کرنا
'''
{{missing image}}
سے پو چھا کہ اے شخص اس طوطے کا کیا مول ہے ۔ اُسنے جواب دیاکہ خدا وندا اسکو ہزار روپے سے کم نہ ہو گا میں نے کہا خیر حلوم ہوا جو اس الیکمشت پر ہزار روپی دیکھ لے اُسکے برابر دوسرا بیوقوف نہ ہوگا کیونکہ ایک نوالہ بلی کا جب حطے والا جواب اسکانہ دے سکا تو طوطے نے جانا کہ اگر یہ دولتمند محمد مجھے خریدنہ کر سکا تو موجب تبادت اور ہدا نامی میری کا ہے کیونکہ صحبت بزرگو کی بہت یاد تی عقل اور عزت کا ہے اُس سے میں محروم رہونگا تب طوطے نے جو ابر یا کہ اے جو ان خوشر و اگر چہ مس تیری آنکھو نہیں حقیر اور ضعیف ہوں لیکن بسبب انائی او عقل کے عرش پر پر مارتا ہوں اور ہر ایک اہل سخن میری خوشگوئی اور شیرین زبانی پر حیران ہے بہتر یہی ہے کہ مجھے مول کے اسو اس کے سوائے خوشگوئی کے کئی ہنر مجھ میں مجیب ہیں پیمرا اسکا یہ ہے کہ من حقیقت اضفیرہ اور تقبل اور مال کی کہتا ہوں اگر حکم ہو تو ایک بات فائدہ کی عرض کروں تب اس نے کہا کہ کیا کہتا ہے۔ کیچڑھ نے کہا کہ بعد کئی دن کے ایک قافا سوداگروں کا اس شہر میں مسیل خرید نے آئیگا تم ابھی سے تمام شہر کے دوکانداروں سے سنبل خرید کر اپنے پاس رکھو جس گھڑی وہ کاروان آویگا اور سوائے آپکے اس شہر میں
کسی کے پاس سنبل نہ پائے گا نا چار چکر حضوری میں آکر در خواست کریگا پھر اپنی خواطر خواہ بیچنے گا اور اسمیں بہت فائدہ ہوگا۔ یہ بات طویلے کی اُسکے نہایت خوش آئی اور ہزار روپے اُس شخص کو دیگر اُس طوطے کو لے اپنے گھر آیا اور سب سنیل فروشوں کو بلا کر سنبل کی قیمت پوچھی ۔ انہوں نے عرض کیا کہ جتنا سنبل ہماری دوکان میں ہے دس ہزار روپے اسکی قیمت ہوتی ہے ہمیوں نے اسٹی کوس ہزار روپے<noinclude></noinclude>
hlvgelpvyab8xyu9l7p5v9z7irz6xjj
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/1
250
12100
35739
27459
2026-08-19T03:22:48Z
Mbee-wiki
55
/* بدون متن */
35739
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Mbee-wiki" /></noinclude><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
rh85vg8xi0eh2ee4pgp5kmd3phwgfj1
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/2
250
12101
35738
27462
2026-08-19T03:22:36Z
Mbee-wiki
55
/* بدون متن */
35738
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Mbee-wiki" /></noinclude><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
rh85vg8xi0eh2ee4pgp5kmd3phwgfj1
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/3
250
12102
35740
27465
2026-08-19T03:23:03Z
Mbee-wiki
55
/* بدون متن */
35740
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Mbee-wiki" /></noinclude><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
rh85vg8xi0eh2ee4pgp5kmd3phwgfj1
صفحہ:Tota Kahani - Haidar Bakhsh Haidari.pdf/4
250
12103
35736
27468
2026-08-19T03:19:53Z
Mbee-wiki
55
/* بدون متن */
35736
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="0" user="Mbee-wiki" /></noinclude><noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
rh85vg8xi0eh2ee4pgp5kmd3phwgfj1
صفحہ:Ram Charcha in Urdu by Munshi Premchand.pdf/17
250
12120
35737
35730
2026-08-19T03:19:54Z
Taranpreet Goswami
90
35737
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" /></noinclude>وِشوا مِتر اُس زمانہ کے بُہت بڑے تپسوّی
تھے ۔ وُہ چھتّری ہو کر بھی محض اپنی
عبادت کے زور سے برہم ریشی کے درْجہ پر
پہنچ گئے تھے ۔ سبھی ریشی اُن کے سامنے
تعظیم سے سر جھکاتے تھے ۔ مگر گیانی
ہونے پر بھی وہ کسی قدر غصّہ ور تھے۔
کسی نے اُن کی مرضی کے خلاف کام کیا
اور اُنہوں نے بد دعا دی ۔ اس سے سبھی
راجے مہاراجے اُن سے ڈرتے تھے ۔ کیونکہ
اُن کی بد دُعا کو کوئی رد نہ کر سکتا تھا۔
لڑائی کے ہنر میں بھی وہ یگانہ روزگار
تھے ۔ راجہ دشرتھ نے تخت سے اتر کر
اُن کی تعظیم کی اور اُنہیں اپنے سنگھاسن
پر بٹھا کر بولے ۔ آج غریب خانہ کو اپنے
قدموں سے پاک کر کے آپ نے مجھ پر
بڑا احسان کیا ۔ میرے لائق اگر کوئی خدمت
ہو تو فرمائیے ۔ یہ سر و چشم بجا لاؤں<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
29miz0rswrhuy989grzh96q7cyh4f9e
35749
35737
2026-08-19T05:12:47Z
Kaur.gurmel
74
35749
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" /></noinclude>وِشوا مِتر اُس زمانہ کے بُہت بڑے تپسوّی
تھے ۔ وُہ چھتّری ہو کر بھی محض اپنی
عبادت کے زور سے برہم رِشی کے درْجہ پر
پہنچ گئے تھے ۔ سبھی رِشی اُن کے سامنے
تعظیم سے سر جھکاتے تھے ۔ مگر گیانی
ہونے پر بھی وہ کسی قدر غصّہ ور تھے۔
کسی نے اُن کی مرضی کے خلِاف کام کیا
اور اُنہوں نے بد دعا دی ۔ اِس سے سبھی
راجے مہاراجے اُن سے ڈرتے تھے ۔ کیونکہ
اُن کی بد دُعا کو کوئی رد نہ کر سکتا تھا۔
لڑائی کے ہنر میں بھی وہ یگانہ روزگار
تھے ۔ راجہ دشرتھ نے تخت سے اتر کر
اُن کی تعظیم کی اور اُنہیں اپنے سنگھاسن
پر بٹھا کر بولے ۔ آج غریب خانہ کو اپنے
قدموں سے پاک کر کے آپ نے مجھ پر
بڑا احسان کیا ۔ میرے لائق اگر کوئی خدمت
ہو تو فرمائیے ۔ یہ سر و چشم بجا لاؤں<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
f1aj947az6rvcqg3sv8e2ysvdpce026
35750
35749
2026-08-19T05:20:11Z
Kaur.gurmel
74
35750
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Charan Gill" /></noinclude>وِشوا مِتر اُس زمانہ کے بُہت بڑے تپسوّی
تھے ۔ وُہ چھتّری ہو کر بھی محض اپنی
عبادت کے زور سے برہم رِشی کے درْجہ پر
پہنچ گئے تھے ۔ سبھی رِشی اُن کے سامنے
تعظیم سے سر جھکاتے تھے ۔ مگر گیانی
ہونے پر بھی وہ کسی قدر غصّہ ور تھے۔
کسی نے اُن کی مرضی کے خلِاف کام کیا
اور اُنہوں نے بد دُعا دی ۔ اِس سے سبھی
راجے مہاراجے اُن سے ڈرتے تھے ۔ کیونکہ
اُن کی بد دُعا کو کوئی رد نہ کر سکتا تھا۔
لڑائی کے ہنر میں بھی وہ یگانہ روزگار
تھے ۔ راجہ دشرتھ نے تخت سے اُتر کر
اُن کی تعظیم کی اور اُنہیں اپنے سنگھاسن
پر بٹھا کر بولے ۔ آج غریب خانہ کو اپنے
قدموں سے پاک کر کے آپ نے مجھ پر
بڑا احسان کیا ۔ میرے لائق اگر کوئی خدمت
ہو تو فرمائیے ۔ یہ سر و چشم بجا لاؤں.{{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
54haog0xfgt5fa9jf1g5x14ir84oaqp
35751
35750
2026-08-19T05:33:53Z
Kaur.gurmel
74
/* تصدیق شدہ */
35751
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="4" user="Kaur.gurmel" /></noinclude>وِشوا مِتر اُس زمانہ کے بُہت بڑے تپسوّی
تھے ۔ وُہ چھتّری ہو کر بھی محض اپنی
عبادت کے زور سے برہم رِشی کے درْجہ پر
پہنچ گئے تھے ۔ سبھی رِشی اُن کے سامنے
تعْظِیم سے سر جھکاتے تھے ۔ مگر گیانی
ہونے پر بھی وہ کسی قدر غصّہ ور تھے۔
کسی نے اُن کی مرْضی کے خلِاف کام کِیا
اَور اُنْہوں نے بد دُعا دی ۔ اِس سے سبھی
راجے مہاراجے اُن سے ڈرْتے تھے ۔ کیونکہ
اُن کی بد دُعا کو کوئی رد نہ کر سکتا تھا۔
لڑائی کے ہُنر میں بھی وہ یگانہ روزْگار
تھے ۔ راجہ دشْرتھ نے تخْت سے اُتر کر
اُن کی تعْظِیم کی اور اُنہیں اپْنے سِنگھاسن
پر بِٹھا کر بولے ۔ آج غرِیب خانہ کو اپْنے
قدموں سے پاک کر کے آپ نے مُجھ پر
بڑا اِحْسان کیا ۔ میرے لائِق اگر کوئی خِدمت
ہو تو فرْمائیے ۔ بہ سر و چشم بجا لاؤُں.{{nop}}<noinclude>[[Category:Urdu]]</noinclude>
o4e4zge2w98oys5lajhwk39oc2hfyo4
صفحہ:Betal-pachcheesi-mazhar-ali-khan-wila-ebooks-3.pdf/38
250
13111
35742
32858
2026-08-19T03:36:14Z
Taranpreet Goswami
90
35742
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="3" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>{{center|'''تیروین کہانی'''}}
بیتال بولا اے راجہ چندر ہردے نام نگری ہے اور اسجگہ کا رندھیر نام راجہ تھا اسکی نگری مین دھرم دهوج نام ایک سیٹھ تھا اور اسکی بیٹی کا نام شوبھی تھا وہ بہت ہی خوبصورت تھی جوانی اسکی دِن بدن بڑھتی تھی اور حُسن اسکا پل پل ادھک ہوتا ہے اتفاقاً اس نگری مین راتون کو چوری ہونے لگی جب چورونکے ہاتھ سے مہاجنون نے بہت دکھ پایا تب اکٹھے ہو راجہ کے پاس جا کر سب نے کہا مہاراج چورون نے نگر مین بہت ظلم کیا ہے ہم اس شہر مین اب رہ نہین سکتے راجہ نے کہا خیر جو ہوا سو ہوا لیکن اب آگے دُکھ نہ پاؤگے مین ان کا جتن کرتا ہون یہ کہہ راجہ نے بہت سے آدمی بلوا چوکی کو بھیجدیے اور چوکی پہرے کا ڈھب انکو بتا دیا اور حکم کیا کہ جہان چورون کو پاؤ بنا پوچھے مار ڈالو لوگ نگری کی رکھوالی کرنے لگے اسپر بھی چوری ہوتی تھی ساہوکار اکٹھے ہو کر راجہ کے پاس آئے اور عرض کی مہاراج آپ نے پہرے بھیجے تو بھی چور کم نہ ہوئے اور روز چوری ہوتی ہے راجہ نے کہا اسوقت تم رخصت ہو آج کی رات سے نگر کی چوکی دینے مین نکلون گا یہ سنکے راجہ سے بدا ہو وہ سب اپنے گھر گئے اور جسوقت کہ رات ہوئی راجہ اکیلا ڈھال تلوار لے پیاده نگری کی رکشا کرنے لگا اسمین آگے جا کر دیکھے تو ایک چور سامنے سے چلا آتا ہے راجہ اسے دیکھ کر پکارا تو کون ہے وہ بولا تو کون ہے راجہ نے کہا مین چور ہون یہ سن وہ خوش ہو کر بولا آؤ مل کر چوری کرنے چلین یہ بات آپس مین ٹھہرا راجہ اور چور باتین کرتے ہوئے ایک محلے مین گھسے اور کتنے ایک گھرون مین چوری کر مال متاع لے نگر کے باہر نکل ایک کنوُین پر آئے اور اسمین اتر کر پاتال پوری مین جا پہونچے وہ چور راجہ کو دروازے پر کھڑا کر دھن دولت اپنے مندر مین لیگیا اتنے مین اسکے گھر مین سے ایک داسی نکلی وہ راجہ کو دیکھ کر کہنے لگی مہاراج تم کہان اس دُشٹ کے ساتھ یہان آئے خیر اسی مین ہے کہ وہ آنے نہ پاوے اور تم سے جہان تک بھاگا جاوے بھاگو نہین تو وہ آتے ہی تمہین مار ڈالےگا راجہ نے کہا مین تو راہ نہین جانتا کدھر کو جاؤن پھر اس چیری نے باٹ دکھا دی اور راجہ اپنے مندر کو آیا غرض دوسرے دن راجہ نے سب اپنی فوج ساتھ لے اس کنوئین کی راہ پاتال پوری مین جاکر چور کا تمام گھر بار گھیر لیا اور وہ چور کِسی اور راہ سے نکل اس نگری کا مالک جو دیو تھا اسکے پاس گیا اور عرض کی کہ ایک راجہ میرے مارنے کو گھر پر چڑھ آیا ہے اسوقت میری مدد کرو نہین تو تمھاری نگری کو چھوڑ دوسرے نگر مین جا بستا ہون یہ سن راکشس نے خوش ہو کر کہا تو میرے لیے کچھ کھانے کو لایا ہے مین تجھ سے بہت خوش ہوا یہ کہکر جہان راجہ فوج لئے حویلی گھیرے ہوئے تھا وہان وہ دیو آدمیون اور گھوڑون کو کھانے لگا اور راجہ اس دیو کی صورت دیکھ کر بھاگا اور جن لوگون سے بھاگا گیا وہ تو بچے اور باقیون کو دیو نے کھا لیا غرض راجہ اکیلا<noinclude></noinclude>
1o1r2kel0xjycd1mca8av41ilgee3om
صفحہ:Hayaat-e-Sheikh Saadi.pdf/102
250
13864
35733
35466
2026-08-18T12:16:51Z
Charan Gill
46
35733
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مشال - ٢
عالم ناپرهیزگار کور مشعلهدار ست
یهہی به وهولا یهتدی
<poem>'''بیت''' بیفایده هر که عمر در باخت
چیزی نخرید و زر بینداخت</poem>
خارستان - علم باعمل ہمچو طعام بیه السلام
بانمک ست ہر کرا ہر دوہست حکتے نمام
دار و طعام بے نمک را چه توان کرد
که
کرد۔
که نخسه ید ز ر بینداخت بیت حمل بے علم نا مضبوط باشد
همیشه شه دا با مشروط باشد
وره با مالون کو کم کرنا یا شخص جو فارسی زبان سے فی الجاد آشنا ہے بخوبی اندازہ کرسکتا
ے کر تابستان کی عبارت گلستان کے مقابلہ من کس قدر کم وزن اور بے وقعت ہے
اسی لیے ہم اس مقام کو بحرین کے مذاق و تمیز چھوڑ دیتے ہیں وہ زیادہ کہ چینی کرنے کی
ضرورت نہین دیکھتے ۔
پریشان کا مصنف مرزا حبیب قاآنی کتاب مذکور کے خاتمہ کے اشعارمیں تصریح کرنا
ہے
کہ اسکی عمر تین برس سے بھی دو تین برس کم تھی جب یہ کتاب روس نے لکھی ہے ۔ اور
شیخ نے گلستان کو سن کولت اور ادائل سن شیوخت میں مرتب کیا ہے ۔ پس اگر قاآنی سے
انا کاپور اور اتنی موسکا تو چپ تعجب نہیں کیونکہ ایک ایسی کتاب کا سرانجام کرنا سیکی
بنا محض حکمت اور تربت پر ہونی چاہئیے شیخ کے مقابل میں ایک نوجوا نا تجربہ کار کی
طاقت سے باہر تھا۔ بلکہ اگرمیری رائے غلمان و تو بڑی عرمین قاآنی سے گھستان کا جواب
اتنا ہی لکھا نا شکل تاکیونکہ اسکی نام رقصیدہ گوئی میں صرف ہوئی ہے سبین محض خیال
ڈھکوسلے بلند ہنے اور الفاظ تراشی کے سوا حقیقت اور واقفیت سے کچھ غرض نہین ہوتی ہیں<noinclude></noinclude>
dxl5zvyr13gza9roff48whgnxkgw38o
35734
35733
2026-08-18T15:50:28Z
Charan Gill
46
35734
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مشال - ٢
{{Multicol}}
عالم ناپرهیزگار کور مشعلهدار ست
یهہی به وهولا یهتدی
<poem>'''بیت''' بیفایده هر که عمر در باخت
چیزی نخرید و زر بینداخت</poem>
{{Multicol-break}}
خارستان - علم باعمل ہمچو طعام بیه السلام
بانمک ست ہر کرا ہر دوہست حکتے نمام
دار و طعام بے نمک را چه توان کرد
<poem>'''بیت'''عمل بے علم نا مضبوط باشد
همیشه شرط با مشروط باشد</poem>
{{Multicol-end}}
وره با مالون کو کم کرنا یا شخص جو فارسی زبان سے فی الجاد آشنا ہے بخوبی اندازہ کرسکتا
ے کر تابستان کی عبارت گلستان کے مقابلہ من کس قدر کم وزن اور بے وقعت ہے
اسی لیے ہم اس مقام کو بحرین کے مذاق و تمیز چھوڑ دیتے ہیں وہ زیادہ کہ چینی کرنے کی
ضرورت نہین دیکھتے ۔
پریشان کا مصنف مرزا حبیب قاآنی کتاب مذکور کے خاتمہ کے اشعارمیں تصریح کرنا
ہے
کہ اسکی عمر تین برس سے بھی دو تین برس کم تھی جب یہ کتاب روس نے لکھی ہے ۔ اور
شیخ نے گلستان کو سن کولت اور ادائل سن شیوخت میں مرتب کیا ہے ۔ پس اگر قاآنی سے
انا کاپور اور اتنی موسکا تو چپ تعجب نہیں کیونکہ ایک ایسی کتاب کا سرانجام کرنا سیکی
بنا محض حکمت اور تربت پر ہونی چاہئیے شیخ کے مقابل میں ایک نوجوا نا تجربہ کار کی
طاقت سے باہر تھا۔ بلکہ اگرمیری رائے غلمان و تو بڑی عرمین قاآنی سے گھستان کا جواب
اتنا ہی لکھا نا شکل تاکیونکہ اسکی نام رقصیدہ گوئی میں صرف ہوئی ہے سبین محض خیال
ڈھکوسلے بلند ہنے اور الفاظ تراشی کے سوا حقیقت اور واقفیت سے کچھ غرض نہین ہوتی ہیں<noinclude></noinclude>
e8swe383m4jp7gl7z0vxvhmk18evt7d
35753
35734
2026-08-19T10:30:10Z
Charan Gill
46
35753
proofread-page
text/x-wiki
<noinclude><pagequality level="1" user="Taranpreet Goswami" /></noinclude>مشال - ٢
{{Multicol}}
عالم ناپرهیزگار کور مشعلهدار ست
یهہی به وهولا یهتدی
<poem>'''بیت''' بیفایده هر که عمر در باخت
چیزی نخرید و زر بینداخت</poem>
{{Multicol-break}}
خارستان - علم باعمل ہمچو طعام بیه السلام
بانمک ست ہر کرا ہر دوہست حکتے نمام
دار و طعام بے نمک را چه توان کرد
<poem>'''بیت'''عمل بے علم نا مضبوط باشد
همیشه شرط با مشروط باشد</poem>
{{Multicol-end}}
مذکوره بالا مشالون کو دیکہکر غلباً ہر شخص جو فارسی زبان سے فی الجمہ آشنا ہے بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ تابستان کی عبارت گلستان کے مقابلہ مین کس قدر کم وزن اور بے وقعت ہے اسی لیے ہم اس مقام کو ناحرین کے مذاق اور تمیز چھوڑ دیتے ہیں وہ زیادہ نقطہ چینی کرنے کی ضرورت نہین دیکھتے ۔
پریشان کا مصنف مرزا حبیب قاآنی کتاب مذکور کے خاتمہ کے اشعار میں تصریح کرنا ہے کہ اسکی عمر تیس برس سے بہی دو تین برس کم تہی جب یہ کتاب اوس نے لکہی ہے ۔ اور شیخ نے گلستان کو سن کولت اور ادائل سن شیوخت میں مرتب کیا ہے ۔ پس اگر قاآنی سے انا کاپور اور اتنی موسکا تو چپ تعجب نہیں کیونکہ ایک ایسی کتاب کا سرانجام کرنا سیکی
بنا محض حکمت اور تربت پر ہونی چاہئیے شیخ کے مقابل میں ایک نوجوا نا تجربہ کار کی
طاقت سے باہر تھا۔ بلکہ اگرمیری رائے غلمان و تو بڑی عرمین قاآنی سے گھستان کا جواب
اتنا ہی لکھا نا شکل تاکیونکہ اسکی نام رقصیدہ گوئی میں صرف ہوئی ہے سبین محض خیال
ڈھکوسلے بلند ہنے اور الفاظ تراشی کے سوا حقیقت اور واقفیت سے کچھ غرض نہین ہوتی ہیں<noinclude></noinclude>
7rp8eza3ldljklilq5r6ea7cslhg572
تبادلۂ خیال صارف:Asimali2003
3
13917
35746
2026-08-19T04:15:44Z
Mbee-wiki
55
/* Page layout */ نیا قطعہ
35746
wikitext
text/x-wiki
== Page layout ==
Salam Asim Bhai :) Thank you for your beautiful edit on Tota Kahani. I'd like to point out that based on [[en:Wikisource:Style guide#Formatting|the formatting guide]] anything complex aren't necessary to be included in Wikisource, as the main aim is just to create a digitalised page. I hope you don't mind that I moved some of your edits :)
[[صارف:Mbee-wiki|Mbee-wiki]] ([[تبادلۂ خیال صارف:Mbee-wiki|تبادلۂ خیال]]) 04:15، 19 اگست 2026ء (UTC)
4h3nh969hgpyjday256l1n4a6z4z8wn
35752
35746
2026-08-19T06:12:27Z
Asimali2003
224
/* Page layout */ جواب دیں
35752
wikitext
text/x-wiki
== Page layout ==
Salam Asim Bhai :) Thank you for your beautiful edit on Tota Kahani. I'd like to point out that based on [[en:Wikisource:Style guide#Formatting|the formatting guide]] anything complex aren't necessary to be included in Wikisource, as the main aim is just to create a digitalised page. I hope you don't mind that I moved some of your edits :)
[[صارف:Mbee-wiki|Mbee-wiki]] ([[تبادلۂ خیال صارف:Mbee-wiki|تبادلۂ خیال]]) 04:15، 19 اگست 2026ء (UTC)
:Wa Alaikum Salam Bhai :) Haha, no worries! I actually added the border because in one of the Wiki programs I attended, we were encouraged to make the pages as appealing as possible while keeping them as close and identical to the actual book pages as we could. So I was trying to preserve that visual feel and make the reading experience on Wikisource a bit more pleasant, with properly formatted pages.
:I wasn't trying to make the page difficult to read or add unnecessary complexity at all, the intention was simply to make it resemble the original book while keeping it clean and readable. :) [[صارف:Asimali2003|Asimali2003]] ([[تبادلۂ خیال صارف:Asimali2003|تبادلۂ خیال]]) 06:12، 19 اگست 2026ء (UTC)
gu5ik7emnuu5xvquu7ox3fws4lfpwvq